علماء کونسل کچورا سکردو بلتستان

چہاردہ معصومین ع

امام زین العابدین علیہ السلام

ابو حمزہ ثمالی سے مروی ہے کہ علی بن الحسین(ع) راتوں کو کھانے پینے کی چیزوں کو اپنے کندھے پر رکھ کر اندھیرے میں خفیہ طور پر غربا اور مساکین کو پہنچا دیتے تھے اور فرمایا کرتے تھے: "جو صدقہ اندھیرے میں دیا جائے وہ غضب پروردگار کی آگ کو بجھا دیتا ہے"۔[57] محمد بن اسحاق کہتا ہے: کچھ لوگ مدینہ کے نواح میں زندگی بسر کرتے تھے اور انہیں معلوم نہ تھا کہ ان کے اخراجات کہاں سے پورے کئے جاتے ہیں، علی ابن الحسین(ع) کی وفات کے ساتھ ہی انہيں راتوں کو ملنے والی غذائی امداد کا سلسلہ منقطع ہوا۔ [58]

امام حسین علیہ السلام کا معاویہ کے نام خط

۱۔تم حجر بن عدی اور ان کے ساتھیوں کے قاتل ہو جو سب کے سب عابد وزاہد تھےاور بدعتوں کے مخالف اور امر بالمعروف و نہی عن المنکرکیاکرتے تھے ۔ ۲۔ تم نے عمرو بن حمق کو قتل کیا جو جلیل القدر صحابی تھے جن کابدن کثرت عبادت کی وجہ سے نحیف و کمزور ہو چکا تھا۔ ۳۔تم نے زیاد بن ابیہ کو { جو ناجائز طریقے سے متولد ہوا تھا }اپنا بھائی بنا لیا اوراسےمسلمانوں پرمسلط کردیا ۔

امام محمد تقی علیہ السلام کے علمی مناظرے

بنی عباس کو مامون کی طرف سے امام رضا علیہ السّلام کا ولی عہد بنایا جانا ہی ناقابل برداشت تھا، امام رضا علیہ السّلام کی شہادت سے ایک حد تک انہیں اطمینان حاصل ہوا تھا اور انہوں نے مامون سے اپنے حسبِ دلخواہ اس کے بھائی موئمن کی ولی عہدی کا اعلان بھی کرا دیا

امام باقرعلیہ السلام کی زندگانی پر ایک اجمالی نظر

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام بتاریخ یکم رجب المرجب ۵۷ ھ یوم جمعہ مدینہ منورہ میں پیدا ہوئ ۔۱۔علامہ مجلسی تحریرفرماتے ہیں کہ جب آپ بطن مادرمیں تشریف لائے تو آباؤ اجداد کی طرح آپ کے گھرمیں آوازغیب آنے لگی اورجب نوماہ کے ہوئے تو فرشتوں کی بے انتہا آوازیں آنے لگیں اورشب ولادت ایک نورساطع ہوا، ولادت کے بعد قبلہ رو ہو کرآسمان کی طرف رخ فرمایا،اور(آدم کی مانند) تین بار چھینکنے کے بعد حمد خدا بجا لائے،ایک شبانہ روز دست مبارک سے نور ساطع رہا، آپ ختنہ کردہ ،ناف بریدہ، تمام آلائشوں سے پاک اورصاف متولد ہوئے۔۲

حضرت فاطمہ زهرا سلام اللہ علیہا عظیم بیٹی، باوفا شریک حیات اور نمونہ عمل ماں (2)

جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا عالمین کی سیدہ ہونے کے باوجود کبھی بھی اپنے شوہر کی اتباع میں لیت و لعل کا مظاہرہ نہیں کیا۔ آپ ؑ ہمیشہ حضرت علىؑ کی مکمل اتباع کرتی تھیں۔ آپ ؑ اپنے شوہر کی اجازت کے بغىر کبھى گھر سے باہر قدم نہیں رکھتی تھیں، کیونکہ آپ اسلامی تعلیمات کی نہ فقط پابند تھیں بلکہ نسوان عالم کی معلمہ بھی تھیں۔ آپ اس بات سے کاملا آگاہ تھیں که اسلام عورت کو شوہر کى اجازت کے بغىر گھر سے نکلنے سے منع کرتا ہے۔ اگر کوئى عورت اىسا کرے اور شوہر کو غضبناک کرے، خداوند عالم اس کى نماز اور روزہ کو قبول نہىں کرتا جب تک اس کا شوہر راضى نه ہو جائے

حضرت فاطمہ زهرا سلام اللہ علیہا عظیم بیٹی، باوفا شریک حیات اور نمونہ عمل ماں (1)

وہ ایسا گوہر یگانہ ہیں کہ خداوند متعال نے رسول خدا ﷺکی بعثت کے ذریعے مومنین پر منت رکھی اور فرمایا، "لقد من الله علی المومنین اذ بعث فیهم رسولا من انفسهم" (3) اور اس گوہر یگانہ کے ذریعے سرور کائنات پر منت رکھی اور فرمایا، "انا اعطیناک الکوثر فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ، ان شانئک هو الابتر" بےشک ہم نے ہی آپ کو کوثر عطا فرمایا۔ لہٰذا آپ اپنے رب کے لئے نماز پڑھیں اور قربانی دیں۔ یقینا آپ کا دشمن ہی بے اولاد رہے گا۔ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے کمسنی میں ہی اپنے عظیم المرتبت والد گرامی کا بھرپور ساتھ دیا اور ان کے شانہ بشانہ تمام مصائب و آلام کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ آپ کو کائنات کی عظیم ہستی کی زوجہ اور شریک حیات ہونے کا شرف حاصل ہوا، اسی لئے آپ نے بھی ایک باوفا شریک حیات بن کر اپنے آپ کو ثابت کر دیا۔

حضرت فاطمہؑ زھرا سلام اللہ علیہا اہلسنت کی روایات میں

حضرت فاطمہؑ زھرا سلام اللہ علیہا اہلسنت کی روایات میں

حضرت فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا بعنوان شریک حیات

حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کےبارے میں کچھ لکھنا عام انسانوں کی بس کی بات نہیں اس عظیم شخصیت کےبارے میں گفتگو کرنےکے لئے صاحب عصمت اور عالی بصیرت کا حامل ہونا چاہیے کیونکہ اس کے بغیر آپؑ کے وجود کو کوئی درک نہیں کر سکتا۔آپ کے فضائل اور مناقب خدا وندمتعال، رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلماورائمہ معصومین علیہم السلام ہی بیان کر سکتے ہیں ۔ سمندر سیاہی، درخت قلم اور جن و انس لکھنے والے بن جائے تب بھی آپ ؑ کے فضائل بیان نہیں کر سکتے۔حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا ، اسلام کى خواتىن کے لىے ازدواجى زندگى کے تمام پهلوؤں پر خوش بختى اور سعادت کے راستوں کا تعىن کرتا هے تاکه دنىا کے سامنےاىک عملى نمونه هو۔اس مختصر مقالہ میں ہم جناب حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کوبعنوان شریک حیات تمام خواتین کے لئے نمونہ عمل اور اسوہ ہونے کے ناطےکچھ مطالب بیان کرنے کی کوشش کریں گے۔

حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا علامہ اقبال کی نظر میں

حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کےبارے میں کچھ لکھنا عام انسانوں کی بس کی بات نہیں اس عظیم شخصیت کےبارے میں گفتگو کرنےکے لئے صاحب عصمت اور عالی بصیرت کا حامل ہونا چاہیے کیونکہ اس کے بغیر آپؑ کے وجود کو کوئی درک نہیں کر سکتا ۔آپ کے فضائل اور مناقب خدا وندمتعال، رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلماورائمہ معصومین علیہم السلام ہی بیان کر سکتے ہیں ۔

امامت کی حقیقت اور اس کی مختلف ذمہ داریاں

شیعہ اور اہل سنت کے درمیان امامت کی ضرورت اور اس کے وجوب کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے البتہ شیعہ امامت کے وجوب کو دلیل عقلی سے جبکہ اہل سنت اسےدلیل نقلی سے ثابت کرتے ہیں ۔ اہل سنت کے نزدیک اگرچہ منصب امامت پیغمبر اسلامصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خلافت و جانشینی ہے لیکن ان کے عقیدہ کے مطابق مسلمانوں کو آپس میں مل بیٹھ کر مشاورت کے ذریعے اس بارے میں فیصلہ کرنا چاہیے اور ایسے فرد کو امام منتخب کرنا چاہیے جو اسلامی معاشرے کی ضرورتوں کو پورا کر سکتا ہو نیز معاشرے میں اسلامی احکام کو نافذ کر سکتا ہو جیسا کہ ابن خلدون اس بارے میں لکھتے ہیں:{وقصاری امرالامامة انها قضیة مصلحیة اجماعیة ولا تلحق با لعقائد}۱مسئلہ امامت کے بارے میں بطور خلاصہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ {اسلامی معاشرے کی }ضروریات کے مطابق اور اجماع مسلمین یا اجماع {ارباب حل و عقد }کے ساتھ وابستہ ہے ۔ یہ عقائد کے ساتھ مربوط نہیں۔اس کے برعکس شیعہ امامت کو کار نبوت و رسالت کا استمرار و تسلسل سمجھتا ہے اور اسے مسئلہ الہیٰ قرار دیتا ہے ۔

حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی زندگی پر طائرانہ نظر

فرزند رسول امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کے موقع پر تسلیت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ آپکی مختصر سوانح حیات پیش خدمت ہے۔

امام حسن عسکری علیہ السلام کا اسحاق کندی اور جاثلیق نصرانی کو جواب

تاریخ میں نقل ہے کہ جس زمانے میں حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام سامرا قید میں تھے،شدید قحط پیش آگیا خلیفۂ وقت معتمد عباسی نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ صحرا میں جائیں، نماز استسقاء بجالائیں اور خداوندمتعال سے بارش کی دُعا کریں ۔مسلمانوں نے تین دن تک مسلسل ایسا ہی کیا لیکن بارش نہ برسی۔

قیام امام حسین علیہ السلام کے اہداف امام خمینی رح کی نظر میں

کربلا وہ عظیم درسگاہ ہے جہاں ہر انسان کے لئے جو جس مکتب فکر سے بھی تعلق رکھتا ہو اور جس نوعیت کی ہو درس ملتا ہے یہاں تک غیر مسلم ہندو ،زرتشتی،مسیحی بھی کربلا ہی سے درس لے کر اپنے اہداف کو پہنچے ہیں ،گاندی اپنے انقلاب کو حسین ابن علی علیہ السلام کی مرہون منت سمجھتا ہے یہ سب اس لئے کہ حسین ابن علی علیہ السلام نے کربلا کے ریگستان میں حق اور حقانیت کو مقام محمود تک پہنچایا اور قیامت تک ظلم اور ظالم کو رسوا کر دیا اگرچہ مادی اور ظاہری آنکھوں کے سامنے حسین ابن علی علیہ السلام کو کربلا میں شکست ہوئی لیکن حقیقت میں اور آنکھوں کے سامنے سے پردہ ہٹ جانے والوں کی نظر میں حسین ابن علی علیہ السلام کامیاب و سرفراز رہے یہی وجہ تھی کہ حر نے اپنے آنکھوں سے فتح و شکست کو دیکھ لیا اور جب ان کی آنکھوں کے سامنے سے پردہ ہٹایا گیا تو یہ کہتے ہوئے فوج یزید سے نکل گئے

حضرت امام حسین(ع) غیروں کی نظر میں

نواسۂ رسولؐ، جگرگوشۂ بتول(س)، فرزند مرتضیٰ (ع)، امام حسین(ع) کو صرف مسلمانوں کے لیے محدود کرنا حسینیت پر سراسر ظلم کے مترادف ہے کیونکہ حسین(ع) کے سامنے نہ صرف مسلمانوں کی بلکہ پوری انسانیت کی فلاح کا ہدف تھا۔

امام زین العابدین علیہ السلام کی یوم شہادت

حضرت امام سجاد علیہ السلام نےعاشورا کے بعد حضرت امام حسین علیہ السلام کی عظیم تحریک کی سنگین ذمہ داری سنبھالی اور اپنے پدر بزرگوار کے پیغام اور ان کے مشن کو آگے بڑھانے کا کام انتہائی باکمال طریقے سے انجام دیا اور تحریک عاشورا کے مقصد اور اس کے بنیادی فلسفے کو دنیا کے سامنے بھرپور انداز میں اجاگر کیا-

حضرت امام حسن مجتبی علیہ السلام حیات طیبہ پر ایک نظر تحریر: غلام نبی جعفری

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی ولادت ۳ھ کو مدینہ میں ہوئی ،آپ نے سات سال اور کچھ مہینے تک اپنے نانا رسول خداصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا زمانہ دیکھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آغوش محبت میں پرورش پائی۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے بعد جو حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کی شہادت سے تین یا چھ مہینے پہلے ہوئی آپ اپنے والد ماجد کے زیر تربیت آ گئے تھے

امام حسن مجتبی علیہ السلام کی حیات طیبہ پر ایک نظر

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی ولادت ۳ھ کو مدینہ میں ہوئی ،آپ نے سات سال اور کچھ مہینے تک اپنے نانا رسول خداصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا زمانہ دیکھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آغوش محبت میں پرورش پائی۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے بعد جو حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کی شہادت سے تین یا چھ مہینے پہلے ہوئی آپ اپنے والد ماجد کے زیر تربیت آ گئے تھے۔

حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی حیات طیبہ کا ایک جائزہ

امام زیں العابدین علیہ السلام خلوص و محبت کا پیکر تھے۔ جب بھی آپ کہیں پر جاتے اور راستے میں کسی غریب وفقیر اور مسکین کو دیکھتے تو آپ کے قدم رک جاتے اور فوراً اس بیکس کی مدد کرتے اور بیکسوں، بے نواؤں کی دلجوئی کرنا، ان کو سھارا دینا اور ان کی ضرورت پوری کرنا آپ کے فرائض منصبی میں شامل تھا۔

امام حسین علیہ السلام اہل سنت کی نظر میں

سلمان فارسی نے حسنین علیھما السلام سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کے بارے میں نقل کیا ہےکہ رسول اللہ نے فرمایا "من احبهما احببته ومن احببته احبه الله ومن احبه الله ادخله جنات النعیم و من ابغضهمااوبغی علیهما ابغضته ومن ابغضته ابغضه الله ومن ابغضه الله ادخله نارجهنم وله عذاب مقیم " جو میرے بیٹوں حسن وحسین سے محبت کرے گا میں اسے دوست رکھوں گا اور میں جسے دوست رکھوں خدا اسے دوست رکھے گا اور خدا جسے دوست رکھے اسے نعمتوں سے سرشار بہشت میں داخل کرے گا لیکن جو ان دونوں سے دشمنی رکھے گا اوران پر ستم کرےگا میں اس سے دشمنی کرونگا اور جس کامیں دشمن ہوں خدا اس کا دشمن ہے اور جس کا خدا دشمن ہے خدا اسے جہنم میں ڈال دے گا اور اس کے لۓ ہمیشہ کے لۓ عذاب ہے ۔

امام کاظم (ع) اور سخت ترین حالات میں غریبوں و ناداروں کی مسیحائی

امام علیہ السلام سخت ترین گھٹن کے ماحول میں بھی سماج و معاشرہ کے محروم طبقے سے غافل نہ رہے اور مختلف موقعوں پر غریبوں و ناداروں کے لئے جو بن پڑا انجام دیتے نظر آئے، ہمیشہ غریب و بے سہارا لوگوں کا سہارا بنے۔ آپ نے وکالت کے نظام کے ذریعہ ان تمام لوگوں تک رسائی حاصل کی جنہیں آئمہ طاہرین علیھم السلام نے ہر دور میں مدد پہنچانا اپنی اولین ترجیح قرار دیا۔ آپکی سیرت میں ملتا ہے کہ راتوں کو چہرے پر نقاب ڈال کر مدینہ کے کوچوں میں نکل پڑتے اور ضرورت مندوں تک انکی ضرورت کی اشیاء پہنچاتے اپنے کاندھے پر انکا آذوقہ و سامان خود ڈھوتے۔

باب الحوائج امام موسی کاظم علیہ السلام کی زندگانی پر ایک اجمالی نظر تحریر:محمد لطیف مطہری کچوروی

آسمان ولایت کے ساتویں ستارے حضرت موسی کاظم علیہ السلام 7 صفر 128ھ کو مقام ابواء میں پیدا ہوئے، آپ کے والد بزرگوار حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام تھے اور مادر گرامی حمیدہ تھیں۔ ان کا تعلق ایک بافضیلت غیر عرب بزرگ خاندان سے تھا۔ امام صادق علیہ السلام نے ان کے بارے میں فرمایا " حمیدہ خالص سونے کی طرح پاک ہیں ہمارے اوپر اور ہمارے بعد والے امام پر یہ خدا کا لطف ہے کہ ان کے قدموں کو اس نے ہمارے گھر تک پہونچایا "۔

علی ابن ابی طالب علیہ السلام کون؟ تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

وہ علی :جو عین اسلام تھا۔ وہ علی :جو کل ایمان تھا۔ وہ علی: جوخانہ کعبہ میں پیدا ہوا اور مسجد کوفہ میں شہید کیا گیا۔ وہ علی :جس نے آنکھ کھولی تو سب سے پہلے مصحف روئے نبی کی زیارت کی اور جو نور میں ،خلق میں ،تبلیغ میں،راحت میں ،کلفت میں،بزم میں،رزم میں غرض ہر منزل میں رسول خدا کا ہم رکاب تھا ۔ وہ علی: جو خاتم الرسل کا بھائی اور وصی تھا۔ وہ علی :جوفاطمہ الزہرا کا شوہر تھا۔

امام محمد تقی علیہ السلام کے علمی مناظرے

مامون نے حضرت امام محمد تقی علیہ السّلام کے لئے اپنے پہلو میں مسند بچھوائی تھی اور حضرت علیہ السّلام کے سامنے یحیٰی ابن اکثم کے لئے بیٹھنے کی جگہ تھی۔ ہر طرف کامل سناٹا تھا۔ مجمع ہمہ تن چشم و گوش بنا ہوا گفتگو شروع ہونے کے وقت کا منتظر ہی تھا کہ اس خاموشی کو یحیٰی کے اس سوال نے توڑ دیا، جو اس نے مامون کی طرف مخاطب ہو کر کہا تھا "حضور کیا مجھے اجازت ہے کہ میں ابو جعفر علیہ السّلام سے کوئی مسئلہ دریافت کروں؟" مامون نے کہا "تمہیں خود انہی سے اجازت طلب کرنا چاہئے۔" یحیٰی امام علیہ السّلام کی طرف متوجہ ہوا اور کہا: "کیا آپ اجازت دیتے ہیں کہ میں آپ سے کچھ دریافت کروں؟" آپ نے فرمایا "تم جو پوچھنا چاہو پوچھ سکتے ہو۔"

امام جواد علیہ السلام کی زندگی پر ایک طائرانہ نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

امام رضاعلیہ السلام کی بہن جناب حکیمہ خاتون فرماتی ہیں کہ ایک دن میرے بھائی نے مجھے بلاکر کہاکہ آج تم میرے گھرمیں حاضر رہو،کیونکہ خیزران کے بطن سے آج رات کوخدا مجھے ایک فرزندعطافرمائے گا ،میں نے خوشی کے ساتھ اس حکم کی تعمیل کی ، جب رات ہوئی تو ہمسایہ کی چندعورتیں بھی بلائی گئیں، نصف شب سے زیادہ گزرنے پریکایک وضع حمل کے آثارنمودارہوئے یہ حال دیکھ کر میں خیزران کوحجرہ میں لے گئی، اورمیں نے چراغ روشن کردیا تھوڑی دیرمیں امام محمدتقی علیہ السلام پیداہوئے ، میں نے دیکھاکہ وہ مختون اورناف بریدہ ہیں ، ولادت کے بعد میں نے انہیں نہلانے کے لیے طشت میں بٹھایا، اس وقت جوچراغ روشن تھا وہ گل ہوگیا مگر پھر بھی اس حجرہ میں اتنی روشنی بدستور رہی کہ میں نے آسانی سے بچہ کونہلادیا. تھوڑی دیرمیں میرے بھائی امام رضاعلیہ السلام بھی وہاں تشریف لے آئے میں نے نہایت عجلت کے ساتھ صاحبزادے کوکپڑے میں لپیٹ کر حضرت کی آغوش میں دیدیا آپ نے سر اورآنکھوں پربوسہ دیے کر پھرمجھے واپس کردیا، دودن تک امام محمدتقی علیہ السلام کی آنکھیں بند رہیں تیسرے دن جب آنکھیں کھولیں تو آپ نے سب سے پہلے آسمان کی طرف نظرکی پھرداہنے بائیں دیکھ کرکلمہ شہادتین زبان پرجاری کیا میں یہ دیکھ کر سخت متعجب ہوئی اورمیں نے سارا ماجرا اپنے بھائی سے بیان کیا، آپ نے فرمایا تعجب نہ کرو، یہ میرا فرزندحجت خدا اور وصی رسول خدا ہیں

جس جس کا میں مولا، اس اس کا علی (علیہ السلام) مولا ہے۔

حضرت علی علیہ السلام کی خصوصیات میں سے ایک منفرد خصوصیت آپ کی خانہ کعبہ کے اندر ولادت ہے، اسی لئے آپ کو مولود کعبہ کہہ کر بھی پکارا جاتا ہے۔ یہ حضرت علی علیہ السلام کی مخصوص خصوصیت ہے نہ اس سے پہلے کسی کو یہ شرف نصیب ہوا ہے اور نہ اس کے بعد ہوگا۔ یہ کرامت اور معجزہ الہی ہے جو ذات احدیت نے دنیا کو دکھایا وہ بھی دروازے سے نہیں بلکہ خانہ کعبہ کی دیوارکو شق کرکے آپ کی والدہ کو اندر بلایا اور عمل ولادت، خانہ الہی کے اندر انجام پایا۔

امام ہادیؑ کی زندگی کا مختصر تعارف

نام : علی بن محمد نام پدر : محمد بن علی نام مادر : بی بی سمانہ تاریخ ولادت : ۱۵ ذیحجہ ۲۱۲ ھ(1) ، ایک اور روایت کے مطابق ۲ رجب ۲۱۲ ھ کو واقع ہوئی ہے ۔ لقب : نقی ، ہادی کنیت : ابوالحسن ثالث مدت امامت : ۳۳ سال تاریخ شہادت : ۳ رجب ۲۵۴ ھ (2) (۸۶۸ میلادی ) شہر سامرا

امام ہادی علیہ السلام کی شخصیت علماء اہل سنت کی نظر میں

امام ہادی علیہ السلام آسمان امامت و ولایت کے دسویں ستارے 15 ذی الحجہ سن 212 ہجری کو مدینہ کے محلے صریا میں پیدا ہوے۔ امام ہادی علیہ السلام کے والد گرامی امام جواد علیہ السلام اور والدہ گرامی سمانہ زن با فضیلت و با تقوی تھی۔ امام ہادی علیہ السلام کے زمانے کے حالات ایسےتھے کہ وہ اپنے بیٹے امام حسن عسکری علیہ السلام ان کی بیوی بی بی نرجس خاتون علیہا السلام اور امام جواد علیہ السلام کی بیٹی حکیمہ خاتون علیہا السلام کے ساتھ سامراء کے محلے عسکر کہ ایک فوجی علاقہ تھا میں زندگی گزارتے تھے۔ امام ہادی علیہ السلام کے زمانے کے حالات ایسے تھے کہ استفادہ علمی ان امام سے دوسرے اماموں کی نسبت بہت کم ہوا ہے۔ آخر کار امام ہادی علیہ السلام تینتیس سال امامت و انسانیت کی خدمت اور ہدایت کرنےکے بعد سن 254 ہجری شہر سامرا میں شہادت کے مرتبے پر فائز اور اپنےگھر میں دفن ہوئے۔اب ان کا نورانی مقبرہ شیعیان اور محبان کی پناہ گاہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اس مختصر تحریر میں ہم امام ہادی علیہ السلام کی شخصیت علماء اہل سنت کی نظر میں بیان کر رہے ہیں۔

امام محمد باقر ع کی زندگی پر ایک اجمالی نظر

حضرت امام محمد باقر ع پیغمبرِ اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی علیہ وآلہ وسلم کے پانچوں جانشین ھمارے پانچویں امام اور سلسہ عصمت و طاہرت کی ساتویں کڑی تھے

امام باقر العلوم (ع) اور حوزہ علمیہ کے طلاب

حضرت امام محمد باقر (ع) کی ولادت باسعادت یکم رجب ستاون ہجری میں ہوتی ہے، کربلا کے پورے واقعہ میں آپ شریک رہتے ہیں،

امام محمد باقر علیہ السلام کی چالیس حدیثیں

ابوجعفر محمد بن علی بن علی بن الحسین علیہ السلام نے فرمایا: خداوند متعال (در روز قيامت) اپنی بندوں کی بازخواست انہیں عطا کی گئی عقل، کے مطابق کرے گا۔ (یعنی دنیا میں انسانوں کی عقل کے مراتب کے اختلاف کے مطابق آخرت میں ان کی بازخواست کے مراتب بھی مختلف ہیں)۔

امام باقرعلیہ السلام کی زندگانی پر ایک اجمالی نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام بتاریخ یکم رجب المرجب ۵۷ ھ یوم جمعہ مدینہ منورہ میں پیدا ہوئ ۔۱۔علامہ مجلسی تحریرفرماتے ہیں کہ جب آپ بطن مادرمیں تشریف لائے تو آباؤ اجداد کی طرح آپ کے گھرمیں آوازغیب آنے لگی اورجب نوماہ کے ہوئے تو فرشتوں کی بے انتہا آوازیں آنے لگیں اورشب ولادت ایک نورساطع ہوا، ولادت کے بعد قبلہ رو ہو کرآسمان کی طرف رخ فرمایا،اور(آدم کی مانند) تین بار چھینکنے کے بعد حمد خدا بجا لائے،ایک شبانہ روز دست مبارک سے نور ساطع رہا، آپ ختنہ کردہ ،ناف بریدہ، تمام آلائشوں سے پاک اورصاف متولد ہوئے۔

مقصد قیام امام حسین علیہ السلام تحریر: محمد حسن حسرت کچوروی

امام حسین ؑ ۲۸ رجب ۶۰ ھ میں مدینہ سے حرکت کرتے ہیں اور ۳ شعبان المعظم کو مکہ میں پہنچتے ہیں پھر ۸ ذی الحجہ کو مکہ سے کوفہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں ۲ محرم الحرام کو وارد کربلا ہوتے ہیں اور ۱۰ محرم الحرام کو شھید ہو جاتے ہیں اس مختصرعرصے میں انسان سو سے زیادہ درس حاصل کر سکتا ہے بلکہ کہہ سکتے ہیں کہ امام کے اس مختصر عرصےمیں ہزاروں دروس شامل ہیں لیکن یہ سارے دروس ایک اصلی درس ‘ حرکت اور قیام امام میں موجود ہیں باقی سارے حاشیے ہیں متن یہ ہے کہ امام نے قیام کیوں کیا؟ یہ اصلی درس ہے لوگ امام سے کہتے تھے آپ مدینہ اور مکہ میں محترم ہیں یمن میں اتنے سارے شیعہ ہیں کسی کونے میں تشریف لے جائیں اور یزید سے کوئی سروکار نہ رکھے تاکہ وہ بھی آپ سے کوئی سروکار نہ رکھے۔ یہ سارے مرید ہیں انہیں تبلیغ کریں عبادت کریں اور زندگی کریں۔ کاس قیام کا مقصد کیاہے ۔۔؟

معرفت امام حسین علیہ السلام آیت اللہ شیخ فاضل جواد لنکرانی

مقدمہ اس سے پہلے کہ اصلی گفتگو میں وارد ہوں اور شخصیت امام حسین (ع) کے بارے میں کچھ لکھیں اپنے فہم و ادراک کے مطابق سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کی معرفت کے سلسلے میں کچھ باتیں مقدمہ کے طور پر پیش کرتے ہیں

حضرت فاطمہ زہراءسلام اللہ علیہا اور حضرت مریم سلام اللہ علیہا کے فضائل کا تقابلی جائزہ تحریر : محمد لطیف مطہری کچوروی

حضرت فاطمہ زہراءسلام اللہ علیہا اور حضرت مریم سلام اللہ علیہا کے فضائل کا تقابلی جائزہ علماء فضائل کی دوقسمیں بیان کرتے ہیں۔ ایک فضائل ذاتی اور دوسری فضائل نسبی ۔ فضائل ذاتی سے مراد وہ فضائل ہیں جو کسی شخصیت کے اندر ذاتی طور پر موجودہوتاہے ۔ فضائل نسبی وہ صفات ہیں جو دوسری چیز کے ساتھ نسبت دینے سے اس کے اندرلحاظ ہوتی ہیں۔ حضرت فاطمہ زہراء علیہا السلام اور حضرت مریم سلام اللہ علیہا میں دونوں طرح کی صفات اور فضائل ہیں۔ وہ فضائل جو کسی اور سے منسوب ہونے کی وجہ سے ان میں پائے جاتے ہیں اور وہ فضائل بھی پائے جاتے ہیں جو کسی سے منسوب ہوئے بغیر خود ان کی ذات کے اندر موجود ہیں۔ اس مختصر مقالہ میں ہم حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا اور حضرت مریم سلام اللہ علیہا کے فضائل کا تقابلی جائزہ لینے کی کو شش کریں گے۔

شخصیت امام حسین علیہ السلام پرمختصرنظر تحریر: احسان علی دانش کچوروی

مام حسین علیہ السلام کی خاندانی عظمت: امام علیہ السلام کی شخصیت ہی کچھ ایسی ہے کہ جس طرف دیکھیں عظمت و شرافت کا مالک نظر آتے ہیں ،ان کا خاندا ن ہی عظمت و شرافت کا گنجینہ ہے۔امام حسین علیہ السلام کے نانا رسو ل خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نانی حضرت خدیجہ علیھا السلام داداابوطالب علیہ السلام دادی فاطمة بنت اسدسلام اللہ علیھا بابا امام علی علیہ السلام ،ماں حضرت زھراءعلیھا السلام اور بھائی امام حسن علیہ السلام ہیں،کہ جن کی مثل دنیا میں نہیں ہے ۔امام حسین علیہ السلام کی ذات میں بہت سارے گذشتہ انبیاء کی صفات نظر آتیں ہیں۔حکم الہی کو بدون چون و چرا قبول کرنے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح،صبر میں حضرت یعقوب علیہ السلام کی طرح،ہیبت میں حضرت موسی علیہ السلام کی طرح،شجاعت میں بابا علی مرتضی علیہ السلام کی طرح،فضیلت و تقوی میں ماں فاطمة الزھراء علیھا السلام کی طرح،سخاوت و عطا میں حضرت خدیجہ علیھا السلام کی طرح اور حلم میں بھائی حسن علیہ السلام کی طرح ہیں۔امام حسین علیہ السلام باغ نبوت کے ایک مہکتے ہوئے پھول ہیں ۔ امام حسین علیہ السلام کی ذات حسب و نسب دونوں طرف سے عظمت و شرافت کی مالک ہے ۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے خاندان کے بارے میں واضح الفاظ میں فرمایا:کہ ہمارا خاندان نور سے خلق کیا گیاہے حسین علیہ السلام کے نور سے بھشت اور حوروںکو پیدا کیا گیا ہے ،پس جنت اور حوروں سے حسین علیہ السلام افضل ہیں کیونکہ جنت اور حوریں حسین علیہ السلام کے نور سے خلق ہوئی ہیں ۔ایک اور حدیث میں حضور اکرم [ص] نے ارشاد فرمایا ہے :کہ مجھے ،علی ،حسین اور حسین کو خدا نے نور عظمت سے اس وقت خلق کیا ،جس وقت خدا کیلئے تسبیح و تقدیس نہیں تھیں۔

مہدویت ا ور ظہور، مقام معظم رہبری کی نگاہ سے سید لیاقت علی کاظمی

مہدویت ا ور ظہور، مقام معظم رہبری کی نگاہ سے سید لیاقت علی کاظمی مقام معظم رہبری کے حکمت آمیز و گہربار بیانات جہاں انسان ساز ہوتے ہیں وہیں قرآنی و اسلامی اور خاص طور پر شیعی نکتہ پردازیوں کے انمول خزینے بھی ہوتے ہیں,جس سے مؤمنین کے چشم و دل تمانیت کا احساس اور نسل نو علمی موشگافیوں سے سیرحاصل گفتگو کا آغاز کرسکتے ہیں،جو کہ دل کے مضراب پر معنویت کے ترنم سے سرشار حقیقت جو اور مشتاق دلوں کی دھڑکن ہوتے ہیں۔ اس آزاد منش رہبر کےہوشمند بیانات چشمۂ زلال ولایت کی آبرو اور امام زمان(عج) کی الفت و محبت سے معمور نظر آتے ہیں ،انکے دل آویز بیانات کی زمزمہ خوانی جہاں دلنشین ہے وہیں آگہی بخش بھی،جہاں وقت کی رفتار روکتے ہیں وہیں خرمن باطل کو نظر آتش بھی کرجاتے ہے، اور جب بات مہدویت کی ہو تو رنگ ِ تقریر دل کی کیفیتِ درونی و سوزِ نہانی کی ایسی آئینہ داری کرتے ہیں کہ سامع نئے افق کی تلاش میں نکل پڑے ،جیسا کہ انتظار فرج کے نوازشگر و درخشاں پہلو کو اجاگر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

صلح امام حسن علیہ السلام اورقیام امام حسین علیہ السلام کا فلسفہ آیت اللہ استاد غلام عباس رئیسی

صلح امام حسن علیہ السلام اورقیام امام حسین علیہ السلام کا فلسفہ آیت اللہ استاد غلام عباس رئیسی حضرات ائمہ اطہار کی سیرت اور عملی زندگی میں بہت زیادہ مشترکات نظر آتے ہیں اور یہ ایک مسلم بات ہے۔ بقول اقبال: حقیقت ابدی ہے مقام شبیری بدلتے رہتے ہیں انداز کوفی و شامی اس اشتراکِ فکر و عمل کی اصل وجہ یہ ہے کہ ائمہ معصومین علیہم السلام اور انبیاء الہٰی کا مقصد اور اصول ایک ہے ؛ جیسا کہ امام خمینی رح کا ارشاد ہے کہ اگر سارے انبیائے عظام ایک وقت میں ایک ہی مقام پر موجود ہوتے تب بھی ان کے درمیان ذرہ برابر اختلاف نہ پایا جاتا۔ کیونکہ اگر کہیں بھی انسانوں کے درمیان کوئی اختلاف پایا جاتا ہے تو اس کے چند عوامل ضرور ہوتے ہیں مثلا: الف: ان افراد کا ہدف اور نصب العین ایک نہیں ہوتا بلکہ ہر ایک کامقصد اپنے ذاتی مفادات کا تحفظ ہوتا ، لہٰذا ان کے درمیان اختلاف ہوجاتا ہے ،اس حقیقت کی مثال ایسی ہی ہے جیسے ایک مسافر مشرق جانے والا ہو اور دوسرا مغرب جانے والا ہو تو یہ دونوں ہمسفر نہیں ہوسکتے اور ایک گاڑی میں دونوں ایک ساتھ سوار نہیں ہوسکتے۔ ب: اختلاف کا دوسرا عامل، افراد کے طریقہ ٴ کار کا اختلاف ہوتا ہے ،مثلاً دین کی خدمت کرنا سب کا ہدف ہوتا لےکن اس ہدف کے حصول کے لئے ایک شخص سیاست یا جہاد کا راستہ اپناتا ہے اور دوسرا شخص علمی اور فلاحی خدامات فراہمی کے ذریعے اس ہدف تک پہنچنا چاہتا ہے ، البتہ اس طرح کے اختلاف کی بھی دو وجوہات ہوتی ہیں:

بین الاقوامی

جنگ نہیں ہو گی، امریکہ کے ساتھ مذاکرات بھی نہیں ہونگے: آیت اللہ سید علی خامنہ ای

جنگ نہیں ہو گی، امریکہ کے ساتھ مذاکرات بھی نہیں ہونگے: آیت اللہ سید علی خامنہ ای

بولیویا نے اسرائیل کودہشت گرد ریاست قرار دے دیا

بولیویا نے اسرائیل کودہشت گرد ریاست قرار دے دیا

امام خمینی

امام خمینی رح ایک مرد عارف

حضرت امام خمینی رح کے بارے میں عام طور پر جو بات ہمارے ہاں زیادہ مشہور ہے وہ یہ کہ آپ نے ایک ملوکیت اور بادشاہت کا خاتمہ کرکے ایک اسلامی اور مذہبی حکومت قائم کی۔ لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ استعماری طاقتوں کے خلاف تھے اور استعماری طاقتوں نے آپ کی حکومت کے خاتمے کے لیے اپنے پورے وسائل بروئے کار لائے لیکن وہ اس میں ناکام ہو گئیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ امام خمینی رح بہت شجاع اور بہادر تھے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ آپ نے ناجائز طور پر قائم صہیونی حکومت کے خاتمے اور فلسطینیوں کے حقوق کے حصول کے لیے بھی آواز بلند کی۔ آپ مستضعفوں اور محروموں کے حقوق کے بھی علمبردار تھے۔ آپ نے اتحاد امت کے لیے ایک زور دار آواز بلند کی۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ ایک عالم اور فقیہ تھے اور آپ کی تقلید کی جاتی تھی۔ بعدازاں آپ کا دیوان بھی چھپا اور پاکستان میں بھی بہت سے لوگوں کو معلوم ہوا کہ آپ صاحب دیوان شاعر بھی تھے، لیکن ابھی تک جو پہلو کم شناختہ یا ناشناختہ ہے وہ یہ ہے کہ آپ ایک بلند پایہ عارف تھے اور شاید یہ کہنا زیادہ بہتر ہو کہ آپ کے وجود سے پھوٹنے والی تمام تر خوبیوں کا سرچشمہ یہی امر ہے کہ آپ ایک عارف باللہ اور عاشق الٰہی تھے اور اس سلسلے میں نظری اور عملی طور پر نہایت عمق اور گہرائی کے مقام پر فائز تھے۔

امام خمینی رہ کی زندگانی پر ایک طائرانہ نظر

بیس جمادی الثانی 1320 ہجری قمری مطابق 24ستمبر 1902 عیسوی کو ایران کے صوبہ مرکزی کے شہرخمین میں بنت رسول حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی طیب وطاہر نسل کے خاندان میں آپ ہی کے یوم ولادت با سعادت پر روح اللہ الموسوی الخمینی کی پیدائش ہوئي۔ وہ اپنے آباؤ اجداد کے اخلاق حسنہ کے وارث تھے جنہوں نے نسل درنسل لوگوں کی ہدایت ورہنمائی اورمعارف الہی کے حصول کے لئے خود کو وقف کررکھا تھا۔ یہ وہ گھرانہ تھا جو اعلی علمی مفاہیم سے مکمل طور پر آشنا تھا ۔امام خمینی کے پدربزرگوار آیت اللہ سید مصطفی مرحوم جو آیت اللہ العظمی میرزای شیرازی کے ہم عصر تھے نجف اشرف میں اسلامی علوم کے اعلی مدارج طے کرنے کے بعد درجہ اجتہاد پر فائزہوئے اور پھر ایران واپس آگئے اور شہر خمین میں تبلیغ و ہدایت کے فرائض انجام دینے لگے۔ حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ کی ولادت کو ابھی پانچ ماہ سے زیادہ کا عرصہ نہیں گذرا تھا کہ حکومت وقت کے ایجنٹوں نے ان کے والد بزرگوار کی ندائے حق کا جواب بندوق کی گولیوں سے دیا اور انھیں شہید کردیا ۔

امام خامنہ ای

اگر ایران داعش کا مقابلہ نہ کرتا تو خطے کی حالت ناگفتہ بہ ہوتی، آیت اللہ سید علی خامنہ ای

اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر نے کہا کہ اگر ایرانی فوج اور انقلابی گارڈز داعش کے خلاف نہ لڑتے تو معلوم نہیں آج ہمسایہ ممالک سمیت پورے خطے کی کیا صورتحال ہوتی اور ان پر کون راج کر رہا ہوتا۔

عراقی حکومت، امریکی فوجیوں کے انخلا پر توجہ مبذول کرے: امام خامنہ ای

عراقی حکومت، امریکی فوجیوں کے انخلا پر توجہ مبذول کرے: امام خامنہ ای عراقی وزیراعظم نے اپنے وفد کے ساتھ امام خامنہ ای سے ملاقات کی، ملاقات کے دوراں امام خامنہ ای نے کہا کہ عراقی حکومت، امریکی فوجیوں کے انخلا پر توجہ مبذول کرے۔

کلام و عقائد

بدا قرآن و حدیث کی روشنی میں

ذات الٰہی کے بارے میں بدا، حقیقت میں ابدا و اظہار ہے۔ یعنی جو کچھ خدا کے علم میں ہے اور انسان کے علم میں نہیں، اسےخداوند متعال اظہار و آشکار کرتا ہے۔ اسے بدا، کہنے کا سبب یہ ہے کہ یہ مقام فعل الٰہی میں نمایاں ہوتا ہے، اگرچہ ذات الٰہی میں جہل اور تغییر محال ہیں۔ خداوند متعال انبیاء کرام پر غیبی طریقے سے نظر رکھتا ہے تاکہ یہ لوگ وحی کے پہنچانے میں خطا سے محفوظ رہیں۔ قرآن کریم اس بارے میں ارشاد فرماتا ہے، "لِّيَعْلَمَ أَن قَدْ أَبْلَغُواْ رِسَالَاتِ رَبهِّم" تاکہ وہ دیکھ لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات کو پہنچا دیا ہے۔ واضح ہے کہ خداوند متعال پہلے سے ہی آگاہ ہے کہ انبیاء، وحی الٰہی کو صحیح طریقے سے لوگوں تک پہنچائیں گے۔

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی علم کلام کےاہم مباحث میں سے ایک حسن و قبح عقلی کا بحث ہے ۔اس سے مراد یہ ہے کہ کچھ افعال ذاتی طور پر حسن {اچھے} اور کچھ افعال ذاتی طور پر قبیح{ برے} ہیں ۔ معتزلہ اور امامیہ حسن و قبح عقلی کے قائل ہیں جبکہ اشاعرہ اس کی نفی کرتے ہیں۔ بہت سے کلامی مسائل اس بحث پر موقوف ہیں مثلا انسان کا اپنے اعمال میں خود مختار ہونا،خدا وند متعال کی بعض صفات کمالیہ کا ثبوت جیسے خدا کا عادل ہونا،اسی طرح بعض صفات سلبیہ بھی اسی بحث پر موقوف ہے جیسے خدا سے قبیح کا سرزد نہ ہونا،خداکا ظلم نہ کرنا وغیرہ ۔ جو لوگ حسن اور قبح کے قائل ہیں وہ انسانی افعال میں انسان کو مختار،خدا کو عادل مانتے ہیں جبکہ حسن و قبح کے مخالفین انسان کو مجبور اور خداکی عدالت سے انکار کرتے ہیں ۔

تربیت اولاد

خاندانی منصوبہ بندی : ایک معاشرتی ضرورت یا دھوکہ!

خاندانی منصوبہ بندی کوآج کے دور میں مختلف مملک کی حکومتیں اپنی کامیاب ترین پالیسیوں میں شمار کرتی ہیں۔ آبادی کا کنٹرول اور چھوٹا خاندان خوشحالی کا ذریعہ سمجھاجاتا ہے۔ خصوصاً محدود وسائل رکھنے والے ممالک میں اس پالیسی کو زیادہ اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے

تعليم و تربيت کے بارے ميں اسلامي علما کي آرا و نظريات

تاريخ اسلام ميں تقريبا تمام علماء و دانشور مختلف علوم ميں مھارت رکھنے کے ساتھ ساتھ تعليم و تربيت ميں بھي صاحب نظر اور مھارت کے حامل ہوا کرتے تھے اس سے اسلام ميں تعليم وتربيت کي اھميت کا پتہ چلتا ہے لھذا ہم يہاں پر علما اسلام کي نظر ميں تعليم و تربيت کي اھميت اجاگر کرنے کے لئے ان کے بعض نظريات پيش کر رہے ہيں۔

تندرستی

غیر صحت مند خوراک کا استعمال سیگریٹ نوشی سے بھی زیادہ خطرناک

غیر صحت مند خوراک کا استعمال سیگریٹ نوشی سے بھی زیادہ خطرناک خراب غذا نہ صرف ہماری صحت کے لئے خرابی کا باعث ہے بلکہ دنیا بھر میں شرح اموات کی بڑھتی ہوئی تعداد میں اضافے کا سبب بھی ہے۔

روزانہ ایک گلاس نارنجی کا جوس فالج کے خطرے کو کم کرتا ہے

روزانہ ایک گلاس نارنجی کا جوس فالج کے خطرے کو کم کرتا ہے ایکسپریس نیوز نارنجی کے رس کے فوائد پہلے بھی بتاتا رہا ہے اور اب ایک بہت بڑے سروے سے معلوم ہوا ہے کہ باقاعدگی سے ایک گلاس نارنجی کا رس پینے والوں میں فالج کا خطرہ 25 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔ یہ مطالعہ ہزاروں افراد پر کیا گیا جو دس سال سے زائد عرصے تک جاری رہا۔ لیکن مغربی ممالک میں شکر سے دور بھاگنے کے رحجان سے نارنجی کے رس کو وہ اہمیت نہیں دی جارہی ۔

مہدویت{امام زمان عج}

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی امامت کے اہداف میں سے ایک ہدف امام معصوم کا لوگوں کی باطنی ہدایت ہے۔ امام لائق اور پاکیزہ دل رکھنے والے افراد کو اپنی طرف جذب کر کے انہیں کمال تک پہنچاتے ہیں۔ واضح ہے کہ انسان کا اس طرح ہدایت سے ہمکنار ہونے کے لئے ضروری نہیں کہ وہ امام کے ساتھ ظاہری رابطہ برقرار کرے۔ گذشتہ بیانات کی روشنی میں امام زمانہ (عج) کو بادل کے پیچھے پنہان روشن آفتاب سے تشبیہ دینے کا مقصد بھی واضح ہو جاتا ہے۔ اگرچہ بادل کے پیچھے پنہان سورج سے انسان مکمل طور بہرہ مند نہیں ہوتا ہے لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ اس سے انسان کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا ہے۔ بہرحال امام زمانہ (عج) کے وجود کے آثار و برکات سے بہرہ مند نہ ہونے کا سبب انسانوں کی طرف سے خاص حالات کا فراہم نہ کرنا ہے، جس کی وجہ سے لوگ اس عظیم نعمت کے فوائد سے محروم ہیں اور اس محرومیت کا سبب وہ خود ہیں نہ کہ خداوند متعال اور امام، کیونکہ خداوند متعال اور امام کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی مشکل درپیش نہیں ہے۔

احادیث

حدیث ثقلین پر ایک اجمالی نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

حدیث ثقلین ان متواتراحادیث میں سےایک ہے جسے اہل تشیع و اہل تسنن دونوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیا ہے ۔اس معروف حدیث کا متن یہ ہے :{یاایها الناس انی تارک فیکم الثقلین ،کتاب الله و عترتی ، اهل بیتی ماان تمسکتم بهما لن تضلوا بعدی ابدا و انهما لن یفترقا حتی یرداعلی الحوض ،فانظروا کیف تخلفونی فیهما }۱پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :اے لوگو:میں تمہارے درمیان دوگرانقدر چیزیں چھوڑے جاتا ہوں ۔اگر تم ان کےساتھ تمسک کئے رہو گے توکبھی گمراہ نہ ہوگے ۔ان میں سے ایک کتابخداہے اور دوسری میریعترت۔ یہ دونوں کبھی جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ دونوں میرے پاس حوض کوثر پر پہنچ جائیں ۔تم خود سوچو کہ تمہیں ان دونوں کے ساتھ کیا رویہ رکھنا چاہیے ۔

امام علی علیہ السلام کی شانِ میں چہل حدیث

مولا علیؑ کی شان میں چالیس احادیث اور یہ ﻭﻩ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ہیں ﺟﻮ ﺻﺤﺎﺡ ﺳﺘﻪ ﻣﯿﮟ بھی موجود ہے. 1= ﻋﻨﻮﺍﻥ ﺻﺤﻴﻔﺔ ﺍﻟﻤﺆﻣﻦ ﺣﺐّ ﻋﻠﻰؑ ﺑﻦ ﺍﺑﻰ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ. ﺻﺤﯿﻔﮧ ﻣﻮﻣﻦ ﮐﺎ ﻋﻨﻮﺍﻥ ﻣﺤﺒﺖِ ﻋﻠﯽؑ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻃﺎﻟﺐؑ ﮨﮯ.

چہاردہ معصومین ع

امام زین العابدین علیہ السلام

ابو حمزہ ثمالی سے مروی ہے کہ علی بن الحسین(ع) راتوں کو کھانے پینے کی چیزوں کو اپنے کندھے پر رکھ کر اندھیرے میں خفیہ طور پر غربا اور مساکین کو پہنچا دیتے تھے اور فرمایا کرتے تھے: "جو صدقہ اندھیرے میں دیا جائے وہ غضب پروردگار کی آگ کو بجھا دیتا ہے"۔[57] محمد بن اسحاق کہتا ہے: کچھ لوگ مدینہ کے نواح میں زندگی بسر کرتے تھے اور انہیں معلوم نہ تھا کہ ان کے اخراجات کہاں سے پورے کئے جاتے ہیں، علی ابن الحسین(ع) کی وفات کے ساتھ ہی انہيں راتوں کو ملنے والی غذائی امداد کا سلسلہ منقطع ہوا۔ [58]

امام حسین علیہ السلام کا معاویہ کے نام خط

۱۔تم حجر بن عدی اور ان کے ساتھیوں کے قاتل ہو جو سب کے سب عابد وزاہد تھےاور بدعتوں کے مخالف اور امر بالمعروف و نہی عن المنکرکیاکرتے تھے ۔ ۲۔ تم نے عمرو بن حمق کو قتل کیا جو جلیل القدر صحابی تھے جن کابدن کثرت عبادت کی وجہ سے نحیف و کمزور ہو چکا تھا۔ ۳۔تم نے زیاد بن ابیہ کو { جو ناجائز طریقے سے متولد ہوا تھا }اپنا بھائی بنا لیا اوراسےمسلمانوں پرمسلط کردیا ۔

سب سے زیادہ زیر بحث

امام علی علیہ السلام کی شانِ میں چہل حدیث

مولا علیؑ کی شان میں چالیس احادیث اور یہ ﻭﻩ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ہیں ﺟﻮ ﺻﺤﺎﺡ ﺳﺘﻪ ﻣﯿﮟ بھی موجود ہے. 1= ﻋﻨﻮﺍﻥ ﺻﺤﻴﻔﺔ ﺍﻟﻤﺆﻣﻦ ﺣﺐّ ﻋﻠﻰؑ ﺑﻦ ﺍﺑﻰ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ. ﺻﺤﯿﻔﮧ ﻣﻮﻣﻦ ﮐﺎ ﻋﻨﻮﺍﻥ ﻣﺤﺒﺖِ ﻋﻠﯽؑ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻃﺎﻟﺐؑ ﮨﮯ.

دعا کی اہمیت

دعا کی اہمیت حضرت انسان کس قدر شرف و عظمت کا مالک ہے،اس کے لئے کائنات بنی،پوری کائنات میں اسی کو عزت و تکریم کا حق دار ٹھہرایا گیا۔تمام مخلوق اس کی خدمت اور منفعت کے لئے پیدا کی گئی۔لیکن اتنی عظمتوں کے باوجود اس کی خلقت کا مقصد اللہ کی معرفت اور عبادت قرار دیا گیا۔لہذا انسان کا اہم کام خدا سے ارتباط و ربط ہے۔مگر کیسا رابطہ؟ اتنی عظمتوں کے باوجود بارگاہ خداوندی میں فقر محض اور احتیاج محض ہے جبکہ ذات پروردگار غناء ہی غناء ہے۔بلندی ہی بلندی ہے۔انسان مشکلات،مصائب اور تکالیف میں ایسی ذات کی طرف رجوع کر کے اپنے فقر اور احتیاج محض ہونے کا اقرار و اعتراف کرتے ہوئے اپنی نفی اور بے ثباتی کا اظہار کرتا نظر آتا ہے۔اس سلسلے میں انسان کا ایک اہم وسیلہ دعا ہے۔دعا کے ذریعے اپنی احتیاج کا اظہار بھی کرتا ہے اوراللہ سے اعانت کی التجا بھی کرتا ہے۔

قرآنِ کریم اور اصلاحِ معاشرہ تحریر: عارف حسین تھہیم

لفظِ ’’اصلاح‘‘ درست کرنے، صحیح کرنے اور خرابی کو دُور کے معنی میں آتا ہے۔ معاشرتی اور اجتماعی مفہوم کے اعتبار سے شائستہ اور نیک عمل انجام دینے، نیز فساد و تباہی کو ختم کرنے کے لیے بھی اصلاح کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ ارشادِ پروردگار ہے: ﴿ إِلاَّ الَّذِينَ تَابُواْ وَأَصْلَحُواْ وَبَيَّنُواْ فَأُوْلَئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ﴾[1]؛ ’’سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے توبہ کی اور اپنے کئے کی اصلاح کر لی اور (جس کو چھپایا ہوا تھا) واضح کر دیا تو ایسے ہی لوگوں کی توبہ میں قبول کرتا ہوں اور بےشک میں بڑا توبہ قبول کرنے والا اور بہت مہربان ہوں۔‘‘ حقیقی توبہ میں گذشتہ بُرائی اور فساد کا دُور کرنا اور آئندہ بُرائی و فساد سے بچے رہنے کا تہیہ کرنا ضروری ہے۔ شائستہ اور صالح معاشرے کی تشکیل کا ہدف اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی دُنیوی و اُخروی اور مادی و معنوی ضرورتوں کو پورا کیا جائے؛ لہٰذا صالح معاشرے کی خصوصیات یہ ہیں کہ اس میں ہر ایک کی جان، مال، عزّت و آبرو اور ناموس محفوظ ہوتی ہے، لوگوں کی درمیان مہر و محبت اور اپنائیت کا راج ہوتا ہے اور سب لوگ روحانی و معنوی لحاظ سے پُرسکون اور مطمئن ہوتے ہیں۔

تلاوت قرآن کی فضیلت

'پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا، جو شخص رات کو دس آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام غافلین (جو یاد خدا سے بے بہرہ رہتے ہیں) میں نہیں لکھا جائے گا اور جو شخص پچاس آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام ذاکرین (جو خدا کو یاد کرتے ہیں، حرام و حلال کا خیال رکھتے ہیں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص سو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام قانتین (عبادت گزاروں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص دوسو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام خاشعین (جو خدا کے سامنے متواضع ہوں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص تین سو آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام سعادت مندوں میں لکھا جائے گا، جو شخص پانچ ہزار آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام عبادت اور پرستش خدا کی کوشش کرنے والوں میں لکھا جائے گا اور جو شخص ہزار آیتوں کی تلاوت کرے وہ ایسا ہے جیسے اس نے کثیر مقدار میں سونا راہ خدا میں دے دیا ہو۔،،

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ بسم اللہ الرحمن الرحیم بنام خدائے رحمن و رحیم اٴَللّٰھُمَّ اِنّيِ اٴَسْاٴَ لُکَ بِرَحْمَتِکَ الَّتي وَ سِعَتْ کُلَّ شَيْءٍ،وَ بِقُوَّتِکَ الَّتي قَھَرْتَ خدایا میراسوال اس رحمت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر محیط ھے۔ اس قوت کے واسطہ سے ھے جو ھر چیز پر حاوی ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ،وَخَضَعَ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ،وَذَلَّ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ، وَبِجَبَرُوتِکَ الَّتي غَلَبْتَ اور اس کے لئے ھر شے خاضع اور متواضع ھے۔ اس جبروت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر غالب ھے اور اس عزت کے واسطہ سے ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ، وَ بِعِزَّتِکَ الَّتي لاٰ یَقُومُ لَھٰا شَيْءٌ، وَبِعَظَمَتِکَ الَّتي مَلَاٴَتْ کُلَّ جس کے مقابلہ میں کسی میں تاب مقاومت نھیں ھے۔اس عظمت کے واسطہ سے ھے جس نے ھر چیز کو پر کردیا ھے شَيْءٍ، وَ بِسُلْطٰانِکَ الَّذي عَلاٰ کُلَّ شَيْءٍ، وَبِوَجْھِکَ الْبٰاقي بَعْدَ فَنٰاءِ کُلِّ شَيْءٍ،

تربیت اولاد کے انمول اصول تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

لغت کی کتابوں میں لفظ" تربیت" کے لیے تین اصل اور ریشہ ذکر ہوئے ہیں۔ الف:ربا،یربو زیادہ اور نشوونما پانےکے معنی میں ہے۔ ب: ربی، یربی پروان چڑھنا اور برتری کے معنی میں ہے۔ج: رب،یرب اصلاح کرنے اور سرپرستی کرنے کے معنی میں ہے۔۱صاحب مفردات کا کہنا ہے کہ "رب" مصدری معنی ٰ کے لحاظ سے کسی چیز کو حد کمال تک پہچانے ، پرورش اور پروان چڑھانے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ۲ صاحب التحقيق کا کہنا ہے اس کا اصل معنی ٰ کسی چیز کو کمال کی طرف لے جانے ، نقائص کو تخلیہ اور تحلیہ کے ذریعےرفع کرنے کے معنی ٰ میں ہے۔۳ بنابر این اگر اس کا ريشه(اصل) "ربو" سے ہو تو اضافہ کرنا، رشد ، نمو اور موجبات رشد کو فراہم کرنے کے معنی ٰ میں ہےلیکن ا گر "ربب" سے ہو تو نظارت ، سرپرستي و رهبري اور کسی چیز کو کمال تک پہنچانے کے لئے پرورش کے معنی ٰ میں ہے۔

اقوال حضرت امام علی علیہ السلام

قال علی علیہ السلام :وا علم ان الخلائقییی لم یوکدوا بشئی اعظم من التقویٰ فانہ وصیتنا اھل البیت (۱) ترجمہ: حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں : لوگوں کو تقویٰ سے زیادہ کسی چیز کی تاکید نھیںکی گئی اس لئے کہ یہ ھم اھل بیت کی وصیت ھے ۔ حدیث (۲)

اخلاق حسنہ کے بارے میں معصومین (ع) کے ارشادات

رسول خدا (ص) اور ا ئمہ معصومین علیہم اسلام اخلاق حسنہ کى اعلى ترین مثالیں ہیں اور یہ بے مثال "حُسن خلق" ان کے کردار اور گفتار سے عیاں تھا، ان ہى عظیم شخصیتوں کے ارشادات کى روشنى میں ہم "حُسن خلق" کے اعلى درجہ پر فائز ہو سکتے ہیں۔

مشاہدات

آج

458

کل

936

اس ماہ

34672

اس سال

62324

ٹوٹل مشاہدات

231552