علماء کونسل کچورا سکردو بلتستان

متن

ولادت پیامبر (ص) اور ہماری ذمہ داری

تحریر: ناصر رینگچن

شروع کرتا ہوں اُس ذات اقدس کے بابرکت نام سے جو نہایت رحمان و رحیم ہے، وہ مالک و خالق ہے جس کے قبضے میں ہماری جان ہے اور یہ تمام کائنات اُسی کی بنائی ہوئی ہے، وہ عالمین کا رب ہے۔ سورہ حمد میں ہم ہر روز، ہر نماز میں، اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ "ساری تعریف اللہ کے لئے ہے جو عالمین کا پالنے والا ہے"۔ اس خالق نے کائنات کو ایسے ہی خلق نہیں فرمایا ہے، ہمارا عقیدہ ہے کہ خدا قادر، دانا و حکیم ہے اور حکیم کبھی کوئی بے فائدہ کام انجام نہیں دیتا، اُس نے اس عالم کو خلق کیا ہے تو ایک خاص مقصد اور ہدف کے ساتھ خلق کیا ہے، اس کائنات میں موجود ہر چیز چاہے وہ جاندار ہو یا بےجان، بےفائدہ نہیں ہیں۔ وجود کائنات کے بارے میں مختلف نظریات موجود ہیں کوئی اس کو ایک حادثہ قرار دیتے ہیں تو کوئی انسانوں کو بندروں یا ان جیسی نسلوں سے قرار دیتے ہیں، لیکن انسان جو اس دنیا کی تمام چیزوں سے افضل اور قیمتی شی ہے بلکہ یوں کہیں کہ دنیا بنی ہی انسانوں کے لئے ہے اور انسانوں کو جو چیز باقی سب سے ممتاز کرتی ہے وہ اُس کی عقل ہے۔ آج ہم خلقت کائنات کے حوالے سے مختلف نظریات کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہماری عقل یہ کہتی ہے کہ یہ دنیا بے فائدہ اور ہدف سے خالی نہیں ہے، اس صورت میں فقط نظریہ اسلامی ہی ہے جو انسانوں کے اس شبہ کو دور کرتا ہے اور انسانوں کے قلوب کو تسکین واقعی پہنچاتا ہے۔

تو ہم ذکر کر رہے تھے دانا و حکیم خالق کا کہ اُس نے انسانوں کو ہدف کے بغیر خلق نہیں فرمایا بلکہ ایک خاص ہدف کے ساتھ خلق فرمایا ہے اور حکیم جو کام کرتا ہے اُسے سلیقے کے ساتھ انجام دیتا ہے۔ اُس نے انسانوں کو خلق کیا ہے پھر ان کی ہدایت اور رہنمائی کے لئے بھی ایسے انسانوں کو خلق فرمایا جو کہ ہمارے ہی جنس سے ہیں لیکن وہ ایمان کے اعلٰی درجہ پر فائز ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو خداوند عالم کی طرف سے تربیت یافتہ ہوتے ہیں تاکہ انسانوں کو اپنے اصلی ہدف کی طرف رہنمائی کرسکیں اور ان کو اس دنیا کی رنگینیوں سے نکال کر صراط مستقیم کی راستے پر چلا سکیں۔ ہم وہ خوش قسمت لوگ ہیں جو پیغمبر آخر زمان کے امتی کہلاتے ہیں، جو دنیا میں رب عالمین کی طرف سے آخری پیامبر ہیں اور ان پر نازل ہونے والی کتاب آخری کتاب آسمانی ہے اور تمام آسمانی کتب میں سے جامع ترین کتاب ہے جو قیامت تک کی آنے والے انسانوں کے لئے ہدایت و معجزہ بن کر نازل ہوئی ہے۔ ربیع الاول کا مہینہ مسلمانوں کے لئے خوشی کا مہینہ ہے اس ماہ مبارک میں خداوند عالم کے پیارے اور محبوب نبی، سردار انبیاء رسول اکرم حضرت محمد مصطفٰی (ص) دنیا میں تشریف لائے۔ تاریخ ولادت پیامبر کے حوالے سے اہل سنت حضرات اور اہل تشیع میں اختلاف ہے، اہل سنت کی نظر میں آپ کی ولادت ۱۲ ربیع الاول کو ہوئی اور اہل تشیع ۱۷ ربیع الاول کو روز ولادت مانتے ہیں۔ لیکن کچھ سالوں سے اس ہفتہ کو "ہفتہ وحدت" کے طور پر مناتے ہیں جوکہ اتحاد امت مسلمہ کے لئے ایک اچھی کاوش ہے۔ ہمارا نبی (ص) وہ عظیم پیامبر ہے کہ جس کے بارے میں سورہ الانبیاء کی آیت نمبر ۱۰۷ میں خداوند متعال ارشاد فرماتا ہے " اور ہم نے آپ کو عالمین کے لئے صرف رحمت بناکر بھیجا ہے۔"

رحمت کا معنی بخشش و مھربانی ہے یعنی پیغمبر (ص) کی ہر رفتار و گفتار انسانوں کی اصلاح کے لئے ہے، ان کا اٹھنا بیٹھنا، ان کا جہاد ان کی قضاوت، ان کے اصول ان کے فرامین غرض ان کی ہر ہر حرکت رحمت سے خالی نہیں ہے، بس صرف سمجھنے کی دیر ہے مگر ہم ان چیزوں کو سمجھ نہیں پاتے ہیں، ہماری میموری میں اتنی کیپسٹی بھی نہیں ہوتی کہ ہم ان کے افکار کو سمجھ سکیں، بشرطیکہ ہم غوروفکر کریں۔ ہم جب بھی بازار سے کوئی نئی چیز خریدتے ہیں تو سب سے پہلے اس کے ہدایت نامہ کو پڑھتے ہیں تاکہ اس چیز کے چلانے کے طریقے کو صحیح سمجھ سکیں اور اس کی حفاظت کر سکیں لیکن افسوس کہ آج کے دور میں ہم سب سے آسان اسلام کو سمجھتے ہیں، جس کے بارے میں تلاش و تحقیق تو کوئی نہیں کرتا لیکن نظریہ دینے کے لئے سب تیار ہوتے ہیں۔ مسلمانوں میں نااتفاقی، انتشار، فساد کی سب سے بڑی وجوہات میں سے ایک وجہ یہی ہے۔ ہم صرف خاندانی مسلمان ہیں تحقیقی کوئی نہیں ہیں، اسی لئے ہم فوری دوسروں کے بہکاوے میں آ جاتے ہیں، جس کا سب سے زیادہ نقصان عالم اسلام کو پہنچتا ہے۔ کہتے ہیں کہ ایک جگہ چار دوست رہا کرتے تھے ان میں سے ایک ترکی، ایک عربی، ایک رومی اور ایک پاکستانی تھا۔ ایک دن وہ لوگ پیسے جمع کر کے میوہ فروش کے پاس میوہ خریدنے جاتے ہیں، لیکن وہاں پہنچ کر ان کے درمیان لڑائی شروع ہوجاتی ہیں کیونکہ ان چاروں کا ایک میوہ پر اتفاق نہیں ہوتا، پاکستانی بولتا ہے مجھے انگور خریدنا ہے، عربی کہتا ہے مجھے عنب چاہیئے، ترکی بولتا ہے مجھے اُزوم چاہیئے اور رومی بولتا ہے مجھے استنابیل خریدنا ہے۔ اتنی دیر میں ایک شخص وہاں پہنچتا ہے جس کو ان چاروں زبانوں پر عبور حاصل تھا وہ اس مسئلہ کو سمجھتا ہے اور ان سے کہتا ہے کہ پیسے مجھے دو میں تمھارے مسئلہ کو حل کرتا ہوں۔ وہ شخص ان چاروں سے پیسے لیتا ہے اور میوہ فروش سے کہتا ہے کہ بھائی ان کو انگور دے دو، جب وہ انگور دیتا ہے تو چاروں خوشی خوشی اسے لے کر چلے جاتے ہیں۔ ان چاروں کا ہدف ایک ہی ہوتا ہے یعنی انگور لیکن چاروں اپنی اپنی زبان میں بول رہے ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے زبان سے ناواقف ہونے کی وجہ سے وہ لوگ لڑ رہے تھے۔

میری نظر میں مسلمانوں کی اختلافات کا ایک سبب ہمارے پاس دین اسلام کے بارے میں تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے ہیے کیونکہ دین اسلام ایک ایسا کامل دین ہے جس میں انسانوں کے لئے مکمل ہدایت و رہنمائی موجود ہے۔ انسان کی ذاتی زندگی، عائلی زندگی، معاشرتی زندگی، معاشی زندگی، انسانی حقوق، خواتین کے حقوق، حقوق والدین، حقوق زوجین، حقوق ہمسائیگی، طریقہ جہاد، دشمنوں کے ساتھ سلوک، مجرموں کے ساتھ سلوک، حقوق بشر کوئی ایسی چیز نہیں جس کا ذکر اسلام نے نہ کیا ہو، لیکن ان سب کے باوجود یہ تمام برائیاں ہمارے معاشرے میں موجود ہیں کیونکہ ہم نے اسلام کو صرف زبان کی حد تک محدود رکھا ہوا ہے کبھی اسلام کے اصولوں کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش نہیں کی۔ اسلام کے اصولوں کو سمجھنے کے لئے ہمیں قرآن، روایات، احادیث و تفاسیر کے مطالعہ کی ضرورت ہے۔
ہمیں اپنی اصلاح کے لئے کس کو اپنا نمونہ عمل بنانا چاہیئے؟ اسی بارے میں سورہ احزاب آیہ نمبر ۲۱ میں خداوند ارشار فرماتا ہے "مسلمانو، تم میں سے اس کے لئے رسول کی زندگی میں بہترین نمونہ عمل ہے جو شخص بھی اللہ اور آخرت سے امیدیں وابستہ کئے ہوئے ہے اور اللہ کو بہت زیادہ یاد کرتا ہے۔" جس دن ہم نے اپنا آئیڈیل رسول اکرم (ص) کو بنایا، سمجھ لو اس دن ہم کامیاب ہو جائیں گے، پھر دنیا کی کوئی طاقت ہمیں راہ راست سے نہیں ہٹا سکتی، نہ ہی ہمارے درمیان فتنہ و فساد پیدا کر سکتی ہے۔ ہمارا جس فرقے سے بھی تعلق ہو ہم سب کا اصل اثاثہ پانچ چیزوں پر مشتمل ہے۔ اول توحید، دوسرا عدل، تیسرا نبوت، چوتھا امامت، پانچواں قیامت ہے، جس پر تمام مسلمانوں کا عقیدہ اور ایمان ہے۔ بس ہمارے درمیان کچھ اختلافات ہیں جس کو دور کرنے کے لئے ہم سب کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ جس طرح اوپر مثال میں چار دوستوں کا ذکر کیا جن کے ہدف ایک تھے لیکن وہ لوگ ایک دوسرے کی باتوں کو سمجھ نہیں پا رہے تھے لیکن ایک عالم و دانا شخص نے ان کے اختلاف کو ختم کیا۔ اسی طرح ہم سب بھی اگر اپنے فرائض کو صحیح انجام دیں تو دین اسلام کی نشوونما اور حقیقی اسلام کو دنیا تک پہنچانے میں کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئے گی اور ہمارے اختلاف بھی ختم ہونگے۔ ساتھ ہی عالم اسلام کے دشمنوں کے ناپاک عزائم بھی خاک میں مل جائیںگے۔ لہٰذا تمام مسلمانوں کو چاہیئے کی اس ہفتہ کو ہفتہ وحدت کے طور پر منائیں اور اس پلیٹ فارم سے  اپنے مشترکات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک دوسرے کے نظریات کا احترام کریں اور اتحاد امت کے لئے اپنی کوششوں کو بر روی کار لائیں، اور اسلام کے حقیقی چہرہ کو دنیا کے سامنے پیش کریں تاکہ اسلام کے خلاف مغربی اور ان کے آلہ کاروں کے پروپیگینڈوں کا منہ توڑ جواب دیا جاسکے۔

اس سے مربوط موضوعات

بین الاقوامی

جنگ نہیں ہو گی، امریکہ کے ساتھ مذاکرات بھی نہیں ہونگے: آیت اللہ سید علی خامنہ ای

جنگ نہیں ہو گی، امریکہ کے ساتھ مذاکرات بھی نہیں ہونگے: آیت اللہ سید علی خامنہ ای

بولیویا نے اسرائیل کودہشت گرد ریاست قرار دے دیا

بولیویا نے اسرائیل کودہشت گرد ریاست قرار دے دیا

امام خمینی

امام خمینی رح ایک مرد عارف

حضرت امام خمینی رح کے بارے میں عام طور پر جو بات ہمارے ہاں زیادہ مشہور ہے وہ یہ کہ آپ نے ایک ملوکیت اور بادشاہت کا خاتمہ کرکے ایک اسلامی اور مذہبی حکومت قائم کی۔ لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ استعماری طاقتوں کے خلاف تھے اور استعماری طاقتوں نے آپ کی حکومت کے خاتمے کے لیے اپنے پورے وسائل بروئے کار لائے لیکن وہ اس میں ناکام ہو گئیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ امام خمینی رح بہت شجاع اور بہادر تھے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ آپ نے ناجائز طور پر قائم صہیونی حکومت کے خاتمے اور فلسطینیوں کے حقوق کے حصول کے لیے بھی آواز بلند کی۔ آپ مستضعفوں اور محروموں کے حقوق کے بھی علمبردار تھے۔ آپ نے اتحاد امت کے لیے ایک زور دار آواز بلند کی۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ ایک عالم اور فقیہ تھے اور آپ کی تقلید کی جاتی تھی۔ بعدازاں آپ کا دیوان بھی چھپا اور پاکستان میں بھی بہت سے لوگوں کو معلوم ہوا کہ آپ صاحب دیوان شاعر بھی تھے، لیکن ابھی تک جو پہلو کم شناختہ یا ناشناختہ ہے وہ یہ ہے کہ آپ ایک بلند پایہ عارف تھے اور شاید یہ کہنا زیادہ بہتر ہو کہ آپ کے وجود سے پھوٹنے والی تمام تر خوبیوں کا سرچشمہ یہی امر ہے کہ آپ ایک عارف باللہ اور عاشق الٰہی تھے اور اس سلسلے میں نظری اور عملی طور پر نہایت عمق اور گہرائی کے مقام پر فائز تھے۔

امام خمینی رہ کی زندگانی پر ایک طائرانہ نظر

بیس جمادی الثانی 1320 ہجری قمری مطابق 24ستمبر 1902 عیسوی کو ایران کے صوبہ مرکزی کے شہرخمین میں بنت رسول حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی طیب وطاہر نسل کے خاندان میں آپ ہی کے یوم ولادت با سعادت پر روح اللہ الموسوی الخمینی کی پیدائش ہوئي۔ وہ اپنے آباؤ اجداد کے اخلاق حسنہ کے وارث تھے جنہوں نے نسل درنسل لوگوں کی ہدایت ورہنمائی اورمعارف الہی کے حصول کے لئے خود کو وقف کررکھا تھا۔ یہ وہ گھرانہ تھا جو اعلی علمی مفاہیم سے مکمل طور پر آشنا تھا ۔امام خمینی کے پدربزرگوار آیت اللہ سید مصطفی مرحوم جو آیت اللہ العظمی میرزای شیرازی کے ہم عصر تھے نجف اشرف میں اسلامی علوم کے اعلی مدارج طے کرنے کے بعد درجہ اجتہاد پر فائزہوئے اور پھر ایران واپس آگئے اور شہر خمین میں تبلیغ و ہدایت کے فرائض انجام دینے لگے۔ حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ کی ولادت کو ابھی پانچ ماہ سے زیادہ کا عرصہ نہیں گذرا تھا کہ حکومت وقت کے ایجنٹوں نے ان کے والد بزرگوار کی ندائے حق کا جواب بندوق کی گولیوں سے دیا اور انھیں شہید کردیا ۔

امام خامنہ ای

اگر ایران داعش کا مقابلہ نہ کرتا تو خطے کی حالت ناگفتہ بہ ہوتی، آیت اللہ سید علی خامنہ ای

اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر نے کہا کہ اگر ایرانی فوج اور انقلابی گارڈز داعش کے خلاف نہ لڑتے تو معلوم نہیں آج ہمسایہ ممالک سمیت پورے خطے کی کیا صورتحال ہوتی اور ان پر کون راج کر رہا ہوتا۔

عراقی حکومت، امریکی فوجیوں کے انخلا پر توجہ مبذول کرے: امام خامنہ ای

عراقی حکومت، امریکی فوجیوں کے انخلا پر توجہ مبذول کرے: امام خامنہ ای عراقی وزیراعظم نے اپنے وفد کے ساتھ امام خامنہ ای سے ملاقات کی، ملاقات کے دوراں امام خامنہ ای نے کہا کہ عراقی حکومت، امریکی فوجیوں کے انخلا پر توجہ مبذول کرے۔

کلام و عقائد

بدا قرآن و حدیث کی روشنی میں

ذات الٰہی کے بارے میں بدا، حقیقت میں ابدا و اظہار ہے۔ یعنی جو کچھ خدا کے علم میں ہے اور انسان کے علم میں نہیں، اسےخداوند متعال اظہار و آشکار کرتا ہے۔ اسے بدا، کہنے کا سبب یہ ہے کہ یہ مقام فعل الٰہی میں نمایاں ہوتا ہے، اگرچہ ذات الٰہی میں جہل اور تغییر محال ہیں۔ خداوند متعال انبیاء کرام پر غیبی طریقے سے نظر رکھتا ہے تاکہ یہ لوگ وحی کے پہنچانے میں خطا سے محفوظ رہیں۔ قرآن کریم اس بارے میں ارشاد فرماتا ہے، "لِّيَعْلَمَ أَن قَدْ أَبْلَغُواْ رِسَالَاتِ رَبهِّم" تاکہ وہ دیکھ لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات کو پہنچا دیا ہے۔ واضح ہے کہ خداوند متعال پہلے سے ہی آگاہ ہے کہ انبیاء، وحی الٰہی کو صحیح طریقے سے لوگوں تک پہنچائیں گے۔

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی علم کلام کےاہم مباحث میں سے ایک حسن و قبح عقلی کا بحث ہے ۔اس سے مراد یہ ہے کہ کچھ افعال ذاتی طور پر حسن {اچھے} اور کچھ افعال ذاتی طور پر قبیح{ برے} ہیں ۔ معتزلہ اور امامیہ حسن و قبح عقلی کے قائل ہیں جبکہ اشاعرہ اس کی نفی کرتے ہیں۔ بہت سے کلامی مسائل اس بحث پر موقوف ہیں مثلا انسان کا اپنے اعمال میں خود مختار ہونا،خدا وند متعال کی بعض صفات کمالیہ کا ثبوت جیسے خدا کا عادل ہونا،اسی طرح بعض صفات سلبیہ بھی اسی بحث پر موقوف ہے جیسے خدا سے قبیح کا سرزد نہ ہونا،خداکا ظلم نہ کرنا وغیرہ ۔ جو لوگ حسن اور قبح کے قائل ہیں وہ انسانی افعال میں انسان کو مختار،خدا کو عادل مانتے ہیں جبکہ حسن و قبح کے مخالفین انسان کو مجبور اور خداکی عدالت سے انکار کرتے ہیں ۔

تربیت اولاد

خاندانی منصوبہ بندی : ایک معاشرتی ضرورت یا دھوکہ!

خاندانی منصوبہ بندی کوآج کے دور میں مختلف مملک کی حکومتیں اپنی کامیاب ترین پالیسیوں میں شمار کرتی ہیں۔ آبادی کا کنٹرول اور چھوٹا خاندان خوشحالی کا ذریعہ سمجھاجاتا ہے۔ خصوصاً محدود وسائل رکھنے والے ممالک میں اس پالیسی کو زیادہ اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے

تعليم و تربيت کے بارے ميں اسلامي علما کي آرا و نظريات

تاريخ اسلام ميں تقريبا تمام علماء و دانشور مختلف علوم ميں مھارت رکھنے کے ساتھ ساتھ تعليم و تربيت ميں بھي صاحب نظر اور مھارت کے حامل ہوا کرتے تھے اس سے اسلام ميں تعليم وتربيت کي اھميت کا پتہ چلتا ہے لھذا ہم يہاں پر علما اسلام کي نظر ميں تعليم و تربيت کي اھميت اجاگر کرنے کے لئے ان کے بعض نظريات پيش کر رہے ہيں۔

تندرستی

غیر صحت مند خوراک کا استعمال سیگریٹ نوشی سے بھی زیادہ خطرناک

غیر صحت مند خوراک کا استعمال سیگریٹ نوشی سے بھی زیادہ خطرناک خراب غذا نہ صرف ہماری صحت کے لئے خرابی کا باعث ہے بلکہ دنیا بھر میں شرح اموات کی بڑھتی ہوئی تعداد میں اضافے کا سبب بھی ہے۔

روزانہ ایک گلاس نارنجی کا جوس فالج کے خطرے کو کم کرتا ہے

روزانہ ایک گلاس نارنجی کا جوس فالج کے خطرے کو کم کرتا ہے ایکسپریس نیوز نارنجی کے رس کے فوائد پہلے بھی بتاتا رہا ہے اور اب ایک بہت بڑے سروے سے معلوم ہوا ہے کہ باقاعدگی سے ایک گلاس نارنجی کا رس پینے والوں میں فالج کا خطرہ 25 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔ یہ مطالعہ ہزاروں افراد پر کیا گیا جو دس سال سے زائد عرصے تک جاری رہا۔ لیکن مغربی ممالک میں شکر سے دور بھاگنے کے رحجان سے نارنجی کے رس کو وہ اہمیت نہیں دی جارہی ۔

مہدویت{امام زمان عج}

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی امامت کے اہداف میں سے ایک ہدف امام معصوم کا لوگوں کی باطنی ہدایت ہے۔ امام لائق اور پاکیزہ دل رکھنے والے افراد کو اپنی طرف جذب کر کے انہیں کمال تک پہنچاتے ہیں۔ واضح ہے کہ انسان کا اس طرح ہدایت سے ہمکنار ہونے کے لئے ضروری نہیں کہ وہ امام کے ساتھ ظاہری رابطہ برقرار کرے۔ گذشتہ بیانات کی روشنی میں امام زمانہ (عج) کو بادل کے پیچھے پنہان روشن آفتاب سے تشبیہ دینے کا مقصد بھی واضح ہو جاتا ہے۔ اگرچہ بادل کے پیچھے پنہان سورج سے انسان مکمل طور بہرہ مند نہیں ہوتا ہے لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ اس سے انسان کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا ہے۔ بہرحال امام زمانہ (عج) کے وجود کے آثار و برکات سے بہرہ مند نہ ہونے کا سبب انسانوں کی طرف سے خاص حالات کا فراہم نہ کرنا ہے، جس کی وجہ سے لوگ اس عظیم نعمت کے فوائد سے محروم ہیں اور اس محرومیت کا سبب وہ خود ہیں نہ کہ خداوند متعال اور امام، کیونکہ خداوند متعال اور امام کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی مشکل درپیش نہیں ہے۔

احادیث

حدیث ثقلین پر ایک اجمالی نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

حدیث ثقلین ان متواتراحادیث میں سےایک ہے جسے اہل تشیع و اہل تسنن دونوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیا ہے ۔اس معروف حدیث کا متن یہ ہے :{یاایها الناس انی تارک فیکم الثقلین ،کتاب الله و عترتی ، اهل بیتی ماان تمسکتم بهما لن تضلوا بعدی ابدا و انهما لن یفترقا حتی یرداعلی الحوض ،فانظروا کیف تخلفونی فیهما }۱پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :اے لوگو:میں تمہارے درمیان دوگرانقدر چیزیں چھوڑے جاتا ہوں ۔اگر تم ان کےساتھ تمسک کئے رہو گے توکبھی گمراہ نہ ہوگے ۔ان میں سے ایک کتابخداہے اور دوسری میریعترت۔ یہ دونوں کبھی جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ دونوں میرے پاس حوض کوثر پر پہنچ جائیں ۔تم خود سوچو کہ تمہیں ان دونوں کے ساتھ کیا رویہ رکھنا چاہیے ۔

امام علی علیہ السلام کی شانِ میں چہل حدیث

مولا علیؑ کی شان میں چالیس احادیث اور یہ ﻭﻩ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ہیں ﺟﻮ ﺻﺤﺎﺡ ﺳﺘﻪ ﻣﯿﮟ بھی موجود ہے. 1= ﻋﻨﻮﺍﻥ ﺻﺤﻴﻔﺔ ﺍﻟﻤﺆﻣﻦ ﺣﺐّ ﻋﻠﻰؑ ﺑﻦ ﺍﺑﻰ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ. ﺻﺤﯿﻔﮧ ﻣﻮﻣﻦ ﮐﺎ ﻋﻨﻮﺍﻥ ﻣﺤﺒﺖِ ﻋﻠﯽؑ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻃﺎﻟﺐؑ ﮨﮯ.

چہاردہ معصومین ع

امام زین العابدین علیہ السلام

ابو حمزہ ثمالی سے مروی ہے کہ علی بن الحسین(ع) راتوں کو کھانے پینے کی چیزوں کو اپنے کندھے پر رکھ کر اندھیرے میں خفیہ طور پر غربا اور مساکین کو پہنچا دیتے تھے اور فرمایا کرتے تھے: "جو صدقہ اندھیرے میں دیا جائے وہ غضب پروردگار کی آگ کو بجھا دیتا ہے"۔[57] محمد بن اسحاق کہتا ہے: کچھ لوگ مدینہ کے نواح میں زندگی بسر کرتے تھے اور انہیں معلوم نہ تھا کہ ان کے اخراجات کہاں سے پورے کئے جاتے ہیں، علی ابن الحسین(ع) کی وفات کے ساتھ ہی انہيں راتوں کو ملنے والی غذائی امداد کا سلسلہ منقطع ہوا۔ [58]

امام حسین علیہ السلام کا معاویہ کے نام خط

۱۔تم حجر بن عدی اور ان کے ساتھیوں کے قاتل ہو جو سب کے سب عابد وزاہد تھےاور بدعتوں کے مخالف اور امر بالمعروف و نہی عن المنکرکیاکرتے تھے ۔ ۲۔ تم نے عمرو بن حمق کو قتل کیا جو جلیل القدر صحابی تھے جن کابدن کثرت عبادت کی وجہ سے نحیف و کمزور ہو چکا تھا۔ ۳۔تم نے زیاد بن ابیہ کو { جو ناجائز طریقے سے متولد ہوا تھا }اپنا بھائی بنا لیا اوراسےمسلمانوں پرمسلط کردیا ۔

سب سے زیادہ زیر بحث

امام علی علیہ السلام کی شانِ میں چہل حدیث

مولا علیؑ کی شان میں چالیس احادیث اور یہ ﻭﻩ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ہیں ﺟﻮ ﺻﺤﺎﺡ ﺳﺘﻪ ﻣﯿﮟ بھی موجود ہے. 1= ﻋﻨﻮﺍﻥ ﺻﺤﻴﻔﺔ ﺍﻟﻤﺆﻣﻦ ﺣﺐّ ﻋﻠﻰؑ ﺑﻦ ﺍﺑﻰ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ. ﺻﺤﯿﻔﮧ ﻣﻮﻣﻦ ﮐﺎ ﻋﻨﻮﺍﻥ ﻣﺤﺒﺖِ ﻋﻠﯽؑ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻃﺎﻟﺐؑ ﮨﮯ.

دعا کی اہمیت

دعا کی اہمیت حضرت انسان کس قدر شرف و عظمت کا مالک ہے،اس کے لئے کائنات بنی،پوری کائنات میں اسی کو عزت و تکریم کا حق دار ٹھہرایا گیا۔تمام مخلوق اس کی خدمت اور منفعت کے لئے پیدا کی گئی۔لیکن اتنی عظمتوں کے باوجود اس کی خلقت کا مقصد اللہ کی معرفت اور عبادت قرار دیا گیا۔لہذا انسان کا اہم کام خدا سے ارتباط و ربط ہے۔مگر کیسا رابطہ؟ اتنی عظمتوں کے باوجود بارگاہ خداوندی میں فقر محض اور احتیاج محض ہے جبکہ ذات پروردگار غناء ہی غناء ہے۔بلندی ہی بلندی ہے۔انسان مشکلات،مصائب اور تکالیف میں ایسی ذات کی طرف رجوع کر کے اپنے فقر اور احتیاج محض ہونے کا اقرار و اعتراف کرتے ہوئے اپنی نفی اور بے ثباتی کا اظہار کرتا نظر آتا ہے۔اس سلسلے میں انسان کا ایک اہم وسیلہ دعا ہے۔دعا کے ذریعے اپنی احتیاج کا اظہار بھی کرتا ہے اوراللہ سے اعانت کی التجا بھی کرتا ہے۔

قرآنِ کریم اور اصلاحِ معاشرہ تحریر: عارف حسین تھہیم

لفظِ ’’اصلاح‘‘ درست کرنے، صحیح کرنے اور خرابی کو دُور کے معنی میں آتا ہے۔ معاشرتی اور اجتماعی مفہوم کے اعتبار سے شائستہ اور نیک عمل انجام دینے، نیز فساد و تباہی کو ختم کرنے کے لیے بھی اصلاح کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ ارشادِ پروردگار ہے: ﴿ إِلاَّ الَّذِينَ تَابُواْ وَأَصْلَحُواْ وَبَيَّنُواْ فَأُوْلَئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ﴾[1]؛ ’’سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے توبہ کی اور اپنے کئے کی اصلاح کر لی اور (جس کو چھپایا ہوا تھا) واضح کر دیا تو ایسے ہی لوگوں کی توبہ میں قبول کرتا ہوں اور بےشک میں بڑا توبہ قبول کرنے والا اور بہت مہربان ہوں۔‘‘ حقیقی توبہ میں گذشتہ بُرائی اور فساد کا دُور کرنا اور آئندہ بُرائی و فساد سے بچے رہنے کا تہیہ کرنا ضروری ہے۔ شائستہ اور صالح معاشرے کی تشکیل کا ہدف اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی دُنیوی و اُخروی اور مادی و معنوی ضرورتوں کو پورا کیا جائے؛ لہٰذا صالح معاشرے کی خصوصیات یہ ہیں کہ اس میں ہر ایک کی جان، مال، عزّت و آبرو اور ناموس محفوظ ہوتی ہے، لوگوں کی درمیان مہر و محبت اور اپنائیت کا راج ہوتا ہے اور سب لوگ روحانی و معنوی لحاظ سے پُرسکون اور مطمئن ہوتے ہیں۔

تلاوت قرآن کی فضیلت

'پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا، جو شخص رات کو دس آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام غافلین (جو یاد خدا سے بے بہرہ رہتے ہیں) میں نہیں لکھا جائے گا اور جو شخص پچاس آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام ذاکرین (جو خدا کو یاد کرتے ہیں، حرام و حلال کا خیال رکھتے ہیں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص سو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام قانتین (عبادت گزاروں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص دوسو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام خاشعین (جو خدا کے سامنے متواضع ہوں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص تین سو آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام سعادت مندوں میں لکھا جائے گا، جو شخص پانچ ہزار آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام عبادت اور پرستش خدا کی کوشش کرنے والوں میں لکھا جائے گا اور جو شخص ہزار آیتوں کی تلاوت کرے وہ ایسا ہے جیسے اس نے کثیر مقدار میں سونا راہ خدا میں دے دیا ہو۔،،

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ بسم اللہ الرحمن الرحیم بنام خدائے رحمن و رحیم اٴَللّٰھُمَّ اِنّيِ اٴَسْاٴَ لُکَ بِرَحْمَتِکَ الَّتي وَ سِعَتْ کُلَّ شَيْءٍ،وَ بِقُوَّتِکَ الَّتي قَھَرْتَ خدایا میراسوال اس رحمت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر محیط ھے۔ اس قوت کے واسطہ سے ھے جو ھر چیز پر حاوی ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ،وَخَضَعَ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ،وَذَلَّ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ، وَبِجَبَرُوتِکَ الَّتي غَلَبْتَ اور اس کے لئے ھر شے خاضع اور متواضع ھے۔ اس جبروت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر غالب ھے اور اس عزت کے واسطہ سے ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ، وَ بِعِزَّتِکَ الَّتي لاٰ یَقُومُ لَھٰا شَيْءٌ، وَبِعَظَمَتِکَ الَّتي مَلَاٴَتْ کُلَّ جس کے مقابلہ میں کسی میں تاب مقاومت نھیں ھے۔اس عظمت کے واسطہ سے ھے جس نے ھر چیز کو پر کردیا ھے شَيْءٍ، وَ بِسُلْطٰانِکَ الَّذي عَلاٰ کُلَّ شَيْءٍ، وَبِوَجْھِکَ الْبٰاقي بَعْدَ فَنٰاءِ کُلِّ شَيْءٍ،

تربیت اولاد کے انمول اصول تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

لغت کی کتابوں میں لفظ" تربیت" کے لیے تین اصل اور ریشہ ذکر ہوئے ہیں۔ الف:ربا،یربو زیادہ اور نشوونما پانےکے معنی میں ہے۔ ب: ربی، یربی پروان چڑھنا اور برتری کے معنی میں ہے۔ج: رب،یرب اصلاح کرنے اور سرپرستی کرنے کے معنی میں ہے۔۱صاحب مفردات کا کہنا ہے کہ "رب" مصدری معنی ٰ کے لحاظ سے کسی چیز کو حد کمال تک پہچانے ، پرورش اور پروان چڑھانے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ۲ صاحب التحقيق کا کہنا ہے اس کا اصل معنی ٰ کسی چیز کو کمال کی طرف لے جانے ، نقائص کو تخلیہ اور تحلیہ کے ذریعےرفع کرنے کے معنی ٰ میں ہے۔۳ بنابر این اگر اس کا ريشه(اصل) "ربو" سے ہو تو اضافہ کرنا، رشد ، نمو اور موجبات رشد کو فراہم کرنے کے معنی ٰ میں ہےلیکن ا گر "ربب" سے ہو تو نظارت ، سرپرستي و رهبري اور کسی چیز کو کمال تک پہنچانے کے لئے پرورش کے معنی ٰ میں ہے۔

اقوال حضرت امام علی علیہ السلام

قال علی علیہ السلام :وا علم ان الخلائقییی لم یوکدوا بشئی اعظم من التقویٰ فانہ وصیتنا اھل البیت (۱) ترجمہ: حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں : لوگوں کو تقویٰ سے زیادہ کسی چیز کی تاکید نھیںکی گئی اس لئے کہ یہ ھم اھل بیت کی وصیت ھے ۔ حدیث (۲)

اخلاق حسنہ کے بارے میں معصومین (ع) کے ارشادات

رسول خدا (ص) اور ا ئمہ معصومین علیہم اسلام اخلاق حسنہ کى اعلى ترین مثالیں ہیں اور یہ بے مثال "حُسن خلق" ان کے کردار اور گفتار سے عیاں تھا، ان ہى عظیم شخصیتوں کے ارشادات کى روشنى میں ہم "حُسن خلق" کے اعلى درجہ پر فائز ہو سکتے ہیں۔

مشاہدات

آج

567

کل

936

اس ماہ

34781

اس سال

62433

ٹوٹل مشاہدات

231661