علماء کونسل کچورا سکردو بلتستان

متن

تعليم و تربيت کے بارے ميں اسلامي علما کي آرا و نظريات

تاريخ اسلام ميں تقريبا تمام علماء و دانشور مختلف علوم ميں مھارت رکھنے کے ساتھ ساتھ تعليم و تربيت ميں بھي صاحب نظر اور مھارت کے حامل ہوا کرتے تھے اس سے اسلام ميں تعليم وتربيت کي اھميت کا پتہ چلتا ہے لھذا ہم يہاں پر علما اسلام کي نظر ميں تعليم و تربيت کي اھميت اجاگر کرنے کے لئے ان کے بعض نظريات پيش کر رہے ہيں۔

ابن سينا

شيخ الرئيس تعليم و تربيت کو بہت زيادہ اھميت ديتے ہيں انہوں نے اپني تين کتابوں رسالہ تدبير المنازل قانون کي کتاب اول کے فن سوم اور کتاب شفا کے مقالہ اول ميں تعليم و تربيت کے بارے ميں نظريات بيان کئے ہيں  ابن سينا تعليم و تربيت ميں پانچ اصولوں کو نھايت اھميت ديتے ہيں وہ اصول يہ ہيں ايمان ، اخلاق حسنہ ، تندرستي، اور علم و ھنر، ان کا خيال ہے کہ بچے کو چھٹے سال سے مکتب بھيجنا چاھيے اس کي تندرستي کے لئے ورزش سے غفلت نہيں کرني چاھيے اور کوئي نہ کوئي فن و حرفہ سکھانا چاھيے تاکہ وہ بڑا ہوکر اپنے پيروں پر کھڑا ہوسکے۔

ابن سينا کہتے ہيں کہ :والدين پر لازم ہے کہ جب بچہ جوان ہوجاے اور صنعت وحرفت ميں مھارت حاصل کرلے تو اس کي شادي کرديں اور اسے اپنے طرز پر زندگي گزارنے ديں۔ وه کھتے ہيں کہ والدين کو خيال رکھنا چاھيے کہ ان کا بچہ اچھے لوگوں کے ساتھ معاشرت اختيار کرے تاکہ وہ بھي نيک اور قابل بنے  ۔

کيکاوس بن اسکندر

کيکاوس بن اسکندر قابوس نامہ ميں لکھتےہيں کہ والدين کو چاھيے کہ وہ بچون کا اچھا نام رکھيں اور انہيں عاقل و مھربان دايہ کے سپرد کريں، قرآن و دين سکھانے کے بعد انہيں گھوڑا سواري کے ساتھ ساتھ فن سپہ گري سے آراستہ کريں اور فنون بھي سکھائيں ۔ وہ لکھتے ہيں کہ بچے کے جوان ہونے کے بعد ديکھيں کہ اگر صالح ہوتو کسي کام ميں لگاکر دوسرے خاندانوں سے اس کے لئے رشتہ مانگيں تاکہ دوستي اور خويشاوندي ميں اضافہ ہو ليکن اگر اس ميں کسي طرح کي صلاحيت نہ ہو تو کسي مسلمان کي لڑکي کو مصيبت ميں مبتلا نہ کريں کيونکہ دونوں کو ايک دوسرے سے رنج و غم کے علاوہ کچھہ نہيں ملے گا، اسے چھوڑديں تاکہ جيسے چاھے زندگي گزارے ۔

امام محمدغزالي

غزالي کھتے ہيں کہ بچہ ماں باپ کے ہاتھوں ميں امانت ہے اس کا دل ودماغ پاک ہوتاہے وہ جوھر نفيس کي طرح تمام نقوش سے عاري بلکہ نقش پذير ہوتاہے ،امام غزالي کہتے ہيں بچہ زميں کي طرح پاک ہوتاہے اس ميں جس چيزکا بيج ڈالاجاے وہ اگ آتاہے اسے کھانے پينے کے آداب سکھانے چاھيں تيز تيز نہ کھاے اور نہ زيادہ کھاے ، ھر بچہ جس کي تربيت نہ کي جاے وہ شرير دروغ گو اور چور و لجوج و بے باک ہوگا۔ امام غزالي کہتے ہيں بچے کو مکتب ميں داخل کرانے کے بعد قرآن کي تعليم دي جاے اور جب سات سال کا ہوجاے تو نمازو طھارت سکھائي جاے اسي طرح حلال و حرام کي تعليم بھي شروع کي جاے ۔

سعدي شيرازي

سعدي شيرازي نے آيات قرآني اور روايات سے استفادہ کرتے ہوئے انقطاع الي اللہ تربيت روح ، خود سازي ، قناعت و احسان و عدالت اور صلح و امن پسندي پر تاکيد کي ہے اسي بناپر کہا جاسکتاہے کہ سعدي کي نظر مين ديني تربيت کي بہت زيادہ اھميت ہے ۔

ابن خلدون

ابن خلدون نے کتاب العبر ميں بچوں کي تعليم و تربيت کے لئے نئے نظريات پيش کئے ہيں ان کا خلاصہ يہ ہے "تعليم انساني زندگي کو تمام ميدانوں ميں منظم کرنے کے لئے نھايت اھم ہے کيونکہ انسان قوہ فکريہ کي بناپر حيوانون سے ممتاز ہے اسي فکر کے ذريعے وہ ايک دوسرے سے تعاون کرتاہے اور اپنا رزق تلاش کرتا ہے، يہي قوہ فکريہ اجتماعي زندگي ميں ہرہر قدم پر اس کي رھنمائي کرتي ہے اور اسي کے سہارے انبياء (ع) کي باتيں سمجھ ميں آتي ہيں اور ان کي پيروي کي جاتي ہے۔

ابن خلدون قرآن کو تعليم کي اساس مانتے ہيں اور بچوں کو قرآن کي تعليم دينے کو ضروري سمجھتے ہيں ان کا خيال ہے کہ حصول علم ايک تدريجي عمل ہے اور طالب علم کي صلاحيتوں کو مد نظر رکھنا چاھيے اور بے جاسختي نہيں کرنا چاھيے ۔

ابن خلدون کا خيال ہے کہ بعض معلمين طلبا کو نقصان پہنچاتے ہيں کيونکہ طلبا کي فھم و فراست کا خيال نہيں رکھتے ان کے خيال ميں حصول علم کے لئے سفر کرنا ضروري ہے اور وہ تحقيقي ،قابل عمل اور مفيد روشوں کے ذريعے تعليم دينے اور تربيت کرنے کے قائل ہيں۔

نتيجہ۔

تربيت کے معني يہ ہيں کہ انسان ايسے مربي کے تحت کام کرے جس کا معين ھدف ہو وہ مھربان اور آکاہ ہو اور اس کے پروگرام کے مطابق تربيت حاصل کرکے کمال کي منزلوں کي طرف بڑھے اور درحقيقت اپناحقيقي مقام حاصل کرلے يعني اشرف المخلوقات کے درجے پر فائز ہوجاے، البتہ اسلام دين تعليم و تربيت ہے اور اس مقصد کے لئے اسلام نے تمام وسائل و ذرايع مھيا کر رکھے ہيں چنانچہ رسول اسلام (ص) معلم بھي ہيں اور مزکي بھي آپ (ص) اسوہ حسنہ اور حقيقي معني ميں انسان کامل ہيں، اسلام کا فلسفہ تربيت انسان کو کمال پر پہنچانے کا قائل ہے اور يہ کمال قرب الھي کے سوا کچھہ بھي نہيں ہے اور اسلامي تربيتي روش بھي ديني اور اخلاقي اقدار کي نيز تقوي الھي کي پابندي ہے۔

اسلامي تربيت کي خصوصيت يہ ہے کہ اس ميں انسان کي تمام ضرورتوں خواہ وہ مادي ہوں يامعنوي جسماني ہوں يا روحاني سب کا خيال رکھا گياہے اسي کے ساتھ نہ راہ افراط کو طے کرتاہے نہ راہ تفريط کو بلکہ ميانہ روي اور متعادل روش پيش کرتا ہے تاکہ انسان کي زندگي ميں توازن قائم رہے اسي کے ساتھ ساتھ اسلام مناسب مقامات پر رواداري اور اغماض نظر کا بھي قائل ہے، ان تعليمات کے ساے ميں مسلمانون نے صدر اسلام ميں ايسي عظيم تھذيب و تمدن کي بنياد رکھي تھي کہ جس نے تھوڑي سي مدت ميں ساري دنيا کو مسخر کرليا ، مسلمان اپنے دين کي پيروي کرکے ہر لحاظ سے ديگر قوموں سے آگے تھے بلکہ انہيں عالم انسانيت کا مربي کہا جاے تو بے جانہ ہوگا يہ صرف اس وجہ سے تھا کہ مسلمان قرآن و سنت کي پيروي کيا کرتے تھے دوسرے الفاظ ميں ان کي اس کاميابي کا راز اسلامي تعليم و تربيت تھي ليکن افسوس رفتہ رفتہ مسلمانون نے اپنے دين کو نظر انداز کرنا شروع کرديا اور اپني عظيم ثقافت سے دور ہوتے گئے جس کي وجہ سے دشمن ان پر غالب آگيا ، آج کل مسلمانوں کے گھروں اور اسکولوں ميں اسلامي تعليم و تربيت کے اصول بھلادے گئے ہيں، مسجدوں ميں تربيتي پہلو پھيکا پڑگياہے اسکولوں اور ديگر تعليمي اداروں ميں امتحانات ميں پاس ہونے اور نمبروں کے لئے پڑھائي ہوتي ہے اس سے کمال حاصل کرنا اب مقصود نہيں رھا، ھم مسلمان يا تو اپنے دين کے تربيتي اصولوں سے واقف ہي نہيں ہيں اور اگر ہيں بھي تو انہيں بروے کار نہيں لاتے درحقيقت مسلمان اسلام کے تربيتي اصولوں کو اب کوئي اھميت ہي نہيں ديتا ۔اگر عالم اسلام يہ چاھتا ہے کہ آج کي دنيا مين مغرب کي ھمہ گير يلغار کے مقابلے اپني ھويت کو محفوظ رکھے تو اس کے پاس اسلامي تعليمات پر عمل کرنے کے علاوہ کوئي چارہ نہيں ہے ۔

جاري ہے

بشکريہ : الحسنين ڈاٹ کام


اس سے مربوط موضوعات

بچے کی تربیت میں ماں کا کردار تحریر: نصیر حسین بشیری
بچے کی تربیت میں ماں کا کردار تحریر: نصیر حسین بشیری اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں میں سے ایک نعمت اولاد ہے، جو ماں باپ کے لئے آنکھ کے تارے کی حیثیت رکھتی ہے۔ والدین اپنی اولاد کے لئے سب کچھ کر گزرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ اولاد کے حوالے سے والدین کی ذمہ داریوں میں سے ایک ذمہ داری ان کی تربیت ہے۔ بچے اس ننھے پودے کی مانند ہوتے ہیں جسے ہر قسم کی گرمی اور سردی سے محفوظ رکھ کر ایک تناور درخت کی شکل میں پروان چڑھانا ہوتا ہے۔ تربیت، انسانی معاشرے میں ایک ایسی ضرورت ہے جسے دنیا کی تمام قوموں میں شدّت سے محسوس کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر قوم و ملت کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنے بچوں کو بچپن سے ہی اپنی تہذیب، ثقافت، کلچر اور رسم و رواج کی تعلیم دی جائے تاکہ وہ اِن چیزوں کو آنے والی نسلوں تک صحیح طریقے سے منتقل کر سکیں۔ امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام اپنے بیٹے امام حسن علیہ السلام کو وصیت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: «إِنَّمَا قَلْبُ الْحَدَثِ كالْأَرْضِ الْخَالِيةِ مَا أُلْقِي فِيهَا مِنْ شَيءٍ قَبِلَتْهُ فَبَادَرْتُك بِالْأَدَبِ قَبْلَ أَنْ يَقْسُوَ قَلْبُكَ»[1]؛ ’’بےشک کم سن (بچے) کا دل اس خالی زمین کی مانند ہوتا ہے کہ جس میں جو بیج بھی ڈالا جائے وہ اسے قبول کر لیتی ہے، لہٰذا قبل اس کے کہ تمہارا دل سخت ہو جائے (اور تمہارا ذہن دوسری باتوں میں لگ جائے) میں نے تمہیں (تعلیم دینے اور) ادب سکھانے میں جلدی کی۔‘‘ آپؑ کے اِس کلام سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اس سے پہلے کہ بچہ دوسری باتوں کی طرف توجہ دے، ابتداء ہی سے اس کی تعلیم و تربیت کی طرف توجہ دینی چاہیے۔

بین الاقوامی

یمن سے شکست کا ملبہ ایران پر ڈالنے کی کوشش

سعودی عرب کو گذشتہ 4 سال سے یمن کی جانب سے بھرپور مزاحمت کا سامنا ہے۔ امریکا، اسرائیل اور متحدہ عرب امارات سمیت دیگر خلیجی ریاستوں کی مدد کے باوجود یمن سے شکست نے سعودی عرب کی جنگی صلاحیتوں کا بھانڈا پھوڑتے ہوئے اسے دنیا بھر میں رسوا کر دیا ہے۔

سعودی تیل کی تنصیبات پر حملہ / امریکی الزام پر ایران کا ردعمل

سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر خوفناک حلموں میں ایران کے ملوث ہونے کے امریکی الزام پر ایران کا موقف بھی سامنے آگیا ہے۔

امام خمینی

امام خمینی رہ کے انقلابی نظریات اور اس کے اثرات

امام خمینی علیہ الرحمہ کی شخصیت اعلم فقیہ، واصل عارف اور با بصیرت راہبر جیسی صفات کی حامل ہے، ایران کی سرزمین پر دو ہزار پانچ سو سالہ پرانی شہنشاہیت کو شکست دینے کے بعد شرق و غرب کی سپر پاورز کا سامنا کرنے والی شخصیت ہے۔

امام خمینی رح ایک مرد عارف

حضرت امام خمینی رح کے بارے میں عام طور پر جو بات ہمارے ہاں زیادہ مشہور ہے وہ یہ کہ آپ نے ایک ملوکیت اور بادشاہت کا خاتمہ کرکے ایک اسلامی اور مذہبی حکومت قائم کی۔ لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ استعماری طاقتوں کے خلاف تھے اور استعماری طاقتوں نے آپ کی حکومت کے خاتمے کے لیے اپنے پورے وسائل بروئے کار لائے لیکن وہ اس میں ناکام ہو گئیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ امام خمینی رح بہت شجاع اور بہادر تھے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ آپ نے ناجائز طور پر قائم صہیونی حکومت کے خاتمے اور فلسطینیوں کے حقوق کے حصول کے لیے بھی آواز بلند کی۔ آپ مستضعفوں اور محروموں کے حقوق کے بھی علمبردار تھے۔ آپ نے اتحاد امت کے لیے ایک زور دار آواز بلند کی۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ ایک عالم اور فقیہ تھے اور آپ کی تقلید کی جاتی تھی۔ بعدازاں آپ کا دیوان بھی چھپا اور پاکستان میں بھی بہت سے لوگوں کو معلوم ہوا کہ آپ صاحب دیوان شاعر بھی تھے، لیکن ابھی تک جو پہلو کم شناختہ یا ناشناختہ ہے وہ یہ ہے کہ آپ ایک بلند پایہ عارف تھے اور شاید یہ کہنا زیادہ بہتر ہو کہ آپ کے وجود سے پھوٹنے والی تمام تر خوبیوں کا سرچشمہ یہی امر ہے کہ آپ ایک عارف باللہ اور عاشق الٰہی تھے اور اس سلسلے میں نظری اور عملی طور پر نہایت عمق اور گہرائی کے مقام پر فائز تھے۔

امام خامنہ ای

مسئلہ فلسطین امت مسلمہ کے اساسی اور بنیادی مسائل میں سے ایک ہے، امام خامنہ ای

مسئلہ فلسطین امت مسلمہ کے اساسی اور بنیادی مسائل میں سے ایک ہے، امام خامنہ ای رہبر انقلاب اسلامی امام خامنہ ای نے حجاج کرام کے نام اپنے سالانہ پیغام میں فلسطین کے مسئلے کو دنیا کا اہم ترین مسئلہ قرار دیا ہے۔

ایران بحری جہاز پر برطانوی حملے کا سخت جواب دے گا، امام خامنہ ای

ایران بحری جہاز پر برطانوی حملے کا سخت جواب دے گا، امام خامنہ ای امام خامنہ ای نے آئمہ جعمہ اور جماعات کے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ایران بحری جہاز پر برطانوی حملے کا سخت جواب دے گا۔

کلام و عقائد

بدا قرآن و حدیث کی روشنی میں

ذات الٰہی کے بارے میں بدا، حقیقت میں ابدا و اظہار ہے۔ یعنی جو کچھ خدا کے علم میں ہے اور انسان کے علم میں نہیں، اسےخداوند متعال اظہار و آشکار کرتا ہے۔ اسے بدا، کہنے کا سبب یہ ہے کہ یہ مقام فعل الٰہی میں نمایاں ہوتا ہے، اگرچہ ذات الٰہی میں جہل اور تغییر محال ہیں۔ خداوند متعال انبیاء کرام پر غیبی طریقے سے نظر رکھتا ہے تاکہ یہ لوگ وحی کے پہنچانے میں خطا سے محفوظ رہیں۔ قرآن کریم اس بارے میں ارشاد فرماتا ہے، "لِّيَعْلَمَ أَن قَدْ أَبْلَغُواْ رِسَالَاتِ رَبهِّم" تاکہ وہ دیکھ لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات کو پہنچا دیا ہے۔ واضح ہے کہ خداوند متعال پہلے سے ہی آگاہ ہے کہ انبیاء، وحی الٰہی کو صحیح طریقے سے لوگوں تک پہنچائیں گے۔

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی علم کلام کےاہم مباحث میں سے ایک حسن و قبح عقلی کا بحث ہے ۔اس سے مراد یہ ہے کہ کچھ افعال ذاتی طور پر حسن {اچھے} اور کچھ افعال ذاتی طور پر قبیح{ برے} ہیں ۔ معتزلہ اور امامیہ حسن و قبح عقلی کے قائل ہیں جبکہ اشاعرہ اس کی نفی کرتے ہیں۔ بہت سے کلامی مسائل اس بحث پر موقوف ہیں مثلا انسان کا اپنے اعمال میں خود مختار ہونا،خدا وند متعال کی بعض صفات کمالیہ کا ثبوت جیسے خدا کا عادل ہونا،اسی طرح بعض صفات سلبیہ بھی اسی بحث پر موقوف ہے جیسے خدا سے قبیح کا سرزد نہ ہونا،خداکا ظلم نہ کرنا وغیرہ ۔ جو لوگ حسن اور قبح کے قائل ہیں وہ انسانی افعال میں انسان کو مختار،خدا کو عادل مانتے ہیں جبکہ حسن و قبح کے مخالفین انسان کو مجبور اور خداکی عدالت سے انکار کرتے ہیں ۔

تربیت اولاد

خاندانی منصوبہ بندی : ایک معاشرتی ضرورت یا دھوکہ!

خاندانی منصوبہ بندی کوآج کے دور میں مختلف مملک کی حکومتیں اپنی کامیاب ترین پالیسیوں میں شمار کرتی ہیں۔ آبادی کا کنٹرول اور چھوٹا خاندان خوشحالی کا ذریعہ سمجھاجاتا ہے۔ خصوصاً محدود وسائل رکھنے والے ممالک میں اس پالیسی کو زیادہ اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے

تعليم و تربيت کے بارے ميں اسلامي علما کي آرا و نظريات

تاريخ اسلام ميں تقريبا تمام علماء و دانشور مختلف علوم ميں مھارت رکھنے کے ساتھ ساتھ تعليم و تربيت ميں بھي صاحب نظر اور مھارت کے حامل ہوا کرتے تھے اس سے اسلام ميں تعليم وتربيت کي اھميت کا پتہ چلتا ہے لھذا ہم يہاں پر علما اسلام کي نظر ميں تعليم و تربيت کي اھميت اجاگر کرنے کے لئے ان کے بعض نظريات پيش کر رہے ہيں۔

تندرستی

گوشت نہیں کھائیں گے تو... کند ذہن ہوجائیں گے!

گوشت نہیں کھائیں گے تو... کند ذہن ہوجائیں گے!

سوڈا ڈرنک پینے والوں کو ناگہانی موت کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے، رپورٹ

دس یورپی ممالک میں 451,000 افراد پر بیس سال تک کی گئی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ روزانہ کولڈ ڈرنک پینے والوں کی زندگی کم ہوجاتی ہے اور ان کےلیے ناگہانی موت کا خطرہ، کبھی کبھار کولڈ ڈرنک پینے والوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہو جاتا ہے۔

مہدویت{امام زمان عج}

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی امامت کے اہداف میں سے ایک ہدف امام معصوم کا لوگوں کی باطنی ہدایت ہے۔ امام لائق اور پاکیزہ دل رکھنے والے افراد کو اپنی طرف جذب کر کے انہیں کمال تک پہنچاتے ہیں۔ واضح ہے کہ انسان کا اس طرح ہدایت سے ہمکنار ہونے کے لئے ضروری نہیں کہ وہ امام کے ساتھ ظاہری رابطہ برقرار کرے۔ گذشتہ بیانات کی روشنی میں امام زمانہ (عج) کو بادل کے پیچھے پنہان روشن آفتاب سے تشبیہ دینے کا مقصد بھی واضح ہو جاتا ہے۔ اگرچہ بادل کے پیچھے پنہان سورج سے انسان مکمل طور بہرہ مند نہیں ہوتا ہے لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ اس سے انسان کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا ہے۔ بہرحال امام زمانہ (عج) کے وجود کے آثار و برکات سے بہرہ مند نہ ہونے کا سبب انسانوں کی طرف سے خاص حالات کا فراہم نہ کرنا ہے، جس کی وجہ سے لوگ اس عظیم نعمت کے فوائد سے محروم ہیں اور اس محرومیت کا سبب وہ خود ہیں نہ کہ خداوند متعال اور امام، کیونکہ خداوند متعال اور امام کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی مشکل درپیش نہیں ہے۔

دیگر مناسبتیں

آفتاب کربلا جناب حضرت علی اکبر علیہ السلام

کربلا کے میدان میں ایک جوان ایسا بھی تھا جو سیرت و صورت اورگفتار و کردار میں شبیہ پیغمبر تھے۔دیکھنے والا دنگ رہ جاتا تھا کہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے ہیں۔انہوں نے اس کائنات میں ایسی قربانی پیش کی کہ تمام دنیا دھنگ رہ گئی۔آپ ایسے باپ کے فرزند تھے جس پر رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ناز تھا ،جس کے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری بن گئے۔اس عظیم باپ کا فرزند تھا جس نے دنیا والوں کو جینا سکھایا اورباطل قوتوں کے سامنے قیام کر نا سکھایا۔

حدیث غدیر، حدیث متواتر

متواتر لفظی: وہ حدیث یا خبر جس کے تمام روایوں نے، تمام طبقات میں، اس حدیث یا خبر کے مضمون کو ہو بہو اور یکسان طور پر نقل کیا ہو۔ جیسے حدیث ثقلین کی عبارت، (انّي تارك فيكم الثقلين ۔۔) یا حدیث غدیر کی عبارت (من كنت مولاه فهذا عليّ مولاه)۔

چہاردہ معصومین ع

امام سجاد علیہ السلام

امام علیہ السلام نے کربلا سے کوفہ، کوفہ سے شام اور زندان سے رہائی تک ہر موقع پر اپنے خطبوں کے ذریعے جہاں قیام حسینی علیہ السلام کے اصولوں اور فلسفے سے لوگوں کو آگاہ فرمایا وہیں اسلام کا نام استعمال کرتے ہوئے اسلام کی دھجیاں اڑانے کی کوشش کرنے والی ناپاک حکومت کا مکروہ چہرہ بھی بےنقاب فرمایا۔

معاویہ و یزید کے دور حکومت میں امام حسین (ع) کا کردار

معاویہ کو ہر وقت آپ کے قیام کا خوف رہتا تھا۔ چنانچہ اس نے امام کے سامنے قبض و بسط کی پالیسی اپنائی یعنی ایک طرف سے آپ کی منزلت کو مدنظر رکھتا تھا اور بظاہر آپ کے لئے احترام کا قائل تھا اور آپ کی تعظیم کرتا تھا اور اپنے کارگزاروں کو بھی ہدایت کرتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرزند کو نہ چھیڑیں اور ان کی بےحرمتی سے پرہیز کریں۔ دوسری طرف سے امام کی مسلسل اور شب و روز نگرانی کو اپنی پالیسی کا حصہ بنایا اور سفر اور حضر میں آپ کی تمام حرکات و سکنات پر کڑی نظر رکھی جاتی تھی۔

دیگر موضوعات

الغدیر فی الکتاب و السنۃ و الادب

الغدیر فی الکتاب و السنة و الادب، جو الغدیر کے نام سے معروف ہے عربی زبان میں لکھی گئی ایک ایسی کتاب ہے جسےعلامہ عبد الحسین امینیؒ نےحدیث غدیر کی روشنی میں امام علی علیہ السلام کی امامت و خلافت بلا فصل کی اثبات کے لئے تحریر کیا ہے۔یہ کتاب اب تک 11 جلدوں میں مرتب ہوئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کتاب کی کل 20 جلدیں ہیں۔ لیکن آخری 9 جلدیں ابھی تک طبع نہیں ہوئی ہیں۔ علامہ امینی اس کتاب کو لکھنے کی خاطر مختلف ممالک کی لائبریریوں کا سفر کیا ہے۔ جن میں ہندوستان، مصر اور شام وغیرہ کی لائبریریاں شامل ہیں۔الغدیر کے مؤلف کے مطابق اس کتاب کی تالیف میں انہوں نے ایک لاکھ سے زائد کتابوں کی طرف مراجعہ اور دس ہزار سے زیادہ کتابوں کا مطالعہ کیا ہے۔انہیں یہ کتاب لکھنے میں ۴۰ سال سے زیادہ کا عرصہ لگا ہے۔الغدیر کے بارے میں کئی کتابیں اور تھیسز لکھے گئے ہیں۔ اسی طرح الغدیر میں پیش کیے گئے موضوعات کو 27 جلدوں پر مشتمل مجموعے کی صورت میں بھی منظر عام پر لایا گیا ہے۔

قربانی کی تاریخ اور اسکا فلسفہ

دین مقدس اسلام میں قربانی ایک مالی عبادت ہے، جو شعائر اسلام میں بھی شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں اس کی بڑی فضیلت ہے۔ شعائر اللہ کو دلوں کا تقوا قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں ارشاد ہوا ہے: "وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ" (سورہ حج:۳۲) بات یہ ہے کہ جو شعائر اللہ کا احترام کرتا ہے تو یہ دلوں کا تقویٰ ہے۔ دین اسلام میں اس کے علاوہ اور بھی مالی عبادات ہیں۔ لیکن ان عبادات کے مقابلے میں قربانی کچھ مخصوص خصوصیات کی حامل ہے۔ انہی خصوصیات کی وجہ سے عبادات کے درمیان قربانی کا الگ مقام ہے۔

سب سے زیادہ زیر بحث

امام علی علیہ السلام کی شانِ میں چہل حدیث

مولا علیؑ کی شان میں چالیس احادیث اور یہ ﻭﻩ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ہیں ﺟﻮ ﺻﺤﺎﺡ ﺳﺘﻪ ﻣﯿﮟ بھی موجود ہے. 1= ﻋﻨﻮﺍﻥ ﺻﺤﻴﻔﺔ ﺍﻟﻤﺆﻣﻦ ﺣﺐّ ﻋﻠﻰؑ ﺑﻦ ﺍﺑﻰ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ. ﺻﺤﯿﻔﮧ ﻣﻮﻣﻦ ﮐﺎ ﻋﻨﻮﺍﻥ ﻣﺤﺒﺖِ ﻋﻠﯽؑ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻃﺎﻟﺐؑ ﮨﮯ.

دعا کی اہمیت

دعا کی اہمیت حضرت انسان کس قدر شرف و عظمت کا مالک ہے،اس کے لئے کائنات بنی،پوری کائنات میں اسی کو عزت و تکریم کا حق دار ٹھہرایا گیا۔تمام مخلوق اس کی خدمت اور منفعت کے لئے پیدا کی گئی۔لیکن اتنی عظمتوں کے باوجود اس کی خلقت کا مقصد اللہ کی معرفت اور عبادت قرار دیا گیا۔لہذا انسان کا اہم کام خدا سے ارتباط و ربط ہے۔مگر کیسا رابطہ؟ اتنی عظمتوں کے باوجود بارگاہ خداوندی میں فقر محض اور احتیاج محض ہے جبکہ ذات پروردگار غناء ہی غناء ہے۔بلندی ہی بلندی ہے۔انسان مشکلات،مصائب اور تکالیف میں ایسی ذات کی طرف رجوع کر کے اپنے فقر اور احتیاج محض ہونے کا اقرار و اعتراف کرتے ہوئے اپنی نفی اور بے ثباتی کا اظہار کرتا نظر آتا ہے۔اس سلسلے میں انسان کا ایک اہم وسیلہ دعا ہے۔دعا کے ذریعے اپنی احتیاج کا اظہار بھی کرتا ہے اوراللہ سے اعانت کی التجا بھی کرتا ہے۔

قرآنِ کریم اور اصلاحِ معاشرہ تحریر: عارف حسین تھہیم

لفظِ ’’اصلاح‘‘ درست کرنے، صحیح کرنے اور خرابی کو دُور کے معنی میں آتا ہے۔ معاشرتی اور اجتماعی مفہوم کے اعتبار سے شائستہ اور نیک عمل انجام دینے، نیز فساد و تباہی کو ختم کرنے کے لیے بھی اصلاح کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ ارشادِ پروردگار ہے: ﴿ إِلاَّ الَّذِينَ تَابُواْ وَأَصْلَحُواْ وَبَيَّنُواْ فَأُوْلَئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ﴾[1]؛ ’’سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے توبہ کی اور اپنے کئے کی اصلاح کر لی اور (جس کو چھپایا ہوا تھا) واضح کر دیا تو ایسے ہی لوگوں کی توبہ میں قبول کرتا ہوں اور بےشک میں بڑا توبہ قبول کرنے والا اور بہت مہربان ہوں۔‘‘ حقیقی توبہ میں گذشتہ بُرائی اور فساد کا دُور کرنا اور آئندہ بُرائی و فساد سے بچے رہنے کا تہیہ کرنا ضروری ہے۔ شائستہ اور صالح معاشرے کی تشکیل کا ہدف اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی دُنیوی و اُخروی اور مادی و معنوی ضرورتوں کو پورا کیا جائے؛ لہٰذا صالح معاشرے کی خصوصیات یہ ہیں کہ اس میں ہر ایک کی جان، مال، عزّت و آبرو اور ناموس محفوظ ہوتی ہے، لوگوں کی درمیان مہر و محبت اور اپنائیت کا راج ہوتا ہے اور سب لوگ روحانی و معنوی لحاظ سے پُرسکون اور مطمئن ہوتے ہیں۔

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ بسم اللہ الرحمن الرحیم بنام خدائے رحمن و رحیم اٴَللّٰھُمَّ اِنّيِ اٴَسْاٴَ لُکَ بِرَحْمَتِکَ الَّتي وَ سِعَتْ کُلَّ شَيْءٍ،وَ بِقُوَّتِکَ الَّتي قَھَرْتَ خدایا میراسوال اس رحمت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر محیط ھے۔ اس قوت کے واسطہ سے ھے جو ھر چیز پر حاوی ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ،وَخَضَعَ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ،وَذَلَّ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ، وَبِجَبَرُوتِکَ الَّتي غَلَبْتَ اور اس کے لئے ھر شے خاضع اور متواضع ھے۔ اس جبروت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر غالب ھے اور اس عزت کے واسطہ سے ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ، وَ بِعِزَّتِکَ الَّتي لاٰ یَقُومُ لَھٰا شَيْءٌ، وَبِعَظَمَتِکَ الَّتي مَلَاٴَتْ کُلَّ جس کے مقابلہ میں کسی میں تاب مقاومت نھیں ھے۔اس عظمت کے واسطہ سے ھے جس نے ھر چیز کو پر کردیا ھے شَيْءٍ، وَ بِسُلْطٰانِکَ الَّذي عَلاٰ کُلَّ شَيْءٍ، وَبِوَجْھِکَ الْبٰاقي بَعْدَ فَنٰاءِ کُلِّ شَيْءٍ،

تلاوت قرآن کی فضیلت

'پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا، جو شخص رات کو دس آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام غافلین (جو یاد خدا سے بے بہرہ رہتے ہیں) میں نہیں لکھا جائے گا اور جو شخص پچاس آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام ذاکرین (جو خدا کو یاد کرتے ہیں، حرام و حلال کا خیال رکھتے ہیں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص سو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام قانتین (عبادت گزاروں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص دوسو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام خاشعین (جو خدا کے سامنے متواضع ہوں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص تین سو آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام سعادت مندوں میں لکھا جائے گا، جو شخص پانچ ہزار آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام عبادت اور پرستش خدا کی کوشش کرنے والوں میں لکھا جائے گا اور جو شخص ہزار آیتوں کی تلاوت کرے وہ ایسا ہے جیسے اس نے کثیر مقدار میں سونا راہ خدا میں دے دیا ہو۔،،

پیٹ کا درد کئی امراض کی علامت ہوسکتا ہے

اگر پیٹ میں درد ہورہا ہو تو اس کی کئی وجوہ ہوسکتی ہیں۔ اکثر ناقص غذا کی وجہ سے معدے میں تکلیف ہونے لگتی ہے جسے ہم پیٹ کے درد سے تعبیر کرتے ہیں۔ معدے کا درد کئی امراض کی علامت بھی ہوسکتا ہے، اس لیے اسے نظرانداز نہیں کرنا چاہیے اور بلاتاخیر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

تربیت اولاد کے انمول اصول تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

لغت کی کتابوں میں لفظ" تربیت" کے لیے تین اصل اور ریشہ ذکر ہوئے ہیں۔ الف:ربا،یربو زیادہ اور نشوونما پانےکے معنی میں ہے۔ ب: ربی، یربی پروان چڑھنا اور برتری کے معنی میں ہے۔ج: رب،یرب اصلاح کرنے اور سرپرستی کرنے کے معنی میں ہے۔۱صاحب مفردات کا کہنا ہے کہ "رب" مصدری معنی ٰ کے لحاظ سے کسی چیز کو حد کمال تک پہچانے ، پرورش اور پروان چڑھانے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ۲ صاحب التحقيق کا کہنا ہے اس کا اصل معنی ٰ کسی چیز کو کمال کی طرف لے جانے ، نقائص کو تخلیہ اور تحلیہ کے ذریعےرفع کرنے کے معنی ٰ میں ہے۔۳ بنابر این اگر اس کا ريشه(اصل) "ربو" سے ہو تو اضافہ کرنا، رشد ، نمو اور موجبات رشد کو فراہم کرنے کے معنی ٰ میں ہےلیکن ا گر "ربب" سے ہو تو نظارت ، سرپرستي و رهبري اور کسی چیز کو کمال تک پہنچانے کے لئے پرورش کے معنی ٰ میں ہے۔

مقصد قیام امام حسین علیہ السلام تحریر: محمد حسن حسرت کچوروی

امام حسین ؑ ۲۸ رجب ۶۰ ھ میں مدینہ سے حرکت کرتے ہیں اور ۳ شعبان المعظم کو مکہ میں پہنچتے ہیں پھر ۸ ذی الحجہ کو مکہ سے کوفہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں ۲ محرم الحرام کو وارد کربلا ہوتے ہیں اور ۱۰ محرم الحرام کو شھید ہو جاتے ہیں اس مختصرعرصے میں انسان سو سے زیادہ درس حاصل کر سکتا ہے بلکہ کہہ سکتے ہیں کہ امام کے اس مختصر عرصےمیں ہزاروں دروس شامل ہیں لیکن یہ سارے دروس ایک اصلی درس ‘ حرکت اور قیام امام میں موجود ہیں باقی سارے حاشیے ہیں متن یہ ہے کہ امام نے قیام کیوں کیا؟ یہ اصلی درس ہے لوگ امام سے کہتے تھے آپ مدینہ اور مکہ میں محترم ہیں یمن میں اتنے سارے شیعہ ہیں کسی کونے میں تشریف لے جائیں اور یزید سے کوئی سروکار نہ رکھے تاکہ وہ بھی آپ سے کوئی سروکار نہ رکھے۔ یہ سارے مرید ہیں انہیں تبلیغ کریں عبادت کریں اور زندگی کریں۔ کاس قیام کا مقصد کیاہے ۔۔؟

مشاہدات

آج

382

کل

612

اس ماہ

28985

اس سال

157413

ٹوٹل مشاہدات

326641