علماء کونسل کچورا سکردو بلتستان

متن

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

بنام خدائے رحمن و رحیم
اٴَللّٰھُمَّ اِنّيِ اٴَسْاٴَ لُکَ بِرَحْمَتِکَ الَّتي وَ سِعَتْ کُلَّ شَيْءٍ،وَ بِقُوَّتِکَ الَّتي قَھَرْتَ

خدایا میراسوال اس رحمت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر محیط ھے۔ اس قوت کے واسطہ سے ھے جو ھر چیز پر حاوی ھے

بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ،وَخَضَعَ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ،وَذَلَّ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ، وَبِجَبَرُوتِکَ الَّتي غَلَبْتَ

اور اس کے لئے ھر شے خاضع اور متواضع ھے۔ اس جبروت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر غالب ھے اور اس عزت کے واسطہ سے ھے

بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ، وَ بِعِزَّتِکَ الَّتي لاٰ یَقُومُ لَھٰا شَيْءٌ، وَبِعَظَمَتِکَ الَّتي مَلَاٴَتْ کُلَّ

جس کے مقابلہ میں کسی میں تاب مقاومت نھیں ھے۔اس عظمت کے واسطہ سے ھے جس نے ھر چیز کو پر کردیا ھے

شَيْءٍ، وَ بِسُلْطٰانِکَ الَّذي عَلاٰ کُلَّ شَيْءٍ، وَبِوَجْھِکَ الْبٰاقي بَعْدَ فَنٰاءِ کُلِّ شَيْءٍ،

اور اس سلطنت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے سے بلند تر ھے۔اس ذات کے واسطہ سے ھے جو ھر شے کی فنا کے بعد بھی باقی رھنے والی ھے

وَبِاٴَسْمٰائِکَ الَّتي مَلَاٴَتْ اَرْکٰانَ کُلِّ شَيْءٍ،وَبِعِلْمِکَ الَّذي اٴَحٰاطَ بِکُلِّ شَيْءٍ،

اور ان اسماء مبارکہ کے واسطہ سے ھے جن سے ھر شے کے ارکان معمور ھیں ۔اس علم کے واسطہ سے ھے جو ھر شے کا احاطہ کئے ھوئے ھے

وَبِنُورِ وَجْھِکَ الَّذي اٴَضٰاءَ لَہُ کُلُّ شَيْءٍ، یٰا نُورُ یٰا قُدُّوسُ،یٰا اٴَوَّلَ الْاٴَوَّلینَ،

 اور اس نور ذات کے واسطہ سے ھے جس سے ھر شے روشن ھے۔اے نور ،اے پاکیزہ صفات،اے اوّلین سے اوّل اور آخرین سے آخر۔

وَیٰا آخِرَالْآخِرینَ۔ اٴَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِيَ الذُّنُوبَ الَّتِي تَھْتِکُ الْعِصَمَ ۔اٴَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِيَ الذُّنُوبَ الَّتِي تُنْزِلُ النِّقَمَ۔

خدایا میرے گناھوں کو بخش دے جو ناموس کو بٹہ لگادیتے ھیں۔ان گناھوں کو بخش دے جو نزول عذاب کا باعث ھوتے ھیں۔

اٴَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِيَ الذُّنُوبَ الَّتِي تُغَیِّرُالنِّعَمَ۔اٴَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِيَ الذُّنُوبَ الَّتِي تَحْبِسُ

ا ن گناھوں کو بخش دے جو نعمتوں کو متغیر کر دیا کرتے ھیں ۔ان گناھوں کو بخش دے جو دعاوٴں کو تیری بارگاہ تک پھنچنے سے روک دیتے ھیں ۔

الدُّعٰآءَ۔اٴَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِيَ الذُّنُوبَ الَّتِي تُنْزِلُ الْبَلآٰءَ۔اٴَللّٰھُمَّ اغْفِرْلي کُلَّ ذَنْبٍ اٴَذْنَبْتُہُ، وَکُلَّ خَطٓیئَةٍ اٴَخْطٰاٴْتُھٰا۔

ان گناھوں کو بخش دے جو امیدوں کو منقطع کر دیتے ھیں۔ان گناھوں کو بخش دے جو نزول بلاء کا سبب ھوتے ھیں۔ خدایا میرے تمام گناھوں اور میری تمام خطاوٴں کو بخش دے۔

اٴَللّٰھُمَّ إِنِّي اٴَتَقَرَّبُ إِلَیْکَ بِذِکْرِکَ،وَاٴَسْتَشْفِعُ بِکَ إِلٰی نَفْسِکَ،وَاٴَسْاٴَلُکَ

خدایامیں تیری یاد کے ذریعہ تجھ سے قریب ھو رھاھوں اور تیری ذات ھی کو تیری بارگاہ میں شفیع بنا رھا ھوں تیرے کرم کے سھارے میرا سوال ھے

بِجُودِکَ اٴَنْ تُدْنِیَني مِنْ قُرْبِکَ،وَاَنْ تُوزِعَنِي شُکْرَکَ،وَاَنْ تُلْھِمَنِي ذِکْرَکَ،اٴَللّٰھُمَّ إِنّي اٴَسْاٴَلُکَ

کہ مجھے اپنے سے قریب بنالے اور اپنے شکر کی توفیق عطا فرما اور اپنے ذکر کا الھام کرامت فرما۔خدایامیں نھایت درجہ

سُوٴٰالَ خٰاضِعٍ مُتَذَلِّلٍ خٰاشِعٍ اٴَنْ تُسٰامِحَنيوَتَرْحَمَنِي وَتَجْعَلَنِي بِقِسْمِکَ رٰاضِیاً

خشوع ،خضوع اور ذلت کے ساتھ یہ سوال کرر ھاھوں کہ میرے ساتھ مھربانی فرما۔مجھ پر رحم کر اور جو کچھ مقدر میں ھے مجھے

قٰانِعاً،وَفي جَمیعِ الْاٴَحْوٰالِ مُتَوٰاضِعاً۔

اسی پر قانع بنادے۔ مجھے ھر حال میں تواضع اور فروتنی کی توفیق عطا فرما۔

اٴَللّٰھُمَّ وَاٴَسْاٴَ لُکَ سُوٴٰالَ مَنِ اشْتَدَّتْ فٰاقَتُہُ،وَاٴَنْزَلَ بِکَ عِنْدَ الشَّدٰائِدِ

خدایا میرا سوال اس بے نوا جیسا ھے جس کے فاقے شدید ھوں اور جس نے اپنی حاجتیں تیرے سامنے رکھ دی ھوں

حٰاجَتَہُ،وَعَظُمَ فیمٰا عِنْدَکَ رَغْبَتُہُ۔اٴَللّٰھُمَّ عَظُمَ سُلْطٰانُکَ،وَعَلٰا مَکٰانُکَ،وَخَفِيَ

اور جس کی رغبت تیری بارگاہ میں عظیم ھو۔خدایا تیری سلطنت عظیم۔ تیری منزلت بلند۔تیری تدبیر مخفی ۔

مَکْرُکَ،وَظَہَرَ اٴَمْرُکَ،وَغَلَبَ قَہْرُکَ،وَجَرَتْ قُدْرَتُکَ،وَلٰا یُمْکِنُ الْفِرٰارُمِنْ حُکُومَتِکَ۔

تیرا امر ظاھر۔تیرا قھر غالب اور تیری قدرت نافذ ھے اور تیری حکومت سے فرار ناممکن ھے۔

اٴَللّٰھُمَّ لاٰاٴَجِدُ لِذُنِوبيغٰافِراً،وَلاٰ لِقَبٰائِحيسٰاتِراً،وَلاٰلِشَيْءٍ مِنْ عَمَلِيَ الْقَبیحِ

خدایا میرے گناھوں کے لئے بخشنے والا۔میرے عیوب کے لئے پردہ پوشی کرنے والا،میرے قبیح اعمال

بِالْحَسَنِ مُبَدِّلاً غَیْرَکَ،لاٰإِلٰہَ إِلاَّ اٴَنْتَ سُبْحٰانَکَ وَبِحَمْدِکَ،ظَلَمْتُ نَفْسِي،ُ

کو نیکیوں میں تبدیل کرنے والا تیرے علاوہ کوئی نھیں ھے۔ تو وحدہ لا شریک، پاکیزہ صفات اور قابل حمد ھے۔ خدایا میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا ھے۔

وَتَجَرَّاٴْت بِجَھْلي،وَسَکَنْتُ إِلٰی قَدِیمِ ذِکْرِکَ لي،وَمَنِّکَ عَلَيَّ۔

اپنی جھالت سے جسارت کی ھے اور اس بات پر مطمئن بیٹھا ھوں کہ تونے مجھے ھمیشہ یا د رکھا ھے اور ھمیشہ احسان فرمایا ھے۔

اٴَللّٰھُمَّ مَوْلاٰيَ کَمْ مِنْ قَبیحٍ سَتَرْتَہُ،وَکَمْ مِنْ فٰادِحٍ مِنَ الْبَلآٰءِ اٴَقَلْتَہُ،وَکَمْ مِنْ

خدایا میرے کتنے ھی عیب ھیںجنھیں تونے چھپا دیا ھے اور کتنی ھی عظیم بلائیں ھیں جن سے تونے بچایا ھے۔ کتنی ٹھوکریں ھیں

عِثٰارٍوَقَیْتَہُ،وَکَمْ مِنْ مَکْرُوہٍ دَفَعْتَہُ،وَکَمْ مِنْ ثَنٰاءٍ جَمیلٍ لَسْتُ اٴَھْلاً لَہُ نَشَرْتَہُ۔

جن سے تونے سنبھالا ھے اور کتنی برائیاں ھیں جنھیں تونے ٹالا ھے۔کتنی ھی اچھی تعریفیں ھیں جن کا میں اھل نھیں تھا اور تونے میرے بارے میں انھیں نشر کیا ھے ۔

اٴَللّٰھُمَّ عَظُمَ بَلاٰئِي،وَاٴَفْرَطَ بيسُوٓءُ حٰالي،وَقَصُرَتْ بياٴَعْمٰالِي،وَقَعَدَتْ

خدایا میری مصیبت عظیم ھے ۔میری بدحالی حد سے آگے بڑھی ھوئی ھے ۔میرے اعمال میں کوتاھی ھے۔ مجھے کمزوریوں

بِياٴَغْلاٰلِي،وَحَبَسَنِي عَنْ نَفْعِي بُعْدُ اٴَمَلِي وَخَدَعَتْنِي الدُّنِّیٰا بِغُرُورِھٰاوَنَفْسي بِجِنٰایَتِھٰا

کی زنجیروں نے جکڑکر بٹھا دیا ھے اور مجھے دور دراز امیدوں نے فوائد سے روک دیا ھے،دنیا نے دھوکہ میں مبتلا رکھا ھے اور نفس نے خیانت اور ٹال مٹول میں مبتلا رکھا ھے ۔

 وَمِطٰالي یٰاسَیِّدِي،فَاٴَسْاٴَلُکَ بِعِزَّتِکَ اٴَنْ لاٰیَحْجُبَ عَنْکَ دُعٰائِي سُوٓءُ عَمَلِي و َفِعٰالِي،

میرے آقا و مولا! تجھے تیری عزت کا واسطہ ۔میری دعاوٴں کو میری بد اعمالیاں روکنے نہ پائیں اور میں

وَلاٰتَفْضَحْنِي بِخَفِيِّ مَا اطَّلَعْتَ عَلَیْہِ مِنْ سِرِّي،وَلاٰ تُعٰاجِلْني بِالْعُقُوبَةِ عَلٰی مٰا عَمِلْتُہُ

اپنے مخفی عیوب کی بنا پر بر سر عام رسوانہ ھونے پاوٴں۔میں نے تنھا ئیوں میں جو غلطیاں کی ھیں ان کی سزا فی الفور نہ

فيخَلَوٰاتي مِنْ سُوٓءِ فِعْلِي وَإِسٰائَتِي،وَدَوٰامِ تَفْریطي وَجَھٰالَتِي، وَکَثْرَةِ شَھَوٰاتي وَ غَفْلَتِي۔

ملنے پائے، چاھے وہ غلطیاں بد عملی کی شکل میں ھو ں یا بے ادبی کی شکل میں،مسلسل کوتاھی ھو یا جھالت یا کثرت خواھشات و غفلت۔

وَکْنِ اللّٰھُمَّ بِعِزَّتِکَ لي فی کُلِّ الْاٴَحْوٰالِ رَؤُوفاً،وَعَلَيَّ في جَمیعِ الْاُمُورِ

خدایا مجھ پرھر حال میں مھربانی فرما اور میرے اوپر تمام معاملات میں کرم فرما۔خدایا۔پروردگار۔میرے پاس

عَطُوفاً،إِلٰھيوَرَبّيمَنْ لي غَیْرُکَ،اٴَسْاٴَلُہُ کَشْفَ ضُرّي، وَالنَّظَرَ فياٴَمْرِي۔

تیرے علاوہ کون ھے جو میرے نقصانات کو دور کر سکے اور میرے معاملات پر توجہ فرماسکے۔

إِلٰھي وَمَوْلاٰيَ اٴَجْرَیْتَ عَلَيّحُکْماً اتَّبَعْتُ فیہِ ھَویٰ نَفْسي،وَلَمْ اٴَحْتَرِسْ فیہِ مِنْ

خدایا مولایا۔تونے مجھ پر احکام نافذ کئے اور میں نے خواھش نفس کا اتباع کیا اور اس با ت کی پرواہ نہ کی کہ دشمن

تَزْیینِ عَدُوِّي،فَغَرَّنِي بِمٰااٴَھْویٰ وَاٴَسْعَدَہُ عَلٰی ذٰلِکَ الْقَضٰٓاءُ فَتَجٰاوَزْتُ بِمٰاجَریٰ عَلَيَّ مِنْ

(شیطان) مجھے فریب دے رھا ھے۔ نتیجہ یہ ھوا کہ اس نے خواھش کے سھارے مجھے دھوکہ دیا اور میرے مقدر نے بھی اس کا سا تھ دے دیا

ذٰلِکَ بَعْضَ حُدُودِکَ،وَخٰالَفْتُ بَعْضَ اٴَوٰامِرِکَ۔

اور میں نے تیرے احکام کے معاملہ میں حدود سے تجاوز کیا اور تیرے بہت سے احکام کی خلاف ورزی کر بیٹھا ۔

فَلَکَ الْحَمْدُ عَلَيَّ فيجَمیعِ ذٰلِکَ،وَلاٰحُجَّةَ لِي فِیمٰاجَریٰ عَلَيَّ فیہِ قَضٰاوُٴکَ،

بھر حال اس معاملہ میں میرے ذمہ تیری حمد بجالانا ضروری ھے اور اب تیری حجت ھر مسئلہ میں میرے اوپر تمام ھے اور میرے پاس

وَاٴَلْزَمَنِيحُکْمُکَ وَبَلٰاوٴُکَ،وَقَدْ اٴَتَیْتُکَ یٰاإِلٰھِي بَعْدَ تَقْصیرِي وَإِسْرٰافِيعَلٰی نَفْسِي،

تیرے فیصلہ کے مقابلہ میں اور تیرے حکم و آزمائش کے سامنے کوئی حجت و دلیل نھیں ھے۔اب میں ان تمام کوتاھیوں اور اپنے نفس پر تمام زیادتیوں

مُعْتَذِراًنٰادِماً مُنْکَسِراًمُسْتِقیلًا مُسْتَغْفِراً مُنیباًمُقِرّاً مُذْعِناًمُعْتَرِفاً، لاٰ اٴَجِدُ مَفَرّاًمِمّٰا کٰانَ مِنّي،

کے بعد تیری بارگاہ میں ندامت انکسار، استغفار، انابت، اقرار، اذعان، اعتراف کے ساتھ حاضر ھو رھاھوں کہ میرے پاس ان گناھوں سے بھاگنے کے لئے کوئی

وَلاٰمَفْزَعاًاٴَتَوَجَّہُ إِلَیْہِ فياٴَمْرِي غَیْرَ قَبُولِکَ عُذْرِي،وَإِدخٰالِکَ إِیّٰايَ في سَعَةِ رَحْمَتِکَ۔

جائے فرار نھیں ھے اور تیری قبولیت معذرت کے علاوہ کوئی پناہ گاہ نھیں ھے۔صرف ایک ھی راستہ ھے کہ تواپنی رحمت کاملہ میں داخل کر لے۔

اٴَللّٰھُمَّ فَاقْبَلْ عُذْري،وَارْحَمْ شِدَّةَ ضُرِّي،وَفُکَّنِيمِنْ شَدِّ وَثٰاقِي،یٰارَبِّ ارْحَمْ ضَعْفَ بَدَنِي،

لہٰذا پروردگار میرے عذر کو قبول فرما ۔میری شدت مصیبت پر رحم فرما۔مجھے شدید قید وبند سے نجات عطا فرما۔پروردگار میرے بدن کی کمزوری،

وَرِقَّةَ جِلْدي،وَدِقَّةَ عَظْمي،یٰامَنْ بَدَاٴَخَلْقِي وَذِکْرِي وَتَرْبِیَتِي وَبِرِّي وَتَغْذِیَتي ھَبْني لِابْتِدٰاءِ

میری جلد کی نرمی اور میرے استخواں کی باریکی پر رحم فرما۔اے میرے پیداکرنے والے ۔اے میرے تربیت دینے والے۔

کَرَمِکَ وَسٰالِفِ بِرِّکَ بي۔

اے نیکی کرنے والے! اپنے سابقہ کرم اور گذشتہ احسانات کی بنا پر مجھے معاف فرمادے۔

یٰاإِلٰھِيوَسَیِّدِي وَرَبِّي،اٴَتُرٰاکَ مُعَذِّبِي بِنٰارِکَ بَعْدَ تَوْحیدِکَ،وَبَعْدَمَاانْطَویٰ

پروردگار!کیا یہ ممکن ھے کہ میرے عقیدہٴ توحید کے بعد بھی تو مجھ پر عذاب نازل کرے، یا میرے

عَلَیْہِ قَلْبِيمِنْ مَعْرِفَتِکَ،وَلَھِجَ بِہِ لِسٰانِيمِنْ ذِکْرِکَ،وَاعْتَقَدَہُ ضَمیرِي مِنْ

دل میں اپنے معرفت کے باوجود مجھے مورد عذاب قرار دے کہ میری زبان پر مسلسل تیرا ذکر اور میرے دل میں برابراسے برباد بھی کردے ،

حُبِّکَ،وَبَعْدَصِدْقِ اعْتِرٰافِيوَدُعٰائِيخٰاضِعاً لِرُبُوبِیَّتِکَ،ھَیْھٰاتَ،اٴَنْتَ اٴَکْرَمُ مِنْ اٴَنْ تُضَیِّعَ

تیری محبت جاگزیں رھی ھے۔میں صدق دل سے تیری ربوبیت کے سامنے خاضع ھوں۔اب بھلا یہ کیسے ممکن ھے کہ جسے تونے پالا ھے

مَنْ رَبَّیْتَہُ،اٴَوْ تُبْعِدَ مَنْ اٴَدْنَیْتَہُ،اٴَوْتُشَرِّدَ مَنْ آوَیْتَہُ،اٴَوْتُسَلِّمَ إِلَی الْبَلاٰءِ مَنْ کَفَیْتَہُ وَرَحِمْتَہُ۔

جسے تونے قریب کیا ھے اسے دور کردے۔جسے تونے پناہ دی ھے اسے راندہٴ درگاہ بنادے اور جس پر تونے مھربانی کی ھے اسے بلاوٴں کے حوالے کردے۔

وَلَیْتَ شِعْري یٰاسَیِّدي وَإِلٰھي وَمَوْلٰايَاٴَتُسَلِّطُ النّٰارَعَلٰی وُجُوہٍ خَرَّتْ لِعَظَمَتِکَ

میرے سردار ۔میرے خدامیرے مولا ! کاش میں یہ سوچ بھی سکتا کہ جو چھرے تیرے سامنے سجدہ ریز رھے ھیں ان پر بھی توآگ کو مسلط کردے گا

سٰاجِدَةً،وَعَلٰی اٴَلْسُنٍ نَطَقَتْ بِتَوْحیدِکَ صٰادِقَةً،وَبِشُکْرِکَ مٰادِحَةً،وَعَلٰی قُلُوبٍ

اور جو زبانیں صداقت کے ساتھ حرف توحید کو جاری کرتی رھی ھیں اور تیری حمد وثنا کرتی رھی ھیں یا جن دلوں کو تحقیق کے ساتھ تیری خدائی

اعْتَرَفَتْ بِإِلٰھِیَّتِکَ مُحَقِّقَةً،وَعَلٰی ضَمٰائِرَحَوَتْ مِنَ الْعِلْمِ بِکَ حَتّٰی صٰارَتْ خٰاشِعَةً،وَ

کا اقرار ھے یا جو ضمیر تیرے علم سے اس طرح معمور ھیں کہ تیرے سامنے خاضع وخاشع ھیں یا جواعضاء و جوارح تیر ے مراکز

عَلٰی جَوٰارِحَ سَعَتْ إِلٰی اٴَوْطٰانِ تَعَبُّدِکَ طٰائِعَةً،وَاٴَشٰارَتْ بِاسْتِغْفٰارِکَ مُذْعِنَةً۔

عبادت کی طرف ھنسی خوشی سبقت کرنے والے ھیں اور تیرے استغفا ر کو یقین کے ساتھ اختیار کرنے والے ھیں ؛ان پر بھی تو عذاب کرے گا۔

مٰاھٰکَذَا الظَّنُّ بِکَ،وَلاٰاُخْبِرْنٰابِفَضْلِکَ عَنْکَ یٰاکَریمُ یٰارَبِّ،وَاٴَنْتَ تَعْلَمُ

ھر گز تیرے بارے میں ایسا خیال بھی نھیں ھے اور نہ تیرے فضل وکرم کے بارے میں ایسی کو ئی اطلاع ملی ھے ۔

ضَعْفيعَنْ قَلیلٍ مِنْ بَلاٰءِ الدُّنْیٰا وَ عُقُوبٰاتِھٰا، وَمٰا یَجْرِي فیھٰامِنَ الْمَکٰارِہِ عَلٰی اٴَھْلِھٰا،

پروردگار اتو جانتا ھے کہ میں دنیا کی معمولی بلا اور ادنیٰ سی سختی کو برداشت نھیں کر سکتا اور میرے لئے اس کی ناگواریاں

عَلٰی اٴَنَّ ذٰلِکَ بَلاٰءٌ وَمَکْرُوہٌ قَلیلٌمَکْثُہُ،یَسیرٌ بَقٰائُہُ، قَصِیرٌ مُدَّتُہُ، فَکَیْفَ احْتِمٰالِي لِبَلاٰءِ الْآخِرَةِ،

قابل تحمل ھیں جب کہ یہ بلائیں قلیل اور ان کی مدت مختصر ھے۔تو میں ان آخرت کی بلاوٴں کو کس طرح برداشت کروں گا

وَجَلیلِ وُقُوعِ الْمَکٰارِہِ فیھٰا،وَھُوَبَلاٰءٌ تَطُولُ مُدَّتُہُ،وَیَدُومُ مَقٰامَہُ،وَلاٰیُخَفَّفُ عَنْ

جن کی سختیاں عظیم،جن کی مدت طویل اور جن کا قیام دائمی ھے۔جن میں تخفیف کا بھی کوئی امکان نھیں ھے اس لئے کہ یہ بلائیں

اٴَھْلِہِ،لِاٴَنَّہُ لاٰیَکُونُ إِلاّٰ عَنْ غَضَبِکَ وَانْتِقٰامِکَ وَسَخَطِکَ،وَھٰذٰا مٰالاٰتَقُومُ لَہُ السَّمٰاوٰاتُ

تیرے غضب اور انتقام کا نتیجہ ھیں اور ان کی تاب زمین وآسمان نھیں لاسکتے ،تو میں ایک بندہٴ ضعیف و ذلیل

وَالْاَرْضُ، یا سَیِّدِي،فَکَیْفَ لِي وَاٴَنٰاعَبْدُکَ الضَّعیفُ الذَّلیلُ الْحَقیرُ الْمِسْکینُ الْمُسْتَکینُ۔
و حقیر ومسکین وبے چارہ کیا حیثیت رکھتا ھوں؟!
یٰاإِلٰھي وَرَبّي وَسَیِّدِي وَمَوْلاٰيَ،لِاٴَيِّ الْاُمُورِإِلَیْکَ اٴَشْکُو،وَلِمٰامِنْھٰااٴَضِجُّ

خدایا۔ پروردگارا۔ میرے سردار۔میرے مولا! میں کس کس بات کی فریاد کروں اور کس کس کام کے لئے آہ وزاری اور

وَاٴَبْکي،لِاٴَلیمِ الْعَذٰابِ وَشِدَّتِہِ،اٴَمْ لِطُولِ الْبَلاٰءِ وَ مُدَّتِہِ،فَلَئِنْ صَیَّرْتَنيلِلْعُقُوبٰاتِ مَعَ

گریہ وبکا کروں ،قیامت کے دردناک عذاب اور اس کی شدت کے لئے یا اس کی طویل مصیبت اور دراز مدت کے لئے کہ اگر تو نے

اٴَعْدَائِکَ،وَجَمَعْتَ بَیْني وَ بَیْنَ اٴَہْلِ بَلاٰئِکَ،وَفَرَّقْتَ بَیْنِي وَبَیْنَ اٴَحِبّٰائِکَ

ان سزاوٴں میں مجھے اپنے دشمنوں کے ساتھ ملادیا اور مجھے اھل معصیت کے ساتھ جمع کردیا اور میرے اوراپنے احباء اور

وَاٴَوْلِیٰائِکَ،فَھَبْنِِي یٰاإِلٰھي وَسَیِّدِي وَمَوْلاٰيَ وَرَبِّي،صَبَرْتُ عَلٰی عَذٰابِکَ فَکَیْفَ

ولیاء کے درمیان جدائی ڈال دی ۔تو اے میرے خدا۔میرے پروردگار ۔میرے آقا۔میرے سردار! پھر یہ بھی طے ھے کہ اگر میں

اٴَصْبِرُعَلٰی فِرٰاقِکَ،وَھَبْنِي صَبَرْتُ عَلٰی حَرِّ نٰارِکَ فَکَیْفَ اٴَصْبِرُ عَنِ النَّظَرِإِلٰی

تیرے عذاب پر صبر بھی کر لوں تو تیرے فراق پر صبر نھیںکر سکتا۔اگر آتش جھنم کی گرمی برداشت بھی کر لوں تو تیری کرامت نہ دیکھنے کو

کَرٰامَتِکَ،اٴَمْ کَیْفَ اٴَسْکُنُ فِی النّٰارِ وَرَجٰائِي عَفْوُکَ۔

برداشت نھیں کر سکتا ۔بھلا یہ کیسے ممکن ھے کہ میں تیری معافی کی امید رکھوں اور پھر میں آتش جھنم میں جلادیا جاوٴں ۔

فَبِعِزَّتِکَ یٰا سَیِّدي وَمَوْلٰايَ اُقْسِمُ صٰادِقاًلَئِنْ تَرَکْتَنينٰاطِقاً،لَاٴَضِجَّنَّ إِلَیْکَ بَیْنَ

 تیری عزت و عظمت کی قسم اے آقاو مولا! اگر تونے میری گویائی کو باقی رکھا تو میں اھل جھنم کے درمیان بھی

اٴَھْلِھٰا ضَجیجَ الْآمِلینَ،وَلَاٴَصْرُخَنَّ إِلَیْکَ صُرٰاخَ الْمُسْتَصْرِخینَ،وَلَاٴَبْکِیَنَّ عَلَیْکَ بُکٰاءَ

امیدواروں کی طرح فریاد کروں گا۔اور فریادیوں کی طرح نالہ و شیون کروں گااور ”عزیز گم کردہ “کی طرح تیری دوری

الْفٰاقِدینَ،وَلَاُنٰادِیَنَّکَ اٴَیْنَ کُنْتَ یٰاوَلِيَّ الْمُوْٴمِنینَ،یٰاغٰایَةَ آمٰالِ الْعٰارِفینَ،یٰا غِیٰاثَ

پر آہ وبکا کروں گا اور تو جھاں بھی ھوگا تجھے آوازدوں گا کہ تو مومنین کا سرپرست، عارفین کا مرکز امید،فریادیوں کا فریادرس۔

الْمُسْتَغیثینَ،یٰاحَبیبَ قُلُوبِ الصّٰادِقینَ،وَیٰا إِلٰہَ الْعٰالَمینَ۔

صادقین کا محبوب اور عالمین کا معبود ھے۔

اٴَفَتُرٰاکَ سُبْحٰانَکَ یٰاإِلٰھي وَ بِحَمْدِکَ تَسْمَعُ فیھٰاصَوْتَ عَبْدٍ مُسْلِمٍ سُجِنَ فیھٰا

اے میرے پاکیزہ صفات ،قابل حمد وثنا پروردگار کیا یہ ممکن ھے کہ تواپنے بندہٴ مسلمان کو اس کی مخالفت کی بنا پر جھنم میں

بِمُخٰالَفَتِہِ،وَذٰاقَ طَعْمَ عَذٰابِھٰا بِمَعْصِیَتِہِ ،وَحُبِسَ بَیْنَ اٴَطْبٰاقِھٰا بِجُرْمِہِ وَجَریرَتِہِ وَھُوَ یَضِجُّ

گرفتار اور معصیت کی بنا پر عذاب کا مزہ چکھنے والااور جرم و خطا کی بنا پر جھنم کے طبقات کے درمیان کروٹیں بدلنے والا بنادے

إِلَیْکَ ضَجیجَ مُوٴَمِّلٍ لِرَحْمَتِکَ،وَیُنٰادیکَ بِلِسٰانِ اٴَھْلِ تَوْحیدِکَ،وَ یَتَوَسَّلُ

اور پھر یہ دیکھے کہ وہ امید وار ِرحمت کی طرح فریاد کناں اور اھل توحید کی طرح پکارنے والا ،ربوبیت کے وسیلہ سے التماس کرنے والا ھے اور تو اس کی آواز

إِلَیْکَ بِرُبُوبِیَّتِکَ۔

نھیں سنتا ھے۔

یٰامَوْلاٰيَ،فَکَیْفَ یَبْقٰی فِي الْعَذٰابِ وَھُوَیَرْجُوْمٰاسَلَفَ مِنْ حِلْمِکَ،اٴَمْ کَیْفَ تُوْٴلِمُہُ

خدایا تیرے حلم و تحمل سے آس لگانے والا کس طرح عذاب میں رھے گا اور تیرے فضل وکرم سے امیدیں وابستہ

النّٰارُوَھُوَیَاٴْمُلُ فَضْلَکَ وَرَحْمَتَکَ،اٴَمْ کَیْفَ یُحْرِقُہُ لَھیبُھٰاوَاٴَنْتَ تَسْمَعُ صَوْتَہُ وَتَرٰی

کرنے والا کس طرح جھنم کے الم و رنج کا شکار ھوگا۔ جھنم کی آگ اسے کس طرح جلائے گی جب کہ تو اس کی آواز کو سن رھا ھو

مَکٰانَہُ،اٴَمْ کَیْفَ یَشْتَمِلُ عَلَیْہِ زَفیرُھٰاوَاٴَنْتَ تَعْلَمُ ضَعْفَہُ،اٴَمْ کَیْفَ یَتَقَلْقَلُ بَیْنَ اٴَطْبٰاقِھٰا

ور اس کی منزل کو دیکھ رھا ھو،جھنم کے شعلے اسے کس طرح اپنے لپیٹ میں لیں گے جب کہ تو اس کی کمزوری کو دیکھ رھا ھوگا۔

 وَاٴَنْتَ تَعْلَمُ صِدْقَہُ،اٴَمْ کَیْفَ تَزْجُرُہُ زَبٰانِیَتُھٰاوَھُوَ یُنٰادیکَ یٰارَبَّہُ،اٴَمْ کَیْفَ یَرْجُوفَضْلَکَ

وہ جھنم کے طبقات میں کس طرح کروٹیں بدلے گا جب کہ تو اس کی صداقت کو جانتا ھے ۔ جھنم کے فرشتے اسے کس طرح جھڑکیں گے

فيعِتْقِہِ مِنْھٰافَتَتْرُکُہُ فیھٰا،ھَیْھَاتَ مَاذٰلِکَ الظَّنُّ بِکَ،وَلاَالْمَعْرُوفُ مِنْ

جبکہ وہ تجھے آواز دے رھا ھوگا اور تو اسے جھنم میں کس طرح چھوڑ دے گا جب کہ وہ تیرے فضل و کرم کا امیدوار ھوگا ،ھرگز تیرے بارے

فَضْلِکَ،وَلامُشْبِہٌ لِمٰاعٰامَلْتَ بِہِ الْمُوَحِّدینَ مِنْ بِرِّکَ وَاٴِحْسٰانِکَ۔

میں یہ خیال اور تیرے احسانات کا یہ انداز نھیں ھے ۔ تو نے جس طرح اھل توحید کے ساتھ نیک برتاوٴ کیا ھے اس کی کوئی مثال نھیں ھے۔

فَبِا لْیَقینِ اٴَقْطَعُ لَوْلاٰمٰاحَکَمْتَ بِہِ مِنْ تَعْذیبِ جٰاحِدیکَ،وَقَضَیْتَ بِہِ مِنْ إِخْلاٰدِ

میں تو یقین کے ساتھ کہتا ھوں کہ تو نے اپنے منکروں کے حق میں عذاب کا فیصلہ نہ کردیا ھوتا اور اپنے دشمنوں کو ھمیشہ جھنم

مُعٰانِدیکَ لَجَعَلْتَ النّٰارَکُلَّھٰابَرْداًوَ سَلاٰماً،وَمٰاکٰانَ لِاٴَحَدٍ فیھٰا مَقَرّاً وَلاٰ مُقٰاماً، لٰکِنَّکَ

میں رکھنے کا حکم نہ دے دیا ھوتا تو ساری آتش جھنم کو سرد اور سلامتی بنا دیتا اور اس میں کسی کا ٹھکانا اور مقام نہ ھوتا۔

تَقَدَّسَتْ اٴَسْمٰاوٴُکَ اٴَقْسَمْتَ اٴَنْ تَمْلَاٴَھٰا مِنَ الْکٰافِرینَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنّٰاسِ اٴَجْمَعینَ،وَ اٴَنْ

لیکن تو نے اپنے پاکیزہ اسماء کی قسم کھائی ھے کہ جھنم کو انسان و جنات کے کافروں سے پُر کرے گا  اور معاندین کو اس میں

تُخَلِّدَ فیھٰاالْمُعٰانِدینَ،وَاٴَنْتَ جَلَّ ثَنٰاوٴُکَ قُلْتَ مُبْتَدِئاً،وَتَطَوَّلْتَ بِالْإِنْعٰامِ مُتَکَرِّماً،اٴَفَمَنْ

ھمیشہ ھمیشہ رکھے گا۔اور تونے ابتداھی سے یہ کہہ دیا ھے اور اپنے لطف و کرم سے یہ اعلان کر دیا ھے کہ ”مومن

کٰانَ مُوٴْمِناًکَمَنْ کٰانَ فٰاسِقاً لاٰیَسْتَوُوْنَ۔

اور فاسق برابر نھیں ھو سکتے“۔

إِلٰھي وَسَیِّدِي،فَاٴَسْاٴَلُکَ بِالْقُدْرَةِ الَّتي قَدَّرْتَھٰا، وَ بِالْقَضِیَّةِ الَّتي

تو خدایا ۔مولایا۔ میں تیری مقدر کردہ قدرت اور تیری حتمی حکمت و قضاوت اور ھر محفل نفاذ پر غالب آنے والی عظمت کا حوالہ دے کر

حَتَمْتَھٰا وَ حَکَمْتَھٰا، وَغَلَبْتَ مَنْ عَلَیْہِ اٴَجْرَیْتَھٰا،اٴَنْ تَھَبَ لِي فِي ھٰذِہِ اللَّیْلَةِ وَفي ھٰذِہِ السّٰاعَةِ

تجھ سے سوال کرتاھوں کہ مجھے اِسی رات میں اور اِسی وقت معاف کردے ۔میرے سارے جرائم،سارے گناہ اور ساری

کُلَّ جُرْمٍ اٴَجْرَمْتُہُ،وَکُلَّ ذَنْبٍ اٴَذْنَبْتُہُ،وَکُلَّ قَبیحٍ اٴَسْرَرْتُہُ،وَکُلَّ جَھَلٍ عَمِلْتُہُ،کَتَمْتُہُ

ظاھری اور باطنی برائیاں اور ساری جھالتیں جن پر میں نے خفیہ طریقہ سے یا علی الاعلان ،چھپا کر یا ظاھر کر کے عمل کیا ھے اور میری

اٴَوْاٴَعْلَنْتُہُ،اٴَخْفَیْتُہُ اٴَوْ اٴَظْھَرْتُہُ،وَکُلَّ سَیِّئَةٍ اٴَمَرْتَ بِإِثْبٰاتِھاَ الْکِرٰامَ الْکٰاتِبینَ،اَلَّذینَ وَکَّلْتَھُمْ

تمام خرابیاں جنھیں تونے درج کر نے کا حکم کراماً کاتبین کو دیا ھے جن کواعمال کے محفوظ کرنے کے لئے معین کیا ھے اور میرے

بِحِفْظِ مٰایَکُونُ مِنِّي،وَجَعَلْتَھُمْ شُھُوداًعَلَيَّمَعَ جَوٰارِحِي،وَکُنْتَ اٴَنْتَ الرَّقیبَ عَلَيَّ

اعضاء و جوارح کے ساتھ ان کو میرے اعمال کا گواہ قرار دیا ھے اور پھر تو خود بھی ان سب کی نگرانی کررھا ھے

اس سے مربوط موضوعات

بین الاقوامی

کرتار پور راہداری کے افتتاح سے پاک بھارت تعلقات میں بہتری آئےگی، من موہن سنگھ

کرتار پور راہداری کے افتتاح سے پاک بھارت تعلقات میں بہتری آئےگی، من موہن سنگھ سابق بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کا کہنا ہے کہ کرتار پور راہداری کا افتتاح تاریخی لمحہ ہے، راہداری کھولنے سے پاکستان بھارت کےتعلقات میں بہتری آئے گی۔

بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی جگہ مندر تعمیر کرنے کا حکم دے دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی جگہ مندر تعمیر کرنے کا حکم دے دیا بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی حکومت کو حکم دیا کہ 3 سے 4 ماہ کے اندر اسکیم تشکیل دے کر زمین کو مندر کی تعمیر کے لئے ہندووں کے حوالے کرے۔

امام خمینی

امام خمینی رہ کے انقلابی نظریات اور اس کے اثرات

امام خمینی علیہ الرحمہ کی شخصیت اعلم فقیہ، واصل عارف اور با بصیرت راہبر جیسی صفات کی حامل ہے، ایران کی سرزمین پر دو ہزار پانچ سو سالہ پرانی شہنشاہیت کو شکست دینے کے بعد شرق و غرب کی سپر پاورز کا سامنا کرنے والی شخصیت ہے۔

امام خمینی رح ایک مرد عارف

حضرت امام خمینی رح کے بارے میں عام طور پر جو بات ہمارے ہاں زیادہ مشہور ہے وہ یہ کہ آپ نے ایک ملوکیت اور بادشاہت کا خاتمہ کرکے ایک اسلامی اور مذہبی حکومت قائم کی۔ لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ استعماری طاقتوں کے خلاف تھے اور استعماری طاقتوں نے آپ کی حکومت کے خاتمے کے لیے اپنے پورے وسائل بروئے کار لائے لیکن وہ اس میں ناکام ہو گئیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ امام خمینی رح بہت شجاع اور بہادر تھے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ آپ نے ناجائز طور پر قائم صہیونی حکومت کے خاتمے اور فلسطینیوں کے حقوق کے حصول کے لیے بھی آواز بلند کی۔ آپ مستضعفوں اور محروموں کے حقوق کے بھی علمبردار تھے۔ آپ نے اتحاد امت کے لیے ایک زور دار آواز بلند کی۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ ایک عالم اور فقیہ تھے اور آپ کی تقلید کی جاتی تھی۔ بعدازاں آپ کا دیوان بھی چھپا اور پاکستان میں بھی بہت سے لوگوں کو معلوم ہوا کہ آپ صاحب دیوان شاعر بھی تھے، لیکن ابھی تک جو پہلو کم شناختہ یا ناشناختہ ہے وہ یہ ہے کہ آپ ایک بلند پایہ عارف تھے اور شاید یہ کہنا زیادہ بہتر ہو کہ آپ کے وجود سے پھوٹنے والی تمام تر خوبیوں کا سرچشمہ یہی امر ہے کہ آپ ایک عارف باللہ اور عاشق الٰہی تھے اور اس سلسلے میں نظری اور عملی طور پر نہایت عمق اور گہرائی کے مقام پر فائز تھے۔

امام خامنہ ای

عراق و لبنان کے ہمدردوں کی پہلی ترجیح ناامنی کا علاج ہونا چاہیئے، آیت اللہ سید علی خامنہ ای

رہبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ ان تمامتر خباثتوں اور خطرناک کینہ پروریوں کے موجب چند ایک جانے پہچانے ہاتھ ہیں جبکہ ان تمام حوادث کے پیچھے امریکی و مغربی انٹیلیجنس ایجنسیز ہیں اور خطے کی بعض آمر حکومتوں کا پیسہ ہے، البتہ دشمن نے ایران کیلئے بھی ایسے ہی منصوبے تیار کر رکھے تھے، لیکن خوش قسمتی کیساتھ ایرانی قوم نے میدان میں قدم رکھتے ہوئے عقلمندی سے کام لیا۔

امام خامنہ ای آیت اللہ مکارم شیرازی کی عیادت کرنے اسپتال پہنچ گئے

امام خامنہ ای آیت اللہ مکارم شیرازی کی عیادت کرنے اسپتال پہنچ گئے . رہبر انقلاب حضرت سید علی خامنہ ای آیت اللہ مکارم شیرازی کی عیادت کیلئے اسپتال تشریف لے گئے۔

کلام و عقائد

بدا قرآن و حدیث کی روشنی میں

ذات الٰہی کے بارے میں بدا، حقیقت میں ابدا و اظہار ہے۔ یعنی جو کچھ خدا کے علم میں ہے اور انسان کے علم میں نہیں، اسےخداوند متعال اظہار و آشکار کرتا ہے۔ اسے بدا، کہنے کا سبب یہ ہے کہ یہ مقام فعل الٰہی میں نمایاں ہوتا ہے، اگرچہ ذات الٰہی میں جہل اور تغییر محال ہیں۔ خداوند متعال انبیاء کرام پر غیبی طریقے سے نظر رکھتا ہے تاکہ یہ لوگ وحی کے پہنچانے میں خطا سے محفوظ رہیں۔ قرآن کریم اس بارے میں ارشاد فرماتا ہے، "لِّيَعْلَمَ أَن قَدْ أَبْلَغُواْ رِسَالَاتِ رَبهِّم" تاکہ وہ دیکھ لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات کو پہنچا دیا ہے۔ واضح ہے کہ خداوند متعال پہلے سے ہی آگاہ ہے کہ انبیاء، وحی الٰہی کو صحیح طریقے سے لوگوں تک پہنچائیں گے۔

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی علم کلام کےاہم مباحث میں سے ایک حسن و قبح عقلی کا بحث ہے ۔اس سے مراد یہ ہے کہ کچھ افعال ذاتی طور پر حسن {اچھے} اور کچھ افعال ذاتی طور پر قبیح{ برے} ہیں ۔ معتزلہ اور امامیہ حسن و قبح عقلی کے قائل ہیں جبکہ اشاعرہ اس کی نفی کرتے ہیں۔ بہت سے کلامی مسائل اس بحث پر موقوف ہیں مثلا انسان کا اپنے اعمال میں خود مختار ہونا،خدا وند متعال کی بعض صفات کمالیہ کا ثبوت جیسے خدا کا عادل ہونا،اسی طرح بعض صفات سلبیہ بھی اسی بحث پر موقوف ہے جیسے خدا سے قبیح کا سرزد نہ ہونا،خداکا ظلم نہ کرنا وغیرہ ۔ جو لوگ حسن اور قبح کے قائل ہیں وہ انسانی افعال میں انسان کو مختار،خدا کو عادل مانتے ہیں جبکہ حسن و قبح کے مخالفین انسان کو مجبور اور خداکی عدالت سے انکار کرتے ہیں ۔

تربیت اولاد

خاندانی منصوبہ بندی : ایک معاشرتی ضرورت یا دھوکہ!

خاندانی منصوبہ بندی کوآج کے دور میں مختلف مملک کی حکومتیں اپنی کامیاب ترین پالیسیوں میں شمار کرتی ہیں۔ آبادی کا کنٹرول اور چھوٹا خاندان خوشحالی کا ذریعہ سمجھاجاتا ہے۔ خصوصاً محدود وسائل رکھنے والے ممالک میں اس پالیسی کو زیادہ اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے

تعليم و تربيت کے بارے ميں اسلامي علما کي آرا و نظريات

تاريخ اسلام ميں تقريبا تمام علماء و دانشور مختلف علوم ميں مھارت رکھنے کے ساتھ ساتھ تعليم و تربيت ميں بھي صاحب نظر اور مھارت کے حامل ہوا کرتے تھے اس سے اسلام ميں تعليم وتربيت کي اھميت کا پتہ چلتا ہے لھذا ہم يہاں پر علما اسلام کي نظر ميں تعليم و تربيت کي اھميت اجاگر کرنے کے لئے ان کے بعض نظريات پيش کر رہے ہيں۔

تندرستی

لہسن اور پیاز چھاتی کے سرطان سے بچانے میں مددگار

لہسن اور پیاز ایشیا میں ایک عرصے سے استعمال ہورہی ہیں اور اب ان کے متعلق اچھی خبر یہ آئی ہے کہ ان دونوں جادوئی سبزیوں کا بھرپور اور مسلسل استعمال خواتین کو چھاتی کے سرطان (بریسٹ کینسر) سے محفوظ رکھتا ہے۔

گوشت نہیں کھائیں گے تو... کند ذہن ہوجائیں گے!

گوشت نہیں کھائیں گے تو... کند ذہن ہوجائیں گے!

مہدویت{امام زمان عج}

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی امامت کے اہداف میں سے ایک ہدف امام معصوم کا لوگوں کی باطنی ہدایت ہے۔ امام لائق اور پاکیزہ دل رکھنے والے افراد کو اپنی طرف جذب کر کے انہیں کمال تک پہنچاتے ہیں۔ واضح ہے کہ انسان کا اس طرح ہدایت سے ہمکنار ہونے کے لئے ضروری نہیں کہ وہ امام کے ساتھ ظاہری رابطہ برقرار کرے۔ گذشتہ بیانات کی روشنی میں امام زمانہ (عج) کو بادل کے پیچھے پنہان روشن آفتاب سے تشبیہ دینے کا مقصد بھی واضح ہو جاتا ہے۔ اگرچہ بادل کے پیچھے پنہان سورج سے انسان مکمل طور بہرہ مند نہیں ہوتا ہے لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ اس سے انسان کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا ہے۔ بہرحال امام زمانہ (عج) کے وجود کے آثار و برکات سے بہرہ مند نہ ہونے کا سبب انسانوں کی طرف سے خاص حالات کا فراہم نہ کرنا ہے، جس کی وجہ سے لوگ اس عظیم نعمت کے فوائد سے محروم ہیں اور اس محرومیت کا سبب وہ خود ہیں نہ کہ خداوند متعال اور امام، کیونکہ خداوند متعال اور امام کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی مشکل درپیش نہیں ہے۔

دیگر مناسبتیں

آفتاب کربلا جناب حضرت علی اکبر علیہ السلام

کربلا کے میدان میں ایک جوان ایسا بھی تھا جو سیرت و صورت اورگفتار و کردار میں شبیہ پیغمبر تھے۔دیکھنے والا دنگ رہ جاتا تھا کہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے ہیں۔انہوں نے اس کائنات میں ایسی قربانی پیش کی کہ تمام دنیا دھنگ رہ گئی۔آپ ایسے باپ کے فرزند تھے جس پر رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ناز تھا ،جس کے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری بن گئے۔اس عظیم باپ کا فرزند تھا جس نے دنیا والوں کو جینا سکھایا اورباطل قوتوں کے سامنے قیام کر نا سکھایا۔

حدیث غدیر، حدیث متواتر

متواتر لفظی: وہ حدیث یا خبر جس کے تمام روایوں نے، تمام طبقات میں، اس حدیث یا خبر کے مضمون کو ہو بہو اور یکسان طور پر نقل کیا ہو۔ جیسے حدیث ثقلین کی عبارت، (انّي تارك فيكم الثقلين ۔۔) یا حدیث غدیر کی عبارت (من كنت مولاه فهذا عليّ مولاه)۔

چہاردہ معصومین ع

امام سجاد علیہ السلام

امام علیہ السلام نے کربلا سے کوفہ، کوفہ سے شام اور زندان سے رہائی تک ہر موقع پر اپنے خطبوں کے ذریعے جہاں قیام حسینی علیہ السلام کے اصولوں اور فلسفے سے لوگوں کو آگاہ فرمایا وہیں اسلام کا نام استعمال کرتے ہوئے اسلام کی دھجیاں اڑانے کی کوشش کرنے والی ناپاک حکومت کا مکروہ چہرہ بھی بےنقاب فرمایا۔

معاویہ و یزید کے دور حکومت میں امام حسین (ع) کا کردار

معاویہ کو ہر وقت آپ کے قیام کا خوف رہتا تھا۔ چنانچہ اس نے امام کے سامنے قبض و بسط کی پالیسی اپنائی یعنی ایک طرف سے آپ کی منزلت کو مدنظر رکھتا تھا اور بظاہر آپ کے لئے احترام کا قائل تھا اور آپ کی تعظیم کرتا تھا اور اپنے کارگزاروں کو بھی ہدایت کرتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرزند کو نہ چھیڑیں اور ان کی بےحرمتی سے پرہیز کریں۔ دوسری طرف سے امام کی مسلسل اور شب و روز نگرانی کو اپنی پالیسی کا حصہ بنایا اور سفر اور حضر میں آپ کی تمام حرکات و سکنات پر کڑی نظر رکھی جاتی تھی۔

دیگر موضوعات

جابر بن عبداللہ انصاری پہلا زائر اربعین حسینی

عطیہ کوفی کے مطابق جابر بن عبد اللہ انصاری کے ساتھ حسین بن علی علیہ السلام کی قبر کی زیارت کرنے کے لئے کوفہ سے نکلے۔ جب ہم کربلا پہنچے تو جابر فرات کے ساحل کے قریب گیا اور غسل انجام دیا اور محرم افراد کی طرح ایک چادر پہنی، پھر ایک تھیلی سے خوشبو نکالا اور اپنے آپ کو اس خوشبو سے معطر کیا اور ذکر الہی کے ساتھ قدم اٹھانا شروع کیا، یہاں تک کہ وہ حسینؑ ابن علیؑ کے مرقد کے قریب پہنچا۔ جب ہم نزدیک پہنچے تو جابر نے کہا کہ میرا ہاتھ قبر حسینؑ پر رکھو۔ میں نے جابر کے ہاتھوں کو قبر حسین پر رکھا۔ اس نے قبر حسینؑ ابنی علی کو سینے سے لگایا اور بے ہوش ہو گیا۔ جب میں نے اس کے اوپر پانی ڈالا تو وہ ہوش میں آیا۔ اس نے تین مرتبہ یا حسینؑ کی آواز بلند کی۔

عطیہ عوفی(کوفی)زائر اربعین حسینی

زیارت اربعین کی اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ امام حسن عسکری علیہ السلام نے فرمایا: مومن کی نشانیوں میں سے ایک زیارۃ اربعین کی تلاوت کرناہے۔۳۔جب بھی زیارت اربعین اورچہلم امام حسین علیہ السلام کا ذکر ہو وہاں حتما ان دو ہستیوں یعنی جابر اور عطیہ کا ذکر ہوتا ہے۔ یہ دونوں ہستیاں اسلامی تاریخ کی معروف شخصیات میں سے ہیں۔ لیکن جو چیز انہیں دوسری شخصیات اورافراد سے ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ان کا شمار امام حسین علیہ السلام کے پہلے زائروںمیں ہوتا ہے۔

سب سے زیادہ زیر بحث

امام علی علیہ السلام کی شانِ میں چہل حدیث

مولا علیؑ کی شان میں چالیس احادیث اور یہ ﻭﻩ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ہیں ﺟﻮ ﺻﺤﺎﺡ ﺳﺘﻪ ﻣﯿﮟ بھی موجود ہے. 1= ﻋﻨﻮﺍﻥ ﺻﺤﻴﻔﺔ ﺍﻟﻤﺆﻣﻦ ﺣﺐّ ﻋﻠﻰؑ ﺑﻦ ﺍﺑﻰ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ. ﺻﺤﯿﻔﮧ ﻣﻮﻣﻦ ﮐﺎ ﻋﻨﻮﺍﻥ ﻣﺤﺒﺖِ ﻋﻠﯽؑ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻃﺎﻟﺐؑ ﮨﮯ.

دعا کی اہمیت

دعا کی اہمیت حضرت انسان کس قدر شرف و عظمت کا مالک ہے،اس کے لئے کائنات بنی،پوری کائنات میں اسی کو عزت و تکریم کا حق دار ٹھہرایا گیا۔تمام مخلوق اس کی خدمت اور منفعت کے لئے پیدا کی گئی۔لیکن اتنی عظمتوں کے باوجود اس کی خلقت کا مقصد اللہ کی معرفت اور عبادت قرار دیا گیا۔لہذا انسان کا اہم کام خدا سے ارتباط و ربط ہے۔مگر کیسا رابطہ؟ اتنی عظمتوں کے باوجود بارگاہ خداوندی میں فقر محض اور احتیاج محض ہے جبکہ ذات پروردگار غناء ہی غناء ہے۔بلندی ہی بلندی ہے۔انسان مشکلات،مصائب اور تکالیف میں ایسی ذات کی طرف رجوع کر کے اپنے فقر اور احتیاج محض ہونے کا اقرار و اعتراف کرتے ہوئے اپنی نفی اور بے ثباتی کا اظہار کرتا نظر آتا ہے۔اس سلسلے میں انسان کا ایک اہم وسیلہ دعا ہے۔دعا کے ذریعے اپنی احتیاج کا اظہار بھی کرتا ہے اوراللہ سے اعانت کی التجا بھی کرتا ہے۔

قرآنِ کریم اور اصلاحِ معاشرہ تحریر: عارف حسین تھہیم

لفظِ ’’اصلاح‘‘ درست کرنے، صحیح کرنے اور خرابی کو دُور کے معنی میں آتا ہے۔ معاشرتی اور اجتماعی مفہوم کے اعتبار سے شائستہ اور نیک عمل انجام دینے، نیز فساد و تباہی کو ختم کرنے کے لیے بھی اصلاح کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ ارشادِ پروردگار ہے: ﴿ إِلاَّ الَّذِينَ تَابُواْ وَأَصْلَحُواْ وَبَيَّنُواْ فَأُوْلَئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ﴾[1]؛ ’’سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے توبہ کی اور اپنے کئے کی اصلاح کر لی اور (جس کو چھپایا ہوا تھا) واضح کر دیا تو ایسے ہی لوگوں کی توبہ میں قبول کرتا ہوں اور بےشک میں بڑا توبہ قبول کرنے والا اور بہت مہربان ہوں۔‘‘ حقیقی توبہ میں گذشتہ بُرائی اور فساد کا دُور کرنا اور آئندہ بُرائی و فساد سے بچے رہنے کا تہیہ کرنا ضروری ہے۔ شائستہ اور صالح معاشرے کی تشکیل کا ہدف اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی دُنیوی و اُخروی اور مادی و معنوی ضرورتوں کو پورا کیا جائے؛ لہٰذا صالح معاشرے کی خصوصیات یہ ہیں کہ اس میں ہر ایک کی جان، مال، عزّت و آبرو اور ناموس محفوظ ہوتی ہے، لوگوں کی درمیان مہر و محبت اور اپنائیت کا راج ہوتا ہے اور سب لوگ روحانی و معنوی لحاظ سے پُرسکون اور مطمئن ہوتے ہیں۔

پیٹ کا درد کئی امراض کی علامت ہوسکتا ہے

اگر پیٹ میں درد ہورہا ہو تو اس کی کئی وجوہ ہوسکتی ہیں۔ اکثر ناقص غذا کی وجہ سے معدے میں تکلیف ہونے لگتی ہے جسے ہم پیٹ کے درد سے تعبیر کرتے ہیں۔ معدے کا درد کئی امراض کی علامت بھی ہوسکتا ہے، اس لیے اسے نظرانداز نہیں کرنا چاہیے اور بلاتاخیر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ بسم اللہ الرحمن الرحیم بنام خدائے رحمن و رحیم اٴَللّٰھُمَّ اِنّيِ اٴَسْاٴَ لُکَ بِرَحْمَتِکَ الَّتي وَ سِعَتْ کُلَّ شَيْءٍ،وَ بِقُوَّتِکَ الَّتي قَھَرْتَ خدایا میراسوال اس رحمت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر محیط ھے۔ اس قوت کے واسطہ سے ھے جو ھر چیز پر حاوی ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ،وَخَضَعَ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ،وَذَلَّ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ، وَبِجَبَرُوتِکَ الَّتي غَلَبْتَ اور اس کے لئے ھر شے خاضع اور متواضع ھے۔ اس جبروت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر غالب ھے اور اس عزت کے واسطہ سے ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ، وَ بِعِزَّتِکَ الَّتي لاٰ یَقُومُ لَھٰا شَيْءٌ، وَبِعَظَمَتِکَ الَّتي مَلَاٴَتْ کُلَّ جس کے مقابلہ میں کسی میں تاب مقاومت نھیں ھے۔اس عظمت کے واسطہ سے ھے جس نے ھر چیز کو پر کردیا ھے شَيْءٍ، وَ بِسُلْطٰانِکَ الَّذي عَلاٰ کُلَّ شَيْءٍ، وَبِوَجْھِکَ الْبٰاقي بَعْدَ فَنٰاءِ کُلِّ شَيْءٍ،

اخلاق حسنہ کے بارے میں معصومین (ع) کے ارشادات

رسول خدا (ص) اور ا ئمہ معصومین علیہم اسلام اخلاق حسنہ کى اعلى ترین مثالیں ہیں اور یہ بے مثال "حُسن خلق" ان کے کردار اور گفتار سے عیاں تھا، ان ہى عظیم شخصیتوں کے ارشادات کى روشنى میں ہم "حُسن خلق" کے اعلى درجہ پر فائز ہو سکتے ہیں۔

مقصد قیام امام حسین علیہ السلام تحریر: محمد حسن حسرت کچوروی

امام حسین ؑ ۲۸ رجب ۶۰ ھ میں مدینہ سے حرکت کرتے ہیں اور ۳ شعبان المعظم کو مکہ میں پہنچتے ہیں پھر ۸ ذی الحجہ کو مکہ سے کوفہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں ۲ محرم الحرام کو وارد کربلا ہوتے ہیں اور ۱۰ محرم الحرام کو شھید ہو جاتے ہیں اس مختصرعرصے میں انسان سو سے زیادہ درس حاصل کر سکتا ہے بلکہ کہہ سکتے ہیں کہ امام کے اس مختصر عرصےمیں ہزاروں دروس شامل ہیں لیکن یہ سارے دروس ایک اصلی درس ‘ حرکت اور قیام امام میں موجود ہیں باقی سارے حاشیے ہیں متن یہ ہے کہ امام نے قیام کیوں کیا؟ یہ اصلی درس ہے لوگ امام سے کہتے تھے آپ مدینہ اور مکہ میں محترم ہیں یمن میں اتنے سارے شیعہ ہیں کسی کونے میں تشریف لے جائیں اور یزید سے کوئی سروکار نہ رکھے تاکہ وہ بھی آپ سے کوئی سروکار نہ رکھے۔ یہ سارے مرید ہیں انہیں تبلیغ کریں عبادت کریں اور زندگی کریں۔ کاس قیام کا مقصد کیاہے ۔۔؟

تلاوت قرآن کی فضیلت

'پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا، جو شخص رات کو دس آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام غافلین (جو یاد خدا سے بے بہرہ رہتے ہیں) میں نہیں لکھا جائے گا اور جو شخص پچاس آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام ذاکرین (جو خدا کو یاد کرتے ہیں، حرام و حلال کا خیال رکھتے ہیں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص سو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام قانتین (عبادت گزاروں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص دوسو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام خاشعین (جو خدا کے سامنے متواضع ہوں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص تین سو آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام سعادت مندوں میں لکھا جائے گا، جو شخص پانچ ہزار آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام عبادت اور پرستش خدا کی کوشش کرنے والوں میں لکھا جائے گا اور جو شخص ہزار آیتوں کی تلاوت کرے وہ ایسا ہے جیسے اس نے کثیر مقدار میں سونا راہ خدا میں دے دیا ہو۔،،

مشاہدات

آج

113

کل

469

اس ماہ

25104

اس سال

215109

ٹوٹل مشاہدات

384337