علماء کونسل کچورا سکردو بلتستان

متن

رسول اکرم صل اللہ علیہ و آلہ و سلم نہج البلاغہ کی روشنی میں
مؤلف: سید حسنین عباس گردیزی

 معاشرے کو قابل عمل نمونے (آئیڈیل )کی ضرورت ہو تی ہے جس کی پہچان لازمی ہے, قرآن مجید اسلامی معاشرے کے لیے رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اعلیٰ ترین نمونہ (اسوہ) قراردیتا ہے, ارشاد ہو تا ہے ۔'' لَکُمْ فِیْ رَسُولِ اللّٰه اُسْوَة حَسَنَة '' ١
''تمہارے لیے بہترین نمونہ رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زندگی ہے ۔ ''
لہذا انتہائی ضروری ہے کہ معاشرے کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے پیغمبر اکرم صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ذات کے مختلف پہلوئوں کا دقت نظر سے مطالعہ کیا جائے اور اُسے معاشرے کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ معاشرہ ان سے الہام لیتے ہو ئے ترقی اور سعادت کی راہوں پر گامزن ہو سکے۔
امیر المومنین علیؑ نے اسی بات پر زور دیا ہے ،وہ فرماتے ہیں :
''وَلقد کان فِی رَسُولِ اللّٰه ( صلّی الله عليه وآله) کافٍ لَکَ فِی الْاسْوَةِ وَدَلِيل لَکَ عَلٰی ذَمِّ الدُّنيا وعَيبِها وکَثْرَةِ مَخَازِيها ، ومَسَاوِيها،اِذ قُبِضَتْ عَنْه اَطْرَ فُها وَوُطِّئَتْ لِغَهرِه اَکْنَا فُها وَفُطِمَ عَنْ رَضَا عِها وَزُوِیَ عَنْ زخارِ فِها '' ٢
'' یقینا رسول اکرم صل اللہ علیہ و آلہ و سلم  کی زندگی تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے آپ کی ذات دنیا کے عیوب اور اس کی ذلت و رسوائیوں کی کثرت کو دکھانے کے لیے راہنما ہے اس لیے کہ آپ سے دنیا کے دامنوں کو سمیٹ لیا گیا اور دوسروں کے لیے اس کی وُسعتیں ہموار کر دی گئیں آپ کو اس کے منافع سے الگ رکھا گیا اور اس کی آرائشوں سے کنارہ کش کر دیا گیا ۔''
رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم  کی نبوت وعدہ الٰہی:
 اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نبوت کا وعدہ دیا تھا اور گزشتہ انبیا ء کی زبانی آپصل اللہ علیہ و آلہ و سلم  کی خبر دی تھی پس اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کیا اور اُسے تکمیل کیا جس کی خبر پہلے دی تھی۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیا ء سے یہ عہد لیا تھا کہ وہ حضرت محمد صل اللہ علیہ و آلہ و سلم  پر ایمان لا ئیں اور لوگوں کو آپ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم  کے بارے میں بشارت دیں اور جب آپ کو پائیں تو پیروی کریں قرآن مجید کی سورہ آل عمران میں جو انبیا ء کے میثاق کی بات کی ہے وہ اسی طرف اشارہ ہے ۔
ارشاد ہو تا ہے :
''وَاِذْ اَخَذَ اللّٰه مِيثَاقَ النَّبی ينَ لَمَآ اَتَيتُکُمْ مِّنْ کِتٰبٍ وَّحِکْمَةٍ ثُمَّ جَائَ کُمْ رَسُوْل مُّصَدِّق لِّمَا مَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِه وَلَتَنْصُرُنَّه قَالَ ئَ اَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْ تُمْ عَلٰی ذٰلِکُمْ اِصْرِي  قَالُوْا اَقْرَرْنَا  قَالَ فَاشْهدُ وْا وَاَنَا مَعَکُمْ مِّنَ الشّٰهدِينَ ''٤
''اور اللہ نے نبیوں سے عہد لیا کہ جب میںتمہیں کتاب اور حکمت عطا کردوں پھر آئندہ رسول تمہارے پاس آئے اور جو کچھ تمہارے پاس ہے اس کی تصدیق کر ے تو تمہیں اس پر ضرور ایمان لا نا ہو گا اور ضرور اس کی مدد کرنا ہو گی۔پھر اللہ نے پوچھا کیا تم اس کا اقرار کر تے ہو اور میری طرف سے عہد کی ذمہ داری لیتے ہو انہوں نے کہا ہاں ! ہم نے اقرار کیا ۔اللہ نے فرمایا :پس تم گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں ۔''

امیر المومنین نہج البلا غہ میں فرماتے ہیں :
''اِلٰی اَنْ بَعَثَ اللّٰه سبحانه محمّدًا رسولَ اللّٰه صلّیٰ الله عليه وَآله وسلم لِاَ نجاز عِدَ تِه واِتْمام نَبُّوتِه مأ خوذاً عَلیَ النبِين ميثاقُه مَشْهورةً سِماتُه کريمًا مِيلادُہُ ''
''یہاں تک کہ اللہ سبحانہ نے ایفائے عہد اور اتمام نبوت کے لیے محمد صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کو مبعوث فرمایا جن کے متعلق نبیوں سے عہد و پیمان لیا جا چکا تھا۔ جن کی علامتیں مشہور اور ولادت مسعود و مبارک تھی ۔''
اسی مطلب کو امیر المومنین علیؑ نے ایک اور مقام پر واضح طور پربیان فرمایا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی سے پہلے آنے والے تمام انبیا ء سے یہ عہد لیا ہے کہ وہ ہمارے نبی کے مبعوث ہونے کی خبر اور ان کے فضائل اپنی اپنی امتوں کو بیان کریں اور انہیں ان کے آنے کی بشارت اور تصدیق کرنے کا حکم دیں۔ ٥
 
آنحضرت صل اللہ علیہ و آلہ و سلم  کی بعثت کے وقت عربوں کی سیاسی اور معاشرتی حالت: امیر المومنین علیؑ خطبہ نمبر١ میں فرماتے ہیں :
''وَاَھلُ الْاَرْضِ يوْ مَئِذٍ مِلَل مُتَفَرِّقَة وَاَهوَ آئ مُنْتَشِرَة وَطَرَآئِقُ مُتَشَتِّتَة بَينَ مُشَبِّه لِلّٰه بِخَلْقِه اَوْ مُلْحِدٍ فِی اسْمِه اَوْ مُشِيرٍ اِلٰی غَيرِه فَهدَاهم بِه مِنَ الضَّلالَةِ وَاَنْقَذَهمْ بِمَکانِه مِنَ الجَهالَةِ'' ٦
''اس وقت اہل زمین متفرق مذاہب ،مختلف خواہشات اور الگ الگ راستوں پر گامزن تھے۔ اس طرح سے کہ کچھ اللہ کو مخلوق سے تشبیہ دیتے،کچھ اس کے ناموں کوبگاڑ دیتے کچھ اُسے چھوڑ کر اوروں کی طرف اشارہ کر تے تھے۔ پس خداوند عالم نے آپ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم  کے ذریعہ سب کو گمراہی سے ہدا یت دی اور آپ کے وجود سے جہالت سے با ہر نکالا۔''
خطبہ نمبر ٢میں انہوں نے عربوں کے حالات تفصیل سے بیان کیے ہیں :
''وَالنّاسُ فِی فِتَنٍ اَنْجَذَمَ فَيها حَبْلُ الدِّين وتَزَعْزَعَتْ سَوَارِیِ اليقِين وَاخْتَلَفَ النَّجْرُوتَشَتَّتَ الاَ مْرُ وضَاقَ المَخْرَجُ وعَمِیَ المَصْدَرُ فالْهدَی خَامِل وَالْعَمَیَ شامِل عُصِیَ الرَّحٰمنُ ونُصِرَ الشَّيطاٰنُ وخُذِلَ الِا يمٰانُ فَانْهارَتْ دَعَائِمُه،وتَنَکَّرَتْ مَعَالِمُه ودَرَسَتْ سُبُلُه وعَفَتْ شُرُکُه اَطَاعُوا الشَّيطانَ فَسَلَکُوا مَسَالِکَه وَوَرَدُوا مَنَا هلَه ،بِهمْ سَارَتْ اَعْلَامَه وَقَامَ يوَ اؤُه فَی فَتَنٍ دَاسَتْهمْ بِاَخْفَا فِها ،وَوَطِئَتْهمْ بِاَظْلَافِها ،وقَامَتْ عَلیَ سَنَا بِکِها فَهمْ فِيها تَائِهونَ حائِرُوْنَ جَاهلُونَ مَفْتُونُونَ فِی خَےْرِ دارٍ ،وشَرِّ جِےْرَانٍ ،نُومْهمْ سُهود وکُحْلُهمْ دُمُوع باَرْضٍ عَالِمُها مُلْجَم وجَا هلُها مُکْرَم ''٧
''یہ بعثت اس وقت ہو ئی جب لو گ ایسے فتنوں میں مبتلا تھے جن سے ریسمان دین ٹوٹ چکی تھی، یقین کے ستون متزلزل ہو گئے،اصول میں شدید اختلاف تھا اور امو ر میں سخت انتشار، مشکلات سے نکلنے کے راستے تنگ و تاریک ہو گئے تھے، ہدایت گمنام تھی اور گمراہی بر سر عام، رحمن کی نا فرمانی ہو رہی تھی اور شیطان کی نصرت، ایمان نظر انداز ہوگیا تھا، اس کے ستون گرگئے تھے اور آثار ناقابل شناخت ہو گئے تھے، راستے مٹ گئے تھے اور شاہرائیں بے نشان ہو گئی تھیں لو گ شیطان کی اطاعت میں اسی کے راستے پر چل رہے تھے اور اسی کے چشموں پر وارد ہو رہے تھے انہیں کی وجہ سے شیطان کے پر چم لہرا رہے تھے اور اس کے عَلمَ سر بلند تھے، یہ لو گ ایسے فتنوں میں مبتلا تھے جنہوں نے انہیں پیرون تلے روند دیا تھا اور سُموں سے کچل دیا تھا اور خود اپنے پنجوں کے بل کھڑے ہو گئے تھے۔ یہ لوگ فتنوں میں حیران و سرگرداں اور جاہل و فریب خوردہ تھے ایک ایسے گھر (مکہ )میں یہ لوگ تھے جو خود اچھا مگر اس کے بسنے والے بُرے تھے، جہاں نیند کے بجائے بیداری اور سُرمے کی جگہ آنسو تھے، اس سر زمین پر عالم کے منہ میں لگام تھی اور جاہل معززو سرفراز تھا ۔ ''
حضرت علیؑ مزیدان کے حالات ایک اور مقام پر یوں فرماتے ہیں۔
''بَعَثَه وَالنَّاسُ ضُلَّال فِی حَيرَةٍ وخاطِبُونَ فِی فِتْنَةٍ ،قَدْ اسْتَهوَتْهمْ اْلاَهوَائُ واسْتَزَلَّتهمُ الْکِبْےِريائُ ، واسْتَخَفَّتْهمُ الْجَاهلِيةُ الجَهلَائُ حَيارَیٰ فِی زِلْزَالٍ مِنَ الآ مْرِ وَبَلاَ ئٍ مِنَ الجَهلِ و مَبَالَغَ صلی الله عليه وآله فِی النَّصِيحَةِ ومَضَی عَلیَ الطَّرِيقَةِ، وَدَعَا اِلَی الحِکْمَةِ والمَوْعِظَةِ الحَسَنَةِ ''٨
''اللہ سبحانہ نے آپ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کواس وقت بھیجا جب لوگ گمراہی میں سرگرداں تھے فتنوں میں ہا تھ پائوں مار رہے تھے، خواہشات نے انہیں بہکا دیا تھا اور غرور نے ان کے قدموں میں لغزش پیدا کر دی تھی، جاہلیت نے انہیں سبک سر بنا دیا تھا اور وہ غیر یقینی حالات اور جہالت کی بلائوں میں حیران و سرگرداں تھے۔ آپ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے نصحیت کا حق ادا کر دیا، سیدھے راستے پر چلے اور لوگوں کو حکمت اور موعظہ حسنہ کی طرف دعوت دی۔''
امیر المومنین علیؑ نے اپنے دیگر خطبات میں بھی ان کے حالات کی تصویر کشی کی ہے ۔٩
آپ نے ایک اور مقام پر جاہلیت عرب کی وضاحت فرمائی ہے ۔
''یقینا اللہ تبارک و تعالیٰ نے محمد صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کو عالمین کے لیے عذاب الٰہی سے ڈرنے والا اور اپنی وحی کا امین 'بنا کر بھیجا ہے ۔اے گروہ عرب ! اُس وقت تم بدترین دین پر اور بدترین گھروں میں تھے، کُھردرے پتھروں اور زہر یلے سانپوں میں تم بود و باش رکھتے تھے تم گدلا پانی پیتے تھے اور غلیظ غذا استعمال کر تے تھے ایک دوسرے کا خون بہاتے تھے اور قرابتداروں سے قطع تعلقی کرتے تھے ،بُت تمہارے درمیان گڑے ہوئے تھے اور گناہ تم سے چمٹے ہوئے تھے ۔' '١٠
یہ جملے جناب امیرؑ نے عربوں کی تحقیر کرنے کرلیے نہیں فرمائے تھے بلکہ آپ نے چاہا کہ عظیم نعمتیں انہیں یاد دلائیں بالخصوص عربوں کے لیے عظیم ترین افتخار رسول اکرم صل اللہ علیہ و آلہ و سلم  کا ان کے درمیان مبعوث ہونا، انہیں یا د لائیں یہ وہ وقت تھا جب اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبیصل اللہ علیہ و آلہ و سلم کو ان کے درمیان بھیجا جن کی وجہ سے جہالت اور گمراہی کا انداھیرا چھٹ گیا اور ہر طرف آپ کے نور سے اجالا چھا گیا اور عرب دنیا تہذیب و تمدن کا گہوارہ بن گئی۔
رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بعثت کے مقاصد :
 امیر المومنین علیؑ نے اپنے مختلف بیانات میں آنحضرت صل اللہ علیہ و آلہ و سلم  کی بعثت کے مقاصد یوں بیان فرمائے ہیں ۔
١۔ حق کی طرف دعوت دینا:
''اَرْسَلَه دَاعِياً اِلَی الحَقِّ وَشَاهدًا عَلَی الخَلْقِ '' ١١
''اللہ نے پیغمبر اکرم صل اللہ علیہ و آلہ و سلم  کو اسلام اور حق کی طرف دعوت دینے والا اور مخلوقات کے اعمال کا گواہ بنا کر بھیجا''
 
٢۔ لوگوں کو عذاب الہی سے متنبہ کرنا :
''اِنَّ اللّٰه بَعَثَ مُحَمَّدًاصلّیٰ اللّٰه عليه وَاٰلِه وَسَلَّمَ نَذِيرً لِّلْعٰالَمِينَ وَامِينًا عَلَی التَّنْزِيلِ '' ١٢
''بے شک اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صل اللہ علیہ و آلہ و سلم  کو تمام جہانوں کے لیے ڈرانے والا اور اپنی وحی کا امین بنا کر بھیجا''

٣۔ بت پرستی اور اطاعت شیطان کی ذلتوں سے نکالنا :
''فَبَعَثَ اللّٰه محمّداً ،صَلّٰی اللّٰه عَلَيه وَآلِه بِالحقِّ لِيخْرِج عِبَادَه الَاوْثَانِ اِلٰی عبادَة ،وَمَنْ طَاعَةِ الشَّيطَانِ اِلیٰ طاعَتِه ،بِقُرآنٍ قَدْ بَينَه وَاَحْکَمَه لِيعْلَمَ الِعبَادُ رَبَّهمْ اِذجَهلُوه ، وَلِيقِرُّوا بِه اذجَحَدُوه ولِيثْبِتُوه بَعْدَ اِذْانَکَرُوه''١٣
''پروردگار نے حضرت محمد صل اللہ علیہ و آلہ و سلم  کو حق کے ساتھ مبعوث کیا تاکہ آپ لوگوں کو بت پرستی سے نکال کر عبادت الٰہی کی منزل کی طرف لے آئیں اور شیطان کی اطاعت سے نکال کر رحمن کی اطاعت کر ائیں اس قرآن کے ذریعہ جسے اُس نے واضح اور محکم قرار دیا ہے تا کہ بندے اپنے رب سے جا ہل و بے خبر رہنے کے بعد اُسے پہچان لیں ، ہٹ دھرمی اور انکار کے بعد اس کے وجود کا یقین اور اقرار کریں ۔۔ ''
٤۔ اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانا :
''ثُمَّ اِنَّ اللّٰه سبحانه بَعَثَ مُحَمَّدًا صلّی الله عليه وآله بالحَقِّ حين دَنَا من الدُّینا الْا نْقِطَاعُ ، وَاَقْبَلَ الآ خِرَةِ الِا طِلّاَعُ۔۔۔۔۔جَعَلَه اللّٰه بَلَاغاً لِرِسَالَتِه ،وَکَرَامَةً لِاُمَّتِْه ، وَ رَبِيعاًلِاَھْلِ زَمانه ورِفْعَةً لِاَ عْوَانِه وَشَرَفاً لِاَ نْصَارِه ''١٤
''اس کے بعد اللہ سبحانہ نے حضرت محمد صل اللہ علیہ و آلہ و سلم  کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا جب دنیا فنا کی منزل کے قریب تر ہو گئی اور آخرت سر پر منڈلا نے لگی ۔۔۔۔اللہ تعالیٰ نے انہیں پیغام رسانی کا وسیلہ، امت کی کرامت، اہل زمانہ کی بہار، اعوان وانصار کی بلندی کا ذریعہ اور ان کا یارومددگار افراد کی شرکت کاواسطہ قرار دیا ''
 
دوران رسالت، رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کی جانفشانی اور جدوجہد: رسول خدا صل اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی بعثت کے اہداف کو کس طرح حاصل کیا اور الٰہی اہداف کو کیسے پایہ تکیمل تک پہنچایا، اس بارے میں حضرت امیر المومنینؑ فرماتے ہیں :
''اَرْسَلَہُ داعِياً اِلَی الحَقِّ وشَاهدًا عَلَی الْخَلْقِ مَبَلَّغَ رِسَالا تِ رَبِّه غَيرَ وَانٍ ولا مُقَصِّرٍ وَجَاهدَ فِی اللّٰه اَعْدَائَ ه غَيرَ وَاَهنٍ ولا مُعَذِّرٍ اِمَامُ مَنِ اِتَّقیٰ وَبَصَرُ ِمنِ اهتَدیٰ''١٥
''اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صل اللہ علیہ و آلہ و سلم  کو حق کی طرف بلانے والا، اور مخلوقات کے اعمال کا گواہ بنا کر بھیجا تو آپ صل اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے پیغام الٰہی کو مکمل طور پر پہنچا دیا نہ اس میں کوئی سُستی کی نہ کوتاہی، اور اللہ کی راہ میں اس کے دشمنوں سے جہاد کیا اور اس میں نہ کو ئی کمزوری دکھائی اور نہ کسی حیلہ اور بہانہ کا سہارا لیا، آپصل اللہ علیہ و آلہ و سلم  متقین کے امام اور طالبان ہدایت کے لیے آنکھوں کی بصارت تھے ۔''
حوالہ جات 
١۔ قرآن :سورہ الاحزاب ،آیت ٢١
٢۔ نہج البلاغہ (ترجمہ مفتی جعفر حسین )خطبہ نمبر ١٥٨،ص٤٣٠،امامیہ پبلیکیشز١٩٩٩
نہج البلاغہ دکتر صبحی الصالح ،خطبہ ١٦٠،ص٢٢٦مرکز العبوث اسلامیہ ،ایران ١٣٩٥ء
٣۔ نہج البلاغہ (ترجمہ مفتی جعفر حسین )خطبہ نمبر ١٥٨،ص٤٣٢
٤۔ القرآن ، آلعمران ،آیت ٨١
٥۔ نہج البلاغہ ،خطبہ نمبر ١،ص٩٠(بحار الا نوار ،١١،١٢)(بلاغ المبین ،ص٨٥)
٦۔ نہج البلاغہ ،خطبہ نمبر ١،ص٩٠
٧۔ نہج البلاغہ ،خطبہ نمبر ٢ ،ص٩٩
٨۔ نہج البلاغہ ،خطبہ نمبر ٩٣ ،ص٢٩٧
٩۔ نہج البلاغہ ،خطبہ نمبر ١٥٦ ،ص٤٢٧،خطبہ نمبر ١٨٩،ص٥٢٣
١٠۔ نہج البلاغہ ،خطبہ نمبر ٢٦ ،ص١٦٤۔١٦٥
١١۔ نہج البلاغہ ،خطبہ نمبر ١١٤ ،ص٣٤٣
١٢۔ نہج البلاغہ ،خطبہ نمبر١٩٤ ،ص٥٦٣۔٥٦٢
١٣۔ نہج البلاغہ ،خطبہ نمبر ١٤٥ ،ص٣٩٩
١٤۔ نہج البلاغہ ،خطبہ نمبر١٩٦ ،ص٥٧٠

اس سے مربوط موضوعات

بین الاقوامی

مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی حکومت نے انسانی حقوق کی معطلی کو معمول بنا لیا ہے، ہیومن رائٹس واچ

مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی حکومت نے انسانی حقوق کی معطلی کو معمول بنا لیا ہے، ہیومن رائٹس واچ ہیومن رائٹس واچ نے مقبوضہ کشمیر کے لاک ڈاؤن اور کمیونی کمیشن بلیک آؤٹ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی حکومت نے انسانی حقوق کی معطلی کو معمول بنا لیا ہے۔

علامہ شیخ زکزکی علاج کے لئے بھارت پہنچ گئے

علامہ شیخ زکزکی علاج کے لئے بھارت پہنچ گئے نائیجیریا کی جیل میں بے جرم و خطا کئی سالوں سے قید علامہ شیخ زکزکی کو بھارت میں علاج کرانے کی اجازت کےبعد ہندوستان روانہ ہوگئے ہیں۔

امام خمینی

امام خمینی رہ کے انقلابی نظریات اور اس کے اثرات

امام خمینی علیہ الرحمہ کی شخصیت اعلم فقیہ، واصل عارف اور با بصیرت راہبر جیسی صفات کی حامل ہے، ایران کی سرزمین پر دو ہزار پانچ سو سالہ پرانی شہنشاہیت کو شکست دینے کے بعد شرق و غرب کی سپر پاورز کا سامنا کرنے والی شخصیت ہے۔

امام خمینی رح ایک مرد عارف

حضرت امام خمینی رح کے بارے میں عام طور پر جو بات ہمارے ہاں زیادہ مشہور ہے وہ یہ کہ آپ نے ایک ملوکیت اور بادشاہت کا خاتمہ کرکے ایک اسلامی اور مذہبی حکومت قائم کی۔ لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ استعماری طاقتوں کے خلاف تھے اور استعماری طاقتوں نے آپ کی حکومت کے خاتمے کے لیے اپنے پورے وسائل بروئے کار لائے لیکن وہ اس میں ناکام ہو گئیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ امام خمینی رح بہت شجاع اور بہادر تھے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ آپ نے ناجائز طور پر قائم صہیونی حکومت کے خاتمے اور فلسطینیوں کے حقوق کے حصول کے لیے بھی آواز بلند کی۔ آپ مستضعفوں اور محروموں کے حقوق کے بھی علمبردار تھے۔ آپ نے اتحاد امت کے لیے ایک زور دار آواز بلند کی۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ ایک عالم اور فقیہ تھے اور آپ کی تقلید کی جاتی تھی۔ بعدازاں آپ کا دیوان بھی چھپا اور پاکستان میں بھی بہت سے لوگوں کو معلوم ہوا کہ آپ صاحب دیوان شاعر بھی تھے، لیکن ابھی تک جو پہلو کم شناختہ یا ناشناختہ ہے وہ یہ ہے کہ آپ ایک بلند پایہ عارف تھے اور شاید یہ کہنا زیادہ بہتر ہو کہ آپ کے وجود سے پھوٹنے والی تمام تر خوبیوں کا سرچشمہ یہی امر ہے کہ آپ ایک عارف باللہ اور عاشق الٰہی تھے اور اس سلسلے میں نظری اور عملی طور پر نہایت عمق اور گہرائی کے مقام پر فائز تھے۔

امام خامنہ ای

مسئلہ فلسطین امت مسلمہ کے اساسی اور بنیادی مسائل میں سے ایک ہے، امام خامنہ ای

مسئلہ فلسطین امت مسلمہ کے اساسی اور بنیادی مسائل میں سے ایک ہے، امام خامنہ ای رہبر انقلاب اسلامی امام خامنہ ای نے حجاج کرام کے نام اپنے سالانہ پیغام میں فلسطین کے مسئلے کو دنیا کا اہم ترین مسئلہ قرار دیا ہے۔

ایران بحری جہاز پر برطانوی حملے کا سخت جواب دے گا، امام خامنہ ای

ایران بحری جہاز پر برطانوی حملے کا سخت جواب دے گا، امام خامنہ ای امام خامنہ ای نے آئمہ جعمہ اور جماعات کے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ایران بحری جہاز پر برطانوی حملے کا سخت جواب دے گا۔

کلام و عقائد

بدا قرآن و حدیث کی روشنی میں

ذات الٰہی کے بارے میں بدا، حقیقت میں ابدا و اظہار ہے۔ یعنی جو کچھ خدا کے علم میں ہے اور انسان کے علم میں نہیں، اسےخداوند متعال اظہار و آشکار کرتا ہے۔ اسے بدا، کہنے کا سبب یہ ہے کہ یہ مقام فعل الٰہی میں نمایاں ہوتا ہے، اگرچہ ذات الٰہی میں جہل اور تغییر محال ہیں۔ خداوند متعال انبیاء کرام پر غیبی طریقے سے نظر رکھتا ہے تاکہ یہ لوگ وحی کے پہنچانے میں خطا سے محفوظ رہیں۔ قرآن کریم اس بارے میں ارشاد فرماتا ہے، "لِّيَعْلَمَ أَن قَدْ أَبْلَغُواْ رِسَالَاتِ رَبهِّم" تاکہ وہ دیکھ لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات کو پہنچا دیا ہے۔ واضح ہے کہ خداوند متعال پہلے سے ہی آگاہ ہے کہ انبیاء، وحی الٰہی کو صحیح طریقے سے لوگوں تک پہنچائیں گے۔

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی علم کلام کےاہم مباحث میں سے ایک حسن و قبح عقلی کا بحث ہے ۔اس سے مراد یہ ہے کہ کچھ افعال ذاتی طور پر حسن {اچھے} اور کچھ افعال ذاتی طور پر قبیح{ برے} ہیں ۔ معتزلہ اور امامیہ حسن و قبح عقلی کے قائل ہیں جبکہ اشاعرہ اس کی نفی کرتے ہیں۔ بہت سے کلامی مسائل اس بحث پر موقوف ہیں مثلا انسان کا اپنے اعمال میں خود مختار ہونا،خدا وند متعال کی بعض صفات کمالیہ کا ثبوت جیسے خدا کا عادل ہونا،اسی طرح بعض صفات سلبیہ بھی اسی بحث پر موقوف ہے جیسے خدا سے قبیح کا سرزد نہ ہونا،خداکا ظلم نہ کرنا وغیرہ ۔ جو لوگ حسن اور قبح کے قائل ہیں وہ انسانی افعال میں انسان کو مختار،خدا کو عادل مانتے ہیں جبکہ حسن و قبح کے مخالفین انسان کو مجبور اور خداکی عدالت سے انکار کرتے ہیں ۔

تربیت اولاد

خاندانی منصوبہ بندی : ایک معاشرتی ضرورت یا دھوکہ!

خاندانی منصوبہ بندی کوآج کے دور میں مختلف مملک کی حکومتیں اپنی کامیاب ترین پالیسیوں میں شمار کرتی ہیں۔ آبادی کا کنٹرول اور چھوٹا خاندان خوشحالی کا ذریعہ سمجھاجاتا ہے۔ خصوصاً محدود وسائل رکھنے والے ممالک میں اس پالیسی کو زیادہ اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے

تعليم و تربيت کے بارے ميں اسلامي علما کي آرا و نظريات

تاريخ اسلام ميں تقريبا تمام علماء و دانشور مختلف علوم ميں مھارت رکھنے کے ساتھ ساتھ تعليم و تربيت ميں بھي صاحب نظر اور مھارت کے حامل ہوا کرتے تھے اس سے اسلام ميں تعليم وتربيت کي اھميت کا پتہ چلتا ہے لھذا ہم يہاں پر علما اسلام کي نظر ميں تعليم و تربيت کي اھميت اجاگر کرنے کے لئے ان کے بعض نظريات پيش کر رہے ہيں۔

تندرستی

فلیوینوئیڈ سے بھرپور غذا، کینسر اور دل کی بیماریوں سے بچاتی ہے، تحقیق

ماہرین کی ایک عالمی ٹیم نے ہزاروں افراد پر طویل مدتی تحقیق کے بعد معلوم کیا ہے کہ فلیوینوئیڈ سے بھرپور غذا استعمال کی جائے تو دل کی بیماریوں اور کینسر کے خطرات بہت کم رہ جاتے ہیں۔ یہ فوائد صرف عام لوگوں تک ہی محدود نہیں بلکہ سگریٹ نوشی کرنے والے بھی فلیوینوئیڈز کے فوائد سے مستفید ہوسکتے ہیں۔

مرچیں کم کھائیں، یادداشت بچائیں

یہ تحقیق قطر، آسٹریلیا اور امریکا میں کی گئی جس میں 55 سال یا اس سے زائد عمر کے 4,582 چینی باشندوں کا مسلسل 1991 سے 2006 تک مطالعہ کیا گیا۔ اس طرح مجموعی طور پر یہ تحقیق 15 سال تک جاری رہی تھی۔

مہدویت{امام زمان عج}

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی امامت کے اہداف میں سے ایک ہدف امام معصوم کا لوگوں کی باطنی ہدایت ہے۔ امام لائق اور پاکیزہ دل رکھنے والے افراد کو اپنی طرف جذب کر کے انہیں کمال تک پہنچاتے ہیں۔ واضح ہے کہ انسان کا اس طرح ہدایت سے ہمکنار ہونے کے لئے ضروری نہیں کہ وہ امام کے ساتھ ظاہری رابطہ برقرار کرے۔ گذشتہ بیانات کی روشنی میں امام زمانہ (عج) کو بادل کے پیچھے پنہان روشن آفتاب سے تشبیہ دینے کا مقصد بھی واضح ہو جاتا ہے۔ اگرچہ بادل کے پیچھے پنہان سورج سے انسان مکمل طور بہرہ مند نہیں ہوتا ہے لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ اس سے انسان کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا ہے۔ بہرحال امام زمانہ (عج) کے وجود کے آثار و برکات سے بہرہ مند نہ ہونے کا سبب انسانوں کی طرف سے خاص حالات کا فراہم نہ کرنا ہے، جس کی وجہ سے لوگ اس عظیم نعمت کے فوائد سے محروم ہیں اور اس محرومیت کا سبب وہ خود ہیں نہ کہ خداوند متعال اور امام، کیونکہ خداوند متعال اور امام کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی مشکل درپیش نہیں ہے۔

دیگر مناسبتیں

اتحاد بین المسلمین کے عظیم داعی، شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی

شہید قائد آدھی رات سے اپنے معشوق حقیقی سے راز و نیاز میں مصروف تھے۔ نماز صبح کے بعد ایمان و عمل کی روشنی پھیلانے کے لئے معاشرے کے افق پر طلوع ہو ہی رہا تھا کہ شقی القلب اور وقت کے ابن ملجم کا نشانہ بن گئے۔ وہ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے زمین پر گر گئے۔ ارض پاک سے ایک دفعہ پھر ہدایت اور اتحاد بین المسلمین کے ایک روشن چراغ کو بجھا دیا گیا، وہ بھی صرف اس لئے کہ اس نے افتراق پرور، باطل پرست اور ظالم حکومت کے ہاتھوں بیعت نہیں کی۔

پاکیزگی کا سفر

انسان کے لئے بعض مواقع ایسے آتے ہیں جن میں وہ صحیح معنوں میں خدا کی خوشنودی اور قرب کو حاصل کر سکتا ہے اور یہی ہر انسان کی دلی تمنا ہوتی ہے۔ہر انسان فطرتا نیک اور خدا جو ہوتا ہے لیکن زمانے اور حالات کے سبب انسان اپنے خالق حقیقی کو فراموش کر لیتے ہیں لیکن زندگی کے کسی موڑ پر جب اسے ہوش آ جاتا ہے تو وہ یہ جان چکا ہوتا ہے کہ خدا کے سوا اس کا کوئی نہیں۔انسان کی شروع سے ہی یہی کوشش رہتی ہے کہ وہ کسی نہ کسی طریقہ سے خدا کی خوشنودی حاصل کرے اوراعمال و عبادات کے ذریعہ اپنے خالق کے حضور بڑا مقام حاصل کر لے۔

چہاردہ معصومین ع

زرتشتی عالم سے امام رضا علیہ السلام کا مناظرہ

امام علی رضا علیہ السلام کو خراسان طلب کرنے کے بعد سے مامون اپنے مختلف اہداف و مقاصد کے مد نظر تمام ادیان و مذاہب کے علماء کو امام (ع) کے ساتھ مناظرہ کرنے کی دعوت دیا کرتا تھا۔ یہ مناظرہ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے جو اس زمانہ کے بزرگ زرتشتی عالم کے ساتھ امام رضا (ع) نے انجام دیا ہے۔

حضرت امام صادق علیہ السلام کی علمی خدمات

حضرت امام صادق علیہ السلام کی علمی خدمات تاریخ تشییع اس بات پر گواہ ہے کہ حضرت ختمی مرتبت کے زمانے سے غبیت کبری تک آئمہ معصومین کی رہبریت، قیادت اور حکمت عملی میں ایک غیرمعمولی طریقہ کار کا تسلسل رہا ہے۔

دیگر موضوعات

قربانی کی تاریخ اور اسکا فلسفہ

دین مقدس اسلام میں قربانی ایک مالی عبادت ہے، جو شعائر اسلام میں بھی شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں اس کی بڑی فضیلت ہے۔ شعائر اللہ کو دلوں کا تقوا قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں ارشاد ہوا ہے: "وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ" (سورہ حج:۳۲) بات یہ ہے کہ جو شعائر اللہ کا احترام کرتا ہے تو یہ دلوں کا تقویٰ ہے۔ دین اسلام میں اس کے علاوہ اور بھی مالی عبادات ہیں۔ لیکن ان عبادات کے مقابلے میں قربانی کچھ مخصوص خصوصیات کی حامل ہے۔ انہی خصوصیات کی وجہ سے عبادات کے درمیان قربانی کا الگ مقام ہے۔

خاندانی منصوبہ بندی : ایک معاشرتی ضرورت یا دھوکہ!

خاندانی منصوبہ بندی کوآج کے دور میں مختلف مملک کی حکومتیں اپنی کامیاب ترین پالیسیوں میں شمار کرتی ہیں۔ آبادی کا کنٹرول اور چھوٹا خاندان خوشحالی کا ذریعہ سمجھاجاتا ہے۔ خصوصاً محدود وسائل رکھنے والے ممالک میں اس پالیسی کو زیادہ اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ لوگوں کو اس منصوبہ بندی کی طرف راغب کرنے کے لئے خوبصورت نعرے بھی لگائے جاتےہیں، جیسے "بچے دو ہی اچھے"، "چھوٹا خاندان خوشحال زندگی" وغیرہ۔

سب سے زیادہ زیر بحث

امام علی علیہ السلام کی شانِ میں چہل حدیث

مولا علیؑ کی شان میں چالیس احادیث اور یہ ﻭﻩ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ہیں ﺟﻮ ﺻﺤﺎﺡ ﺳﺘﻪ ﻣﯿﮟ بھی موجود ہے. 1= ﻋﻨﻮﺍﻥ ﺻﺤﻴﻔﺔ ﺍﻟﻤﺆﻣﻦ ﺣﺐّ ﻋﻠﻰؑ ﺑﻦ ﺍﺑﻰ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ. ﺻﺤﯿﻔﮧ ﻣﻮﻣﻦ ﮐﺎ ﻋﻨﻮﺍﻥ ﻣﺤﺒﺖِ ﻋﻠﯽؑ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻃﺎﻟﺐؑ ﮨﮯ.

دعا کی اہمیت

دعا کی اہمیت حضرت انسان کس قدر شرف و عظمت کا مالک ہے،اس کے لئے کائنات بنی،پوری کائنات میں اسی کو عزت و تکریم کا حق دار ٹھہرایا گیا۔تمام مخلوق اس کی خدمت اور منفعت کے لئے پیدا کی گئی۔لیکن اتنی عظمتوں کے باوجود اس کی خلقت کا مقصد اللہ کی معرفت اور عبادت قرار دیا گیا۔لہذا انسان کا اہم کام خدا سے ارتباط و ربط ہے۔مگر کیسا رابطہ؟ اتنی عظمتوں کے باوجود بارگاہ خداوندی میں فقر محض اور احتیاج محض ہے جبکہ ذات پروردگار غناء ہی غناء ہے۔بلندی ہی بلندی ہے۔انسان مشکلات،مصائب اور تکالیف میں ایسی ذات کی طرف رجوع کر کے اپنے فقر اور احتیاج محض ہونے کا اقرار و اعتراف کرتے ہوئے اپنی نفی اور بے ثباتی کا اظہار کرتا نظر آتا ہے۔اس سلسلے میں انسان کا ایک اہم وسیلہ دعا ہے۔دعا کے ذریعے اپنی احتیاج کا اظہار بھی کرتا ہے اوراللہ سے اعانت کی التجا بھی کرتا ہے۔

قرآنِ کریم اور اصلاحِ معاشرہ تحریر: عارف حسین تھہیم

لفظِ ’’اصلاح‘‘ درست کرنے، صحیح کرنے اور خرابی کو دُور کے معنی میں آتا ہے۔ معاشرتی اور اجتماعی مفہوم کے اعتبار سے شائستہ اور نیک عمل انجام دینے، نیز فساد و تباہی کو ختم کرنے کے لیے بھی اصلاح کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ ارشادِ پروردگار ہے: ﴿ إِلاَّ الَّذِينَ تَابُواْ وَأَصْلَحُواْ وَبَيَّنُواْ فَأُوْلَئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ﴾[1]؛ ’’سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے توبہ کی اور اپنے کئے کی اصلاح کر لی اور (جس کو چھپایا ہوا تھا) واضح کر دیا تو ایسے ہی لوگوں کی توبہ میں قبول کرتا ہوں اور بےشک میں بڑا توبہ قبول کرنے والا اور بہت مہربان ہوں۔‘‘ حقیقی توبہ میں گذشتہ بُرائی اور فساد کا دُور کرنا اور آئندہ بُرائی و فساد سے بچے رہنے کا تہیہ کرنا ضروری ہے۔ شائستہ اور صالح معاشرے کی تشکیل کا ہدف اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی دُنیوی و اُخروی اور مادی و معنوی ضرورتوں کو پورا کیا جائے؛ لہٰذا صالح معاشرے کی خصوصیات یہ ہیں کہ اس میں ہر ایک کی جان، مال، عزّت و آبرو اور ناموس محفوظ ہوتی ہے، لوگوں کی درمیان مہر و محبت اور اپنائیت کا راج ہوتا ہے اور سب لوگ روحانی و معنوی لحاظ سے پُرسکون اور مطمئن ہوتے ہیں۔

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ بسم اللہ الرحمن الرحیم بنام خدائے رحمن و رحیم اٴَللّٰھُمَّ اِنّيِ اٴَسْاٴَ لُکَ بِرَحْمَتِکَ الَّتي وَ سِعَتْ کُلَّ شَيْءٍ،وَ بِقُوَّتِکَ الَّتي قَھَرْتَ خدایا میراسوال اس رحمت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر محیط ھے۔ اس قوت کے واسطہ سے ھے جو ھر چیز پر حاوی ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ،وَخَضَعَ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ،وَذَلَّ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ، وَبِجَبَرُوتِکَ الَّتي غَلَبْتَ اور اس کے لئے ھر شے خاضع اور متواضع ھے۔ اس جبروت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر غالب ھے اور اس عزت کے واسطہ سے ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ، وَ بِعِزَّتِکَ الَّتي لاٰ یَقُومُ لَھٰا شَيْءٌ، وَبِعَظَمَتِکَ الَّتي مَلَاٴَتْ کُلَّ جس کے مقابلہ میں کسی میں تاب مقاومت نھیں ھے۔اس عظمت کے واسطہ سے ھے جس نے ھر چیز کو پر کردیا ھے شَيْءٍ، وَ بِسُلْطٰانِکَ الَّذي عَلاٰ کُلَّ شَيْءٍ، وَبِوَجْھِکَ الْبٰاقي بَعْدَ فَنٰاءِ کُلِّ شَيْءٍ،

تلاوت قرآن کی فضیلت

'پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا، جو شخص رات کو دس آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام غافلین (جو یاد خدا سے بے بہرہ رہتے ہیں) میں نہیں لکھا جائے گا اور جو شخص پچاس آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام ذاکرین (جو خدا کو یاد کرتے ہیں، حرام و حلال کا خیال رکھتے ہیں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص سو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام قانتین (عبادت گزاروں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص دوسو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام خاشعین (جو خدا کے سامنے متواضع ہوں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص تین سو آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام سعادت مندوں میں لکھا جائے گا، جو شخص پانچ ہزار آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام عبادت اور پرستش خدا کی کوشش کرنے والوں میں لکھا جائے گا اور جو شخص ہزار آیتوں کی تلاوت کرے وہ ایسا ہے جیسے اس نے کثیر مقدار میں سونا راہ خدا میں دے دیا ہو۔،،

تربیت اولاد کے انمول اصول تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

لغت کی کتابوں میں لفظ" تربیت" کے لیے تین اصل اور ریشہ ذکر ہوئے ہیں۔ الف:ربا،یربو زیادہ اور نشوونما پانےکے معنی میں ہے۔ ب: ربی، یربی پروان چڑھنا اور برتری کے معنی میں ہے۔ج: رب،یرب اصلاح کرنے اور سرپرستی کرنے کے معنی میں ہے۔۱صاحب مفردات کا کہنا ہے کہ "رب" مصدری معنی ٰ کے لحاظ سے کسی چیز کو حد کمال تک پہچانے ، پرورش اور پروان چڑھانے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ۲ صاحب التحقيق کا کہنا ہے اس کا اصل معنی ٰ کسی چیز کو کمال کی طرف لے جانے ، نقائص کو تخلیہ اور تحلیہ کے ذریعےرفع کرنے کے معنی ٰ میں ہے۔۳ بنابر این اگر اس کا ريشه(اصل) "ربو" سے ہو تو اضافہ کرنا، رشد ، نمو اور موجبات رشد کو فراہم کرنے کے معنی ٰ میں ہےلیکن ا گر "ربب" سے ہو تو نظارت ، سرپرستي و رهبري اور کسی چیز کو کمال تک پہنچانے کے لئے پرورش کے معنی ٰ میں ہے۔

پیٹ کا درد کئی امراض کی علامت ہوسکتا ہے

اگر پیٹ میں درد ہورہا ہو تو اس کی کئی وجوہ ہوسکتی ہیں۔ اکثر ناقص غذا کی وجہ سے معدے میں تکلیف ہونے لگتی ہے جسے ہم پیٹ کے درد سے تعبیر کرتے ہیں۔ معدے کا درد کئی امراض کی علامت بھی ہوسکتا ہے، اس لیے اسے نظرانداز نہیں کرنا چاہیے اور بلاتاخیر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

اقوال حضرت امام علی علیہ السلام

قال علی علیہ السلام :وا علم ان الخلائقییی لم یوکدوا بشئی اعظم من التقویٰ فانہ وصیتنا اھل البیت (۱) ترجمہ: حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں : لوگوں کو تقویٰ سے زیادہ کسی چیز کی تاکید نھیںکی گئی اس لئے کہ یہ ھم اھل بیت کی وصیت ھے ۔ حدیث (۲)

مشاہدات

آج

406

کل

655

اس ماہ

18226

اس سال

126173

ٹوٹل مشاہدات

295401