علماء کونسل کچورا سکردو بلتستان

متن

اہل بیت علیہم السلام نہج البلاغۃ کی روشنی میں

تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

کائنات میں اس عصر میں تین ایسی کتابیں ہیں جن کی کوئی مثل نہیں اور جن کا کوئی دوسرا مقابلہ نہیں کر سکتا اور ان میں  سے ایک قرآن کریم دوسرا صحیفہ سجادیہ اور تیسرا نہج البلاغہ ہے جو مدینۃ العلم کے ان خطبات و مکتوبات اور حکمت کے گوہر پاروں پر مشتمل ہے جسے سید رضی نے فصاحت و بلاغت کے شہ پارے اور صراط مستقیم کے طور پر انتخاب کیا ہے ۔اسی لئے ہر عصر اور ہر دور  کے نامور ادیب اور عالم کو یہ اعتراف کرنا پڑا کہ یہ مخلوق کے کلام سے بالاتر اور خالق کے کلام سے کمتر ہیں ۔کیوں نہ ہو چونکہ یہ ایک ہستی کا کلام ہے جس نے ببانگ دھل یہ اعلان کر دیا جو پوچھنا ہو پوچھ لو  علی ان سب کا جواب دینے کے لئے تیار ہے ۔

اہل بیت پیغمبرعلیہم السلامسے مراد وہ لوگ ہیں جن کا تعارف آیت تطہیر اور پیغمبر اسلامصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی احادیث میں آیاہے اور جنہیں ہر قسم کی خطاوٴں اور جملہ گناہوں سے پاک قرار دیاگیاہے ۔

ہم یہاں حضرت علی علیہ السلام کے فرامین اور افکار سے آشنا ہوتے ہیں جو در علم نبی اور حق و باطل کی شناخت کا معیار ہے۔آپؑ اہل بیت علیہم السلام کے مقام و منزلت کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں:{هم عیش العلم و موت الجهل.. ...لا یخالفون الحق ولا یختلفون فیه هم دعائم الاسلام و ولائج الاعتصام ، بهم عاد الحق فی نصابه و انزح الباطل عن مقامه .......}۱ یہ لوگ علم کی زندگی اور جہالت کی موت ہیں ۔یہ نہ حق کی مخالفت کرتے ہیں اور نہ حق کے بارے میں کوئی اختلاف کرتے ہیں ۔یہ اسلام کے ستون اور حفاظت کے مراکز ہیں۔انہی کے ذریعے حق اپنے مرکز کی طرف واپس آیا ہے اور باطل اپنی جگہ سے اکھڑ گیا ہے۔۔انہوں نے دین کو اس طرح پہچانا ہے جو سمجھ اور نگرانی کا نتیجہ ہے۔یہ صرف سننے اور روایت کا نتیجہ نہیں ہے اس لئے کہ علم کی روایت کرنے والے بہت ہیں اور اس کا خیال رکھنے والے بہت کم ہیں ۔۲

ایک اور مقام پر آپ ؑفرماتے ہیں :{ فاین یتاه بکم و کیف تعمهون و بینکم عترة نبیکم و هم أزمة الحق و اعلام الدین وألسنة الصدق فانزلوهم باحسن منازل القرآن وردوهم ورود الهیم العطاش}۳تمہیں بھٹکایا جا رہا ہے اور تم بھٹکتے جا رہے ہو ۔دیکھو تمہارے درمیان تمہارے نبی کی عترت موجود ہے ۔یہ سب حق کے زمام دار ،دین کے پرچم اور صداقت کے ترجمان ہیں۔انہیں قرآن کریم کی بہترین منازل پر جگہ دو اور ان کے پاس اس طرح سے وارد ہو جس طرح سے پیاسے اونٹ چشمے پر وارد ہوتے ہیں ۔۴

ابن ابی الحدید حضرت علی علیہ السلام کےکلام کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں : اگر کہا جائے کہ امام کا یہ کلام اہل بیت علیہم السلام کی عصمت پر دلالت کرتاہے تو آپ کی اس بارے میں کیا راےٴ ہے ؟ اس کے بعدجواب دیتے ہیں کہ ابو محمد بن متوبہ نے الکفایۃ میں صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے کہ علی ابن ابی طالب علیہ السلام معصوم ہیں اگرچہ ہم امام کی حیثیت سے ان کی عصمت کو واجب نہیں سمجھتے کیونکہ عصمت امامت کی شرائط میں شامل نہیں ہےجبکہ نصوص آپ ؑ کے معصوم ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔اصحاب پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلمکے مقابلےمیں یہ صفت آپ ؑکی ذاتی خصوصیت شمار ہوتی ہے ۔۵

اسی طرح ایک اور مقام پرآپؑ ا رشاد فرماتے ہیں :{انْظُرُوا أَهْلَ بَیْتِ نَبِیِّکُمْ فَالْزَمُوا سَمْتَهُمْ وَ اتَّبِعُوا أَثَرَهُمْ فَلَنْ یُخْرِجُوکُمْ مِنْ هُدًى وَ لَنْ یُعِیدُوکُمْ فِی رَدًى، فَإِنْ لَبَدُوا فَالْبُدُوا وَ إِنْ نَهَضُوا فَانْهَضُوا وَ لَا تَسْبِقُوهُمْ فَتَضِلُّوا وَ لَاتَتَأَخَّرُوا عَنْهُمْ فَتَهْلِکُوا.}۶اہل بیت پیغمبرعلیہم السلامپرنگاہ مرکوزرکھو اور ان  کے راستےکو اختیار کرو۔ان کے نقش قدم پر چلتے رہو کہ وہ نہ تمہیں ہدایت سے باہر لے جائیں گے اور نہ ہلاکت میں پلٹ کر جانے دیں گے۔ وہ ٹھہر جائیں توٹھہر جاوٴ اوراٹھ کھڑے ہوں تو کھڑے ہو جاوٴ ۔خبردار ان سے آگے نہ نکل جانا کہ گمراہ ہو جاوٴ گے اور ان سےپیچھے بھی نہ رہ جانا کہ ہلاک ہو جاوٴگے۔

امام علی علیہ السلام  ایک اور مقام پر فرماتے ہیں:{آل النبي عليه الصلاة و السلام هُمْ مَوْضِعُ سِرِّهِ وَ لَجَأُ أَمْرِهِ وَ عَيْبَةُ عِلْمِهِ وَ مَوْئِلُ حُكْمِهِ وَ كُهُوفُ كُتُبِهِ وَ جِبَالُ دِينِهِ بِهِمْ أَقَامَ انْحِنَاءَ ظَهْرِهِ وَ أَذْهَبَ ارْتِعَادَ فَرَائِصِهِ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لَا یُقَاسُ بِآلِ مُحَمَّدٍ(ص) مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَحَدٌ وَ لَا یُسَوَّى بِهِمْ مَنْ جَرَتْ نِعْمَتُهُمْ عَلَیْهِ أَبَدا،ً هُمْ أَسَاسُ الدِّینِ وَ عِمَادُ الْیَقِینِ، إِلَیْهِمْ یَفِی‏ءُ الْغَالِی وَ بِهِمْ یُلْحَقُ التَّالِی وَ لَهُمْ خَصَائِصُ حَقِّ الْوِلَایَةِ وَ فِیهِمُ الْوَصِیَّةُ وَ الْوِرَاثَةُ، الْآنَ إِذْ رَجَعَ الْحَقُّ إِلَى أَهْلِهِ وَ نُقِلَ إِلَى مُنْتَقَلِهِ}۷

وہ سر خداکے امین اوراس دین کے پناہ ہیں علم الٰہی کے محزن اورحکمتوں کے مرجع ہیں ،کتب آسمانی کی گھاٹیاں اوردین کے پہاڑ ہیں،انہی کے ذریعہ اللہ نے اس کی پشت کا خم سیدھا کیا اوراس کے پہلووں سے ضعف کی گھبراہٹ کو دورکی۔۔۔اس امت میں کسی کو آل محمدؐپر قیاس نہیں کیاجاسکتا،جن لوگوں پر ان کے احسانات ہمیشہ جاری رہے ہیں وہ ان کے برابرنہیں ہوسکتے ۔وہ دین کی بنیاداوریقین کے ستون ہیں آگے بڑ ھ جانے والے کوان کی طرف پلٹ کر آنا ہے اورپیچھے رہ جانے والےکو ان سے آکر ملنا ہے۔حق ولایت کی خصوصیات انہی کیلئے ہیں اورانہیں کے بارےمیں پیغمبرؐکی وصیت اورانہی کےلئے نبی کی وراثت ہے۔

ایک اور مقام پر فرماتے ہیں :{بِنَا اهْتَدَيْتُمْ فِي الظَّلْمَاءِ وَ تَسَنَّمْتُمْ ذُرْوَةَ الْعَلْيَاءِ وَ بِنَا أَفْجَرْتُمْ عَنِ السِّرَارِ} ۸ہماری وجہ سے تم نے گمراہی کی تیرگیوں میں ہدایت کی روشنی پائی ،اوررفعت وبلندی کی چوٹیوں پر قدم رکھااورہمارےسبب سےاندھیری راتوں کی اندھیاریوں سے صبح (ہدایت )کے اجالوں میں آگئے ۔

وحی الہی اس گھرانے میں نازل ہوئی  اور انہوں نے دین کی تعلیمات خود پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حاصل کی ہیں۔ اسی لئے اہل بیت علیہم السلام دین کی بنیاد اور علم و حکمت کا دروازہ ہے۔ امام علی علیہ السلام اس بارے میں فرماتے ہیں:{تَاللَّهِ لَقَدْ عُلِّمْتُ تَبْلِيغَ الرِّسَالَاتِ وَ إِتْمَامَ الْعِدَاتِ وَ تَمَامَ الْکلِمَاتِ وَ عِنْدَنَا أَهْلَ الْبَيْتِ أَبْوَابُ الْحُکمِ وَ ضِيَاءُ الْأَمْرِ }۹  خدا  کی قسم مجھے پیغاموں کے پہنچانے، وعدوں کے پورا کرنے اور آیتوں کی صحیح تاویل بیان کرنے کا خوب علم ہے اور ہم اہل بیت{نبوت} کے پاس علم و معرفت کے دروازے اورشریعت کی روشن راہیں ہیں۔

اہل بیت  عصمت و طہارت علیہم السلام تمام لغزشوں سے پاک و منزہ اور فتنوں سے دور ہیں ۔اس بارے میں امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں: {نَحْنُ أَهْلَ الْبَیْتِ مِنْهَا بِمَنْجَاةٍ وَ لَسْنَا فِیهَا بِدُعَاةٍ.}۱۰ ہم {اہل بیت رسول} ان فتنہ انگیزیوں کے {گناہ} سے بچے ہوں گے اور انکی طرف لوگوں کو بلانے میں ہمارا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔

ایک اورمقام پر اہلبیت علیہم السلام کو علم کا معدن اورحکمت کا سر چشمہ قراردیتے ہوئے فرماتے ہیں :{نَحْنُ شَجَرَةُ النُّبُوَّةِ وَ مَحَطُّ الرِّسَالَةِ وَ مُخْتَلَفُ الْمَلَائِكَةِ وَ مَعَادِنُ الْعِلْمِ وَ يَنَابِيعُ الْحُكْمِ نَاصِرُنَا وَ مُحِبُّنَا يَنْتَظِرُ الرَّحْمَةَ وَ عَدُوُّنَا وَ مُبْغِضُنَا يَنْتَظِرُ السَّطْوَة}۱۱   ہم نبوت کاشجرہ،رسالت کی منزل ،ملائکہ کی فرودگاہ ،علم کا معدن اورحکمت کاسرچشمہ ہیں۔ہماری نصرت کرنے والااورہم سے محبت کرنے والارحمت کے لئے چشم براہ ہے۔اورہم سے دشمنی وعنادرکھنے والے کو قہرالٰہی کامنتظررہناچاہیے۔

اہل بیت علیہ السلام علم کی زندگی اورجہالت کی موت ہیں۔اس بارے میں آپ فرماتے ہیں:{۔۔۔۔۔فَإنّهم عيش العلم ، وموت الجهل ، هم الذين يُخبركم حُكمُهم عن علمهم ، وصَمتُهم عن منطقهم ، وظاهرهُم عن باطنهم ، لا يخالفون الدين ، ولا يختلفون فيه ، فهو بينهم شاهدُ صادق ، وصامت ناطق}۱۲جوہدایت والے ہیں انہی(اہل بیت علیہ السلام )سے ہدایت طلب کرو وہی علم کی زندگی اورجہالت کی موت ہیں وہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کا{دیا ہوا} ہرحکم ان کے علم کا اوران کی خاموشی ان کی گویائی کاپتہ دےگی اوران کا ظاہر ان کے باطن کاآئینہ دارہے وہ نہ دین کی مخالفت کرتے ہیں اورنہ اس کے بارے میں باہم اختلاف رکھتے ہیں دین ان کے سامنے ایک سچاگواہ ہے اورایک ایسابے زبان ہے جوبول رہاہے۔

اہل بیت علیہم السلام آسمان امامت و ولایت کے درخشان ستارے ہیں جن کی عالمانہ وحکیمانہ رہنمائی اورہدایت کی وجہ سے ہی انسان دنیا و آخرت دونوں میں سرخرو ہو سکتے ہیں۔امام علی علیہ السلام اس بارے میں فرماتے ہیں:{أَلَا إِنَّ مَثَلَ آلِ مُحَمَّدٍ (صلی الله علیه وآله) كَمَثَلِ نُجُومِ السَّمَاءِ، إِذَا خَوَى نَجْمٌ طَلَعَ نَجْمٌ، فَكَأَنَّكُمْ قَدْ تَكَامَلَتْ مِنَ اللَّهِ فِيكُمُ الصَّنَائِعُ وَ أَرَاكُمْ مَا كُنْتُمْ تَأْمُلُون}۱۳ تمہیں معلوم ہونا چائیے کہ آل محمد ع آسمان کے ستاروں کے مانند ہیں جب ایک ڈوبتا ہے تو دوسرا ابھر آتا ہے۔گویا تم پر اللہ کی نعمتیں مکمل ہو گئی ہیں اور جس کی تم آس لگائے بیٹھے تھے وہ اللہ نے تمہیں دکھا دیا ہے۔

اہل بیت علیہم السلام کے بارے میں ہی قرآن کی نفیس آیتیں نازل ہوئی ہیں۔اس بارے میں امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام فرماتے ہیں:{نَحْنُ الشِّعَارُ وَ الأصْحَابُ وَ الْخَزَنَهُ وَ الأبوَابُ وَ لا تُؤْتَى الْبُیُوتُ إِلّا مِنْ أَبْوَابهَا فَمَنْ أَتَاهَا مِنْ غَیْرِ أَبْوَابهَا سُمِّیَ سَارِقاً فِیهمْ کَرَائِمُ الْقُرْآنِ وَ هُمْ کُنُوزُ الرَّحْمَنِ إِنْ نَطَقُوا صَدَقُوا وَ إِنْ صَمَتُوا لَمْ یُسْبَقُوا}    ۱۴ہم قریبی تعلق رکھنے والے اورخاص ساتھی اور خزانہ دار اوردروازے ہیں اورگھروں میں دروازوں ہی سے آیا جاتا ہے اور جو دروازوں کو چھور کر کسی اورطرف سے آئے اس کانام چور ہوتا ہے۔{آل محمد ع} انہیں کے بارے میں قرآن کی نفیس آیتیں اتری ہیں اور وہ اللہ کے خزینے ہیں۔اگر بولتے ہیں تو سچ بولتے ہیں اوراگرخاموش رہتے ہیں تو کسی کو بات میں پہل کا حق نہیں ۔

ائمہ اہلبیت علیہم السلام راسخون فی العلم ہیں ۔ہدایت کی طلب اور گمراہی سے نجات کی خواہش صرف انہیں سے ہی کی جاسکتی ہے۔ امامت ان کے علاوہ کسی اور کو زیب   نہیں دیتا اور نہ  ہی ان کے علاوہ کوئی اس عظیم منصب کا  اہل ہو سکتا ہے۔ امام علی علیہ السلام اس بارے میں فرماتے ہیں :{اَیْنَ الَّذِینَ زَعَمُوا اَنَّهُمُ الرّاسِخُونَ فِی الْعِلْمِ دُونَنا کَذِباً وَ بَغْیاً عَلَیْنا، اَنْرَفَعَنَا اللهُ وَ وَضَعَهُمْ وَ اَعْطانا وَ حَرَمَهُمْ وَ اَدْخَلَنا وَ اَخْرَجَهُمْ، بِنا یُسْتَعْطَى الْهُدى وَ یُسْتَجْلَى الْعَمى، اِنَّ الاَئِمَّهَ مِنْ قُرَیْش غُرِسُوا فِی هذَا الْبَطْنِ مِنْ هاشِم، لا تَصْلُحُ عَلى سِواهُمْ وَ لا تَصْلُحُ الْوُلاهُ مِنْ غَیْرِهِمْ}۱۵ کہاں ہے وہ لوگ کہ جو جھوٹ بولتے ہوئے اورہم پر ستم روا رکھتے ہوئے یہ ادعا کرتے ہیں کہ وہ راسخون فی العلم ہیں نہ ہم۔چونکہ اللہ نے ہم کو بلند کیا ہے اورانہیں گرایا ہے اورہمیں منصب امامت دیا ہے اور انہیں محروم رکھا ہے اورہمیں {منزل علم میں}داخل کیا ہے اورانہیں دور کر دیا ہے ہم ہی سے ہدایت کی طلب اور گمراہی کی تاریکیوں کو چھانٹنے کی خواہش کی جاسکتی ہے۔بلا شبہ امام قریش  میں سے ہوں گے جو اسی قبیلہ کی ایک شاخ بنی ہاشم کی کشت زار سے ابھریں گے۔نہ امامت کسی اور کو زیب دیتی ہے اور نہ ان کے علاوہ اس کا  اہل ہو سکتا ہے۔

کائنات  میں امام کی مثال جسم کے لئے قلب و دل کی مثال جیسی ہے۔اہل بیت علیہم السلام میں سے ایک فرد قیامت تک اس زمین پر حجت الہی ہیں اور زمین ابتدائے خلقت سےقیامت تک کبھی بھی حجت  الہی سے خالی نہیں ہو گی اوراگر زمین حجت خدا سے خالی ہو جائے تو وہ تمام اہل زمین کو اپنے اندردھنسا لے گی۔اس بارے میں امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں: {اَللّهُمَ بَلي لاتَخْلُو الاَرْضُ مِنْ قائِمٍ لِلّه بِحُجَهٍ ، اِمّا ظاهِراً مَشْهوراً وَ اِمّا خائِفاً مَغْمُوراً ، لِئَلاً تَبْطُلَ حُجَجُ اللّهِ وَ بَيِناتُهُ}۱۶ہاں مگر زمین ایسے فرد سے خالی نہیں رہتی کہ جو خدا کی حجت کو برقرار رکھتا ہے چاہے وہ ظاہر وہ مشہور یاخائف وہ پنہان تاکہ اللہ کی دلیلیں اور نشان مٹنے نہ پائیں۔

ائمہ اہل بیت علیہم السلام حقیقت میں قرآن کریم اور سنت نبوی کے ترجمان تھے۔ انہوں نے جوکچھ فرمایا  ہےوہ قرآن و سنت کی تفسیر ہے ۔جیساکہ قرآن و سنت کے بارے میں ذکر ہواہے کہ کوئی چیز ایسی نہیں جس کا ذکر قرآن کریم اور سنت نبوی میں موجود نہ ہو۔قرآن کریم اور سنت نبوی میں موجود علوم اور دینی احکام کو راسخون  فی العلم اور پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمکے علوم کے وارثوں  کے علاوہ کوئی اور نہیں جانتا جیساکہ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں :{ذلک القرآن فاستنطقوه،و لن ینطق و لکن اخبرکم عنه ،الا ان فیه علم ما یاتی والحدیث عن الماضی ودواء دائکم، و نظم ما بینکم}۱۷اور وہ یہی قرآن ہے۔اسے بلوا کر دیکھو۔ یہ خود نہیں بولے گالیکن میں اس کی ترجمانی کروں گا {یعنی حقایق اور معارف کو بیان کروں گا}یاد رکھو کہ اس میں مستقبل کا علم ہے اور ماضی کی داستان ہے۔تمہارے درد کی دوا اور تمہارے امور کی تنظیم کا سامان ہے ۔اسی طرح امام جعفرصادق علیہ السلام فرماتے ہیں:{کتاب الله،فیه نبا ما قبلکم و خبرمابعدکم و فصل ما بینکم و نحن نعلمه}۱۸           کتاب خدا میں تم سے پہلے اور جو تم سے بعد کی باتیں مذکور ہیں۔اس میں تمہارے باہمی نزاعات کا فیصلہ بھی ہےاور ہم ان سب باتوں کو جانتے ہیں ۔اسی طرح ایک اورمقام پرآپ ؑفرماتےہیں:{نحن راسخون فی العلم و نحن نعلم تاویله}۱۹    ہم ہی راسخون فی العلم اور ہم ہی تاویل قرآن کےجاننے والے ہیں۔نیز آپ ؑفرماتےہیں:{والله انی لاعلم کتاب الله من اوله الی آخره کانه فی کفی فیه خبر السماء و خبر الارض،و خبر ما کان و خبر ما هو کائن قال الله عزوجل :فیه تبیان کل شی}۲۰میں کتاب خدا کا اول سے آخر تک جاننے والا ہوں۔ گویا وہ میری مٹھی میں ہے۔ اس میں آسمان وزمین کی خبر ہے۔ جوکچھ ہو چکا ہے اور جو ہونے والا ہے وہ اس میں مذکورہیں خداوند متعال ارشاد فرماتا ہے :اس میں ہر شئے کا بیان ہے ،اس بارےمیں ائمہ اطہار علیہم السلام سےاور بھی بے شماراحادیث نقل ہوئی ہیں۔

حوالہ جات:

۱۔نہج البلاغۃ،خطبہ 239،ص825۔

۲۔[1]ترجمہ نہج البلاغۃ ،علامہ ذیشان حیدر جوادی ۔

۳۔نہج البلاغۃ ،خطبہ، 87۔

۴۔ترجمہ نہج البلاغۃ ،علامہ ذیشان حیدر جوادی۔

۵۔شرح نہج البلاغۃ ،ابن ابی الحدید، ج4 ،ص 131۔

۶۔نہج البلاغۃ،97۔

۷۔ نہج البلاغۃ ،خطبہ، ۲۔

۸۔ نہج البلاغۃ ،خطبہ، ۴۔

۹۔ نہج البلاغۃ ،خطبہ ۱۲۰

۱۰۔ نہج البلاغۃ ،خطبہ،۹۳۔

۱۱۔ نہج البلاغۃ ،خطبہ،۱۰۸

۱۲۔ نہج البلاغۃ ،خطبہ،۱۴۵۔

۱۳۔ نہج البلاغۃ ،خطبہ،۹۸۔

۱۴۔ایضا ً،خطبہ 157۔

۱۵۔ نہج البلاغۃ ،خطبہ،۱۴۲۔

۱۶۔ نہج البلاغۃ ،حکمت،۱۴۷۔

۱۷۔ نہج البلاغۃ ،خطبہ،۱۵۲۔

۱۸۔اصول کافی ،ج1،باب الرد الی الکتاب و السنۃ ،حدیث 9۔

۱۹۔ایضا ً،کتاب الحجۃ ،باب راسخین فی العلم ،حدیث4،ص 178۔

۲۰۔ایضا ً،باب ، انہم علمون الکتاب علم الکتاب کلہ،حدیث4،ص178۔

 

 

 

اس سے مربوط موضوعات

نہج البلاغہ میں عبادت کے اقسام
امام علی علیہ السلام نہج البلاغہ کے اندر عبادت کرنے والوں کی تین اقسام بیان فرماتے ھیں۔”اِنَّ قَوْماً عَبَدُوْا اللہَ رَغْبَۃً فَتِلْکَ عِبَادَۃُ التُّجَّارِ وَ اِنَّ قَوْماً عَبَدُوْا اللہَ رَہْبَۃً فَتِلْکَ عِبَادَةُ الْعَبِیْدِ، وَ اِنَّ قَوْماً عَبَدُوْا اللہَ شُکْراً فَتِلْکَ عِبَادَةُ الاٴحْرَارِ“۔[1] ”کچھ لوگ خدا کی عبادت کے انعام کے لالچ میں کرتے ھیں یہ تاجروں کی عبادت ہے اور کچھ لوگ خدا کی عبادت خوف کی وجہ سے کرتے ھیں یہ غلاموں کی عبادت ہے اور کچھ لوگ خدا کی عبادت خدا کا شکر بجالانے کی کے لئے کرتے ھیں یہ آزاد اور زندہ دل لوگوں کی عبادت ہے“۔ اس فرمان میں امام علیہ السلام نے عبادت کو تین قسموں میں تقسیم کیا ہے۔ پھلی قسم :تاجروں کی عبادت فرمایا: ”اِنَّ قَوْماً عَبَدُوْا اللہَ رَغْبَۃً فَتِلْکَ عِبَادَةُ التُّجَّارِ ۔۔۔“ یعنی کچھ لوگ رغبت اور انعام کے لالچ میں خُدا کی عبادت کرتے ھیں۔ امام فرماتے ھیں یہ حقیقی عبادت نھیں ہے بلکہ یہ تاجر لوگوں کی طرح خدا سے معاملہ کرنا چاہتا ہے۔ جیسے تاجر حضرات کا ھم و غم فقط نفع اور انعام ھوتا ہے۔ کسی کی اھمیت اُس کی نظر میں نھیں ھوتی۔ اسی طرح یہ عابد جو اس نیت سے خدا کے سامنے جھکتا ہے در اصل خدا کی عظمت کا اقرار نھیں کرتا بلکہ فقط اپنے انعام کے پیش نظر جھک رھا ھوتا ہے

بین الاقوامی

یمنی فوج کا جیزان ائرپورٹ اور الملک خالد کیمپ پر ڈرون حملہ

یمنی فوج کا جیزان ائرپورٹ اور الملک خالد کیمپ پر ڈرون حملہ یمنی سرکاری فوج اور اسلامی مزاحتمی تحریک انصاراللہ نے جیزان ائرپورٹ اور الملک خالد فوجی کیمپ پر ڈرون حملہ کیا ہے۔

ترکی کے سر پر امریکی پابندیاں منڈلانے لگیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ترکی کی سرزنش کے لیے پابندیوں کے پیکج پر متفق ہو گئی ہے۔ خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق ترکی اور روس کے درمیان دفاعی تعلقات کی پاداش میں امریکہ نے ترکی پر پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

امام خمینی

امام خمینی رح ایک مرد عارف

حضرت امام خمینی رح کے بارے میں عام طور پر جو بات ہمارے ہاں زیادہ مشہور ہے وہ یہ کہ آپ نے ایک ملوکیت اور بادشاہت کا خاتمہ کرکے ایک اسلامی اور مذہبی حکومت قائم کی۔ لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ استعماری طاقتوں کے خلاف تھے اور استعماری طاقتوں نے آپ کی حکومت کے خاتمے کے لیے اپنے پورے وسائل بروئے کار لائے لیکن وہ اس میں ناکام ہو گئیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ امام خمینی رح بہت شجاع اور بہادر تھے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ آپ نے ناجائز طور پر قائم صہیونی حکومت کے خاتمے اور فلسطینیوں کے حقوق کے حصول کے لیے بھی آواز بلند کی۔ آپ مستضعفوں اور محروموں کے حقوق کے بھی علمبردار تھے۔ آپ نے اتحاد امت کے لیے ایک زور دار آواز بلند کی۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ ایک عالم اور فقیہ تھے اور آپ کی تقلید کی جاتی تھی۔ بعدازاں آپ کا دیوان بھی چھپا اور پاکستان میں بھی بہت سے لوگوں کو معلوم ہوا کہ آپ صاحب دیوان شاعر بھی تھے، لیکن ابھی تک جو پہلو کم شناختہ یا ناشناختہ ہے وہ یہ ہے کہ آپ ایک بلند پایہ عارف تھے اور شاید یہ کہنا زیادہ بہتر ہو کہ آپ کے وجود سے پھوٹنے والی تمام تر خوبیوں کا سرچشمہ یہی امر ہے کہ آپ ایک عارف باللہ اور عاشق الٰہی تھے اور اس سلسلے میں نظری اور عملی طور پر نہایت عمق اور گہرائی کے مقام پر فائز تھے۔

امام خمینی رہ کی زندگانی پر ایک طائرانہ نظر

بیس جمادی الثانی 1320 ہجری قمری مطابق 24ستمبر 1902 عیسوی کو ایران کے صوبہ مرکزی کے شہرخمین میں بنت رسول حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی طیب وطاہر نسل کے خاندان میں آپ ہی کے یوم ولادت با سعادت پر روح اللہ الموسوی الخمینی کی پیدائش ہوئي۔ وہ اپنے آباؤ اجداد کے اخلاق حسنہ کے وارث تھے جنہوں نے نسل درنسل لوگوں کی ہدایت ورہنمائی اورمعارف الہی کے حصول کے لئے خود کو وقف کررکھا تھا۔ یہ وہ گھرانہ تھا جو اعلی علمی مفاہیم سے مکمل طور پر آشنا تھا ۔امام خمینی کے پدربزرگوار آیت اللہ سید مصطفی مرحوم جو آیت اللہ العظمی میرزای شیرازی کے ہم عصر تھے نجف اشرف میں اسلامی علوم کے اعلی مدارج طے کرنے کے بعد درجہ اجتہاد پر فائزہوئے اور پھر ایران واپس آگئے اور شہر خمین میں تبلیغ و ہدایت کے فرائض انجام دینے لگے۔ حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ کی ولادت کو ابھی پانچ ماہ سے زیادہ کا عرصہ نہیں گذرا تھا کہ حکومت وقت کے ایجنٹوں نے ان کے والد بزرگوار کی ندائے حق کا جواب بندوق کی گولیوں سے دیا اور انھیں شہید کردیا ۔

امام خامنہ ای

ایران بحری جہاز پر برطانوی حملے کا سخت جواب دے گا، امام خامنہ ای

ایران بحری جہاز پر برطانوی حملے کا سخت جواب دے گا، امام خامنہ ای امام خامنہ ای نے آئمہ جعمہ اور جماعات کے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ایران بحری جہاز پر برطانوی حملے کا سخت جواب دے گا۔

حج کے سیاسی پہلو پرعمل کرنا شرعی فریضہ اورعبادت ہے، امام خامنہ ای

حج کے سیاسی پہلو پرعمل کرنا شرعی فریضہ اورعبادت ہے، امام خامنہ ای امام خامنہ ای نے اسلامی جمہوریہ ایران کے ادارہ حج کے عہدیداروں اور کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:حج کے سیاسی پہلو پرعمل کرنا شرعی فریضہ اور عبادت ہے۔

کلام و عقائد

بدا قرآن و حدیث کی روشنی میں

ذات الٰہی کے بارے میں بدا، حقیقت میں ابدا و اظہار ہے۔ یعنی جو کچھ خدا کے علم میں ہے اور انسان کے علم میں نہیں، اسےخداوند متعال اظہار و آشکار کرتا ہے۔ اسے بدا، کہنے کا سبب یہ ہے کہ یہ مقام فعل الٰہی میں نمایاں ہوتا ہے، اگرچہ ذات الٰہی میں جہل اور تغییر محال ہیں۔ خداوند متعال انبیاء کرام پر غیبی طریقے سے نظر رکھتا ہے تاکہ یہ لوگ وحی کے پہنچانے میں خطا سے محفوظ رہیں۔ قرآن کریم اس بارے میں ارشاد فرماتا ہے، "لِّيَعْلَمَ أَن قَدْ أَبْلَغُواْ رِسَالَاتِ رَبهِّم" تاکہ وہ دیکھ لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات کو پہنچا دیا ہے۔ واضح ہے کہ خداوند متعال پہلے سے ہی آگاہ ہے کہ انبیاء، وحی الٰہی کو صحیح طریقے سے لوگوں تک پہنچائیں گے۔

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی علم کلام کےاہم مباحث میں سے ایک حسن و قبح عقلی کا بحث ہے ۔اس سے مراد یہ ہے کہ کچھ افعال ذاتی طور پر حسن {اچھے} اور کچھ افعال ذاتی طور پر قبیح{ برے} ہیں ۔ معتزلہ اور امامیہ حسن و قبح عقلی کے قائل ہیں جبکہ اشاعرہ اس کی نفی کرتے ہیں۔ بہت سے کلامی مسائل اس بحث پر موقوف ہیں مثلا انسان کا اپنے اعمال میں خود مختار ہونا،خدا وند متعال کی بعض صفات کمالیہ کا ثبوت جیسے خدا کا عادل ہونا،اسی طرح بعض صفات سلبیہ بھی اسی بحث پر موقوف ہے جیسے خدا سے قبیح کا سرزد نہ ہونا،خداکا ظلم نہ کرنا وغیرہ ۔ جو لوگ حسن اور قبح کے قائل ہیں وہ انسانی افعال میں انسان کو مختار،خدا کو عادل مانتے ہیں جبکہ حسن و قبح کے مخالفین انسان کو مجبور اور خداکی عدالت سے انکار کرتے ہیں ۔

تربیت اولاد

خاندانی منصوبہ بندی : ایک معاشرتی ضرورت یا دھوکہ!

خاندانی منصوبہ بندی کوآج کے دور میں مختلف مملک کی حکومتیں اپنی کامیاب ترین پالیسیوں میں شمار کرتی ہیں۔ آبادی کا کنٹرول اور چھوٹا خاندان خوشحالی کا ذریعہ سمجھاجاتا ہے۔ خصوصاً محدود وسائل رکھنے والے ممالک میں اس پالیسی کو زیادہ اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے

تعليم و تربيت کے بارے ميں اسلامي علما کي آرا و نظريات

تاريخ اسلام ميں تقريبا تمام علماء و دانشور مختلف علوم ميں مھارت رکھنے کے ساتھ ساتھ تعليم و تربيت ميں بھي صاحب نظر اور مھارت کے حامل ہوا کرتے تھے اس سے اسلام ميں تعليم وتربيت کي اھميت کا پتہ چلتا ہے لھذا ہم يہاں پر علما اسلام کي نظر ميں تعليم و تربيت کي اھميت اجاگر کرنے کے لئے ان کے بعض نظريات پيش کر رہے ہيں۔

تندرستی

معدے کی جلن دورکرنے میں دودھ مفید قرار

معدے کی جلن دورکرنے میں دودھ مفید قرار سینےاور معدے کی جلن کم کرنے کے لیے ایک گھریلو ٹوٹکا دودھ بھی ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ مرغن اور مصالحے دار غذاؤں کی سوزش کم کرتا ہے۔ لیکن اب ماہرین نے اس کےسائنسی ثبوت پیش کردیئے ہیں۔

غیر صحت مند خوراک کا استعمال سیگریٹ نوشی سے بھی زیادہ خطرناک

غیر صحت مند خوراک کا استعمال سیگریٹ نوشی سے بھی زیادہ خطرناک خراب غذا نہ صرف ہماری صحت کے لئے خرابی کا باعث ہے بلکہ دنیا بھر میں شرح اموات کی بڑھتی ہوئی تعداد میں اضافے کا سبب بھی ہے۔

مہدویت{امام زمان عج}

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی امامت کے اہداف میں سے ایک ہدف امام معصوم کا لوگوں کی باطنی ہدایت ہے۔ امام لائق اور پاکیزہ دل رکھنے والے افراد کو اپنی طرف جذب کر کے انہیں کمال تک پہنچاتے ہیں۔ واضح ہے کہ انسان کا اس طرح ہدایت سے ہمکنار ہونے کے لئے ضروری نہیں کہ وہ امام کے ساتھ ظاہری رابطہ برقرار کرے۔ گذشتہ بیانات کی روشنی میں امام زمانہ (عج) کو بادل کے پیچھے پنہان روشن آفتاب سے تشبیہ دینے کا مقصد بھی واضح ہو جاتا ہے۔ اگرچہ بادل کے پیچھے پنہان سورج سے انسان مکمل طور بہرہ مند نہیں ہوتا ہے لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ اس سے انسان کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا ہے۔ بہرحال امام زمانہ (عج) کے وجود کے آثار و برکات سے بہرہ مند نہ ہونے کا سبب انسانوں کی طرف سے خاص حالات کا فراہم نہ کرنا ہے، جس کی وجہ سے لوگ اس عظیم نعمت کے فوائد سے محروم ہیں اور اس محرومیت کا سبب وہ خود ہیں نہ کہ خداوند متعال اور امام، کیونکہ خداوند متعال اور امام کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی مشکل درپیش نہیں ہے۔

احادیث

حدیث ثقلین پر ایک اجمالی نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

حدیث ثقلین ان متواتراحادیث میں سےایک ہے جسے اہل تشیع و اہل تسنن دونوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیا ہے ۔اس معروف حدیث کا متن یہ ہے :{یاایها الناس انی تارک فیکم الثقلین ،کتاب الله و عترتی ، اهل بیتی ماان تمسکتم بهما لن تضلوا بعدی ابدا و انهما لن یفترقا حتی یرداعلی الحوض ،فانظروا کیف تخلفونی فیهما }۱پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :اے لوگو:میں تمہارے درمیان دوگرانقدر چیزیں چھوڑے جاتا ہوں ۔اگر تم ان کےساتھ تمسک کئے رہو گے توکبھی گمراہ نہ ہوگے ۔ان میں سے ایک کتابخداہے اور دوسری میریعترت۔ یہ دونوں کبھی جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ دونوں میرے پاس حوض کوثر پر پہنچ جائیں ۔تم خود سوچو کہ تمہیں ان دونوں کے ساتھ کیا رویہ رکھنا چاہیے ۔

امام علی علیہ السلام کی شانِ میں چہل حدیث

مولا علیؑ کی شان میں چالیس احادیث اور یہ ﻭﻩ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ہیں ﺟﻮ ﺻﺤﺎﺡ ﺳﺘﻪ ﻣﯿﮟ بھی موجود ہے. 1= ﻋﻨﻮﺍﻥ ﺻﺤﻴﻔﺔ ﺍﻟﻤﺆﻣﻦ ﺣﺐّ ﻋﻠﻰؑ ﺑﻦ ﺍﺑﻰ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ. ﺻﺤﯿﻔﮧ ﻣﻮﻣﻦ ﮐﺎ ﻋﻨﻮﺍﻥ ﻣﺤﺒﺖِ ﻋﻠﯽؑ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻃﺎﻟﺐؑ ﮨﮯ.

چہاردہ معصومین ع

زرتشتی عالم سے امام رضا علیہ السلام کا مناظرہ

امام علی رضا علیہ السلام کو خراسان طلب کرنے کے بعد سے مامون اپنے مختلف اہداف و مقاصد کے مد نظر تمام ادیان و مذاہب کے علماء کو امام (ع) کے ساتھ مناظرہ کرنے کی دعوت دیا کرتا تھا۔ یہ مناظرہ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے جو اس زمانہ کے بزرگ زرتشتی عالم کے ساتھ امام رضا (ع) نے انجام دیا ہے۔

حضرت امام صادق علیہ السلام کی علمی خدمات

حضرت امام صادق علیہ السلام کی علمی خدمات تاریخ تشییع اس بات پر گواہ ہے کہ حضرت ختمی مرتبت کے زمانے سے غبیت کبری تک آئمہ معصومین کی رہبریت، قیادت اور حکمت عملی میں ایک غیرمعمولی طریقہ کار کا تسلسل رہا ہے۔

سب سے زیادہ زیر بحث

امام علی علیہ السلام کی شانِ میں چہل حدیث

مولا علیؑ کی شان میں چالیس احادیث اور یہ ﻭﻩ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ہیں ﺟﻮ ﺻﺤﺎﺡ ﺳﺘﻪ ﻣﯿﮟ بھی موجود ہے. 1= ﻋﻨﻮﺍﻥ ﺻﺤﻴﻔﺔ ﺍﻟﻤﺆﻣﻦ ﺣﺐّ ﻋﻠﻰؑ ﺑﻦ ﺍﺑﻰ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ. ﺻﺤﯿﻔﮧ ﻣﻮﻣﻦ ﮐﺎ ﻋﻨﻮﺍﻥ ﻣﺤﺒﺖِ ﻋﻠﯽؑ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻃﺎﻟﺐؑ ﮨﮯ.

دعا کی اہمیت

دعا کی اہمیت حضرت انسان کس قدر شرف و عظمت کا مالک ہے،اس کے لئے کائنات بنی،پوری کائنات میں اسی کو عزت و تکریم کا حق دار ٹھہرایا گیا۔تمام مخلوق اس کی خدمت اور منفعت کے لئے پیدا کی گئی۔لیکن اتنی عظمتوں کے باوجود اس کی خلقت کا مقصد اللہ کی معرفت اور عبادت قرار دیا گیا۔لہذا انسان کا اہم کام خدا سے ارتباط و ربط ہے۔مگر کیسا رابطہ؟ اتنی عظمتوں کے باوجود بارگاہ خداوندی میں فقر محض اور احتیاج محض ہے جبکہ ذات پروردگار غناء ہی غناء ہے۔بلندی ہی بلندی ہے۔انسان مشکلات،مصائب اور تکالیف میں ایسی ذات کی طرف رجوع کر کے اپنے فقر اور احتیاج محض ہونے کا اقرار و اعتراف کرتے ہوئے اپنی نفی اور بے ثباتی کا اظہار کرتا نظر آتا ہے۔اس سلسلے میں انسان کا ایک اہم وسیلہ دعا ہے۔دعا کے ذریعے اپنی احتیاج کا اظہار بھی کرتا ہے اوراللہ سے اعانت کی التجا بھی کرتا ہے۔

قرآنِ کریم اور اصلاحِ معاشرہ تحریر: عارف حسین تھہیم

لفظِ ’’اصلاح‘‘ درست کرنے، صحیح کرنے اور خرابی کو دُور کے معنی میں آتا ہے۔ معاشرتی اور اجتماعی مفہوم کے اعتبار سے شائستہ اور نیک عمل انجام دینے، نیز فساد و تباہی کو ختم کرنے کے لیے بھی اصلاح کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ ارشادِ پروردگار ہے: ﴿ إِلاَّ الَّذِينَ تَابُواْ وَأَصْلَحُواْ وَبَيَّنُواْ فَأُوْلَئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ﴾[1]؛ ’’سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے توبہ کی اور اپنے کئے کی اصلاح کر لی اور (جس کو چھپایا ہوا تھا) واضح کر دیا تو ایسے ہی لوگوں کی توبہ میں قبول کرتا ہوں اور بےشک میں بڑا توبہ قبول کرنے والا اور بہت مہربان ہوں۔‘‘ حقیقی توبہ میں گذشتہ بُرائی اور فساد کا دُور کرنا اور آئندہ بُرائی و فساد سے بچے رہنے کا تہیہ کرنا ضروری ہے۔ شائستہ اور صالح معاشرے کی تشکیل کا ہدف اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی دُنیوی و اُخروی اور مادی و معنوی ضرورتوں کو پورا کیا جائے؛ لہٰذا صالح معاشرے کی خصوصیات یہ ہیں کہ اس میں ہر ایک کی جان، مال، عزّت و آبرو اور ناموس محفوظ ہوتی ہے، لوگوں کی درمیان مہر و محبت اور اپنائیت کا راج ہوتا ہے اور سب لوگ روحانی و معنوی لحاظ سے پُرسکون اور مطمئن ہوتے ہیں۔

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ بسم اللہ الرحمن الرحیم بنام خدائے رحمن و رحیم اٴَللّٰھُمَّ اِنّيِ اٴَسْاٴَ لُکَ بِرَحْمَتِکَ الَّتي وَ سِعَتْ کُلَّ شَيْءٍ،وَ بِقُوَّتِکَ الَّتي قَھَرْتَ خدایا میراسوال اس رحمت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر محیط ھے۔ اس قوت کے واسطہ سے ھے جو ھر چیز پر حاوی ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ،وَخَضَعَ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ،وَذَلَّ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ، وَبِجَبَرُوتِکَ الَّتي غَلَبْتَ اور اس کے لئے ھر شے خاضع اور متواضع ھے۔ اس جبروت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر غالب ھے اور اس عزت کے واسطہ سے ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ، وَ بِعِزَّتِکَ الَّتي لاٰ یَقُومُ لَھٰا شَيْءٌ، وَبِعَظَمَتِکَ الَّتي مَلَاٴَتْ کُلَّ جس کے مقابلہ میں کسی میں تاب مقاومت نھیں ھے۔اس عظمت کے واسطہ سے ھے جس نے ھر چیز کو پر کردیا ھے شَيْءٍ، وَ بِسُلْطٰانِکَ الَّذي عَلاٰ کُلَّ شَيْءٍ، وَبِوَجْھِکَ الْبٰاقي بَعْدَ فَنٰاءِ کُلِّ شَيْءٍ،

تلاوت قرآن کی فضیلت

'پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا، جو شخص رات کو دس آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام غافلین (جو یاد خدا سے بے بہرہ رہتے ہیں) میں نہیں لکھا جائے گا اور جو شخص پچاس آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام ذاکرین (جو خدا کو یاد کرتے ہیں، حرام و حلال کا خیال رکھتے ہیں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص سو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام قانتین (عبادت گزاروں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص دوسو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام خاشعین (جو خدا کے سامنے متواضع ہوں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص تین سو آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام سعادت مندوں میں لکھا جائے گا، جو شخص پانچ ہزار آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام عبادت اور پرستش خدا کی کوشش کرنے والوں میں لکھا جائے گا اور جو شخص ہزار آیتوں کی تلاوت کرے وہ ایسا ہے جیسے اس نے کثیر مقدار میں سونا راہ خدا میں دے دیا ہو۔،،

تربیت اولاد کے انمول اصول تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

لغت کی کتابوں میں لفظ" تربیت" کے لیے تین اصل اور ریشہ ذکر ہوئے ہیں۔ الف:ربا،یربو زیادہ اور نشوونما پانےکے معنی میں ہے۔ ب: ربی، یربی پروان چڑھنا اور برتری کے معنی میں ہے۔ج: رب،یرب اصلاح کرنے اور سرپرستی کرنے کے معنی میں ہے۔۱صاحب مفردات کا کہنا ہے کہ "رب" مصدری معنی ٰ کے لحاظ سے کسی چیز کو حد کمال تک پہچانے ، پرورش اور پروان چڑھانے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ۲ صاحب التحقيق کا کہنا ہے اس کا اصل معنی ٰ کسی چیز کو کمال کی طرف لے جانے ، نقائص کو تخلیہ اور تحلیہ کے ذریعےرفع کرنے کے معنی ٰ میں ہے۔۳ بنابر این اگر اس کا ريشه(اصل) "ربو" سے ہو تو اضافہ کرنا، رشد ، نمو اور موجبات رشد کو فراہم کرنے کے معنی ٰ میں ہےلیکن ا گر "ربب" سے ہو تو نظارت ، سرپرستي و رهبري اور کسی چیز کو کمال تک پہنچانے کے لئے پرورش کے معنی ٰ میں ہے۔

اقوال حضرت امام علی علیہ السلام

قال علی علیہ السلام :وا علم ان الخلائقییی لم یوکدوا بشئی اعظم من التقویٰ فانہ وصیتنا اھل البیت (۱) ترجمہ: حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں : لوگوں کو تقویٰ سے زیادہ کسی چیز کی تاکید نھیںکی گئی اس لئے کہ یہ ھم اھل بیت کی وصیت ھے ۔ حدیث (۲)

پیٹ کا درد کئی امراض کی علامت ہوسکتا ہے

اگر پیٹ میں درد ہورہا ہو تو اس کی کئی وجوہ ہوسکتی ہیں۔ اکثر ناقص غذا کی وجہ سے معدے میں تکلیف ہونے لگتی ہے جسے ہم پیٹ کے درد سے تعبیر کرتے ہیں۔ معدے کا درد کئی امراض کی علامت بھی ہوسکتا ہے، اس لیے اسے نظرانداز نہیں کرنا چاہیے اور بلاتاخیر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

مشاہدات

آج

1328

کل

481

اس ماہ

18184

اس سال

104865

ٹوٹل مشاہدات

274093