علماء کونسل کچورا سکردو بلتستان

متن

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر

تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

علم کلام کےاہم مباحث میں سے ایک حسن و قبح عقلی کا بحث ہے ۔اس سے مراد یہ ہے کہ کچھ افعال ذاتی طور پر حسن {اچھے} اور کچھ افعال ذاتی طور پر قبیح{ برے} ہیں ۔ معتزلہ اور امامیہ حسن و قبح عقلی کے قائل ہیں جبکہ اشاعرہ اس کی نفی کرتے ہیں۔ بہت سے کلامی  مسائل اس بحث پر موقوف ہیں مثلا انسان کا اپنے اعمال میں خود مختار ہونا،خدا وند متعال کی بعض صفات کمالیہ کا ثبوت جیسے خدا کا عادل ہونا،اسی طرح بعض صفات سلبیہ بھی اسی بحث پر موقوف ہے جیسے خدا سے قبیح کا سرزد نہ ہونا،خداکا ظلم نہ کرنا وغیرہ ۔ جو لوگ حسن اور قبح کے قائل ہیں وہ انسانی افعال میں انسان کو مختار،خدا کو عادل مانتے ہیں جبکہ حسن و قبح کے مخالفین انسان کو مجبور اور خداکی عدالت سے انکار  کرتے ہیں ۔حسن و قبح کا مسئلہ یونانی فلسفۂ اخلاق میں موجود تھا کیونکہ وہ اخلاقی اقداروں کی بنیاد حسن و قبح کو قرار دیتے تھے ۱۔اسی طرح اسلام سے پہلے ثنویہ، تناسخیہ و براہمہ  بھی حسن و قبح ذاتی کے معتقد تھے۲۔ دوسری صدی میں کلام اسلامی میں  حسن و قبح کی بحث کو ایک خاص مقام حاصل ہوا جس کی بنا پر متکلمین عدلیہ اور اشاعرہ وجود میں آئے۔

حسن و قبح کے  تین معانی ذکر ہوئےہیں:

الف۔ کمال و نقص

حسن و قبح سے کمال اور نقص مراد لئے جاتے ہیں نیز حسن وقبح افعال اختیاری کیلئے صفت بنتے ہیں ۔ مثلا علم حاصل کرنا حسن  جبکہ جہل قبیح ہے۔ یعنی علم حاصل کرنا نفس کیلئے کمال ہے اور جہل نفس کی نسبت نقص ہے۔اس معنی کے لحاظ سے اکثر اخلاقی صفات حسن اور قبیح  ہیں یعنی ان کا ہونا نفس کیلئے کمال اور نہ ہونا نقص ہوتا ہے ۔

ب۔ ملائمت نفس یا منافرت نفس

مثلایہ منظر خوبصورت ہےیا یہ منظر خوبصورت نہیں ہے ۔ان افعال میں حسن اور قبح کی بازگشت حقیقت میں نفس کی طرف لوٹتی ہے یعنی انسانی نفس کو اس سے لذت محسوس ہونے کی وجہ سے انسانی نفس اس کی طرف میلان رکھتا ہے یا انسانی نفس اس سے قبح کا احساس کرتا ہے اور اس سے دوری اختیاری کرتا ہے ۔اس قسم میں کبھی حسن و قبح کو مصلحت اور مفسدہ سے بھی تعبیر کرتے ہیں۳ ۔یہ قسم پہلی قسم سے زیادہ وسیع تر ہے ۔ یہ قسم اشاعرہ اور عدلیہ کے درمیان محل نزاع نہیں ہے ۔

 

ج۔ استحقاق مدح و ذم

عقلا کے نزدیک فعل  حسن کو انجام دینے والا قابل مدح اور ستائش ہے نیز ثواب کا مستحق ہےجبکہ فعل قبیح کو انجام دینے والا قال مذمت ہے اور عقاب کا مستحق ہے ۔ بعبارت دیگر حسن وہ چیز ہے جسے عقلا کے نزدیک بجا لانا چاہئے اور قبیح وہ ہے جسے عقلا کے نزدیک بجا نہیں  لاناچاہئے ۔عقل اس بات کو درک کرتی ہے کہ حسن فعل کو انجام دینا چاہئے اور قبیح کو ترک کرنا چاہئے۔  ۴ پہلے اور دوسرے معنی کے اعتبار سے عدلیہ اور اشاعرہ میں کوئی اختلاف نہیں ہے جبکہ تیسرےمعنی کی نسبت عدلیہ کی طرف دیتے ہیں یعنی بعض افعال کے حسن اور قبح کے قائل ہیں جبکہ اشاعرہ کلی طور پر اس بات سے انکار کرتے ہیں ۵۔

شیعہ مذہب میں عدل الہیٰ  کی تفسیر حسن و قبح عقلی  کے ذریعےکی جاتی ہے ۔حسن و قبح عقلی سے مراد یہ ہے کہ فاعل مختار سے جو بھی کام سرزد ہوتا ہے وہ حقیقت میں یا مستحسن ہے یا قبیح ،یعنی یا اچھا ہے یا برا ۔انسان کی عقل بعض  کاموں کے اچھے اور برے ہونے میں تمیز کر سکتی ہے  اگرچہ عقل تمام کاموں کےاچھےاور برے ہونے کی شناخت نہیں کر سکتی جس کی بنا پر وہ وحی الہیٰ  کی محتاج ہے ۔بعبارت دیگر حسن و قبح عقلی مقام ثبوت اور نفس الامر میں عمومیت رکھتےہیں لیکن مقام اثبات میں افعال کے حسن و قبح کی شناخت کا دائرہ عام نہیں ہے۔یہاں انسان کی عقل محدود پیمانے پر افعال کے حسن و قبح کو درک کرتی ہے ۔ قرآن کریم کی آیات سے مذکورہ مطالب واضح طورپر سامنے آتے ہیں جیساکہ قرآن کریم پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ماموریت کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے :{ يَأْمُرُهُم بِالْمَعْرُوفِ وَ يَنہاهُمْ عَنِ الْمُنكَر}۶وہ نیکیوں کا حکم دیتاہے اور برائیوں سے روکتاہے ۔ اس آیت  کے ظاہر سےیہی معلوم ہوتا ہے کہ افعال حقیقت میں دو قسم کے ہیں جن میں سے بعض معروف { حسن }اور بعض منکر {قبیح}ہیں۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معروف کا حکم دیتے اور منکرات سےنہی کرتے تھے۔ امیر المومنین علیہ السلام  اپنی وصیت میں امام حسن مجتبی علیہ السلام سے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں :{انه لم یامرک الا بحسن ولم ینهک الا عن قبیح}۷۔اس نے تجھے حکم نہیں دیا مگر اچھی چیز کا اور تجھے منع نہیں کیا مگر بری چیز سے ۔قرآن کریم میں بہت سارے مقامات پر خداوند متعال انسانی عقل و ضمیر کو فیصلے کی دعوت دیتاہے یعنی انسانی عقل بعض افعال کے {خواہ وہ نظری ہوں یا عملی } کےحسن و قبح کو درک کرنے کی صلاحیت رکھتی ہےجیساکہ ارشاد ہوتا ہے :{ هَلْ جَزَاءُ الْاحْسَانِ إِلَّا الْاحْسَان}۸کیا احسان کا بدلہ احسان کے علاوہ کچھ اور ہو سکتا ہے ؟{ قُلْ هَلْ يَسْتَوِى الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُون}۹کہہ دے کہ کیا وہ لوگ جوجانتے ہیں ان کےبرابر ہیں جو نہیں جانتے ۔{ أَ فَمَن يهَدِى إِلىَ الْحَقّ‏ أَحَقُّ أَن يُتَّبَعَ أَمَّن لَّا يهَدِّى إِلَّا أَن يهُدَى‏  فَمَا لَكمُ‏ كَيْفَ تحَكُمُون}۱۰اور جو حق کی ہدایت کرتا ہے وہ قابل اتباع ہے یا  وہ جو ہدایت کرنے کے قابل نہیں ہے مگر یہ کہ اس کی ہدایت کی جائے ؟تو آخر تمہیں کیا ہو گیا ہے اور تم کیسے فیصلے کررہے ہو؟{ أَمْ نجَعَلُ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَ عَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ كاَلْمُفْسِدِينَ فىِ الْأَرْضِ أَمْ نجَعَلُ الْمُتَّقِينَ كاَلْفُجَّار}۱۱کیاہم ایمان لانےوالوں اور نیک عمل کرنےوالوں کو زمین میں فسادبرپا کرنے والوں جیسا قرار دیدیں یا صاحبان تقوی کو فاسق و فاجر افراد جیسا قرار دیدیں؟

اگر ہم حسن و قبح عقلی کو قبول نہ کریں توہم حسن وقبح شرعی کوبھی ثابت نہیں کر سکتے کیونکہ حسن و قبح شرعی کوہم اس وقت ثابت کر سکتے ہیں جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت اور عصمت ثابت ہو جبکہ شرعی دلیل سے ان دونوں کو ثابت کرنے سے دور لازم آتا ہے جوکہ محال ہے ۔ اگر ہم  عقل کے اس حکم کو قبول کریں {جو یہ ہے کہ کسی جھوٹے شخص کو معجزہ دینا نیز کسی ایسے شخص کو لوگوں کی ہدایت کےلئےمنتخب کرنا جو خود  خطا کارا و رگناہگار ہو ،قبیح ہے جبکہ خداوند متعال ہر قسم کے قبیح کاموں سے منزہ ہے }تو  پھرہم نبوت اور شریعت کو ثابت کر سکتے ہیں  نیز اسی طریقے سے حسن و قبح شرعی کو بھی ثابت کر سکتے ہیں ۔ تجرید الاعتقاد میں محقق طوسی  لکھتےہیں :اگر حسن و قبح کو ثابت کرنے کا راستہ شرع تک محدود رہے تو افعال کا حسن و قبح کلی طور پر منتفی ہوگا اور شرع و عقل دونوں سے ثابت نہیں ہوگا ۔۱۲۔حسن و قبح عقلی کی اثبات کے بارے میں متعدد دلائل میں سے نمونے کے طور پرتین دلیلوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

الف: یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر مسلک سے تعلق رکھنے والا شخص عدل و انصاف کی خوبی ،ظلم و ستم کی بدی، عہد وپیمان پر پابند رہنےکی اچھائی ،عہدشکنی کی برائی اور نیکی کاجواب نیکی سے دینے کودرک کرتا ہے۔ تاریخ بشریت کا مطالعہ  اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے اور آج تک اس امر کا مشاہدہ نہیں ہوا کہ کسی عاقل انسان نے اس حقیقت کا انکار کیا ہو ۔

 ب: اگر فرض کریں کہ عقل تمام افعال کے حسن و قبح کو درک کرنے میں کلی طور پر ناتواں ہے اور انسانوں کو تمام افعال کے حسن و قبح جاننے کے لئے شریعت کی طرف رجوع کرناچاہیے توہمیں یہ ماننا پڑے گا  کہ حسن و قبح شرعی بھی قابل اثبات نہیں کیونکہ خود شریعت کے ذریعہ شریعت کو ثابت نہیں کر سکتے کیونکہ اس سے دورلازم آتاہے جوکہ  محال ہے۔اس کے علاہ قرآنی آیتوں  سے معلوم ہوتاہے کہ انسانی عقل بعض افعال کے حسن و قبح کو درک کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔اس بنا پر خداوند کریم ،انسانی عقل و ضمیر کوفیصلہ کی دعوت دیتا ہے جیساکہ ارشاد ہوتا ہے :{افنجعل المسلمین کالمجرمین .مالکم کیف تحکمون}۱۳کیاہم اطاعت گذاروں کو مجرموں جیسا بنا دیں؟تمہیں کیا ہوگیا ؟ کیسا فیصلہ کر رہے ہو  ۔۱۴

ج:اگر حسن اور قبح عقلی نہ ہو بلکہ شرعی ہو تو  اس صورت میں شارع حسن کو قبیح اور قبیح کو حسن قرار دے سکتا ہے۔اس صورت میں لازم آتا ہے کہ احسان کرنا حسن ہونے کی بجائے قبیح اور برے اعمال قبیح ہونے کی بجائے حسن میں تبدیل ہو جائے جبکہ یہ بدیہی طور پر باطل ہے کیونکہ انسان کی وجدان اور ضمیر  اس بات کی گواہی دیتا  ہے کہ محسن کی مذمت کرنا صحیح نہیں  اسی طرح برے انسان  کی مدح کرنا  بھی درست نہیں ہے ۔۱۵

حسن و قبح کے منکرین اپنی دلیل اس طرح سے پیش کرتے ہیں:

الف:انسان اپنے افعال میں مجبور ہے ۔جو انسان اپنے افعال میں مجبور ہو وہان عقل حسن اور قبح کا حکم نہیں لگاسکتی ہے ۔ ۱۶

ب:اگر جھوٹ  بولنے میں  ذاتی قباحت موجود ہو  تو بعض اوقات  بعض مصالح کی خاطر جھوٹ بولنے کو قبیح تصور نہیں کیا جاتا ہے جبکہ جو چیز کسی چیز کی ذات یا لازم صفت ذات ہواس کا جدا ہونا ممکن نہیں ہے۔مثلا جھو ٹ بول کر نبی کی جان کو ظالموں سے  بچائے ۔اگرجھوٹ بولنے میں  ذاتی قباحت ہوتی تو  اس مقام پر جھوٹ  بولنےکو  قبیح  ہوناچاہئے تھا ۔بنابرین حسن و قبح ذات کا حصہ نہیں ہیں یا ذات  کے صفات لازم میں سےنہیں ہیں۔۱۷

 حسن  و قبح کے منکریں کے  لئے جواب یہی ہے  کہ انسان اپنے افعال و اعمال میں خود مختار  و آزاد ہے ۔اسی طرح اگر کسی اہم مصلحت کی خاطر جیسے نبی کی جان بچانا اگر جھوٹ بولنے پر موقوف ہو تو اس سے جھوٹ کی ذاتی قباحت ختم نہیں ہوتی بلکہ صرف اس اہم مصلحت کی خاطر اس شخص کے لئے جھوٹ بولنا جائز قرار دیا گیا ہے۔۱۸

حوالہ جات:

1.    محمد کاظم عماد زادہ،مقالہ بررسی تطبیقی حسن و قبح وثمرات آن در اندیشہ شیعہ ،معتزلہ ، اشاعرہ و ماتریدیہ۔

2.   شہرستانی، محمد، نہایہ الاقدام، ص۳۷۱

3.  شیخ مظفر ،اصول الفقہ ، ج 2 ص 274 با حوالۂ قوشجی ،شرح التجرید،ص338 ۔ایجی، المواقف ج 3 ص 262۔

4.  شیخ محمد رضا مظفر ،اصول الفقہ،ج 1 ؛ میثم بحرانی ،قواعد المرام،ص 104؛ایجی ،المواقف ج3 ص262؛قاضی جرجانی ، شرح المواقف،ض8 ص 181۔

5.  جعفر سبحانی،الٰہیات،ض 231۔

6.   عراف،157۔

7.  نہج البلاغۃ  ،نامہ،31۔

8.  الرحمن،60۔

9.   زمر،9

10.  یونس،35۔

11.   ص،28۔

12.  تجرید الاعتقاد،محقق طوسی۔

13. قلم،35- 36۔

14. جعفر سبحانی ،عقائد امامیہ، ص 140۔

15. جعفرسبحانی،الہیات ص 246

16.  قاضی جرجانی ،شرح المواقف،ج8 ص185۔ایجی،المواقف ج3 ص 262

17. قاضی جرجانی ،شرح المواقف،ج8 ص189۔ایجی،المواقف ج3 ص 262

۱۸۔علامه بہبہانی الفوائد الحائریه، ص 372۔

 

 

اس سے مربوط موضوعات

عصمت حضرت زہرا قرآن و حدیث کی روشنی میں تحریر: احسان علی دانش کچوروی
عصمت حضرت زہرا قرآن و حدیث کی روشنی میں تحریر: احسان علی دانش کچوروی حضرت فاطمہ زہراعلیہا السلام صنف نسواں میں اسلام کی تنہا صاحب عصمت خاتون ہیں کہ جس کی عصمت قرآن اور حدیث کی روشنی میں ثابت ہے اور ان کی پُر افتخار زندگی اس بات پر دوسری دلیل ہے۔ حضرت زہرا علیہا السلام کے دنیا میں آنے کا اہتمام جنت کی پاک غذا سے ہوا۔ رحم مادر ہی میں ماں کے لئے ایک بہترین ساتھی اور مونس شمار ہوتی تھی۔ اور دوران ولادت جن باعظمت مخدرات عصمت کو غیب سے بھیجا گیا تھا، ان سے گفتگو کی اور آپ کی محدود حیات طیبہ میں عقل کو حیران کر دینے والی سینکڑوں کرامات ظاہر ہوئیں یہ تمام باتیں اس باعظمت خاتون کی عصمت کی حکایت کرتی ہیں۔ حضرت فاطمہ علیہا السلام عالم اسلام کی خواتین کے لیے اسوہ اور نمونہ کے طور پر پہچانی جاتی ہیں دوسری عورتوں کےلیے ضروری ہے کہ ان کی پاک سیرت کو اپنے لئے نمونہ عمل قرار دیں۔ تربیت، اخلاق اور خود سازی کے عملی میدان میں ان کی پیروی کریں۔ عبادت کے طریقے اور روش، شوہرداری، بچوں کی پرورش اور لوگوں کے حقوق کے بارے میں ان کو آئیڈیل بنایا جائیں۔ان تمام کرداروں کو نبھانا چاہیے جن کو انہوں نےنبھایا ہے اور اس طرح برتاؤ کرنا چاہئے جس طرح انہوں نے کیا ہے۔
قیامت اور معاد کی حقیقت/ تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی
قرآن کریم زمین و آسمان کی خلقت کے بارے میں فرماتا ہے کہ خدا نے انہیں فضول اور بیہودہ خلق نہیں فرمایا ہے۔ اسی طرح قیامت کے بارے میں فرماتا ہے: {إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ مِيقَاتُهُمْ أَجْمَعِين}۴یقینا فیصلے کا دن ان سب کے لئے طے شدہ ہے۔ قیامت کا ایک فلسفہ یہ ہےکہ عدل الٰہی اچھے اور برے افراد کے درمیان نیز کفار اور مومنین کے درمیان مکمل طور پر نافذ ہو کیونکہ دنیا میں انسان کی زندگی ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ ہے جس کی بنا پر سزاء و جزاء کے مقام پر عدل الٰہی کا مکمل نفاذ ممکن نہیں ہے۔ اسی لئے ایک اور عالم کا ہونا ضروری ہےتاکہ عدل الٰہی مکمل طور پر نافذ ہو جیساکہ قرآن کریم اس سلسلے میں فرماتا ہے: {أَمْ نجَعَلُ الَّذِينَ ءَامَنُواْ وَ عَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ كاَلْمُفْسِدِينَ فىِ الْأَرْضِ أَمْ نجَعَلُ الْمُتَّقِينَ كاَلْفُجَّار} ۵ کیا ہم ایمان لانے اور اعمال صالح بجا لانے والوں کو زمین میں فساد پھیلانے والوں کی طرح قرار دیں یااہل تقوی کو بدکاروں کی طرح قرار دیں؟
عقیدہ ختم نبوت تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی
دین اسلام کے مسلمہ اصولوں میں سے ایک نبوت پر اعتقاد ہے بلکہ تمام ادیان آسمانی کے ہاں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ نبوت اور پیغمبری کا سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا اور حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت اور آپ ؐ کا آخری نبی ہونا دین اسلام کے مسلمہ امور میں سے ہے۔ اس پر تمام امت اسلامی کا اتفاق و اجماع ہے۔ اگر کبھی اس سلسلے میں کوئی اختلاف بھی ہو تو وہ فرعی مسائل میں ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کی عقلی دلیل یہی ہے کہ تاریخ شاہد ہے آپ ؐنے نبوت کا دعویٰ کیا اور اپنے دعوے کو معجزات کے ذریعے ثابت فرمایا۔ آپ ؐنے ان معجزات کے ذریعے لوگوں کو چیلنج بھی دیا۔ لہذا اگر معجزہ چیلنج کے ساتھ ہو تو یہی نبوت کے اثبات کے لئے قطعی دلیل ہے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہم ترین معجزات میں سے ایک قرآن کریم ہے۔ آپ ؐنے مختلف طریقوں سے لوگوں کو قرآن کا مقابلہ کرنے کا چیلنج دیا۔ کبھی قرآن کا مثل لانے۔1 کبھی اس کی طرح دس سورتیں لانے،2 اور کبھی اس کی مانند ایک سورہ لانے کا چیلنج دیا۔3 جس کے آگے صرف یہ کہ عرب کے نامور ادیبوں اور سخنوروں نے سر تسلیم خم کیا بلکہ ان میں سے بعض افراد نے قرآن کریم کے مافوق بشر ہونے کا اعتراف بھی کیا، لیکن جاہلی تعصب کی وجہ سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے کے بجائے وہ آپ ؐ کے کلام کو جادو سے تعبیر کرنے لگے، تاکہ لوگوں کو اس طریقے سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے سے روکا جا سکے۔
رجعت کا عقیدہ تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی
شیعوں کےمخصوص عقائد میں سے ایک {عقیدہ رجعت }ہے ۔یعنی یہ عقیدہ رکھنا کہ مہدی موعود {عج}کے ظہور اور پوری دنیا میں اسلامی حکومت کے قائم ہونےکے بعد اولیائے الہی اوراہل بیت پیغمبر علیہم السلام کے پیروکار اور ان کے دشمنوں کا ایک گروہ دوبارہ زندہ ہو کر دنیا میں واپس آئیں گے۔اولیاءاور نیک لوگ دنیا میں عدل و انصاف کی حکومت دیکھ کر خوش ہو ں گے اور انہیں اپنے ایمان اورعمل صالح کے ثمرات دنیا میں حاصل ہوں گے جبکہ اہل بیت علیہم السلام کے دشمنوں کو اپنے ظلم کی سزا ملے گی البتہ آخری جزا و سزا قیامت میں ملیں گی ۔ رجعت ایک ممکن امر ہے جو عقلی لحاظ سے محال نہیں ہے ۔اس کے امکان پر واضح دلیل گذشتہ امتوں میں اس کا واقع ہونا ہے یعنی گذشتہ امتوں میں بھی کچھ لوگ مرنے کے بعد زندہ ہو ئے ہیں۔قرآن کریم جناب عزیر علیہ السلام کے بارے میں فرماتاہے کہ وہ مرنے کے سو سال بعد دوبارہ زندہ ہوئے ۔اسی طرح حضرت عیسیعلیہ السلام کے معجزات میں سے ایک معجزہ مردوں کو زندہ کرنا تھا۔رجعت اور مردوں کے زندہ ہونے کا ایک نمونہ بنی اسرائیل کےمقتول کا زندہ ہونا ہے۔بنابریں بعض شبہ ایجاد کرنے والوں کا رجعت کو تناسخ کے ساتھ تشبیہ دینا ان کی کوتاہ فکری اور نا آگاہی کی دلیل ہے ۔

بین الاقوامی

کرتار پور راہداری کے افتتاح سے پاک بھارت تعلقات میں بہتری آئےگی، من موہن سنگھ

کرتار پور راہداری کے افتتاح سے پاک بھارت تعلقات میں بہتری آئےگی، من موہن سنگھ سابق بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کا کہنا ہے کہ کرتار پور راہداری کا افتتاح تاریخی لمحہ ہے، راہداری کھولنے سے پاکستان بھارت کےتعلقات میں بہتری آئے گی۔

بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی جگہ مندر تعمیر کرنے کا حکم دے دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی جگہ مندر تعمیر کرنے کا حکم دے دیا بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی حکومت کو حکم دیا کہ 3 سے 4 ماہ کے اندر اسکیم تشکیل دے کر زمین کو مندر کی تعمیر کے لئے ہندووں کے حوالے کرے۔

امام خمینی

امام خمینی رہ کے انقلابی نظریات اور اس کے اثرات

امام خمینی علیہ الرحمہ کی شخصیت اعلم فقیہ، واصل عارف اور با بصیرت راہبر جیسی صفات کی حامل ہے، ایران کی سرزمین پر دو ہزار پانچ سو سالہ پرانی شہنشاہیت کو شکست دینے کے بعد شرق و غرب کی سپر پاورز کا سامنا کرنے والی شخصیت ہے۔

امام خمینی رح ایک مرد عارف

حضرت امام خمینی رح کے بارے میں عام طور پر جو بات ہمارے ہاں زیادہ مشہور ہے وہ یہ کہ آپ نے ایک ملوکیت اور بادشاہت کا خاتمہ کرکے ایک اسلامی اور مذہبی حکومت قائم کی۔ لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ استعماری طاقتوں کے خلاف تھے اور استعماری طاقتوں نے آپ کی حکومت کے خاتمے کے لیے اپنے پورے وسائل بروئے کار لائے لیکن وہ اس میں ناکام ہو گئیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ امام خمینی رح بہت شجاع اور بہادر تھے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ آپ نے ناجائز طور پر قائم صہیونی حکومت کے خاتمے اور فلسطینیوں کے حقوق کے حصول کے لیے بھی آواز بلند کی۔ آپ مستضعفوں اور محروموں کے حقوق کے بھی علمبردار تھے۔ آپ نے اتحاد امت کے لیے ایک زور دار آواز بلند کی۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ ایک عالم اور فقیہ تھے اور آپ کی تقلید کی جاتی تھی۔ بعدازاں آپ کا دیوان بھی چھپا اور پاکستان میں بھی بہت سے لوگوں کو معلوم ہوا کہ آپ صاحب دیوان شاعر بھی تھے، لیکن ابھی تک جو پہلو کم شناختہ یا ناشناختہ ہے وہ یہ ہے کہ آپ ایک بلند پایہ عارف تھے اور شاید یہ کہنا زیادہ بہتر ہو کہ آپ کے وجود سے پھوٹنے والی تمام تر خوبیوں کا سرچشمہ یہی امر ہے کہ آپ ایک عارف باللہ اور عاشق الٰہی تھے اور اس سلسلے میں نظری اور عملی طور پر نہایت عمق اور گہرائی کے مقام پر فائز تھے۔

امام خامنہ ای

عراق و لبنان کے ہمدردوں کی پہلی ترجیح ناامنی کا علاج ہونا چاہیئے، آیت اللہ سید علی خامنہ ای

رہبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ ان تمامتر خباثتوں اور خطرناک کینہ پروریوں کے موجب چند ایک جانے پہچانے ہاتھ ہیں جبکہ ان تمام حوادث کے پیچھے امریکی و مغربی انٹیلیجنس ایجنسیز ہیں اور خطے کی بعض آمر حکومتوں کا پیسہ ہے، البتہ دشمن نے ایران کیلئے بھی ایسے ہی منصوبے تیار کر رکھے تھے، لیکن خوش قسمتی کیساتھ ایرانی قوم نے میدان میں قدم رکھتے ہوئے عقلمندی سے کام لیا۔

امام خامنہ ای آیت اللہ مکارم شیرازی کی عیادت کرنے اسپتال پہنچ گئے

امام خامنہ ای آیت اللہ مکارم شیرازی کی عیادت کرنے اسپتال پہنچ گئے . رہبر انقلاب حضرت سید علی خامنہ ای آیت اللہ مکارم شیرازی کی عیادت کیلئے اسپتال تشریف لے گئے۔

کلام و عقائد

بدا قرآن و حدیث کی روشنی میں

ذات الٰہی کے بارے میں بدا، حقیقت میں ابدا و اظہار ہے۔ یعنی جو کچھ خدا کے علم میں ہے اور انسان کے علم میں نہیں، اسےخداوند متعال اظہار و آشکار کرتا ہے۔ اسے بدا، کہنے کا سبب یہ ہے کہ یہ مقام فعل الٰہی میں نمایاں ہوتا ہے، اگرچہ ذات الٰہی میں جہل اور تغییر محال ہیں۔ خداوند متعال انبیاء کرام پر غیبی طریقے سے نظر رکھتا ہے تاکہ یہ لوگ وحی کے پہنچانے میں خطا سے محفوظ رہیں۔ قرآن کریم اس بارے میں ارشاد فرماتا ہے، "لِّيَعْلَمَ أَن قَدْ أَبْلَغُواْ رِسَالَاتِ رَبهِّم" تاکہ وہ دیکھ لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات کو پہنچا دیا ہے۔ واضح ہے کہ خداوند متعال پہلے سے ہی آگاہ ہے کہ انبیاء، وحی الٰہی کو صحیح طریقے سے لوگوں تک پہنچائیں گے۔

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی علم کلام کےاہم مباحث میں سے ایک حسن و قبح عقلی کا بحث ہے ۔اس سے مراد یہ ہے کہ کچھ افعال ذاتی طور پر حسن {اچھے} اور کچھ افعال ذاتی طور پر قبیح{ برے} ہیں ۔ معتزلہ اور امامیہ حسن و قبح عقلی کے قائل ہیں جبکہ اشاعرہ اس کی نفی کرتے ہیں۔ بہت سے کلامی مسائل اس بحث پر موقوف ہیں مثلا انسان کا اپنے اعمال میں خود مختار ہونا،خدا وند متعال کی بعض صفات کمالیہ کا ثبوت جیسے خدا کا عادل ہونا،اسی طرح بعض صفات سلبیہ بھی اسی بحث پر موقوف ہے جیسے خدا سے قبیح کا سرزد نہ ہونا،خداکا ظلم نہ کرنا وغیرہ ۔ جو لوگ حسن اور قبح کے قائل ہیں وہ انسانی افعال میں انسان کو مختار،خدا کو عادل مانتے ہیں جبکہ حسن و قبح کے مخالفین انسان کو مجبور اور خداکی عدالت سے انکار کرتے ہیں ۔

تربیت اولاد

خاندانی منصوبہ بندی : ایک معاشرتی ضرورت یا دھوکہ!

خاندانی منصوبہ بندی کوآج کے دور میں مختلف مملک کی حکومتیں اپنی کامیاب ترین پالیسیوں میں شمار کرتی ہیں۔ آبادی کا کنٹرول اور چھوٹا خاندان خوشحالی کا ذریعہ سمجھاجاتا ہے۔ خصوصاً محدود وسائل رکھنے والے ممالک میں اس پالیسی کو زیادہ اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے

تعليم و تربيت کے بارے ميں اسلامي علما کي آرا و نظريات

تاريخ اسلام ميں تقريبا تمام علماء و دانشور مختلف علوم ميں مھارت رکھنے کے ساتھ ساتھ تعليم و تربيت ميں بھي صاحب نظر اور مھارت کے حامل ہوا کرتے تھے اس سے اسلام ميں تعليم وتربيت کي اھميت کا پتہ چلتا ہے لھذا ہم يہاں پر علما اسلام کي نظر ميں تعليم و تربيت کي اھميت اجاگر کرنے کے لئے ان کے بعض نظريات پيش کر رہے ہيں۔

تندرستی

لہسن اور پیاز چھاتی کے سرطان سے بچانے میں مددگار

لہسن اور پیاز ایشیا میں ایک عرصے سے استعمال ہورہی ہیں اور اب ان کے متعلق اچھی خبر یہ آئی ہے کہ ان دونوں جادوئی سبزیوں کا بھرپور اور مسلسل استعمال خواتین کو چھاتی کے سرطان (بریسٹ کینسر) سے محفوظ رکھتا ہے۔

گوشت نہیں کھائیں گے تو... کند ذہن ہوجائیں گے!

گوشت نہیں کھائیں گے تو... کند ذہن ہوجائیں گے!

مہدویت{امام زمان عج}

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی امامت کے اہداف میں سے ایک ہدف امام معصوم کا لوگوں کی باطنی ہدایت ہے۔ امام لائق اور پاکیزہ دل رکھنے والے افراد کو اپنی طرف جذب کر کے انہیں کمال تک پہنچاتے ہیں۔ واضح ہے کہ انسان کا اس طرح ہدایت سے ہمکنار ہونے کے لئے ضروری نہیں کہ وہ امام کے ساتھ ظاہری رابطہ برقرار کرے۔ گذشتہ بیانات کی روشنی میں امام زمانہ (عج) کو بادل کے پیچھے پنہان روشن آفتاب سے تشبیہ دینے کا مقصد بھی واضح ہو جاتا ہے۔ اگرچہ بادل کے پیچھے پنہان سورج سے انسان مکمل طور بہرہ مند نہیں ہوتا ہے لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ اس سے انسان کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا ہے۔ بہرحال امام زمانہ (عج) کے وجود کے آثار و برکات سے بہرہ مند نہ ہونے کا سبب انسانوں کی طرف سے خاص حالات کا فراہم نہ کرنا ہے، جس کی وجہ سے لوگ اس عظیم نعمت کے فوائد سے محروم ہیں اور اس محرومیت کا سبب وہ خود ہیں نہ کہ خداوند متعال اور امام، کیونکہ خداوند متعال اور امام کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی مشکل درپیش نہیں ہے۔

دیگر مناسبتیں

آفتاب کربلا جناب حضرت علی اکبر علیہ السلام

کربلا کے میدان میں ایک جوان ایسا بھی تھا جو سیرت و صورت اورگفتار و کردار میں شبیہ پیغمبر تھے۔دیکھنے والا دنگ رہ جاتا تھا کہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے ہیں۔انہوں نے اس کائنات میں ایسی قربانی پیش کی کہ تمام دنیا دھنگ رہ گئی۔آپ ایسے باپ کے فرزند تھے جس پر رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ناز تھا ،جس کے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری بن گئے۔اس عظیم باپ کا فرزند تھا جس نے دنیا والوں کو جینا سکھایا اورباطل قوتوں کے سامنے قیام کر نا سکھایا۔

حدیث غدیر، حدیث متواتر

متواتر لفظی: وہ حدیث یا خبر جس کے تمام روایوں نے، تمام طبقات میں، اس حدیث یا خبر کے مضمون کو ہو بہو اور یکسان طور پر نقل کیا ہو۔ جیسے حدیث ثقلین کی عبارت، (انّي تارك فيكم الثقلين ۔۔) یا حدیث غدیر کی عبارت (من كنت مولاه فهذا عليّ مولاه)۔

چہاردہ معصومین ع

امام سجاد علیہ السلام

امام علیہ السلام نے کربلا سے کوفہ، کوفہ سے شام اور زندان سے رہائی تک ہر موقع پر اپنے خطبوں کے ذریعے جہاں قیام حسینی علیہ السلام کے اصولوں اور فلسفے سے لوگوں کو آگاہ فرمایا وہیں اسلام کا نام استعمال کرتے ہوئے اسلام کی دھجیاں اڑانے کی کوشش کرنے والی ناپاک حکومت کا مکروہ چہرہ بھی بےنقاب فرمایا۔

معاویہ و یزید کے دور حکومت میں امام حسین (ع) کا کردار

معاویہ کو ہر وقت آپ کے قیام کا خوف رہتا تھا۔ چنانچہ اس نے امام کے سامنے قبض و بسط کی پالیسی اپنائی یعنی ایک طرف سے آپ کی منزلت کو مدنظر رکھتا تھا اور بظاہر آپ کے لئے احترام کا قائل تھا اور آپ کی تعظیم کرتا تھا اور اپنے کارگزاروں کو بھی ہدایت کرتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرزند کو نہ چھیڑیں اور ان کی بےحرمتی سے پرہیز کریں۔ دوسری طرف سے امام کی مسلسل اور شب و روز نگرانی کو اپنی پالیسی کا حصہ بنایا اور سفر اور حضر میں آپ کی تمام حرکات و سکنات پر کڑی نظر رکھی جاتی تھی۔

دیگر موضوعات

جابر بن عبداللہ انصاری پہلا زائر اربعین حسینی

عطیہ کوفی کے مطابق جابر بن عبد اللہ انصاری کے ساتھ حسین بن علی علیہ السلام کی قبر کی زیارت کرنے کے لئے کوفہ سے نکلے۔ جب ہم کربلا پہنچے تو جابر فرات کے ساحل کے قریب گیا اور غسل انجام دیا اور محرم افراد کی طرح ایک چادر پہنی، پھر ایک تھیلی سے خوشبو نکالا اور اپنے آپ کو اس خوشبو سے معطر کیا اور ذکر الہی کے ساتھ قدم اٹھانا شروع کیا، یہاں تک کہ وہ حسینؑ ابن علیؑ کے مرقد کے قریب پہنچا۔ جب ہم نزدیک پہنچے تو جابر نے کہا کہ میرا ہاتھ قبر حسینؑ پر رکھو۔ میں نے جابر کے ہاتھوں کو قبر حسین پر رکھا۔ اس نے قبر حسینؑ ابنی علی کو سینے سے لگایا اور بے ہوش ہو گیا۔ جب میں نے اس کے اوپر پانی ڈالا تو وہ ہوش میں آیا۔ اس نے تین مرتبہ یا حسینؑ کی آواز بلند کی۔

عطیہ عوفی(کوفی)زائر اربعین حسینی

زیارت اربعین کی اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ امام حسن عسکری علیہ السلام نے فرمایا: مومن کی نشانیوں میں سے ایک زیارۃ اربعین کی تلاوت کرناہے۔۳۔جب بھی زیارت اربعین اورچہلم امام حسین علیہ السلام کا ذکر ہو وہاں حتما ان دو ہستیوں یعنی جابر اور عطیہ کا ذکر ہوتا ہے۔ یہ دونوں ہستیاں اسلامی تاریخ کی معروف شخصیات میں سے ہیں۔ لیکن جو چیز انہیں دوسری شخصیات اورافراد سے ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ان کا شمار امام حسین علیہ السلام کے پہلے زائروںمیں ہوتا ہے۔

سب سے زیادہ زیر بحث

امام علی علیہ السلام کی شانِ میں چہل حدیث

مولا علیؑ کی شان میں چالیس احادیث اور یہ ﻭﻩ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ہیں ﺟﻮ ﺻﺤﺎﺡ ﺳﺘﻪ ﻣﯿﮟ بھی موجود ہے. 1= ﻋﻨﻮﺍﻥ ﺻﺤﻴﻔﺔ ﺍﻟﻤﺆﻣﻦ ﺣﺐّ ﻋﻠﻰؑ ﺑﻦ ﺍﺑﻰ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ. ﺻﺤﯿﻔﮧ ﻣﻮﻣﻦ ﮐﺎ ﻋﻨﻮﺍﻥ ﻣﺤﺒﺖِ ﻋﻠﯽؑ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻃﺎﻟﺐؑ ﮨﮯ.

دعا کی اہمیت

دعا کی اہمیت حضرت انسان کس قدر شرف و عظمت کا مالک ہے،اس کے لئے کائنات بنی،پوری کائنات میں اسی کو عزت و تکریم کا حق دار ٹھہرایا گیا۔تمام مخلوق اس کی خدمت اور منفعت کے لئے پیدا کی گئی۔لیکن اتنی عظمتوں کے باوجود اس کی خلقت کا مقصد اللہ کی معرفت اور عبادت قرار دیا گیا۔لہذا انسان کا اہم کام خدا سے ارتباط و ربط ہے۔مگر کیسا رابطہ؟ اتنی عظمتوں کے باوجود بارگاہ خداوندی میں فقر محض اور احتیاج محض ہے جبکہ ذات پروردگار غناء ہی غناء ہے۔بلندی ہی بلندی ہے۔انسان مشکلات،مصائب اور تکالیف میں ایسی ذات کی طرف رجوع کر کے اپنے فقر اور احتیاج محض ہونے کا اقرار و اعتراف کرتے ہوئے اپنی نفی اور بے ثباتی کا اظہار کرتا نظر آتا ہے۔اس سلسلے میں انسان کا ایک اہم وسیلہ دعا ہے۔دعا کے ذریعے اپنی احتیاج کا اظہار بھی کرتا ہے اوراللہ سے اعانت کی التجا بھی کرتا ہے۔

قرآنِ کریم اور اصلاحِ معاشرہ تحریر: عارف حسین تھہیم

لفظِ ’’اصلاح‘‘ درست کرنے، صحیح کرنے اور خرابی کو دُور کے معنی میں آتا ہے۔ معاشرتی اور اجتماعی مفہوم کے اعتبار سے شائستہ اور نیک عمل انجام دینے، نیز فساد و تباہی کو ختم کرنے کے لیے بھی اصلاح کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ ارشادِ پروردگار ہے: ﴿ إِلاَّ الَّذِينَ تَابُواْ وَأَصْلَحُواْ وَبَيَّنُواْ فَأُوْلَئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ﴾[1]؛ ’’سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے توبہ کی اور اپنے کئے کی اصلاح کر لی اور (جس کو چھپایا ہوا تھا) واضح کر دیا تو ایسے ہی لوگوں کی توبہ میں قبول کرتا ہوں اور بےشک میں بڑا توبہ قبول کرنے والا اور بہت مہربان ہوں۔‘‘ حقیقی توبہ میں گذشتہ بُرائی اور فساد کا دُور کرنا اور آئندہ بُرائی و فساد سے بچے رہنے کا تہیہ کرنا ضروری ہے۔ شائستہ اور صالح معاشرے کی تشکیل کا ہدف اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی دُنیوی و اُخروی اور مادی و معنوی ضرورتوں کو پورا کیا جائے؛ لہٰذا صالح معاشرے کی خصوصیات یہ ہیں کہ اس میں ہر ایک کی جان، مال، عزّت و آبرو اور ناموس محفوظ ہوتی ہے، لوگوں کی درمیان مہر و محبت اور اپنائیت کا راج ہوتا ہے اور سب لوگ روحانی و معنوی لحاظ سے پُرسکون اور مطمئن ہوتے ہیں۔

پیٹ کا درد کئی امراض کی علامت ہوسکتا ہے

اگر پیٹ میں درد ہورہا ہو تو اس کی کئی وجوہ ہوسکتی ہیں۔ اکثر ناقص غذا کی وجہ سے معدے میں تکلیف ہونے لگتی ہے جسے ہم پیٹ کے درد سے تعبیر کرتے ہیں۔ معدے کا درد کئی امراض کی علامت بھی ہوسکتا ہے، اس لیے اسے نظرانداز نہیں کرنا چاہیے اور بلاتاخیر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ بسم اللہ الرحمن الرحیم بنام خدائے رحمن و رحیم اٴَللّٰھُمَّ اِنّيِ اٴَسْاٴَ لُکَ بِرَحْمَتِکَ الَّتي وَ سِعَتْ کُلَّ شَيْءٍ،وَ بِقُوَّتِکَ الَّتي قَھَرْتَ خدایا میراسوال اس رحمت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر محیط ھے۔ اس قوت کے واسطہ سے ھے جو ھر چیز پر حاوی ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ،وَخَضَعَ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ،وَذَلَّ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ، وَبِجَبَرُوتِکَ الَّتي غَلَبْتَ اور اس کے لئے ھر شے خاضع اور متواضع ھے۔ اس جبروت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر غالب ھے اور اس عزت کے واسطہ سے ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ، وَ بِعِزَّتِکَ الَّتي لاٰ یَقُومُ لَھٰا شَيْءٌ، وَبِعَظَمَتِکَ الَّتي مَلَاٴَتْ کُلَّ جس کے مقابلہ میں کسی میں تاب مقاومت نھیں ھے۔اس عظمت کے واسطہ سے ھے جس نے ھر چیز کو پر کردیا ھے شَيْءٍ، وَ بِسُلْطٰانِکَ الَّذي عَلاٰ کُلَّ شَيْءٍ، وَبِوَجْھِکَ الْبٰاقي بَعْدَ فَنٰاءِ کُلِّ شَيْءٍ،

اخلاق حسنہ کے بارے میں معصومین (ع) کے ارشادات

رسول خدا (ص) اور ا ئمہ معصومین علیہم اسلام اخلاق حسنہ کى اعلى ترین مثالیں ہیں اور یہ بے مثال "حُسن خلق" ان کے کردار اور گفتار سے عیاں تھا، ان ہى عظیم شخصیتوں کے ارشادات کى روشنى میں ہم "حُسن خلق" کے اعلى درجہ پر فائز ہو سکتے ہیں۔

مقصد قیام امام حسین علیہ السلام تحریر: محمد حسن حسرت کچوروی

امام حسین ؑ ۲۸ رجب ۶۰ ھ میں مدینہ سے حرکت کرتے ہیں اور ۳ شعبان المعظم کو مکہ میں پہنچتے ہیں پھر ۸ ذی الحجہ کو مکہ سے کوفہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں ۲ محرم الحرام کو وارد کربلا ہوتے ہیں اور ۱۰ محرم الحرام کو شھید ہو جاتے ہیں اس مختصرعرصے میں انسان سو سے زیادہ درس حاصل کر سکتا ہے بلکہ کہہ سکتے ہیں کہ امام کے اس مختصر عرصےمیں ہزاروں دروس شامل ہیں لیکن یہ سارے دروس ایک اصلی درس ‘ حرکت اور قیام امام میں موجود ہیں باقی سارے حاشیے ہیں متن یہ ہے کہ امام نے قیام کیوں کیا؟ یہ اصلی درس ہے لوگ امام سے کہتے تھے آپ مدینہ اور مکہ میں محترم ہیں یمن میں اتنے سارے شیعہ ہیں کسی کونے میں تشریف لے جائیں اور یزید سے کوئی سروکار نہ رکھے تاکہ وہ بھی آپ سے کوئی سروکار نہ رکھے۔ یہ سارے مرید ہیں انہیں تبلیغ کریں عبادت کریں اور زندگی کریں۔ کاس قیام کا مقصد کیاہے ۔۔؟

تلاوت قرآن کی فضیلت

'پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا، جو شخص رات کو دس آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام غافلین (جو یاد خدا سے بے بہرہ رہتے ہیں) میں نہیں لکھا جائے گا اور جو شخص پچاس آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام ذاکرین (جو خدا کو یاد کرتے ہیں، حرام و حلال کا خیال رکھتے ہیں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص سو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام قانتین (عبادت گزاروں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص دوسو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام خاشعین (جو خدا کے سامنے متواضع ہوں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص تین سو آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام سعادت مندوں میں لکھا جائے گا، جو شخص پانچ ہزار آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام عبادت اور پرستش خدا کی کوشش کرنے والوں میں لکھا جائے گا اور جو شخص ہزار آیتوں کی تلاوت کرے وہ ایسا ہے جیسے اس نے کثیر مقدار میں سونا راہ خدا میں دے دیا ہو۔،،

مشاہدات

آج

89

کل

469

اس ماہ

25080

اس سال

215085

ٹوٹل مشاہدات

384313