علماء کونسل کچورا سکردو بلتستان

متن

سید الشھداء علیہ السلام پر گریہ اہل سنت کی نظر میں
تاریخ و حدیث کے مطالعہ سے یہ بات معلوم ہو تی ہے کہ پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  اور ان کے اھل بیت علیہم السلام و صحا بہ و تابعین اور بزرگان امت نے غم امام حسین علیہ السلام میں اشکباری کی ہے ۔ اس مقالہ میں کتب اہل سنت سے اس بات کو ثابت کریں گے اور اس کی طرف مختصر اشارہ کریں گے۔
١۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  کا آنسو بہانا
(دخل الحسین بن علی علیہما السلام علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  وھو یوحی الیہ فبرک علی ظھرہ وھومنکبّ،و لعب علی ظھرہ،فقال جبریل[ع]:یا محمد
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  !ان امتک ستفتن بعدک و یقتل ابنک ھذا بعدک و مدّ یدہ فاتاہ بتربةبیضاء وقال : فی ھذہ الارض یقتل ابنک اسمھا  الطف۔فلما ذھب جبریل خرج رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  الی اصحا ب بہ و التربةفی یدہ ، و فیھم ابو بکر و عمر و علی  ـ و حذیفة و عمار و ابوذر وھو یبکی فقالوا! ما یبکیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  ! فقال : اخبرنی جبریل[ع]ان ابنی الحسین   ـ یقتل بعدی بارض الطف و جاء نی بھذہ التربة فاخبر نی انّ فیھا مضجعة(١)  
 حضرت عائشہ نقل کرتی ہیں : امام حسین علیہ السلام اس حال میں کہ رحمةاللہ العالمین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  پر وحی نازل ہو رہی تھی داخل ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کمر مبارک پر چڑھے اور کمر مبارک پر کھیلنا شروع کر دیا جبریل امین علیہ السلام نے خدمت رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  میں عرض کیا  اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عنقریب تیرے بعد تیری امت فتنہ ایجاد کرے گی اور اس فرزند کو شھیدکرے گی اسی وقت اپنے ہاتھوں کو پھیلایا اور مٹھی میں موجود مٹی کو نبی کر یم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دست مبارک  میں دی اورکہا یہ اس سر زمین کی مٹی ہے جس پر تیرے فرزند کو شھید کر دیا جاے گا اس سر زمین کا نام؛ طف ہے۔ جیسے ہی جبریل امین علیہ السلام گئے صحابہ کرام داخل ہوئے مٹی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاتھوں میں موجود تھی ان اصحاب میں امیرالمؤمنین علی علیہ السلام ،ابو بکر ،عمر، حذیفہ، عمار اور ابوزر شامل تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زار و قطار رونا شروع کردیا۔آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ اے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کس چیز نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو رونے پر مجبور کیا ؟
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا  جبریل امین  علیہ السلام نے مجھے خبر دی ہے کہ میرے بعد میرے فرزند حسین علیہ السلام کو سر زمین ''طف ''میں شھید کر دیا جائے گا ۔اور وہ میرے لیے وہاں کی مٹی بھی لے کر آیا ہے اور مجھے خبر دی ہے کہ اسی جگہ پر امام حسین علیہ السلام کاروضہ بنے گا (دفن کیا جائے گا ) ۲
(٢)  امیر المومنین علیہ السلام کا گریہ
ابن عساکر سے نقل کرتا ہے کہ میں اور حضرت علی علیہ السلام اکٹھے جا رہے تھے نینوا، جو کہ صفین کے راستے میں تھی،پر پہنچے تو حضرت علی علیہ السلام نے ندا دی  '' اصبر یا اباعبداللہ ! اصبر یا ابا عبداللہ بشطّ الفرات قلت :  وماذاک؟قال دخلت علی النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ذات یوم وعیناہ تفیضان ، قلت یا نبی اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم! اغضبک احد ، ما شان عینیک تفیضان ؟ قال : بل قام من عندی جبریل قیل فحدثنی ان الحسین یقتل بشطّ الفرات ۔قال : فقال : ھل لک الی ان اشمک من تربتہ؟ قال فقلت : نعم فمدیدہ فقبض قبضةمنہ تراب فاعطانیھا فلم املک عینی ان فاضتا(۳)  
اے ابا عبداللہ شط فرات پر صبر کرو  راوی کہتا ہے کہ میں نے عرض کی مولا کس لیے ؟ کائنات کے صابر اما م علیہ السلام نے کہا کہ ایک دن میں جب پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی  خدمت اقدس میں پہنچا تھا تو پیامبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آنکھوں میں گریہ جاری تھا جب میں نے پیامبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا  اے رحمةاللہ العالمین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دکھ تو نہیں پہنچایا ؟ کیا وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آنکھوں میں آنسو جار ی ہیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ کچھ دیر پہلے جبریل امین علیہ السلام  یہاں پر تھے انہوں نے مجھے خبر دی ہے کہ حسین علیہ السلام شط فرات پر راہ خدا میں قربان ہو گا نجی کہتا ہے کہ حضرت علی   علیہ السلام نے فرمایا کیا تم کو اس مٹھی کہ خاک دوں کہ تم استشمام کرو میں نے کہا کہ جی ہاں حضرت نے اپنے ہاتھوں کو دراز کیا اور مٹھی بھر خاک میرے ہاتھوں میں دی بے قابوہو کرمیری آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئ۔
 
  (٣)بیمار کربلا علیہ السلام کا گریہ
ابن عساکر اپنی  سند کے ساتھ جعفر ابن محمدعلیھماالسلام سے نقل کرتے ہیں۔
سئل علی بن حسین علیہماالسلام  ـ عن کثیرةبکائہ فقال : لا تلومونی ، فان یعقوب   ـ فقد سبطاًمن ولدہ فبکی حتی ابیضت عیناہ من الحزن ولم یعلم انہ مات ، وقد نظرت الی اربعةعشر رجلاً من اھل بیتی یذبحون فی غداة واحدة ولم افترون حزنھم یذھب من قبلی ابداً ۴
کثرت گریہ کی وجہ سے امام سجاد  علیہ السلام سے سوال کیا گیا تو جواب میں حضرت سجاد علیہ السلام نے فرمایا: مجھے ملامت نہ کرو حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے بیٹوں میں سے ایک سے جدا ہو گئے تھے اس قدر روئے کہ انکی دونوں آنکھیں سفید ہو گئیں در حالانکہ وہ جانتے تھے کہ وہ اس دنیا سے نہیں گزرا مگر میرے گھر سے چودہ جوان ایک ہی دن میں سب کے سب ذبح کئے گئے پھر بھی تم چاہتے ہو کہ ان کا غم اپنے دل سے نکال دوں؟
(٤)  گریہ امام صادق  علیہ السلام
ابو الفرج اصفھانی اپنی سند کے ساتھ اسماعیل تمیمی سے نقل کرتا ہے کہ میں حضر ت امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں تھا خادم نے شاعر سید حمیری کے داخل ہونے کی اجازت مانگی امام علیہ السلام نے وارد ہونے کی اجازت فرمائی اور ااہل بیت  علیہم السلام کو پردہ کے پیچھے بٹھایا سید حمیری داخل ہوئے اور سلام کیا اورایک گوشہ میں بیٹھ گئے حضرت نے  اشعار پڑھنے کا حکم دیا تو سید حمیری نے غم امام حسین علیہ السلام میں یہ اشعارا مام علیہ السلام کی نذرکئے
امر ر علی جدث الحسین
فقل لاعظمہ الزکیّہ
آاعظماً لازلت من
وطفاء ساکبةرویّة
واذا مررت بقبرہ
فاطل وقف المطیّة
وابک المطھّرللمطھّر
والمطھرةالنقیة
کبکاءمعولةاتت
یوماً لواحداھا المنیة
حمیری کہتا ہے کہ میں نے دیکھا کہ حضرت امام جعفر صادق  علیہ السلام کے شدت گریہ سے آنسو چہرے مبارک سے ہوتے ہوئے ٹپکنے لگے اور امام علیہ السلام کے گھر سے فریاد بلند ہوئی یہاں تک کہ امام  علیہ السلام نے حکم  دیا کہ بس کریں تو سب خاموش ہو گئے۔۵
(٥) ابن عباس کا گریہ کرنا
سبط ابن جوزی نقل کرتا ہے کہ ابن عباس نے جیسے ہی امام حسین علیہ السلام کے شھید ہونے کی خبر سنی اس وقت سے ہمیشہ روتے رہے یہاں تک کی  ان کی آنکھیں نابینا ہو گیں ۔۶
(٦)انس بن مالک کا گریہ
قندوزی حنفی کہتا ہے کہ جیسے ہی سر مبا رک امام  علیہ السلام ابن زیاد کے دربار میں وارد کیا گیا اما م علیہ السلام کے سر مبارک کو ایک طشت میں قرار دیاگیااور ابن زیاد لعین نے چھڑی سے آپ علیہ السلام کے دندان مبارک پر مارنا شروع کیا اور کہتا ہے کہ اس طرح دانتوں کو کبھی نہیں دیکھا تھا  انس  ابن مالک ابن  زیاد کے نزدیک تھا زارو قطار رونا شروع کر دیا  اور کہنے لگا کہ امام حسین علیہ السلام رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شبیہ تھے ۔۷
(٧)زید بن ارقم کا گریہ
    ابن ابی الدنیا روایت کرتا ہے کہ زید بن ارقم ابن زید کے نزدیک تھا زید بن ارقم نے ابن زیاد سے کہا کہ اپنے  چھڑی کو اٹھا لو خداکی قسم میں نے کئی باررسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ان لبوں کا بوسہ لیتے ہوئے دیکھا ہے اسی کے ساتھ ہی زید بن ارقم نے گریہ کرنا شروع کر دیا ۸
(٨) ام سلمہ کا گریہ
جیسے ہی ام سلمہ کو امام حسین  علیہ السلام کے شھید ہونے کی خبر پہنچی کہا
اوقد فعلوھا  ملا اللہ قبورھم نارا  ثم  بکت حتی غشی علیہ۹
کہ جنہوں نے اس کام کو انجام دیا ہے خدا ان کی قبروں کو آتش سے پر کر دے اس کے ساتھ ہی رونا شروع کر دیا یہاں تک کہ غش کھا گئیں۔
(٩)حسن بصری کا گریہ
زھری کہتا ہے کہ
لما بلغ الحسین البصری قتل الحسین  علیہ السلام بکی حتی اختلج صدغاہ ثم قال : واذل امة قتلت ابن بنت  نبّیھا ۱۰
 امام حسین  علیہ السلام کے شھید ہونے کہ خبر جب حسن بصر ی تک پہنچی تو اس نے  رونا شروع کردیا یہاں تک کہ دونوںرخسار آنسو ں سے  بھر گئے اسی وقت کہا کہ مردہ باد ایسی  قوم پر جنھوں نے اپنے پیامبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے  بچوں کو قتل کیا ۔
(١٠) ربیع بن خیثم کا گریہ
تابعین میں  سے جو امام حسین  علیہ السلام کی یاد میں روئے ان میں سے ربیع بن خیثم تھے۔  
سبط ابن جوزی نقل کرتا ہے
لما بلغ الرییع بن خثیم قتل  الحسین  ـ بکی و قال : لقد قتلو فتیة لو  رآھم  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لا حبھم ، اطمعہم بیدہ ، اجلسھم علی فخذہ ،۱۱
جیسے ہی امام  حسین علیہ السلام کے شھید ہونے کی خبر ربیع بن خثیم  تک پہنچی اس نے رونا شروع کر دیا اور کہا ایسے جوان کو شھید کیا گیا ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر  وقت ان کودیکھتے اور ان کو دوست رکھتے تھے اپنے ہا تھوں سے کھانا کھیلاتے اور اپنے زانوں پر بٹھاتے تھے۔
 ١١۔ اہل کو فہ کا گریہ
جیسے ہی قیدیوں کی سواریاں کوفہ پہنچیں تمام مرد  خاندان پیامبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خواتین کو دیکھنے کے لیے جمع ہوگئیں ہر طرف سے صداے گریہ و آہ و بکا تھی ۔
مر ثیہ سرائی کی صد اگونج رہی تھی  خاندان اھل بیت علیہم السلام کی خواتین کو دیکھ کر کوفہ کی خواتین کے روتے ہوئے اپنے گریبان چاک کئے اپنے  مردوں کے ساتھ گریہ کرتی رہیں ۱۲
(١٢) توابین کا گریہ
عایشہ بنت الشاطی کہتی ہیں :
کہ ٦٥ہجری شروع نہ ہوئی تھی کہ چیخیں مارتے ہوئے (یا لثارت الحسین  علیہ السلام)  بنی امیہ کے پاوں تلے زمین کو لزرا دیا اور اھل کوفہ اپنے ہتھیارو کے ساتھ قبر امام حسین  علیہ السلام کی طرف بڑھے اس آیت کی تلاوت کرتے ہوئے  
فتوبو الی بارئکم فاقتلو انفسکم ذالکم خیرلکم عند بارئکم ( سورہ بقرہ ایت ٥٤ )
جیسے ہی قبر امام علیہ السلام پر پہنچے سب نے اکھٹی  چیخیں ماریں  ان لوگوں نے ایسا گریہ کیا کہ  لوگوں نے کبھی نہیں دیکھا تھا توابین ایک دن وہاں پر ٹھہرے اور اپنے خضوع کا اظہار کرتے رہے۔ ۱۳
منابع
۱۔( تاریخ ابن کثیر ج ١١ ص ،٣٠،٢٩ ، تذکرة الحفاط ج٢ ص١٦٤، کامل ابن اثیر ج ٥ ص ٣٦٤ ، مستدرک حاکم  ج ٣ ص ١٧٦ ، مسند احمد  ج٣ص ٣٤٢)
۲۔(تاریخ ابن کثیر ج ١١ ص ٢٩،٣٠)تذکرةالحفاظ ج ٢ص١٦٤ ۔ کامل ابن کثیر ج ٥  ص٣٦٤ ، مستدرک  حاکم ج ٣ ص١٧٦ ، مسند احمد ج ٣ ص٣٤٢  
۳۔ تاریخ دمشق ۔ امام حسین  ـص ٢٣٨ التھذیب ج ٢ ص ٣٠٠  اور مسند احمد ج ١ ص ٨٥ المعجم الکبیر  ج ٢ ص ١٠٥)  
۴۔ تاریخ دمشق ۔ امام حسین  ـص ٢٣٨ التھذیب ج ٢ ص ٣٠٠  اور مسند احمد ج ١ ص ٨٥ المعجم الکبیر  ج ٢ ص ١٠٥)  ۵۔(الاغانی ج ٧ ص٢٤)
۶۔(تذکرةالخواص ص١٥٢)
۷۔(ینابیع المودة ص ٣٨٩ بہ نقل از ترمذی )
۸۔(اسد الغابہ  ج ٢ص ٢١ ،۹۔(صواعق المحرمة ص ١٩٦)
۱۰۔( تذکرة الخواص ص ٢٦٥ ، انساب الشراف ج ٣ ص ٢٢٨ ، المعجم الکبیر  ج ٣ ص ١٢٧ )
۱۱۔ ( ٢)تذکرة الخواص ص ٢٦٨)
۱۲۔( موسوعة النبی دکتر عایشہ بنت الشاطی ص ٧٣٤)
۱۳۔ موسوعة النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ص ٧٦٤ ،تاریخ طبری ج ٤ س ٤٥١)

اس سے مربوط موضوعات

امام حسین علیہ السلام پر فرشتوں کا گریہ تحریر: محمد عباس بہشتی کچوروی
آپ کا اسم مبارک حسین، کنیت ابا عبداللہ اور القاب سید شہدا ، سبط اصغر ہیں۔ والد بزرگوار امیر المومنین علی ابن ابی طالب اور مادر خاتون جنت جناب فاطمہ زھرا علیہا السلام ہیں۔ تین شعبان 4هجری کوحضرت علی و فاطمہ زهرا علیہما سلام کے دوسرے فرزند ارجمند امام حسین علیہ السلام نےوحی وامامت کے گھر میں آنکھ کھولی۔جب ولادت کی خبر رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تک پہنچے تو آپ )ص( حضرت علی علیہ السلام کے گھر تشریف لائے اور اسما سے فرمایا:فرزند کو میرے پاس لے آو- اسما نے بچے کو سفید کپڑے میں لپیٹ کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں لائی- آنحضرت)ص( نے دائیں کان میں آذان اور بائیں کان میں اقامت کهی- ولا دت کے ساتویں دن وحی الہی کے امانتدار جبریل امین تشریف لائے اور کہا: اے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم خدا کا دورود وسلام هو آپ پر اس مولود کا نام هارون کے چھوٹے فر زند شبر کے نام پر رکھیں جسے عربی میں حسین کہتے هیں کیونکہ علی علیہ السلام کو آپ سے وهی نسبت حاصل هے جو هارون ع کو موسی بن عمران سے حاصل تھیں صرف یہ کہ آپ آخری پیغمبر هیں"۔ولادت کے ساتویں دن حضرت فا طمہ زهرا علیہاالسلام نے ایک گوسفند ذبح کر کے اپنے فرزند کا عقیقہ کیا ان کے سر کے بال ترشواے اور بالوں کے هم وزن چاندی صدقہ دی- امام حسین علیہ السلام کی ولا

بین الاقوامی

بھارت کا میزائل تجربہ ایک بار پھر ناکام

بھارت کا میزائل تجربہ ایک بار پھر ناکام بھارتی ذرائع کا کہناہے کہ ’اگنی تھری‘ میزائل تجربہ پھر ناکام ہوگیا ہے۔

مقبوضہ کشمیرمیں کرفیو، لوگ گھروں میں محصور، دنیا بدستور تماشائی

مقبوضہ کشمیرمیں کرفیو، لوگ گھروں میں محصور، دنیا بدستور تماشائی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی اور ظلم وبربریت کا سلسلہ تھم نہ سکا، جنت نظیر وادی میں کرفیو اور لاک ڈاؤن 117ویں روز میں داخل ہوگیا۔

امام خمینی

امام خمینی رہ کے انقلابی نظریات اور اس کے اثرات

امام خمینی علیہ الرحمہ کی شخصیت اعلم فقیہ، واصل عارف اور با بصیرت راہبر جیسی صفات کی حامل ہے، ایران کی سرزمین پر دو ہزار پانچ سو سالہ پرانی شہنشاہیت کو شکست دینے کے بعد شرق و غرب کی سپر پاورز کا سامنا کرنے والی شخصیت ہے۔

امام خمینی رح ایک مرد عارف

حضرت امام خمینی رح کے بارے میں عام طور پر جو بات ہمارے ہاں زیادہ مشہور ہے وہ یہ کہ آپ نے ایک ملوکیت اور بادشاہت کا خاتمہ کرکے ایک اسلامی اور مذہبی حکومت قائم کی۔ لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ استعماری طاقتوں کے خلاف تھے اور استعماری طاقتوں نے آپ کی حکومت کے خاتمے کے لیے اپنے پورے وسائل بروئے کار لائے لیکن وہ اس میں ناکام ہو گئیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ امام خمینی رح بہت شجاع اور بہادر تھے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ آپ نے ناجائز طور پر قائم صہیونی حکومت کے خاتمے اور فلسطینیوں کے حقوق کے حصول کے لیے بھی آواز بلند کی۔ آپ مستضعفوں اور محروموں کے حقوق کے بھی علمبردار تھے۔ آپ نے اتحاد امت کے لیے ایک زور دار آواز بلند کی۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ ایک عالم اور فقیہ تھے اور آپ کی تقلید کی جاتی تھی۔ بعدازاں آپ کا دیوان بھی چھپا اور پاکستان میں بھی بہت سے لوگوں کو معلوم ہوا کہ آپ صاحب دیوان شاعر بھی تھے، لیکن ابھی تک جو پہلو کم شناختہ یا ناشناختہ ہے وہ یہ ہے کہ آپ ایک بلند پایہ عارف تھے اور شاید یہ کہنا زیادہ بہتر ہو کہ آپ کے وجود سے پھوٹنے والی تمام تر خوبیوں کا سرچشمہ یہی امر ہے کہ آپ ایک عارف باللہ اور عاشق الٰہی تھے اور اس سلسلے میں نظری اور عملی طور پر نہایت عمق اور گہرائی کے مقام پر فائز تھے۔

امام خامنہ ای

ایرانی قوم نے دشمن کے ناپاک منصوبے کا نہایت ہوشیاری سے خاتمہ کردیا، امام خامنہ ای

ایرانی قوم نے دشمن کے ناپاک منصوبے کا نہایت ہوشیاری سے خاتمہ کردیا، امام خامنہ ای امام خامنہ ای نےتہران میں اسلامی جمہوریہ ایران کی بسیج نامی رضاکارفورس کے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ایرانی قوم نے دشمن کے ناپاک منصوبے کا نہایت ہوشیاری سے خاتمہ کردیا ہے۔

عراق و لبنان کے ہمدردوں کی پہلی ترجیح ناامنی کا علاج ہونا چاہیئے، آیت اللہ سید علی خامنہ ای

رہبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ ان تمامتر خباثتوں اور خطرناک کینہ پروریوں کے موجب چند ایک جانے پہچانے ہاتھ ہیں جبکہ ان تمام حوادث کے پیچھے امریکی و مغربی انٹیلیجنس ایجنسیز ہیں اور خطے کی بعض آمر حکومتوں کا پیسہ ہے، البتہ دشمن نے ایران کیلئے بھی ایسے ہی منصوبے تیار کر رکھے تھے، لیکن خوش قسمتی کیساتھ ایرانی قوم نے میدان میں قدم رکھتے ہوئے عقلمندی سے کام لیا۔

کلام و عقائد

بدا قرآن و حدیث کی روشنی میں

ذات الٰہی کے بارے میں بدا، حقیقت میں ابدا و اظہار ہے۔ یعنی جو کچھ خدا کے علم میں ہے اور انسان کے علم میں نہیں، اسےخداوند متعال اظہار و آشکار کرتا ہے۔ اسے بدا، کہنے کا سبب یہ ہے کہ یہ مقام فعل الٰہی میں نمایاں ہوتا ہے، اگرچہ ذات الٰہی میں جہل اور تغییر محال ہیں۔ خداوند متعال انبیاء کرام پر غیبی طریقے سے نظر رکھتا ہے تاکہ یہ لوگ وحی کے پہنچانے میں خطا سے محفوظ رہیں۔ قرآن کریم اس بارے میں ارشاد فرماتا ہے، "لِّيَعْلَمَ أَن قَدْ أَبْلَغُواْ رِسَالَاتِ رَبهِّم" تاکہ وہ دیکھ لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات کو پہنچا دیا ہے۔ واضح ہے کہ خداوند متعال پہلے سے ہی آگاہ ہے کہ انبیاء، وحی الٰہی کو صحیح طریقے سے لوگوں تک پہنچائیں گے۔

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی علم کلام کےاہم مباحث میں سے ایک حسن و قبح عقلی کا بحث ہے ۔اس سے مراد یہ ہے کہ کچھ افعال ذاتی طور پر حسن {اچھے} اور کچھ افعال ذاتی طور پر قبیح{ برے} ہیں ۔ معتزلہ اور امامیہ حسن و قبح عقلی کے قائل ہیں جبکہ اشاعرہ اس کی نفی کرتے ہیں۔ بہت سے کلامی مسائل اس بحث پر موقوف ہیں مثلا انسان کا اپنے اعمال میں خود مختار ہونا،خدا وند متعال کی بعض صفات کمالیہ کا ثبوت جیسے خدا کا عادل ہونا،اسی طرح بعض صفات سلبیہ بھی اسی بحث پر موقوف ہے جیسے خدا سے قبیح کا سرزد نہ ہونا،خداکا ظلم نہ کرنا وغیرہ ۔ جو لوگ حسن اور قبح کے قائل ہیں وہ انسانی افعال میں انسان کو مختار،خدا کو عادل مانتے ہیں جبکہ حسن و قبح کے مخالفین انسان کو مجبور اور خداکی عدالت سے انکار کرتے ہیں ۔

تربیت اولاد

خاندانی منصوبہ بندی : ایک معاشرتی ضرورت یا دھوکہ!

خاندانی منصوبہ بندی کوآج کے دور میں مختلف مملک کی حکومتیں اپنی کامیاب ترین پالیسیوں میں شمار کرتی ہیں۔ آبادی کا کنٹرول اور چھوٹا خاندان خوشحالی کا ذریعہ سمجھاجاتا ہے۔ خصوصاً محدود وسائل رکھنے والے ممالک میں اس پالیسی کو زیادہ اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے

تعليم و تربيت کے بارے ميں اسلامي علما کي آرا و نظريات

تاريخ اسلام ميں تقريبا تمام علماء و دانشور مختلف علوم ميں مھارت رکھنے کے ساتھ ساتھ تعليم و تربيت ميں بھي صاحب نظر اور مھارت کے حامل ہوا کرتے تھے اس سے اسلام ميں تعليم وتربيت کي اھميت کا پتہ چلتا ہے لھذا ہم يہاں پر علما اسلام کي نظر ميں تعليم و تربيت کي اھميت اجاگر کرنے کے لئے ان کے بعض نظريات پيش کر رہے ہيں۔

تندرستی

دانت صاف رکھیے... تاکہ دل محفوظ رہے، ماہرین

جنوبی کوریا میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ افراد پر تقریباً بارہ سال تک جاری رہنے والے ایک مطالعے میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ لوگ جو دن میں تین یا تین سے زیادہ مرتبہ اپنے دانت صاف کرتے ہیں، انہیں دل کی دھڑکنیں بے قابو ہونے اور دل کے دورے کا خطرہ بھی بہت کم ہوتا ہے۔

لہسن اور پیاز چھاتی کے سرطان سے بچانے میں مددگار

لہسن اور پیاز ایشیا میں ایک عرصے سے استعمال ہورہی ہیں اور اب ان کے متعلق اچھی خبر یہ آئی ہے کہ ان دونوں جادوئی سبزیوں کا بھرپور اور مسلسل استعمال خواتین کو چھاتی کے سرطان (بریسٹ کینسر) سے محفوظ رکھتا ہے۔

مہدویت{امام زمان عج}

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی امامت کے اہداف میں سے ایک ہدف امام معصوم کا لوگوں کی باطنی ہدایت ہے۔ امام لائق اور پاکیزہ دل رکھنے والے افراد کو اپنی طرف جذب کر کے انہیں کمال تک پہنچاتے ہیں۔ واضح ہے کہ انسان کا اس طرح ہدایت سے ہمکنار ہونے کے لئے ضروری نہیں کہ وہ امام کے ساتھ ظاہری رابطہ برقرار کرے۔ گذشتہ بیانات کی روشنی میں امام زمانہ (عج) کو بادل کے پیچھے پنہان روشن آفتاب سے تشبیہ دینے کا مقصد بھی واضح ہو جاتا ہے۔ اگرچہ بادل کے پیچھے پنہان سورج سے انسان مکمل طور بہرہ مند نہیں ہوتا ہے لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ اس سے انسان کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا ہے۔ بہرحال امام زمانہ (عج) کے وجود کے آثار و برکات سے بہرہ مند نہ ہونے کا سبب انسانوں کی طرف سے خاص حالات کا فراہم نہ کرنا ہے، جس کی وجہ سے لوگ اس عظیم نعمت کے فوائد سے محروم ہیں اور اس محرومیت کا سبب وہ خود ہیں نہ کہ خداوند متعال اور امام، کیونکہ خداوند متعال اور امام کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی مشکل درپیش نہیں ہے۔

دیگر مناسبتیں

آفتاب کربلا جناب حضرت علی اکبر علیہ السلام

کربلا کے میدان میں ایک جوان ایسا بھی تھا جو سیرت و صورت اورگفتار و کردار میں شبیہ پیغمبر تھے۔دیکھنے والا دنگ رہ جاتا تھا کہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے ہیں۔انہوں نے اس کائنات میں ایسی قربانی پیش کی کہ تمام دنیا دھنگ رہ گئی۔آپ ایسے باپ کے فرزند تھے جس پر رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ناز تھا ،جس کے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری بن گئے۔اس عظیم باپ کا فرزند تھا جس نے دنیا والوں کو جینا سکھایا اورباطل قوتوں کے سامنے قیام کر نا سکھایا۔

حدیث غدیر، حدیث متواتر

متواتر لفظی: وہ حدیث یا خبر جس کے تمام روایوں نے، تمام طبقات میں، اس حدیث یا خبر کے مضمون کو ہو بہو اور یکسان طور پر نقل کیا ہو۔ جیسے حدیث ثقلین کی عبارت، (انّي تارك فيكم الثقلين ۔۔) یا حدیث غدیر کی عبارت (من كنت مولاه فهذا عليّ مولاه)۔

چہاردہ معصومین ع

امام سجاد علیہ السلام

امام علیہ السلام نے کربلا سے کوفہ، کوفہ سے شام اور زندان سے رہائی تک ہر موقع پر اپنے خطبوں کے ذریعے جہاں قیام حسینی علیہ السلام کے اصولوں اور فلسفے سے لوگوں کو آگاہ فرمایا وہیں اسلام کا نام استعمال کرتے ہوئے اسلام کی دھجیاں اڑانے کی کوشش کرنے والی ناپاک حکومت کا مکروہ چہرہ بھی بےنقاب فرمایا۔

معاویہ و یزید کے دور حکومت میں امام حسین (ع) کا کردار

معاویہ کو ہر وقت آپ کے قیام کا خوف رہتا تھا۔ چنانچہ اس نے امام کے سامنے قبض و بسط کی پالیسی اپنائی یعنی ایک طرف سے آپ کی منزلت کو مدنظر رکھتا تھا اور بظاہر آپ کے لئے احترام کا قائل تھا اور آپ کی تعظیم کرتا تھا اور اپنے کارگزاروں کو بھی ہدایت کرتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرزند کو نہ چھیڑیں اور ان کی بےحرمتی سے پرہیز کریں۔ دوسری طرف سے امام کی مسلسل اور شب و روز نگرانی کو اپنی پالیسی کا حصہ بنایا اور سفر اور حضر میں آپ کی تمام حرکات و سکنات پر کڑی نظر رکھی جاتی تھی۔

دیگر موضوعات

جابر بن عبداللہ انصاری پہلا زائر اربعین حسینی

عطیہ کوفی کے مطابق جابر بن عبد اللہ انصاری کے ساتھ حسین بن علی علیہ السلام کی قبر کی زیارت کرنے کے لئے کوفہ سے نکلے۔ جب ہم کربلا پہنچے تو جابر فرات کے ساحل کے قریب گیا اور غسل انجام دیا اور محرم افراد کی طرح ایک چادر پہنی، پھر ایک تھیلی سے خوشبو نکالا اور اپنے آپ کو اس خوشبو سے معطر کیا اور ذکر الہی کے ساتھ قدم اٹھانا شروع کیا، یہاں تک کہ وہ حسینؑ ابن علیؑ کے مرقد کے قریب پہنچا۔ جب ہم نزدیک پہنچے تو جابر نے کہا کہ میرا ہاتھ قبر حسینؑ پر رکھو۔ میں نے جابر کے ہاتھوں کو قبر حسین پر رکھا۔ اس نے قبر حسینؑ ابنی علی کو سینے سے لگایا اور بے ہوش ہو گیا۔ جب میں نے اس کے اوپر پانی ڈالا تو وہ ہوش میں آیا۔ اس نے تین مرتبہ یا حسینؑ کی آواز بلند کی۔

عطیہ عوفی(کوفی)زائر اربعین حسینی

زیارت اربعین کی اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ امام حسن عسکری علیہ السلام نے فرمایا: مومن کی نشانیوں میں سے ایک زیارۃ اربعین کی تلاوت کرناہے۔۳۔جب بھی زیارت اربعین اورچہلم امام حسین علیہ السلام کا ذکر ہو وہاں حتما ان دو ہستیوں یعنی جابر اور عطیہ کا ذکر ہوتا ہے۔ یہ دونوں ہستیاں اسلامی تاریخ کی معروف شخصیات میں سے ہیں۔ لیکن جو چیز انہیں دوسری شخصیات اورافراد سے ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ان کا شمار امام حسین علیہ السلام کے پہلے زائروںمیں ہوتا ہے۔

سب سے زیادہ زیر بحث

امام علی علیہ السلام کی شانِ میں چہل حدیث

مولا علیؑ کی شان میں چالیس احادیث اور یہ ﻭﻩ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ہیں ﺟﻮ ﺻﺤﺎﺡ ﺳﺘﻪ ﻣﯿﮟ بھی موجود ہے. 1= ﻋﻨﻮﺍﻥ ﺻﺤﻴﻔﺔ ﺍﻟﻤﺆﻣﻦ ﺣﺐّ ﻋﻠﻰؑ ﺑﻦ ﺍﺑﻰ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ. ﺻﺤﯿﻔﮧ ﻣﻮﻣﻦ ﮐﺎ ﻋﻨﻮﺍﻥ ﻣﺤﺒﺖِ ﻋﻠﯽؑ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻃﺎﻟﺐؑ ﮨﮯ.

دعا کی اہمیت

دعا کی اہمیت حضرت انسان کس قدر شرف و عظمت کا مالک ہے،اس کے لئے کائنات بنی،پوری کائنات میں اسی کو عزت و تکریم کا حق دار ٹھہرایا گیا۔تمام مخلوق اس کی خدمت اور منفعت کے لئے پیدا کی گئی۔لیکن اتنی عظمتوں کے باوجود اس کی خلقت کا مقصد اللہ کی معرفت اور عبادت قرار دیا گیا۔لہذا انسان کا اہم کام خدا سے ارتباط و ربط ہے۔مگر کیسا رابطہ؟ اتنی عظمتوں کے باوجود بارگاہ خداوندی میں فقر محض اور احتیاج محض ہے جبکہ ذات پروردگار غناء ہی غناء ہے۔بلندی ہی بلندی ہے۔انسان مشکلات،مصائب اور تکالیف میں ایسی ذات کی طرف رجوع کر کے اپنے فقر اور احتیاج محض ہونے کا اقرار و اعتراف کرتے ہوئے اپنی نفی اور بے ثباتی کا اظہار کرتا نظر آتا ہے۔اس سلسلے میں انسان کا ایک اہم وسیلہ دعا ہے۔دعا کے ذریعے اپنی احتیاج کا اظہار بھی کرتا ہے اوراللہ سے اعانت کی التجا بھی کرتا ہے۔

قرآنِ کریم اور اصلاحِ معاشرہ تحریر: عارف حسین تھہیم

لفظِ ’’اصلاح‘‘ درست کرنے، صحیح کرنے اور خرابی کو دُور کے معنی میں آتا ہے۔ معاشرتی اور اجتماعی مفہوم کے اعتبار سے شائستہ اور نیک عمل انجام دینے، نیز فساد و تباہی کو ختم کرنے کے لیے بھی اصلاح کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ ارشادِ پروردگار ہے: ﴿ إِلاَّ الَّذِينَ تَابُواْ وَأَصْلَحُواْ وَبَيَّنُواْ فَأُوْلَئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ﴾[1]؛ ’’سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے توبہ کی اور اپنے کئے کی اصلاح کر لی اور (جس کو چھپایا ہوا تھا) واضح کر دیا تو ایسے ہی لوگوں کی توبہ میں قبول کرتا ہوں اور بےشک میں بڑا توبہ قبول کرنے والا اور بہت مہربان ہوں۔‘‘ حقیقی توبہ میں گذشتہ بُرائی اور فساد کا دُور کرنا اور آئندہ بُرائی و فساد سے بچے رہنے کا تہیہ کرنا ضروری ہے۔ شائستہ اور صالح معاشرے کی تشکیل کا ہدف اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی دُنیوی و اُخروی اور مادی و معنوی ضرورتوں کو پورا کیا جائے؛ لہٰذا صالح معاشرے کی خصوصیات یہ ہیں کہ اس میں ہر ایک کی جان، مال، عزّت و آبرو اور ناموس محفوظ ہوتی ہے، لوگوں کی درمیان مہر و محبت اور اپنائیت کا راج ہوتا ہے اور سب لوگ روحانی و معنوی لحاظ سے پُرسکون اور مطمئن ہوتے ہیں۔

پیٹ کا درد کئی امراض کی علامت ہوسکتا ہے

اگر پیٹ میں درد ہورہا ہو تو اس کی کئی وجوہ ہوسکتی ہیں۔ اکثر ناقص غذا کی وجہ سے معدے میں تکلیف ہونے لگتی ہے جسے ہم پیٹ کے درد سے تعبیر کرتے ہیں۔ معدے کا درد کئی امراض کی علامت بھی ہوسکتا ہے، اس لیے اسے نظرانداز نہیں کرنا چاہیے اور بلاتاخیر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ بسم اللہ الرحمن الرحیم بنام خدائے رحمن و رحیم اٴَللّٰھُمَّ اِنّيِ اٴَسْاٴَ لُکَ بِرَحْمَتِکَ الَّتي وَ سِعَتْ کُلَّ شَيْءٍ،وَ بِقُوَّتِکَ الَّتي قَھَرْتَ خدایا میراسوال اس رحمت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر محیط ھے۔ اس قوت کے واسطہ سے ھے جو ھر چیز پر حاوی ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ،وَخَضَعَ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ،وَذَلَّ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ، وَبِجَبَرُوتِکَ الَّتي غَلَبْتَ اور اس کے لئے ھر شے خاضع اور متواضع ھے۔ اس جبروت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر غالب ھے اور اس عزت کے واسطہ سے ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ، وَ بِعِزَّتِکَ الَّتي لاٰ یَقُومُ لَھٰا شَيْءٌ، وَبِعَظَمَتِکَ الَّتي مَلَاٴَتْ کُلَّ جس کے مقابلہ میں کسی میں تاب مقاومت نھیں ھے۔اس عظمت کے واسطہ سے ھے جس نے ھر چیز کو پر کردیا ھے شَيْءٍ، وَ بِسُلْطٰانِکَ الَّذي عَلاٰ کُلَّ شَيْءٍ، وَبِوَجْھِکَ الْبٰاقي بَعْدَ فَنٰاءِ کُلِّ شَيْءٍ،

مقصد قیام امام حسین علیہ السلام تحریر: محمد حسن حسرت کچوروی

امام حسین ؑ ۲۸ رجب ۶۰ ھ میں مدینہ سے حرکت کرتے ہیں اور ۳ شعبان المعظم کو مکہ میں پہنچتے ہیں پھر ۸ ذی الحجہ کو مکہ سے کوفہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں ۲ محرم الحرام کو وارد کربلا ہوتے ہیں اور ۱۰ محرم الحرام کو شھید ہو جاتے ہیں اس مختصرعرصے میں انسان سو سے زیادہ درس حاصل کر سکتا ہے بلکہ کہہ سکتے ہیں کہ امام کے اس مختصر عرصےمیں ہزاروں دروس شامل ہیں لیکن یہ سارے دروس ایک اصلی درس ‘ حرکت اور قیام امام میں موجود ہیں باقی سارے حاشیے ہیں متن یہ ہے کہ امام نے قیام کیوں کیا؟ یہ اصلی درس ہے لوگ امام سے کہتے تھے آپ مدینہ اور مکہ میں محترم ہیں یمن میں اتنے سارے شیعہ ہیں کسی کونے میں تشریف لے جائیں اور یزید سے کوئی سروکار نہ رکھے تاکہ وہ بھی آپ سے کوئی سروکار نہ رکھے۔ یہ سارے مرید ہیں انہیں تبلیغ کریں عبادت کریں اور زندگی کریں۔ کاس قیام کا مقصد کیاہے ۔۔؟

اخلاق حسنہ کے بارے میں معصومین (ع) کے ارشادات

رسول خدا (ص) اور ا ئمہ معصومین علیہم اسلام اخلاق حسنہ کى اعلى ترین مثالیں ہیں اور یہ بے مثال "حُسن خلق" ان کے کردار اور گفتار سے عیاں تھا، ان ہى عظیم شخصیتوں کے ارشادات کى روشنى میں ہم "حُسن خلق" کے اعلى درجہ پر فائز ہو سکتے ہیں۔

تلاوت قرآن کی فضیلت

'پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا، جو شخص رات کو دس آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام غافلین (جو یاد خدا سے بے بہرہ رہتے ہیں) میں نہیں لکھا جائے گا اور جو شخص پچاس آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام ذاکرین (جو خدا کو یاد کرتے ہیں، حرام و حلال کا خیال رکھتے ہیں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص سو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام قانتین (عبادت گزاروں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص دوسو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام خاشعین (جو خدا کے سامنے متواضع ہوں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص تین سو آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام سعادت مندوں میں لکھا جائے گا، جو شخص پانچ ہزار آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام عبادت اور پرستش خدا کی کوشش کرنے والوں میں لکھا جائے گا اور جو شخص ہزار آیتوں کی تلاوت کرے وہ ایسا ہے جیسے اس نے کثیر مقدار میں سونا راہ خدا میں دے دیا ہو۔،،

مشاہدات

آج

679

کل

611

اس ماہ

17745

اس سال

234376

ٹوٹل مشاہدات

403604