علماء کونسل کچورا سکردو بلتستان

متن

نہج البلاغہ غیر شیعہ مفکرین کی نگاہ میں

نہج البلاغہ یقینی طور  امیر المومنین کے کلام کا ایسا عظیم اور قابل قدر مجموعہ ہے کہ اپنے پرائے سب ہی اس کی عظمت و بلندی اور علوِ معارف کا کلمہ پڑھتے ہوئے نظر آتے ہیں لہذا اس مختصر تحریر میں اسی مسئلہ کو پیش کیا گیا ہے ۔

 اصلی سوال: نہج البلاغہ کی عظمت اور اس کے کلام امیر المومنین ہونے کے بارے میں غیر شیعہ مفکرین کا نظریہ کیا ہے؟

اہمیت و ضرورت تحقیق: نہج البلاغہ کی  عظمت و رفعت کو دیکھتے ہوئے یا بعض عناد پرست و مغرض افراد یا نادان اس کی عظمت سے ناواقفیت کی بنا پر اس کی عظمت و رفعت اور کلام امیر المومنین ہونے سے انکار کردیتے ہیں لہذا ضرورت پیش آئی کہ ان کا جواب دینے کے لئے تاریخ کے صفحات سے چھان بین کرکے ایسے غیر شیعہ مفکرین کے اقوال و افادات کو نہایت اختصار کے ساتھ یہاں پیش کیا جائے ۔

ہدف تحقیق: غیر شیعہ مفکرین کی رائے معلوم کرتے ہوئے نہج البلاغہ کی عظمت اور اس کا کلام امیر المومنین ہونا ثابت کرنا ہے ۔

ہماری روش اور طریقہ: اس تحقیق میں ہماری روش اور طریقہ کار یہ ہے کہ ہم نے پہلے یہاں مفکرین کے بیان نقل کئے ہیں، پھر ان پر مختصر تنقید کے بعد جن غیر شیعہ (سنی و غیر مسلم) مفکرین نے اس کی عظمت اور کلام امیر المومنین ہونے کا اعتراف کیا ہے ان کے اقوال و اسماء نقل کئے ہیں پھر بحث کے آخر میں نتیجہ اخذ کیا ہے ۔

نہج البلاغہ کے کلام امیر المومنین ہونے سے انکار کرنے والے علماء:

جب ہم تاریخ کے آئینے میں نہج البلاغہ کے بارے میں علمائے اہل سنت کے تأثرات اور خیالات و نظریات کا جائزہ لیتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ نہج البلاغہ کی تالیف کے بعد تمام اہل سنت محققین و متفکرین اور علم شناس افراد اسے متفقہ طور پر کلام امیر المومنین ہی تسلیم کرتے رہے ہیں اور ڈھائی سو برس تک اس کے خلاف کوئی آواز اٹھتے ہوئے محسوس نہیں ہوتی بلکہ متعدد علمائے اہل سنت نے اس کی اپنے اپنے فہم و فراست اور ذوق کے مطابق شرحیں لکھی ہیں جیسے ابو الحسن علی بن ابی القاسم بیہقی متوفی ۵۶۵ھ، امام فخر الدین ۶۰۶ھ، ابن ابی الحدید متوفی ۶۵۵ھ، علامہ سعد الدین تفتازانی وغیرہ۔

غالباً انہی علمائے اہل سنت کے شروح وغیرہ لکھنے کی وجہ سے نہج البلاغہ کی اہل سنت معاشرے میں کافی تشہیر ہوئی اور اس کے ان مضامین کے بارے میں جو خلفائے ثلاثہ کے بارے میں ہیں چہ می گوئیاں شروع ہوگئیں اور اس کی وجہ سے بعض علمائے اہل سنت کو اپنے اصول عقائد سنبھالنے کے لئے اور عوام کو تسلی دینے کے لئے حقائق سے آگاہ کرنے کی بجائے نہج البلاغہ کے بارے میں شکوک و شبہات اور رفتہ رفتہ انکار کی ضرورت پڑی ۔ لہذا ذیل میں بعض ایسے ہی علماء کا تذکرہ کیا جارہا ہے:

۱۔ ابن خلکان متوفی ۶۸۱ھ:

جن لوگوں نے نہج البلاغہ کو کلام امیر المومنین ماننے سے انکار کیا ہے ان کی تعداد انگلیوں پر شمار کرنے کے قابل ہے اور انہوں نے اپنے انکار کے لئے جن دلیلوں کا سہارا لیا ہے وہ خانۂ عنکبوت سے بھی زیادہ کمزور ہیں ۔ ان میں سب سے پہلے ابن خلکان کا نام نظر آتا ہے، یہ سید مرتضی علم الہدی کے حالات تحریر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"قد اختلف الناس فی کتاب نہج البلاغہ المجموعۃ من کلام علی بن ابی طالب ھل ھو جمعہ اَواَخوہ الرضی۔ و قد قیل: انّہ لیس من کلام علی ابن ابی طالب و انّما الذی جمعہ و نسبہ الیہ ھو  الذی وضعہ و اللہ اعلم"

لوگوں میں کتاب نہج البلاغہ کے بارے میں جو امیر المومنین علی بن ابی طالب کے کلام کا مجموعہ اختلاف ہے کہ وہ انہی (یعنی سید مرتضی) کا جمع کردہ ہے یا ان کے بھائی سید رضی کا اور بعض کہتے ہیں کہ یہ جناب امیر کا کلام ہی نہیں ہے، بلکہ جسے جامع سمجھا جاتا ہے، اسی کی یہ تصنفیت ہے ۔ واللہ اعلم۔

ابن خلکان کے قول پر تنقیدی نظر

جب ہم ابن خلکان کے قول کا نگاہِ غائر سے جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں اس میں چند قابل اعتراض گوشے نظر آتے ہیں ۔ مثلاً:

۱۔ ان کا کہنا ہے کہ "لوگ نہج البلاغہ کے بارے میں جو امیر المومنین کے کلام کا مجموعہ ہے اختلاف ہے کہ وہ سید مرتضی کا کلام ہے یا ان کے بھائی سید رضی کا کلام ہے ۔"

ہم یہاں ان سے یہ سوال کرنا چاہیں گے کہ نہج  البلاغہ کے بارے میں یہ اختلاف کرنے والے کون لوگ ہیں؟ کیونکہ نہج البلاغہ کی جمع آوری کے بعد ڈھائی صدی تک اس کے خلاف کوئی آواز اس کے مرکز تالیف یعنی بغداد یا عراق کے کسی اور شہر سے بلند نہیں ہوتی، پھر آپ کن لوگوں کے اختلاف کا حوالہ دے رہے ہیں؟

ظاہر ہے ابن خلکان مغربی جسے اختلف الناس کا نام دے رہے ہیں یہ کسی اسلامی مرکز کے محققین و مفکرین نہیں ہیں بلکہ مغربی مملکت جہاں بنو امیہ کی سلطنت تھی وہاں کے عوام ہیں جنہیں یہ تک نہیں معلوم کہ یہ کتاب سید رضی کی ہے یا سید مرتضی کی ورنہ وہ اختلف الناس کی بجائے اختلف العلماء یا اختلف لمحققون (یعنی علماء اور محققین اختلاف کرتے ہیں) کہتے ۔ جبکہ ان کے ضمیر  کی آواز تو خود ان کی عبارت سے محسوس کی جاسکتی ہے کہ انہوں نے کہا ہے کہ لوگ نہج البلاغہ جو امیر المومنین کے کلام کا مجموعہ ہے اس سے اختلاف کرتے ہیں یعنی جمع کرنے والا کوئی بھی ہو لیکن کلام امیر المومنین ہی کا ہے ۔ لیکن وہ اس حقیقت سے پردہ پوشی کرتے ہوئے اپنے عوام کی تسلی کے لئے اختلف الناس کا حوالہ دیدیتے ہیں ۔

۲۔ دوسری بات یہ کہ یہ کلام سید رضی کا ہے یا سید مرتضیٰ کا۔ ابن خلکان کا یہ بیان کرنا تحقیق کے بلند معیار سے بالکل گرا ہوا ہے اور صاحبان تحقیق کے لئے بالکل ناقابل قبول ہے کیونکہ علاوہ بر اس کے کہ اہل علم کی ایک بڑی جماعت اس امر پر متفق الرائے ہے کہ یہ کلام سید رضی کی تالیف ہے خود سید رضی نے اپنے مقدمے میں اس کی وضاحت بھی کردی ہے کہ وہ خود ہی اس کے مؤلف و جمع کرنے والے ہیں ۔ ممکن ہے کہ ابن خلکان کو یہ اشتباہ اس لئے ہوا ہو کہ انہوں نے ان کے نام میں اشتباہ کیا ہو کیونکہ سید رضی اپنے دادا ابراہیم کے لقب مرتضی سے معروف تھے اسی لئے وہ لقب مرتضی کی وجہ سے سید رضی کے بجائے ان کے بھائی سید مرتضی کی تالیف سمجھ بیٹھے ۔

۳۔ تیسری بات یہ ہے  کہ "و قد قیل" یعنی کہا گیا ہے یہ جناب امیر المومنین کا کلام ہی نہیں ہے ۔ یاد رہے کہ "قیل" اس قول کے بیان میں کہا جاتا ہے جو صاحب قلم کی نظر میں ضعیف و کمزور قول ہوتا ہے ۔ پس درحقیقت ابن خلکان خود اس لفظ کو بیان کرکے اس کے ضعیف و کمزور ہونے کا اظہار کر رہے ہیں ۔

لیکن انہوں نے مجموعی طور پر اس بیان کو صادر کرکے نہج البلاغہ کے کلام امیر المومنین ہونے کو  مشکوک بنانے کی بہرحال کوشش کی ہے اور آخر میں واللہ اعلم کی لفظ استعمال کرکے وہ اس میں مزید شک و شبہ  کا اظہار کردینا چاہتے ہیں ۔

۲۔ علامہ ذہبی

ابن خلکان نے نہج البلاغہ کے کلام امیر المومنین ہونے کے بارے میں شکوک و شبہات ایجاد کرنے والے اپنے بیان کے ذریعے دوسروں کے لئے میدان ہموار کردیا اور میدان مناظرہ کے پہلوانوں کو یہ گُر سکھا دیا کہ وہ نہج البلاغہ کے کلام امیر المومنین ہونے سے انکار کردیں ۔ لہذا ایک صدی کے بعد ذہبی نے کتاب میزان الاعتدال میں ان کی آرزو کو جامہ تکمیل پہناتے ہوئے سید شریف مرتضی کے حالات میں تحریر کیا ہے کہ:

"الشریف المرتضیٰ ھو المتھم بوضع کتاب نہج البلاغہ" شریف رضی پر  یہ الزام عائد ہے کہ انہوں نے نہج البلاغہ کو وضع کیا ہے"۔

پھر تحریر کرتے ہیں:

" من طالع کتابہ نہج البلاغہ جزم بانّہ مکذوبٌ علیٰ امیر المومنین ففیہ السَّب الصریح بل حَط علی السیدین ابی بکر و عمر و فیہ التناقض و الاشیاء الرکیکۃ و العبارات فنم بعد ھم لہ معرفۃ بنفس القرشیّین و بنفس غیرھم ممن بعدھم حزم بان اکثرہ باطلٌ"

"جو  شخص ان کی کتاب نہج البلاغہ کا مطالعہ کرے اسے معلوم ہوجائے گا کہ امیر المومنین علی (علیه السلام) کی طرف اس کی نسبت بالکل جھوٹ ہے کیونکہ اس میں کھلی سب و شتم اور ہمارے دونوں سرداروں ابوبکر و عمر کی تنقیص ہے، اور تناقص عبارات کے علاوہ وہ رکیک چیزیں ہیں جن کو دیکھ کر ایک ایسا شخص جو قرشی صحابہ اور ان کے علاوہ اور دوسرے متاخرین کے نفوس پر اطلاع رکھتا ہے یہ قطعی فیصلہ کرسکتا ہے کہ اس کا اکثر حصہ باطل پر مشتمل ہے"۔

ذہبی کے قول پر تنقیدی نظر

ذہبی کے قول کے مطالعہ کرنے والے حضرات بآسانی ان کے قول کے ضعف  و ناتوانی کو محسوس کرسکتے ہیں مثلاً

۱۔ ان کا کہنا ہے کہ جو شخص بھی نہج البلاغہ کا مطالعہ کرے گا اسے یقین ہوجائے گا کہ وہ امیر المومنین کا کلام نہیں ہے ۔

ان کے اس جملہ سے معلوم ہوتا ہے کہ گویا ان سے پہلے تین سو سال سے زائد عرصہ تک کسی نے نہج البلاغہ کا مطالعہ ہی نہیں کیا اور وہ گمنامی کا شکار رہی ہے حالانکہ ان سے قبل اہل سنت کے متعدد بزرگ اور مایۂ ناز علماء اس کی شرحیں لکھ چکے تھے اور ان کے نزدیک یہ بات بالکل واضح اور مسلم الثبوت تھی کہ یقیناً یہ امیر المومنین (علیه السلام) ہی کا کلام ہے اور سید رضی ہی نے اسے جمع کیا ہے ۔

۲۔ جب یہ بات طے شدہ تھی کہ نہج البلاغہ امیر المومنین ہی کا کلام ہے اور سید مرتضیٰ اس کے جمع کرنے والے بھی نہیں ہیں بلکہ ان کے بھائی سید رضی نے اسے جمع کیا ہے تو پھر ذہبی نے اس کے کلام امیر المومنین ہونے سے انکار کیوں کیا ہے؟

جب ہم ان کے بیان پر نظر ڈالتے ہیں تو اس میں  وہ دلیل نظر نہیں آتی جو ایک محقق اور منصف مزاج صاحب قلم کو پیش کرنا چاہیے مثلاً انہیں اپنے انکار کے ثبوت میں حضرت علی (علیه السلام) کا مسلم الثبوت کلام پیش کرنا چاہیے تھا تاکہ لوگ سید رضی اور حضرت علی (علیه السلام) کے کلام میں موازنہ کرکے سمجھ جاتے کہ یہ سید رضی کا کلام ہے یا حضرت علی (علیه السلام) کا یا پھر انہیں سید رضی کے معاصر علماء و افاضل کے وہ بیانات پیش کرنے چاہیں تھے جو انہوں نے سید پر بطور  تنقید پیش کئے ہوتے لیکن ان کے دامن انکار میں کوئی معقول شئ موجود نہیں جسے بطور دلیل پیش کردیتے  لہذا انہوں نے اپنے انکار کی عمارت کی بنیاد صرف دو چیزوں پر قائم کی ہے پہلی یہ کہ اس میں ہمارے دو سرداروں پر سب و شتم موجود ہے اور دوسرے یہ کہ اس میں رکیک عبارتیں موجود ہیں ۔

جہاں تک نہج البلاغہ میں سب و شتم کا تعلق ہے تو اس میں چند چیزیں قابل غور ہیں مثلاً پہلی بات تو یہ ہے کہ کیا کسی شخص کی زندگی کی واقعی شرح حال بیان کرنا سب و شتم کے مترادف ہے؟ اس کا تو یہ مطلب ہے کہ پھر کوئی مؤرخ کسی کی زندگی کے تاریک پہلو کا کوئی تذکرہ ہی نہ کرے ۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ حضرت علی (علیه السلام) نے بھی خوف نہ کرنے والے دیانتدار سیرت نگار کی طرح مختلف افراد کی شرح زندگانی بیان کرکے سیرت نگاری کا مقدس فریضہ انجام دیا ہے ۔ جس خطبہ میں ان کے سرداروں کی خصوصیات کی عکاسی کی گئی ہے اور یہی ان کے لئے نہج البلاغہ کے کلام امیر المومنین ہونے سے انکار کا سبب بنا ہے وہ خطبہ شقشقیہ ہے، حالانکہ اس خطبہ کی بنیاد پر کل نہج البلاغہ کے کلام امیر المومنین سے انکار کرنا بھی مناسب نہیں تھا جبکہ اس خطبہ کا تواتر کے ساتھ کلام امیر المومنین ہونا بھی ثابت ہے اور تمام شیعہ و سنی محققین نے اسے قطعی طور پر کلام امیر المومنین تسلیم کیا ہے ۔

خطبہ شقشقیہ کی اسناد: مندرجہ ذیل بزرگ علماء نے اسے کلام امیر المومنین تسلیم کیا:

۱۔ ابن ابی الحدید

۲۔ ابن اثیر جزری متوفی ۶۰۶ھ، نہایہ فی غریب الحدیث

۳۔ سبط ابن جوزی، کتاب تذکرہ الخواص الامّہ

۴۔ علاء الدولہ سمنانی، کتاب عروۃ الوثقی

اگر علامہ ذہبی کے اس استدلال کو مان لیا جائے کہ کیونکہ اس میں ان کے سرداروں کی تنقیص و مذمت کی گئی ہے لہذا یہ کلام امیر المومنین نہیں ہے اور اسی بنیاد پر اس کا انکار کردیا جائے تو یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ قرآن نازل ہونے کے چند صدی بعد کوئی مشرکین کا طبقہ قرآن کے کلام الٰہی ہونے سے صرف اس لئے انکار کردے کہ اس میں ان کے الہہ کی تنقیص و مذمت کی گئی ہے ۔ اسی طرح قرآن کریم کی بعض آیات میں بعض اصحاب کی تنقیص کی گئی ہے تو کیا اس بنا پر ان کے کلام الٰہی ہونے سے انکار کردینا مناسب ہے؟ اسی طرح کتب تاریخ و حدیث اس بات کی گواہی دے رہی ہیں کہ بعض صحابہ نے بعض صحابہ کی مذمت کی ہے تو کیا آپ ان کے کلام کے بارے میں بھی یہی کہیں گے کہ یہ ان کا کلام نہیں ہے؟!

اس کے علاوہ علامہ ذہبی نے جو یہ کہا ہے کہ اس میں رکیک عبارتیں موجود ہیں اس سلسلہ میں اب ہم ان علماء و افاضل کے افادات پیش کر رہے ہیں جنہوں نے نہج البلاغہ کی عظمت و رفعت اور بلند پائیگی کا اعتراف کرتے ہوئے نہج البلاغہ کے کلام امیر المومنین ہونے کا بھی اعتراف کیا ہے ۔

نہج البلاغہ کی عظمت اور اس کو کلام امیر المومنین تسلیم کرنے والے غیر شیعہ مفکرین

الف: بعض شارحیں نہج البلاغہ کے تأثرات

۱۔ مفتی دیار مصر علامہ شیخ محمد عبدہ (متوفی ۱۳۲۳ھ)

شیخ محمد عبدہ اہل سنت کے وہ عظیم و معتبر عالم دین ہیں جنہوں نے نہج البلاغہ کی شرح بھی لکھی ہے اور جن کی سعی جمیل کی بدولت مصر اور بیروت وغیرہ میں اہل سنت کے علمی مراکز میں اس کے فیوضات سے بہرہ مند ہونے کا سامان بھی مہیا ہوا ہے ۔

وہ نہج البلاغہ کی شرح کرتے ہوئے اس کے بلند پایہ علوم و معارف کے مطالعہ کے دوران اپنی حیرت و استعجاب کا اظہار خیال کرتے ہوئے شرح کے مقدمہ میں تحریر کرتے ہیں:

کان یخیل لی فی کل مقامٍ اَن حروباً شبت و غارات شنت و اِن للبلاغۃ دولۃ، و للفصاحۃ صولۃ و اِن للاوھام عرامۃ و للریب دعارۃ و اِن محافل الخطابۃ و کتائب الذرابۃ فی عقود النظام و صفوف الانتظام تنافح بالصفیح الابلج و القویم الابلج و تمتلح المھج  برواضح الحجج فتفل من دعارۃ الوساوس و تصیب مقاتل الخوانس فما اَنا الّا و الحق منتصر وَ الباطل منکسر و مرج الشک فی خمرد و ھرج الریب فی رکود و ان مدبّر تلک الدولۃ و باسل تلک الصولۃ ھو حامل لوائھا الغالب امیر المومنین علی بن ابی طالب بل کنت کلّما انتقلب من موضع اِلی موضع احسن بتغیر المشاھد و تحول المعاھد فتارَۃٌ کنت اجدنی فی عالم یعمرہ من المعانی ارواح عالیہ فی حلل من العبارات الزاھیہ تطوف علی النفوس الزاکیہ و تدنوا من القلوب الصافیہ توحی الیھا رشادھا و تقوم منھا مرادھا و تنفر بھا عن مداحض المزال اِلی جواد الفضل و الکمال و طوراً  کانت تنکشف لی الجمل عن وجوہٍ باسرۃ و انیاب کاشرۃ و ارواح فی اشباح المنمور و مخالب النسور قد تخصرت للوثاب ثم انقضت للاختلاف فخلبت القلوب  عن ھواھا و اخذت الخواطر دون مرماھا و اغتالت فاسد الاھواء و باطل الاراء و احیاناً کنت اشھد ان عقلاً نورانیاً  لایشبہ خلقا جسدانیا فصل عن الموکب الالھی و اتصل بالروح الانسانی فخلعہ عن غایشات الطبیعۃ و سما بہ الی الملکوت الاعلیٰ و نما بہ الی مشھد النور الاجلیٰ و سکن بہ اِلیٰ جانب التقدیس بعد استخلاصہ من شوائب التلبیس و اٰنات کانی اسمع خطیب الحکمۃ ینادی با علیآء الکلمۃ و اولیاء امر الامّۃ یعرفھم مواقع الصواب و یبصرھم مواضع الارتیاب و یحذرھم مزلق الاضطراب و یرشدھم اِلیٰ دقائق السیاسۃ و یھدیھم طرق الکیاسۃ و یرتفع بھم اِلی منصّات الریاسۃ و یصعدھم شرف التدبیر و یشرف بھم علیٰ حسن المصیر۔

ذالک الکتاب الجلیل ھُو جملۃ باختارہ الشریف الرضی رحمہ اللہ من کلام سیدنا و مولانا امیر المومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام جمع متفرقہ و سماہ بھذا الاسم نھج البلاغہ و لا اعلم اسماً الیق  بالدلالۃ علی معناہ۔

ہر مقام پر  (اس کے اثنائے مطالعہ میں) مجھے ایسا تصور ہو رہا تھا کہ جیسے لڑائیاں چھڑی ہوئی ہیں ۔ نبرد آزمائیاں ہورہی ہیں ، بلاغت کا زور ہے اور فصاحت پوری قوت سے حملہ آور ہے، توہمات شکست کھا رہے ہیں، شکوک و شبہات پیچھے ہٹ رہے ہیں، خطابت کے لشکر صف بستہ ہیں، طلاقت لسان کی فوجیں شمشیر زنی اور نیزہ بازی میں مصروف ہیں، وسوسوں کا خون بہایا جا رہا ہے اور توہمات کی لاشیں گر رہیں ہیں اور ایک دفعہ یہ محسوس ہوتا ہے کہ بس حق غالب آگیا اور باطل کی شکست ہوگئی اور شک و شبہ کی آگ بجھ گئی اور تصورات باطل کا زور ختم ہوگیا اور اس فتح و نصرت کا سہرا اس کے علمبردار اسد اللہ الغالب علی ابن أبی طالب کے سر ہے، بلکہ اس کتاب کے مطالعہ میں جتنا جتنا میں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوا میں نے مناظرہ کی تبدیلی اور مواقف کی تغیّر کو محسوس کیا۔ کبھی میں اپنے کو ایسے عالم میں پاتا تھا جہاں معانی کی بلندی، روحیں خوشنما عبارتوں کے جامے پہنے ہوئے پاکیزہ نفوس کے گرد چکر لگاتی اور صاف دلوں کے نزدیک آکر انہیں سیدھے راستہ پر چلنے کا اشارہ کرتی اور نفسانی خواہشوں کا قلع قمع کرتی اور لغزش مقامات سے متنفر بناکر فضیلت و کمال کے راستوں کا سالک بناتی ہیں اور کبھی ایسے جملے سامنے آجاتے ہیں جو معلوم ہوتا ہے کہ تیوریاں چڑھائے ہوئے اور دانت نکالے ہوئے ہولناک شکلوں میں آگے بڑھ رہے ہیں اور ایسی روحیں ہیں جو چیتوں کے پیکروں میں اور شکاری پرندوں کے پنجوں کے ساتھ حملہ پر آمادہ ہیں اور ایک دم شکار پر ٹوٹ پڑتے ہیں اور دلوں کو ان کے ہوا و ہوس کے مرکزوں سے جھپٹ کر لے جاتے ہیں اور ضمیروں کو پست جذبات سے زبردستی علیحدہ کردیتے اور غلط خواہشوں اور باطل عقیدوں کا قلع قمع کردیتے ہیں ۔ پھر کسی محل پر یہ دیکھتا تھا کہ ایک نورانی عقل جس کو کسی جسمانی چیز سے کوئی مشابہت ہی نہیں ہے خداوندی بارگاہ سے الگ ہوئی اور انسانی روح سے متصل ہوکر اسے طبیعت کے پردوں سے اور مادیت کے حجابوں سے نکال لیا اور اسے عالم ملکوت تک پہنچا دیا اور تجلیات ربانی کے مرکز تک بلند کردیا اور لے جاکر عالم قدس میں اس کو ساکن بنادیا اور بعض لمحات میں معلوم ہوتا ہے کہ حکمت کا خطیب صاحبانِ اقتدار اور قوم کے اہل حل و عقد کو للکار رہا ہے اور انہیں صحیح راستے پر چلنے کی دعوت دے رہا ہے اور ان کی غلطیوں پر متنبہ کر رہا ہے اور انہیں سیاست کی باریکیاں اور تدبر و حکمت کے دقیق نکتے سمجھا  رہا ہے اور ان کی صلاحیتوں کو حکومت کے منصب اور تدبر و سیاست کی اہلیت پیدا کرکے مکمل بنا رہا ہے ۔

وہ کتاب جس میں ان اوصاف کا خزانہ ہے وہی مجموعہ ہے جسے سید رضی علیہ الرحمہ نے حضرت علی (علیه السلام) بن ابی طالب کے پراکندہ و متفرق کلام کے منتخب و پیچیدہ حصوں سے تالیف کرکے نہج البلاغہ کے مبارک نام کے ساتھ موسوم قرار دیا ہے اور اس سے زیادہ کوئی اور موزوں نام نہیں ہے ۔

 

اس میں علامہ محمد عبدہ نے جس طرح یقینی طور پر اس کو کلام امیر المومنین تسلیم کیا ہے اسی طرح اس کے مضامین کی حقانیت اور اس کے مندرجات کی سچائی کا اعتراف بھی کیا ہے ۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ اس کتاب کےمضامین حق کی فتح اور باطل کی شکست اور شکوک و اوہام کی فضا اور توہمات و وسواس کی بیخ کنی کا سبب ہیں اور وہ شروع سے آخر تک انسانی روح کے لئے روحانیت و طہارت اور جلال و کمال کی تعلیمات کے حامل ہیں ۔

علامہ محمد عبدہ کو نہج البلاغہ سے اتنی عقیدت تھی کہ وہ اسے قرآن مجید کے بعد ہر کتاب کے مقابلہ میں ترجیح کا مستحق سمجھتے تھے اور انہوں نے اپنا یہ اعتقاد بتایا ہے کہ جامعہ اسلامیہ میں اس کتاب کی زیادہ سے زیادہ اشاعت ہونا اسلام کی ایک صحیح خدمت ہے اور یہ صرف اس لئے کہ وہ امیر المومنین (علیه السلام) ایسے بلند مرتبہ مصلح عالم کا کلام ہے ۔ پس وہ لکھتے ہیں:

"لیس فی اھل ھٰذہ اللغۃ الاقائل بان کلام الامام علی بن ابی طالب ھو اشرف الکلام و ابلغہ بعد کلام اللہ تعالیٰ و کلامل نبیّہ و اغزرہ مادۃ و ارفعہ اسلوباً  و اجمعہ لجلائل المعانی فاجدر بالطالبین  لنفائس اللغۃ و الطامعین فی التدرج لمراقیھا اَن یجعلوا ھذا الکتاب اھم محفوظھم و افضل مأثورھم مع تفھم معانیہ فی الأغراض الّتی جاءت لأجلھا و تامل الفاظہ فی المعانی الّتی صیغت للدلالۃ علیھا لیصیبوا بذالک افضل غایہ و ینتھوا الی خیر نھایۃ"

اس عربی زبان والوں میں کوئی ایسا نہیں جو اس کا قائل نہ ہو کہ امیر المومنین علی (علیه السلام) ابن أبی طالب(علیه السلام) کا کلام ، کلام خدا اور کلام رسولؐکے بعد ہر کلام سے بلند تر، زیاہ پُرمعانی اور زیادہ فوائد کا حامل ہے لہذا زبان عربی کے نفیس ذخیروں کے طلاب کے لئے یہ کتاب سب سے زیادہ مستحق ہے کہ وہ اسے اپنے محفوظات اور منقولات میں اہم درجہ پر رکھیں اور اس کے ساتھ ان معانی و مقاصد کے سمجھنے کی کوشش کریں جو اس کتاب کے الفاظ میں مضمر ہیں ۔

۲۔ شیخ محمد حسن نائل مرصفی مدرس المنان لکلیۃ العزیر الکبری بمصر:

انہوں نے بھی نہج البلاغہ کی ایک شرح لکھی ہے جو دار الکتب العربیہ سے شائع ہوئی ہے ۔ اس کے مقدمے میں "کلمۃ فی اللغۃ العربیہ" کے عنوان قائم کرکے لکھتے ہیں:

ولقد کان المجلّی فی ھذہ الحلبۃ علیٌ صلوات اللہ علیہ وما احسبنی احتاج فی اثبات ھذا الامر اِلی دلیل اکثر من نھج البلاغۃ ذالک الکتاب الذی اقامہ اللہ حجۃ واضحۃ علیٰ انّ  علیاً رضی اللہ عنہ قد کان احسن مثال حی لنور القرآن و اعجازۃ و حکمتہ و بلاغتہ و علمہ و ھدایتہ و فصاحتہ اجتمع لعلی فی ھذا الکتاب مالم یجتمع  لکبار الحکماء و افذاذ الفلاسفۃ و نوابغ الربانیین من اٰیات الحکمۃ السیاسیۃ و قواعد السیاسۃ المستقیمۃ[1]"

میدان فصاحت و بلاغت میں سب سے آگے حضرت علی بن أبی طالب تھے، اور اس دعوے کا سب سے بڑا ثبوت نہج البلاغہ ہے ۔ یہ وہ کتاب ہے جسے اللہ نے اس امر کی واضح حجت قرار دیا ہے کہ حضرت علی قرآن کے نور و اعجاز، اس کی حکمت و بلاغت اور علم و ہدایت کی زندہ مثال تھے، اس کتاب میں وہ سب کچھ موجود ہے جسے آپ بلند و بالا حکمت کی آیات اور مستقیم سیاست کے قواعد کی حیثیت سے بڑے بڑے حکماء، شہرہ آفاق بلغاء اور باکمال ربانی فلاسفہ کے یہاں بھی نہ پاسکیں گے ۔

فاضل موصوف کے اس بیان نے نہج البلاغہ کے ساتھ ساتھ یہ بھی ثابت کردیا ہے کہ یہ مجموعہ درحقیقت حضرت علی (علیه السلام) ہی کا کلام ہے اور اسے سید رضی یا کسی اور کی تالیف قرار دینا قطعی غلط ہے ۔

۳۔ استاد محمد محی الدین عبد الحمید، استاد دانشگاہ الازہر مصر:

انہوں نے نہج البلاغہ پر تعلیقات تحریر کئے ہیں اور علامہ شیخ محمد عبدہ کے حواشی برقرار رکھتے ہوئے بہت سے تحقیقات و شرح کا اضافہ کیا ہے اور ان حواشی کے ساتھ یہ کتاب مطبعہ استقامۃ مصر میں طبع ہوئی ہے ۔ انہوں نے اس ایڈیشن کے شروع میں اپنی جانب سے ایک مقدمہ بھی تحریر کیا ہے ۔ جس میں نہج البلاغہ کے استناد و اعتبار پر ایک سیر حاصل بحث کی ہے ۔ موصوف تحریر کرتے ہیں:

فھذا کتاب نہج البلاغہ  وھو ما اختارہ الشریف الرضی ابو الحسن محمد بن الحسن الموسوی من کلام امیر المومنین علی بن ابی طالب الذی جمع بین دفتیہ عیون البلاغۃ و فنونھا و تھیاءت بہ للناظر فیہ اسباب الفصاحۃ و دنامنہ  قطافھا اذا کان کلام افصح الخلق بعد الرسول صلی اللہ علیہ وسلم منطقاً و اشدھم اقتدار او ابرعھم حجۃ و املکھم لغۃ یدیرھا کیف شاء الحکیم الذی تصدر الحکمۃ عن بیانہ و الخطیب الذی یملأ القلب سحر  لسانہ العالم الذی تھیّا لہ من خلاط الرسول و کتابۃ الوحی و الکفاح عن الدین بسیفہ و لسانہ منذ حداثتہ مالم یتھیّا لاحدٍ سواہ ھذا کتاب نھج البلاغۃ۔ و انا بہ حفی منذ طراءۃ السن و صیعۃ الشباب فلقد کنت اجد ولدی کثیر القرائۃ فیہ و کنت اجد عمی الاکبر یقضی معہ طویل الساعات یردد عباراتہ و یستخرج معانیھا و یتقبل اسلوبہ و کان لھما من عظیم التاثیر علی نفسی ما جعلنی اقفو اثرھما فاحلہ من قلبی المحلّ الاوّل و اجعلہ سمیری الذی لا یمل و انیسی الذی اخلو الیہ اِذا عز الانیس۔

یہ کتاب نہج البلاغہ امیر المومنین علی بن ابی طالب(علیه السلام) کے کلام کا وہ انتخاب ہے جو شریف رضی ابو الحسن محمد بن حسن موسوی نے کیا ہے ۔ یہ وہ کتاب ہے جو اپنے دامن میں بلاغت کے نمایاں جوہر اور فصاحت کے بہترین مرقعے رکھتی ہے اور ایسا ہونا ہی چاہیے، کیونکہ وہ ایسے شخص کا کلام ہے جو رسول اللہ  ﷺ کے بعد تمام خلق میں سب سے زیادہ فصیح البیان، سب سے زیادہ قدرت کلام کا مالک اور قدرت استدلال میں زیادہ اور عربی زبان کے الفاظ پر سب سے زیادہ تسلط رکھتا تھا کہ جس صورت میں چاہتا انہیں گردش دینے اور تصرف کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ وہ بلند مرتبہ حکیم جس کے بیان سے حکمت کے سوتے پھوٹتے ہیں ۔ ایسا خطیب جس کا سحر بیان دلوں کو مالا مال کردیتا ہے ۔ وہ عالم جسے رسولؐاللہ کے ساتھ انتہائی روابط اور وحی کی کتابت اور دین کی نصرت میں شمشیر و زبان دونوں سے جہاد کے ابتدائی عمر سے وہ مواقع حاصل ہوئے جو کسی دوسرے کو حاصل نہیں ہوئے، یہ ہے کتاب نہج البلاغہ! اور میں اپنے عنفوان شباب اور ابتدائے عمر ہی سے اس کا گرویدہ رہا ہوں، کیونکہ میں اپنے والد کو دیکھتا تھا کہ وہ اکثر اس کتاب کو پڑھتے تھے اور اپنے بڑے چچا کو بھی دیکھتا تھا کہ وہ گھنٹوں پڑھتے رہتے، اس کے معانی کو سمجھتے رہتے اور اس کے انداز بیاں پر غور کرتے رہتے اور ان دونوں بزرگواروں کا میرے دل پر اتنا بڑا اثر تھا، جس نے مجھے بھی ان کے نقش قدم پر چلنے پر مجبور کردیا اور میں نے اس کتاب کو اپنے قلب میں سب سے مقدم درجہ دیدیا۔ اسے اپنا مونس تنہائی قرار دیا جو ہمیشہ میرے لئے دلبستگی کا باعث ہے ۔

اس کے بعد علامہ مذکورہ نے ان اشخاص کا ذکر کیا ہے، جن کا رجحان یہ ہے کہ وہ اسے خود شریف رضی کا کلام قرار دیتے ہیں ۔ ان کے خیالات کا جائزہ لیتے ہوئے موصوف رقمطراز ہیں، کہتے ہیں کہ سب سے اہم اسباب جو اس کتاب کے کلام امیر المومنین ہونے سے متعلق پیش کئے جاتے ہیں، صرف چار ہیں ۔

پہلے یہ کہ اس میں اصحاب رسول کی نسبت ایسے تعریضات ہیں، جن کا حضرت علی (علیه السلام) سے صادر ہونا تسلیم نہیں کیا جاسکتا، خصوصاً معاویہ، طلحہ، زبیر، عمرو بن عاص اور ان کے اتباع کے بارے میں سب و شتم تک موجود ہے ۔

دوسرے اس میں لفظی آرائش اور عبارت میں صنعت گری اس حد پر ہے، جو حضرت علی (علیه السلام) کے زمانے میں مفقود  تھی۔

تیسرے اس میں تشبیہات و استعارات اور واقعات و مناظر کی صورت کشی اتنی مکمل ہے جس کا پتہ صدر اسلام میں اور کہیں نہیں ملتا۔ اس کے ساتھ حکمت و فلسفہ کی اصطلاحیں اور مسائل کے بیان میں اعداد کا پیش کرنا، یہ باتیں اس زمانے میں رائج نہیں تھیں ۔

چوتھے اس کتاب کی اکثر عبارتوں سے علم غیب کے ادّعا کا پتہ چلتا ہے ۔ جو حضرت علی ایسے پاکباز انسان سے بعید ہے ۔

موصوف ان خیالات کو رَد کرتے ہوئےلکھتے ہیں:

خدا گواہ ہے کہ ہمیں ان اسباب سے کسی ایک میں اور ان میں مجموعی طور پر بھی کوئی واقعی دلیل، بلکہ دلیل نما شکل بھی اس دعوے کے ثبوت میں نظر نہیں آتی جو ان لوگوں کا مدعا ہے، بلکہ انہیں تو ایسے شکوک و شبہات کا درجہ بھی نہیں دیا جاسکتا جو کسی حقیقت کے ماننے میں تھوڑا سا دغدغہ بھی پیدا کرسکتے ہوں اور جن کے رفع کرنے کی ضرورت ہو۔ پھر انہوں نے ایک ایک کرکے ہر بات کو رَد بھی کیا ہے ۔ پہلی بات کے متعلق جو کچھ انہوں نے کہا ہے کہ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ رسولؐ کے بعد مسئلہ خلافت میں طرز عمل ہی ایسا اختیار کیا گیا، جس سے فطرتاً حضرت علی (علیه السلام) کو شکایت ہونا ہی چاہیے تھی اور آپ کی خلافت کے دور میں اہل شام نے آپ کے خلاف جو بغاوت کی، اس سے آپ کو تکلیف ہونا ہی چاہیے تھی۔ ہر دور کے متعلق آپ کے جس طرح کے الفاظ ہیں وہ بالکل تاریخی حالات کے مطابق ہیں ۔ اس لئے اس میں شک و شبہ کا کیا محل ہے ۔

دوسری اور تیسری دلیل کا جواب یہ ہے کہ حضرت علی  بن ابی طالب کاسا مرتبہ فصاحت اور حکمت دونوں میں کسی اور شخص کو حاصل نہیں تھا، تو پھر آپ کے کلام کی خصوصیتیں اس دور میں کسی اور کے یہاں مل ہی کیونکر سکتی ہیں ۔ رہ گیا سجع و قافیہ کا التزام، وہ آپ کے یہاں اس طرح نہیں جس سے  آورد ظاہر ہو یا معانی پر اس کا اثر پڑے اور اس حد تک قافیہ وغیرہ  کا التزام اس دور میں عموماً رائج ہیں ۔

چوتھی دلیل کے جواب میں علامہ مذکورہ نے جو کہا ہے، وہ ہمارے مذہبی عقائد کے بے شک مطابق نہیں ہے مگر وہ خود ان کے نقطۂ نظر کا حامل ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ جسے علم غیب سے تعبیر کیا جاتا ہے اسے ہم فراست اور زمانہ کی نبض شناسی کا نتیجہ سمجھتے ہیں ۔ جو علی ایسے حکیم انسان سے بعید نہیں ہے ۔ جیسا کہ ہم نے کہا، یہ جواب انہوں نے مادی ذہنیت  کے مطابق دیا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اگر خدا کے دیئے ہوئے علم غیب کا مظاہرہ باعثِ انکار قرار دیا جائے تو اکثر احادیث نبوی بھی اس زد میں آجائیں گی اور خدا کی طرف سے علم غیب کا مظاہرہ تو اکثر قرآن کی آیات سے نمودار ہی ہے ۔ پھر قرآن کی آیتوں کا بھی انکار کرنا چاہیے ۔ اور اگر علم الٰہی کی بناء پر ان آیات کو تسلیم کیا جائے تو اس کے عطا کردہ علم سے علی ایسے عالم ربانی کے کلام میں اس طرح کی باتوں کے تذکرہ پر بھی کسی حرف گیری کا موضوع نہیں ہے ۔

۴۔ ابن ابی الحدید معتزلی، معروف دانشمند، مؤرّخ و شارح نہج البلاغہ:

امام علی علیہ السلام سخنوروں اور بلغاء و فصحاء کے سید و سردار ہیں، اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ان کا کلام، کلامِ خداوندی سے کم تر اور مخلوقات کے کلام سے بالاتر ہے ان کے کلام کی بالادستی کی یہی علامت کافی ہے کہ لوگوں نے فنون سخنوری و تحریر انہی حضرت سے سیکھتے ہیں ۔

ب: مختلف علمائے اہل سنت

۱۔ علامہ شیخ کمال الدین محمد بن طلحہ قریشی شافعی (متوفی ۶۵۲ھ):

یہ مشہور و معروف عالم اہل سنت اپنی معرکۃ الآراء کتاب مطالب السئول فی مناقب آل الرسول میں جو لکھنو میں بھی طبع ہوچکی ہے ۔ علوم امیر المومنین کے بیان میں لکھتے ہیں:

"وَ  رَابعھا علم البلاغہ و الفصاحۃ و کان فیھا  اماماً لا یشق غبارہ و مقدماً لا تلحق اثارۃ  و من وقف علی کلامہ المرقوم الوسوم بنھج البلاغۃ صار الخبر عندہ عن فصاحۃ عیاناً و الظن بعلو مقامہ فیہ ایقانا"؛

چوتھے علم فصاحت و بلاغت آپ اس میں امام کا درجہ رکھتے ہیں جن کی گرد قدم تک پہنچنا ناممکن ہے اور ایسے پیش رو تھے جن کے نشان قدم کا مقابلہ نہیں ہوسکتا اور جو حضرت کے اس کلام پر مطلع ہو جو نہج البلاغہ کے نام سے موجود ہو اس کے لئے آپ کی فصاحت کی سماعی خبر مشاہدہ بن جاتی ہے اور آپ کی بلندی کا مرتبہ اس باب میں گمان یقین کی شکل اختیار کرلیتا ہے ۔

اس کے علاوہ دوسری جگہ یہ بھی تحریر کرتے ہیں:

"پانچویں قسم ان خطب اور مواعظ کی شکل میں جس کو راویوں نے بیان کیا ہے اور ثقات نے حضرت سے ان کو نقل کیا ہے اور نہج البلاغہ کتاب جس کی نسبت حضرت علی (علیه السلام) کی طرف دی جاتی ہے، وہ آپ کے مختلف قسم کے خطبوں اور مواعظ پر مشتمل ہے جو اپنے اوامر و نواہی کو مکمل طور پر ظاہر کرتے اور فصاحت و بلاغت کے انوار کو اپنے الفاظ  و معانی کے اصولوں اور اسرار کو اپنے مختلف انداز بیان میں ہمہ گیر صورت سے ظاہر کرتی ہیں"۔

اس میں مندرجات نہج البلاغہ کو معتبر و ثقہ راویوں کے بیانات کا حوالہ دیتے  ہوئے یقینی طور پر کلام امیر المومنین تسلیم کیا ہے ۔ ایک جگہ جو منسوب کا لفظ ہے اس سے کوئی غلط فہمی نہیں ہونا چاہیے ۔ وہ بحیثیت مجموعی کتاب بشکل کتاب سے متعلق ہے اور یہ ظاہر ہے کہ یہ کتاب، امیر المومنین (علیه السلام) کی جمع کردہ نہیں ہے بلکہ کتاب تو حقیقت میں سید رضی ہی کی ہے مگر عوام مجازی طور پر ناواقفیت کی بنا پر یونہی کہتے ہیں کہ یہ امیر المومنین (علیه السلام) کی کتاب ہے اور اسی لئے اس محل پر علامہ ابن طلحہ نے منسوب کا لفظ استعمال کیا ہے جو بالکل درست ہے اس سے اصلِ کلام کے بارے میں ان کے وثوق و اطمینان کو کوئی دھچکا نہیں پہنچتا۔

۲۔ استاد ناصیف یازجی:

قرآن و نہج البلاغہ کی جامعیت و ہمہ گیری کو دیکھتے ہوئے جناب استاد ناصیف یازجی کہتے ہیں اگر تم علم و ادب اور انشاء پردازی کے میدان میں اپنے رقیبوں پر برتری حاصل کرنا چاہتے ہو تو قرآن و نہج البلاغہ حفظ کرلو[2]۔

اور دوسرے مقام پر کہتے ہیں کہ فنِّ تحریر میں میری مہارت قرآن کریم اور نہج البلاغہ کے بہترین خطبات کے مطالعہ و تحقیق کا اثر ہے کیونکہ یہ دونوں باعظمت کتابیں عربی زبان کے گنج لامتناہی اور ادب کے جاودانہ ذخیرہ سے مالا مال ہیں[3]۔ 

۳۔ شہاب الدین محمود آلوسی بغدادی (۱۲۱۷۔ ۱۲۷۰ھ):

آلوسی کہتے ہیں: ۔۔۔ نہج  البلاغہ جو کہ خطبات علی بن أبی طالب کا مجموعہ ہے، یہ کلام الٰہی کے نور کا پرتو ہے جس میں منطق نبوی کی فصاحت کا خورشید درخشان ہے[4]۔

۴۔ ڈاکٹرز کی نجیب:

جب ہم امام علی (علیه السلام) کے انہی منتخب کلمات کہ جنہیں شریف رضی نے منتخب کرکے نہج البلاغہ نام رکھا ہے، غور و فکر اور تدبر کرتے ہیں تو شگفت اور تعبیر اور عمیق معنی دیکھ کر حیرت زیدہ ہوجاتے ہیں[5]۔

حکمت کی نشانیاں، صحیح قوانین سیاست، روشن و دلنشین نصیحتیں اور جو محکم برہان پیش کئے ہیں یہ خود تصور سے بالاتر فضیلت اور برحق پیشوا کے بہترین آثار کی علامت ہیں کہ بزرگ و عالی مقام حکماء و فلاسفہ اور نابغۂ روزگار بھی اس کی مثال پیش نہیں کرسکے[6]۔

فاضل موصوف کے اس بیان نے نہج البلاغہ کی اہمیت کے ساتھ ساتھ یہ بھی ثابت کردیا ہے کہ یہ مجموعہ درحقیقت حضرت علی (علیه السلام) ہی کا کلام ہے اور اسے سید رضی یا کسی اور کی تالیف قرار دینا قطعی غلط ہے ۔

۵۔ علی الجندی، رئیس دانشکدہ علوم (قاہرہ یونیورسٹی):

نہج البلاغہ کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں: نہج البلاغہ کا مطالعہ انسان کے احساسات کی گہرائیوں پر ایک خاص آہنگ موسیقی اثر قائم کرتا ہے ۔ اس میں کلمات و جملات اس انداز سے مرتب کئے گئے ہیں کہ انہیں شعر منثور کا نام دیا جاسکتا ہے[7]۔

۶۔ عباس محمود عقاد، معروف صاحب قلم و مورّخ مصری:

کتاب نہج البلاغہ میں نور توحید و حکمت الٰہی اس انداز سے درخشاں و تابندہ ہے کہ تمام محققین معارف الٰہی کی تحقیقات پر سایہ فگن ہے ۔۔۔ اس الفاظ و سطور شخصیت علوی کی آئینہ دار ہیں اگر آپ اس میں تدبر کریں اور اسے غور سے سنیں تو اس کے کلمات کے پس پردہ صرف و صرف ان ہی کی آواز اور لب وہ لہجہ کو محسوس کریں گے[8]۔

۷۔ ابو السعادات مبارک مجد الدین ابن ایر جزری متوفی ۶۰۶ھ:

انہوں نے احادیث و آثار کے لغات کی شرح کے سلسلہ میں اپنی معروف کتاب نہایہ ترتیب دی ہے ۔  اس میں مولانا موصوف نے کثیر التعداد مقامات پر  نہج البلاغہ کے الفاظ کو حل کیا ہے ۔ ابن اثیر کی حیثیت ایک عام لغوی کی نہیں ہے بلکہ وہ محدث بھی ہیں ۔ اگر صرف ادبی اہمیت کے لحاظ سے ان کو ان الفاظ کا حل کرنا ہی ضروری تھا تو وہ اس کو نہج البلاغہ کا نام لکھ کر درج کردیتے اور واقعہ تو یہ ہے کہ اگر وہ اسے کلام امیر المومنین ہی نہ سمجھتے تو انہیں اس کتاب میں جو صرف احادیث و آثار کے حل کے لئے لکھی گئی ہے، ان لغات کو جگہ ہی نہیں دینا چاہیئے تھی، کیونکہ اصطلاحی طور پر اثر صرف صحابہ اور ممتاز تابعین کی زبان سے نکلے ہوئے اقوال کو کہتے ہیں ۔ کسی متأخر عالم کی کتاب کے الفاظ  نہ حدیث میں داخل ہیں اور نہ اثر میں ۔ ان کا ان الفاظ کو جگہ دینا ہی اس کا ثبوت ہے کہ وہ اس کو سید رضی کا کلام نہیں سمجھتے، بلکہ کلام امیر المومنین قرار دیتے ہیں ۔ پھر یہ کہ ان لغات کو درج کرنے میں ہر مقام پر تصریحاً وہ حدیثِ علی کا لفظ استعمال کرتے ہیں، جیسے: لغت جوی میں منہ  حدیث علی یونہی فتق الاجواء و شق الارجاء میں زیادہ تر ان الفاظ کا تذکرہ حدیث علی کے الفاظ کے ساتھ ہے اور کہیں پر خطبہ علی (علیه السلام) ہے جیسے لغت لوط میں خطبہ علی ولاطھا بالبلۃ حتی لزبت ایک جگہ لغت ایم یہ الفاظ ہیں: کلام علی مات قیّھا و طالَ تایّمھا،  اسی طرح لغت اصل میں فی کلام علی کے الفاظ ہیں اور ایسے ہی دو ایک جگہ اور باقی تمام مقامات پر حدیث علی لکھا ہے، اور جو مکاتب کے الفاظ ہیں، انہیں کتاب علی کہہ کر درج کیا ہے ۔

۸۔ علامہ سعد الدین تفتازانی (متوفی ۷۹۱ھ):

یہ معروف عالم اہل سنت اپنی شرح مقاصد میں فصاحت امیر المومنین کے بارے میں اظہار نظر کرتے ہیں رقمطراز ہیں: و ایضاً ھُوَ أفصحھم لساناً علی ما یشھد بہ کتاب نہج البلاغۃ؛ علاوہ اور فضیلتوں کے حضرت علی (علیه السلام) کی نمایاں فضیلت یہ بھی ہے کہ آپ سب سے زیادہ فصیح تھے جس کی گواہی کتاب نہج البلاغہ دے رہی ہے ۔

۹۔ جمال الدین ابو الفضل محمد بن مکرم بن علی افریقی مصری متوفی ۷۱۱۲ھ:

انہوں نے بھی  نہایہ کی طرح اپنی عظیم الشان کتاب لسان العرب میں مندرجہ الفاظ کو کلام علی (علیه السلام) کہتے ہوئے حل کیا ہے ۔

۱۰۔ محمد بن علی طباطبائی معروف بن ابن طقطقی:

یہ معروف عالم لکھتے ہیں کہ : عدل ناس اِلی نہج البلاغہ من کلام امیر المومنین علی بن أبی طالب فانّہ الکتاب یتعلّم منہ الحکم و المواعظ و الخطب و التوحید و الشجاعۃ و الزہد و علوّ الھمّۃ و أدنی فوائدہ الفصاحۃ  والبلاغۃ[9]؛ بہت سے لوگوں نے کتاب  نہج البلاغہ کی طرف توجہ کی جو امیر المومنین حضرت علی بن ابی طالب (علیه السلام) کا کلام ہے کیونکہ یہ وہ کتاب ہے جس سے حکم اور مواعظ اور توحید اور زہد اور علوِّ ہمت ان تمام باتوں کی تعلیم حاصل ہوتی ہے، اور اس کا سب سے ادنی فیض فصاحت و بلاغت ہے ۔

۱۱۔ علامہ احمد بن منصور کازدرنی:

یہ عالم اہل سنت اپنی کتاب مفتاح الفتوح میں امیر المومنین کے حالات میں لکھتے ہیں:

 و مَن تأمَّل فی کلامہ و کتبہ و خطبہ و رسالاتہ عَلِمَ انّ علمَہ لا یواذی علم احدٍ و فضائلہ لا تشاکل فضائل احدٍ و فضائلہ لا تشاکل فضائل احدٍ محمد صلی اللہ علیہ وسلم و مِن جملتھا کتاب نہج البلاغہ۔ لقد وقف دونہ فصاحۃ الفصحاء و بلاغہ البلغاء و حکمۃ الحکماء؛ جس شخص نے حضرت علی (علیه السلام) کے کلام ان کے کتب و رسائل اور خطب و حکم کا بغور مطالعہ کیا ہے وہ اس امر کے تسلیم کرنے پر مجبور ہے کہ آنحضرت کا علم وہ ہ

اس سے مربوط موضوعات

نہج البلاغہ میں عبادت کے اقسام
امام علی علیہ السلام نہج البلاغہ کے اندر عبادت کرنے والوں کی تین اقسام بیان فرماتے ھیں۔”اِنَّ قَوْماً عَبَدُوْا اللہَ رَغْبَۃً فَتِلْکَ عِبَادَۃُ التُّجَّارِ وَ اِنَّ قَوْماً عَبَدُوْا اللہَ رَہْبَۃً فَتِلْکَ عِبَادَةُ الْعَبِیْدِ، وَ اِنَّ قَوْماً عَبَدُوْا اللہَ شُکْراً فَتِلْکَ عِبَادَةُ الاٴحْرَارِ“۔[1] ”کچھ لوگ خدا کی عبادت کے انعام کے لالچ میں کرتے ھیں یہ تاجروں کی عبادت ہے اور کچھ لوگ خدا کی عبادت خوف کی وجہ سے کرتے ھیں یہ غلاموں کی عبادت ہے اور کچھ لوگ خدا کی عبادت خدا کا شکر بجالانے کی کے لئے کرتے ھیں یہ آزاد اور زندہ دل لوگوں کی عبادت ہے“۔ اس فرمان میں امام علیہ السلام نے عبادت کو تین قسموں میں تقسیم کیا ہے۔ پھلی قسم :تاجروں کی عبادت فرمایا: ”اِنَّ قَوْماً عَبَدُوْا اللہَ رَغْبَۃً فَتِلْکَ عِبَادَةُ التُّجَّارِ ۔۔۔“ یعنی کچھ لوگ رغبت اور انعام کے لالچ میں خُدا کی عبادت کرتے ھیں۔ امام فرماتے ھیں یہ حقیقی عبادت نھیں ہے بلکہ یہ تاجر لوگوں کی طرح خدا سے معاملہ کرنا چاہتا ہے۔ جیسے تاجر حضرات کا ھم و غم فقط نفع اور انعام ھوتا ہے۔ کسی کی اھمیت اُس کی نظر میں نھیں ھوتی۔ اسی طرح یہ عابد جو اس نیت سے خدا کے سامنے جھکتا ہے در اصل خدا کی عظمت کا اقرار نھیں کرتا بلکہ فقط اپنے انعام کے پیش نظر جھک رھا ھوتا ہے

بین الاقوامی

یمن سے شکست کا ملبہ ایران پر ڈالنے کی کوشش

سعودی عرب کو گذشتہ 4 سال سے یمن کی جانب سے بھرپور مزاحمت کا سامنا ہے۔ امریکا، اسرائیل اور متحدہ عرب امارات سمیت دیگر خلیجی ریاستوں کی مدد کے باوجود یمن سے شکست نے سعودی عرب کی جنگی صلاحیتوں کا بھانڈا پھوڑتے ہوئے اسے دنیا بھر میں رسوا کر دیا ہے۔

سعودی تیل کی تنصیبات پر حملہ / امریکی الزام پر ایران کا ردعمل

سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر خوفناک حلموں میں ایران کے ملوث ہونے کے امریکی الزام پر ایران کا موقف بھی سامنے آگیا ہے۔

امام خمینی

امام خمینی رہ کے انقلابی نظریات اور اس کے اثرات

امام خمینی علیہ الرحمہ کی شخصیت اعلم فقیہ، واصل عارف اور با بصیرت راہبر جیسی صفات کی حامل ہے، ایران کی سرزمین پر دو ہزار پانچ سو سالہ پرانی شہنشاہیت کو شکست دینے کے بعد شرق و غرب کی سپر پاورز کا سامنا کرنے والی شخصیت ہے۔

امام خمینی رح ایک مرد عارف

حضرت امام خمینی رح کے بارے میں عام طور پر جو بات ہمارے ہاں زیادہ مشہور ہے وہ یہ کہ آپ نے ایک ملوکیت اور بادشاہت کا خاتمہ کرکے ایک اسلامی اور مذہبی حکومت قائم کی۔ لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ استعماری طاقتوں کے خلاف تھے اور استعماری طاقتوں نے آپ کی حکومت کے خاتمے کے لیے اپنے پورے وسائل بروئے کار لائے لیکن وہ اس میں ناکام ہو گئیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ امام خمینی رح بہت شجاع اور بہادر تھے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ آپ نے ناجائز طور پر قائم صہیونی حکومت کے خاتمے اور فلسطینیوں کے حقوق کے حصول کے لیے بھی آواز بلند کی۔ آپ مستضعفوں اور محروموں کے حقوق کے بھی علمبردار تھے۔ آپ نے اتحاد امت کے لیے ایک زور دار آواز بلند کی۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ ایک عالم اور فقیہ تھے اور آپ کی تقلید کی جاتی تھی۔ بعدازاں آپ کا دیوان بھی چھپا اور پاکستان میں بھی بہت سے لوگوں کو معلوم ہوا کہ آپ صاحب دیوان شاعر بھی تھے، لیکن ابھی تک جو پہلو کم شناختہ یا ناشناختہ ہے وہ یہ ہے کہ آپ ایک بلند پایہ عارف تھے اور شاید یہ کہنا زیادہ بہتر ہو کہ آپ کے وجود سے پھوٹنے والی تمام تر خوبیوں کا سرچشمہ یہی امر ہے کہ آپ ایک عارف باللہ اور عاشق الٰہی تھے اور اس سلسلے میں نظری اور عملی طور پر نہایت عمق اور گہرائی کے مقام پر فائز تھے۔

امام خامنہ ای

مسئلہ فلسطین امت مسلمہ کے اساسی اور بنیادی مسائل میں سے ایک ہے، امام خامنہ ای

مسئلہ فلسطین امت مسلمہ کے اساسی اور بنیادی مسائل میں سے ایک ہے، امام خامنہ ای رہبر انقلاب اسلامی امام خامنہ ای نے حجاج کرام کے نام اپنے سالانہ پیغام میں فلسطین کے مسئلے کو دنیا کا اہم ترین مسئلہ قرار دیا ہے۔

ایران بحری جہاز پر برطانوی حملے کا سخت جواب دے گا، امام خامنہ ای

ایران بحری جہاز پر برطانوی حملے کا سخت جواب دے گا، امام خامنہ ای امام خامنہ ای نے آئمہ جعمہ اور جماعات کے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ایران بحری جہاز پر برطانوی حملے کا سخت جواب دے گا۔

کلام و عقائد

بدا قرآن و حدیث کی روشنی میں

ذات الٰہی کے بارے میں بدا، حقیقت میں ابدا و اظہار ہے۔ یعنی جو کچھ خدا کے علم میں ہے اور انسان کے علم میں نہیں، اسےخداوند متعال اظہار و آشکار کرتا ہے۔ اسے بدا، کہنے کا سبب یہ ہے کہ یہ مقام فعل الٰہی میں نمایاں ہوتا ہے، اگرچہ ذات الٰہی میں جہل اور تغییر محال ہیں۔ خداوند متعال انبیاء کرام پر غیبی طریقے سے نظر رکھتا ہے تاکہ یہ لوگ وحی کے پہنچانے میں خطا سے محفوظ رہیں۔ قرآن کریم اس بارے میں ارشاد فرماتا ہے، "لِّيَعْلَمَ أَن قَدْ أَبْلَغُواْ رِسَالَاتِ رَبهِّم" تاکہ وہ دیکھ لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات کو پہنچا دیا ہے۔ واضح ہے کہ خداوند متعال پہلے سے ہی آگاہ ہے کہ انبیاء، وحی الٰہی کو صحیح طریقے سے لوگوں تک پہنچائیں گے۔

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی علم کلام کےاہم مباحث میں سے ایک حسن و قبح عقلی کا بحث ہے ۔اس سے مراد یہ ہے کہ کچھ افعال ذاتی طور پر حسن {اچھے} اور کچھ افعال ذاتی طور پر قبیح{ برے} ہیں ۔ معتزلہ اور امامیہ حسن و قبح عقلی کے قائل ہیں جبکہ اشاعرہ اس کی نفی کرتے ہیں۔ بہت سے کلامی مسائل اس بحث پر موقوف ہیں مثلا انسان کا اپنے اعمال میں خود مختار ہونا،خدا وند متعال کی بعض صفات کمالیہ کا ثبوت جیسے خدا کا عادل ہونا،اسی طرح بعض صفات سلبیہ بھی اسی بحث پر موقوف ہے جیسے خدا سے قبیح کا سرزد نہ ہونا،خداکا ظلم نہ کرنا وغیرہ ۔ جو لوگ حسن اور قبح کے قائل ہیں وہ انسانی افعال میں انسان کو مختار،خدا کو عادل مانتے ہیں جبکہ حسن و قبح کے مخالفین انسان کو مجبور اور خداکی عدالت سے انکار کرتے ہیں ۔

تربیت اولاد

خاندانی منصوبہ بندی : ایک معاشرتی ضرورت یا دھوکہ!

خاندانی منصوبہ بندی کوآج کے دور میں مختلف مملک کی حکومتیں اپنی کامیاب ترین پالیسیوں میں شمار کرتی ہیں۔ آبادی کا کنٹرول اور چھوٹا خاندان خوشحالی کا ذریعہ سمجھاجاتا ہے۔ خصوصاً محدود وسائل رکھنے والے ممالک میں اس پالیسی کو زیادہ اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے

تعليم و تربيت کے بارے ميں اسلامي علما کي آرا و نظريات

تاريخ اسلام ميں تقريبا تمام علماء و دانشور مختلف علوم ميں مھارت رکھنے کے ساتھ ساتھ تعليم و تربيت ميں بھي صاحب نظر اور مھارت کے حامل ہوا کرتے تھے اس سے اسلام ميں تعليم وتربيت کي اھميت کا پتہ چلتا ہے لھذا ہم يہاں پر علما اسلام کي نظر ميں تعليم و تربيت کي اھميت اجاگر کرنے کے لئے ان کے بعض نظريات پيش کر رہے ہيں۔

تندرستی

گوشت نہیں کھائیں گے تو... کند ذہن ہوجائیں گے!

گوشت نہیں کھائیں گے تو... کند ذہن ہوجائیں گے!

سوڈا ڈرنک پینے والوں کو ناگہانی موت کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے، رپورٹ

دس یورپی ممالک میں 451,000 افراد پر بیس سال تک کی گئی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ روزانہ کولڈ ڈرنک پینے والوں کی زندگی کم ہوجاتی ہے اور ان کےلیے ناگہانی موت کا خطرہ، کبھی کبھار کولڈ ڈرنک پینے والوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہو جاتا ہے۔

مہدویت{امام زمان عج}

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی امامت کے اہداف میں سے ایک ہدف امام معصوم کا لوگوں کی باطنی ہدایت ہے۔ امام لائق اور پاکیزہ دل رکھنے والے افراد کو اپنی طرف جذب کر کے انہیں کمال تک پہنچاتے ہیں۔ واضح ہے کہ انسان کا اس طرح ہدایت سے ہمکنار ہونے کے لئے ضروری نہیں کہ وہ امام کے ساتھ ظاہری رابطہ برقرار کرے۔ گذشتہ بیانات کی روشنی میں امام زمانہ (عج) کو بادل کے پیچھے پنہان روشن آفتاب سے تشبیہ دینے کا مقصد بھی واضح ہو جاتا ہے۔ اگرچہ بادل کے پیچھے پنہان سورج سے انسان مکمل طور بہرہ مند نہیں ہوتا ہے لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ اس سے انسان کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا ہے۔ بہرحال امام زمانہ (عج) کے وجود کے آثار و برکات سے بہرہ مند نہ ہونے کا سبب انسانوں کی طرف سے خاص حالات کا فراہم نہ کرنا ہے، جس کی وجہ سے لوگ اس عظیم نعمت کے فوائد سے محروم ہیں اور اس محرومیت کا سبب وہ خود ہیں نہ کہ خداوند متعال اور امام، کیونکہ خداوند متعال اور امام کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی مشکل درپیش نہیں ہے۔

دیگر مناسبتیں

آفتاب کربلا جناب حضرت علی اکبر علیہ السلام

کربلا کے میدان میں ایک جوان ایسا بھی تھا جو سیرت و صورت اورگفتار و کردار میں شبیہ پیغمبر تھے۔دیکھنے والا دنگ رہ جاتا تھا کہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے ہیں۔انہوں نے اس کائنات میں ایسی قربانی پیش کی کہ تمام دنیا دھنگ رہ گئی۔آپ ایسے باپ کے فرزند تھے جس پر رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ناز تھا ،جس کے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری بن گئے۔اس عظیم باپ کا فرزند تھا جس نے دنیا والوں کو جینا سکھایا اورباطل قوتوں کے سامنے قیام کر نا سکھایا۔

حدیث غدیر، حدیث متواتر

متواتر لفظی: وہ حدیث یا خبر جس کے تمام روایوں نے، تمام طبقات میں، اس حدیث یا خبر کے مضمون کو ہو بہو اور یکسان طور پر نقل کیا ہو۔ جیسے حدیث ثقلین کی عبارت، (انّي تارك فيكم الثقلين ۔۔) یا حدیث غدیر کی عبارت (من كنت مولاه فهذا عليّ مولاه)۔

چہاردہ معصومین ع

امام سجاد علیہ السلام

امام علیہ السلام نے کربلا سے کوفہ، کوفہ سے شام اور زندان سے رہائی تک ہر موقع پر اپنے خطبوں کے ذریعے جہاں قیام حسینی علیہ السلام کے اصولوں اور فلسفے سے لوگوں کو آگاہ فرمایا وہیں اسلام کا نام استعمال کرتے ہوئے اسلام کی دھجیاں اڑانے کی کوشش کرنے والی ناپاک حکومت کا مکروہ چہرہ بھی بےنقاب فرمایا۔

معاویہ و یزید کے دور حکومت میں امام حسین (ع) کا کردار

معاویہ کو ہر وقت آپ کے قیام کا خوف رہتا تھا۔ چنانچہ اس نے امام کے سامنے قبض و بسط کی پالیسی اپنائی یعنی ایک طرف سے آپ کی منزلت کو مدنظر رکھتا تھا اور بظاہر آپ کے لئے احترام کا قائل تھا اور آپ کی تعظیم کرتا تھا اور اپنے کارگزاروں کو بھی ہدایت کرتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرزند کو نہ چھیڑیں اور ان کی بےحرمتی سے پرہیز کریں۔ دوسری طرف سے امام کی مسلسل اور شب و روز نگرانی کو اپنی پالیسی کا حصہ بنایا اور سفر اور حضر میں آپ کی تمام حرکات و سکنات پر کڑی نظر رکھی جاتی تھی۔

دیگر موضوعات

الغدیر فی الکتاب و السنۃ و الادب

الغدیر فی الکتاب و السنة و الادب، جو الغدیر کے نام سے معروف ہے عربی زبان میں لکھی گئی ایک ایسی کتاب ہے جسےعلامہ عبد الحسین امینیؒ نےحدیث غدیر کی روشنی میں امام علی علیہ السلام کی امامت و خلافت بلا فصل کی اثبات کے لئے تحریر کیا ہے۔یہ کتاب اب تک 11 جلدوں میں مرتب ہوئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کتاب کی کل 20 جلدیں ہیں۔ لیکن آخری 9 جلدیں ابھی تک طبع نہیں ہوئی ہیں۔ علامہ امینی اس کتاب کو لکھنے کی خاطر مختلف ممالک کی لائبریریوں کا سفر کیا ہے۔ جن میں ہندوستان، مصر اور شام وغیرہ کی لائبریریاں شامل ہیں۔الغدیر کے مؤلف کے مطابق اس کتاب کی تالیف میں انہوں نے ایک لاکھ سے زائد کتابوں کی طرف مراجعہ اور دس ہزار سے زیادہ کتابوں کا مطالعہ کیا ہے۔انہیں یہ کتاب لکھنے میں ۴۰ سال سے زیادہ کا عرصہ لگا ہے۔الغدیر کے بارے میں کئی کتابیں اور تھیسز لکھے گئے ہیں۔ اسی طرح الغدیر میں پیش کیے گئے موضوعات کو 27 جلدوں پر مشتمل مجموعے کی صورت میں بھی منظر عام پر لایا گیا ہے۔

قربانی کی تاریخ اور اسکا فلسفہ

دین مقدس اسلام میں قربانی ایک مالی عبادت ہے، جو شعائر اسلام میں بھی شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں اس کی بڑی فضیلت ہے۔ شعائر اللہ کو دلوں کا تقوا قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں ارشاد ہوا ہے: "وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ" (سورہ حج:۳۲) بات یہ ہے کہ جو شعائر اللہ کا احترام کرتا ہے تو یہ دلوں کا تقویٰ ہے۔ دین اسلام میں اس کے علاوہ اور بھی مالی عبادات ہیں۔ لیکن ان عبادات کے مقابلے میں قربانی کچھ مخصوص خصوصیات کی حامل ہے۔ انہی خصوصیات کی وجہ سے عبادات کے درمیان قربانی کا الگ مقام ہے۔

سب سے زیادہ زیر بحث

امام علی علیہ السلام کی شانِ میں چہل حدیث

مولا علیؑ کی شان میں چالیس احادیث اور یہ ﻭﻩ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ہیں ﺟﻮ ﺻﺤﺎﺡ ﺳﺘﻪ ﻣﯿﮟ بھی موجود ہے. 1= ﻋﻨﻮﺍﻥ ﺻﺤﻴﻔﺔ ﺍﻟﻤﺆﻣﻦ ﺣﺐّ ﻋﻠﻰؑ ﺑﻦ ﺍﺑﻰ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ. ﺻﺤﯿﻔﮧ ﻣﻮﻣﻦ ﮐﺎ ﻋﻨﻮﺍﻥ ﻣﺤﺒﺖِ ﻋﻠﯽؑ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻃﺎﻟﺐؑ ﮨﮯ.

دعا کی اہمیت

دعا کی اہمیت حضرت انسان کس قدر شرف و عظمت کا مالک ہے،اس کے لئے کائنات بنی،پوری کائنات میں اسی کو عزت و تکریم کا حق دار ٹھہرایا گیا۔تمام مخلوق اس کی خدمت اور منفعت کے لئے پیدا کی گئی۔لیکن اتنی عظمتوں کے باوجود اس کی خلقت کا مقصد اللہ کی معرفت اور عبادت قرار دیا گیا۔لہذا انسان کا اہم کام خدا سے ارتباط و ربط ہے۔مگر کیسا رابطہ؟ اتنی عظمتوں کے باوجود بارگاہ خداوندی میں فقر محض اور احتیاج محض ہے جبکہ ذات پروردگار غناء ہی غناء ہے۔بلندی ہی بلندی ہے۔انسان مشکلات،مصائب اور تکالیف میں ایسی ذات کی طرف رجوع کر کے اپنے فقر اور احتیاج محض ہونے کا اقرار و اعتراف کرتے ہوئے اپنی نفی اور بے ثباتی کا اظہار کرتا نظر آتا ہے۔اس سلسلے میں انسان کا ایک اہم وسیلہ دعا ہے۔دعا کے ذریعے اپنی احتیاج کا اظہار بھی کرتا ہے اوراللہ سے اعانت کی التجا بھی کرتا ہے۔

قرآنِ کریم اور اصلاحِ معاشرہ تحریر: عارف حسین تھہیم

لفظِ ’’اصلاح‘‘ درست کرنے، صحیح کرنے اور خرابی کو دُور کے معنی میں آتا ہے۔ معاشرتی اور اجتماعی مفہوم کے اعتبار سے شائستہ اور نیک عمل انجام دینے، نیز فساد و تباہی کو ختم کرنے کے لیے بھی اصلاح کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ ارشادِ پروردگار ہے: ﴿ إِلاَّ الَّذِينَ تَابُواْ وَأَصْلَحُواْ وَبَيَّنُواْ فَأُوْلَئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ﴾[1]؛ ’’سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے توبہ کی اور اپنے کئے کی اصلاح کر لی اور (جس کو چھپایا ہوا تھا) واضح کر دیا تو ایسے ہی لوگوں کی توبہ میں قبول کرتا ہوں اور بےشک میں بڑا توبہ قبول کرنے والا اور بہت مہربان ہوں۔‘‘ حقیقی توبہ میں گذشتہ بُرائی اور فساد کا دُور کرنا اور آئندہ بُرائی و فساد سے بچے رہنے کا تہیہ کرنا ضروری ہے۔ شائستہ اور صالح معاشرے کی تشکیل کا ہدف اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی دُنیوی و اُخروی اور مادی و معنوی ضرورتوں کو پورا کیا جائے؛ لہٰذا صالح معاشرے کی خصوصیات یہ ہیں کہ اس میں ہر ایک کی جان، مال، عزّت و آبرو اور ناموس محفوظ ہوتی ہے، لوگوں کی درمیان مہر و محبت اور اپنائیت کا راج ہوتا ہے اور سب لوگ روحانی و معنوی لحاظ سے پُرسکون اور مطمئن ہوتے ہیں۔

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ بسم اللہ الرحمن الرحیم بنام خدائے رحمن و رحیم اٴَللّٰھُمَّ اِنّيِ اٴَسْاٴَ لُکَ بِرَحْمَتِکَ الَّتي وَ سِعَتْ کُلَّ شَيْءٍ،وَ بِقُوَّتِکَ الَّتي قَھَرْتَ خدایا میراسوال اس رحمت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر محیط ھے۔ اس قوت کے واسطہ سے ھے جو ھر چیز پر حاوی ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ،وَخَضَعَ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ،وَذَلَّ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ، وَبِجَبَرُوتِکَ الَّتي غَلَبْتَ اور اس کے لئے ھر شے خاضع اور متواضع ھے۔ اس جبروت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر غالب ھے اور اس عزت کے واسطہ سے ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ، وَ بِعِزَّتِکَ الَّتي لاٰ یَقُومُ لَھٰا شَيْءٌ، وَبِعَظَمَتِکَ الَّتي مَلَاٴَتْ کُلَّ جس کے مقابلہ میں کسی میں تاب مقاومت نھیں ھے۔اس عظمت کے واسطہ سے ھے جس نے ھر چیز کو پر کردیا ھے شَيْءٍ، وَ بِسُلْطٰانِکَ الَّذي عَلاٰ کُلَّ شَيْءٍ، وَبِوَجْھِکَ الْبٰاقي بَعْدَ فَنٰاءِ کُلِّ شَيْءٍ،

تلاوت قرآن کی فضیلت

'پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا، جو شخص رات کو دس آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام غافلین (جو یاد خدا سے بے بہرہ رہتے ہیں) میں نہیں لکھا جائے گا اور جو شخص پچاس آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام ذاکرین (جو خدا کو یاد کرتے ہیں، حرام و حلال کا خیال رکھتے ہیں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص سو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام قانتین (عبادت گزاروں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص دوسو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام خاشعین (جو خدا کے سامنے متواضع ہوں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص تین سو آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام سعادت مندوں میں لکھا جائے گا، جو شخص پانچ ہزار آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام عبادت اور پرستش خدا کی کوشش کرنے والوں میں لکھا جائے گا اور جو شخص ہزار آیتوں کی تلاوت کرے وہ ایسا ہے جیسے اس نے کثیر مقدار میں سونا راہ خدا میں دے دیا ہو۔،،

تربیت اولاد کے انمول اصول تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

لغت کی کتابوں میں لفظ" تربیت" کے لیے تین اصل اور ریشہ ذکر ہوئے ہیں۔ الف:ربا،یربو زیادہ اور نشوونما پانےکے معنی میں ہے۔ ب: ربی، یربی پروان چڑھنا اور برتری کے معنی میں ہے۔ج: رب،یرب اصلاح کرنے اور سرپرستی کرنے کے معنی میں ہے۔۱صاحب مفردات کا کہنا ہے کہ "رب" مصدری معنی ٰ کے لحاظ سے کسی چیز کو حد کمال تک پہچانے ، پرورش اور پروان چڑھانے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ۲ صاحب التحقيق کا کہنا ہے اس کا اصل معنی ٰ کسی چیز کو کمال کی طرف لے جانے ، نقائص کو تخلیہ اور تحلیہ کے ذریعےرفع کرنے کے معنی ٰ میں ہے۔۳ بنابر این اگر اس کا ريشه(اصل) "ربو" سے ہو تو اضافہ کرنا، رشد ، نمو اور موجبات رشد کو فراہم کرنے کے معنی ٰ میں ہےلیکن ا گر "ربب" سے ہو تو نظارت ، سرپرستي و رهبري اور کسی چیز کو کمال تک پہنچانے کے لئے پرورش کے معنی ٰ میں ہے۔

پیٹ کا درد کئی امراض کی علامت ہوسکتا ہے

اگر پیٹ میں درد ہورہا ہو تو اس کی کئی وجوہ ہوسکتی ہیں۔ اکثر ناقص غذا کی وجہ سے معدے میں تکلیف ہونے لگتی ہے جسے ہم پیٹ کے درد سے تعبیر کرتے ہیں۔ معدے کا درد کئی امراض کی علامت بھی ہوسکتا ہے، اس لیے اسے نظرانداز نہیں کرنا چاہیے اور بلاتاخیر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

مقصد قیام امام حسین علیہ السلام تحریر: محمد حسن حسرت کچوروی

امام حسین ؑ ۲۸ رجب ۶۰ ھ میں مدینہ سے حرکت کرتے ہیں اور ۳ شعبان المعظم کو مکہ میں پہنچتے ہیں پھر ۸ ذی الحجہ کو مکہ سے کوفہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں ۲ محرم الحرام کو وارد کربلا ہوتے ہیں اور ۱۰ محرم الحرام کو شھید ہو جاتے ہیں اس مختصرعرصے میں انسان سو سے زیادہ درس حاصل کر سکتا ہے بلکہ کہہ سکتے ہیں کہ امام کے اس مختصر عرصےمیں ہزاروں دروس شامل ہیں لیکن یہ سارے دروس ایک اصلی درس ‘ حرکت اور قیام امام میں موجود ہیں باقی سارے حاشیے ہیں متن یہ ہے کہ امام نے قیام کیوں کیا؟ یہ اصلی درس ہے لوگ امام سے کہتے تھے آپ مدینہ اور مکہ میں محترم ہیں یمن میں اتنے سارے شیعہ ہیں کسی کونے میں تشریف لے جائیں اور یزید سے کوئی سروکار نہ رکھے تاکہ وہ بھی آپ سے کوئی سروکار نہ رکھے۔ یہ سارے مرید ہیں انہیں تبلیغ کریں عبادت کریں اور زندگی کریں۔ کاس قیام کا مقصد کیاہے ۔۔؟

مشاہدات

آج

384

کل

612

اس ماہ

28987

اس سال

157415

ٹوٹل مشاہدات

326643