علماء کونسل کچورا سکردو بلتستان

متن

بدا قرآن و حدیث کی روشنی میں

تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

بدا، کے لغوی معنی "مخفی اور پنہان ہونے کے بعد ظاہر و آشکار ہونا" کے ہیں۔ جب یہ لفظ انسان کے لئے استعمال ہو تو اس کا معنی یہ ہے کہ کسی شخص پر کوئی شئی مخفی و پنہان ہونے کے بعد ظاہر و آشکار ہو جائے۔ ذات خداوند متعال کے لئے اس قسم  کا معنی محال ہے کیونکہ خدواند متعال اپنی ازلی اور ناقابل تغییر علم کے ذریعے سب چیزوں کے بارے میں علم رکھتا ہے، لہٰذا ارادہ الٰہی ہمیشہ کے لئے تغیر و تبدل ناپذیر ہے۔ آئمہ اطہار(ع) کی احادیث کے مطابق ذات الٰہی  کے لئے بدا، کا یہ معنی صحیح نہیں ہیں۔ آئمہ اطہار (ع) کی احادیث میں عقیدہ بدا، کو اہم دینی اعتقادات میں سے قرار دیا گیا ہے۔ امام جعفر صادق (ع) اس بارے میں فرماتے ہیں، "ما عظم الله عزوجل بمثل البدا1"۔ بدا کے برابر عظمت الٰہی کا اظہار کسی اور چیز سے نہیں ہوا۔ "ما عبدالله بشئی مثل البدا" 2 خدا کی عبادت بدا، کے برابر اور کسی چیز سے نہیں کی گئی۔ ایک اور حدیث میں آپ ؑفرماتے ہیں، خداوند متعال نے جب تک کسی نبی سے بدا، کا اقرار نہیں لیا اسے نبوت کے لئے مبعوث نہیں کیا ۔3 امام جعفر صادق(ع) فرماتے ہیں، "من زعم ان الله عزوجل یبدو له فی شئی لم یعلمه امس فابروا منه"جس کا عقیدہ ہے کہ خداوند متعال کے لئے پہلے کسی چیز کا علم نہیں تھا پھر اس چیز کا علم پیدا ہوا ہے تو اس سے اظہار برائت کرو۔ ایک اور حدیث میں آپ ؑفرماتے ہیں، خداوند متعال کسی چیز کے بارے میں ارادہ کرنے یا اسے انجام دینے سے پہلے اس چیز کے بارے میں علم رکھتا ہے اور کوئی چیز ذات الٰہی پر آشکار نہیں ہوتا، مگر وہی کچھ جو اس کے علم میں ہے۔ لہٰذا خدا کے لئےکوئی مخفی و پنہان چیز ظاہر نہیں ہوتی"کیونکہ یہ مستلزم جہل ہے جبکہ خداوند متعال ہرچیز کا علم رکھتا ہےاور وہ علام الغیوب ہے"۔

مذکورہ احادیث کی روشنی میں واضح ہوتا ہے کہ ذات الٰہی کے بارے میں بدا، حقیقت میں ابدا و اظہار ہے۔ یعنی جو کچھ خدا کے علم میں ہے اور انسان کے علم میں نہیں، اسےخداوند متعال اظہار و آشکار کرتا ہے۔ اسے بدا، کہنے کا سبب یہ ہے کہ یہ مقام فعل الٰہی میں نمایاں ہوتا ہے، اگرچہ ذات الٰہی  میں جہل اور تغییر محال ہیں۔ خداوند متعال انبیاء کرام پر غیبی طریقے سے نظر رکھتا ہے تاکہ یہ لوگ وحی کے پہنچانے میں خطا سے محفوظ رہیں۔ قرآن کریم اس بارے میں ارشاد فرماتا ہے، "لِّيَعْلَمَ أَن قَدْ أَبْلَغُواْ رِسَالَاتِ رَبهِّم" 5 تاکہ وہ دیکھ لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات کو پہنچا دیا ہے۔ واضح ہے کہ خداوند متعال پہلے سے ہی آگاہ ہے کہ انبیاء، وحی الٰہی کو صحیح طریقے سے لوگوں تک پہنچائیں گے۔ لہٰذا (لیعلم) سے مراد یہ ہے کہ یہ حقیقت، مقام فعل میں تحقق پائے اور لوگ اس سے آگاہ ہو جائیں۔ اسی طرح وہ آیات بھی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ خداوند متعال اپنے بندوں سے امتحان لیتا ہے تاکہ یہ جان لے کہ کون سے لوگ سچے، کون جھوٹے، کون مجاہد اور کون غیر مجاہد ہیں۔ "و لقد فتنا الذین من قبلهم فلیعلمن الله الذین صدقوا و لیعلمن الکذبین"6 بے شک ہم نے ان سے پہلے والوں کا امتحان لیا ہے اور اللہ تو بہرحال یہ جاننا چاہتا ہے کہ ان میں کون لوگ سچے اور کون جھوٹے ہیں۔ "ولنبلونکم حتٰی نعلم المجاهدین منکم والصابرین ونبلوا اخبارکم"7 یقینا تم سب کا امتحان لیں گےتاکہ یہ دیکھیں کہ تم میں جہاد کرنے والے اور صبر کرنے والے کون لوگ ہیں اور اسی طرح تمہارے حالات کو باقاعدہ جانچ لیں۔8

جس طرح مذکورہ آیات میں علم سے مراد اعلام و اعلان ہے اسی طرح بدا، سے مراد  بھی  ابدا، ہے۔ اسی تعبیر کو بخاری نے اپنی صحیح میں نقل کیا ہے جیسا کہ وہ لکھتے ہیں، "ان ثلاثة فی بنی اسرائیل، ابرص و اقرع و اعمی، بدالله ان یبتلیهم، فبعث الیهم ملکا ......"9بنی اسرائیل میں تین شخص تھے، ایک برص والا، دوسرا اندھا اور تیسرا کوڑھی۔۔ اللہ تعالی نے چاہا کہ ان کا امتحان لے چنانچہ اللہ تعالی نے ان کے پاس ایک فرشتہ بھیجا۔۔ ابن اثیر اس حدیث میں لفظ بدا، کے معنی  قضا اور حکم سے کرتا ہے۔10 کیونکہ بدا، کے حقیقی معنی خداوند متعال کے بارے میں محال ہے جو کسی مخفی چیز کے ظاہر و آشکار ہونے کے معنی میں ہے۔ لہٰذا آئمہ اطہار (ع) کی احادیث میں موجود لفظ بدا، کو حقیقی معنی میں نہیں لینا چاہیئے۔ آئمہ اہل بیت (ع) نے شدت کے ساتھ اس معنی کی نفی کی ہے، جبکہ شیعہ علماء بھی اس معنی کو غلط قرار دیتے ہیں۔ بنابریں شیعہ مذہب کی طرف ایسی باتوں کی نسبت دینا افتراء کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ مقام تکوین میں بدا، کی مثال مقام تشریع میں نسخ کی طرح ہے۔ یعنی جو حکم نسخ ہوتا ہے اس حکم کے بارے میں خداوند متعال پہلے سے ہی علم رکھتا ہے۔ جو مختصر مدت کے لئے تشریع ہوتا ہے لیکن خطاب شرعی میں مطلق ذکر کیا جاتا ہے، جس کی بنا پر انسان یہ تصور کرتا ہے کہ یہ حکم ابدی ہے لیکن ناسخ کے آنے کے بعد اسے اپنے غلط تصور کا علم ہو جاتا ہے۔ شیخ طوسی علیہ الرحمہ اس بارے میں فرماتے ہیں، جن رویات میں بدا، کا ذکر ہے اگر 11 وہ ان امور سے مربوط ہوں جو قابل نسخ ہیں تو ان سب کی بازگشت نسخ کے معنی میں ہے لیکن اگر وہ امور تکوینی سے مربوط ہوں تو ان سے مراد، ان امور کی شرائط میں تغیر و تبدل ہے، کیونکہ ممکن ہے کہ انسان افعال الٰہی کے بارے میں کسی چیز کا تصور کرے، لیکن اس کے لئے اس کے برعکس کوئی اور چیز ظاہر و آشکار ہو ،یا یہ کہ انسان اس فعل کے بارے میں تو علم رکھتا ہے لیکن اس کی شرائط سے آگاہ نہیں ہے جبکہ خدا کے لئے کوئی بھی نئی چیز ظاہر و آشکار نہیں ہوتی، اور ہمارا عقیدہ بھی یہی ہے۔12 کیونکہ وہ تمام چیزوں کے بارےمیں پہلے سے ہی جانتا ہے۔

آئمہ اطہار(ع) کی روایات کے مطابق بدا، پر اعتقاد رکھنا گویا یہودیوں کے عقیدے کو باطل قرار دینا ہے کیونکہ یہ لوگ خداوند متعال کی قدرت کو محدود فرض کرتے ہیں۔ امام جعفرصادق (ع) اس آیت کریمہ "وَ قَالَتِ الْيهَودُ يَدُ اللَّهِ مَغْلُولَةٌ" 13 یہودی کہتے ہیں کہ خدا کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں، ان کی مراد یہ تھی کہ خداوند متعال کا کام تخلیق کائنات کے بعد ختم ہوا ہے اور اب وہ کائنات میں کوئی کمی و بیشی نہیں کرسکتا جبکہ خداوند متعال ان کو جھٹلاتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے "غُلَّتْ أَيْدِيهِمْ وَ لُعِنُواْ بمِا قَالُواْ بَلْ يَدَاهُ مَبْسُوطَتَانِ يُنفِقُ كَيْفَ يَشَاء" 14جبکہ اصل میں انہی کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے قول کی بنا پر ملعون ہیں۔ خدا کے تو دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں اور وہ جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے۔ اس کے بعد امام ؑ آیت محو و اثبات سے استدلال کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "الم تسمع الله عزوجل یقول، يَمْحُواْ اللَّهُ مَا يَشَاءُ وَ يُثْبِتُ  وَ عِندَهُ أُمُّ الْكِتَاب"14کیا تم نے خداوند عزوجل کا کلام نہیں سنا ہے جس میں وہ  ارشاد فرماتا ہے، اللہ جس چیز کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے یا برقرار رکھتا ہے کہ اصل کتاب اسی کے پاس ہے۔امام علی بن موسی الرضا (ع) سلیمان مروزی کے ساتھ مناظرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں، تم یہودیوں کی طرح گفتگو کرتے ہو۔ سلیمان نے کہا، یہودی کیا کہتے ہیں؟ آپ ؑ نے فرمایا، یہ لوگ کہتے ہیں، "يَدُاللَّهِ مَغْلُولَةٌ" اور ان کا مقصد یہ ہے کہ خداوند متعال کائنات کی تخلیق سے فارغ ہونے کے بعد کسی چیز کو وجود میں نہیں لاسکتا ۔15مذکورہ روایتوں میں غور کرنے سے واضح ہو جاتا ہے کہ عقیدہ بدا، میں ذات الٰہی کی زبردست تعظیم اور اس کی صحیح پرستش و عبودیت مضمر ہیں۔

مسئلہ بدا، ایک اور جہت سے بھی قابل بحث ہے وہ یہ کہ انسان کے اچھے اور برے اعمال اس کی تقدیر پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ یعنی انسان کی زندگی میں جتنی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں ان سب میں اس کے اچھے اور برے اعمال کا عمل دخل ہے۔ جیساکہ صلہ رحمی سے انسان کی عمر میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ قطع رحمی سے انسان کی عمر کوتاہ ہو جاتی ہے۔ صدقہ، مختلف حوادث حتٰی کہ موت کو بھی ٹال دیتا ہے۔ عاق والدین موت کو نزدیک کرتا ہے جبکہ ان سے نیکی کرنے سے انسان کی زندگی میں خیر و برکت آ جاتی ہے۔ واضح ہے کہ یہ مطالب مسلمانوں کے مسلمہ عقائد میں سے ہیں، نیز آیات و روایات بھی انہیں مطالب کی تاکید کرتی ہیں۔ صحیح مسلم میں انس بن مالک سے نقل ہے کہ اس نے کہا میں نے پیغمبر اسلام (ع) سے سنا کہ جو بھی اپنے رزق کی فروانی اور موت کی تاخیر چاہتا ہے اسے صلہ رحمی بجا لانا چاہیئے۔16 سیوطی حضرت علی (ع) سے نقل کرتے ہیں کہ آپؑ نے اس آیت "يَمْحُواْاللَّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ" اللہ جس چیز کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے یا برقرار رکھتا ہے، کی تفسیر کے بارے میں پیغمبر اسلام (ص) سے پوچھا تو پیغمبر اسلام(ص) نے فرمایا، اس آیت کی تفسیر کے ذریعے تمہاری اور میری امت کی آنکھوں کو روشن کروں گا۔ اس کے بعد آپؐ نے فرمایا، خدا کی راہ میں صدقہ دینے، والدین کے ساتھ نیکی کرنے اور اچھے کاموں کے بجا لانے سے شقاوت، سعادت میں بدل جاتی ہے اور یہ انسان کی عمر میں اضافہ اور برے حوادث کو دور کرتا ہے۔17

عیاشی امام محمد باقر(ع) سے اور آپ ؑپیغمبر اسلام (ص) سے نقل کرتے ہیں، جو شخص قطع رحمی انجام دیتا ہے، اس کی عمر میں سے اگر تینتیس (33) سال باقی ہوں تو خداوند متعال اس کی عمر کو تین سال یا اس سے کمتر قرار دیتا ہے۔ اس وقت امامؑ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی "يَمْحُواْاللَّه ُمَا يَشَاءُ وَ يُثْبِتُ وَ عِندَهُ أُمُّ الْكِتَاب18 اللہ جس چیز کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے یا برقرار رکھتا ہے اور اصل کتاب اسی کے پاس ہے۔ انسان کی تقدیر  میں تغیر و تبدل کچھ خاص اسباب و علل کی بنا پر واقع ہوتا ہے، جو قضا و قدر کو شامل ہے کیونکہ خداوند متعال کے ازلی علم میں کوئی بھی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔ اگرچہ نظام عالم میں رونما ہونے والے حوادث  اسباب و علل کے تابع ہیں اور یہ تدریجا واقع ہوتے ہیں۔ خداوند متعال کی حکیمانہ مشیت میں نظام طبیعت اسی طرح سے ہی مقدر ہوا ہے۔19 مذکورہ مباحث سے ظاہر ہوتا ہے  کہ بدا، کے بارے میں جتنے اختلافات پائے جاتے ہیں درحقیقت وہ سب کے سب لفظی نزاع ہیں کیونکہ بداء کے منکرین اس چیز کا انکار کرتے ہیں جس پر بدا، کے معتقدین بھی اعتقاد نہیں رکھتے۔ منکرین اس لئے بدا، کا انکار کرتے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں یہ علم الٰہی میں تغیر و تبدل کا باعث بنتا ہے۔ (نیز اس کا لازمہ جہل ہے حالانکہ اس کا کوئی بھی قائل نہیں ہے) یہ لازمہ اس وقت صحیح ہے جب یہ (بدا) انسان کے بارے میں استعمال ہو۔ لہٰذا آئمہ اطہار (ع) کی روایتوں میں بدا کے جو معنی ہیں، نیز شیعہ علماء جس بدا، پر اعتقاد رکھتے ہیں ان سب کا لازمہ علم الٰہی میں تغیر و تبدل نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
1۔ اصول کافی ج1،باب بدا۔
2۔ ایضا ً۔
3۔ ایضا ً،حدیث 13، 14۔
4۔ بحارالانوار، ج4، ص11۔
5۔ جن، 28۔
6۔ عنکبوت،3۔
7۔ محمد ،31.
8۔ صحیح بخاری،ج3،ص258۔ کتاب بدا، الخلقۃ۔
9۔ النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر ،ج1، ص109۔
10۔ الغیبۃ،ص 264 – 265 ۔
11۔ مائدۃ ،64۔
12۔ مائدۃ ،64۔
13۔توحید شیخ صدوق، ص 167۔ بحار الانوار، ج4، ص104۔
14۔ رعد،39۔
15۔توحید شیخ صدوق، ص444۔ بحارالانوار ،ج4، ص96۔
16۔ (من سره ان یبسط علیه رزقه اوینسا فی اثره، فلیصل رحمه)صحیح۔ مسلم،ج4،ص1982۔ تحقیق محمدفواد عبد الباقی۔
17۔ الدرالمنثور، ج4، ص66۔
18۔ تفسیر عیاشی،ج2،ص 220۔
20۔ فخر الدین رازی ،تفسیر کبیر، ج19،ص 65۔ شہید اول،القواعد و الفوائد، ج2، ص55

اس سے مربوط موضوعات

قیامت اور معاد کی حقیقت/ تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی
قرآن کریم زمین و آسمان کی خلقت کے بارے میں فرماتا ہے کہ خدا نے انہیں فضول اور بیہودہ خلق نہیں فرمایا ہے۔ اسی طرح قیامت کے بارے میں فرماتا ہے: {إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ مِيقَاتُهُمْ أَجْمَعِين}۴یقینا فیصلے کا دن ان سب کے لئے طے شدہ ہے۔ قیامت کا ایک فلسفہ یہ ہےکہ عدل الٰہی اچھے اور برے افراد کے درمیان نیز کفار اور مومنین کے درمیان مکمل طور پر نافذ ہو کیونکہ دنیا میں انسان کی زندگی ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ ہے جس کی بنا پر سزاء و جزاء کے مقام پر عدل الٰہی کا مکمل نفاذ ممکن نہیں ہے۔ اسی لئے ایک اور عالم کا ہونا ضروری ہےتاکہ عدل الٰہی مکمل طور پر نافذ ہو جیساکہ قرآن کریم اس سلسلے میں فرماتا ہے: {أَمْ نجَعَلُ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَ عَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ كاَلْمُفْسِدِينَ فىِ الْأَرْضِ أَمْ نجَعَلُ الْمُتَّقِينَ كاَلْفُجَّار} ۵ کیا ہم ایمان لانے اور اعمال صالح بجا لانے والوں کو زمین میں فساد پھیلانے والوں کی طرح قرار دیں یااہل تقوی کو بدکاروں کی طرح قرار دیں؟
عصمت حضرت زہرا قرآن و حدیث کی روشنی میں تحریر: احسان علی دانش کچوروی
عصمت حضرت زہرا قرآن و حدیث کی روشنی میں تحریر: احسان علی دانش کچوروی حضرت فاطمہ زہراعلیہا السلام صنف نسواں میں اسلام کی تنہا صاحب عصمت خاتون ہیں کہ جس کی عصمت قرآن اور حدیث کی روشنی میں ثابت ہے اور ان کی پُر افتخار زندگی اس بات پر دوسری دلیل ہے۔ حضرت زہرا علیہا السلام کے دنیا میں آنے کا اہتمام جنت کی پاک غذا سے ہوا۔ رحم مادر ہی میں ماں کے لئے ایک بہترین ساتھی اور مونس شمار ہوتی تھی۔ اور دوران ولادت جن باعظمت مخدرات عصمت کو غیب سے بھیجا گیا تھا، ان سے گفتگو کی اور آپ کی محدود حیات طیبہ میں عقل کو حیران کر دینے والی سینکڑوں کرامات ظاہر ہوئیں یہ تمام باتیں اس باعظمت خاتون کی عصمت کی حکایت کرتی ہیں۔ حضرت فاطمہ علیہا السلام عالم اسلام کی خواتین کے لیے اسوہ اور نمونہ کے طور پر پہچانی جاتی ہیں دوسری عورتوں کےلیے ضروری ہے کہ ان کی پاک سیرت کو اپنے لئے نمونہ عمل قرار دیں۔ تربیت، اخلاق اور خود سازی کے عملی میدان میں ان کی پیروی کریں۔ عبادت کے طریقے اور روش، شوہرداری، بچوں کی پرورش اور لوگوں کے حقوق کے بارے میں ان کو آئیڈیل بنایا جائیں۔ان تمام کرداروں کو نبھانا چاہیے جن کو انہوں نےنبھایا ہے اور اس طرح برتاؤ کرنا چاہئے جس طرح انہوں نے کیا ہے۔
عقیدہ ختم نبوت تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی
دین اسلام کے مسلمہ اصولوں میں سے ایک نبوت پر اعتقاد ہے بلکہ تمام ادیان آسمانی کے ہاں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ نبوت اور پیغمبری کا سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا اور حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت اور آپ ؐ کا آخری نبی ہونا دین اسلام کے مسلمہ امور میں سے ہے۔ اس پر تمام امت اسلامی کا اتفاق و اجماع ہے۔ اگر کبھی اس سلسلے میں کوئی اختلاف بھی ہو تو وہ فرعی مسائل میں ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کی عقلی دلیل یہی ہے کہ تاریخ شاہد ہے آپ ؐنے نبوت کا دعویٰ کیا اور اپنے دعوے کو معجزات کے ذریعے ثابت فرمایا۔ آپ ؐنے ان معجزات کے ذریعے لوگوں کو چیلنج بھی دیا۔ لہذا اگر معجزہ چیلنج کے ساتھ ہو تو یہی نبوت کے اثبات کے لئے قطعی دلیل ہے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہم ترین معجزات میں سے ایک قرآن کریم ہے۔ آپ ؐنے مختلف طریقوں سے لوگوں کو قرآن کا مقابلہ کرنے کا چیلنج دیا۔ کبھی قرآن کا مثل لانے۔1 کبھی اس کی طرح دس سورتیں لانے،2 اور کبھی اس کی مانند ایک سورہ لانے کا چیلنج دیا۔3 جس کے آگے صرف یہ کہ عرب کے نامور ادیبوں اور سخنوروں نے سر تسلیم خم کیا بلکہ ان میں سے بعض افراد نے قرآن کریم کے مافوق بشر ہونے کا اعتراف بھی کیا، لیکن جاہلی تعصب کی وجہ سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے کے بجائے وہ آپ ؐ کے کلام کو جادو سے تعبیر کرنے لگے، تاکہ لوگوں کو اس طریقے سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے سے روکا جا سکے۔
رجعت کا عقیدہ تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی
شیعوں کےمخصوص عقائد میں سے ایک {عقیدہ رجعت }ہے ۔یعنی یہ عقیدہ رکھنا کہ مہدی موعود {عج}کے ظہور اور پوری دنیا میں اسلامی حکومت کے قائم ہونےکے بعد اولیائے الہی اوراہل بیت پیغمبر علیہم السلام کے پیروکار اور ان کے دشمنوں کا ایک گروہ دوبارہ زندہ ہو کر دنیا میں واپس آئیں گے۔اولیاءاور نیک لوگ دنیا میں عدل و انصاف کی حکومت دیکھ کر خوش ہو ں گے اور انہیں اپنے ایمان اورعمل صالح کے ثمرات دنیا میں حاصل ہوں گے جبکہ اہل بیت علیہم السلام کے دشمنوں کو اپنے ظلم کی سزا ملے گی البتہ آخری جزا و سزا قیامت میں ملیں گی ۔ رجعت ایک ممکن امر ہے جو عقلی لحاظ سے محال نہیں ہے ۔اس کے امکان پر واضح دلیل گذشتہ امتوں میں اس کا واقع ہونا ہے یعنی گذشتہ امتوں میں بھی کچھ لوگ مرنے کے بعد زندہ ہو ئے ہیں۔قرآن کریم جناب عزیر علیہ السلام کے بارے میں فرماتاہے کہ وہ مرنے کے سو سال بعد دوبارہ زندہ ہوئے ۔اسی طرح حضرت عیسیعلیہ السلام کے معجزات میں سے ایک معجزہ مردوں کو زندہ کرنا تھا۔رجعت اور مردوں کے زندہ ہونے کا ایک نمونہ بنی اسرائیل کےمقتول کا زندہ ہونا ہے۔بنابریں بعض شبہ ایجاد کرنے والوں کا رجعت کو تناسخ کے ساتھ تشبیہ دینا ان کی کوتاہ فکری اور نا آگاہی کی دلیل ہے ۔

بین الاقوامی

جنگ نہیں ہو گی، امریکہ کے ساتھ مذاکرات بھی نہیں ہونگے: آیت اللہ سید علی خامنہ ای

جنگ نہیں ہو گی، امریکہ کے ساتھ مذاکرات بھی نہیں ہونگے: آیت اللہ سید علی خامنہ ای

بولیویا نے اسرائیل کودہشت گرد ریاست قرار دے دیا

بولیویا نے اسرائیل کودہشت گرد ریاست قرار دے دیا

امام خمینی

امام خمینی رح ایک مرد عارف

حضرت امام خمینی رح کے بارے میں عام طور پر جو بات ہمارے ہاں زیادہ مشہور ہے وہ یہ کہ آپ نے ایک ملوکیت اور بادشاہت کا خاتمہ کرکے ایک اسلامی اور مذہبی حکومت قائم کی۔ لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ استعماری طاقتوں کے خلاف تھے اور استعماری طاقتوں نے آپ کی حکومت کے خاتمے کے لیے اپنے پورے وسائل بروئے کار لائے لیکن وہ اس میں ناکام ہو گئیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ امام خمینی رح بہت شجاع اور بہادر تھے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ آپ نے ناجائز طور پر قائم صہیونی حکومت کے خاتمے اور فلسطینیوں کے حقوق کے حصول کے لیے بھی آواز بلند کی۔ آپ مستضعفوں اور محروموں کے حقوق کے بھی علمبردار تھے۔ آپ نے اتحاد امت کے لیے ایک زور دار آواز بلند کی۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ ایک عالم اور فقیہ تھے اور آپ کی تقلید کی جاتی تھی۔ بعدازاں آپ کا دیوان بھی چھپا اور پاکستان میں بھی بہت سے لوگوں کو معلوم ہوا کہ آپ صاحب دیوان شاعر بھی تھے، لیکن ابھی تک جو پہلو کم شناختہ یا ناشناختہ ہے وہ یہ ہے کہ آپ ایک بلند پایہ عارف تھے اور شاید یہ کہنا زیادہ بہتر ہو کہ آپ کے وجود سے پھوٹنے والی تمام تر خوبیوں کا سرچشمہ یہی امر ہے کہ آپ ایک عارف باللہ اور عاشق الٰہی تھے اور اس سلسلے میں نظری اور عملی طور پر نہایت عمق اور گہرائی کے مقام پر فائز تھے۔

امام خمینی رہ کی زندگانی پر ایک طائرانہ نظر

بیس جمادی الثانی 1320 ہجری قمری مطابق 24ستمبر 1902 عیسوی کو ایران کے صوبہ مرکزی کے شہرخمین میں بنت رسول حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی طیب وطاہر نسل کے خاندان میں آپ ہی کے یوم ولادت با سعادت پر روح اللہ الموسوی الخمینی کی پیدائش ہوئي۔ وہ اپنے آباؤ اجداد کے اخلاق حسنہ کے وارث تھے جنہوں نے نسل درنسل لوگوں کی ہدایت ورہنمائی اورمعارف الہی کے حصول کے لئے خود کو وقف کررکھا تھا۔ یہ وہ گھرانہ تھا جو اعلی علمی مفاہیم سے مکمل طور پر آشنا تھا ۔امام خمینی کے پدربزرگوار آیت اللہ سید مصطفی مرحوم جو آیت اللہ العظمی میرزای شیرازی کے ہم عصر تھے نجف اشرف میں اسلامی علوم کے اعلی مدارج طے کرنے کے بعد درجہ اجتہاد پر فائزہوئے اور پھر ایران واپس آگئے اور شہر خمین میں تبلیغ و ہدایت کے فرائض انجام دینے لگے۔ حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ کی ولادت کو ابھی پانچ ماہ سے زیادہ کا عرصہ نہیں گذرا تھا کہ حکومت وقت کے ایجنٹوں نے ان کے والد بزرگوار کی ندائے حق کا جواب بندوق کی گولیوں سے دیا اور انھیں شہید کردیا ۔

امام خامنہ ای

اگر ایران داعش کا مقابلہ نہ کرتا تو خطے کی حالت ناگفتہ بہ ہوتی، آیت اللہ سید علی خامنہ ای

اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر نے کہا کہ اگر ایرانی فوج اور انقلابی گارڈز داعش کے خلاف نہ لڑتے تو معلوم نہیں آج ہمسایہ ممالک سمیت پورے خطے کی کیا صورتحال ہوتی اور ان پر کون راج کر رہا ہوتا۔

عراقی حکومت، امریکی فوجیوں کے انخلا پر توجہ مبذول کرے: امام خامنہ ای

عراقی حکومت، امریکی فوجیوں کے انخلا پر توجہ مبذول کرے: امام خامنہ ای عراقی وزیراعظم نے اپنے وفد کے ساتھ امام خامنہ ای سے ملاقات کی، ملاقات کے دوراں امام خامنہ ای نے کہا کہ عراقی حکومت، امریکی فوجیوں کے انخلا پر توجہ مبذول کرے۔

کلام و عقائد

بدا قرآن و حدیث کی روشنی میں

ذات الٰہی کے بارے میں بدا، حقیقت میں ابدا و اظہار ہے۔ یعنی جو کچھ خدا کے علم میں ہے اور انسان کے علم میں نہیں، اسےخداوند متعال اظہار و آشکار کرتا ہے۔ اسے بدا، کہنے کا سبب یہ ہے کہ یہ مقام فعل الٰہی میں نمایاں ہوتا ہے، اگرچہ ذات الٰہی میں جہل اور تغییر محال ہیں۔ خداوند متعال انبیاء کرام پر غیبی طریقے سے نظر رکھتا ہے تاکہ یہ لوگ وحی کے پہنچانے میں خطا سے محفوظ رہیں۔ قرآن کریم اس بارے میں ارشاد فرماتا ہے، "لِّيَعْلَمَ أَن قَدْ أَبْلَغُواْ رِسَالَاتِ رَبهِّم" تاکہ وہ دیکھ لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات کو پہنچا دیا ہے۔ واضح ہے کہ خداوند متعال پہلے سے ہی آگاہ ہے کہ انبیاء، وحی الٰہی کو صحیح طریقے سے لوگوں تک پہنچائیں گے۔

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی علم کلام کےاہم مباحث میں سے ایک حسن و قبح عقلی کا بحث ہے ۔اس سے مراد یہ ہے کہ کچھ افعال ذاتی طور پر حسن {اچھے} اور کچھ افعال ذاتی طور پر قبیح{ برے} ہیں ۔ معتزلہ اور امامیہ حسن و قبح عقلی کے قائل ہیں جبکہ اشاعرہ اس کی نفی کرتے ہیں۔ بہت سے کلامی مسائل اس بحث پر موقوف ہیں مثلا انسان کا اپنے اعمال میں خود مختار ہونا،خدا وند متعال کی بعض صفات کمالیہ کا ثبوت جیسے خدا کا عادل ہونا،اسی طرح بعض صفات سلبیہ بھی اسی بحث پر موقوف ہے جیسے خدا سے قبیح کا سرزد نہ ہونا،خداکا ظلم نہ کرنا وغیرہ ۔ جو لوگ حسن اور قبح کے قائل ہیں وہ انسانی افعال میں انسان کو مختار،خدا کو عادل مانتے ہیں جبکہ حسن و قبح کے مخالفین انسان کو مجبور اور خداکی عدالت سے انکار کرتے ہیں ۔

تربیت اولاد

خاندانی منصوبہ بندی : ایک معاشرتی ضرورت یا دھوکہ!

خاندانی منصوبہ بندی کوآج کے دور میں مختلف مملک کی حکومتیں اپنی کامیاب ترین پالیسیوں میں شمار کرتی ہیں۔ آبادی کا کنٹرول اور چھوٹا خاندان خوشحالی کا ذریعہ سمجھاجاتا ہے۔ خصوصاً محدود وسائل رکھنے والے ممالک میں اس پالیسی کو زیادہ اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے

تعليم و تربيت کے بارے ميں اسلامي علما کي آرا و نظريات

تاريخ اسلام ميں تقريبا تمام علماء و دانشور مختلف علوم ميں مھارت رکھنے کے ساتھ ساتھ تعليم و تربيت ميں بھي صاحب نظر اور مھارت کے حامل ہوا کرتے تھے اس سے اسلام ميں تعليم وتربيت کي اھميت کا پتہ چلتا ہے لھذا ہم يہاں پر علما اسلام کي نظر ميں تعليم و تربيت کي اھميت اجاگر کرنے کے لئے ان کے بعض نظريات پيش کر رہے ہيں۔

تندرستی

غیر صحت مند خوراک کا استعمال سیگریٹ نوشی سے بھی زیادہ خطرناک

غیر صحت مند خوراک کا استعمال سیگریٹ نوشی سے بھی زیادہ خطرناک خراب غذا نہ صرف ہماری صحت کے لئے خرابی کا باعث ہے بلکہ دنیا بھر میں شرح اموات کی بڑھتی ہوئی تعداد میں اضافے کا سبب بھی ہے۔

روزانہ ایک گلاس نارنجی کا جوس فالج کے خطرے کو کم کرتا ہے

روزانہ ایک گلاس نارنجی کا جوس فالج کے خطرے کو کم کرتا ہے ایکسپریس نیوز نارنجی کے رس کے فوائد پہلے بھی بتاتا رہا ہے اور اب ایک بہت بڑے سروے سے معلوم ہوا ہے کہ باقاعدگی سے ایک گلاس نارنجی کا رس پینے والوں میں فالج کا خطرہ 25 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔ یہ مطالعہ ہزاروں افراد پر کیا گیا جو دس سال سے زائد عرصے تک جاری رہا۔ لیکن مغربی ممالک میں شکر سے دور بھاگنے کے رحجان سے نارنجی کے رس کو وہ اہمیت نہیں دی جارہی ۔

مہدویت{امام زمان عج}

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی امامت کے اہداف میں سے ایک ہدف امام معصوم کا لوگوں کی باطنی ہدایت ہے۔ امام لائق اور پاکیزہ دل رکھنے والے افراد کو اپنی طرف جذب کر کے انہیں کمال تک پہنچاتے ہیں۔ واضح ہے کہ انسان کا اس طرح ہدایت سے ہمکنار ہونے کے لئے ضروری نہیں کہ وہ امام کے ساتھ ظاہری رابطہ برقرار کرے۔ گذشتہ بیانات کی روشنی میں امام زمانہ (عج) کو بادل کے پیچھے پنہان روشن آفتاب سے تشبیہ دینے کا مقصد بھی واضح ہو جاتا ہے۔ اگرچہ بادل کے پیچھے پنہان سورج سے انسان مکمل طور بہرہ مند نہیں ہوتا ہے لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ اس سے انسان کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا ہے۔ بہرحال امام زمانہ (عج) کے وجود کے آثار و برکات سے بہرہ مند نہ ہونے کا سبب انسانوں کی طرف سے خاص حالات کا فراہم نہ کرنا ہے، جس کی وجہ سے لوگ اس عظیم نعمت کے فوائد سے محروم ہیں اور اس محرومیت کا سبب وہ خود ہیں نہ کہ خداوند متعال اور امام، کیونکہ خداوند متعال اور امام کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی مشکل درپیش نہیں ہے۔

احادیث

حدیث ثقلین پر ایک اجمالی نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

حدیث ثقلین ان متواتراحادیث میں سےایک ہے جسے اہل تشیع و اہل تسنن دونوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیا ہے ۔اس معروف حدیث کا متن یہ ہے :{یاایها الناس انی تارک فیکم الثقلین ،کتاب الله و عترتی ، اهل بیتی ماان تمسکتم بهما لن تضلوا بعدی ابدا و انهما لن یفترقا حتی یرداعلی الحوض ،فانظروا کیف تخلفونی فیهما }۱پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :اے لوگو:میں تمہارے درمیان دوگرانقدر چیزیں چھوڑے جاتا ہوں ۔اگر تم ان کےساتھ تمسک کئے رہو گے توکبھی گمراہ نہ ہوگے ۔ان میں سے ایک کتابخداہے اور دوسری میریعترت۔ یہ دونوں کبھی جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ دونوں میرے پاس حوض کوثر پر پہنچ جائیں ۔تم خود سوچو کہ تمہیں ان دونوں کے ساتھ کیا رویہ رکھنا چاہیے ۔

امام علی علیہ السلام کی شانِ میں چہل حدیث

مولا علیؑ کی شان میں چالیس احادیث اور یہ ﻭﻩ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ہیں ﺟﻮ ﺻﺤﺎﺡ ﺳﺘﻪ ﻣﯿﮟ بھی موجود ہے. 1= ﻋﻨﻮﺍﻥ ﺻﺤﻴﻔﺔ ﺍﻟﻤﺆﻣﻦ ﺣﺐّ ﻋﻠﻰؑ ﺑﻦ ﺍﺑﻰ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ. ﺻﺤﯿﻔﮧ ﻣﻮﻣﻦ ﮐﺎ ﻋﻨﻮﺍﻥ ﻣﺤﺒﺖِ ﻋﻠﯽؑ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻃﺎﻟﺐؑ ﮨﮯ.

چہاردہ معصومین ع

امام زین العابدین علیہ السلام

ابو حمزہ ثمالی سے مروی ہے کہ علی بن الحسین(ع) راتوں کو کھانے پینے کی چیزوں کو اپنے کندھے پر رکھ کر اندھیرے میں خفیہ طور پر غربا اور مساکین کو پہنچا دیتے تھے اور فرمایا کرتے تھے: "جو صدقہ اندھیرے میں دیا جائے وہ غضب پروردگار کی آگ کو بجھا دیتا ہے"۔[57] محمد بن اسحاق کہتا ہے: کچھ لوگ مدینہ کے نواح میں زندگی بسر کرتے تھے اور انہیں معلوم نہ تھا کہ ان کے اخراجات کہاں سے پورے کئے جاتے ہیں، علی ابن الحسین(ع) کی وفات کے ساتھ ہی انہيں راتوں کو ملنے والی غذائی امداد کا سلسلہ منقطع ہوا۔ [58]

امام حسین علیہ السلام کا معاویہ کے نام خط

۱۔تم حجر بن عدی اور ان کے ساتھیوں کے قاتل ہو جو سب کے سب عابد وزاہد تھےاور بدعتوں کے مخالف اور امر بالمعروف و نہی عن المنکرکیاکرتے تھے ۔ ۲۔ تم نے عمرو بن حمق کو قتل کیا جو جلیل القدر صحابی تھے جن کابدن کثرت عبادت کی وجہ سے نحیف و کمزور ہو چکا تھا۔ ۳۔تم نے زیاد بن ابیہ کو { جو ناجائز طریقے سے متولد ہوا تھا }اپنا بھائی بنا لیا اوراسےمسلمانوں پرمسلط کردیا ۔

سب سے زیادہ زیر بحث

امام علی علیہ السلام کی شانِ میں چہل حدیث

مولا علیؑ کی شان میں چالیس احادیث اور یہ ﻭﻩ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ہیں ﺟﻮ ﺻﺤﺎﺡ ﺳﺘﻪ ﻣﯿﮟ بھی موجود ہے. 1= ﻋﻨﻮﺍﻥ ﺻﺤﻴﻔﺔ ﺍﻟﻤﺆﻣﻦ ﺣﺐّ ﻋﻠﻰؑ ﺑﻦ ﺍﺑﻰ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ. ﺻﺤﯿﻔﮧ ﻣﻮﻣﻦ ﮐﺎ ﻋﻨﻮﺍﻥ ﻣﺤﺒﺖِ ﻋﻠﯽؑ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻃﺎﻟﺐؑ ﮨﮯ.

دعا کی اہمیت

دعا کی اہمیت حضرت انسان کس قدر شرف و عظمت کا مالک ہے،اس کے لئے کائنات بنی،پوری کائنات میں اسی کو عزت و تکریم کا حق دار ٹھہرایا گیا۔تمام مخلوق اس کی خدمت اور منفعت کے لئے پیدا کی گئی۔لیکن اتنی عظمتوں کے باوجود اس کی خلقت کا مقصد اللہ کی معرفت اور عبادت قرار دیا گیا۔لہذا انسان کا اہم کام خدا سے ارتباط و ربط ہے۔مگر کیسا رابطہ؟ اتنی عظمتوں کے باوجود بارگاہ خداوندی میں فقر محض اور احتیاج محض ہے جبکہ ذات پروردگار غناء ہی غناء ہے۔بلندی ہی بلندی ہے۔انسان مشکلات،مصائب اور تکالیف میں ایسی ذات کی طرف رجوع کر کے اپنے فقر اور احتیاج محض ہونے کا اقرار و اعتراف کرتے ہوئے اپنی نفی اور بے ثباتی کا اظہار کرتا نظر آتا ہے۔اس سلسلے میں انسان کا ایک اہم وسیلہ دعا ہے۔دعا کے ذریعے اپنی احتیاج کا اظہار بھی کرتا ہے اوراللہ سے اعانت کی التجا بھی کرتا ہے۔

قرآنِ کریم اور اصلاحِ معاشرہ تحریر: عارف حسین تھہیم

لفظِ ’’اصلاح‘‘ درست کرنے، صحیح کرنے اور خرابی کو دُور کے معنی میں آتا ہے۔ معاشرتی اور اجتماعی مفہوم کے اعتبار سے شائستہ اور نیک عمل انجام دینے، نیز فساد و تباہی کو ختم کرنے کے لیے بھی اصلاح کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ ارشادِ پروردگار ہے: ﴿ إِلاَّ الَّذِينَ تَابُواْ وَأَصْلَحُواْ وَبَيَّنُواْ فَأُوْلَئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ﴾[1]؛ ’’سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے توبہ کی اور اپنے کئے کی اصلاح کر لی اور (جس کو چھپایا ہوا تھا) واضح کر دیا تو ایسے ہی لوگوں کی توبہ میں قبول کرتا ہوں اور بےشک میں بڑا توبہ قبول کرنے والا اور بہت مہربان ہوں۔‘‘ حقیقی توبہ میں گذشتہ بُرائی اور فساد کا دُور کرنا اور آئندہ بُرائی و فساد سے بچے رہنے کا تہیہ کرنا ضروری ہے۔ شائستہ اور صالح معاشرے کی تشکیل کا ہدف اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی دُنیوی و اُخروی اور مادی و معنوی ضرورتوں کو پورا کیا جائے؛ لہٰذا صالح معاشرے کی خصوصیات یہ ہیں کہ اس میں ہر ایک کی جان، مال، عزّت و آبرو اور ناموس محفوظ ہوتی ہے، لوگوں کی درمیان مہر و محبت اور اپنائیت کا راج ہوتا ہے اور سب لوگ روحانی و معنوی لحاظ سے پُرسکون اور مطمئن ہوتے ہیں۔

تلاوت قرآن کی فضیلت

'پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا، جو شخص رات کو دس آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام غافلین (جو یاد خدا سے بے بہرہ رہتے ہیں) میں نہیں لکھا جائے گا اور جو شخص پچاس آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام ذاکرین (جو خدا کو یاد کرتے ہیں، حرام و حلال کا خیال رکھتے ہیں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص سو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام قانتین (عبادت گزاروں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص دوسو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام خاشعین (جو خدا کے سامنے متواضع ہوں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص تین سو آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام سعادت مندوں میں لکھا جائے گا، جو شخص پانچ ہزار آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام عبادت اور پرستش خدا کی کوشش کرنے والوں میں لکھا جائے گا اور جو شخص ہزار آیتوں کی تلاوت کرے وہ ایسا ہے جیسے اس نے کثیر مقدار میں سونا راہ خدا میں دے دیا ہو۔،،

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ بسم اللہ الرحمن الرحیم بنام خدائے رحمن و رحیم اٴَللّٰھُمَّ اِنّيِ اٴَسْاٴَ لُکَ بِرَحْمَتِکَ الَّتي وَ سِعَتْ کُلَّ شَيْءٍ،وَ بِقُوَّتِکَ الَّتي قَھَرْتَ خدایا میراسوال اس رحمت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر محیط ھے۔ اس قوت کے واسطہ سے ھے جو ھر چیز پر حاوی ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ،وَخَضَعَ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ،وَذَلَّ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ، وَبِجَبَرُوتِکَ الَّتي غَلَبْتَ اور اس کے لئے ھر شے خاضع اور متواضع ھے۔ اس جبروت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر غالب ھے اور اس عزت کے واسطہ سے ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ، وَ بِعِزَّتِکَ الَّتي لاٰ یَقُومُ لَھٰا شَيْءٌ، وَبِعَظَمَتِکَ الَّتي مَلَاٴَتْ کُلَّ جس کے مقابلہ میں کسی میں تاب مقاومت نھیں ھے۔اس عظمت کے واسطہ سے ھے جس نے ھر چیز کو پر کردیا ھے شَيْءٍ، وَ بِسُلْطٰانِکَ الَّذي عَلاٰ کُلَّ شَيْءٍ، وَبِوَجْھِکَ الْبٰاقي بَعْدَ فَنٰاءِ کُلِّ شَيْءٍ،

تربیت اولاد کے انمول اصول تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

لغت کی کتابوں میں لفظ" تربیت" کے لیے تین اصل اور ریشہ ذکر ہوئے ہیں۔ الف:ربا،یربو زیادہ اور نشوونما پانےکے معنی میں ہے۔ ب: ربی، یربی پروان چڑھنا اور برتری کے معنی میں ہے۔ج: رب،یرب اصلاح کرنے اور سرپرستی کرنے کے معنی میں ہے۔۱صاحب مفردات کا کہنا ہے کہ "رب" مصدری معنی ٰ کے لحاظ سے کسی چیز کو حد کمال تک پہچانے ، پرورش اور پروان چڑھانے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ۲ صاحب التحقيق کا کہنا ہے اس کا اصل معنی ٰ کسی چیز کو کمال کی طرف لے جانے ، نقائص کو تخلیہ اور تحلیہ کے ذریعےرفع کرنے کے معنی ٰ میں ہے۔۳ بنابر این اگر اس کا ريشه(اصل) "ربو" سے ہو تو اضافہ کرنا، رشد ، نمو اور موجبات رشد کو فراہم کرنے کے معنی ٰ میں ہےلیکن ا گر "ربب" سے ہو تو نظارت ، سرپرستي و رهبري اور کسی چیز کو کمال تک پہنچانے کے لئے پرورش کے معنی ٰ میں ہے۔

اقوال حضرت امام علی علیہ السلام

قال علی علیہ السلام :وا علم ان الخلائقییی لم یوکدوا بشئی اعظم من التقویٰ فانہ وصیتنا اھل البیت (۱) ترجمہ: حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں : لوگوں کو تقویٰ سے زیادہ کسی چیز کی تاکید نھیںکی گئی اس لئے کہ یہ ھم اھل بیت کی وصیت ھے ۔ حدیث (۲)

اخلاق حسنہ کے بارے میں معصومین (ع) کے ارشادات

رسول خدا (ص) اور ا ئمہ معصومین علیہم اسلام اخلاق حسنہ کى اعلى ترین مثالیں ہیں اور یہ بے مثال "حُسن خلق" ان کے کردار اور گفتار سے عیاں تھا، ان ہى عظیم شخصیتوں کے ارشادات کى روشنى میں ہم "حُسن خلق" کے اعلى درجہ پر فائز ہو سکتے ہیں۔

مشاہدات

آج

534

کل

936

اس ماہ

34748

اس سال

62400

ٹوٹل مشاہدات

231628