علماء کونسل کچورا سکردو بلتستان

متن

رسول اکرم ۖ نہج البلاغہ کی روشنی میں

رسول اللہ ۖ اسوہ حسنہ :

معاشرے کو قابل عمل نمونے (آئیڈیل )کی ضرورت ہو تی ہے جس کی پہچان لازمی ہے ۔قرآن مجید اسلامی معاشرے کے لیے رسول اللہ ۖکو اعلیٰ ترین نمونہ (اسوہ) قراردیتا ہے ۔ارشاد ہو تا ہے ۔

لَکُمْ فِیْ رَسُولِ اللّٰہِ اُسْوَة حَسَنَة ١

تمہارے لیے بہترین نمونہ رسول اللہ ۖکی زندگی ہے ۔

لہذا انتہائی ضروری ہے کہ معاشرے کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے پیغمبر اکرم ۖکی ذات کے مختلف پہلوئوں کا دقت نظر سے مطالعہ کیاجائے اور اُسے معاشرے کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ معاشرہ ان سے الہام لیتے ہو ئے ترقی اور سعادت کی راہوں پر گامزن ہو سکے۔

امیر المومنین علی ـنے اسی بات پر زور دیا ہے ،وہ فرماتے ہیں :

وَلقد کان فِی رَسُولِ اللّٰہِ ( صلّی اللہ علیہ وآلہ) کافٍ لَکَ فِی الْاسْوَةِ وَدَلِیل لَکَ عَلٰی ذَمِّ الدُّنیا وعَےْبِھَا وکَثْرَةِ مَخَازِےْھَا ، ومَسَاوِےْھَا،اِذ قُبِضَتْ عَنْہُ اَطْرَ فُھَا وَوُطِّئَتْ لِغَےْرِہ اَکْنَا فُھَا وَفُطِمَ عَنْ رَضَا عِھَا وَزُوِیَ عَنْ زخارِ فِھَا ٢

یقینا رسول اکرم ۖ کی زندگی تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے آپ کی ذات دنیا کے عیوب اور اس کی ذلت و رسوائیوں کی کثرت کو دکھانے کے لیے راہنما ہے اس لیے کہ آپ سے دنیا کے دامنوں کو سمیٹ لیا گیا اوردوسروں کے لیے اس کی وُسعتیں ہموار کر دی گئیں آپ کو اس کے منافع سے الگ رکھا گیا اور اس کی آرائشوں سے کنارہ کش کر دیا گیا ۔

اسی خطبے میں آپ کے اُسوہ ہونے اور اس کی پیروی کرنے کی ضرورت پر تاکید کرتے ہو ئے فرماتے ہیں :

فَتَأَسَّ بنَبِےِّکَ الْاَ طےَبِ الاَ طْھَرِ صلی اللہ علیہ وآلہ فَاِنَّ فِیہ اُسْوَةً لِمَنْ تَأَسَّی ، وعَزَآ ئً لِمَنْ تَعَزَّیٰ وَاَحَبُّ العِبَادِ اِلَی اللّٰہِ الْمُتَأَ سِّیْ بِنَبِےِّہ، وَالْمُقْتَصُّ لِاَ ثَرِہِ،قَضَمَ الدُّنیا قَضْماً وَلَمْ ےُعْرِھَا طَرْفاً اَھْضَمَ اَھْلَ الدُّینَا کَشْحاً وَاَخْمَصَھُمْ مِنَ الدُّنیا بَطْناً عُرِضَتْ عَلَےْہِ الدُّینا فَاَبیَ اَنْ ےَقْبَلَھَا ، وَعَلِمَ اَنَّ اللّٰہَ سُبْحَانَہُ اَبْغَضَ شَےْئاًفَاَبْغَضَہُ وحَقَّرَ شئیاً فَحَقَّرَہُ ،وصَغَّرَ شَیاً فَصَغَّرہُ ۔وَلَو لَمْ ےَکُنْ فِےْنَا اِلَّا حُبُّنَا ما اَبْغَضَ اللّٰہُ وَرَسُولُہ ،وتعظیماً ما صَغَّرَاللّٰہُ ورَسُولُہ لَکَفٰی بِہ شِقَاقًا لِلّٰہِ وَمُحَادَّةً عَنْ اَمْ ِاللّٰہِ ٣

تم لو گ اپنے طیب و طاہر پیغمبر کی پیروی کرو چونکہ ان کی ذات اتباع کرنے والوں کے لیے بہترین نمونہ اور صبر و سکون کے طلب گاروں کے لیے بہترین سامان صبر و سکون ہے ،اللہ کی نظرمیں محبوب ترین بندہ وہ ہے جو اس کے رَسُول کی پیروی کرے اور ا ن کے نقش قدم پر قدم آگے بڑھائے ۔انہوں نے دنیا سے صرف مختصر غذا حاصل کی اور اسے نظر بھرکر دیکھا بھی نہیں ساری دنیا میں سب سے زیادہ خالی شکم پیٹ رہنے والے اور شکم تہی میں بسرکرنے والے تھے۔ان کے سامنے دنیا کی پیشکش کی گئی تو انہوں نے اُسے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور جب جان لیا کہ اللہ نے ایک چیز کو پسند نہیں کیا تو آپ نے بھی اُسے ناپسند کیا ہے اور اللہ نے ایک چیز کو حقیر سمجھا ہے تو آپ نے بھی اُسے حقیر ہی سمجھا ہے اور اللہ نے ایک چیز کو پست قرار دیا ہے تو آپ نے بھی اُسے پست قرارد یا ہے اور اگر ہم میں اس کے علاوہ کو ئی عیب نہ ہوتا کہ ہم خدا اور رسول ۖ کے مبغوض کو محبوب سمجھنے لگے ہیں اور خدا اور رسول ۖ کی نگاہ میں چھوٹے اور حقیر کو عظیم اور بڑا سمجھنے لگیں تو اللہ کی نافرمانی اور اس کے حکم سے سر تابی کے لیے یہی عیب کافی ہے۔

رسول اللہ ۖ کی نبوت وعدہ الٰہی:

اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ۖکی نبوت کا وعدہ دیا تھا اور گزشتہ انبیا ء کی زبانی آپۖ کی خبر دی تھی پس اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کیا اور اُسے تکمیل کیا جس کی خبر پہلے دی تھی ۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیا ء سے یہ عہد لیا تھا کہ وہ حضرت محمد ۖ پر ایمان لا ئیں اور لوگوں کو آپ ۖ کے بارے میں بشارت دیں اور جب آپ کوپائیں تو پیروی کریں قرآن مجید کی سورہ آل عمران میںجو انبیا ء کے میثاق کی بات کی ہے وہ اسی طرف اشارہ ہے ۔

ارشاد ہو تا ہے :

وَاِذْ اَخَذَ اللّٰہُ مِےْثَاقَ النَّبیےّنَ لَمَآ اَتَےْتُکُمْ مِّنْ کِتٰبٍ وَّحِکْمَةٍ ثُمَّ جَائَ کُمْ رَسُوْل مُّصَدِّق لِّمَا مَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِہ وَلَتَنْصُرُنَّہٰ قَالَ ئَ اَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْ تُمْ عَلٰی ذٰلِکُمْ اِصْرِیْط قَالُوْا اَقْرَرْنَاط قَالَ فَاشْھَدُ وْا وَاَنَا مَعَکُمْ مِّنَ الشّٰھِدِےْنَ ٤

اور اللہ نے نبیوں سے عہد لیا کہ جب میںتمہیں کتاب اور حکمت عطا کردوں پھر آئندہ رسول تمہارے پاس آئے اور جو کچھ تمہارے پاس ہے اس کی تصدیق کر ے تو تمہیں اس پر ضرور ایمان لا نا ہو گا اور ضرور اس کی مدد کرنا ہو گی۔پھر اللہ نے پوچھا کیا تم اس کا اقرار کر تے ہو اور میری طرف سے عہد کی ذمہ داری لیتے ہو انہوں نے کہا ہاں ! ہم نے اقرار کیا ۔اللہ نے فرمایا :پس تم گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں ۔

امیر المومنین نہج البلا غہ میں فرماتے ہیں :

اِلٰی اَنْ بَعَثَ اللّٰہُ سبحانہ محمّدًا رسولَ اللّٰہِ صلّیٰ اللہ علیہ وَآلہ وسلم لِاَ نجاز عِدَ تِہ واِتْمام نَبُّوتِہ مأ خوذاً عَلیَ النبِےّن میثاقُہ مَشْہُورةً سِماتُہْ کریمًا مِےْلادُہُ

یہاں تک کہ اللہ سبحانہ نے ایفائے عہد اور اتمام نبوت کے لیے محمد ۖکو مبعوث فرمایا جن کے متعلق نبیوں سے عہد وپیمان لیا جا چکا تھا ۔جن کی علامتیں مشہور اور ولادت مسعود ومبارک تھی ۔

اسی مطلب کو امیر المومنین علی ـنے ایک اور مقام پر واضح طور پربیان فرمایا ہے ۔

اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی سے پہلے آنے والے تمام انبیا ء سے یہ عہد لیا ہے کہ وہ ہمارے نبی کے مبعوث ہونے کی خبر اور ان کے فضائل اپنی اپنی امتوں کو بیان کریں اور انہیں ان کے آنے کی بشارت اور تصدیق کرنے کا حکم دیں۔ ٥

آنحضرت ۖ کی بعثت کے وقت عربوں کی سیاسی اور معاشرتی حالت :

امیر المومنین علی ـخطبہ نمبر١ میںفرماتے ہیں :

وَاَھلُ الْاَرْضِ ےَوْ مَئِذٍ مِلَل مُتَفَرِّقَة وَاَھْوَ آئ مُنْتَشِرَة وَطَرَآئِقُ مُتَشَتِّتَة بَےْنَ مُشَبِّہٍ لِلّٰہَ بِخَلْقِہ اَوْ مُلْحِدٍ فِی اسْمِہ اَوْ مُشِےْرٍ اِلٰی غَےْرِہ فَھَدَاھم بِہ مِنَ الضَّلالَةِ وَاَنْقَذَھَُمْ بِمَکانِہ مِنَ الجَھَالَةِ ٦

اس وقت اہل زمین متفرق مذاہب ،منتشر خواہشات اور الگ الگ راستوں پر گامزن تھے ۔اس طرح سے کہ کچھ اللہ کو مخلوق سے تشبیہ دیتے ،کچھ اس کے ناموں کوبگاڑدیتے کچھ اُسے چھوڑ کر اوروں کی طرف اشارہ کر تے تھے ۔پس خداوند عالم نے آپ ۖ کے ذریعہ سب کوگمراہی سے ہدا یت دی اور آپ کے وجود سے جہا لت سے با ہر نکالا۔

خطبہ نمبر ٢میں انہوں نے عربوں کے حالات تفصیل سے بیان کیے ہیں :

وَالنّاسُ فِی فِتَنٍ اَنْجَذَمَ فَےْھا حَبْلُ الدِّین وتَزَعْزَعَتْ سَوَارِیِ الےَقِےْن وَاخْتَلَفَ النَّجْرُوتَشَتَّتَ الاَ مْرُ وضَاقَ المَخْرَجُ وعَمِیَ المَصْدَرُ فالْھُدَی خَامِل وَالْعَمَیَ شامِل عُصِیَ الرَّحٰمنُ ونُصِرَ الشَّےْطاٰنُ وخُذِلَ الِا ےْمٰانُ فَانْھَارَتْ دَعَائِمُہُ،وتَنَکَّرَتْ مَعَالِمُہُ ودَرَسَتْ سُبُلُہُ وعَفَتْ شُرُکُہُ اَطَاعُوا الشَّےْطانَ فَسَلَکُوا مَسَالِکَہُ وَوَرَدُوا مَنَا ھِلَہُ ،بِھِمْ سَارَتْ اَعْلَامَہُ وَقَامَ یوَ اؤُہُ فَی فَتَنٍ دَاسَتْھُمْ بِاَخْفَا فِھَا ،وَوَطِئَتْھُمْ بِاَظْلَافِھَا ،وقَامَتْ عَلیَ سَنَا بِکِھَا فَھُمْ فِےْھَا تَائِھُونَ حائِرُوْنَ جَاھِلُونَ مَفْتُونُونَ فِی خَےْرِ دارٍ ،وشَرِّ جِےْرَانٍ ،نُومْھُمْ سُہُود وکُحْلُھُمْ دُمُوع باَرْضٍ عَالِمُھَا مُلْجَم وجَا ھِلُھٰا مُکْرَم ٧

یہ بعثت اس وقت ہو ئی جب لو گ ایسے فتنوں میں مبتلا تھے جن سے ریسمان دین ٹوٹ چکی تھی ،یقین کے ستون متزلزل ہو گئے،اصول میں شدید اختلاف تھا اور امو ر میں سخت انتشار، مشکلات سے نکلنے کے راستے تنگ و تاریک ہو گئے تھے ،ہدایت گمنام تھی اور گمراہی بر سر عام ،رحمن کی نا فرمانی ہو رہی تھی اور شیطان کی نصرت ،ایمان یکسر نظر انداز ہوگیا تھا ،اس کے ستون گرگئے تھے اور آثار ناقابل شناخت ہو گئے تھے ،راستے مٹ گئے تھے اور شاہرائیں بے نشان ہو گئی تھیں لو گ شیطان کی اطاعت میںاسی کے راستے پر چل رہے تھے اور اسی کے چشموں پر وارد ہورہے تھے انہیں کی وجہ سے شیطان کے پر چم لہرا رہے تھے اور اس کے عَلمَ سر بلند تھے ،یہ لو گ ایسے فتنوں میں مبتلا تھے جنہوں نے انہیں پیرون تلے روند دیا تھااور سُموں سے کچل دیا تھا اور خود اپنے پنجوں کے بل کھڑے ہو گئے تھے ۔یہ لوگ فتنوں میں حیران وسرگرداں اور جاہل و فریب خوردہ تھے ایک ایسے گھر (مکہ )میں یہ لوگ تھے جو خود اچھا مگراس کے بسنے والے بُرے تھے ، جہاں نیند کی بجائے بیداری اور سُرمے کی جگہ آنسو تھے ،اس سر زمین پر عالم کے منہ میں لگام تھی اور جاہل معززو سرفراز تھا ۔

حضرت علی ـ مزیدان کے حالات ایک اور مقام پر یوں فرماتے ہیں۔

بَعَثَہُ وَالنَّاسُ ضُلَّال فِی حَےْرَةٍ وخاطِبُونَ فِی فِتْنَةٍ ،قَدْ اسْتَھْوَتْھُمْ اْلاَھْوَائُ واسْتَزَلَّتھُمُ الْکِبْےِریائُ ، واسْتَخَفَّتْھُمُ الْجَاھِلِےَّةُ الجَھْلَائُ حَےَارَیٰ فِی زِلْزَالٍ مِنَ الآ مْرِ وَبَلاَ ئٍ مِنَ الجَھْلِ و مَبَالَغَ صلی اللہ علیہ وآلہ فِی النَّصِیحَةِ ومَضَی عَلیَ الطَّرِےْقَةِ، وَدَعَا اِلَی الحِکْمَةِ والمَوْعِظَةِ الحَسَنَةِ ٨

اللہ سبحانہ نے آپ ۖکواس وقت بھیجا جب لوگ گمراہی میںسرگرداں تھے فتنوں میں ہا تھ پائوں ماررہے تھے ، خواہشات نے انہیں بہکا دیا تھا اور غرور نے ان کے قدموں میںلغزش پیدا کر دی تھی،جاہلیت نے انہیں سبک سر بنا دیا تھا اور وہ غیر یقینی حالات اور جہالت کی بلائوں میںحیران وسرگرداں تھے ۔آپ ۖ نے نصحیت کا حق ادا کر دیا ،سیدھے راستے پر چلے اور لوگوں کوحکمت اور موعظہ حسنہ کی طرف دعوت دی۔

امیر المومنین علی ـنے اپنے دیگر خطبات میںبھی ان کے حالا ت کی تصویر کشی کی ہے ۔٩

آپ نے ایک اور مقام پر جاہلیت عرب کی وضاحت فرمائی ہے ۔

یقینا اللہ تبارک و تعالیٰ نے محمد ۖکو عالمین کے لیے عذاب الٰہی سے ڈرنے والا اور اپنی وحی کا امین 'بنا کر بھیجا ہے ۔اے گروہ عرب ! اُس وقت تم بدترین دین پر اور بد ترین گھروں میں تھے، کھردرے پتھروں اور زہر یلے سانپوں میںتم بودوباش رکھتے تھے تم گدلا پانی پیتے تھے اور غلیظ غذا استعمال کر تے تھے ایک دوسرے کاخو ن بہاتے تھے اورقرابتداروںسے قطع تعلقی کرتے تھے ،بت تمہارے درمیان گڑے ہوئے تھے اور گناہ تم سے چمٹے ہوئے تھے ۔' '١٠

یہ جملے جناب امیر ـ نے عربوں کی تحقیر کرنے کرلیے نہیں فرمائے تھے بلکہ آپ نے چاہا کہ عظیم نعمتیں انہیں یاد دلائیں بالخصوص عربوں کے لیے عظیم ترین افتخار رسول اکرم ۖ کا ان کے درمیان مبعوث ہونا ،انہیں یا د لائیں یہ وہ وقت تھاجب اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبیۖکو ان کے درمیان بھیجاجن کی وجہ سے جہالت اور گمراہی کا انداھیرا چھٹ گیا اور ہر طرف آپ کے نور سے اجالا چھا گیا اور عرب دنیا تہذیب و تمدن کا گہوارہ بن گئی۔

رسول اللہ ۖکی بعثت کے مقاصد :

امیر المومنین علی ـ نے اپنے مختلف بیانات میں آنحضرت ۖ کی بعثت کے مقاصد یوں بیان فرمائے ہیں ۔

١۔حق کی طرف دعوت دینا:

اَرْسَلَہُ دَاعِیاً اِلَی الحَقِّ وَشَاھِدًا عَلَی الخَلْقِ ١١

اللہ نے پیغمبر اکرم ۖ کو اسلام اور حق کی طرف دعوت دینے والا اور مخلوقات کے اعمال کا گواہ بنا کر بھیجا

٢۔لوگوں کو عذاب الہی سے متنبہ اور ڈرانے کے لیے :

اِنَّ اللّٰہ بَعَثَ مُحَمَّدًاصلّیٰ اللّٰہ علیہ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نَذِےْرً لِّلْعٰالَمِےْنَ وَامِینًا عَلَی التَّنْزِیلِ ١٢

بے شک اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ۖ کو تمام جہانوں کے لیے ڈرانے والا اور اپنی وحی کا امین بنا کر بھیجا

٣۔بت پرستی اور اطاعت شیطان کی ذلتوں سے نکالنا :

فَبَعَثَ اللّٰہُ محمّداً ،صَلّٰی اللّٰہُ عَلَےْہِ وَآلِہ بِالحقِّ لِےُخْرِج عِبَادَہُ الَاوْثَانِ اِلٰی عبادَة ،وَمَنْ طَاعَةِ الشَّےْطَانِ اِلیٰ طاعَتِہ ،بِقُرآنٍ قَدْ بَےَّنَہُ وَاَحْکَمَہُ لِےَعْلَمَ الِعبَادُ رَبَّھُمْ اِذجَھِلُوہ ، وَلِےُقِرُّوا بِہ اذجَحَدُوہُ ولِےُثْبِتُوہ بَعْدَ اِذْانَکَرُوہ١٣

پروردگار نے حضرت محمد ۖ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا تاکہ آپ لوگوں کو بت پرستی سے نکال کر عبادت الٰہی کی منزل کی طرف لے آئیں اور شیطان کی اطاعت سے نکال کر رحمن کی اطاعت کر ائیں اس قرآن کے ذریعہ جسے اُس نے واضح اور محکم قرار دیا ہے تا کہ بندے اپنے رب سے جا ہل و بے خبر رہنے کے بعد اُسے پہچان لیں ، ہٹ دھرمی اور انکار کے بعد اس کے وجود کا یقین اور اقرار کریں ۔۔

٤۔اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانا :

ثُمَّ اِنَّ اللّٰہ سبحانہ بَعَثَ مُحَمَّدًا صلّی اللہ علیہ وآلہ بالحَقِّ حین دَنَا من الدُّینا الْا نْقِطَاعُ ، وَاَقْبَلَ الآ خِرَةِ الِا طِلّاَعُ۔۔۔۔۔جَعَلَہُ اللّٰہُ بَلَاغاً لِرِسَالَتِہ ،وَکَرَامَةً لِاُمَّتِْہ ، وَ رَبِےْعاًلِاَھْلِ زَمانہ ورِفْعَةً لِاَ عْوَانِہ وَشَرَفاً لِاَ نْصَارِہِ ١٤

اس کے بعد اللہ سبحانہ نے حضرت محمد ۖ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا جب دنیا فنا کی منزل کے قریب تر ہو گئی اور آخرت سر پر منڈلا نے لگی ۔۔۔۔اللہ تعالیٰ نے انہیں پیغام رسانی کا وسیلہ ،امت کی کرامت ، اہل زمانہ کی بہار ،اعوان وانصار کی بلندی کا ذریعہ اور ان کا یارومددگار افراد کی شرکت کاواسطہ قرار دیا

دوران رسالت ،رسول اللہ ۖکی جانفشانی اور جدوجہد:

رسول خدا ۖنے اپنی بعثت کے اہداف کو کس طرح حاصل کیا اور الٰہی اہداف کو کیسے پایہ تکیمل تک پہنچایا ،اس بارے میں حضرت امیر المومنین ـ فرماتے ہیں :

عذاب الہی سے متنبہ اور ڈرانے کے لیے اَرْسَلَہُ داعِیاً اِلَی الحَقِّ وشَاہِدًا عَلَی الْخَلْقِ مَبَلَّغَ رِسَالا تِ رَبِّہ غَےْرَ وَانٍ ولا مُقَصِّرٍ وَجَاھَدَ فِی اللّٰہِ اَعْدَائَ ہُ غَےْرَ وَاَھِنٍ ولا مُعَذِّرٍ اِمَامُ مَنِ اِتَّقیٰ وَبَصَرُ ِمنِ اھْتَدیٰ١٥

اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ۖ کو حق کی طرف بلانے والا ،او ر مخلوقات کے اعمال کا گواہ بنا کر بھیجا تو آپ ۖ نے پیغام الٰہی کو مکمل طور پر پہنچا دیا نہ اس میں کوئی سُستی کی نہ کوتاہی ،اور اللہ کی راہ میں اس کے دشمنوں سے جہاد کیا اور اس میں نہ کو ئی کمزوری دکھائی اور نہ کسی حیلہ اور بہانہ کا سہارا لیا،آپۖ متقین کے امام اور طالبان ہدایت کے لیے آنکھوں کی بصارت تھے ۔

حضور ۖ کی جدوجہد کے متعلق فرماتے ہیں :

اَرْسَلَہُ بوُجُوب الحُحَج، وظُھُورِ الفَلَجِ،وَاِےْضَاحِ المَنْھَجِ،فَبَلَّغَ الرِّسالَةَ صَادِعاً بِھَا وحَمَلَ عَلَی المَحَجَّةِ دَالّا ًعَلَےْھَا وَاَقَامَ اَعْلَامَ الِا ھْتِدَائِ ومَنَارَ الِضّےَائِ ، وَجَعَلَ اَمْرَ اسَ الِاسْلامِ مَتِینَةً وَعُرَیٰ الاِ ےْمٰانِ وَثِیقَةً ١٦

اللہ تعالیٰ نے آپۖ کو نا قابل انکار دلیلوں ،واضح کامرانیوں اور راہ (شریعت)کی راہنما ئیوں کے ساتھ بھیجا آپ نے اس کے پیغام کو واشگاف انداز میں پیش کر دیا اورلوگوںکو سیدھے راستے کی راہنمائی کر دی ۔ہدا یت کے نشان قائم کر دیے اور روشنی کے منارے استوار کر دیے اسلام کی رسیوں کو مضبوط بنا دیا او ر ایمان کے بندھنوں کو مستحکم کر دیا ۔

آنحضرت ۖکا خاندان اور ان کا مقام و مرتبہ:

خطبہ ١٦١ میں بیان کرتے ہیں :

عذاب الہی سے متنبہ اور ڈرانے کے لیے اِبْتَعَثَہُ بالنُّور المُضِیئِ ،والبُرْھَانِ الجَلِیَّ وَالمِنْھاجِ البَادِی ،والکتاب الھَادِیْ، اُسْرَتُہُ خَےْرُ اَسْرَةٍٍ وَشَجَرَتَہُ خَےْرُ شَجَرَةٍ ،اغضا نُھَا مُعْتَدِ لَة ،وَثِمَارُ ھا مُتَھَدِّ لة ١٧

پروردگار نے آنحضرت ۖکو روشن نور (واضح دلیل )نمایاں راستہ اور ہدا یت کرنے والی کتاب کے ساتھ بھیجا ، آپ ۖکا خاندان بہترین خاندان اورآپ ۖکا شجرہ بہترین شجرہ ہے ، جس کی شاخیں معتدل ہیں اور ثمرات دسترس کے اندر ہیں ۔

خطبہ١٠٦ میں بیان فرمایا ہے :

اِخْتَارَہُ مِنْ شَجَرَ ةِ الْاَ نْبَےَائِ مِشْکَاةِ الِضّےَائِ وَذُؤَابَةِ الْعَلْےَائِ وَسُرَّ ةِ البَطْحائِ ومَصَاِبَےْحِ الظُّلْمَةِ، وےَنَا بِےْع اِلحِکْمَةِ١٨

رسول خدا ۖ کو اس نے انبیا ء کے شجرہ ،روشنی کے مرکز (آل ابراہیم )بلندی کی جبیں (قریش ) بطحاء کی ناف (مکہ)اور اندھیرے کے چراغوں اور حکمت کے سر چشموں سے منتخب کیا ۔

خطبہ٩٢ میں بیان کرتے ہیں :

انبیا ء کرام کو پروردگار نے بہترین مقامات پر ودیعت رکھا اور بہترین منزل میں ٹھہرایا ، وہ بلند مرتبہ صلبوں سے پاکیزہ شکموں کی طرف منتقل ہوتے رہے ،جب ان میں سے کو ئی گزرے والا گزر گیا تو دین خدا کی ذمہ داری بعد والے نے سنبھال لی یہاںتک کہ یہ الہیٰ شرف حضرت محمد ۖتک پہنچا اس نے انہیں بہترین نشوونما والے معدنوں اور ایسی اصلوں سے جو پھلنے پھولنے کے اعتبار سے بہت باوقار تھیں ،پیدا کیا اس شجرہ سے جس سے بہت سے انبیا ء پیدا کیے اور اپنے امین منتخب فرمائے ،پیغمبر ۖ کی عترت ،بہترین عترت اور ان کا خاندان شریف ترین خاندان ہے ،ان کا شجرہ وہ بہترین شجرہ ہے جو سر زمین حرم پراُگا ہے اور بزرگی کے سایہ میں پروان چڑھا ہے ،اس کی شاخیں بہت طویل ہیں اور اس کے پھل انسانی دسترس سے با لا تر ہیں۔ ١٩

توصیف و تعریف :

حضرت رسول خدا ۖ کے حقیقی اوصاف اور آپکی سچی تعریف اور دقیق ہے کہ انسان اس کی سحر انگیزی اور معنی کی گہرائی میں ورطہ حیرت میں پڑجاتا ہے،چنانچہ امیر المومنین ـ خطبہ نمبر ١٠٥میں آنحضرتۖ کی یوں تعریف کر تے ہیں ۔

حَتَّی بَعَثَ اللہُ محمّدًا صلی اللہ علیہ وآلہ،شھیداً وبَشِیراً، ونذیراً،خَےَر الَبرِّےةِ طِفلاً،واَنْجَبَھَا کَھْلاً، وَاَطْھَرَ الْمُطَھَّرِےْنَ شِےْمَةً،وَاَجْوَدَ المُسْتَمطَرِےْنَ دِیمَةً ٢٠

یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے محمد ۖ کو امت کے اعما ل کا گواہ ،ثواب کی بشارت دینے والا ،اور عذاب سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا ،جو بچپن میں بہترین خلائق اور سن رسیدہ ہو نے پر بھی اشرف کائنات تھے ، عادات کے اعتبار سے تمام پاکیزہ افراد سے زیادہ پاکیزہ اور باران رحمت کے اعتبار سے ہر سحاب رحمت سے زیادہ کریم و جواد تھے

ایک اور مقام پر آپ ۖ کی مدح یوں کر تے ہیں :

فَھُوَ اِمامُ مَنِ اتَّقٰی،وبَصیرَة مَنِ اھْتَدیٰ،سراج لَمَعَ ضَوْئُ ہ،وَشِھَاب سَطَعَ نُورُہ و زَنْد بَرَقَ لَمْعُہُ،سِےْرَتُہُ الْقَصْدُ،وسُنَّتُہُ الرُّشْدُوکَلَا مُہُ الْفَصْل،وحُکْمُہُ الْعَدْلُ،ا

اس سے مربوط موضوعات

نہج البلاغہ میں عبادت کے اقسام
امام علی علیہ السلام نہج البلاغہ کے اندر عبادت کرنے والوں کی تین اقسام بیان فرماتے ھیں۔”اِنَّ قَوْماً عَبَدُوْا اللہَ رَغْبَۃً فَتِلْکَ عِبَادَۃُ التُّجَّارِ وَ اِنَّ قَوْماً عَبَدُوْا اللہَ رَہْبَۃً فَتِلْکَ عِبَادَةُ الْعَبِیْدِ، وَ اِنَّ قَوْماً عَبَدُوْا اللہَ شُکْراً فَتِلْکَ عِبَادَةُ الاٴحْرَارِ“۔[1] ”کچھ لوگ خدا کی عبادت کے انعام کے لالچ میں کرتے ھیں یہ تاجروں کی عبادت ہے اور کچھ لوگ خدا کی عبادت خوف کی وجہ سے کرتے ھیں یہ غلاموں کی عبادت ہے اور کچھ لوگ خدا کی عبادت خدا کا شکر بجالانے کی کے لئے کرتے ھیں یہ آزاد اور زندہ دل لوگوں کی عبادت ہے“۔ اس فرمان میں امام علیہ السلام نے عبادت کو تین قسموں میں تقسیم کیا ہے۔ پھلی قسم :تاجروں کی عبادت فرمایا: ”اِنَّ قَوْماً عَبَدُوْا اللہَ رَغْبَۃً فَتِلْکَ عِبَادَةُ التُّجَّارِ ۔۔۔“ یعنی کچھ لوگ رغبت اور انعام کے لالچ میں خُدا کی عبادت کرتے ھیں۔ امام فرماتے ھیں یہ حقیقی عبادت نھیں ہے بلکہ یہ تاجر لوگوں کی طرح خدا سے معاملہ کرنا چاہتا ہے۔ جیسے تاجر حضرات کا ھم و غم فقط نفع اور انعام ھوتا ہے۔ کسی کی اھمیت اُس کی نظر میں نھیں ھوتی۔ اسی طرح یہ عابد جو اس نیت سے خدا کے سامنے جھکتا ہے در اصل خدا کی عظمت کا اقرار نھیں کرتا بلکہ فقط اپنے انعام کے پیش نظر جھک رھا ھوتا ہے

بین الاقوامی

یمن سے شکست کا ملبہ ایران پر ڈالنے کی کوشش

سعودی عرب کو گذشتہ 4 سال سے یمن کی جانب سے بھرپور مزاحمت کا سامنا ہے۔ امریکا، اسرائیل اور متحدہ عرب امارات سمیت دیگر خلیجی ریاستوں کی مدد کے باوجود یمن سے شکست نے سعودی عرب کی جنگی صلاحیتوں کا بھانڈا پھوڑتے ہوئے اسے دنیا بھر میں رسوا کر دیا ہے۔

سعودی تیل کی تنصیبات پر حملہ / امریکی الزام پر ایران کا ردعمل

سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر خوفناک حلموں میں ایران کے ملوث ہونے کے امریکی الزام پر ایران کا موقف بھی سامنے آگیا ہے۔

امام خمینی

امام خمینی رہ کے انقلابی نظریات اور اس کے اثرات

امام خمینی علیہ الرحمہ کی شخصیت اعلم فقیہ، واصل عارف اور با بصیرت راہبر جیسی صفات کی حامل ہے، ایران کی سرزمین پر دو ہزار پانچ سو سالہ پرانی شہنشاہیت کو شکست دینے کے بعد شرق و غرب کی سپر پاورز کا سامنا کرنے والی شخصیت ہے۔

امام خمینی رح ایک مرد عارف

حضرت امام خمینی رح کے بارے میں عام طور پر جو بات ہمارے ہاں زیادہ مشہور ہے وہ یہ کہ آپ نے ایک ملوکیت اور بادشاہت کا خاتمہ کرکے ایک اسلامی اور مذہبی حکومت قائم کی۔ لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ استعماری طاقتوں کے خلاف تھے اور استعماری طاقتوں نے آپ کی حکومت کے خاتمے کے لیے اپنے پورے وسائل بروئے کار لائے لیکن وہ اس میں ناکام ہو گئیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ امام خمینی رح بہت شجاع اور بہادر تھے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ آپ نے ناجائز طور پر قائم صہیونی حکومت کے خاتمے اور فلسطینیوں کے حقوق کے حصول کے لیے بھی آواز بلند کی۔ آپ مستضعفوں اور محروموں کے حقوق کے بھی علمبردار تھے۔ آپ نے اتحاد امت کے لیے ایک زور دار آواز بلند کی۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ ایک عالم اور فقیہ تھے اور آپ کی تقلید کی جاتی تھی۔ بعدازاں آپ کا دیوان بھی چھپا اور پاکستان میں بھی بہت سے لوگوں کو معلوم ہوا کہ آپ صاحب دیوان شاعر بھی تھے، لیکن ابھی تک جو پہلو کم شناختہ یا ناشناختہ ہے وہ یہ ہے کہ آپ ایک بلند پایہ عارف تھے اور شاید یہ کہنا زیادہ بہتر ہو کہ آپ کے وجود سے پھوٹنے والی تمام تر خوبیوں کا سرچشمہ یہی امر ہے کہ آپ ایک عارف باللہ اور عاشق الٰہی تھے اور اس سلسلے میں نظری اور عملی طور پر نہایت عمق اور گہرائی کے مقام پر فائز تھے۔

امام خامنہ ای

مسئلہ فلسطین امت مسلمہ کے اساسی اور بنیادی مسائل میں سے ایک ہے، امام خامنہ ای

مسئلہ فلسطین امت مسلمہ کے اساسی اور بنیادی مسائل میں سے ایک ہے، امام خامنہ ای رہبر انقلاب اسلامی امام خامنہ ای نے حجاج کرام کے نام اپنے سالانہ پیغام میں فلسطین کے مسئلے کو دنیا کا اہم ترین مسئلہ قرار دیا ہے۔

ایران بحری جہاز پر برطانوی حملے کا سخت جواب دے گا، امام خامنہ ای

ایران بحری جہاز پر برطانوی حملے کا سخت جواب دے گا، امام خامنہ ای امام خامنہ ای نے آئمہ جعمہ اور جماعات کے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ایران بحری جہاز پر برطانوی حملے کا سخت جواب دے گا۔

کلام و عقائد

بدا قرآن و حدیث کی روشنی میں

ذات الٰہی کے بارے میں بدا، حقیقت میں ابدا و اظہار ہے۔ یعنی جو کچھ خدا کے علم میں ہے اور انسان کے علم میں نہیں، اسےخداوند متعال اظہار و آشکار کرتا ہے۔ اسے بدا، کہنے کا سبب یہ ہے کہ یہ مقام فعل الٰہی میں نمایاں ہوتا ہے، اگرچہ ذات الٰہی میں جہل اور تغییر محال ہیں۔ خداوند متعال انبیاء کرام پر غیبی طریقے سے نظر رکھتا ہے تاکہ یہ لوگ وحی کے پہنچانے میں خطا سے محفوظ رہیں۔ قرآن کریم اس بارے میں ارشاد فرماتا ہے، "لِّيَعْلَمَ أَن قَدْ أَبْلَغُواْ رِسَالَاتِ رَبهِّم" تاکہ وہ دیکھ لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات کو پہنچا دیا ہے۔ واضح ہے کہ خداوند متعال پہلے سے ہی آگاہ ہے کہ انبیاء، وحی الٰہی کو صحیح طریقے سے لوگوں تک پہنچائیں گے۔

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی علم کلام کےاہم مباحث میں سے ایک حسن و قبح عقلی کا بحث ہے ۔اس سے مراد یہ ہے کہ کچھ افعال ذاتی طور پر حسن {اچھے} اور کچھ افعال ذاتی طور پر قبیح{ برے} ہیں ۔ معتزلہ اور امامیہ حسن و قبح عقلی کے قائل ہیں جبکہ اشاعرہ اس کی نفی کرتے ہیں۔ بہت سے کلامی مسائل اس بحث پر موقوف ہیں مثلا انسان کا اپنے اعمال میں خود مختار ہونا،خدا وند متعال کی بعض صفات کمالیہ کا ثبوت جیسے خدا کا عادل ہونا،اسی طرح بعض صفات سلبیہ بھی اسی بحث پر موقوف ہے جیسے خدا سے قبیح کا سرزد نہ ہونا،خداکا ظلم نہ کرنا وغیرہ ۔ جو لوگ حسن اور قبح کے قائل ہیں وہ انسانی افعال میں انسان کو مختار،خدا کو عادل مانتے ہیں جبکہ حسن و قبح کے مخالفین انسان کو مجبور اور خداکی عدالت سے انکار کرتے ہیں ۔

تربیت اولاد

خاندانی منصوبہ بندی : ایک معاشرتی ضرورت یا دھوکہ!

خاندانی منصوبہ بندی کوآج کے دور میں مختلف مملک کی حکومتیں اپنی کامیاب ترین پالیسیوں میں شمار کرتی ہیں۔ آبادی کا کنٹرول اور چھوٹا خاندان خوشحالی کا ذریعہ سمجھاجاتا ہے۔ خصوصاً محدود وسائل رکھنے والے ممالک میں اس پالیسی کو زیادہ اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے

تعليم و تربيت کے بارے ميں اسلامي علما کي آرا و نظريات

تاريخ اسلام ميں تقريبا تمام علماء و دانشور مختلف علوم ميں مھارت رکھنے کے ساتھ ساتھ تعليم و تربيت ميں بھي صاحب نظر اور مھارت کے حامل ہوا کرتے تھے اس سے اسلام ميں تعليم وتربيت کي اھميت کا پتہ چلتا ہے لھذا ہم يہاں پر علما اسلام کي نظر ميں تعليم و تربيت کي اھميت اجاگر کرنے کے لئے ان کے بعض نظريات پيش کر رہے ہيں۔

تندرستی

گوشت نہیں کھائیں گے تو... کند ذہن ہوجائیں گے!

گوشت نہیں کھائیں گے تو... کند ذہن ہوجائیں گے!

سوڈا ڈرنک پینے والوں کو ناگہانی موت کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے، رپورٹ

دس یورپی ممالک میں 451,000 افراد پر بیس سال تک کی گئی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ روزانہ کولڈ ڈرنک پینے والوں کی زندگی کم ہوجاتی ہے اور ان کےلیے ناگہانی موت کا خطرہ، کبھی کبھار کولڈ ڈرنک پینے والوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہو جاتا ہے۔

مہدویت{امام زمان عج}

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی امامت کے اہداف میں سے ایک ہدف امام معصوم کا لوگوں کی باطنی ہدایت ہے۔ امام لائق اور پاکیزہ دل رکھنے والے افراد کو اپنی طرف جذب کر کے انہیں کمال تک پہنچاتے ہیں۔ واضح ہے کہ انسان کا اس طرح ہدایت سے ہمکنار ہونے کے لئے ضروری نہیں کہ وہ امام کے ساتھ ظاہری رابطہ برقرار کرے۔ گذشتہ بیانات کی روشنی میں امام زمانہ (عج) کو بادل کے پیچھے پنہان روشن آفتاب سے تشبیہ دینے کا مقصد بھی واضح ہو جاتا ہے۔ اگرچہ بادل کے پیچھے پنہان سورج سے انسان مکمل طور بہرہ مند نہیں ہوتا ہے لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ اس سے انسان کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا ہے۔ بہرحال امام زمانہ (عج) کے وجود کے آثار و برکات سے بہرہ مند نہ ہونے کا سبب انسانوں کی طرف سے خاص حالات کا فراہم نہ کرنا ہے، جس کی وجہ سے لوگ اس عظیم نعمت کے فوائد سے محروم ہیں اور اس محرومیت کا سبب وہ خود ہیں نہ کہ خداوند متعال اور امام، کیونکہ خداوند متعال اور امام کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی مشکل درپیش نہیں ہے۔

دیگر مناسبتیں

آفتاب کربلا جناب حضرت علی اکبر علیہ السلام

کربلا کے میدان میں ایک جوان ایسا بھی تھا جو سیرت و صورت اورگفتار و کردار میں شبیہ پیغمبر تھے۔دیکھنے والا دنگ رہ جاتا تھا کہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے ہیں۔انہوں نے اس کائنات میں ایسی قربانی پیش کی کہ تمام دنیا دھنگ رہ گئی۔آپ ایسے باپ کے فرزند تھے جس پر رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ناز تھا ،جس کے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری بن گئے۔اس عظیم باپ کا فرزند تھا جس نے دنیا والوں کو جینا سکھایا اورباطل قوتوں کے سامنے قیام کر نا سکھایا۔

حدیث غدیر، حدیث متواتر

متواتر لفظی: وہ حدیث یا خبر جس کے تمام روایوں نے، تمام طبقات میں، اس حدیث یا خبر کے مضمون کو ہو بہو اور یکسان طور پر نقل کیا ہو۔ جیسے حدیث ثقلین کی عبارت، (انّي تارك فيكم الثقلين ۔۔) یا حدیث غدیر کی عبارت (من كنت مولاه فهذا عليّ مولاه)۔

چہاردہ معصومین ع

امام سجاد علیہ السلام

امام علیہ السلام نے کربلا سے کوفہ، کوفہ سے شام اور زندان سے رہائی تک ہر موقع پر اپنے خطبوں کے ذریعے جہاں قیام حسینی علیہ السلام کے اصولوں اور فلسفے سے لوگوں کو آگاہ فرمایا وہیں اسلام کا نام استعمال کرتے ہوئے اسلام کی دھجیاں اڑانے کی کوشش کرنے والی ناپاک حکومت کا مکروہ چہرہ بھی بےنقاب فرمایا۔

معاویہ و یزید کے دور حکومت میں امام حسین (ع) کا کردار

معاویہ کو ہر وقت آپ کے قیام کا خوف رہتا تھا۔ چنانچہ اس نے امام کے سامنے قبض و بسط کی پالیسی اپنائی یعنی ایک طرف سے آپ کی منزلت کو مدنظر رکھتا تھا اور بظاہر آپ کے لئے احترام کا قائل تھا اور آپ کی تعظیم کرتا تھا اور اپنے کارگزاروں کو بھی ہدایت کرتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرزند کو نہ چھیڑیں اور ان کی بےحرمتی سے پرہیز کریں۔ دوسری طرف سے امام کی مسلسل اور شب و روز نگرانی کو اپنی پالیسی کا حصہ بنایا اور سفر اور حضر میں آپ کی تمام حرکات و سکنات پر کڑی نظر رکھی جاتی تھی۔

دیگر موضوعات

الغدیر فی الکتاب و السنۃ و الادب

الغدیر فی الکتاب و السنة و الادب، جو الغدیر کے نام سے معروف ہے عربی زبان میں لکھی گئی ایک ایسی کتاب ہے جسےعلامہ عبد الحسین امینیؒ نےحدیث غدیر کی روشنی میں امام علی علیہ السلام کی امامت و خلافت بلا فصل کی اثبات کے لئے تحریر کیا ہے۔یہ کتاب اب تک 11 جلدوں میں مرتب ہوئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کتاب کی کل 20 جلدیں ہیں۔ لیکن آخری 9 جلدیں ابھی تک طبع نہیں ہوئی ہیں۔ علامہ امینی اس کتاب کو لکھنے کی خاطر مختلف ممالک کی لائبریریوں کا سفر کیا ہے۔ جن میں ہندوستان، مصر اور شام وغیرہ کی لائبریریاں شامل ہیں۔الغدیر کے مؤلف کے مطابق اس کتاب کی تالیف میں انہوں نے ایک لاکھ سے زائد کتابوں کی طرف مراجعہ اور دس ہزار سے زیادہ کتابوں کا مطالعہ کیا ہے۔انہیں یہ کتاب لکھنے میں ۴۰ سال سے زیادہ کا عرصہ لگا ہے۔الغدیر کے بارے میں کئی کتابیں اور تھیسز لکھے گئے ہیں۔ اسی طرح الغدیر میں پیش کیے گئے موضوعات کو 27 جلدوں پر مشتمل مجموعے کی صورت میں بھی منظر عام پر لایا گیا ہے۔

قربانی کی تاریخ اور اسکا فلسفہ

دین مقدس اسلام میں قربانی ایک مالی عبادت ہے، جو شعائر اسلام میں بھی شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں اس کی بڑی فضیلت ہے۔ شعائر اللہ کو دلوں کا تقوا قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں ارشاد ہوا ہے: "وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ" (سورہ حج:۳۲) بات یہ ہے کہ جو شعائر اللہ کا احترام کرتا ہے تو یہ دلوں کا تقویٰ ہے۔ دین اسلام میں اس کے علاوہ اور بھی مالی عبادات ہیں۔ لیکن ان عبادات کے مقابلے میں قربانی کچھ مخصوص خصوصیات کی حامل ہے۔ انہی خصوصیات کی وجہ سے عبادات کے درمیان قربانی کا الگ مقام ہے۔

سب سے زیادہ زیر بحث

امام علی علیہ السلام کی شانِ میں چہل حدیث

مولا علیؑ کی شان میں چالیس احادیث اور یہ ﻭﻩ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ہیں ﺟﻮ ﺻﺤﺎﺡ ﺳﺘﻪ ﻣﯿﮟ بھی موجود ہے. 1= ﻋﻨﻮﺍﻥ ﺻﺤﻴﻔﺔ ﺍﻟﻤﺆﻣﻦ ﺣﺐّ ﻋﻠﻰؑ ﺑﻦ ﺍﺑﻰ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ. ﺻﺤﯿﻔﮧ ﻣﻮﻣﻦ ﮐﺎ ﻋﻨﻮﺍﻥ ﻣﺤﺒﺖِ ﻋﻠﯽؑ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻃﺎﻟﺐؑ ﮨﮯ.

دعا کی اہمیت

دعا کی اہمیت حضرت انسان کس قدر شرف و عظمت کا مالک ہے،اس کے لئے کائنات بنی،پوری کائنات میں اسی کو عزت و تکریم کا حق دار ٹھہرایا گیا۔تمام مخلوق اس کی خدمت اور منفعت کے لئے پیدا کی گئی۔لیکن اتنی عظمتوں کے باوجود اس کی خلقت کا مقصد اللہ کی معرفت اور عبادت قرار دیا گیا۔لہذا انسان کا اہم کام خدا سے ارتباط و ربط ہے۔مگر کیسا رابطہ؟ اتنی عظمتوں کے باوجود بارگاہ خداوندی میں فقر محض اور احتیاج محض ہے جبکہ ذات پروردگار غناء ہی غناء ہے۔بلندی ہی بلندی ہے۔انسان مشکلات،مصائب اور تکالیف میں ایسی ذات کی طرف رجوع کر کے اپنے فقر اور احتیاج محض ہونے کا اقرار و اعتراف کرتے ہوئے اپنی نفی اور بے ثباتی کا اظہار کرتا نظر آتا ہے۔اس سلسلے میں انسان کا ایک اہم وسیلہ دعا ہے۔دعا کے ذریعے اپنی احتیاج کا اظہار بھی کرتا ہے اوراللہ سے اعانت کی التجا بھی کرتا ہے۔

قرآنِ کریم اور اصلاحِ معاشرہ تحریر: عارف حسین تھہیم

لفظِ ’’اصلاح‘‘ درست کرنے، صحیح کرنے اور خرابی کو دُور کے معنی میں آتا ہے۔ معاشرتی اور اجتماعی مفہوم کے اعتبار سے شائستہ اور نیک عمل انجام دینے، نیز فساد و تباہی کو ختم کرنے کے لیے بھی اصلاح کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ ارشادِ پروردگار ہے: ﴿ إِلاَّ الَّذِينَ تَابُواْ وَأَصْلَحُواْ وَبَيَّنُواْ فَأُوْلَئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ﴾[1]؛ ’’سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے توبہ کی اور اپنے کئے کی اصلاح کر لی اور (جس کو چھپایا ہوا تھا) واضح کر دیا تو ایسے ہی لوگوں کی توبہ میں قبول کرتا ہوں اور بےشک میں بڑا توبہ قبول کرنے والا اور بہت مہربان ہوں۔‘‘ حقیقی توبہ میں گذشتہ بُرائی اور فساد کا دُور کرنا اور آئندہ بُرائی و فساد سے بچے رہنے کا تہیہ کرنا ضروری ہے۔ شائستہ اور صالح معاشرے کی تشکیل کا ہدف اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی دُنیوی و اُخروی اور مادی و معنوی ضرورتوں کو پورا کیا جائے؛ لہٰذا صالح معاشرے کی خصوصیات یہ ہیں کہ اس میں ہر ایک کی جان، مال، عزّت و آبرو اور ناموس محفوظ ہوتی ہے، لوگوں کی درمیان مہر و محبت اور اپنائیت کا راج ہوتا ہے اور سب لوگ روحانی و معنوی لحاظ سے پُرسکون اور مطمئن ہوتے ہیں۔

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ بسم اللہ الرحمن الرحیم بنام خدائے رحمن و رحیم اٴَللّٰھُمَّ اِنّيِ اٴَسْاٴَ لُکَ بِرَحْمَتِکَ الَّتي وَ سِعَتْ کُلَّ شَيْءٍ،وَ بِقُوَّتِکَ الَّتي قَھَرْتَ خدایا میراسوال اس رحمت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر محیط ھے۔ اس قوت کے واسطہ سے ھے جو ھر چیز پر حاوی ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ،وَخَضَعَ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ،وَذَلَّ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ، وَبِجَبَرُوتِکَ الَّتي غَلَبْتَ اور اس کے لئے ھر شے خاضع اور متواضع ھے۔ اس جبروت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر غالب ھے اور اس عزت کے واسطہ سے ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ، وَ بِعِزَّتِکَ الَّتي لاٰ یَقُومُ لَھٰا شَيْءٌ، وَبِعَظَمَتِکَ الَّتي مَلَاٴَتْ کُلَّ جس کے مقابلہ میں کسی میں تاب مقاومت نھیں ھے۔اس عظمت کے واسطہ سے ھے جس نے ھر چیز کو پر کردیا ھے شَيْءٍ، وَ بِسُلْطٰانِکَ الَّذي عَلاٰ کُلَّ شَيْءٍ، وَبِوَجْھِکَ الْبٰاقي بَعْدَ فَنٰاءِ کُلِّ شَيْءٍ،

تلاوت قرآن کی فضیلت

'پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا، جو شخص رات کو دس آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام غافلین (جو یاد خدا سے بے بہرہ رہتے ہیں) میں نہیں لکھا جائے گا اور جو شخص پچاس آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام ذاکرین (جو خدا کو یاد کرتے ہیں، حرام و حلال کا خیال رکھتے ہیں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص سو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام قانتین (عبادت گزاروں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص دوسو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام خاشعین (جو خدا کے سامنے متواضع ہوں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص تین سو آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام سعادت مندوں میں لکھا جائے گا، جو شخص پانچ ہزار آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام عبادت اور پرستش خدا کی کوشش کرنے والوں میں لکھا جائے گا اور جو شخص ہزار آیتوں کی تلاوت کرے وہ ایسا ہے جیسے اس نے کثیر مقدار میں سونا راہ خدا میں دے دیا ہو۔،،

تربیت اولاد کے انمول اصول تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

لغت کی کتابوں میں لفظ" تربیت" کے لیے تین اصل اور ریشہ ذکر ہوئے ہیں۔ الف:ربا،یربو زیادہ اور نشوونما پانےکے معنی میں ہے۔ ب: ربی، یربی پروان چڑھنا اور برتری کے معنی میں ہے۔ج: رب،یرب اصلاح کرنے اور سرپرستی کرنے کے معنی میں ہے۔۱صاحب مفردات کا کہنا ہے کہ "رب" مصدری معنی ٰ کے لحاظ سے کسی چیز کو حد کمال تک پہچانے ، پرورش اور پروان چڑھانے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ۲ صاحب التحقيق کا کہنا ہے اس کا اصل معنی ٰ کسی چیز کو کمال کی طرف لے جانے ، نقائص کو تخلیہ اور تحلیہ کے ذریعےرفع کرنے کے معنی ٰ میں ہے۔۳ بنابر این اگر اس کا ريشه(اصل) "ربو" سے ہو تو اضافہ کرنا، رشد ، نمو اور موجبات رشد کو فراہم کرنے کے معنی ٰ میں ہےلیکن ا گر "ربب" سے ہو تو نظارت ، سرپرستي و رهبري اور کسی چیز کو کمال تک پہنچانے کے لئے پرورش کے معنی ٰ میں ہے۔

پیٹ کا درد کئی امراض کی علامت ہوسکتا ہے

اگر پیٹ میں درد ہورہا ہو تو اس کی کئی وجوہ ہوسکتی ہیں۔ اکثر ناقص غذا کی وجہ سے معدے میں تکلیف ہونے لگتی ہے جسے ہم پیٹ کے درد سے تعبیر کرتے ہیں۔ معدے کا درد کئی امراض کی علامت بھی ہوسکتا ہے، اس لیے اسے نظرانداز نہیں کرنا چاہیے اور بلاتاخیر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

مقصد قیام امام حسین علیہ السلام تحریر: محمد حسن حسرت کچوروی

امام حسین ؑ ۲۸ رجب ۶۰ ھ میں مدینہ سے حرکت کرتے ہیں اور ۳ شعبان المعظم کو مکہ میں پہنچتے ہیں پھر ۸ ذی الحجہ کو مکہ سے کوفہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں ۲ محرم الحرام کو وارد کربلا ہوتے ہیں اور ۱۰ محرم الحرام کو شھید ہو جاتے ہیں اس مختصرعرصے میں انسان سو سے زیادہ درس حاصل کر سکتا ہے بلکہ کہہ سکتے ہیں کہ امام کے اس مختصر عرصےمیں ہزاروں دروس شامل ہیں لیکن یہ سارے دروس ایک اصلی درس ‘ حرکت اور قیام امام میں موجود ہیں باقی سارے حاشیے ہیں متن یہ ہے کہ امام نے قیام کیوں کیا؟ یہ اصلی درس ہے لوگ امام سے کہتے تھے آپ مدینہ اور مکہ میں محترم ہیں یمن میں اتنے سارے شیعہ ہیں کسی کونے میں تشریف لے جائیں اور یزید سے کوئی سروکار نہ رکھے تاکہ وہ بھی آپ سے کوئی سروکار نہ رکھے۔ یہ سارے مرید ہیں انہیں تبلیغ کریں عبادت کریں اور زندگی کریں۔ کاس قیام کا مقصد کیاہے ۔۔؟

مشاہدات

آج

280

کل

612

اس ماہ

28883

اس سال

157311

ٹوٹل مشاہدات

326539