علماء کونسل کچورا سکردو بلتستان

متن

صرف دو سے بارہ منٹ, اور کھیل ختم !!!

خبر رساں ادارہ تسنیم: روئے زمین پر اب تک دو ہی مملکتیں دو ہی ریاستیں کسی ٹھوس مذہبی اور منطقی نظریئے کی مرہون منت قائم ہوئیں ہیں اور دونوں کے قیام کا وقت بھی لگ بھگ ایک سا ہی ہے, دونوں مملکتیں بظاہر چھین کر وجود میں لائی گئیں ہیں پر دونوں میں سے ایک قانونی اور آئینی مراحل سے گزار کر بزور نظریہ اور سیاسی طاقت چھینی گئی ہے جبکہ ایک غیرقانونی اور غیر آئینی مراحل سے گزار کر بزور طاقت اور دھوکہ چھینی گئی ہے۔

جی ہاں میں پاکستان اور اسرائیل کی ہی بات کررہا ہوں۔

پاکستان اور اسرائیل دونوں ایک دوسرے کے الٹ اور متضاد نظریات اور مذاہب کی بدولت کبھی دوست نہ بن سکے اور نہ ہی بننے کی کوئی قوی امید ہے تو یہ ثابت شدہ بات ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے کی جانی دشمن ریاستیں اور قومیں ہیں۔

یہودیت اسرائیل کی بنیاد اور قیام کی اصل وجہ ہے جبکہ اسلام پاکستان کی بنیاد اور قیام کی وجہ ہے۔

اسرائیل کو مذہبی حوالوں سے دجال کی آماجگاہ اور حتمی جنگ کا میدان جنگ مانا جاتا ہے جبکہ پاکستان دراصل مذہبی حوالوں میں خراسان کو حتمی جنگ میں دجال کے خلاف اعلان جہاد بلند کرنے والی فوج کی آماجگاہ مانا جاتا ہے۔

اسرائیل باطل کااستعارہ اور علمبردار ہے جبکہ پاکستان حق کا استعارہ اور علمبردار ہے۔

دونوں ریاستوں کی عوام جنگجو اور ایک دوسرے سے شدید متنفر ہے اور ایسا ہونا بھی چاہیئے کہ یہود کو اللہ نے خود کلام الہی میں لعنت زدہ قوم پکارا ہے جبکہ مسلمانوں اور بالخصوص پاکستان کے حوالے سے نبی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی استعاری احادیث کا اچھا خاصہ ذخیرہ موجود ہے جو پاکستان کی مذہبی اہمیت اور وقعت کو اور اجاگر کرتا ہے کہ پاکستان کس طرح نبی ص کو محبوب تھا اور کس طرح اللہ اس مملکت کو ملعون یہود اور ان کے اتحادی نصاری و ہنود کے مقابلے دن بہ دن توانا کررہا ہے, کس طرح اس ملک کو طاقت اور جلاء بخش رہا ہے کہ یہ بوقت ہرمجدون یہود و ہنود, مشرکین اور باغی نصاری کا قلع قمع کرسکے۔

ویسے تو اس دنیا پر ساری سیاست اور سیادت کا دارومدار ان ہی دو ممالک پر ہے لیکن فی الوقت اسرائیل کے اعلانیہ اور غیراعلانیہ مددگار سب پاکستان کے پیش ہیں اور اس نظریاتی اور حق کی داعی ریاست کو سبوتاژ کرنے کے لیئے طرح طرح کے ہتھکنڈے اور دھمکیاں استعمال کررہے ہیں۔

پاکستان روز اول سے دشمنان اسلام کو کھٹک رہا ہے, یاد رہے دشمنان اسلام نا کہ دشمنان پاکستان کو۔

اسی لیئے ہر موقع اور ہر فورم پر جہاں جہاں کسی بھی طرح کا نقصان اسرائیل اور اسرائیل نواز ریاستیں پاکستان کو پہنچا سکتی تھیں, پہنچا سکتی ہیں یا پہنچا سکتی ہونگی تو کبھی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریں گی۔

ویسے تو قیام پاکستان سے اب تک اسرائیل اور پاکستان کی اعلانیہ و غیراعلانیہ دشمنی اور مسابقت کی تاریخ درج ہے جس میں

---پاکستان کا اسرائیل کو اسکے قیام سے لیکر آج تک ناتسلیم کرنا۔

---فلسطین پر یہودی قبضے کی اوائل دن سے ہرفورم پر اور ہر پاکستانی حکمران (سوائے نواز شریف) کی جانب سے شدید اور سخت مخالفت۔

---1967ء کے عرب اسرائیل تنازعے میں پاک فضائیہ کا شاندار کردار اور اسرائیل کو تاریخی فضائی ہار سے روشناس کروانا۔

---اسرائیل کی بھرپور کوششوں اور امریکہ و بھارت کی مدد کے باوجود پاکستان کے ایٹمی اثاثوں اور تنصیبات کی گرد کو بھی نہ پہنچ پانا۔

---فرانس کے سفیر کی مدد لیکر موساد کا کہوٹہ ایٹمی پلانٹ کو تلاش کرنے کی ناکام کوشش اور مارخوروں سے شاندار کٹاپا۔

---80ء کی دہائی میں اسرائیل کا پاکستان کے ایٹمی ری ایکٹر کی نامعلوم جگہ پر عراق طرز کی سرجیکل اسٹرائیک کی ناکام اور نامراد کوشش۔

اور 

---تازہ تازہ دوہزار اٹھارہ کی اوائل سہ ماہی میں امریکہ کے ذریعے القدس پر سفارت خانے کی آڑ میں قبضے کی کوشش اور اعلان پر پاکستان کی طرف سے شدید ردعمل موصول کرنا اور ساتھ ہی یو این او کے فورم پر پاکستانی اور ترکی کی قرارداد پر شدید حزمیت سے دوچار ہونا۔ 

(جبکہ گزشتہ ہفتے عارضی سفارت خانے کی شفٹنگ کے وقت سی آئی اے, موساد اور را نے اپنا مہرہ نواز شریف آگے کردیا جس نے ممبئی حملوں والی بکواس اور جھوٹی کہانی کو پاکستان کے سر تھوپ کر ساری عالمی اور ملکی توجہ القدس پر اسرائیلی امریکی قبضے کی خبر سے کھینچ لی۔)

یہ سب تو وہ باتیں ہیں جو تاریخ کے صفحوں پر درج ہیں لیکن حق و باطل کی تاریخ اتنی محدود نہیں, اسرائیل اور پاکستان قیام کے اول روز سے ایک سرد جنگ میں مبتلا ہیں جو دراصل دنیا کی حتمی اور گرم جنگ کی شروعات ہے۔

اس سرد جنگ کی وجہ سے پاکستان اور اسرائیل ایک دوسرے کے درپے ہیں جاسوسی اور سفارتی محاز پر۔

ایسا آن ریکارڈ ہے کہ کافی موساد کے ایجنٹ آئی ایس آئی کے ہاتھوں بری طرح زک اٹھا کر ہاتھ ملتے رہ گئے ہیں۔

موساد کے ٹریننگ سکول میں آج تک ساری ٹریننگ سے زیادہ اسی بات پر زور اور توجہ دی جاتی ہے کہ پاکستان اور آئی ایس آئی کو کبھی انڈر اسٹیمیٹ مت کرنا۔

اس کے باوجود اسرائیل پاکستان سے پنگے لینے سے باز نہیں آتا, خاص کر بھارتی اور امریکی شہہ پر جبکہ یہ تینوں ہی جانتے ہیں کہ پاکستان پر فتح یا اس کو توڑنا ان تینوں کے بس کی بات نہیں کیونکہ پاکستان کے کھانے کے دانت اور ہیں اور دکھانے کے اور۔

ساری بحث کو سمیٹ کر میں اس خبر کی طرف آتا ہوں جس کا پس منظر گستاخ رسول صل اللہ علیہ والہ وسلم اور غدار وطن و دشمن وطن نواز شریف اور امریکی پینٹا گون کی ایک سازش کا انکشاف ہے پاکستان کے خلاف اور اس پر اسرائیلی حملے کے حوالے سے کہ

"امریکہ نے اسرائیل کو پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر حملے کا گرین سگنل دیدیا۔"

یہ خبر ایک سابقہ بیوروکریٹ اور محب وطن امریکہ مقیم پاکستانی اور امریکی تھنک ٹینک تک رسائی رکھنے والے Rao  نذر محمد چوہان Rajput کے ذریعے پاکستانی اخبار "خبریں" کے مدیر اعلی ضیاء شاہد نے پاکستان میں بریک کی ہے۔

اس خبر سے متصل تفصیل میں اس امریکی گرین سگنل کو نواز شریف کی خاطر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ سے پینٹا گون کی بیک ڈور این آر او ڈیل سے جوڑا گیا ہے کہ اگر نواز شریف کو این آر او دینے پر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ راضی نہ ہو تو امریکہ کی طرف سے اسرائیل کو کھلی چھوٹ ہے کہ وہ پاکستان کی ایٹمی تنصیبات اور اثاثوں پر سرجیکل اسٹرائیک کرکے پاکستان کو ایٹمی دفاع سے محروم کردے۔

ذرا ایک منٹ کے لیئے سوچیں کہ وہ ایسا کیونکر کہنے کی ہمت کررہے ہیں اور ان کا کیا فائدہ ہے نواز شریف کو این آر او ملنے سے؟

میں پہلے سوال کا جواب دیتا ہوں;

نواز شریف دو تین بار عوامی و صحافتی حلقوں میں ببانگ دہل کہہ چکا ہے کہ وہ پاکستان کا تین دفعہ وزیر اعظم رہ چکا ہے اور وہ پاکستان کے ایٹمی رازوں سے بھی واقف ہے یعنی یا تو نواز شریف کسی محفوظ ذریعے سے پاکستان کے ایٹمی راز پینٹا گون, سی آئی اے, را اور موساد کو دے چکا ہے۔

اور دوسرے سوال کا جواب;

کہ یا پھر ان سے اس کا وعدہ کرچکا ہے کہ اگر وہ نواز شریف کو این آر او دلوا کر اسکی نااہلی ختم کروانے اور دوبارہ وزیر اعظم پاکستان بنانے میں مکمل مدد کرتے ہیں تو وہ امریکہ, بھارت اور اسرائیل کو پاکستان کے ایٹمی اور دفاعی راز دے دیگا جس کا استعمال پھر وہ جس طرح مناسب سمجھیں کرلیں۔

یعنی دونوں صورتوں یعنی پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے کورے جواب کی صورت یا مان جانے کی صورت نواز شریف کی ڈیل پکی ہے مذکورہ دشمن ممالک کی ایجنسیوں سے کہ وہ ایٹمی اور دفاعی راز طشت ازبام کردیگا ان کے سامنے۔

اب اس خبر پر افواج پاکستان کا ردعمل بھی پڑھ لیں لیکن پہلے پاکستان اور اسرائیل کے فوجی, سیاسی اور معاشی اعداد و شمار کا تقابلہ کرلیں کہ آیا اسرائیل پاکستان پر حملے کی سکت اور ہمت بھی رکھتا ہے یا ہمیشہ کی طرح بس ہوائی دھمکی ہی ہے۔

پاکستان اور اسرائیل بالترتیب 13ویں اور 15ویں نمبر پر ہیں دنیا میں۔

آبادی:

اسرائیل 81740000
پاکستان 201995000

جی ڈی پی (نومینل):

اسرائیل 311 بلین $ اور دنیا میں 35ویں نمبر پر
پاکستان 271 بلین $ اور دنیا میں 43ویں نمبر پر

جی ڈی پی (PPP):

اسرائیل 281 بلین $ اور دنیا میں 56واں نمبر
پاکستان 982 بلین $ اور دنیا میں 25واں نمبر

جی ڈی پی (Per Capita) PPP:

اسرائیل 34054 $ اور دنیا میں 34واں نمبر
پاکستان 4906 $ اور دنیا میں 133 واں نمبر

ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس یعنی HDI رینکنگ:

اسرائیل 18واں نمبر 188 ممالک میں
پاکستان 147واں نمبر 188 ممالک میں

مین پاور:

اسرائیل 3600000
پاکستان 95000000

فٹ فار سروس:

اسرائیل 3000000
پاکستان 75325000

ریچنگ ملٹری ایج:

اسرائیل 122000
پاکستان 4345000

ٹوٹل ملٹری پرسونل:

اسرائیل 718250
پاکستان 919000

ایکٹو ملٹری پرسونل:

اسرائیل 168250
پاکستان 637000

ریزرو ملٹری پرسونل:

اسرائیل 550000
پاکستان 282000

انٹیلی جنس ایجنسیز کی رینکنگ:

اسرائیل موساد تیسرے نمبر پر ٹاپ ٹین میں
پاکستان آئی ایس آئی پہلے نمبر پر ٹاپ ٹین میں

کومبیٹ ٹینکس کی تعداد:

اسرائیل 2620
پاکستان 2924

آرمرڈ فائیٹنگ وہیکلز کی تعداد:

اسرائیل 10185
پاکستان 2828

سیلف پروپیلڈ آرٹلری کی تعداد:

اسرائیل 650
پاکستان 465

ٹوچینڈ آرٹلری کی تعداد:

اسرائیل 300
پاکستان 3278

راکٹ پروجیکٹرز کی تعداد:

اسرائیل 48
پاکستان 134

ٹوٹل ائیر کرافٹ سٹرینتھ:

اسرائیل 652
پاکستان 951

فائٹرز ایئر کرافٹ کی تعداد:

اسرائیل 243
پاکستان 301

اٹیک ائیر کرافٹ کی تعداد:

اسرائیل 243
پاکستان 394

ٹرانسپورٹ ایئر کرافٹ کی تعداد:

اسرائیل 101
پاکستان 261

ٹرینر ائیر کرافٹ کی تعداد:

اسرائیل 219
پاکستان 190

ایئربورن ارلی وارننگ اینڈ کنٹرول (AEW&C) ائیر کرافٹ کی تعداد:

اسرائیل 3
پاکستان 8

ٹوٹل ہیلی کاپٹر:

اسرائیل 143
پاکستان 316

اٹیک ہیلی کاپٹر کی تعداد:

اسرائیل 48
پاکستان 52

ٹوٹل نیول ایسٹس:

اسرائیل 65
پاکستان 197

ائیر کرافٹ کیریئرز:

دونوں کے پاس نہیں ہے۔

فریگیٹ جہاز کی تعداد:

اسرائیل 0
پاکستان 10

ڈیسٹرائیررز کی تعداد:

اسرائیل 0
پاکستان 0

کوورٹس کی تعداد:

اسرائیل 3
پاکستان 0

سبمیرینز کی تعداد:

اسرائیل 6
پاکستان 8

پیٹرول کرافٹس کی تعداد:

اسرائیل 32
پاکستان 17

مائن وارفیئر کی تعداد:

اسرائیل 0
پاکستان 3

پیٹرولیم پروڈکشن:

اسرائیل 400 بیرل پر ڈے
پاکستان 93630 بیرل پر ڈے

پیٹرولیم کنزمپشن بیرل پر ڈے:

اسرائیل 240000
پاکستان 440000

پروون ریزروز بی بی ایل:

اسرائیل 13950000
پاکستان 400000000

لیبر فورس:

اسرائیل 3927000
پاکستان 65100000

مرچنٹ میرین سٹرینتھ:

اسرائیل 8
پاکستان 11

میجر پورٹ اور ٹرمینل:

اسرائیل 4
پاکستان 2

روڈوے:

اسرائیل 18290KM
پاکستان 260760KM

ریلوے:

اسرائیل 975KM
پاکستان 7791KM

واٹرویز:

اسرائیل 0KM N/A
پاکستان 25220KM

سیریویکیبل ایئر پورٹس:

اسرائیل 47
پاکستان 151

دفاعی بجٹ:

اسرائیل 15500000000$
پاکستان 7000000000$

ایکسٹرنل ڈیٹ:

اسرائیل 91080000000$
پاکستان 64040000000$

گولڈ فارن ایکسچینج:

اسرائیل $
پاکستان 20530000000$

پرچیزنگ پاور پیریٹی:

اسرائیل 297000000000$
پاکستان 988200000000$

نیوکلیئر پاور (ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد):

اسرائیل 80-120
پاکستان 100-120

سکوائر لینڈ ایریا:

اسرائیل 20770KM
پاکستان 796095KM

کوسٹ لائن:

اسرائیل 273KM
پاکستان 1046KM

مشترکہ سرحدیں:

اسرائیل 1068KM
پاکستان 7257KM

تو یہ ہے دونوں ممالک کی دفاعی, سیاسی اور معاشی استعداد لیکن جذبے, تجربے اور نظریئے پر پختہ یقین کے حوالے سے پاکستان اسرائیل پر ہر طرح سے برتر ہے۔

دونوں ممالک کی جنگی صلاحیت میں انیس بیس کا فرق ہی ہے لیکن جو نقصان پاکستان کی افواج اور آئی ایس آئی اسرائیل کو جذبے اور شوق شہادت و جہاد سے پہنچاسکتے ہیں اس کا وسیع تجربہ ہے اسرائیل اور بھارت و امریکہ کو۔

ہماری افواج چوکس اور بیدار ہیں جس کی ترجمانی پاکستان آرمی کے جوائنٹ چیف آف سٹاف جنرل زبیر محمود حیات نے اس خبر کے ردعمل میں یہ بیان دیکر کی ہے کہ

"اگراسرائیل نےپاکستان کی طرف دیکھا بھی تو بارہ منٹ کے اندر اندر پاکستان آرمی اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹا دیگی۔"

اور میں ساتھ ہی واضح کردوں کہ پاکستان بھارت کو دو منٹ میں تباہی سے دوچار کرنے کے بھی قابل ہے۔

اس سارے پس منظر اور زمینی حقائق کے مدنظر اسرائیل اگر کسی مہم جوئی کاحصہ بناتو وہ ضرور عبرت ناک مثال بھی بنے گا پاکستان کے ہاتھوں۔

پاکستان اس وقت بھارت اوراسرائیل کو بیک وقت دو سے بارہ منٹ میں تباہی اور خاتمے سے دوچار کرسکتا ہے۔

مطلب یہ کہ "صرف دو سے بارہ منٹ, اور کھیل ختم!!!"

رہ گئی بات نواز شریف کی کھلی غداری اور بیک ڈور روابط کی تو وہ دن گئے جب خلیل میاں فاختہ اڑایا کرتے تھے اور گولی ماری اور پہاڑ پر چڑھ گئے, یہ نواز شریف کی شدید بھول ہے کہ وہ یہ سب کررہا ہے اور فوج چوڑیاں پہن کر بیٹھی ہے, بس اکتیس مئی تک قوم اور ن لیگ خاص کر نواز شریف صبر کرے اور جو کرنا چاہے کرلے, اس کے بعد نواز شریف کا نام لیکر لوگ کانوں کو ہاتھ لگائیں گے ان شاء ﷲ۔

مارخور بیدار اور چوکنا ہیں, بہت جلد یہ نواز شریف نامی سانپ کا سرکچلا جانے والا ہے ان شاء ﷲ۔

اب اندھیر نہیں بس تھوڑی سی دیر ہے۔

تحریر: بلال شوکت

اس سے مربوط موضوعات

بین الاقوامی

اربعین حسینی؛ ایرانی سرحد کے قریب دہشت گردی کا منصوبہ ناکام، متعدد دہشت گرد گرفتار

اربعین حسینی؛ ایرانی سرحد کے قریب دہشت گردی کا منصوبہ ناکام، متعدد دہشت گرد گرفتار اسلامی جمہوریہ ایران کی سیکیورٹی فورسزنے چذابہ بارڈر کے قریب دہشت گردی کا خطرناک منصوبہ ناکام بنا دیاہے۔

ایران سعودی تنازع کا حل سب کے مفاد میں ہے، پاکستان کے بعد روس بھی میدان میں آگیا

ایران سعودی تنازع کا حل سب کے مفاد میں ہے، پاکستان کے بعد روس بھی میدان میں آگیا روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات میں مثبت پیش رفت کی بھرپور کوشش کرنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اچھے تعلقات سے سب کو فائدہ ہوگا۔

امام خمینی

امام خمینی رہ کے انقلابی نظریات اور اس کے اثرات

امام خمینی علیہ الرحمہ کی شخصیت اعلم فقیہ، واصل عارف اور با بصیرت راہبر جیسی صفات کی حامل ہے، ایران کی سرزمین پر دو ہزار پانچ سو سالہ پرانی شہنشاہیت کو شکست دینے کے بعد شرق و غرب کی سپر پاورز کا سامنا کرنے والی شخصیت ہے۔

امام خمینی رح ایک مرد عارف

حضرت امام خمینی رح کے بارے میں عام طور پر جو بات ہمارے ہاں زیادہ مشہور ہے وہ یہ کہ آپ نے ایک ملوکیت اور بادشاہت کا خاتمہ کرکے ایک اسلامی اور مذہبی حکومت قائم کی۔ لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ استعماری طاقتوں کے خلاف تھے اور استعماری طاقتوں نے آپ کی حکومت کے خاتمے کے لیے اپنے پورے وسائل بروئے کار لائے لیکن وہ اس میں ناکام ہو گئیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ امام خمینی رح بہت شجاع اور بہادر تھے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ آپ نے ناجائز طور پر قائم صہیونی حکومت کے خاتمے اور فلسطینیوں کے حقوق کے حصول کے لیے بھی آواز بلند کی۔ آپ مستضعفوں اور محروموں کے حقوق کے بھی علمبردار تھے۔ آپ نے اتحاد امت کے لیے ایک زور دار آواز بلند کی۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ ایک عالم اور فقیہ تھے اور آپ کی تقلید کی جاتی تھی۔ بعدازاں آپ کا دیوان بھی چھپا اور پاکستان میں بھی بہت سے لوگوں کو معلوم ہوا کہ آپ صاحب دیوان شاعر بھی تھے، لیکن ابھی تک جو پہلو کم شناختہ یا ناشناختہ ہے وہ یہ ہے کہ آپ ایک بلند پایہ عارف تھے اور شاید یہ کہنا زیادہ بہتر ہو کہ آپ کے وجود سے پھوٹنے والی تمام تر خوبیوں کا سرچشمہ یہی امر ہے کہ آپ ایک عارف باللہ اور عاشق الٰہی تھے اور اس سلسلے میں نظری اور عملی طور پر نہایت عمق اور گہرائی کے مقام پر فائز تھے۔

امام خامنہ ای

امام خامنہ ای آیت اللہ مکارم شیرازی کی عیادت کرنے اسپتال پہنچ گئے

امام خامنہ ای آیت اللہ مکارم شیرازی کی عیادت کرنے اسپتال پہنچ گئے . رہبر انقلاب حضرت سید علی خامنہ ای آیت اللہ مکارم شیرازی کی عیادت کیلئے اسپتال تشریف لے گئے۔

جوہری ہتھیاربنانے کی کوشش ہی نہیں کی، ایٹم بم کا استعمال شرعی طور پر حرام ہے، امام خامنہ ای

جوہری ہتھیاربنانے کی کوشش ہی نہیں کی، ایٹم بم کا استعمال شرعی طور پر حرام ہے، امام خامنہ ای امام خامنہ ای نے تہران میں ایک عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ہم نے صلاحیت رکھنے کے باوجود جوہری ہتھیار نہیں بنایا، دین اسلام اس کے استعمال کی اجازت نہیں دیتا، ایٹم بم کا استعمال قطعی طور پر حرام ہے۔

کلام و عقائد

بدا قرآن و حدیث کی روشنی میں

ذات الٰہی کے بارے میں بدا، حقیقت میں ابدا و اظہار ہے۔ یعنی جو کچھ خدا کے علم میں ہے اور انسان کے علم میں نہیں، اسےخداوند متعال اظہار و آشکار کرتا ہے۔ اسے بدا، کہنے کا سبب یہ ہے کہ یہ مقام فعل الٰہی میں نمایاں ہوتا ہے، اگرچہ ذات الٰہی میں جہل اور تغییر محال ہیں۔ خداوند متعال انبیاء کرام پر غیبی طریقے سے نظر رکھتا ہے تاکہ یہ لوگ وحی کے پہنچانے میں خطا سے محفوظ رہیں۔ قرآن کریم اس بارے میں ارشاد فرماتا ہے، "لِّيَعْلَمَ أَن قَدْ أَبْلَغُواْ رِسَالَاتِ رَبهِّم" تاکہ وہ دیکھ لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات کو پہنچا دیا ہے۔ واضح ہے کہ خداوند متعال پہلے سے ہی آگاہ ہے کہ انبیاء، وحی الٰہی کو صحیح طریقے سے لوگوں تک پہنچائیں گے۔

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی علم کلام کےاہم مباحث میں سے ایک حسن و قبح عقلی کا بحث ہے ۔اس سے مراد یہ ہے کہ کچھ افعال ذاتی طور پر حسن {اچھے} اور کچھ افعال ذاتی طور پر قبیح{ برے} ہیں ۔ معتزلہ اور امامیہ حسن و قبح عقلی کے قائل ہیں جبکہ اشاعرہ اس کی نفی کرتے ہیں۔ بہت سے کلامی مسائل اس بحث پر موقوف ہیں مثلا انسان کا اپنے اعمال میں خود مختار ہونا،خدا وند متعال کی بعض صفات کمالیہ کا ثبوت جیسے خدا کا عادل ہونا،اسی طرح بعض صفات سلبیہ بھی اسی بحث پر موقوف ہے جیسے خدا سے قبیح کا سرزد نہ ہونا،خداکا ظلم نہ کرنا وغیرہ ۔ جو لوگ حسن اور قبح کے قائل ہیں وہ انسانی افعال میں انسان کو مختار،خدا کو عادل مانتے ہیں جبکہ حسن و قبح کے مخالفین انسان کو مجبور اور خداکی عدالت سے انکار کرتے ہیں ۔

تربیت اولاد

خاندانی منصوبہ بندی : ایک معاشرتی ضرورت یا دھوکہ!

خاندانی منصوبہ بندی کوآج کے دور میں مختلف مملک کی حکومتیں اپنی کامیاب ترین پالیسیوں میں شمار کرتی ہیں۔ آبادی کا کنٹرول اور چھوٹا خاندان خوشحالی کا ذریعہ سمجھاجاتا ہے۔ خصوصاً محدود وسائل رکھنے والے ممالک میں اس پالیسی کو زیادہ اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے

تعليم و تربيت کے بارے ميں اسلامي علما کي آرا و نظريات

تاريخ اسلام ميں تقريبا تمام علماء و دانشور مختلف علوم ميں مھارت رکھنے کے ساتھ ساتھ تعليم و تربيت ميں بھي صاحب نظر اور مھارت کے حامل ہوا کرتے تھے اس سے اسلام ميں تعليم وتربيت کي اھميت کا پتہ چلتا ہے لھذا ہم يہاں پر علما اسلام کي نظر ميں تعليم و تربيت کي اھميت اجاگر کرنے کے لئے ان کے بعض نظريات پيش کر رہے ہيں۔

تندرستی

لہسن اور پیاز چھاتی کے سرطان سے بچانے میں مددگار

لہسن اور پیاز ایشیا میں ایک عرصے سے استعمال ہورہی ہیں اور اب ان کے متعلق اچھی خبر یہ آئی ہے کہ ان دونوں جادوئی سبزیوں کا بھرپور اور مسلسل استعمال خواتین کو چھاتی کے سرطان (بریسٹ کینسر) سے محفوظ رکھتا ہے۔

گوشت نہیں کھائیں گے تو... کند ذہن ہوجائیں گے!

گوشت نہیں کھائیں گے تو... کند ذہن ہوجائیں گے!

مہدویت{امام زمان عج}

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی امامت کے اہداف میں سے ایک ہدف امام معصوم کا لوگوں کی باطنی ہدایت ہے۔ امام لائق اور پاکیزہ دل رکھنے والے افراد کو اپنی طرف جذب کر کے انہیں کمال تک پہنچاتے ہیں۔ واضح ہے کہ انسان کا اس طرح ہدایت سے ہمکنار ہونے کے لئے ضروری نہیں کہ وہ امام کے ساتھ ظاہری رابطہ برقرار کرے۔ گذشتہ بیانات کی روشنی میں امام زمانہ (عج) کو بادل کے پیچھے پنہان روشن آفتاب سے تشبیہ دینے کا مقصد بھی واضح ہو جاتا ہے۔ اگرچہ بادل کے پیچھے پنہان سورج سے انسان مکمل طور بہرہ مند نہیں ہوتا ہے لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ اس سے انسان کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا ہے۔ بہرحال امام زمانہ (عج) کے وجود کے آثار و برکات سے بہرہ مند نہ ہونے کا سبب انسانوں کی طرف سے خاص حالات کا فراہم نہ کرنا ہے، جس کی وجہ سے لوگ اس عظیم نعمت کے فوائد سے محروم ہیں اور اس محرومیت کا سبب وہ خود ہیں نہ کہ خداوند متعال اور امام، کیونکہ خداوند متعال اور امام کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی مشکل درپیش نہیں ہے۔

دیگر مناسبتیں

آفتاب کربلا جناب حضرت علی اکبر علیہ السلام

کربلا کے میدان میں ایک جوان ایسا بھی تھا جو سیرت و صورت اورگفتار و کردار میں شبیہ پیغمبر تھے۔دیکھنے والا دنگ رہ جاتا تھا کہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے ہیں۔انہوں نے اس کائنات میں ایسی قربانی پیش کی کہ تمام دنیا دھنگ رہ گئی۔آپ ایسے باپ کے فرزند تھے جس پر رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ناز تھا ،جس کے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری بن گئے۔اس عظیم باپ کا فرزند تھا جس نے دنیا والوں کو جینا سکھایا اورباطل قوتوں کے سامنے قیام کر نا سکھایا۔

حدیث غدیر، حدیث متواتر

متواتر لفظی: وہ حدیث یا خبر جس کے تمام روایوں نے، تمام طبقات میں، اس حدیث یا خبر کے مضمون کو ہو بہو اور یکسان طور پر نقل کیا ہو۔ جیسے حدیث ثقلین کی عبارت، (انّي تارك فيكم الثقلين ۔۔) یا حدیث غدیر کی عبارت (من كنت مولاه فهذا عليّ مولاه)۔

چہاردہ معصومین ع

امام سجاد علیہ السلام

امام علیہ السلام نے کربلا سے کوفہ، کوفہ سے شام اور زندان سے رہائی تک ہر موقع پر اپنے خطبوں کے ذریعے جہاں قیام حسینی علیہ السلام کے اصولوں اور فلسفے سے لوگوں کو آگاہ فرمایا وہیں اسلام کا نام استعمال کرتے ہوئے اسلام کی دھجیاں اڑانے کی کوشش کرنے والی ناپاک حکومت کا مکروہ چہرہ بھی بےنقاب فرمایا۔

معاویہ و یزید کے دور حکومت میں امام حسین (ع) کا کردار

معاویہ کو ہر وقت آپ کے قیام کا خوف رہتا تھا۔ چنانچہ اس نے امام کے سامنے قبض و بسط کی پالیسی اپنائی یعنی ایک طرف سے آپ کی منزلت کو مدنظر رکھتا تھا اور بظاہر آپ کے لئے احترام کا قائل تھا اور آپ کی تعظیم کرتا تھا اور اپنے کارگزاروں کو بھی ہدایت کرتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرزند کو نہ چھیڑیں اور ان کی بےحرمتی سے پرہیز کریں۔ دوسری طرف سے امام کی مسلسل اور شب و روز نگرانی کو اپنی پالیسی کا حصہ بنایا اور سفر اور حضر میں آپ کی تمام حرکات و سکنات پر کڑی نظر رکھی جاتی تھی۔

دیگر موضوعات

جابر بن عبداللہ انصاری پہلا زائر اربعین حسینی

عطیہ کوفی کے مطابق جابر بن عبد اللہ انصاری کے ساتھ حسین بن علی علیہ السلام کی قبر کی زیارت کرنے کے لئے کوفہ سے نکلے۔ جب ہم کربلا پہنچے تو جابر فرات کے ساحل کے قریب گیا اور غسل انجام دیا اور محرم افراد کی طرح ایک چادر پہنی، پھر ایک تھیلی سے خوشبو نکالا اور اپنے آپ کو اس خوشبو سے معطر کیا اور ذکر الہی کے ساتھ قدم اٹھانا شروع کیا، یہاں تک کہ وہ حسینؑ ابن علیؑ کے مرقد کے قریب پہنچا۔ جب ہم نزدیک پہنچے تو جابر نے کہا کہ میرا ہاتھ قبر حسینؑ پر رکھو۔ میں نے جابر کے ہاتھوں کو قبر حسین پر رکھا۔ اس نے قبر حسینؑ ابنی علی کو سینے سے لگایا اور بے ہوش ہو گیا۔ جب میں نے اس کے اوپر پانی ڈالا تو وہ ہوش میں آیا۔ اس نے تین مرتبہ یا حسینؑ کی آواز بلند کی۔

عطیہ عوفی(کوفی)زائر اربعین حسینی

زیارت اربعین کی اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ امام حسن عسکری علیہ السلام نے فرمایا: مومن کی نشانیوں میں سے ایک زیارۃ اربعین کی تلاوت کرناہے۔۳۔جب بھی زیارت اربعین اورچہلم امام حسین علیہ السلام کا ذکر ہو وہاں حتما ان دو ہستیوں یعنی جابر اور عطیہ کا ذکر ہوتا ہے۔ یہ دونوں ہستیاں اسلامی تاریخ کی معروف شخصیات میں سے ہیں۔ لیکن جو چیز انہیں دوسری شخصیات اورافراد سے ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ان کا شمار امام حسین علیہ السلام کے پہلے زائروںمیں ہوتا ہے۔

سب سے زیادہ زیر بحث

امام علی علیہ السلام کی شانِ میں چہل حدیث

مولا علیؑ کی شان میں چالیس احادیث اور یہ ﻭﻩ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ہیں ﺟﻮ ﺻﺤﺎﺡ ﺳﺘﻪ ﻣﯿﮟ بھی موجود ہے. 1= ﻋﻨﻮﺍﻥ ﺻﺤﻴﻔﺔ ﺍﻟﻤﺆﻣﻦ ﺣﺐّ ﻋﻠﻰؑ ﺑﻦ ﺍﺑﻰ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ. ﺻﺤﯿﻔﮧ ﻣﻮﻣﻦ ﮐﺎ ﻋﻨﻮﺍﻥ ﻣﺤﺒﺖِ ﻋﻠﯽؑ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻃﺎﻟﺐؑ ﮨﮯ.

دعا کی اہمیت

دعا کی اہمیت حضرت انسان کس قدر شرف و عظمت کا مالک ہے،اس کے لئے کائنات بنی،پوری کائنات میں اسی کو عزت و تکریم کا حق دار ٹھہرایا گیا۔تمام مخلوق اس کی خدمت اور منفعت کے لئے پیدا کی گئی۔لیکن اتنی عظمتوں کے باوجود اس کی خلقت کا مقصد اللہ کی معرفت اور عبادت قرار دیا گیا۔لہذا انسان کا اہم کام خدا سے ارتباط و ربط ہے۔مگر کیسا رابطہ؟ اتنی عظمتوں کے باوجود بارگاہ خداوندی میں فقر محض اور احتیاج محض ہے جبکہ ذات پروردگار غناء ہی غناء ہے۔بلندی ہی بلندی ہے۔انسان مشکلات،مصائب اور تکالیف میں ایسی ذات کی طرف رجوع کر کے اپنے فقر اور احتیاج محض ہونے کا اقرار و اعتراف کرتے ہوئے اپنی نفی اور بے ثباتی کا اظہار کرتا نظر آتا ہے۔اس سلسلے میں انسان کا ایک اہم وسیلہ دعا ہے۔دعا کے ذریعے اپنی احتیاج کا اظہار بھی کرتا ہے اوراللہ سے اعانت کی التجا بھی کرتا ہے۔

قرآنِ کریم اور اصلاحِ معاشرہ تحریر: عارف حسین تھہیم

لفظِ ’’اصلاح‘‘ درست کرنے، صحیح کرنے اور خرابی کو دُور کے معنی میں آتا ہے۔ معاشرتی اور اجتماعی مفہوم کے اعتبار سے شائستہ اور نیک عمل انجام دینے، نیز فساد و تباہی کو ختم کرنے کے لیے بھی اصلاح کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ ارشادِ پروردگار ہے: ﴿ إِلاَّ الَّذِينَ تَابُواْ وَأَصْلَحُواْ وَبَيَّنُواْ فَأُوْلَئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ﴾[1]؛ ’’سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے توبہ کی اور اپنے کئے کی اصلاح کر لی اور (جس کو چھپایا ہوا تھا) واضح کر دیا تو ایسے ہی لوگوں کی توبہ میں قبول کرتا ہوں اور بےشک میں بڑا توبہ قبول کرنے والا اور بہت مہربان ہوں۔‘‘ حقیقی توبہ میں گذشتہ بُرائی اور فساد کا دُور کرنا اور آئندہ بُرائی و فساد سے بچے رہنے کا تہیہ کرنا ضروری ہے۔ شائستہ اور صالح معاشرے کی تشکیل کا ہدف اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی دُنیوی و اُخروی اور مادی و معنوی ضرورتوں کو پورا کیا جائے؛ لہٰذا صالح معاشرے کی خصوصیات یہ ہیں کہ اس میں ہر ایک کی جان، مال، عزّت و آبرو اور ناموس محفوظ ہوتی ہے، لوگوں کی درمیان مہر و محبت اور اپنائیت کا راج ہوتا ہے اور سب لوگ روحانی و معنوی لحاظ سے پُرسکون اور مطمئن ہوتے ہیں۔

پیٹ کا درد کئی امراض کی علامت ہوسکتا ہے

اگر پیٹ میں درد ہورہا ہو تو اس کی کئی وجوہ ہوسکتی ہیں۔ اکثر ناقص غذا کی وجہ سے معدے میں تکلیف ہونے لگتی ہے جسے ہم پیٹ کے درد سے تعبیر کرتے ہیں۔ معدے کا درد کئی امراض کی علامت بھی ہوسکتا ہے، اس لیے اسے نظرانداز نہیں کرنا چاہیے اور بلاتاخیر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ بسم اللہ الرحمن الرحیم بنام خدائے رحمن و رحیم اٴَللّٰھُمَّ اِنّيِ اٴَسْاٴَ لُکَ بِرَحْمَتِکَ الَّتي وَ سِعَتْ کُلَّ شَيْءٍ،وَ بِقُوَّتِکَ الَّتي قَھَرْتَ خدایا میراسوال اس رحمت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر محیط ھے۔ اس قوت کے واسطہ سے ھے جو ھر چیز پر حاوی ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ،وَخَضَعَ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ،وَذَلَّ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ، وَبِجَبَرُوتِکَ الَّتي غَلَبْتَ اور اس کے لئے ھر شے خاضع اور متواضع ھے۔ اس جبروت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر غالب ھے اور اس عزت کے واسطہ سے ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ، وَ بِعِزَّتِکَ الَّتي لاٰ یَقُومُ لَھٰا شَيْءٌ، وَبِعَظَمَتِکَ الَّتي مَلَاٴَتْ کُلَّ جس کے مقابلہ میں کسی میں تاب مقاومت نھیں ھے۔اس عظمت کے واسطہ سے ھے جس نے ھر چیز کو پر کردیا ھے شَيْءٍ، وَ بِسُلْطٰانِکَ الَّذي عَلاٰ کُلَّ شَيْءٍ، وَبِوَجْھِکَ الْبٰاقي بَعْدَ فَنٰاءِ کُلِّ شَيْءٍ،

تلاوت قرآن کی فضیلت

'پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا، جو شخص رات کو دس آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام غافلین (جو یاد خدا سے بے بہرہ رہتے ہیں) میں نہیں لکھا جائے گا اور جو شخص پچاس آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام ذاکرین (جو خدا کو یاد کرتے ہیں، حرام و حلال کا خیال رکھتے ہیں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص سو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام قانتین (عبادت گزاروں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص دوسو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام خاشعین (جو خدا کے سامنے متواضع ہوں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص تین سو آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام سعادت مندوں میں لکھا جائے گا، جو شخص پانچ ہزار آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام عبادت اور پرستش خدا کی کوشش کرنے والوں میں لکھا جائے گا اور جو شخص ہزار آیتوں کی تلاوت کرے وہ ایسا ہے جیسے اس نے کثیر مقدار میں سونا راہ خدا میں دے دیا ہو۔،،

مقصد قیام امام حسین علیہ السلام تحریر: محمد حسن حسرت کچوروی

امام حسین ؑ ۲۸ رجب ۶۰ ھ میں مدینہ سے حرکت کرتے ہیں اور ۳ شعبان المعظم کو مکہ میں پہنچتے ہیں پھر ۸ ذی الحجہ کو مکہ سے کوفہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں ۲ محرم الحرام کو وارد کربلا ہوتے ہیں اور ۱۰ محرم الحرام کو شھید ہو جاتے ہیں اس مختصرعرصے میں انسان سو سے زیادہ درس حاصل کر سکتا ہے بلکہ کہہ سکتے ہیں کہ امام کے اس مختصر عرصےمیں ہزاروں دروس شامل ہیں لیکن یہ سارے دروس ایک اصلی درس ‘ حرکت اور قیام امام میں موجود ہیں باقی سارے حاشیے ہیں متن یہ ہے کہ امام نے قیام کیوں کیا؟ یہ اصلی درس ہے لوگ امام سے کہتے تھے آپ مدینہ اور مکہ میں محترم ہیں یمن میں اتنے سارے شیعہ ہیں کسی کونے میں تشریف لے جائیں اور یزید سے کوئی سروکار نہ رکھے تاکہ وہ بھی آپ سے کوئی سروکار نہ رکھے۔ یہ سارے مرید ہیں انہیں تبلیغ کریں عبادت کریں اور زندگی کریں۔ کاس قیام کا مقصد کیاہے ۔۔؟

تربیت اولاد کے انمول اصول تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

لغت کی کتابوں میں لفظ" تربیت" کے لیے تین اصل اور ریشہ ذکر ہوئے ہیں۔ الف:ربا،یربو زیادہ اور نشوونما پانےکے معنی میں ہے۔ ب: ربی، یربی پروان چڑھنا اور برتری کے معنی میں ہے۔ج: رب،یرب اصلاح کرنے اور سرپرستی کرنے کے معنی میں ہے۔۱صاحب مفردات کا کہنا ہے کہ "رب" مصدری معنی ٰ کے لحاظ سے کسی چیز کو حد کمال تک پہچانے ، پرورش اور پروان چڑھانے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ۲ صاحب التحقيق کا کہنا ہے اس کا اصل معنی ٰ کسی چیز کو کمال کی طرف لے جانے ، نقائص کو تخلیہ اور تحلیہ کے ذریعےرفع کرنے کے معنی ٰ میں ہے۔۳ بنابر این اگر اس کا ريشه(اصل) "ربو" سے ہو تو اضافہ کرنا، رشد ، نمو اور موجبات رشد کو فراہم کرنے کے معنی ٰ میں ہےلیکن ا گر "ربب" سے ہو تو نظارت ، سرپرستي و رهبري اور کسی چیز کو کمال تک پہنچانے کے لئے پرورش کے معنی ٰ میں ہے۔

مشاہدات

آج

815

کل

1066

اس ماہ

25471

اس سال

183817

ٹوٹل مشاہدات

353045