علماء کونسل کچورا سکردو بلتستان

متن

بحران معنویت کا واحد حل سیرت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ سلم کی طرف بازگشت

بقلم:سید نجیب الحسن زیدی
قافلہ انسانی آج جس تیزی سے یکے بعددیگرے ارتقائی مراحل طے کرتے ہوئے آگے بڑھ رہا ہے اسے دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ کوئی بھی چیز ایسی نہیں ہے جو اسکے دائرہ اختیار سے باہر ہو، اسکے عزم و ارادہ کے آگے ہر چیز بے بس ہے اس وسیع کائنات کی کوئی شے اسکے قلمروِ اختیار سے باہر نہیں، پوری کائنات میں اسی کے اختیار و عمل کا سکہ چلتا ہے ۔

یہ سائنس کی ہنر نمائیاں ،یہ علم و حکمت کی جولانیاں ، یہ ترقی و کامیابی کی شہنائیاں، سب کے سب انسانیت کے شاندار مستقبل کی تعمیر کا عندیہ دے رہی ہیں ۔  

نظر اٹھا کر تو دیکھیں ہرطرف کامیابیوںکی شہنائیاں بج رہی ہیں ، خوشیوں کے میلے ہیں ،انسانی خواہشات کے وسیع سمندر میں تکمیلِ آرزو کے سفینے رواں دواں ہیں، مسرتوں کی دل آویزیوں کے ساتھ ہرسو رونقوں کے دیپ جل رہے ہیں، انسان کی رنگ برنگی آرزوئیں تتلیوں کی طرح دنیاوی نعمات کے پھولوں سے لپٹی عرق تسکین تلاش کر رہی ہیں ، ہر طرف انسان کی ہنر نمائیوں کی چراغانی ہے۔

آج نہ صرف پانی ہوا ،فضا اور خلا انسان کے قبضہ میں ہے بلکہ انسان نے چاند اور مریخ پر کمندیں ڈال کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر وہ کمال کی چوٹیوں کو طے کرنے کے لئے کمر ہمت باندھ لے تو اقالیم سبعہ اسکے قدموں میں سجدہ ریز نظر آئیں گے ۔

بقول شہید مطہری ''انسان کی علمی اور فنی طاقت کے لئے کوئی قلعہ نا قابل تسخیر نہیں ہے سوائے ایک قلعہ کے اور وہ ہے انسانی روح اور اسکے نفس کا قلعہ ۔

پہاڑ ، سمندر ، خلا ، زمین ، آسمان ، یہ سب کے سب اسکی علمی اور فنی جولانیوں کے سامنے بے بس ہیں واحد وہ مرکز جو اسکی عمل داری سے باہر ہے وہ وہی چیز ہے جو خود انسان سے سب سے نزدیک ہے لیکن اسے فتح کرنا آسان نہیں بقول مولانا رومی :

کشتن اين کار عقل و هوش نيست

شیر باطن سخرئہ خرگوش نیست ۔ (١)۔

اب یہ اتفاق ہی ہے کہ انسان کے آرام و سکون ، امن و عدالت ، آزادی و مساوات اور انسان کی فلاح و کامیابی کا سب سے خطرناک دشمن خود اسی کے قلعہ میں چھپاہے اور اسکی گھات میں بیٹھا ہوا ہے ''اعدی عدوک نفسک التی بین جنبیک تمہارا سب سے بڑا دشمن تمہارا وہ نفس ہے جو تمہارے پہلو میں ہے ،، ٢  

سب سے بڑے دشمن سے بے خبری ہی کا نتیجہ ہے کہ کائنات کو تسخیر کر لینے کے بعد بھی انسان اپنے سرکش نفس کو قابو کرنے میں ناکام ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ سائنس اور ٹکنالوجی کی کرشما سازیوں اور ہنر آفرینیوں کے باوجود آج انسانی اقدار انسانیت کا ماتم کرتے نظر آ رہے ہیں اسکی مثال وہ ترقی یافتہ ممالک ہیں جو اقتصادی اور مالی و رفاہی اعتبار سے دنیا میں سر فہرست ہیں ۔انکی جیسی ٹکنالوجی کسی کے پاس نہیں ، انکے جیسے جنگی آلات کسی کے پاس نہیں انکا جیسا مضبوط مواصلاتی نظام کسی کے پاس نہیں، انکے جیسے ذرائع ابلاغ کسی کے پاس نہیں وہ رفاہی اور مالی اعتبار سے آج مثال بننے کے باوجود اپنے عوام کو سکون مہیہ کرانے میں ناکام ہیں اور ماہرین نفسیات جب بھی سروے کرتے ہیں تو یہی بات سامنے آتی ہے کہ بے چینی اور depression)(میں بھی سب سے آگے یہی ممالک ہیں۔ معتبر رپورٹوں کے مطابق سب سے زیادہ خود کشی کی شرح بھی انہیں ممالک میں پائی جاتی ہے ۔

خود کشی کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی ہے کہ جب انہیں سکون نصیب نہیں ہوتا اور زندگی بیزار سی لگنے لگتی ہے تو اس بیزاری کاآخری حل خود کشی کے طور پر سامنے آتا ہے اور نہ صرف خود کشی بلکہ تدریجی اور خاموش موت کے ذمہ دار بھی یہی ممالک ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ''افغانستان ''اور'' کولمبیا ''جیسے منشیات کی پیداوار کے ممالک کا سب سے بڑا بازار بھی امریکہ اور یورپ کے ترقی یافتہ ممالک ہیں جہاں دنیا کی سب سے زیادہ منشیات سپلائی ہوتی ہے ۔

اگر یہ باتیں افریقا کے قحط زدہ علاقوں، ہندوستان ،پاکستان بنگلا دیش، یا دیگر غریب و فقیر ممالک کے لئے کہی جاتیں تو بات کچھ سمجھ یں آ سکتی تھی کہ فقیری ، غربت یا بیکاری سے تنگ آ کر لوگ منشیات کا استعمال کر رہے ہیں یا خود کشی کے ذریعہ خود کو ہلاک کر رہے ہیںمگرطرہ تو یہ ہے کہ جس طرح کی منشیات یہ ترقی یافتہ ملک استعمال کرتے ہیں ان کو استعمال کا سوچ کرہی غریب آدمی کوہارٹ اٹیک ہو سکتا ہے کیونکہ انکی قیمت بھی ایک عام آدمی اپنا سب کچھ لٹا کر بھی ادا نہیں کر سکتا ۔

اسکا مطلب یہ ہے کہ غربت یا فقیری منشیات کے استعمال اور خود کشی کی علت نہیں ہے بلکہ اسکی وجہ کچھ اور ہے۔

ان ممالک کے تجزیاتی مطالعہ کی روشنی میں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ مادیت کی چکا چوند میںیہ بھول گئے ہیں کہ جس طرح انسان کے جسم کو رشد و نمو کے لئے غذا کی ضرورت ہے اسی طرح انسان کی روح بھی بغیر غذا کے رشد و نمو حاصل نہیں کر سکتی اورروح اس وقت تک پرسکون نہیں ہو سکتی جب تک اسکے معنوی تقاضوںکو پورا نہ کیا جائے۔

انہوں نے جسمانی تقاضوں کی تسکین کے وسائل پر تو افراط کی حد تک توجہ کی لیکن روح کے تقاضوں کو بھول گئے اور شاید یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ مادی اعتبار سے تو بہت آگے ہیں لیکن روحی اعتبار سے قحط زدہ علاقوں میں بسنے والے ننگے بھوکوں سے بھی زیادہ بھوکے ہیں یہ اپنی روحانیت کی بھوک مٹانے کے لئے ادھر ادھر ہاتھ پیر مارتے ہیں اور جب کہیں سکون نہیں ملتا تو موت سے ہم آغوش ہو جاتے ہیں ہماری اس بات کا ثبوت وہ جدید تحقیقات ہیں جن سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ شراب اور دوسری منشیات کا استعمال مذہبی افراد میں دوسروں سے کم ہے ۔

آج تیزی کی ساتھ ترقی کی منزلوں کی طرف گامزن قافلہ انسانی گرچہ ظاہری ترقی کے زیورروں سے خود کو آراستہ کئے ایک دلفریب نظارہ پیش کر رہاہے اور اپنے حسن و جمال ،اپنی رعنائیوں اور دلربا ادوائوں سے ہر ایک کو مسحور کئے ہوئے انسانی ذہن کی کرشماتی صلاحیتوں کے بل پر داد تحسین حاصل کر کے خود میں مست مگن اپنی ظاہری کامیابیوں پر ناز کرتا نظر آرہا ہے لیکن حقیقت میں دیکھا جائے تو نہ جانے کتنے ایسے ز خم ہیں جو اس انسانی قافلہ کی زخمی روح میں پھیلتے چلے جا رہے ہیں اور اسے انکی خبر بھی نہیں، مادیت کے جھلماتے حسین اور دبیز پردوں نے اسکی آنکھوں کے پتلیوں میں ایسا جال تان دیا ہے کہ یہ چاہ کر بھی حقیقتوں کا سامنا نہیں کر سکتا ۔

یہ چاہتے ہوئے بھی مچلتی ہوئی روح کے زخموں سے رستا ہوالہو نہیں دیکھ سکتا، یہ چاہتے ہوئے بھی نالہ و شیون کرتی ہوئے انسانی اقدار کی چیخ پکار کو نہیں سن سکتا ۔یہ بھوک و افلاس سے تڑپتے ہوئے ناداروں کو دیکھتا ہے تو اسکی روح بے چین ہو جاتی ہے لیکن ایک ہی لمحے میں منظر بدل جاتا ہے ،پردہ ذہن پر بننے والی بے یارو مدد گار ننگے بھوکے دو روٹی کے محتاج لوگوں کی تصویر ابھی اس کے قرطاس دل پر ٹھہر نہیں پاتی کہ موسیقی کے دھن پر تھرکتے ہوئے بدن اسکے ذہن و دل و دماغ پر مسلط ہو کر اسے بھی زمانے کے ساتھ تھرکنے پر مجبور کر دیتے ہیں ، جذبہ ہم دردی سسکیاں لے کر دم توڑ دیتا ہے بے یار و مددگار فقیر و نادار لوگ اپنی آنکھوں میں مایوسیوں کے بادل لئے پیٹ پر پتھر باند کر سو جاتے ہیں اور یوںروح کے تقاضوںکا گلا گھونٹ کر روح و جسم کے ما بین متضاد خواہشات کا طلاطم تھم جاتا ہے ۔

یہ ظلم و ستم کی چکی میں پستے ہوئے یتیم ،لاوارث غریب ،پسماندہ اور ناتواں لوگوںکی فریادوں کو سنتا ہے لیکن اس سے پہلے کہ اسکی انسانیت ،اسکا ضمیر انکے لئے کچھ کرنے پر وادار کرے چھلکتے جاموں کی کنھکھناہٹ اور کیف و سرور میں مدہوش نغموں کی مترنم آزوازیں اسے اپنے ساتھ اتنی دور لے جاتی ہیں جہاں یہ خود اپنی روح کی چیخ پکار بھی نہیں سن پاتا جو انسانیت کی دہائی دے کر اسے من مانی کرنے سے روکتی ہے لیکن یہ ہر حد کو پار کرتے ہوئے حیوانیت و درندگی کاپجاری بن جاتا ہے اور جب حیوانیت کے دیو کے چرنوں میں اپنا سر رکھ کر اٹھاتا ہے تو اسکے نس نس میں درندگی جاگ اٹھتی ہے ۔

اب یہ ظاہر میں تو انسان ہوتا ہے لیکن حلال و حرام کی تمیز نہیں رہتی اس لئے اندر سے خنزیر بن جاتا ہے، اپنے پیٹ کے لئے ہر ایک سے لڑتا ہے ظاہر میں انسان ہوتا ہے لیکن اندر سے سگ آوارہ بن جاتا ہے، مظلوموں پر ظلم کرتا ہے اور کوئی روکے ٹوکے تو بھونکتا ہوا کاٹنے ڈوڑتا ہے، چھین جھپٹ کر اپنے پیٹ کی آگ بجھاتا ہے، ظاہری طور پر تو انسان نظرآتا ہے لیکن اندر سے بھیڑیا بن جاتا ہے یہ کہیںسانپ ،کہیں بچھو، کہیں گرگٹ بنتا ہے لیکن انسان کہیں نہیں رہتا یہی وجہ ہے کہیں باپ اور بیٹی کے مقدس رشتہ کی دھجیاں اڑاتا ہے تو کہیں بہن بھائی کے تقدس کو سر بازار نیلام کرتا ہے ۔

مختصر یہ کہ جو انسان چاند اور سورج پر کمندیں ڈال رہا تھا اگر اسکے پاس واضح اور روشن اخلاقی نمونے نہ ہوں تو وہ خود اپنے وجود کے حصار سے باہر نہیں نکل پاتا بلکہ جتنا زیادہ دنیاوی علم و ٹکنالوجی کو استعمال میں لاتا ہے اتنا ہی زیادہ بڑی تباہی کو بھی وجود میں لاتا ہے ۔  

دنیا چاہے جتنا بھی قافلہ انسانی کی ترقی کے گن گائے لیکن یہ بات کسی بھی صاحب بصیرت کی نظروں سے پوشیدہ نہیں کہ جتنا علم و صنعت کی کرشما سازیاں انسانیت کو بام عروج پر پہونچا رہی ہیں اتنا ہی انسانیت اخلاق و معنویت کے بحران میں مبتلا ہوتی جا رہی ہے ۔

دنیا میں تمام تر ترقیوں کے باوجود ، جرائم ، فساد، تباہی ، قتل ، خود کشی ، کی شرحوں میں اضافہ اس بات کی دلیل ہے کہ تمنائوں کے ہجوم اور آرزووں کے حصول کے سیلاب میں کوئی بھی ایسا ساحل امن نہیں جہاں انسانیت خود کومحفوظ سمجھ سکے ۔

انسان کی سرکش روح جب سرکشی پر آمادہ ہو جائے اور اسکی بلا خیز تمنائوں میں جب طغیانی آ جائے تو علم وصنعت کی یہ روز افزوں ترقی بھی تخریب میں تیزی کا باعث بن جاتی ہے اور آج یہی ہو رہا ہے۔ شہید مطہریرح نے سالہا سال پہلے انسانیت کے درد کو سمجھتے ہوئے انہیں باتوں کے پیش نظر کہا ہوگا : '' اسی لئے آج کا انسان اس قدر علمی کامیابیوں کے باوجود درد انگیز نالے بلند کر رہا ہے ،یہ کیوں نالہ کناں ہے ؟ اس میں کس پہلو سے کمی اور نقص پایا جاتا ہے ؟ کیا اخلاق و عادات اور انسانیت کے بحران کے علاوہ بھی اس میں کوئی کمی پائی جا رہی ہے ؟ آج انسان علمی اور فکری اعتبار سے اس مقام پر پہنچ چکا ہے کہ اب وہ آسمانوں پر سفر کا ارادہ رکھتا ہے، سقراط اور افلاطون جیسے لوگ اسکی شاگردی کا اعزاز قبول کرنے کو تیار ہیں لیکن روحانیت و اخلاق اور عادات و اطوار کے اعتبار سے وہ ایک شمشیر بدست وحشی کی مانند ہونے سے زیادہ نہیں ہے اگرچہ ا نسان نے حتی الامکان اپنے ارد گرد کے ماحول کو تبدیل کیا ہے لیکن اپنے آپ کو اور اپنے انداز فکر کو اپنے جذبات و رجحانات کو تبدیل نہیں کر سکا آج کے انسان کی مشکلات کی جڑ اسی جگہ تلاش کرنا چاہیے   ٣

آج کے انسان نے علم و فن میں اپنی تمام ترکرشمہ ساز ترقیوں کے باوجود آدمیت اور انسانیت کے اعتبار سے ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھایا ہے بلکہ وہ اپنے تاریک ترین دور کی جانب پلٹ گیا ہے'' .. ٤ سوال یہ ہے کہ اس انسان کو اسکے تاریک دور سے واپس آج کی دنیا میں کیسے لایا جائے ؟ علامہ اقبال اسکا حل یوں بیان کرتے ہیں ''انسانیت کو آج تین چیزوں کی ضرورت ہے ، دنیا کی روحانی تعبیر، فرد کی روحانی آزادی اور دنیا پر اثر انداز ہونے والا ایسابنیادی اصول جو روحانی بنیاد پر انسانی سماج کے کمال تک پہونچنے کی نھج اور اسکے مبنا کو بیان کر سکے'' ٥ ۔

یہ تینوں چیزیں صرف دین کے ذریعہ حاصل ہو سکتی ہیں ''مختلف مکاتب ، ادیان اور مذاہب کے درمیان صرف اسلام ہے جو ان تینوں ضروریات کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے٦    

آج انسانیت کو جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ معنویت اور اخلاق ہے ۔ در حقیقت انسان اپنے گم شدہ وجود کی تلاش میں سرگرداں ہے جو بغیر اخلاق و معنویت کے متصور نہیں ہے ،انسان کی پیاسی روح کو شدت کے ساتھ الہامی تعلیمات کے ان برستے بادلوںکی ضرورت ہے جو ذہن و دل و دماغ کی مرجھائی کلیوں کے ہونٹوں پر بھی زندگی کی مسکراہٹ بکھیر دیں اور یہ کام عقل محض کے خشک جھلستے بیابانوں میں صحرا نوردی سے ممکن نہیں ، چنانچہ علامہ اقبال فرماتے ہیں: '' شک نہیں کہ جدید یورپ نے نظریاتی اور مثالی نظام مدون کئے ۔ لیکن تجربہ بتاتا ہے کہ جو حقیقت صرف اور صرف عقل محض کے رستہ حاصل کی جائے اس میں زندہ اعتقاد کی حرارت نہیں ہو سکتی جو صرف الہام سے ہوتی ہے ،یہی وجہ ہے کہ عقل محض نے نوع بشر پر کوئی اثر نہیں ڈالا جبکہ دین ہمیشہ لوگوں کی ترقی اور انسانی معاشرے میں تبدیلی کا باعث رہا ہے اسی لئے یورپ کی کارگزاریوں کا نتیجہ ایک حیران '' میں '' کی صور ت میں سامنے آتا ہے جو ایک دوسرے کے ساتھ ناہم آہنگ جمہوریتوں کے درمیان اپنی تلاش میں سرگرداں ہے،میری بات پر یقین کیجئے کہ آج کا یورپ انسانیت کے اخلاق کی ترقی میں سب سے بڑی رکا وٹ ہے ' (٧) وہ ساحل نجات جہاں یہ'' میں '' دریائے حیرت میں غوطہ ور ہونے سے بچکر ابدی سکون سے ہم کنار ہو سکتا ہے وہ''ایمان ''ہے، اگر زندگی کو کوئی چیز حسین بنا سکتی ہے تو وہ ایمان ہے ۔جسکے پاس ایمان نہیں وہ با مقصد و با معنی زندگی کے مفہوم سے کبھی آشنا نہیں ہو سکتا اس لئے شہید مطہری کے بقول '' ا یمان کے علاوہ جو کچھ بھی ہے خواہ وہ عقل ہو یا علم ،ہنر ہو یا صنعت، قانون ہو یا کچھ اور!یہ سب انسان کی جبلی خواہشات کی تسکین اور انکی تکمیل کے لئے اسکے ہاتھ میں آلہ کار ہیں، صرف قوت ایمانی وہ چیز ہے جو روح کو نئی زندگی دیتی ہے ۔

اخلاق و معنویت کا بحران اس وقت تک نہیں حل ہو سکتا جب تک بنی نوع بشر اپنی پیاسی روحوں کو ایمان کے چشمہ طمانیت سے سیراب نہ کرے اور ان تعلیمات سے آشنا نہ ہو جائے جہاں روح و جسم دونوں کے تقاضوں کے مد نظر ان جامع اصولوں کی نشان دہی کی گئی ہے جو انسان کو انسان بناتے ہیں ۔

آج دنیا کے تمام ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک سر جوڑے بیٹھے ہیں کہ اخلاق اور معنویت کے بحران سے کیسے مقابلہ کیا جائے ایسے میں ضرورت ہے اس اخلاق کے پیکر کو ساری دنیا کے سامنے پیش کرنے کی جس نے جاہلی رسموں اور خود ساختہ سماجی زنجیروں میں جکڑے ہوئے اس عرب کے جاہلی سماج کی علم و اخلاق و تہذیب کے بل پر تعمیر کر کے جینے کے لائق بنا دیا جو فتنہ و فساد کی آگ میں جل رہا تھا، خرافات اور اوہام پرستی کی خار دار جھاڑیوں میں اپنا وجود کھو چکا تھا جھلستے ہوئے بیابانوں ، لق و دق صحرائوں اور ریگزاروں میں رہنے والے لوگوں کے درمیان اخلاق و معنویت کانمونہ بن جانا قبائلی نظام میں اخلاقی انحطاط و تنزلی کے باوجود اسی نظام کے اندر سے اخلاق و معنویت کے نمونوں کو پیش کرنا معمولی کارنامہ نہیں ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ جاہلیت کی سر زمین کو قیصر و کسری و روم کے لئے قابل رشک بنانے والی ذات کو قرآن کریم نے پوری کائنات کے لئے رحمت قرار دیا

''وما ارسلناک الا رحمة للعالمین'' اور انسانیت کے لئے اس ذات کو نمونہ عمل بنایا ''ولکم فی رسول اللہ اسوة حسنہ ''

اسلام کے ظہور کو چودہ سال گزر جانے کے باوجود آج بھی دنیا اسی قدر اسکی تعلیمات کی محتاج ہے جتنا روز اول تھی ۔ جس دن ان ضروریات کا احساس عام ہو جائیگا اس دن انسان کے پاس اپنے آپ کو اسلام کی آغوش میں ڈال دینے کے سوا کوئی اور چارہ نہ ہوگا'' ٨۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان تعلیمات کو کس طرح عام کریں جنکی تشنگی آج ہرمعاشرہ محسوس کر رہا ہے ۔

کل اگر بدو عرب پیغمبر اسلامۖ کی شخصیت سے حاصل ہونے والے دروس کے سرچشمہ سے فیضیاب ہو کرانسانی اقدار پر مشتمل سماج کی تشکیل دے سکتے ہیں تو یقینا آج بھی ہم پوری دنیا میںتعلیمات نبی رحمت ۖ کی روشنی پھیلا کر انسانیت کے مستقبل کے خطوط کو روشن کر سکتے ہیں۔

پروردگارا! اس معنویت کے موجودہ بحران میں، بعثت پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک و مسعود موقع پر ہمیں بہتر سے بہتر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سیرت کو سمجھنے اور سمجھ کر اس پر عمل کے ساتھ دوسروں تک اس سیرت طیبہ کے ان مختلف گوشوں کو منتقل کرنے کی توفیق عنایت فرما جنکی چھائوں میں انسانیت کو سکون ملتا ہے ، جسکے سایہ میں آ کر انسان حقیقت انسانیت سے روشناس ہوتا ہے

آمین یا رب العالمین ۔

حواشی :

١۔ مفہوم یہ ہے'' اسکو مارنا اور اس سے نبٹ پانا عقل و ہوش کے بس کا کام نہیں ہے کہ نفس کا شیر خرگوش کا تر نوالہ یا اسکا مذاق نہیں ہے ، مولانا رومی ،حکایت نخچیران و شیر، مثنوی معنوی، دفتر اول ۔

٢۔ شہید مطہری ، سیری در سیرہ نبوی مجموعہ آثار جلد ١٦ ص ٢٤

٣۔ سیری در سیرئہ نبوی ، مجموعہ آثار جلد ١٦ ۔ ص، ٢٧ ۔

٤۔ سیری در سیرہ نبوی ، مجموعہ آثار جلد ١٦ ص ٢٥

٥۔احیاء فکر دینی در اسلام ۔ ص ٢٠٣۔ ٢٠٤

٦۔ سیری در سیرہ نبوی ،مجموعہ آثار جلد ١٦ ص،٢٧

٧۔ احیاء فکر دینی در اسلام ۔ ص ٢٠٣۔ ٢٠٤

٨۔ سیری در سیرہ نبوی ،مجموعہ آثار جلد ١٦ ص،٢٧

http://ur.abna24.com/

اس سے مربوط موضوعات

بین الاقوامی

مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی حکومت نے انسانی حقوق کی معطلی کو معمول بنا لیا ہے، ہیومن رائٹس واچ

مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی حکومت نے انسانی حقوق کی معطلی کو معمول بنا لیا ہے، ہیومن رائٹس واچ ہیومن رائٹس واچ نے مقبوضہ کشمیر کے لاک ڈاؤن اور کمیونی کمیشن بلیک آؤٹ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی حکومت نے انسانی حقوق کی معطلی کو معمول بنا لیا ہے۔

علامہ شیخ زکزکی علاج کے لئے بھارت پہنچ گئے

علامہ شیخ زکزکی علاج کے لئے بھارت پہنچ گئے نائیجیریا کی جیل میں بے جرم و خطا کئی سالوں سے قید علامہ شیخ زکزکی کو بھارت میں علاج کرانے کی اجازت کےبعد ہندوستان روانہ ہوگئے ہیں۔

امام خمینی

امام خمینی رہ کے انقلابی نظریات اور اس کے اثرات

امام خمینی علیہ الرحمہ کی شخصیت اعلم فقیہ، واصل عارف اور با بصیرت راہبر جیسی صفات کی حامل ہے، ایران کی سرزمین پر دو ہزار پانچ سو سالہ پرانی شہنشاہیت کو شکست دینے کے بعد شرق و غرب کی سپر پاورز کا سامنا کرنے والی شخصیت ہے۔

امام خمینی رح ایک مرد عارف

حضرت امام خمینی رح کے بارے میں عام طور پر جو بات ہمارے ہاں زیادہ مشہور ہے وہ یہ کہ آپ نے ایک ملوکیت اور بادشاہت کا خاتمہ کرکے ایک اسلامی اور مذہبی حکومت قائم کی۔ لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ استعماری طاقتوں کے خلاف تھے اور استعماری طاقتوں نے آپ کی حکومت کے خاتمے کے لیے اپنے پورے وسائل بروئے کار لائے لیکن وہ اس میں ناکام ہو گئیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ امام خمینی رح بہت شجاع اور بہادر تھے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ آپ نے ناجائز طور پر قائم صہیونی حکومت کے خاتمے اور فلسطینیوں کے حقوق کے حصول کے لیے بھی آواز بلند کی۔ آپ مستضعفوں اور محروموں کے حقوق کے بھی علمبردار تھے۔ آپ نے اتحاد امت کے لیے ایک زور دار آواز بلند کی۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ ایک عالم اور فقیہ تھے اور آپ کی تقلید کی جاتی تھی۔ بعدازاں آپ کا دیوان بھی چھپا اور پاکستان میں بھی بہت سے لوگوں کو معلوم ہوا کہ آپ صاحب دیوان شاعر بھی تھے، لیکن ابھی تک جو پہلو کم شناختہ یا ناشناختہ ہے وہ یہ ہے کہ آپ ایک بلند پایہ عارف تھے اور شاید یہ کہنا زیادہ بہتر ہو کہ آپ کے وجود سے پھوٹنے والی تمام تر خوبیوں کا سرچشمہ یہی امر ہے کہ آپ ایک عارف باللہ اور عاشق الٰہی تھے اور اس سلسلے میں نظری اور عملی طور پر نہایت عمق اور گہرائی کے مقام پر فائز تھے۔

امام خامنہ ای

مسئلہ فلسطین امت مسلمہ کے اساسی اور بنیادی مسائل میں سے ایک ہے، امام خامنہ ای

مسئلہ فلسطین امت مسلمہ کے اساسی اور بنیادی مسائل میں سے ایک ہے، امام خامنہ ای رہبر انقلاب اسلامی امام خامنہ ای نے حجاج کرام کے نام اپنے سالانہ پیغام میں فلسطین کے مسئلے کو دنیا کا اہم ترین مسئلہ قرار دیا ہے۔

ایران بحری جہاز پر برطانوی حملے کا سخت جواب دے گا، امام خامنہ ای

ایران بحری جہاز پر برطانوی حملے کا سخت جواب دے گا، امام خامنہ ای امام خامنہ ای نے آئمہ جعمہ اور جماعات کے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ایران بحری جہاز پر برطانوی حملے کا سخت جواب دے گا۔

کلام و عقائد

بدا قرآن و حدیث کی روشنی میں

ذات الٰہی کے بارے میں بدا، حقیقت میں ابدا و اظہار ہے۔ یعنی جو کچھ خدا کے علم میں ہے اور انسان کے علم میں نہیں، اسےخداوند متعال اظہار و آشکار کرتا ہے۔ اسے بدا، کہنے کا سبب یہ ہے کہ یہ مقام فعل الٰہی میں نمایاں ہوتا ہے، اگرچہ ذات الٰہی میں جہل اور تغییر محال ہیں۔ خداوند متعال انبیاء کرام پر غیبی طریقے سے نظر رکھتا ہے تاکہ یہ لوگ وحی کے پہنچانے میں خطا سے محفوظ رہیں۔ قرآن کریم اس بارے میں ارشاد فرماتا ہے، "لِّيَعْلَمَ أَن قَدْ أَبْلَغُواْ رِسَالَاتِ رَبهِّم" تاکہ وہ دیکھ لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات کو پہنچا دیا ہے۔ واضح ہے کہ خداوند متعال پہلے سے ہی آگاہ ہے کہ انبیاء، وحی الٰہی کو صحیح طریقے سے لوگوں تک پہنچائیں گے۔

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی علم کلام کےاہم مباحث میں سے ایک حسن و قبح عقلی کا بحث ہے ۔اس سے مراد یہ ہے کہ کچھ افعال ذاتی طور پر حسن {اچھے} اور کچھ افعال ذاتی طور پر قبیح{ برے} ہیں ۔ معتزلہ اور امامیہ حسن و قبح عقلی کے قائل ہیں جبکہ اشاعرہ اس کی نفی کرتے ہیں۔ بہت سے کلامی مسائل اس بحث پر موقوف ہیں مثلا انسان کا اپنے اعمال میں خود مختار ہونا،خدا وند متعال کی بعض صفات کمالیہ کا ثبوت جیسے خدا کا عادل ہونا،اسی طرح بعض صفات سلبیہ بھی اسی بحث پر موقوف ہے جیسے خدا سے قبیح کا سرزد نہ ہونا،خداکا ظلم نہ کرنا وغیرہ ۔ جو لوگ حسن اور قبح کے قائل ہیں وہ انسانی افعال میں انسان کو مختار،خدا کو عادل مانتے ہیں جبکہ حسن و قبح کے مخالفین انسان کو مجبور اور خداکی عدالت سے انکار کرتے ہیں ۔

تربیت اولاد

خاندانی منصوبہ بندی : ایک معاشرتی ضرورت یا دھوکہ!

خاندانی منصوبہ بندی کوآج کے دور میں مختلف مملک کی حکومتیں اپنی کامیاب ترین پالیسیوں میں شمار کرتی ہیں۔ آبادی کا کنٹرول اور چھوٹا خاندان خوشحالی کا ذریعہ سمجھاجاتا ہے۔ خصوصاً محدود وسائل رکھنے والے ممالک میں اس پالیسی کو زیادہ اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے

تعليم و تربيت کے بارے ميں اسلامي علما کي آرا و نظريات

تاريخ اسلام ميں تقريبا تمام علماء و دانشور مختلف علوم ميں مھارت رکھنے کے ساتھ ساتھ تعليم و تربيت ميں بھي صاحب نظر اور مھارت کے حامل ہوا کرتے تھے اس سے اسلام ميں تعليم وتربيت کي اھميت کا پتہ چلتا ہے لھذا ہم يہاں پر علما اسلام کي نظر ميں تعليم و تربيت کي اھميت اجاگر کرنے کے لئے ان کے بعض نظريات پيش کر رہے ہيں۔

تندرستی

فلیوینوئیڈ سے بھرپور غذا، کینسر اور دل کی بیماریوں سے بچاتی ہے، تحقیق

ماہرین کی ایک عالمی ٹیم نے ہزاروں افراد پر طویل مدتی تحقیق کے بعد معلوم کیا ہے کہ فلیوینوئیڈ سے بھرپور غذا استعمال کی جائے تو دل کی بیماریوں اور کینسر کے خطرات بہت کم رہ جاتے ہیں۔ یہ فوائد صرف عام لوگوں تک ہی محدود نہیں بلکہ سگریٹ نوشی کرنے والے بھی فلیوینوئیڈز کے فوائد سے مستفید ہوسکتے ہیں۔

مرچیں کم کھائیں، یادداشت بچائیں

یہ تحقیق قطر، آسٹریلیا اور امریکا میں کی گئی جس میں 55 سال یا اس سے زائد عمر کے 4,582 چینی باشندوں کا مسلسل 1991 سے 2006 تک مطالعہ کیا گیا۔ اس طرح مجموعی طور پر یہ تحقیق 15 سال تک جاری رہی تھی۔

مہدویت{امام زمان عج}

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی امامت کے اہداف میں سے ایک ہدف امام معصوم کا لوگوں کی باطنی ہدایت ہے۔ امام لائق اور پاکیزہ دل رکھنے والے افراد کو اپنی طرف جذب کر کے انہیں کمال تک پہنچاتے ہیں۔ واضح ہے کہ انسان کا اس طرح ہدایت سے ہمکنار ہونے کے لئے ضروری نہیں کہ وہ امام کے ساتھ ظاہری رابطہ برقرار کرے۔ گذشتہ بیانات کی روشنی میں امام زمانہ (عج) کو بادل کے پیچھے پنہان روشن آفتاب سے تشبیہ دینے کا مقصد بھی واضح ہو جاتا ہے۔ اگرچہ بادل کے پیچھے پنہان سورج سے انسان مکمل طور بہرہ مند نہیں ہوتا ہے لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ اس سے انسان کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا ہے۔ بہرحال امام زمانہ (عج) کے وجود کے آثار و برکات سے بہرہ مند نہ ہونے کا سبب انسانوں کی طرف سے خاص حالات کا فراہم نہ کرنا ہے، جس کی وجہ سے لوگ اس عظیم نعمت کے فوائد سے محروم ہیں اور اس محرومیت کا سبب وہ خود ہیں نہ کہ خداوند متعال اور امام، کیونکہ خداوند متعال اور امام کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی مشکل درپیش نہیں ہے۔

دیگر مناسبتیں

اتحاد بین المسلمین کے عظیم داعی، شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی

شہید قائد آدھی رات سے اپنے معشوق حقیقی سے راز و نیاز میں مصروف تھے۔ نماز صبح کے بعد ایمان و عمل کی روشنی پھیلانے کے لئے معاشرے کے افق پر طلوع ہو ہی رہا تھا کہ شقی القلب اور وقت کے ابن ملجم کا نشانہ بن گئے۔ وہ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے زمین پر گر گئے۔ ارض پاک سے ایک دفعہ پھر ہدایت اور اتحاد بین المسلمین کے ایک روشن چراغ کو بجھا دیا گیا، وہ بھی صرف اس لئے کہ اس نے افتراق پرور، باطل پرست اور ظالم حکومت کے ہاتھوں بیعت نہیں کی۔

پاکیزگی کا سفر

انسان کے لئے بعض مواقع ایسے آتے ہیں جن میں وہ صحیح معنوں میں خدا کی خوشنودی اور قرب کو حاصل کر سکتا ہے اور یہی ہر انسان کی دلی تمنا ہوتی ہے۔ہر انسان فطرتا نیک اور خدا جو ہوتا ہے لیکن زمانے اور حالات کے سبب انسان اپنے خالق حقیقی کو فراموش کر لیتے ہیں لیکن زندگی کے کسی موڑ پر جب اسے ہوش آ جاتا ہے تو وہ یہ جان چکا ہوتا ہے کہ خدا کے سوا اس کا کوئی نہیں۔انسان کی شروع سے ہی یہی کوشش رہتی ہے کہ وہ کسی نہ کسی طریقہ سے خدا کی خوشنودی حاصل کرے اوراعمال و عبادات کے ذریعہ اپنے خالق کے حضور بڑا مقام حاصل کر لے۔

چہاردہ معصومین ع

زرتشتی عالم سے امام رضا علیہ السلام کا مناظرہ

امام علی رضا علیہ السلام کو خراسان طلب کرنے کے بعد سے مامون اپنے مختلف اہداف و مقاصد کے مد نظر تمام ادیان و مذاہب کے علماء کو امام (ع) کے ساتھ مناظرہ کرنے کی دعوت دیا کرتا تھا۔ یہ مناظرہ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے جو اس زمانہ کے بزرگ زرتشتی عالم کے ساتھ امام رضا (ع) نے انجام دیا ہے۔

حضرت امام صادق علیہ السلام کی علمی خدمات

حضرت امام صادق علیہ السلام کی علمی خدمات تاریخ تشییع اس بات پر گواہ ہے کہ حضرت ختمی مرتبت کے زمانے سے غبیت کبری تک آئمہ معصومین کی رہبریت، قیادت اور حکمت عملی میں ایک غیرمعمولی طریقہ کار کا تسلسل رہا ہے۔

دیگر موضوعات

قربانی کی تاریخ اور اسکا فلسفہ

دین مقدس اسلام میں قربانی ایک مالی عبادت ہے، جو شعائر اسلام میں بھی شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں اس کی بڑی فضیلت ہے۔ شعائر اللہ کو دلوں کا تقوا قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں ارشاد ہوا ہے: "وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ" (سورہ حج:۳۲) بات یہ ہے کہ جو شعائر اللہ کا احترام کرتا ہے تو یہ دلوں کا تقویٰ ہے۔ دین اسلام میں اس کے علاوہ اور بھی مالی عبادات ہیں۔ لیکن ان عبادات کے مقابلے میں قربانی کچھ مخصوص خصوصیات کی حامل ہے۔ انہی خصوصیات کی وجہ سے عبادات کے درمیان قربانی کا الگ مقام ہے۔

خاندانی منصوبہ بندی : ایک معاشرتی ضرورت یا دھوکہ!

خاندانی منصوبہ بندی کوآج کے دور میں مختلف مملک کی حکومتیں اپنی کامیاب ترین پالیسیوں میں شمار کرتی ہیں۔ آبادی کا کنٹرول اور چھوٹا خاندان خوشحالی کا ذریعہ سمجھاجاتا ہے۔ خصوصاً محدود وسائل رکھنے والے ممالک میں اس پالیسی کو زیادہ اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ لوگوں کو اس منصوبہ بندی کی طرف راغب کرنے کے لئے خوبصورت نعرے بھی لگائے جاتےہیں، جیسے "بچے دو ہی اچھے"، "چھوٹا خاندان خوشحال زندگی" وغیرہ۔

سب سے زیادہ زیر بحث

امام علی علیہ السلام کی شانِ میں چہل حدیث

مولا علیؑ کی شان میں چالیس احادیث اور یہ ﻭﻩ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ہیں ﺟﻮ ﺻﺤﺎﺡ ﺳﺘﻪ ﻣﯿﮟ بھی موجود ہے. 1= ﻋﻨﻮﺍﻥ ﺻﺤﻴﻔﺔ ﺍﻟﻤﺆﻣﻦ ﺣﺐّ ﻋﻠﻰؑ ﺑﻦ ﺍﺑﻰ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ. ﺻﺤﯿﻔﮧ ﻣﻮﻣﻦ ﮐﺎ ﻋﻨﻮﺍﻥ ﻣﺤﺒﺖِ ﻋﻠﯽؑ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻃﺎﻟﺐؑ ﮨﮯ.

دعا کی اہمیت

دعا کی اہمیت حضرت انسان کس قدر شرف و عظمت کا مالک ہے،اس کے لئے کائنات بنی،پوری کائنات میں اسی کو عزت و تکریم کا حق دار ٹھہرایا گیا۔تمام مخلوق اس کی خدمت اور منفعت کے لئے پیدا کی گئی۔لیکن اتنی عظمتوں کے باوجود اس کی خلقت کا مقصد اللہ کی معرفت اور عبادت قرار دیا گیا۔لہذا انسان کا اہم کام خدا سے ارتباط و ربط ہے۔مگر کیسا رابطہ؟ اتنی عظمتوں کے باوجود بارگاہ خداوندی میں فقر محض اور احتیاج محض ہے جبکہ ذات پروردگار غناء ہی غناء ہے۔بلندی ہی بلندی ہے۔انسان مشکلات،مصائب اور تکالیف میں ایسی ذات کی طرف رجوع کر کے اپنے فقر اور احتیاج محض ہونے کا اقرار و اعتراف کرتے ہوئے اپنی نفی اور بے ثباتی کا اظہار کرتا نظر آتا ہے۔اس سلسلے میں انسان کا ایک اہم وسیلہ دعا ہے۔دعا کے ذریعے اپنی احتیاج کا اظہار بھی کرتا ہے اوراللہ سے اعانت کی التجا بھی کرتا ہے۔

قرآنِ کریم اور اصلاحِ معاشرہ تحریر: عارف حسین تھہیم

لفظِ ’’اصلاح‘‘ درست کرنے، صحیح کرنے اور خرابی کو دُور کے معنی میں آتا ہے۔ معاشرتی اور اجتماعی مفہوم کے اعتبار سے شائستہ اور نیک عمل انجام دینے، نیز فساد و تباہی کو ختم کرنے کے لیے بھی اصلاح کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ ارشادِ پروردگار ہے: ﴿ إِلاَّ الَّذِينَ تَابُواْ وَأَصْلَحُواْ وَبَيَّنُواْ فَأُوْلَئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ﴾[1]؛ ’’سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے توبہ کی اور اپنے کئے کی اصلاح کر لی اور (جس کو چھپایا ہوا تھا) واضح کر دیا تو ایسے ہی لوگوں کی توبہ میں قبول کرتا ہوں اور بےشک میں بڑا توبہ قبول کرنے والا اور بہت مہربان ہوں۔‘‘ حقیقی توبہ میں گذشتہ بُرائی اور فساد کا دُور کرنا اور آئندہ بُرائی و فساد سے بچے رہنے کا تہیہ کرنا ضروری ہے۔ شائستہ اور صالح معاشرے کی تشکیل کا ہدف اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی دُنیوی و اُخروی اور مادی و معنوی ضرورتوں کو پورا کیا جائے؛ لہٰذا صالح معاشرے کی خصوصیات یہ ہیں کہ اس میں ہر ایک کی جان، مال، عزّت و آبرو اور ناموس محفوظ ہوتی ہے، لوگوں کی درمیان مہر و محبت اور اپنائیت کا راج ہوتا ہے اور سب لوگ روحانی و معنوی لحاظ سے پُرسکون اور مطمئن ہوتے ہیں۔

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ بسم اللہ الرحمن الرحیم بنام خدائے رحمن و رحیم اٴَللّٰھُمَّ اِنّيِ اٴَسْاٴَ لُکَ بِرَحْمَتِکَ الَّتي وَ سِعَتْ کُلَّ شَيْءٍ،وَ بِقُوَّتِکَ الَّتي قَھَرْتَ خدایا میراسوال اس رحمت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر محیط ھے۔ اس قوت کے واسطہ سے ھے جو ھر چیز پر حاوی ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ،وَخَضَعَ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ،وَذَلَّ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ، وَبِجَبَرُوتِکَ الَّتي غَلَبْتَ اور اس کے لئے ھر شے خاضع اور متواضع ھے۔ اس جبروت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر غالب ھے اور اس عزت کے واسطہ سے ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ، وَ بِعِزَّتِکَ الَّتي لاٰ یَقُومُ لَھٰا شَيْءٌ، وَبِعَظَمَتِکَ الَّتي مَلَاٴَتْ کُلَّ جس کے مقابلہ میں کسی میں تاب مقاومت نھیں ھے۔اس عظمت کے واسطہ سے ھے جس نے ھر چیز کو پر کردیا ھے شَيْءٍ، وَ بِسُلْطٰانِکَ الَّذي عَلاٰ کُلَّ شَيْءٍ، وَبِوَجْھِکَ الْبٰاقي بَعْدَ فَنٰاءِ کُلِّ شَيْءٍ،

تلاوت قرآن کی فضیلت

'پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا، جو شخص رات کو دس آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام غافلین (جو یاد خدا سے بے بہرہ رہتے ہیں) میں نہیں لکھا جائے گا اور جو شخص پچاس آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام ذاکرین (جو خدا کو یاد کرتے ہیں، حرام و حلال کا خیال رکھتے ہیں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص سو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام قانتین (عبادت گزاروں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص دوسو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام خاشعین (جو خدا کے سامنے متواضع ہوں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص تین سو آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام سعادت مندوں میں لکھا جائے گا، جو شخص پانچ ہزار آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام عبادت اور پرستش خدا کی کوشش کرنے والوں میں لکھا جائے گا اور جو شخص ہزار آیتوں کی تلاوت کرے وہ ایسا ہے جیسے اس نے کثیر مقدار میں سونا راہ خدا میں دے دیا ہو۔،،

تربیت اولاد کے انمول اصول تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

لغت کی کتابوں میں لفظ" تربیت" کے لیے تین اصل اور ریشہ ذکر ہوئے ہیں۔ الف:ربا،یربو زیادہ اور نشوونما پانےکے معنی میں ہے۔ ب: ربی، یربی پروان چڑھنا اور برتری کے معنی میں ہے۔ج: رب،یرب اصلاح کرنے اور سرپرستی کرنے کے معنی میں ہے۔۱صاحب مفردات کا کہنا ہے کہ "رب" مصدری معنی ٰ کے لحاظ سے کسی چیز کو حد کمال تک پہچانے ، پرورش اور پروان چڑھانے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ۲ صاحب التحقيق کا کہنا ہے اس کا اصل معنی ٰ کسی چیز کو کمال کی طرف لے جانے ، نقائص کو تخلیہ اور تحلیہ کے ذریعےرفع کرنے کے معنی ٰ میں ہے۔۳ بنابر این اگر اس کا ريشه(اصل) "ربو" سے ہو تو اضافہ کرنا، رشد ، نمو اور موجبات رشد کو فراہم کرنے کے معنی ٰ میں ہےلیکن ا گر "ربب" سے ہو تو نظارت ، سرپرستي و رهبري اور کسی چیز کو کمال تک پہنچانے کے لئے پرورش کے معنی ٰ میں ہے۔

پیٹ کا درد کئی امراض کی علامت ہوسکتا ہے

اگر پیٹ میں درد ہورہا ہو تو اس کی کئی وجوہ ہوسکتی ہیں۔ اکثر ناقص غذا کی وجہ سے معدے میں تکلیف ہونے لگتی ہے جسے ہم پیٹ کے درد سے تعبیر کرتے ہیں۔ معدے کا درد کئی امراض کی علامت بھی ہوسکتا ہے، اس لیے اسے نظرانداز نہیں کرنا چاہیے اور بلاتاخیر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

اقوال حضرت امام علی علیہ السلام

قال علی علیہ السلام :وا علم ان الخلائقییی لم یوکدوا بشئی اعظم من التقویٰ فانہ وصیتنا اھل البیت (۱) ترجمہ: حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں : لوگوں کو تقویٰ سے زیادہ کسی چیز کی تاکید نھیںکی گئی اس لئے کہ یہ ھم اھل بیت کی وصیت ھے ۔ حدیث (۲)

مشاہدات

آج

447

کل

655

اس ماہ

18267

اس سال

126214

ٹوٹل مشاہدات

295442