علماء کونسل کچورا سکردو بلتستان

قرآن مجید

آیت تطہیر پر ایک اجمالی نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

آیت تطہیر میں ارادہٴ تکوینی مراد ہے اور ارادہ تکوینی میں تخلف ناممکن ہے۔ اسی لئے اہل بیتعلیہم السلامکا ہرقسم کی آلودگیوں سے پاک و پاکیزہ ہو نا ایک قطعی اور تخلف ناپذیر امر ہے لیکن یہاں یہ سوال پیش آتا ہے کہ اہل بیت علیہم السلام کی عصمت کا غیر اختیاری ہونا ان کے افعال کے غیر اختیاری اور اجباری ہونے پر دلالت کرتا ہے جو ان کے لئے کمال محسوب نہیں ہوتا ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ارادہ تکوینی سے مراد اہلبیت علیہم السلام کا گناہوں اور دوسری آلودگیوں سے پاک و پاکیزہ ہونا ہے لیکن ان کے پاک و پاکیزہ ہونے اور افعال کے اختیاری ہونے میں کوئی منافات نہیں ہے کیونکہ عصمت کے کچھ خاص اسباب ہیں جنہیں خداوند متعال نے ائمہ اطہار علیہم السلام کے اختیار میں دے دیا ہے ۔

تحریف سے محفوظ کتاب آسمانی تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

تحریف سے محفوظ کتاب آسمانی تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی قرآن تمام مذاہب اسلامی کا مشترکہ منبع ہے جو سب کے نزدیک قابل قبول اور قابل احترام ہے ۔شیعہ امامیہ ائمہ اہل بیت علیہم السلام کی پیروی کرتے ہوئے قرآن کریم کو پہلا اور اہم ترین منبع سمجھتا ہے جو عقائد ،معارف اور احکام کا سر چشمہ ہے ۔امام جعفر صادق علیہ السلام اس بارے میں فرماتے ہیں:{ان الله تبارک و تعالی انزل فی القرآن تبیان کل شی حتی والله ، ماترک الله شیاءً یحتاج الیه العباد حتی لا یستطیع عبد یقول لو کان هذا انزل فی القرآن ، الا و قد انزله الله فیه .}۱اللہ تعالی نے ہر شےٴ کو قرآن کریم میں بیان کیاہے اور جس چیز کے بندے محتاج تھے ان میں سے ایک کو بھی نہیں چھوڑا ۔

اعجاز قرآن پر ایک اجمالی نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

اعجاز قرآن پر ایک اجمالی نظر پیغمبر اکرم ؐ کے بہت سارے معجزات نقل ہوئے ہیں جیسے آپ کے سر مبارک پر بادل کا سایہ کرنا،آپ کے دست مبارک پر کنکریوں کا تسبیح کہنا غزوہ تبوک سے واپسی پر آپ کی انگلیوں کے درمیان سے پانی کا پھوٹنا اور بہت سارے اصحاب کا سیراب ہونا،چاند کے دو ٹکڑے ہو جانا اور واقعہ معراج وغیرہ۔ان تمام معجزوں میں سے قرآن کریم پیغمبر اکرم کا اہم ترین معجزہ ہے۔خداوند متعال نے ان لوگوں کے سوال کے جواب میں جو کہتے تھے کہ پیغمبر اکرم ّ کیوں معجزہ نہیں رکھتے ،قرآن مجید کو پیغمبر اکرم ّ کا معجزہ قرار دیا ۔{اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ کہ آخر ان پر پروردگار کی طرف سے آیت کیوں نہیں نازل ہوتی ہیں تو آپ کہ دیجئے کہ آیات سب اللہ کے پاس ہیں اور میں تو صرف واضح طور پر عذاب الہی سے ڈرانے والاہوں ۔کیا ان کے یہ کافی نہیں کہ ہم نے آپ پر کتاب نازل کی ہے جس کی ان کے سامنے تلاوت کی جاتی ہے اور یقینا اس میں رحمت اور ایماندار قوم کے لئے یاد دہانی کا سامان موجود ہے ۔

تلاوت قرآن کی فضیلت

'پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا، جو شخص رات کو دس آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام غافلین (جو یاد خدا سے بے بہرہ رہتے ہیں) میں نہیں لکھا جائے گا اور جو شخص پچاس آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام ذاکرین (جو خدا کو یاد کرتے ہیں، حرام و حلال کا خیال رکھتے ہیں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص سو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام قانتین (عبادت گزاروں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص دوسو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام خاشعین (جو خدا کے سامنے متواضع ہوں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص تین سو آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام سعادت مندوں میں لکھا جائے گا، جو شخص پانچ ہزار آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام عبادت اور پرستش خدا کی کوشش کرنے والوں میں لکھا جائے گا اور جو شخص ہزار آیتوں کی تلاوت کرے وہ ایسا ہے جیسے اس نے کثیر مقدار میں سونا راہ خدا میں دے دیا ہو۔،،

امامت قرآن کی روشنی میں

امامت کا موضوع بڑا اھم اور ضروری ہے کیونکہ اسلام کا سارا نظام اسی اساسی رکن پر موقوف ہے اس پر اتحاد ہونا ضروری ہے اگر اس میں مسلمان تفرقہ کا شکار ہو گئے تو انکو بھاری نقصان کا سامنا کرنا ہوگا، اسی لئے ضروری ہے اس بارے میں تحقیق کرنا لازم ہے تا کہ حق آشکار ہو سکے ، اس کے لئے سب سے بہتر یہ ہے کہ قرآن سے اس بات کا حل نکالا جاے، اسی لئے اس مقالہ میں قرآن کو محور بنایا گیا ہے۔

قرآنِ کریم اور اصلاحِ معاشرہ تحریر: عارف حسین تھہیم

لفظِ ’’اصلاح‘‘ درست کرنے، صحیح کرنے اور خرابی کو دُور کے معنی میں آتا ہے۔ معاشرتی اور اجتماعی مفہوم کے اعتبار سے شائستہ اور نیک عمل انجام دینے، نیز فساد و تباہی کو ختم کرنے کے لیے بھی اصلاح کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ ارشادِ پروردگار ہے: ﴿ إِلاَّ الَّذِينَ تَابُواْ وَأَصْلَحُواْ وَبَيَّنُواْ فَأُوْلَئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ﴾[1]؛ ’’سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے توبہ کی اور اپنے کئے کی اصلاح کر لی اور (جس کو چھپایا ہوا تھا) واضح کر دیا تو ایسے ہی لوگوں کی توبہ میں قبول کرتا ہوں اور بےشک میں بڑا توبہ قبول کرنے والا اور بہت مہربان ہوں۔‘‘ حقیقی توبہ میں گذشتہ بُرائی اور فساد کا دُور کرنا اور آئندہ بُرائی و فساد سے بچے رہنے کا تہیہ کرنا ضروری ہے۔ شائستہ اور صالح معاشرے کی تشکیل کا ہدف اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی دُنیوی و اُخروی اور مادی و معنوی ضرورتوں کو پورا کیا جائے؛ لہٰذا صالح معاشرے کی خصوصیات یہ ہیں کہ اس میں ہر ایک کی جان، مال، عزّت و آبرو اور ناموس محفوظ ہوتی ہے، لوگوں کی درمیان مہر و محبت اور اپنائیت کا راج ہوتا ہے اور سب لوگ روحانی و معنوی لحاظ سے پُرسکون اور مطمئن ہوتے ہیں۔

صدقہ روزی میں اضافہ کا باعث ہے تحریر: سید عقیل حیدر زیدی

قرآنِ کریم کی بہت سی آیاتِ کریمہ میں واجب اور مستحب صدقات کا ذکر ہوا ہے اور اکثر مقام پر نماز اور زکات دونوں کو ایک ساتھ بیان کیا گیا ہے؛ یعنی اعضاء و جوارح کی جسمانی اور مال و ثروت کی مالی عبادت کو خداوندِ متعال نے ایک ساتھ ذکر فرمایا ہے۔ جہاں جسمانی عبادت انسان کی فردی و ذاتی شخصیت اور کردار سازی میں اہم کردار ادا کرتی ہے، وہیں مالی عبادت معاشرے اور سوسائٹی کی کردار سازی، اموال کی تقسیم اور توزیع میں توازُن، فقر و تنگدستی کے دُور ہونے اور معاشرتی بےراہ روی اور فساد کے خاتمہ میں انتہائی اہم عامل ہے۔ اگر انسانی معاشرے میں موجود ہر فرد فقط اپنی اور اپنے سے متعلقہ چند افراد کی فکر کرے اور معاشرے کے غریب و تنگدست طبقات کو بھول جائے تو نہ صرف یہ کہ اُس نے اپنی انسانی اور دینی ذمہ داریوں کو ادا نہیں کیا ہے، بلکہ معاشرے میں پنپنے اور پھیلنے والی بُرائیوں اور بےراہ روی کا باعث بھی بنا ہے۔

دعا اور مناجات کا فلسفہ

دعا اور مناجات بہت ہی قیمتی سرمایہ اور اسلام و قرآن كے مسلم حقائق میں سے ہے كہ جس كے زریعہ سے روح و جسم كی پرورش ہوتی ہے۔ الكسیس كارل (مشہور انسان شناس) كہتا ہے: ""كوئی بھی قوم نابود نہیں ہوئی مگر اس نے دعا كو ترك كیا ہو اور اپنے آپ كو موت كے لئے تیار كیا ہو"" (یعنی جس قوم نے بھی دعا كو ترك كیا ہو اس كا زوال اور نابودی قطعی اور یقینی ہے) دعا انسان كی روح اور فطرت پر بہت ہی عمیق اور گہرے آثار مترتب كرتی ہے اور اس كی اس طرح تربیت كرتی ہے كہ اس معاشرے، ماحول اور وراثت كو وہ اپنے لئے محدود سمجھتا ہے۔ ایسا لگتا ہے كہ اگر دعا ومناجات كرنے والا تمام شرائط كے ساتھ دعا مانگے تو وہ جو كچھ بھی طلب كرے اسے مل سكتا ہے اور جس دروازے كو بھی كھٹكھٹائے وہ اس پر كھل جاتاہے" مناجات، كمال، سعادت، مقام اور حیثیت كیلئے درخواست ہے بلكہ یہ ایك ایسی چیز ہے جو دعا كرنے والے كی لیاقت اور شائستگی سے حاصل ہوتی ہے اور دعا ومناجات كی تكرار ایسا شیوہ اور فریاد ہے كہ جس سے انسان كے روح پہ اثر ہوتا ہے اور اس كے وجود میں امید، عشق اور محبت كی قوت و طاقت پیدا ہوتی ہے جو اسے ہدف كو پانے اور اس تك پہنچانے كیلئے حركت میں لاتی ہے۔

قرآن اور ہماری ذمہ داریاں تحریر: اشرف حسین انیس کچوروی

قرآن کریم ایک ایسی کتاب ہے جو پروردگار دو جہان کی طرف سے اپنے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے ایک زندہ و جاوید معجزہ ہے یہ خداوند متعال کی طرف سے آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ پوری دنیا کے لئے آخری پیغام ہے۔ یہ ایک ایسی کتاب ہے جو ظلمت اور تاریکی میں روشنی اور چراغ ہے، فردی اور اجتماعی درد اور مرض کے لئے شفاء ہے، تمام علوم کا منبع اور منشأ ہے، مسلمانوں کے اتحاد کا مرکز اور محور ہے، کمال اور سعادت کے طالبین کے لئے ذریعہ پیشرفت ہے اور سب سے بڑھ کر اس کتاب الہی کی خصوصیت یہ کہ تمام مسلمان ہر زمانے میں اس بے مثال کتاب کی طرف محتاج ہے۔ حضرت علی علیه السلام قرآن کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: یاد رکھو کہ یہ قرآن وہ ناصح ہے جو دھوکہ نہیں دیتا ہے اور وہ ہادی ہے جو گمراہ نہیں کرتا ہے وہ بیان کرنے والا ہے جو غلط بیانی سے کام لینے والا نہیں ہے۔ کوئی شخص اس کے پاس نہیں بیٹھتا ہے مگر یہ کہ جب اٹھتا ہے تو ہدایت میں اضافہ کر لیتا ہے یا کم سے کم گمراہی میں کمی کر لیتا ہے۔

ایمان، آیات و روایات کی روشنی میں تحریر: محمد عباس ریئسی کچوروی

تحریر: محمد عباس ریئسی کچوروی یوں تو ایمان کے بہت سارے مراحل ہیں لیکن ہم یہاں صرف چند مراحل کا ذکر کرتے ہیں خدا ئے متعال قرآن میں فرماتا ہے: الَّذينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَ يُقيمُونَ الصَّلاةَ وَ مِمَّا رَزَقْناهُمْ يُنْفِقُون. جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں پابندی سے پورے اہتمام کے ساتھ نماز ادا کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے رزق دیا ہے اس میں سے ہماری راہ میں خرچ بھی کرتے ہیں۔

بین الاقوامی

یمنی فوج کا جیزان ائرپورٹ اور الملک خالد کیمپ پر ڈرون حملہ

یمنی فوج کا جیزان ائرپورٹ اور الملک خالد کیمپ پر ڈرون حملہ یمنی سرکاری فوج اور اسلامی مزاحتمی تحریک انصاراللہ نے جیزان ائرپورٹ اور الملک خالد فوجی کیمپ پر ڈرون حملہ کیا ہے۔

ترکی کے سر پر امریکی پابندیاں منڈلانے لگیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ترکی کی سرزنش کے لیے پابندیوں کے پیکج پر متفق ہو گئی ہے۔ خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق ترکی اور روس کے درمیان دفاعی تعلقات کی پاداش میں امریکہ نے ترکی پر پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

امام خمینی

امام خمینی رح ایک مرد عارف

حضرت امام خمینی رح کے بارے میں عام طور پر جو بات ہمارے ہاں زیادہ مشہور ہے وہ یہ کہ آپ نے ایک ملوکیت اور بادشاہت کا خاتمہ کرکے ایک اسلامی اور مذہبی حکومت قائم کی۔ لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ استعماری طاقتوں کے خلاف تھے اور استعماری طاقتوں نے آپ کی حکومت کے خاتمے کے لیے اپنے پورے وسائل بروئے کار لائے لیکن وہ اس میں ناکام ہو گئیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ امام خمینی رح بہت شجاع اور بہادر تھے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ آپ نے ناجائز طور پر قائم صہیونی حکومت کے خاتمے اور فلسطینیوں کے حقوق کے حصول کے لیے بھی آواز بلند کی۔ آپ مستضعفوں اور محروموں کے حقوق کے بھی علمبردار تھے۔ آپ نے اتحاد امت کے لیے ایک زور دار آواز بلند کی۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ ایک عالم اور فقیہ تھے اور آپ کی تقلید کی جاتی تھی۔ بعدازاں آپ کا دیوان بھی چھپا اور پاکستان میں بھی بہت سے لوگوں کو معلوم ہوا کہ آپ صاحب دیوان شاعر بھی تھے، لیکن ابھی تک جو پہلو کم شناختہ یا ناشناختہ ہے وہ یہ ہے کہ آپ ایک بلند پایہ عارف تھے اور شاید یہ کہنا زیادہ بہتر ہو کہ آپ کے وجود سے پھوٹنے والی تمام تر خوبیوں کا سرچشمہ یہی امر ہے کہ آپ ایک عارف باللہ اور عاشق الٰہی تھے اور اس سلسلے میں نظری اور عملی طور پر نہایت عمق اور گہرائی کے مقام پر فائز تھے۔

امام خمینی رہ کی زندگانی پر ایک طائرانہ نظر

بیس جمادی الثانی 1320 ہجری قمری مطابق 24ستمبر 1902 عیسوی کو ایران کے صوبہ مرکزی کے شہرخمین میں بنت رسول حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی طیب وطاہر نسل کے خاندان میں آپ ہی کے یوم ولادت با سعادت پر روح اللہ الموسوی الخمینی کی پیدائش ہوئي۔ وہ اپنے آباؤ اجداد کے اخلاق حسنہ کے وارث تھے جنہوں نے نسل درنسل لوگوں کی ہدایت ورہنمائی اورمعارف الہی کے حصول کے لئے خود کو وقف کررکھا تھا۔ یہ وہ گھرانہ تھا جو اعلی علمی مفاہیم سے مکمل طور پر آشنا تھا ۔امام خمینی کے پدربزرگوار آیت اللہ سید مصطفی مرحوم جو آیت اللہ العظمی میرزای شیرازی کے ہم عصر تھے نجف اشرف میں اسلامی علوم کے اعلی مدارج طے کرنے کے بعد درجہ اجتہاد پر فائزہوئے اور پھر ایران واپس آگئے اور شہر خمین میں تبلیغ و ہدایت کے فرائض انجام دینے لگے۔ حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ کی ولادت کو ابھی پانچ ماہ سے زیادہ کا عرصہ نہیں گذرا تھا کہ حکومت وقت کے ایجنٹوں نے ان کے والد بزرگوار کی ندائے حق کا جواب بندوق کی گولیوں سے دیا اور انھیں شہید کردیا ۔

امام خامنہ ای

ایران بحری جہاز پر برطانوی حملے کا سخت جواب دے گا، امام خامنہ ای

ایران بحری جہاز پر برطانوی حملے کا سخت جواب دے گا، امام خامنہ ای امام خامنہ ای نے آئمہ جعمہ اور جماعات کے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ایران بحری جہاز پر برطانوی حملے کا سخت جواب دے گا۔

حج کے سیاسی پہلو پرعمل کرنا شرعی فریضہ اورعبادت ہے، امام خامنہ ای

حج کے سیاسی پہلو پرعمل کرنا شرعی فریضہ اورعبادت ہے، امام خامنہ ای امام خامنہ ای نے اسلامی جمہوریہ ایران کے ادارہ حج کے عہدیداروں اور کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:حج کے سیاسی پہلو پرعمل کرنا شرعی فریضہ اور عبادت ہے۔

کلام و عقائد

بدا قرآن و حدیث کی روشنی میں

ذات الٰہی کے بارے میں بدا، حقیقت میں ابدا و اظہار ہے۔ یعنی جو کچھ خدا کے علم میں ہے اور انسان کے علم میں نہیں، اسےخداوند متعال اظہار و آشکار کرتا ہے۔ اسے بدا، کہنے کا سبب یہ ہے کہ یہ مقام فعل الٰہی میں نمایاں ہوتا ہے، اگرچہ ذات الٰہی میں جہل اور تغییر محال ہیں۔ خداوند متعال انبیاء کرام پر غیبی طریقے سے نظر رکھتا ہے تاکہ یہ لوگ وحی کے پہنچانے میں خطا سے محفوظ رہیں۔ قرآن کریم اس بارے میں ارشاد فرماتا ہے، "لِّيَعْلَمَ أَن قَدْ أَبْلَغُواْ رِسَالَاتِ رَبهِّم" تاکہ وہ دیکھ لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات کو پہنچا دیا ہے۔ واضح ہے کہ خداوند متعال پہلے سے ہی آگاہ ہے کہ انبیاء، وحی الٰہی کو صحیح طریقے سے لوگوں تک پہنچائیں گے۔

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی علم کلام کےاہم مباحث میں سے ایک حسن و قبح عقلی کا بحث ہے ۔اس سے مراد یہ ہے کہ کچھ افعال ذاتی طور پر حسن {اچھے} اور کچھ افعال ذاتی طور پر قبیح{ برے} ہیں ۔ معتزلہ اور امامیہ حسن و قبح عقلی کے قائل ہیں جبکہ اشاعرہ اس کی نفی کرتے ہیں۔ بہت سے کلامی مسائل اس بحث پر موقوف ہیں مثلا انسان کا اپنے اعمال میں خود مختار ہونا،خدا وند متعال کی بعض صفات کمالیہ کا ثبوت جیسے خدا کا عادل ہونا،اسی طرح بعض صفات سلبیہ بھی اسی بحث پر موقوف ہے جیسے خدا سے قبیح کا سرزد نہ ہونا،خداکا ظلم نہ کرنا وغیرہ ۔ جو لوگ حسن اور قبح کے قائل ہیں وہ انسانی افعال میں انسان کو مختار،خدا کو عادل مانتے ہیں جبکہ حسن و قبح کے مخالفین انسان کو مجبور اور خداکی عدالت سے انکار کرتے ہیں ۔

تربیت اولاد

خاندانی منصوبہ بندی : ایک معاشرتی ضرورت یا دھوکہ!

خاندانی منصوبہ بندی کوآج کے دور میں مختلف مملک کی حکومتیں اپنی کامیاب ترین پالیسیوں میں شمار کرتی ہیں۔ آبادی کا کنٹرول اور چھوٹا خاندان خوشحالی کا ذریعہ سمجھاجاتا ہے۔ خصوصاً محدود وسائل رکھنے والے ممالک میں اس پالیسی کو زیادہ اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے

تعليم و تربيت کے بارے ميں اسلامي علما کي آرا و نظريات

تاريخ اسلام ميں تقريبا تمام علماء و دانشور مختلف علوم ميں مھارت رکھنے کے ساتھ ساتھ تعليم و تربيت ميں بھي صاحب نظر اور مھارت کے حامل ہوا کرتے تھے اس سے اسلام ميں تعليم وتربيت کي اھميت کا پتہ چلتا ہے لھذا ہم يہاں پر علما اسلام کي نظر ميں تعليم و تربيت کي اھميت اجاگر کرنے کے لئے ان کے بعض نظريات پيش کر رہے ہيں۔

تندرستی

معدے کی جلن دورکرنے میں دودھ مفید قرار

معدے کی جلن دورکرنے میں دودھ مفید قرار سینےاور معدے کی جلن کم کرنے کے لیے ایک گھریلو ٹوٹکا دودھ بھی ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ مرغن اور مصالحے دار غذاؤں کی سوزش کم کرتا ہے۔ لیکن اب ماہرین نے اس کےسائنسی ثبوت پیش کردیئے ہیں۔

غیر صحت مند خوراک کا استعمال سیگریٹ نوشی سے بھی زیادہ خطرناک

غیر صحت مند خوراک کا استعمال سیگریٹ نوشی سے بھی زیادہ خطرناک خراب غذا نہ صرف ہماری صحت کے لئے خرابی کا باعث ہے بلکہ دنیا بھر میں شرح اموات کی بڑھتی ہوئی تعداد میں اضافے کا سبب بھی ہے۔

مہدویت{امام زمان عج}

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی امامت کے اہداف میں سے ایک ہدف امام معصوم کا لوگوں کی باطنی ہدایت ہے۔ امام لائق اور پاکیزہ دل رکھنے والے افراد کو اپنی طرف جذب کر کے انہیں کمال تک پہنچاتے ہیں۔ واضح ہے کہ انسان کا اس طرح ہدایت سے ہمکنار ہونے کے لئے ضروری نہیں کہ وہ امام کے ساتھ ظاہری رابطہ برقرار کرے۔ گذشتہ بیانات کی روشنی میں امام زمانہ (عج) کو بادل کے پیچھے پنہان روشن آفتاب سے تشبیہ دینے کا مقصد بھی واضح ہو جاتا ہے۔ اگرچہ بادل کے پیچھے پنہان سورج سے انسان مکمل طور بہرہ مند نہیں ہوتا ہے لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ اس سے انسان کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا ہے۔ بہرحال امام زمانہ (عج) کے وجود کے آثار و برکات سے بہرہ مند نہ ہونے کا سبب انسانوں کی طرف سے خاص حالات کا فراہم نہ کرنا ہے، جس کی وجہ سے لوگ اس عظیم نعمت کے فوائد سے محروم ہیں اور اس محرومیت کا سبب وہ خود ہیں نہ کہ خداوند متعال اور امام، کیونکہ خداوند متعال اور امام کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی مشکل درپیش نہیں ہے۔

احادیث

حدیث ثقلین پر ایک اجمالی نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

حدیث ثقلین ان متواتراحادیث میں سےایک ہے جسے اہل تشیع و اہل تسنن دونوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیا ہے ۔اس معروف حدیث کا متن یہ ہے :{یاایها الناس انی تارک فیکم الثقلین ،کتاب الله و عترتی ، اهل بیتی ماان تمسکتم بهما لن تضلوا بعدی ابدا و انهما لن یفترقا حتی یرداعلی الحوض ،فانظروا کیف تخلفونی فیهما }۱پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :اے لوگو:میں تمہارے درمیان دوگرانقدر چیزیں چھوڑے جاتا ہوں ۔اگر تم ان کےساتھ تمسک کئے رہو گے توکبھی گمراہ نہ ہوگے ۔ان میں سے ایک کتابخداہے اور دوسری میریعترت۔ یہ دونوں کبھی جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ دونوں میرے پاس حوض کوثر پر پہنچ جائیں ۔تم خود سوچو کہ تمہیں ان دونوں کے ساتھ کیا رویہ رکھنا چاہیے ۔

امام علی علیہ السلام کی شانِ میں چہل حدیث

مولا علیؑ کی شان میں چالیس احادیث اور یہ ﻭﻩ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ہیں ﺟﻮ ﺻﺤﺎﺡ ﺳﺘﻪ ﻣﯿﮟ بھی موجود ہے. 1= ﻋﻨﻮﺍﻥ ﺻﺤﻴﻔﺔ ﺍﻟﻤﺆﻣﻦ ﺣﺐّ ﻋﻠﻰؑ ﺑﻦ ﺍﺑﻰ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ. ﺻﺤﯿﻔﮧ ﻣﻮﻣﻦ ﮐﺎ ﻋﻨﻮﺍﻥ ﻣﺤﺒﺖِ ﻋﻠﯽؑ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻃﺎﻟﺐؑ ﮨﮯ.

چہاردہ معصومین ع

زرتشتی عالم سے امام رضا علیہ السلام کا مناظرہ

امام علی رضا علیہ السلام کو خراسان طلب کرنے کے بعد سے مامون اپنے مختلف اہداف و مقاصد کے مد نظر تمام ادیان و مذاہب کے علماء کو امام (ع) کے ساتھ مناظرہ کرنے کی دعوت دیا کرتا تھا۔ یہ مناظرہ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے جو اس زمانہ کے بزرگ زرتشتی عالم کے ساتھ امام رضا (ع) نے انجام دیا ہے۔

حضرت امام صادق علیہ السلام کی علمی خدمات

حضرت امام صادق علیہ السلام کی علمی خدمات تاریخ تشییع اس بات پر گواہ ہے کہ حضرت ختمی مرتبت کے زمانے سے غبیت کبری تک آئمہ معصومین کی رہبریت، قیادت اور حکمت عملی میں ایک غیرمعمولی طریقہ کار کا تسلسل رہا ہے۔

سب سے زیادہ زیر بحث

امام علی علیہ السلام کی شانِ میں چہل حدیث

مولا علیؑ کی شان میں چالیس احادیث اور یہ ﻭﻩ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ہیں ﺟﻮ ﺻﺤﺎﺡ ﺳﺘﻪ ﻣﯿﮟ بھی موجود ہے. 1= ﻋﻨﻮﺍﻥ ﺻﺤﻴﻔﺔ ﺍﻟﻤﺆﻣﻦ ﺣﺐّ ﻋﻠﻰؑ ﺑﻦ ﺍﺑﻰ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ. ﺻﺤﯿﻔﮧ ﻣﻮﻣﻦ ﮐﺎ ﻋﻨﻮﺍﻥ ﻣﺤﺒﺖِ ﻋﻠﯽؑ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻃﺎﻟﺐؑ ﮨﮯ.

دعا کی اہمیت

دعا کی اہمیت حضرت انسان کس قدر شرف و عظمت کا مالک ہے،اس کے لئے کائنات بنی،پوری کائنات میں اسی کو عزت و تکریم کا حق دار ٹھہرایا گیا۔تمام مخلوق اس کی خدمت اور منفعت کے لئے پیدا کی گئی۔لیکن اتنی عظمتوں کے باوجود اس کی خلقت کا مقصد اللہ کی معرفت اور عبادت قرار دیا گیا۔لہذا انسان کا اہم کام خدا سے ارتباط و ربط ہے۔مگر کیسا رابطہ؟ اتنی عظمتوں کے باوجود بارگاہ خداوندی میں فقر محض اور احتیاج محض ہے جبکہ ذات پروردگار غناء ہی غناء ہے۔بلندی ہی بلندی ہے۔انسان مشکلات،مصائب اور تکالیف میں ایسی ذات کی طرف رجوع کر کے اپنے فقر اور احتیاج محض ہونے کا اقرار و اعتراف کرتے ہوئے اپنی نفی اور بے ثباتی کا اظہار کرتا نظر آتا ہے۔اس سلسلے میں انسان کا ایک اہم وسیلہ دعا ہے۔دعا کے ذریعے اپنی احتیاج کا اظہار بھی کرتا ہے اوراللہ سے اعانت کی التجا بھی کرتا ہے۔

قرآنِ کریم اور اصلاحِ معاشرہ تحریر: عارف حسین تھہیم

لفظِ ’’اصلاح‘‘ درست کرنے، صحیح کرنے اور خرابی کو دُور کے معنی میں آتا ہے۔ معاشرتی اور اجتماعی مفہوم کے اعتبار سے شائستہ اور نیک عمل انجام دینے، نیز فساد و تباہی کو ختم کرنے کے لیے بھی اصلاح کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ ارشادِ پروردگار ہے: ﴿ إِلاَّ الَّذِينَ تَابُواْ وَأَصْلَحُواْ وَبَيَّنُواْ فَأُوْلَئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ﴾[1]؛ ’’سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے توبہ کی اور اپنے کئے کی اصلاح کر لی اور (جس کو چھپایا ہوا تھا) واضح کر دیا تو ایسے ہی لوگوں کی توبہ میں قبول کرتا ہوں اور بےشک میں بڑا توبہ قبول کرنے والا اور بہت مہربان ہوں۔‘‘ حقیقی توبہ میں گذشتہ بُرائی اور فساد کا دُور کرنا اور آئندہ بُرائی و فساد سے بچے رہنے کا تہیہ کرنا ضروری ہے۔ شائستہ اور صالح معاشرے کی تشکیل کا ہدف اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی دُنیوی و اُخروی اور مادی و معنوی ضرورتوں کو پورا کیا جائے؛ لہٰذا صالح معاشرے کی خصوصیات یہ ہیں کہ اس میں ہر ایک کی جان، مال، عزّت و آبرو اور ناموس محفوظ ہوتی ہے، لوگوں کی درمیان مہر و محبت اور اپنائیت کا راج ہوتا ہے اور سب لوگ روحانی و معنوی لحاظ سے پُرسکون اور مطمئن ہوتے ہیں۔

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ بسم اللہ الرحمن الرحیم بنام خدائے رحمن و رحیم اٴَللّٰھُمَّ اِنّيِ اٴَسْاٴَ لُکَ بِرَحْمَتِکَ الَّتي وَ سِعَتْ کُلَّ شَيْءٍ،وَ بِقُوَّتِکَ الَّتي قَھَرْتَ خدایا میراسوال اس رحمت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر محیط ھے۔ اس قوت کے واسطہ سے ھے جو ھر چیز پر حاوی ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ،وَخَضَعَ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ،وَذَلَّ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ، وَبِجَبَرُوتِکَ الَّتي غَلَبْتَ اور اس کے لئے ھر شے خاضع اور متواضع ھے۔ اس جبروت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر غالب ھے اور اس عزت کے واسطہ سے ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ، وَ بِعِزَّتِکَ الَّتي لاٰ یَقُومُ لَھٰا شَيْءٌ، وَبِعَظَمَتِکَ الَّتي مَلَاٴَتْ کُلَّ جس کے مقابلہ میں کسی میں تاب مقاومت نھیں ھے۔اس عظمت کے واسطہ سے ھے جس نے ھر چیز کو پر کردیا ھے شَيْءٍ، وَ بِسُلْطٰانِکَ الَّذي عَلاٰ کُلَّ شَيْءٍ، وَبِوَجْھِکَ الْبٰاقي بَعْدَ فَنٰاءِ کُلِّ شَيْءٍ،

تلاوت قرآن کی فضیلت

'پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا، جو شخص رات کو دس آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام غافلین (جو یاد خدا سے بے بہرہ رہتے ہیں) میں نہیں لکھا جائے گا اور جو شخص پچاس آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام ذاکرین (جو خدا کو یاد کرتے ہیں، حرام و حلال کا خیال رکھتے ہیں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص سو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام قانتین (عبادت گزاروں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص دوسو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام خاشعین (جو خدا کے سامنے متواضع ہوں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص تین سو آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام سعادت مندوں میں لکھا جائے گا، جو شخص پانچ ہزار آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام عبادت اور پرستش خدا کی کوشش کرنے والوں میں لکھا جائے گا اور جو شخص ہزار آیتوں کی تلاوت کرے وہ ایسا ہے جیسے اس نے کثیر مقدار میں سونا راہ خدا میں دے دیا ہو۔،،

تربیت اولاد کے انمول اصول تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

لغت کی کتابوں میں لفظ" تربیت" کے لیے تین اصل اور ریشہ ذکر ہوئے ہیں۔ الف:ربا،یربو زیادہ اور نشوونما پانےکے معنی میں ہے۔ ب: ربی، یربی پروان چڑھنا اور برتری کے معنی میں ہے۔ج: رب،یرب اصلاح کرنے اور سرپرستی کرنے کے معنی میں ہے۔۱صاحب مفردات کا کہنا ہے کہ "رب" مصدری معنی ٰ کے لحاظ سے کسی چیز کو حد کمال تک پہچانے ، پرورش اور پروان چڑھانے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ۲ صاحب التحقيق کا کہنا ہے اس کا اصل معنی ٰ کسی چیز کو کمال کی طرف لے جانے ، نقائص کو تخلیہ اور تحلیہ کے ذریعےرفع کرنے کے معنی ٰ میں ہے۔۳ بنابر این اگر اس کا ريشه(اصل) "ربو" سے ہو تو اضافہ کرنا، رشد ، نمو اور موجبات رشد کو فراہم کرنے کے معنی ٰ میں ہےلیکن ا گر "ربب" سے ہو تو نظارت ، سرپرستي و رهبري اور کسی چیز کو کمال تک پہنچانے کے لئے پرورش کے معنی ٰ میں ہے۔

اقوال حضرت امام علی علیہ السلام

قال علی علیہ السلام :وا علم ان الخلائقییی لم یوکدوا بشئی اعظم من التقویٰ فانہ وصیتنا اھل البیت (۱) ترجمہ: حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں : لوگوں کو تقویٰ سے زیادہ کسی چیز کی تاکید نھیںکی گئی اس لئے کہ یہ ھم اھل بیت کی وصیت ھے ۔ حدیث (۲)

پیٹ کا درد کئی امراض کی علامت ہوسکتا ہے

اگر پیٹ میں درد ہورہا ہو تو اس کی کئی وجوہ ہوسکتی ہیں۔ اکثر ناقص غذا کی وجہ سے معدے میں تکلیف ہونے لگتی ہے جسے ہم پیٹ کے درد سے تعبیر کرتے ہیں۔ معدے کا درد کئی امراض کی علامت بھی ہوسکتا ہے، اس لیے اسے نظرانداز نہیں کرنا چاہیے اور بلاتاخیر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

مشاہدات

آج

1319

کل

481

اس ماہ

18175

اس سال

104856

ٹوٹل مشاہدات

274084