علماء کونسل کچورا سکردو بلتستان

متن

اعجاز قرآن پر ایک اجمالی نظر

تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

پیغمبر اکرم ؐ  کے بہت سارے معجزات نقل ہوئے ہیں جیسے آپ کے سر  مبارک پر بادل کا  سایہ کرنا،آپ کے دست مبارک پر کنکریوں کا تسبیح کہنا غزوہ تبوک سے واپسی پر آپ کی انگلیوں کے درمیان سے پانی کا پھوٹنا اور بہت  سارے اصحاب کا سیراب ہونا،چاند کے دو ٹکڑے ہو جانا اور واقعہ معراج   وغیرہ۔ان تمام معجزوں  میں سے قرآن کریم پیغمبر اکرم  کا اہم ترین معجزہ ہے۔خداوند متعال نے ان لوگوں کے سوال کے جواب میں جو کہتے  تھے  کہ پیغمبر اکرم ّ کیوں معجزہ نہیں رکھتے ،قرآن مجید کو پیغمبر اکرم ّ کا معجزہ قرار دیا ۔{اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ کہ آخر ان پر پروردگار کی طرف سے آیت کیوں نہیں نازل ہوتی ہیں تو آپ کہ دیجئے  کہ آیات سب اللہ کے پاس ہیں اور میں تو صرف واضح طور پر عذاب الہی سے ڈرانے والاہوں ۔کیا ان کے یہ کافی نہیں کہ ہم نے آپ پر کتاب نازل کی ہے جس کی ان کے سامنے تلاوت کی جاتی ہے اور یقینا اس میں رحمت اور ایماندار قوم کے لئے یاد دہانی کا سامان موجود ہے ۔

اعجاز قرآن کی خصوصیات

 زمان بعثت کے رایج فنون کے مطابق :

انبیاء الہی کے معجزات غالبا اسی عصر کے فنون اور علوم کے ساتھ ہماہنگ تھے ۔دانشمند ان ان معجزات کے مطالعے کے بعد ان کے خارق العادہ ہونے کا اعتراف کرتے ہیں ۔جیسے حضرت موسی[ع] کے زمانے میں جادو بہت عروج پر تھا اس لئے آپ  جادو سے مشابہ ایک معجزہ لے کر آئے اور جب ساحران فرعون نے عصا کو سانپ ہوتے دیکھ لیا تو اس عمل کو خارق العادہ قرار دیے اوراسی وقت حضرت موسی ؑ پر ایمان لےآئے ۔{ اور ہم نے موسی کواشارہ کیا کہ اب تم بھی اپنا عصا ڈال دو وہ ان کے تمام جادو کے سانپوں کو نگل جائے گا ۔نتیجہ یہ ہوا کہ حق ثابت ہوگیا اوران کاکاروبار باطل  ہوااور سب مغلوب و ذلیل ہو کر واپس  چلے گئے اور جادوگر سب کے سب سجدے میں گرپڑے ۔

حضرت عیسی  ؑکے زمانےمیں شام اور فلسطین میں طب یونان رایج تھا اور اس زمانےکے معالج مختلف بیماروں کےعلاج کےذریعے سے لوگوں کو حیران کرتے تھے اور لوگ اس پر تعجب کرتے تھے اس زمانے میں حضرت عیسی [ع]نےمردوں کو زندہ کر کے اور ناقابل علاج مریضوں کا معالجہ کر کےثابت کر دیا کہ ان کا رابطہ کسی ماورائی طبیعت سے ہے ۔پیغمبر اکرم  ّ کے زمانےمیں فصاحت و بلاغت اپنےعروج پر تھیں اور اعراب شعر و شاعری میں مشہور تھے اور کوئی  بھی ان کےفصاحت و بلاغت کے معیارتک نہیں پہنچ پاتاتھا ۔اس زمانے میں خدا وند متعال نےقرآن کریم  کو فصاحت و بلاغت کے بالاترین مرتبے کے ساتھ نازل کیا  تاکہ کوئی قرآن  کےمعجز ہ ہونے کےبارےمیں شک نہ کرے ۔

ابن سکیت اس بارے میں  امام رضا  ٰ {ع} سے نقل کرتا ہے[میں نےان سےپوچھا کہ  خدا وند متعال نےکیوں حضرت موسی ؑکو عصاو ید بیضا اور جادو ختم کرنے والا معجزہ اور حضرت عیسی ؑکو طبابت اور حضرت محمد ّکو قرآن و کلام الہی کے ساتھ بھیج دیا ؟آپ نے فرمایا :جب خدا وند متعال نے حضرت موسی ؑکو مبعوث کیا تو اس زمانے میں معاشرے میں سحر و جادو کا غلبہ  تھا اس وقت حضرت موسی ؑ آئے اور سحر و جادو کو ختم کر دیا اور لوگوں پر اس طرح حجت تمام کی اور حضرت عیسیؑ کو اس زمانےمیں مبعوث کیا کہ فالج کی بیماری زیادہ ہو چکی تھی اور لوگ اسی بیماری کے علاج کی طرف محتاج تھے اس لئے حضرت عیسی [ع] اپنےپروردگار کی طرف سےایسی بےمثال چیز لےکر آئےاور وہ خد اکی اجازت سے مردوں کو زندہ کرتے ،نابیناوں کو بینائی دیتے اور جذام جیسی سخت بیماری سےنجات دیتے ۔انہوں نےاس طرح لوگوں پر حجت تمام کی اور حضرت محمد  ّ کو ایسے زمانےمیں مبعوث کیا کہ خطابت او رشاعری زیادہ رایج ہو چکی تھیں اس وقت حضرت محمد  ّ خدا کی طرف سے ایسے دستورات اور نصایح لے کر آئے کہ اعراب کی خطابت و شاعری کو ختم کر کے رکھ دیا اور اس طرح آپ نے  لوگوں پر حجت تمام کی۔میں نےعرض کیا خدا کی قسم کسی کو بھی آپ کی طرح نہیں دیکھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔{

جاودانگی :

اسلام آخری دین آسمانی اور پیغمبر اسلام آخری پیغمبر ّ ہیں قرآن مجید ارشاد فرماتا ہے [محمد تم میں سے کسی کا باپ نہیں  ہیں لیکن وہ رسول خدا اورخاتم الرسل ہیں اور خداوند متعال تما م چیزوں کا علم رکھتا ہے ] قرآن کریم قیامت تک آنے والی  نسلوں کے لئے رسالت پیغمبر برھان و دلیل ہے ۔امام رضا[ع]قرآن کریم کی جاودانگی کے بارے میں فرماتے ہیں :قرآن کریم کسی خاص زمانے کے لئے نہیں بھیجا گیا ہےبلکہ یہ تمام انسانوں پر حجت و برہان ہے ،باطل کے لئےاس میں کوئی گنجائش نہیں اور یہ خدا وند کی طرف سے  نازل ہوا ہے ۔اس حدیث شریف میں جاودانگی قرآن کے راز کو دو نکات میں خلاصہ کیا گیا ہے۔پہلا: یہ کہ قرآن خداوند متعال کی طرف سے نازل ہوا ہے اور باطل کی اس تک رسائی ممکن نہیں اور یہ ہر قسم کی تحریف سے محفوظ ہے۔دوسرا:انسان ہمیشہ دین آسمانی کی طرف محتاج ہے اور دین اسلام آخری دین آسمانی ہے اس لئے کسی پائیدار معجزے کی ضرورت ہے۔

اعجاز بیانی یا لفظی قرآن کریم

اعجاز قرآن کی ایک صورت اعجاز لفظی و بیانی قرآن ہے اور یہ اعجاز متکلمین و مفسرین کے درمیان بہت مشہور ہے عرب  صدر اسلام میں فصاحت و بلاغت میں  بہت مہارت رکھتے تھے اور اعجاز لفظی و بیانی قرآن کو صحیح طریقے سے تشخیص دے سکتے تھے

لیکن اس بات کو مد نظر رکھنا چائیے کہ  تنہااعجاز لفظی و بیانی معجزہ ٴ قر آن نہیں ہے کیونکہ پیغمبر اسلام تمام لوگوں کے لئے مبعوث ہوئے ہیں۔{اور پیغمبر ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لئے صرف بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے یہ اور بات ہے کہ اکثر لوگ اس حقیقت سے باخبر نہیں ہیں ] اسی طرح قرآن کریم بھی ایک آسمانی کتاب ہے جو تمام انسانوں کے لئے نازل ہوئی ہے ۔[۔۔اور میری طرف سے اس قرآن کی وحی کی گئی ہے تاکہ اس کےذریعے میں تمھیں اور جہاں تک یہ پیغام پہنچے ،سب کو ڈراوں ۔۔۔۔۔۔۔]اسی لئے قرآن مجید مختلف جہات سے معجزہ ہے تاکہ تمام لوگ اعجاز قرآن سےفائدہ لے سکیں ۔

انس و جن کے لئے قران نے جو چیلنج کیا ہے اس سے بھی  یہ بات سمجھ  سکتے ہیں کیونکہ اگر اعجاز قرآن صرف لفظی اور بیانی ہو تو تحدی قرآن عرب کے فصحاء و بلغاء کے ساتھ مختص ہو جاتا ہےاور دوسرے لوگوں کے لئے قرآن کا چیلنج بے معنی ہو کررہ جاتا ۔۱۲ اکثر مفسرین و متکلمین قرآن مجید کو از لحاظ الفاظ و معانی  معجزہ قرار دیتے ہیں ۔

فصحای عرب کے اعترافات :

فصحای عرب میں سے ایک گروہ کا نام جو  اعجاز قرآن کے معترف تھا تاریخ میں ثبت ہو چکا ہے ۔ان میں سے بعض  افراداعجاز قرآن کی شناخت کے بعد پیغمبر اکرم ّ پر ایمان لے آئےلیکن بعض افراد نے اپنی نفسانی خواہشات کی وجہ سے اعجاز قرآن سے انکار کیا ۔

ولید بن مغیرہ جو بزرگان عرب میں  سےتھا اور شعراء اپنے اشعار کو اس کے سامنے پڑھ لیا کرتے تھے تاکہ وہ بہترین اشعار کا انتخاب کرے۔ایک دن اس نے پیغمبر اکرم ّ سے قرآن پڑھنے کی درخواست کی ۔پیغمبر اکرم  ّ نے سورۃ فصلت کی تلاوت فرمائی اور جب تیرھویں آیت پر پہنچے تو ولید لرزنے لگا اور اپنے گھر کی طرف گیا اور دوبارہ قریش کی طرف نہیں آیا ۔قریش جب اس موضوع سے آگاہ ہوا تو ابوجہل کو یہ خبر دی کہ ولید بن مغیرہ دین محمد ؐکے گرویدہ ہو چکاہے ۔ابو جہل اس کے پاس گیا اور اس کی سرزنش کی۔ولید نے کہا میں دین اسلام کا گرویدہ نہیں ہو چکا ہوں بلکہ ایسا کلام سن چکاہوں جو انسان کو لرزاتا ہے۔ابوجہل پوچھتا ہے یہ کلام شعر تھا یا خطابت ؟ولید کہتا ہے نہ شعر تھا اور نہ خطابت چونکہ میں اشعار اور خطابت کی پہچان رکھتا ہوں۔ابوجہل کہتا ہے پس کیا کرے ؟ ولید نے کہا مجھے کل تک مہلت دو تاکہ اچھےطریقے سے اس کے بارے میں سوچ سکوں ۔ایک دن بعد اس نے  قریش سے کہا کہ قرآن جادو ہے ۔لہذا خداوند متعال نے سورہ مدثر کی گیارویں آیت سے اکتیسوں آیت تک اس بارے میں نازل کی ہے ۔

ہشام بن حکم کہتا ہے : حج کے ایام میں ابن ابی العوجاء،ابوشاکر دیصانی ،عبد الملک بصری اور ابن مقفع خانہ کعبہ کےاطراف میں جمع ہو گئے اور حجاج کی توہین اور قرآن کو لعن و طعن کرنے لگے ۔ان میں سے ہر ایک نے ارادہ کیا کہ ایک چوتھائی قرآن کا مقابلہ کرے اور آیندہ سال حج کے ایام میں وہ کلام پیش کرے۔اور جب حج کا موسم شروع ہو ا  توابن ابی العوجا ء کہتاہے: میں اسی وقت اس آیت کے بارے میں سوچنے لگا [اور جب وہ لوگ یوسف کی طرف سے مایوس  ہو گئے تو الگ جا کر مشورہ کرنے لگے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔}لیکن اس آیت کی فصاحت و بلاغت کے ساتھ کوئی چیز بھی اضافہ نہ کر سکا اور اسی آیت نے مجھے دوسری آیتوں کے بارے میں سوچنےسے روک دیا ۔

عبد الملک کہتاہے :میں اس آیت کے بارےمیں سوچنے لگا[انسان تمہارے لئے ایک  مثال کے طور پر بیان کیا گیا ہے لہذا اسے غور سے سنو ۔یہ لوگ جنہیں تم خدا کو چھوڑ کر آواز دیتے ہو یہ سب مل بھی جائیں تو ایک مکھی نہیں پیدا کر سکتے اور اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے تو یہ اس سےچھڑا بھی نہیں سکتے کہ طالب و مطلوب دونوں  بہت ہی کمزور ہیں ۔

ابو شاکر کہتا ہے : میں اسی زمانےمیں اس آیت کے بارےمیں فکر کرنے لگا[یاد رکھو اگر زمین و آسمان میں اللہ کے علاوہ اور کوئی خدا ہوتا توزمین و آسمان دونوں برباد ہو جاتے عرش کامالک پروردگار ان کی باتوں  سےبالکل پاک و پاکیزہ ہے ۔

ابن مقفع کہتاہے :اے دوستو: یہ قرآن کسی بشر کا کلام نہیں ہو سکتا،میں بھی اس آیت کے بارے میں سوچتے  سوچتے رہ گیا[اورقدرت کا حکم ہوا کہ اے زمین اپنے پانی کو نگل لے اوراے آسمان اپنے پانی کو روک لے اور پھر پانی گھٹ گیا اور کام تمام کر دیا گیا اور کشتی کوہ جودی پر ٹھہر گئی اورآواز آئی کہ ہلاکت قوم ظالمین کے لئے ہے ۔]۲۴ لیکن اس کی حقیقی شناخت نہ ہو سکی اور اس طرح کے کلام پیش کرنے سے عاجز آگیا ۔ہشام کہتاہے جب امام صادق[ع]ان کے پاس سے گزرے اور آپ نےاس آیت کی تلاوت کی[آپ کہ دیجئے کہ اگر انسان اور جنات سب اس بات پر متفق ہو جائیں کہ اس قرآن کی طرح کوئی کلام لےآئیں تو کبھی نہیں لاسکتے چاہے سب ایک دوسرے کےمددگار اور پشت پناہ ہی کیوں نہ بن جائیں۔]وہ لوگ تعجب سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے اورکہنےلگے کہ اگراسلام حقیقت ہے توصرف جعفر ابن محمد ہی محمد ؐ کا حقیقی جانشین ہو سکتاہے ،خدا کی قسم ہر گز ان لوگوں کو نہیں دیکھامگر سب ان کی ہیبت سے لرزنےلگے اوراپنی ناتوانی کا اعتراف کرتے ہوئے پراگندہ ہو گئے۔

اعجاز قرآن بہ لحاظ محتوی ومعارف:

اعجاز قرآن کریم کا ایک جہت محتوی و معارف قرآن ہے ۔بہت سارےمتکلمین اور مفسرین نے اس جہت کی تصریح کی ہے۔یہاں تک کہ ان میں سے بعض نے محتوی و معارف قرآن کریم کی جہت کو اہم ترین وجہ قرار دی ہے ۔

خداوند متعال قرآن کریم کی اس طرح  توصیف کرتا ہے:[اور ہم نے آپ پر کتاب نازل کی ہے جس میں ہر شے کی وضاحت موجود ہے اور یہ کتاب اطاعت گذاروں کے لئے ہدایت ،رحمت اور بشارت ہے ۔ یعنی قرآن کریم  ہدایت  ہے اور تمام حقایق اور معارف کو جو انسان کی سعادت کے لئے ضروری ہیں بیان کرتا ہے ۔قرآن کریم منکرین رسالت کے بارے میں فرماتاہے ۔[تو آپ کہ دیجئے کہ اچھا تم پرودرگار کی طرف سے کوئی کتاب لے آو ٴجو دونوں سے زیادہ صحیح ہو اور میں اس کا اتباع کر لوں اگر تم اپنی بات میں سچے ہو۔]یہ آیت قرآن کریم کے محتوی اور معارف کے ذریعے سے چیلنج  کرتی ہے نہ فصاحت و بلاغت کے ذریعے سے ،کیونکہ ہدایت میں جو چیز نقش رکھتی ہے وہ محتوی ومعارف قرآن ہے ۔

حوالہ جات:

1.          عنکبوت ،50،51۔ترجمہ علامہ ذیشان جوادی ۔

2.            اعراف،۱۱۷،۱۲۰۔

3.            ابوبکر باقلانی ،الانصاف ص۶۱۔ابوالحسن ماودی ،اعلام النبوۃ،ص۱۳۶۔عبد الرازاق لاہیجی،گوہر مراد،ص۳۸۵۔

4.            محمد بن یعقوب کلینی ،اصول کافی ،ج۱،کتاب العقل و الجھل ،ج۲۰

5.            احزاب ،۴۰۔

6.            ابو القاسم خوئی ،البیان ،ص ۵۴۔البوا لحسن ماوردی،اعلام النبوۃ۔

7.            الامام رضا،مسند، ج۱ کتاب التفسیر،باب فضل القرآن ،ص ۳۰۹،ح ۱۳۔

8.            عبد اللہ جواد آملی،علی بن موسی الرضا و القران الکریم ،ص۱۲،۱۳۔

9.             روح اللہ خمینی ،تبیان آثار موضوعی ،ص ۶۱۔

10.           سباء،۲۸۔

11.            انعام ،۱۹۔

12.           محمد حسین طباطبائی ۔المیزان ،ج۱۰،ص ۱۶۳،ج۱،ص۵۸۔

13.           یوسف،۸۰

14.           حج،۷۳۔

15.           انبیاء،۲۲۔

16.           ہود،۴۴۔

17.           اسراء،۸۸۔

18.           احمد بن علی طبرسی،الاحتجاج ،ج۲،ص ۱۴۲۔

19.            محسن فیض کاشانی ،علم القین ،ج۱،ص۴۸۶۔

20.          نمل،۸۹۔

21.           محمد حسین طباطبائی ،المیزان ،ج۱۲،ص۳۲۴۔

22.          قصص،۴۹۔

23.          عبد اللہ جواد آملی،تفسیر موضوعی قرآن کریم ،ج۱،ص۱۳۸۔ابوالحسن شعرانی ،شرح تجرید،ص۵۰۱۔

24.          ہود،۴۹،یوسف۱۰۲،آل عمران۴۴۔

25.          بقرۃ،۷۶۔

26.          آل عمران،۷۲۔

27.          قصص،۸۵۔

28.          محمد باقر مجلسی ،حیوۃالقلوب،ج۲،ص۱۵۹۔

29.           محمد حسین طباطبائی ،المیزان ،ج۱۶،ص۸۶،۸۸۔

30.          روم،۲،۴۔

31.           ابوا لقاسم خوئی ،البیان ،ص۸۳۔محمد حسین طباطبائی ،المیزان،ج۱،ص۶۵۔

 

 

 

 

 

 

 

 

اس سے مربوط موضوعات

قرآنِ کریم اور اصلاحِ معاشرہ تحریر: عارف حسین تھہیم
لفظِ ’’اصلاح‘‘ درست کرنے، صحیح کرنے اور خرابی کو دُور کے معنی میں آتا ہے۔ معاشرتی اور اجتماعی مفہوم کے اعتبار سے شائستہ اور نیک عمل انجام دینے، نیز فساد و تباہی کو ختم کرنے کے لیے بھی اصلاح کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ ارشادِ پروردگار ہے: ﴿ إِلاَّ الَّذِينَ تَابُواْ وَأَصْلَحُواْ وَبَيَّنُواْ فَأُوْلَئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ﴾[1]؛ ’’سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے توبہ کی اور اپنے کئے کی اصلاح کر لی اور (جس کو چھپایا ہوا تھا) واضح کر دیا تو ایسے ہی لوگوں کی توبہ میں قبول کرتا ہوں اور بےشک میں بڑا توبہ قبول کرنے والا اور بہت مہربان ہوں۔‘‘ حقیقی توبہ میں گذشتہ بُرائی اور فساد کا دُور کرنا اور آئندہ بُرائی و فساد سے بچے رہنے کا تہیہ کرنا ضروری ہے۔ شائستہ اور صالح معاشرے کی تشکیل کا ہدف اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی دُنیوی و اُخروی اور مادی و معنوی ضرورتوں کو پورا کیا جائے؛ لہٰذا صالح معاشرے کی خصوصیات یہ ہیں کہ اس میں ہر ایک کی جان، مال، عزّت و آبرو اور ناموس محفوظ ہوتی ہے، لوگوں کی درمیان مہر و محبت اور اپنائیت کا راج ہوتا ہے اور سب لوگ روحانی و معنوی لحاظ سے پُرسکون اور مطمئن ہوتے ہیں۔
قرآن اور ہماری ذمہ داریاں تحریر: اشرف حسین انیس کچوروی
قرآن کریم ایک ایسی کتاب ہے جو پروردگار دو جہان کی طرف سے اپنے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے ایک زندہ و جاوید معجزہ ہے یہ خداوند متعال کی طرف سے آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ پوری دنیا کے لئے آخری پیغام ہے۔ یہ ایک ایسی کتاب ہے جو ظلمت اور تاریکی میں روشنی اور چراغ ہے، فردی اور اجتماعی درد اور مرض کے لئے شفاء ہے، تمام علوم کا منبع اور منشأ ہے، مسلمانوں کے اتحاد کا مرکز اور محور ہے، کمال اور سعادت کے طالبین کے لئے ذریعہ پیشرفت ہے اور سب سے بڑھ کر اس کتاب الہی کی خصوصیت یہ کہ تمام مسلمان ہر زمانے میں اس بے مثال کتاب کی طرف محتاج ہے۔ حضرت علی علیه السلام قرآن کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: یاد رکھو کہ یہ قرآن وہ ناصح ہے جو دھوکہ نہیں دیتا ہے اور وہ ہادی ہے جو گمراہ نہیں کرتا ہے وہ بیان کرنے والا ہے جو غلط بیانی سے کام لینے والا نہیں ہے۔ کوئی شخص اس کے پاس نہیں بیٹھتا ہے مگر یہ کہ جب اٹھتا ہے تو ہدایت میں اضافہ کر لیتا ہے یا کم سے کم گمراہی میں کمی کر لیتا ہے۔
صدقہ روزی میں اضافہ کا باعث ہے تحریر: سید عقیل حیدر زیدی
قرآنِ کریم کی بہت سی آیاتِ کریمہ میں واجب اور مستحب صدقات کا ذکر ہوا ہے اور اکثر مقام پر نماز اور زکات دونوں کو ایک ساتھ بیان کیا گیا ہے؛ یعنی اعضاء و جوارح کی جسمانی اور مال و ثروت کی مالی عبادت کو خداوندِ متعال نے ایک ساتھ ذکر فرمایا ہے۔ جہاں جسمانی عبادت انسان کی فردی و ذاتی شخصیت اور کردار سازی میں اہم کردار ادا کرتی ہے، وہیں مالی عبادت معاشرے اور سوسائٹی کی کردار سازی، اموال کی تقسیم اور توزیع میں توازُن، فقر و تنگدستی کے دُور ہونے اور معاشرتی بےراہ روی اور فساد کے خاتمہ میں انتہائی اہم عامل ہے۔ اگر انسانی معاشرے میں موجود ہر فرد فقط اپنی اور اپنے سے متعلقہ چند افراد کی فکر کرے اور معاشرے کے غریب و تنگدست طبقات کو بھول جائے تو نہ صرف یہ کہ اُس نے اپنی انسانی اور دینی ذمہ داریوں کو ادا نہیں کیا ہے، بلکہ معاشرے میں پنپنے اور پھیلنے والی بُرائیوں اور بےراہ روی کا باعث بھی بنا ہے۔

بین الاقوامی

کرتار پور راہداری کے افتتاح سے پاک بھارت تعلقات میں بہتری آئےگی، من موہن سنگھ

کرتار پور راہداری کے افتتاح سے پاک بھارت تعلقات میں بہتری آئےگی، من موہن سنگھ سابق بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کا کہنا ہے کہ کرتار پور راہداری کا افتتاح تاریخی لمحہ ہے، راہداری کھولنے سے پاکستان بھارت کےتعلقات میں بہتری آئے گی۔

بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی جگہ مندر تعمیر کرنے کا حکم دے دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی جگہ مندر تعمیر کرنے کا حکم دے دیا بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی حکومت کو حکم دیا کہ 3 سے 4 ماہ کے اندر اسکیم تشکیل دے کر زمین کو مندر کی تعمیر کے لئے ہندووں کے حوالے کرے۔

امام خمینی

امام خمینی رہ کے انقلابی نظریات اور اس کے اثرات

امام خمینی علیہ الرحمہ کی شخصیت اعلم فقیہ، واصل عارف اور با بصیرت راہبر جیسی صفات کی حامل ہے، ایران کی سرزمین پر دو ہزار پانچ سو سالہ پرانی شہنشاہیت کو شکست دینے کے بعد شرق و غرب کی سپر پاورز کا سامنا کرنے والی شخصیت ہے۔

امام خمینی رح ایک مرد عارف

حضرت امام خمینی رح کے بارے میں عام طور پر جو بات ہمارے ہاں زیادہ مشہور ہے وہ یہ کہ آپ نے ایک ملوکیت اور بادشاہت کا خاتمہ کرکے ایک اسلامی اور مذہبی حکومت قائم کی۔ لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ استعماری طاقتوں کے خلاف تھے اور استعماری طاقتوں نے آپ کی حکومت کے خاتمے کے لیے اپنے پورے وسائل بروئے کار لائے لیکن وہ اس میں ناکام ہو گئیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ امام خمینی رح بہت شجاع اور بہادر تھے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ آپ نے ناجائز طور پر قائم صہیونی حکومت کے خاتمے اور فلسطینیوں کے حقوق کے حصول کے لیے بھی آواز بلند کی۔ آپ مستضعفوں اور محروموں کے حقوق کے بھی علمبردار تھے۔ آپ نے اتحاد امت کے لیے ایک زور دار آواز بلند کی۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ ایک عالم اور فقیہ تھے اور آپ کی تقلید کی جاتی تھی۔ بعدازاں آپ کا دیوان بھی چھپا اور پاکستان میں بھی بہت سے لوگوں کو معلوم ہوا کہ آپ صاحب دیوان شاعر بھی تھے، لیکن ابھی تک جو پہلو کم شناختہ یا ناشناختہ ہے وہ یہ ہے کہ آپ ایک بلند پایہ عارف تھے اور شاید یہ کہنا زیادہ بہتر ہو کہ آپ کے وجود سے پھوٹنے والی تمام تر خوبیوں کا سرچشمہ یہی امر ہے کہ آپ ایک عارف باللہ اور عاشق الٰہی تھے اور اس سلسلے میں نظری اور عملی طور پر نہایت عمق اور گہرائی کے مقام پر فائز تھے۔

امام خامنہ ای

عراق و لبنان کے ہمدردوں کی پہلی ترجیح ناامنی کا علاج ہونا چاہیئے، آیت اللہ سید علی خامنہ ای

رہبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ ان تمامتر خباثتوں اور خطرناک کینہ پروریوں کے موجب چند ایک جانے پہچانے ہاتھ ہیں جبکہ ان تمام حوادث کے پیچھے امریکی و مغربی انٹیلیجنس ایجنسیز ہیں اور خطے کی بعض آمر حکومتوں کا پیسہ ہے، البتہ دشمن نے ایران کیلئے بھی ایسے ہی منصوبے تیار کر رکھے تھے، لیکن خوش قسمتی کیساتھ ایرانی قوم نے میدان میں قدم رکھتے ہوئے عقلمندی سے کام لیا۔

امام خامنہ ای آیت اللہ مکارم شیرازی کی عیادت کرنے اسپتال پہنچ گئے

امام خامنہ ای آیت اللہ مکارم شیرازی کی عیادت کرنے اسپتال پہنچ گئے . رہبر انقلاب حضرت سید علی خامنہ ای آیت اللہ مکارم شیرازی کی عیادت کیلئے اسپتال تشریف لے گئے۔

کلام و عقائد

بدا قرآن و حدیث کی روشنی میں

ذات الٰہی کے بارے میں بدا، حقیقت میں ابدا و اظہار ہے۔ یعنی جو کچھ خدا کے علم میں ہے اور انسان کے علم میں نہیں، اسےخداوند متعال اظہار و آشکار کرتا ہے۔ اسے بدا، کہنے کا سبب یہ ہے کہ یہ مقام فعل الٰہی میں نمایاں ہوتا ہے، اگرچہ ذات الٰہی میں جہل اور تغییر محال ہیں۔ خداوند متعال انبیاء کرام پر غیبی طریقے سے نظر رکھتا ہے تاکہ یہ لوگ وحی کے پہنچانے میں خطا سے محفوظ رہیں۔ قرآن کریم اس بارے میں ارشاد فرماتا ہے، "لِّيَعْلَمَ أَن قَدْ أَبْلَغُواْ رِسَالَاتِ رَبهِّم" تاکہ وہ دیکھ لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات کو پہنچا دیا ہے۔ واضح ہے کہ خداوند متعال پہلے سے ہی آگاہ ہے کہ انبیاء، وحی الٰہی کو صحیح طریقے سے لوگوں تک پہنچائیں گے۔

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی علم کلام کےاہم مباحث میں سے ایک حسن و قبح عقلی کا بحث ہے ۔اس سے مراد یہ ہے کہ کچھ افعال ذاتی طور پر حسن {اچھے} اور کچھ افعال ذاتی طور پر قبیح{ برے} ہیں ۔ معتزلہ اور امامیہ حسن و قبح عقلی کے قائل ہیں جبکہ اشاعرہ اس کی نفی کرتے ہیں۔ بہت سے کلامی مسائل اس بحث پر موقوف ہیں مثلا انسان کا اپنے اعمال میں خود مختار ہونا،خدا وند متعال کی بعض صفات کمالیہ کا ثبوت جیسے خدا کا عادل ہونا،اسی طرح بعض صفات سلبیہ بھی اسی بحث پر موقوف ہے جیسے خدا سے قبیح کا سرزد نہ ہونا،خداکا ظلم نہ کرنا وغیرہ ۔ جو لوگ حسن اور قبح کے قائل ہیں وہ انسانی افعال میں انسان کو مختار،خدا کو عادل مانتے ہیں جبکہ حسن و قبح کے مخالفین انسان کو مجبور اور خداکی عدالت سے انکار کرتے ہیں ۔

تربیت اولاد

خاندانی منصوبہ بندی : ایک معاشرتی ضرورت یا دھوکہ!

خاندانی منصوبہ بندی کوآج کے دور میں مختلف مملک کی حکومتیں اپنی کامیاب ترین پالیسیوں میں شمار کرتی ہیں۔ آبادی کا کنٹرول اور چھوٹا خاندان خوشحالی کا ذریعہ سمجھاجاتا ہے۔ خصوصاً محدود وسائل رکھنے والے ممالک میں اس پالیسی کو زیادہ اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے

تعليم و تربيت کے بارے ميں اسلامي علما کي آرا و نظريات

تاريخ اسلام ميں تقريبا تمام علماء و دانشور مختلف علوم ميں مھارت رکھنے کے ساتھ ساتھ تعليم و تربيت ميں بھي صاحب نظر اور مھارت کے حامل ہوا کرتے تھے اس سے اسلام ميں تعليم وتربيت کي اھميت کا پتہ چلتا ہے لھذا ہم يہاں پر علما اسلام کي نظر ميں تعليم و تربيت کي اھميت اجاگر کرنے کے لئے ان کے بعض نظريات پيش کر رہے ہيں۔

تندرستی

لہسن اور پیاز چھاتی کے سرطان سے بچانے میں مددگار

لہسن اور پیاز ایشیا میں ایک عرصے سے استعمال ہورہی ہیں اور اب ان کے متعلق اچھی خبر یہ آئی ہے کہ ان دونوں جادوئی سبزیوں کا بھرپور اور مسلسل استعمال خواتین کو چھاتی کے سرطان (بریسٹ کینسر) سے محفوظ رکھتا ہے۔

گوشت نہیں کھائیں گے تو... کند ذہن ہوجائیں گے!

گوشت نہیں کھائیں گے تو... کند ذہن ہوجائیں گے!

مہدویت{امام زمان عج}

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی امامت کے اہداف میں سے ایک ہدف امام معصوم کا لوگوں کی باطنی ہدایت ہے۔ امام لائق اور پاکیزہ دل رکھنے والے افراد کو اپنی طرف جذب کر کے انہیں کمال تک پہنچاتے ہیں۔ واضح ہے کہ انسان کا اس طرح ہدایت سے ہمکنار ہونے کے لئے ضروری نہیں کہ وہ امام کے ساتھ ظاہری رابطہ برقرار کرے۔ گذشتہ بیانات کی روشنی میں امام زمانہ (عج) کو بادل کے پیچھے پنہان روشن آفتاب سے تشبیہ دینے کا مقصد بھی واضح ہو جاتا ہے۔ اگرچہ بادل کے پیچھے پنہان سورج سے انسان مکمل طور بہرہ مند نہیں ہوتا ہے لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ اس سے انسان کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا ہے۔ بہرحال امام زمانہ (عج) کے وجود کے آثار و برکات سے بہرہ مند نہ ہونے کا سبب انسانوں کی طرف سے خاص حالات کا فراہم نہ کرنا ہے، جس کی وجہ سے لوگ اس عظیم نعمت کے فوائد سے محروم ہیں اور اس محرومیت کا سبب وہ خود ہیں نہ کہ خداوند متعال اور امام، کیونکہ خداوند متعال اور امام کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی مشکل درپیش نہیں ہے۔

دیگر مناسبتیں

آفتاب کربلا جناب حضرت علی اکبر علیہ السلام

کربلا کے میدان میں ایک جوان ایسا بھی تھا جو سیرت و صورت اورگفتار و کردار میں شبیہ پیغمبر تھے۔دیکھنے والا دنگ رہ جاتا تھا کہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے ہیں۔انہوں نے اس کائنات میں ایسی قربانی پیش کی کہ تمام دنیا دھنگ رہ گئی۔آپ ایسے باپ کے فرزند تھے جس پر رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ناز تھا ،جس کے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری بن گئے۔اس عظیم باپ کا فرزند تھا جس نے دنیا والوں کو جینا سکھایا اورباطل قوتوں کے سامنے قیام کر نا سکھایا۔

حدیث غدیر، حدیث متواتر

متواتر لفظی: وہ حدیث یا خبر جس کے تمام روایوں نے، تمام طبقات میں، اس حدیث یا خبر کے مضمون کو ہو بہو اور یکسان طور پر نقل کیا ہو۔ جیسے حدیث ثقلین کی عبارت، (انّي تارك فيكم الثقلين ۔۔) یا حدیث غدیر کی عبارت (من كنت مولاه فهذا عليّ مولاه)۔

چہاردہ معصومین ع

امام سجاد علیہ السلام

امام علیہ السلام نے کربلا سے کوفہ، کوفہ سے شام اور زندان سے رہائی تک ہر موقع پر اپنے خطبوں کے ذریعے جہاں قیام حسینی علیہ السلام کے اصولوں اور فلسفے سے لوگوں کو آگاہ فرمایا وہیں اسلام کا نام استعمال کرتے ہوئے اسلام کی دھجیاں اڑانے کی کوشش کرنے والی ناپاک حکومت کا مکروہ چہرہ بھی بےنقاب فرمایا۔

معاویہ و یزید کے دور حکومت میں امام حسین (ع) کا کردار

معاویہ کو ہر وقت آپ کے قیام کا خوف رہتا تھا۔ چنانچہ اس نے امام کے سامنے قبض و بسط کی پالیسی اپنائی یعنی ایک طرف سے آپ کی منزلت کو مدنظر رکھتا تھا اور بظاہر آپ کے لئے احترام کا قائل تھا اور آپ کی تعظیم کرتا تھا اور اپنے کارگزاروں کو بھی ہدایت کرتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرزند کو نہ چھیڑیں اور ان کی بےحرمتی سے پرہیز کریں۔ دوسری طرف سے امام کی مسلسل اور شب و روز نگرانی کو اپنی پالیسی کا حصہ بنایا اور سفر اور حضر میں آپ کی تمام حرکات و سکنات پر کڑی نظر رکھی جاتی تھی۔

دیگر موضوعات

جابر بن عبداللہ انصاری پہلا زائر اربعین حسینی

عطیہ کوفی کے مطابق جابر بن عبد اللہ انصاری کے ساتھ حسین بن علی علیہ السلام کی قبر کی زیارت کرنے کے لئے کوفہ سے نکلے۔ جب ہم کربلا پہنچے تو جابر فرات کے ساحل کے قریب گیا اور غسل انجام دیا اور محرم افراد کی طرح ایک چادر پہنی، پھر ایک تھیلی سے خوشبو نکالا اور اپنے آپ کو اس خوشبو سے معطر کیا اور ذکر الہی کے ساتھ قدم اٹھانا شروع کیا، یہاں تک کہ وہ حسینؑ ابن علیؑ کے مرقد کے قریب پہنچا۔ جب ہم نزدیک پہنچے تو جابر نے کہا کہ میرا ہاتھ قبر حسینؑ پر رکھو۔ میں نے جابر کے ہاتھوں کو قبر حسین پر رکھا۔ اس نے قبر حسینؑ ابنی علی کو سینے سے لگایا اور بے ہوش ہو گیا۔ جب میں نے اس کے اوپر پانی ڈالا تو وہ ہوش میں آیا۔ اس نے تین مرتبہ یا حسینؑ کی آواز بلند کی۔

عطیہ عوفی(کوفی)زائر اربعین حسینی

زیارت اربعین کی اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ امام حسن عسکری علیہ السلام نے فرمایا: مومن کی نشانیوں میں سے ایک زیارۃ اربعین کی تلاوت کرناہے۔۳۔جب بھی زیارت اربعین اورچہلم امام حسین علیہ السلام کا ذکر ہو وہاں حتما ان دو ہستیوں یعنی جابر اور عطیہ کا ذکر ہوتا ہے۔ یہ دونوں ہستیاں اسلامی تاریخ کی معروف شخصیات میں سے ہیں۔ لیکن جو چیز انہیں دوسری شخصیات اورافراد سے ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ان کا شمار امام حسین علیہ السلام کے پہلے زائروںمیں ہوتا ہے۔

سب سے زیادہ زیر بحث

امام علی علیہ السلام کی شانِ میں چہل حدیث

مولا علیؑ کی شان میں چالیس احادیث اور یہ ﻭﻩ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ہیں ﺟﻮ ﺻﺤﺎﺡ ﺳﺘﻪ ﻣﯿﮟ بھی موجود ہے. 1= ﻋﻨﻮﺍﻥ ﺻﺤﻴﻔﺔ ﺍﻟﻤﺆﻣﻦ ﺣﺐّ ﻋﻠﻰؑ ﺑﻦ ﺍﺑﻰ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ. ﺻﺤﯿﻔﮧ ﻣﻮﻣﻦ ﮐﺎ ﻋﻨﻮﺍﻥ ﻣﺤﺒﺖِ ﻋﻠﯽؑ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻃﺎﻟﺐؑ ﮨﮯ.

دعا کی اہمیت

دعا کی اہمیت حضرت انسان کس قدر شرف و عظمت کا مالک ہے،اس کے لئے کائنات بنی،پوری کائنات میں اسی کو عزت و تکریم کا حق دار ٹھہرایا گیا۔تمام مخلوق اس کی خدمت اور منفعت کے لئے پیدا کی گئی۔لیکن اتنی عظمتوں کے باوجود اس کی خلقت کا مقصد اللہ کی معرفت اور عبادت قرار دیا گیا۔لہذا انسان کا اہم کام خدا سے ارتباط و ربط ہے۔مگر کیسا رابطہ؟ اتنی عظمتوں کے باوجود بارگاہ خداوندی میں فقر محض اور احتیاج محض ہے جبکہ ذات پروردگار غناء ہی غناء ہے۔بلندی ہی بلندی ہے۔انسان مشکلات،مصائب اور تکالیف میں ایسی ذات کی طرف رجوع کر کے اپنے فقر اور احتیاج محض ہونے کا اقرار و اعتراف کرتے ہوئے اپنی نفی اور بے ثباتی کا اظہار کرتا نظر آتا ہے۔اس سلسلے میں انسان کا ایک اہم وسیلہ دعا ہے۔دعا کے ذریعے اپنی احتیاج کا اظہار بھی کرتا ہے اوراللہ سے اعانت کی التجا بھی کرتا ہے۔

قرآنِ کریم اور اصلاحِ معاشرہ تحریر: عارف حسین تھہیم

لفظِ ’’اصلاح‘‘ درست کرنے، صحیح کرنے اور خرابی کو دُور کے معنی میں آتا ہے۔ معاشرتی اور اجتماعی مفہوم کے اعتبار سے شائستہ اور نیک عمل انجام دینے، نیز فساد و تباہی کو ختم کرنے کے لیے بھی اصلاح کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ ارشادِ پروردگار ہے: ﴿ إِلاَّ الَّذِينَ تَابُواْ وَأَصْلَحُواْ وَبَيَّنُواْ فَأُوْلَئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ﴾[1]؛ ’’سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے توبہ کی اور اپنے کئے کی اصلاح کر لی اور (جس کو چھپایا ہوا تھا) واضح کر دیا تو ایسے ہی لوگوں کی توبہ میں قبول کرتا ہوں اور بےشک میں بڑا توبہ قبول کرنے والا اور بہت مہربان ہوں۔‘‘ حقیقی توبہ میں گذشتہ بُرائی اور فساد کا دُور کرنا اور آئندہ بُرائی و فساد سے بچے رہنے کا تہیہ کرنا ضروری ہے۔ شائستہ اور صالح معاشرے کی تشکیل کا ہدف اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی دُنیوی و اُخروی اور مادی و معنوی ضرورتوں کو پورا کیا جائے؛ لہٰذا صالح معاشرے کی خصوصیات یہ ہیں کہ اس میں ہر ایک کی جان، مال، عزّت و آبرو اور ناموس محفوظ ہوتی ہے، لوگوں کی درمیان مہر و محبت اور اپنائیت کا راج ہوتا ہے اور سب لوگ روحانی و معنوی لحاظ سے پُرسکون اور مطمئن ہوتے ہیں۔

پیٹ کا درد کئی امراض کی علامت ہوسکتا ہے

اگر پیٹ میں درد ہورہا ہو تو اس کی کئی وجوہ ہوسکتی ہیں۔ اکثر ناقص غذا کی وجہ سے معدے میں تکلیف ہونے لگتی ہے جسے ہم پیٹ کے درد سے تعبیر کرتے ہیں۔ معدے کا درد کئی امراض کی علامت بھی ہوسکتا ہے، اس لیے اسے نظرانداز نہیں کرنا چاہیے اور بلاتاخیر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ بسم اللہ الرحمن الرحیم بنام خدائے رحمن و رحیم اٴَللّٰھُمَّ اِنّيِ اٴَسْاٴَ لُکَ بِرَحْمَتِکَ الَّتي وَ سِعَتْ کُلَّ شَيْءٍ،وَ بِقُوَّتِکَ الَّتي قَھَرْتَ خدایا میراسوال اس رحمت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر محیط ھے۔ اس قوت کے واسطہ سے ھے جو ھر چیز پر حاوی ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ،وَخَضَعَ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ،وَذَلَّ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ، وَبِجَبَرُوتِکَ الَّتي غَلَبْتَ اور اس کے لئے ھر شے خاضع اور متواضع ھے۔ اس جبروت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر غالب ھے اور اس عزت کے واسطہ سے ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ، وَ بِعِزَّتِکَ الَّتي لاٰ یَقُومُ لَھٰا شَيْءٌ، وَبِعَظَمَتِکَ الَّتي مَلَاٴَتْ کُلَّ جس کے مقابلہ میں کسی میں تاب مقاومت نھیں ھے۔اس عظمت کے واسطہ سے ھے جس نے ھر چیز کو پر کردیا ھے شَيْءٍ، وَ بِسُلْطٰانِکَ الَّذي عَلاٰ کُلَّ شَيْءٍ، وَبِوَجْھِکَ الْبٰاقي بَعْدَ فَنٰاءِ کُلِّ شَيْءٍ،

مقصد قیام امام حسین علیہ السلام تحریر: محمد حسن حسرت کچوروی

امام حسین ؑ ۲۸ رجب ۶۰ ھ میں مدینہ سے حرکت کرتے ہیں اور ۳ شعبان المعظم کو مکہ میں پہنچتے ہیں پھر ۸ ذی الحجہ کو مکہ سے کوفہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں ۲ محرم الحرام کو وارد کربلا ہوتے ہیں اور ۱۰ محرم الحرام کو شھید ہو جاتے ہیں اس مختصرعرصے میں انسان سو سے زیادہ درس حاصل کر سکتا ہے بلکہ کہہ سکتے ہیں کہ امام کے اس مختصر عرصےمیں ہزاروں دروس شامل ہیں لیکن یہ سارے دروس ایک اصلی درس ‘ حرکت اور قیام امام میں موجود ہیں باقی سارے حاشیے ہیں متن یہ ہے کہ امام نے قیام کیوں کیا؟ یہ اصلی درس ہے لوگ امام سے کہتے تھے آپ مدینہ اور مکہ میں محترم ہیں یمن میں اتنے سارے شیعہ ہیں کسی کونے میں تشریف لے جائیں اور یزید سے کوئی سروکار نہ رکھے تاکہ وہ بھی آپ سے کوئی سروکار نہ رکھے۔ یہ سارے مرید ہیں انہیں تبلیغ کریں عبادت کریں اور زندگی کریں۔ کاس قیام کا مقصد کیاہے ۔۔؟

تلاوت قرآن کی فضیلت

'پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا، جو شخص رات کو دس آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام غافلین (جو یاد خدا سے بے بہرہ رہتے ہیں) میں نہیں لکھا جائے گا اور جو شخص پچاس آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام ذاکرین (جو خدا کو یاد کرتے ہیں، حرام و حلال کا خیال رکھتے ہیں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص سو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام قانتین (عبادت گزاروں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص دوسو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام خاشعین (جو خدا کے سامنے متواضع ہوں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص تین سو آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام سعادت مندوں میں لکھا جائے گا، جو شخص پانچ ہزار آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام عبادت اور پرستش خدا کی کوشش کرنے والوں میں لکھا جائے گا اور جو شخص ہزار آیتوں کی تلاوت کرے وہ ایسا ہے جیسے اس نے کثیر مقدار میں سونا راہ خدا میں دے دیا ہو۔،،

تربیت اولاد کے انمول اصول تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

لغت کی کتابوں میں لفظ" تربیت" کے لیے تین اصل اور ریشہ ذکر ہوئے ہیں۔ الف:ربا،یربو زیادہ اور نشوونما پانےکے معنی میں ہے۔ ب: ربی، یربی پروان چڑھنا اور برتری کے معنی میں ہے۔ج: رب،یرب اصلاح کرنے اور سرپرستی کرنے کے معنی میں ہے۔۱صاحب مفردات کا کہنا ہے کہ "رب" مصدری معنی ٰ کے لحاظ سے کسی چیز کو حد کمال تک پہچانے ، پرورش اور پروان چڑھانے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ۲ صاحب التحقيق کا کہنا ہے اس کا اصل معنی ٰ کسی چیز کو کمال کی طرف لے جانے ، نقائص کو تخلیہ اور تحلیہ کے ذریعےرفع کرنے کے معنی ٰ میں ہے۔۳ بنابر این اگر اس کا ريشه(اصل) "ربو" سے ہو تو اضافہ کرنا، رشد ، نمو اور موجبات رشد کو فراہم کرنے کے معنی ٰ میں ہےلیکن ا گر "ربب" سے ہو تو نظارت ، سرپرستي و رهبري اور کسی چیز کو کمال تک پہنچانے کے لئے پرورش کے معنی ٰ میں ہے۔

مشاہدات

آج

198

کل

1839

اس ماہ

19710

اس سال

209715

ٹوٹل مشاہدات

378943