علماء کونسل کچورا سکردو بلتستان

متن

سیدالشہداءعلیہ السلام کے لئے گریہ و بکاء کے آثار و برکات

گریہ، بکاء یا رونا انسانی احساسات و جذبات کا شدیدترین مظہر ہے اور اس کے اسباب و محرکات مختلف ہیں اور ہر محرک اور ہر سبب ایک خاص حالت کو نمایاں کرتا ہے۔ روایات و احادیث میں گریہ کی بعض اقسام کو ممدوح قرار دیا گیا ہے اور پاکدل بندوں کی پسندیدہ صفات میں شمار کیا گیا ہے اور اس کی بعض قسموں کی مذمت کی گئی ہے۔

گریہ انسان کے حالات اور انفعالات میں سے ہے جو دکھ، صدمے اور نفسیاتی اندوہ کے نتیجے میں فطری طور پر ظہور پذیر ہوتا ہے؛ اور کبھی ہوسکتا ہے کہ بعض شدید جذباتی کیفیت اور نفسیاتی ہیجان کے نتیجے میں ظہور پذیر ہوجائے؛ مثال کے طور پر انسان اپنے محبوب کو ایک عرصہ دوری اور فراق کے بعد دیکھ لے اور دیدار کا شوق گریہ و بکاء کا سبب بن جائے اس کو گریۂ شوق بھی کہا جاتا ہے۔ کبھی گریہ انسان کے مذہبی عقائد کی بنا پر ظہور پذیر ہوتا ہے اور وہ یوں کہ چونکہ گریہ ایک طبیعی اور اکثر اوقات غیر ارادی قعل ہے لہذا گریہ کے اوپر امر و نہی اور حسن (اچھائی) اور قبح (برائی) کے احکامات جاری نہیں کئے جاسکتے بلکہ جس چیز پر حسن و قبح اور اچھائی اور برائی کا نشان لگایا جاسکتا ہے یا ان کا حکم دیا جاسکتا ہے یا ان سے روکا جاسکتا ہے وہ گریہ کے مقدمات و تمہیدات ہیں جیسا کہ کہا گیا ہے کہ "تو وہی ہے جس کی قید میں ہو"۔

یہاں ہم جاننا چاہتے ہیں کہ سیدالشہداء علیہ السلام کے لئے گریہ و بکاء کا حکم کیا ہے اور اس کے اثرات اور برکات کیا ہیں؟ بہتر یہی ہے کہ ہم یہاں رونے کی اقسام کا جائزہ لیں تا کہ معلوم ہوجائے کہ امام حسین علیہ السلام کے گریہ و بکاء کا حکم کیا ہے اور اس کے آثار کیا ہیں؟:

  1. طفولیت کا گريہ:

انسان کی زندگی کا آغاز گریہ و بکاء سے ہوتا ہے۔ بچہ جب دنیا میں قدم رکھتا ہے اور روتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ یہ بچہ صحتمند اور تندرست ہے۔ اور اس کے بعد بچپن کے زمانے میں گریہ و بکاء بچے کی زبان ہے اور بچہ اپنی ماں سے رونے کی زبان میں بات کرتا ہے۔

  1. گريۂ شوق:

ماں طویل عرصے کے بعد اپنے گمشدہ یا پردیسی فرزند کو دیکھ لیتی ہے تو رونے لگتی اور اپنے جذبے کا اظہار کرتی ہے۔ یہ گریہ وحد و ہیجان اور شوق کا گریہ کہلاتا ہے جو در حقیقت خوشی کا انتہائی اظہار بھی ہے [اور پھر انسان کے جذبات چاہے غم کے ہوں چاہے خوشی کے، جب انتہا کو پہنچتے ہیں تو رونے کی صورت میں نمودار ہوتے ہیں، یا یوں کہئے کہ انسان کے پاس جذبات کے اظہار کے  لئے آنسو بہانے کے سوا کوئی اور اوزار نہيں ہے]۔

  1. جذبات و محبت کا گریہ:

 محبت حقیقی انسانی جذبات میں سے ہے اور گریہ کے ساتھ انسان کا ساتھ دیرینہ ہے۔ مثال کے طور پر خداوند متعال کے ساتھ حقیقی محبت حسن آفرین ہے اور اس کا قرب حاصل کرنے کے لئے رونا چاہئے اور اشک بہانا چاہئے۔

صنما با غم عشق تو چه تدبير كنم‏

تا به كى در غم تو ناله شبگير كنم‏

میرے محبوب تیرے غم عشق کے لئے کیا تدبیر کروں

کب تک تیرے غم میں پوری رات نالہ و فریاد کروں

  1. گريۂ معرفت و خشيت:

 خالصانہ عبادات، عالم خلقت کی عظمت اور اللہ کے مقام کبریائی نیز انسانی فرائض اور ذمہ داریوں کی اہمیت کے بارے میں غور و تفکر انسان کے اندر ایک خاص قسم کے خوف کا سبب بنتا ہے اور یہ خوف ایسا خوف ہے جو خدواند متعال کی معرفت اور تہذیب و تزکیۂ نفس کے نتیجے میں حاصل ہوتا ہے جس کو قرآنی اصطلاح میں "خشیۃ" کہا جاتا ہے۔

  1. گريۂ ندامت:

 انسان مؤمن جب جرم و گناہ کا ارتکاب کرتا ہے تو وہ حزن و اندوہ سے دوچار ہوجاتا ہے اور اس حزن و اندوہ کے خاتمے کے لئے انسان محاسبۂ نفس یا خود احتسابی کا سہارا لیتا ہے اور یہی محاسبۂ نفس سبب بنتا ہے کہ انسان اپنے ماضی کے افعال و اعمال میں غور و تدبر کرے اور خود احتسابی کرکے اپنی کوتاہیوں اور خطاؤں کی تلافی کرنے کی کوشش کرے اور اپنی آنکھوں سے ندامت کے اشک جارے کرے۔ یہ گریہ توبہ اور اللہ کی طرف بازگشت کا نتیجہ ہے۔

  1. گريہ ہدف کے ساتھ پیوند:

 کبھی انسان کے اشکوں کے قطرے ہدف (اور مشن) کا پیام لے کر آنکھوں سے جاری ہوتے ہیں۔ شہید پر گریہ اسی قسم کا گریہ ہے۔ شہید کے لئے گریہ انسان میں جہاد و استقامت کے احساسات جگا دیتے ہیں اور سیدالشہداء علیہ السلام کے لئے گریہ و بکاء، انسان میں خوئے حسینی کو جنم دیتا ہے۔ خوئے حسینی ایک ایسا وصف ہے جو نہ ستم کرتا ہے اور نہ ہی ستم قبول کرتا ہے۔ وہ شخص جو حادثۂ کربلا کو سن کر اپنے دل کے گوشے سے آنسو کا قطرہ آنکھوں کے راستے چہرے پر روانہ کردیتا ہے وہ در حقیقت سیدالشہداء کے اعلی ہدف سے اپنا پیوند پوری سچائی کے ساتھ بیان کرتا ہے۔

  1. ذلت و شكست کا گریہ:

 یہ گریہ اہداف و مقاصد کے حصول میں ناکام ہونے والے کمزور اور  ضعیف انسانوں کا گریہ ہے وہی جو پیشرفت و ترقی کی روح سے عاری اور محنت و کوشش سے غاجز و بے بس ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ امام حسین علیہ السلام کے لئے گریہ و بکاء کی نوعیت کیا ہے؟ تھوڑی سی توجہ سے ہی یہ جاننا آسان ہوجاتا ہے کہ سیدالشہداء علیہ السلام کے لئے گریہ محبت کا گریہ ہے۔ وہ محبت جو سیدالشہداء کے عاشقوں کے دلوں پر ثبت ہوئی ہے۔ سیدالشہداء علیہ السلام کے لئے گریہ گریۂ شوق ہے کیونکہ کارنامۂ کربلا کے اکثر واقعات شوق آفرین ہیں اور جوش و خروش پیدا کردیتے ہیں اور کربلا کے مردوں اور خواتین کی اس قربانی، اس عظمت و کمال عقلیت اور غروج قربانی و ایثار اور بظاہر اسیر مردوں اور خواتین کے آتشین خطبوں کو دیکھ کر اور سن کر اور ان کی یاد تازہ کرکے، جس کے بعد اشک شوق کا سیلاب جاری ہوتا ہے اور یہ گریہ درحقیقت معرفت کا گریہ اور ان کے اعلی انسان ساز ہدف اور مکتب سے پیوند اور تجدید عہد کا گریہ ہے اور مجدد اعظم حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے ارشاد کے مطابق: "امام حسین علیہ السلام کے لئے گریہ سیاسی گریہ ہے"، فرماتے ہیں: "ہم سیاسی گریہ کرنے والی ملت ہیں، ہم وہ ملت ہیں کہ ان ہی اشکوں سے سیلاب جاری کرتے ہيں اور ان بندوں کو توڑ دیتے ہیں جو اسلام کے سامنے کھڑے کئے گئے ہیں"۔

 امام خمينى رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ "گریہ اور بکاء سیاسی ہے" : "ہم سیاسی گریہ و بکاء کرنے والی ملت ہیں، ہم ایسی ملت ہیں جو ان ہی اشکوں سے سیلاب جاری کرتے ہیں اور اسلام کے سامنے  کھڑے کئے گئی بندوں کو توڑ دیتے ہیں"۔

هزار سال فزون شد ز وقعه عاشورا

ولى ز تعزيه هر روز، روز عاشور است‏

ہزار سال سے بھی زیادہ گذرے واقعہ کربلا سے

لیکن تعزیہ حسین کی وجہ سے ہر روز عاشورا ہے

ہیہات کہ حسین علیہ السلام پر گریہ، ذلت اور شکست کا گریہ ہو۔یہ گریہ عزت کے سرچشمے سے اتصال اور پیوند کا گریہ ہے۔ یہ بندگی اور غلامی کا گریہ نہیں ہے، خاموشی کا گریہ نہیں بلکہ یہ گریہ بولتا گریہ ہے۔

اس سے مربوط موضوعات

امام حسین علیہ السلام پر فرشتوں کا گریہ تحریر: محمد عباس بہشتی کچوروی
آپ کا اسم مبارک حسین، کنیت ابا عبداللہ اور القاب سید شہدا ، سبط اصغر ہیں۔ والد بزرگوار امیر المومنین علی ابن ابی طالب اور مادر خاتون جنت جناب فاطمہ زھرا علیہا السلام ہیں۔ تین شعبان 4هجری کوحضرت علی و فاطمہ زهرا علیہما سلام کے دوسرے فرزند ارجمند امام حسین علیہ السلام نےوحی وامامت کے گھر میں آنکھ کھولی۔جب ولادت کی خبر رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تک پہنچے تو آپ )ص( حضرت علی علیہ السلام کے گھر تشریف لائے اور اسما سے فرمایا:فرزند کو میرے پاس لے آو- اسما نے بچے کو سفید کپڑے میں لپیٹ کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں لائی- آنحضرت)ص( نے دائیں کان میں آذان اور بائیں کان میں اقامت کهی- ولا دت کے ساتویں دن وحی الہی کے امانتدار جبریل امین تشریف لائے اور کہا: اے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم خدا کا دورود وسلام هو آپ پر اس مولود کا نام هارون کے چھوٹے فر زند شبر کے نام پر رکھیں جسے عربی میں حسین کہتے هیں کیونکہ علی علیہ السلام کو آپ سے وهی نسبت حاصل هے جو هارون ع کو موسی بن عمران سے حاصل تھیں صرف یہ کہ آپ آخری پیغمبر هیں"۔ولادت کے ساتویں دن حضرت فا طمہ زهرا علیہاالسلام نے ایک گوسفند ذبح کر کے اپنے فرزند کا عقیقہ کیا ان کے سر کے بال ترشواے اور بالوں کے هم وزن چاندی صدقہ دی- امام حسین علیہ السلام کی ولا
سید الشھداء علیہ السلام پر گریہ اہل سنت کی نظر میں تحریر:سید حسنین حیدر کاظمی
تاریخ و حدیث کے مطالعہ سے یہ بات معلوم ہو تی ہے کہ پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کے اھل بیت علیہم السلام و صحا بہ و تابعین اور بزرگان امت نے غم امام حسین علیہ السلام میں اشکباری کی ہے ۔ اس مقالہ میں کتب اہل سنت سے اس بات کو ثابت کریں گے اور اس کی طرف مختصر اشارہ کریں گے۔ ١۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا آنسو بہانا (دخل الحسین بن علی علیہما السلام علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وھو یوحی الیہ فبرک علی ظھرہ وھومنکبّ،و لعب علی ظھرہ،فقال جبریل[ع]:یا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم !ان امتک ستفتن بعدک و یقتل ابنک ھذا بعدک و مدّ یدہ فاتاہ بتربةبیضاء وقال : فی ھذہ الارض یقتل ابنک اسمھا الطف۔فلما ذھب جبریل خرج رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم الی اصحا ب بہ و التربةفی یدہ ، و فیھم ابو بکر و عمر و علی ـ و حذیفة و عمار و ابوذر وھو یبکی فقالوا! ما یبکیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! فقال : اخبرنی جبریل[ع]ان ابنی الحسین ـ یقتل بعدی بارض الطف و جاء نی بھذہ التربة فاخبر نی انّ فیھا مضجعة

بین الاقوامی

اربعین حسینی؛ ایرانی سرحد کے قریب دہشت گردی کا منصوبہ ناکام، متعدد دہشت گرد گرفتار

اربعین حسینی؛ ایرانی سرحد کے قریب دہشت گردی کا منصوبہ ناکام، متعدد دہشت گرد گرفتار اسلامی جمہوریہ ایران کی سیکیورٹی فورسزنے چذابہ بارڈر کے قریب دہشت گردی کا خطرناک منصوبہ ناکام بنا دیاہے۔

ایران سعودی تنازع کا حل سب کے مفاد میں ہے، پاکستان کے بعد روس بھی میدان میں آگیا

ایران سعودی تنازع کا حل سب کے مفاد میں ہے، پاکستان کے بعد روس بھی میدان میں آگیا روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات میں مثبت پیش رفت کی بھرپور کوشش کرنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اچھے تعلقات سے سب کو فائدہ ہوگا۔

امام خمینی

امام خمینی رہ کے انقلابی نظریات اور اس کے اثرات

امام خمینی علیہ الرحمہ کی شخصیت اعلم فقیہ، واصل عارف اور با بصیرت راہبر جیسی صفات کی حامل ہے، ایران کی سرزمین پر دو ہزار پانچ سو سالہ پرانی شہنشاہیت کو شکست دینے کے بعد شرق و غرب کی سپر پاورز کا سامنا کرنے والی شخصیت ہے۔

امام خمینی رح ایک مرد عارف

حضرت امام خمینی رح کے بارے میں عام طور پر جو بات ہمارے ہاں زیادہ مشہور ہے وہ یہ کہ آپ نے ایک ملوکیت اور بادشاہت کا خاتمہ کرکے ایک اسلامی اور مذہبی حکومت قائم کی۔ لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ استعماری طاقتوں کے خلاف تھے اور استعماری طاقتوں نے آپ کی حکومت کے خاتمے کے لیے اپنے پورے وسائل بروئے کار لائے لیکن وہ اس میں ناکام ہو گئیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ امام خمینی رح بہت شجاع اور بہادر تھے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ آپ نے ناجائز طور پر قائم صہیونی حکومت کے خاتمے اور فلسطینیوں کے حقوق کے حصول کے لیے بھی آواز بلند کی۔ آپ مستضعفوں اور محروموں کے حقوق کے بھی علمبردار تھے۔ آپ نے اتحاد امت کے لیے ایک زور دار آواز بلند کی۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ ایک عالم اور فقیہ تھے اور آپ کی تقلید کی جاتی تھی۔ بعدازاں آپ کا دیوان بھی چھپا اور پاکستان میں بھی بہت سے لوگوں کو معلوم ہوا کہ آپ صاحب دیوان شاعر بھی تھے، لیکن ابھی تک جو پہلو کم شناختہ یا ناشناختہ ہے وہ یہ ہے کہ آپ ایک بلند پایہ عارف تھے اور شاید یہ کہنا زیادہ بہتر ہو کہ آپ کے وجود سے پھوٹنے والی تمام تر خوبیوں کا سرچشمہ یہی امر ہے کہ آپ ایک عارف باللہ اور عاشق الٰہی تھے اور اس سلسلے میں نظری اور عملی طور پر نہایت عمق اور گہرائی کے مقام پر فائز تھے۔

امام خامنہ ای

امام خامنہ ای آیت اللہ مکارم شیرازی کی عیادت کرنے اسپتال پہنچ گئے

امام خامنہ ای آیت اللہ مکارم شیرازی کی عیادت کرنے اسپتال پہنچ گئے . رہبر انقلاب حضرت سید علی خامنہ ای آیت اللہ مکارم شیرازی کی عیادت کیلئے اسپتال تشریف لے گئے۔

جوہری ہتھیاربنانے کی کوشش ہی نہیں کی، ایٹم بم کا استعمال شرعی طور پر حرام ہے، امام خامنہ ای

جوہری ہتھیاربنانے کی کوشش ہی نہیں کی، ایٹم بم کا استعمال شرعی طور پر حرام ہے، امام خامنہ ای امام خامنہ ای نے تہران میں ایک عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ہم نے صلاحیت رکھنے کے باوجود جوہری ہتھیار نہیں بنایا، دین اسلام اس کے استعمال کی اجازت نہیں دیتا، ایٹم بم کا استعمال قطعی طور پر حرام ہے۔

کلام و عقائد

بدا قرآن و حدیث کی روشنی میں

ذات الٰہی کے بارے میں بدا، حقیقت میں ابدا و اظہار ہے۔ یعنی جو کچھ خدا کے علم میں ہے اور انسان کے علم میں نہیں، اسےخداوند متعال اظہار و آشکار کرتا ہے۔ اسے بدا، کہنے کا سبب یہ ہے کہ یہ مقام فعل الٰہی میں نمایاں ہوتا ہے، اگرچہ ذات الٰہی میں جہل اور تغییر محال ہیں۔ خداوند متعال انبیاء کرام پر غیبی طریقے سے نظر رکھتا ہے تاکہ یہ لوگ وحی کے پہنچانے میں خطا سے محفوظ رہیں۔ قرآن کریم اس بارے میں ارشاد فرماتا ہے، "لِّيَعْلَمَ أَن قَدْ أَبْلَغُواْ رِسَالَاتِ رَبهِّم" تاکہ وہ دیکھ لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات کو پہنچا دیا ہے۔ واضح ہے کہ خداوند متعال پہلے سے ہی آگاہ ہے کہ انبیاء، وحی الٰہی کو صحیح طریقے سے لوگوں تک پہنچائیں گے۔

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی علم کلام کےاہم مباحث میں سے ایک حسن و قبح عقلی کا بحث ہے ۔اس سے مراد یہ ہے کہ کچھ افعال ذاتی طور پر حسن {اچھے} اور کچھ افعال ذاتی طور پر قبیح{ برے} ہیں ۔ معتزلہ اور امامیہ حسن و قبح عقلی کے قائل ہیں جبکہ اشاعرہ اس کی نفی کرتے ہیں۔ بہت سے کلامی مسائل اس بحث پر موقوف ہیں مثلا انسان کا اپنے اعمال میں خود مختار ہونا،خدا وند متعال کی بعض صفات کمالیہ کا ثبوت جیسے خدا کا عادل ہونا،اسی طرح بعض صفات سلبیہ بھی اسی بحث پر موقوف ہے جیسے خدا سے قبیح کا سرزد نہ ہونا،خداکا ظلم نہ کرنا وغیرہ ۔ جو لوگ حسن اور قبح کے قائل ہیں وہ انسانی افعال میں انسان کو مختار،خدا کو عادل مانتے ہیں جبکہ حسن و قبح کے مخالفین انسان کو مجبور اور خداکی عدالت سے انکار کرتے ہیں ۔

تربیت اولاد

خاندانی منصوبہ بندی : ایک معاشرتی ضرورت یا دھوکہ!

خاندانی منصوبہ بندی کوآج کے دور میں مختلف مملک کی حکومتیں اپنی کامیاب ترین پالیسیوں میں شمار کرتی ہیں۔ آبادی کا کنٹرول اور چھوٹا خاندان خوشحالی کا ذریعہ سمجھاجاتا ہے۔ خصوصاً محدود وسائل رکھنے والے ممالک میں اس پالیسی کو زیادہ اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے

تعليم و تربيت کے بارے ميں اسلامي علما کي آرا و نظريات

تاريخ اسلام ميں تقريبا تمام علماء و دانشور مختلف علوم ميں مھارت رکھنے کے ساتھ ساتھ تعليم و تربيت ميں بھي صاحب نظر اور مھارت کے حامل ہوا کرتے تھے اس سے اسلام ميں تعليم وتربيت کي اھميت کا پتہ چلتا ہے لھذا ہم يہاں پر علما اسلام کي نظر ميں تعليم و تربيت کي اھميت اجاگر کرنے کے لئے ان کے بعض نظريات پيش کر رہے ہيں۔

تندرستی

لہسن اور پیاز چھاتی کے سرطان سے بچانے میں مددگار

لہسن اور پیاز ایشیا میں ایک عرصے سے استعمال ہورہی ہیں اور اب ان کے متعلق اچھی خبر یہ آئی ہے کہ ان دونوں جادوئی سبزیوں کا بھرپور اور مسلسل استعمال خواتین کو چھاتی کے سرطان (بریسٹ کینسر) سے محفوظ رکھتا ہے۔

گوشت نہیں کھائیں گے تو... کند ذہن ہوجائیں گے!

گوشت نہیں کھائیں گے تو... کند ذہن ہوجائیں گے!

مہدویت{امام زمان عج}

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی امامت کے اہداف میں سے ایک ہدف امام معصوم کا لوگوں کی باطنی ہدایت ہے۔ امام لائق اور پاکیزہ دل رکھنے والے افراد کو اپنی طرف جذب کر کے انہیں کمال تک پہنچاتے ہیں۔ واضح ہے کہ انسان کا اس طرح ہدایت سے ہمکنار ہونے کے لئے ضروری نہیں کہ وہ امام کے ساتھ ظاہری رابطہ برقرار کرے۔ گذشتہ بیانات کی روشنی میں امام زمانہ (عج) کو بادل کے پیچھے پنہان روشن آفتاب سے تشبیہ دینے کا مقصد بھی واضح ہو جاتا ہے۔ اگرچہ بادل کے پیچھے پنہان سورج سے انسان مکمل طور بہرہ مند نہیں ہوتا ہے لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ اس سے انسان کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا ہے۔ بہرحال امام زمانہ (عج) کے وجود کے آثار و برکات سے بہرہ مند نہ ہونے کا سبب انسانوں کی طرف سے خاص حالات کا فراہم نہ کرنا ہے، جس کی وجہ سے لوگ اس عظیم نعمت کے فوائد سے محروم ہیں اور اس محرومیت کا سبب وہ خود ہیں نہ کہ خداوند متعال اور امام، کیونکہ خداوند متعال اور امام کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی مشکل درپیش نہیں ہے۔

دیگر مناسبتیں

آفتاب کربلا جناب حضرت علی اکبر علیہ السلام

کربلا کے میدان میں ایک جوان ایسا بھی تھا جو سیرت و صورت اورگفتار و کردار میں شبیہ پیغمبر تھے۔دیکھنے والا دنگ رہ جاتا تھا کہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے ہیں۔انہوں نے اس کائنات میں ایسی قربانی پیش کی کہ تمام دنیا دھنگ رہ گئی۔آپ ایسے باپ کے فرزند تھے جس پر رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ناز تھا ،جس کے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری بن گئے۔اس عظیم باپ کا فرزند تھا جس نے دنیا والوں کو جینا سکھایا اورباطل قوتوں کے سامنے قیام کر نا سکھایا۔

حدیث غدیر، حدیث متواتر

متواتر لفظی: وہ حدیث یا خبر جس کے تمام روایوں نے، تمام طبقات میں، اس حدیث یا خبر کے مضمون کو ہو بہو اور یکسان طور پر نقل کیا ہو۔ جیسے حدیث ثقلین کی عبارت، (انّي تارك فيكم الثقلين ۔۔) یا حدیث غدیر کی عبارت (من كنت مولاه فهذا عليّ مولاه)۔

چہاردہ معصومین ع

امام سجاد علیہ السلام

امام علیہ السلام نے کربلا سے کوفہ، کوفہ سے شام اور زندان سے رہائی تک ہر موقع پر اپنے خطبوں کے ذریعے جہاں قیام حسینی علیہ السلام کے اصولوں اور فلسفے سے لوگوں کو آگاہ فرمایا وہیں اسلام کا نام استعمال کرتے ہوئے اسلام کی دھجیاں اڑانے کی کوشش کرنے والی ناپاک حکومت کا مکروہ چہرہ بھی بےنقاب فرمایا۔

معاویہ و یزید کے دور حکومت میں امام حسین (ع) کا کردار

معاویہ کو ہر وقت آپ کے قیام کا خوف رہتا تھا۔ چنانچہ اس نے امام کے سامنے قبض و بسط کی پالیسی اپنائی یعنی ایک طرف سے آپ کی منزلت کو مدنظر رکھتا تھا اور بظاہر آپ کے لئے احترام کا قائل تھا اور آپ کی تعظیم کرتا تھا اور اپنے کارگزاروں کو بھی ہدایت کرتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرزند کو نہ چھیڑیں اور ان کی بےحرمتی سے پرہیز کریں۔ دوسری طرف سے امام کی مسلسل اور شب و روز نگرانی کو اپنی پالیسی کا حصہ بنایا اور سفر اور حضر میں آپ کی تمام حرکات و سکنات پر کڑی نظر رکھی جاتی تھی۔

دیگر موضوعات

جابر بن عبداللہ انصاری پہلا زائر اربعین حسینی

عطیہ کوفی کے مطابق جابر بن عبد اللہ انصاری کے ساتھ حسین بن علی علیہ السلام کی قبر کی زیارت کرنے کے لئے کوفہ سے نکلے۔ جب ہم کربلا پہنچے تو جابر فرات کے ساحل کے قریب گیا اور غسل انجام دیا اور محرم افراد کی طرح ایک چادر پہنی، پھر ایک تھیلی سے خوشبو نکالا اور اپنے آپ کو اس خوشبو سے معطر کیا اور ذکر الہی کے ساتھ قدم اٹھانا شروع کیا، یہاں تک کہ وہ حسینؑ ابن علیؑ کے مرقد کے قریب پہنچا۔ جب ہم نزدیک پہنچے تو جابر نے کہا کہ میرا ہاتھ قبر حسینؑ پر رکھو۔ میں نے جابر کے ہاتھوں کو قبر حسین پر رکھا۔ اس نے قبر حسینؑ ابنی علی کو سینے سے لگایا اور بے ہوش ہو گیا۔ جب میں نے اس کے اوپر پانی ڈالا تو وہ ہوش میں آیا۔ اس نے تین مرتبہ یا حسینؑ کی آواز بلند کی۔

عطیہ عوفی(کوفی)زائر اربعین حسینی

زیارت اربعین کی اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ امام حسن عسکری علیہ السلام نے فرمایا: مومن کی نشانیوں میں سے ایک زیارۃ اربعین کی تلاوت کرناہے۔۳۔جب بھی زیارت اربعین اورچہلم امام حسین علیہ السلام کا ذکر ہو وہاں حتما ان دو ہستیوں یعنی جابر اور عطیہ کا ذکر ہوتا ہے۔ یہ دونوں ہستیاں اسلامی تاریخ کی معروف شخصیات میں سے ہیں۔ لیکن جو چیز انہیں دوسری شخصیات اورافراد سے ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ان کا شمار امام حسین علیہ السلام کے پہلے زائروںمیں ہوتا ہے۔

سب سے زیادہ زیر بحث

امام علی علیہ السلام کی شانِ میں چہل حدیث

مولا علیؑ کی شان میں چالیس احادیث اور یہ ﻭﻩ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ہیں ﺟﻮ ﺻﺤﺎﺡ ﺳﺘﻪ ﻣﯿﮟ بھی موجود ہے. 1= ﻋﻨﻮﺍﻥ ﺻﺤﻴﻔﺔ ﺍﻟﻤﺆﻣﻦ ﺣﺐّ ﻋﻠﻰؑ ﺑﻦ ﺍﺑﻰ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ. ﺻﺤﯿﻔﮧ ﻣﻮﻣﻦ ﮐﺎ ﻋﻨﻮﺍﻥ ﻣﺤﺒﺖِ ﻋﻠﯽؑ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻃﺎﻟﺐؑ ﮨﮯ.

دعا کی اہمیت

دعا کی اہمیت حضرت انسان کس قدر شرف و عظمت کا مالک ہے،اس کے لئے کائنات بنی،پوری کائنات میں اسی کو عزت و تکریم کا حق دار ٹھہرایا گیا۔تمام مخلوق اس کی خدمت اور منفعت کے لئے پیدا کی گئی۔لیکن اتنی عظمتوں کے باوجود اس کی خلقت کا مقصد اللہ کی معرفت اور عبادت قرار دیا گیا۔لہذا انسان کا اہم کام خدا سے ارتباط و ربط ہے۔مگر کیسا رابطہ؟ اتنی عظمتوں کے باوجود بارگاہ خداوندی میں فقر محض اور احتیاج محض ہے جبکہ ذات پروردگار غناء ہی غناء ہے۔بلندی ہی بلندی ہے۔انسان مشکلات،مصائب اور تکالیف میں ایسی ذات کی طرف رجوع کر کے اپنے فقر اور احتیاج محض ہونے کا اقرار و اعتراف کرتے ہوئے اپنی نفی اور بے ثباتی کا اظہار کرتا نظر آتا ہے۔اس سلسلے میں انسان کا ایک اہم وسیلہ دعا ہے۔دعا کے ذریعے اپنی احتیاج کا اظہار بھی کرتا ہے اوراللہ سے اعانت کی التجا بھی کرتا ہے۔

قرآنِ کریم اور اصلاحِ معاشرہ تحریر: عارف حسین تھہیم

لفظِ ’’اصلاح‘‘ درست کرنے، صحیح کرنے اور خرابی کو دُور کے معنی میں آتا ہے۔ معاشرتی اور اجتماعی مفہوم کے اعتبار سے شائستہ اور نیک عمل انجام دینے، نیز فساد و تباہی کو ختم کرنے کے لیے بھی اصلاح کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ ارشادِ پروردگار ہے: ﴿ إِلاَّ الَّذِينَ تَابُواْ وَأَصْلَحُواْ وَبَيَّنُواْ فَأُوْلَئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ﴾[1]؛ ’’سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے توبہ کی اور اپنے کئے کی اصلاح کر لی اور (جس کو چھپایا ہوا تھا) واضح کر دیا تو ایسے ہی لوگوں کی توبہ میں قبول کرتا ہوں اور بےشک میں بڑا توبہ قبول کرنے والا اور بہت مہربان ہوں۔‘‘ حقیقی توبہ میں گذشتہ بُرائی اور فساد کا دُور کرنا اور آئندہ بُرائی و فساد سے بچے رہنے کا تہیہ کرنا ضروری ہے۔ شائستہ اور صالح معاشرے کی تشکیل کا ہدف اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی دُنیوی و اُخروی اور مادی و معنوی ضرورتوں کو پورا کیا جائے؛ لہٰذا صالح معاشرے کی خصوصیات یہ ہیں کہ اس میں ہر ایک کی جان، مال، عزّت و آبرو اور ناموس محفوظ ہوتی ہے، لوگوں کی درمیان مہر و محبت اور اپنائیت کا راج ہوتا ہے اور سب لوگ روحانی و معنوی لحاظ سے پُرسکون اور مطمئن ہوتے ہیں۔

پیٹ کا درد کئی امراض کی علامت ہوسکتا ہے

اگر پیٹ میں درد ہورہا ہو تو اس کی کئی وجوہ ہوسکتی ہیں۔ اکثر ناقص غذا کی وجہ سے معدے میں تکلیف ہونے لگتی ہے جسے ہم پیٹ کے درد سے تعبیر کرتے ہیں۔ معدے کا درد کئی امراض کی علامت بھی ہوسکتا ہے، اس لیے اسے نظرانداز نہیں کرنا چاہیے اور بلاتاخیر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ بسم اللہ الرحمن الرحیم بنام خدائے رحمن و رحیم اٴَللّٰھُمَّ اِنّيِ اٴَسْاٴَ لُکَ بِرَحْمَتِکَ الَّتي وَ سِعَتْ کُلَّ شَيْءٍ،وَ بِقُوَّتِکَ الَّتي قَھَرْتَ خدایا میراسوال اس رحمت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر محیط ھے۔ اس قوت کے واسطہ سے ھے جو ھر چیز پر حاوی ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ،وَخَضَعَ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ،وَذَلَّ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ، وَبِجَبَرُوتِکَ الَّتي غَلَبْتَ اور اس کے لئے ھر شے خاضع اور متواضع ھے۔ اس جبروت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر غالب ھے اور اس عزت کے واسطہ سے ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ، وَ بِعِزَّتِکَ الَّتي لاٰ یَقُومُ لَھٰا شَيْءٌ، وَبِعَظَمَتِکَ الَّتي مَلَاٴَتْ کُلَّ جس کے مقابلہ میں کسی میں تاب مقاومت نھیں ھے۔اس عظمت کے واسطہ سے ھے جس نے ھر چیز کو پر کردیا ھے شَيْءٍ، وَ بِسُلْطٰانِکَ الَّذي عَلاٰ کُلَّ شَيْءٍ، وَبِوَجْھِکَ الْبٰاقي بَعْدَ فَنٰاءِ کُلِّ شَيْءٍ،

تلاوت قرآن کی فضیلت

'پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا، جو شخص رات کو دس آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام غافلین (جو یاد خدا سے بے بہرہ رہتے ہیں) میں نہیں لکھا جائے گا اور جو شخص پچاس آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام ذاکرین (جو خدا کو یاد کرتے ہیں، حرام و حلال کا خیال رکھتے ہیں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص سو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام قانتین (عبادت گزاروں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص دوسو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام خاشعین (جو خدا کے سامنے متواضع ہوں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص تین سو آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام سعادت مندوں میں لکھا جائے گا، جو شخص پانچ ہزار آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام عبادت اور پرستش خدا کی کوشش کرنے والوں میں لکھا جائے گا اور جو شخص ہزار آیتوں کی تلاوت کرے وہ ایسا ہے جیسے اس نے کثیر مقدار میں سونا راہ خدا میں دے دیا ہو۔،،

مقصد قیام امام حسین علیہ السلام تحریر: محمد حسن حسرت کچوروی

امام حسین ؑ ۲۸ رجب ۶۰ ھ میں مدینہ سے حرکت کرتے ہیں اور ۳ شعبان المعظم کو مکہ میں پہنچتے ہیں پھر ۸ ذی الحجہ کو مکہ سے کوفہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں ۲ محرم الحرام کو وارد کربلا ہوتے ہیں اور ۱۰ محرم الحرام کو شھید ہو جاتے ہیں اس مختصرعرصے میں انسان سو سے زیادہ درس حاصل کر سکتا ہے بلکہ کہہ سکتے ہیں کہ امام کے اس مختصر عرصےمیں ہزاروں دروس شامل ہیں لیکن یہ سارے دروس ایک اصلی درس ‘ حرکت اور قیام امام میں موجود ہیں باقی سارے حاشیے ہیں متن یہ ہے کہ امام نے قیام کیوں کیا؟ یہ اصلی درس ہے لوگ امام سے کہتے تھے آپ مدینہ اور مکہ میں محترم ہیں یمن میں اتنے سارے شیعہ ہیں کسی کونے میں تشریف لے جائیں اور یزید سے کوئی سروکار نہ رکھے تاکہ وہ بھی آپ سے کوئی سروکار نہ رکھے۔ یہ سارے مرید ہیں انہیں تبلیغ کریں عبادت کریں اور زندگی کریں۔ کاس قیام کا مقصد کیاہے ۔۔؟

تربیت اولاد کے انمول اصول تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

لغت کی کتابوں میں لفظ" تربیت" کے لیے تین اصل اور ریشہ ذکر ہوئے ہیں۔ الف:ربا،یربو زیادہ اور نشوونما پانےکے معنی میں ہے۔ ب: ربی، یربی پروان چڑھنا اور برتری کے معنی میں ہے۔ج: رب،یرب اصلاح کرنے اور سرپرستی کرنے کے معنی میں ہے۔۱صاحب مفردات کا کہنا ہے کہ "رب" مصدری معنی ٰ کے لحاظ سے کسی چیز کو حد کمال تک پہچانے ، پرورش اور پروان چڑھانے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ۲ صاحب التحقيق کا کہنا ہے اس کا اصل معنی ٰ کسی چیز کو کمال کی طرف لے جانے ، نقائص کو تخلیہ اور تحلیہ کے ذریعےرفع کرنے کے معنی ٰ میں ہے۔۳ بنابر این اگر اس کا ريشه(اصل) "ربو" سے ہو تو اضافہ کرنا، رشد ، نمو اور موجبات رشد کو فراہم کرنے کے معنی ٰ میں ہےلیکن ا گر "ربب" سے ہو تو نظارت ، سرپرستي و رهبري اور کسی چیز کو کمال تک پہنچانے کے لئے پرورش کے معنی ٰ میں ہے۔

مشاہدات

آج

820

کل

1066

اس ماہ

25476

اس سال

183822

ٹوٹل مشاہدات

353050