علماء کونسل کچورا سکردو بلتستان

متن

نوروز کے بارے میں اسلام کی نظر اور اس کی حقیقت؛ ایک تحقیقاتی مطالعہ

آج کل جس تہوار کو نوروز کے نام سے منایا جاتا ہے گرچہ کہ اس کا آغاز ایرانی قدیم مذہب سے تعلق رکھتا ہے لیکن اس زمانے میں اسکو بہار کے آغاز میں ملی Event کے طور پر منایا جاتا ہے نہ کسی مذہبی عید کے طور پر اور نہ ہی کوئی ایسے خلاف شریعت امور اس خوشی میں دیکھنے میں ملتے ہیں جس کے خلاف کوئی شرعی دلیل ہو۔

 اس موضوع پر تحقیقی گفتگو سے پہلے اس بات کا بیان ضروری ہے کہ پاکستان میں میڈیا کی ترقی کے بہت سے مثبت اور بعض منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں، مثبت باتوں کو سراہنا ہر ایک تعلیم یافتہ فرد کے اخلاقی فرائض میں سے ہے تو منفی باتوں کو  منعکس کرنا بھی ایک اہل قلم کی ذمہ داریوں میں سے ہے، بعض اوقات اہل سنت و الجماعت یا شیعہ مکتب فکر کی نمائندگی میں ایسے کم علم، شہرت پرست لوگ مکتب کی نمائندگی کرتے نظر آتے ہیں جو کسی طور پر بھی اس بات کے اہل نہیں ہوتے، بعض لوگ موضوع پر مکمل عبور نہ رکھنے کی وجہ سے بھی اپنے مکتب فکر کی صحیح رائے پیش نہیں کرپاتے اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ بعض لوگ بغیر تحقیق کے اسی گفتگو سے ایک خاص  نظریہ قائم کرلیتے ہیں جو قطعا متعلقہ مکتب فکر کی حقیق رائے نہیں ہوتا لہذا ہمیں ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کے علمی موضوعات پر تحقیقی ریسرچ مختلف طریقوں سے عوام تک پہنچتی رہے تاکہ مسلمانوں کے مختلف مکتب فکر ایک دوسرے کے صحیح نظریات کے بارے میں علم حاصل کرکے قریب سے قریب تر ہوسکیں۔

انہی موضوعات میں سے ایک متنازع موضوع نوروز ہے اور بعض مسلمان اس موضوع کے بارے میں صحیح طور پر معلومات نہیں رکھتے یہ مقالہ اس مقصد سے پیش کیا جارہا ہے تاکہ عوام و خواص کو اس دن کے بارے میں علمی معلومات دلائل اور تاریخی شواہد کی روشی میں فراہم کی جاسکے۔

ایران میں اس عید کو ملی تہوار اور زمین کا سورج کے گرد چکر مکمل ہونے پر بہار کے آغاز کے طور پر منایا جاتا ہے، اور عید طبیعت سمجھا جاتا ہے  جن میں تمام مکاتب فکر شامل نظر آتے ہیں،  طبیعت میں آنے والی تبدیلی کو اگر دیکھا جائے تو بہار انسان کے مزاج میں خوشی کی کیفیت لاتی ہے، ہر شی تروتازہ اور ہری بھری ہوجاتی ہے، بلبلوں کا چہچہانا بہار  کی آمد کی خبر دیتا ہے، پس انسانی فطرت میں خوشی کی لہر کا اظہار نوروز ہے جبکہ ہندوستان اور پاکستان میں  بعض شیعہ مکتب فکر کے سادہ لوح افراد اسکو مذہبی تہوار سمجھتے ہیں، جبکہ بعض شدت پسند، تنگ نظر، عادت سے عاجز، نام نہاد اسلامی ٹھیکیدار اسکو بدعت، کفر اور دیگر تمغوں سے نوازتے ہیں۔

ہمدان یونیورسٹی کے استاد محترم امامی فر صاحب نے ایک محقق کے عنوان سے اس موضوع پر سیر حاصل گفتگو کی ہم انکی فارسی تحریر کا اردو ترجمہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کررہے ہیں امید ہے  یہ مقالہ قارئین  کی معلومات میں اضافہ اور حقیقی مطلب  تک پہچنے کے لیئے مفید ہوگا۔

سب سے پہلے ہم اس پہلو پر گفتگو کرتے ہیں کہ خود عید کے بارے میں اسلام کا نظریہ کیا ہے؟

ہم ایک عام قانون کی طرف اشارہ سے اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہیں اور وہ یہ کہ ہر قوم اور ملت کسی اہم واقعہ یا حادثہ جو انکے لیئے اہمیت کا حامل ہو بعنوان آغاز سال قرار دیتے ہیں، اور اس پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں،  اور اسکو ایک Event  قرار دیتے ہیں، بعنوان مثال عیسائی حضرت عیسی کی پیدائش کے دن کو سال کا آغاز قرار دیتے ہیں، مسلمان ہجرت پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو آغاز اسلامی سال قرار دیتے ہیں اور ایرانی شمسی نظام یعنی مین کا سورج کے گرد چکر مکمل ہونے کو سال آغاز شمار کرتے ہیں، ایرانی اس آغاز کو ثقافتی دن سمجھ کر مناتے ہیں اور یہ دن فقط ایران تک محدود نہیں بلکہ فارسی زبان جہاں جہاں بولی جاتی ہے وہاں اس کے اثرات زیادہ واضح نظر آتے ہیں جیسے تاجیکستان، افغانستان، آذربائیجان، اور ہندوستان اور پاکستان کے بعض لوگ اس کو Event کے طور پر مناتے ہیں۔

مشہور تاریخ دان یعقوبی رقم فرماتے ہیں کہ: انکے سال کا پہلا دن نوروز کے نام سے ہے ، جس میں آب نیسان بھی برستا ہے یہ اس وقت ہے جب سورج برج حمل میں داخل ہوتا ہے اور یہ دن ایرانیوں کے لئے بڑی عید ہے۔ البتہ اس بات کو ایرانیوں کا حسن سلیقہ سمجھنا چاہیے کہ بہار کو سال کےآغاز کے لئے انتخاب کیا جس میں نباتات دوبارہ تروتازہ  ہوتے ہیں اور ہریالی  کا آغا ہوتا ہے،  جس طرح کچھ ممالک عیسوی سال کو جشن کے طور پر مناتے ہیں۔

نورو ز کے بارے میں اسلام کی نظر کیا ہے؟

کسی بات کو بیان کرنے سے پہلے مقدمہ کے طور پر  یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اسلام میں دو طرح کے احکامات ہوتے ہیں:

احکام تاسیسی: ان احکام کو کہا جاتا ہے اسلام سے پہلے نہیں تھے یعنی لوگوں کا اس سے پہلے سابقہ نہیں تھا اور اسلام نے آکر انہیں بنیادی شک عطا کی ہے۔

احکام امضائی: ان احکام کو کہا جاتا ہے جو اسلام سے پہلے تھے یعنی لوگوں اس کو انجام دیتے تھے اور کسی اسلامی قانون کے مخالف نہیں تھے اور اسلام نے یا تو انکو مورد تائید قرار  دیا اس لئے بہت سے احکام، مختلف ادیان میں یا حد اقل فطرت انسانی میں ایک جیسے ہیں او اسلام نے مختلف کلچرز ، مختلف علوم، آداب و رسوم کے سامنے ان اصل قوانین کی پیروی کی ہے۔

جس زمانے میں اسلام نے فتوحات کے ذریعہ پھیلنا شروع کیا اس وقت مختلف قومی ثقافتوں اور رسم و رواج سے سامنا ہوا ،اسلام اِن موارد سے دو طرح پیش آیا: وہ آداب و رسوم جو اسلامی اہداف اور اصول کے مخالف تھے ان سے شدت کے ساتھ پیش آیا۔

وہ آداب و رسوم جو اسلامی اہداف و اصول کے برخلاف نہیں تھے اور نہ ہیں اس صورت میں یا اسکی تائید کی یا انکے مقابلے میں مخالفانہ رویہ اختیار نہیں کیا یعنی خاموشی اختیار کی۔

نوروز بھی ان قواعد اور قانون کلی سے خالی نہیں، نوروز کے مثبت پہلو بھی تھے اور منفی بھی، صلہ رحمی، دوسروں کو تحفے دینا، گھر کو صاف ستھرا کرنا، ایک دوسرے کی دعوت کرنا، غریبوں کی مدد کرنا وغیرہ وہ امور تھے جو مثبت اور اسلام میں قابل تحسین ہیں اور خود ہر ایک موضوع پر احادیث نبوی ﷺ کے ذریعے مسلمانوں کو رغبت دلائی گئی ہے ۔   کچھ منفی پہلو بھی ہیں جیسے علم کی کمی کی بنا پر اس کو مذہبی تہوار سمجھنا، بعض لوگوں کا اسراف کرنا ، اس دن گناہوں کا ارتکاب کرنا  جیسے موسیقی وغیرہ جو ہر وقت اور ہر موقعہ پر حرام ہیں اور کوئی مسلمان ان امور کو انجام دینے کی اجازت نہیں دے گا چاہے وہ کسی بھی مکتب فکر یا قوم و ملت سے تعلق رکھتا ہو۔
 
کیا نوروز کا تعلق کسی ایک مکتب فکر سے ہے؟ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا واقعاً  نوروز کسی ایک مکتب فکر کی عید ہے یا نہیں؟

اس سوال کا جواب بالکل واضح ہے اور اس موضوع پر کسی بحث کی ضرورت نہیں اس لئے کہ اس تہوار کا مذہب اور کسی عقیدے یا فرقے سے کوئی تعلق نہیں ہے، ایران جہاں اس عید کا آغاز ہوا، وہاں  اس وقت  بھی شیعہ اور سنی سب مل کر نوروز کو ملی عید کے طور پر مناتے ہیں، ایران کے علاوہ دوسرے ملکوں جیسے افغانستان، پاکستان، ترکمانستان، تاجیکستان، ازبکستان، آذربائیجان جن میں اکثریت اہل سنت کی ہے وہ بھی عید نوروز کو روایتی طور پر مناتے ہیں ان کے لئے ہم کیا رائے قائم کرسکتے ہیں؟  اور بہت سے ممالک ایسے ہیں جہاں بالکل اس تہوار کو نہیں منایا جاتا جبکہ دونوں مکتب فکر وہاں زندگی گزارتے ہیں جیسے کویت، لبنان اور عراق وغیرہ لہذا کسی خاص گروہ سے نسبت دینے کا یہ مطلب ہے کہ دشمن اس موضوع کے ذریعے بھی مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش کرنا چاہتا ہے، اوراب دشمن کا نیا طریقہ اسلامی لباس اور لبادہ میں نام نہاد مفتیوں کے فتووں کے ذریعے مسلمانوں میں دوری ایجاد کرنا ہے، لیکن الحمدللہ اب تمام مسلمان ان بیوقوف شدت پسند مولویوں کو جانتے ہیں جو دشمن کے آلہ کار ہیں اور خصوصا پاکستان میں سرگرم عمل ہیں تاکہ اس اسلامی ملک  میں بدامنی ایجاد کرکے کافروں کو بہانہ فراہم کریں۔

مذہبی تہوار یا رسوم ہر مکتب فکر  میں ہر جگہ مشترکہ طور پر منائی جاتی ہیں جیسے شیعہ اثنا عشری دنیا کے جس خطہ میں ہو امام حسین ؑ کا غم  یا پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حضرت علی علیہ السلام کی ولایت  کے اعلان کے دن کو مناتے ہیں۔

امام موسی کاظم علیہ السلام سے روایت ہے کہ  انہوں نے نوروز کو مجوسیوں کی سنت اور اسکے احیاء کو حرام قرار دیا۔ دوسری روایت میں نقل ہوا ہے  کہ عراق میں میں امیر المومنین  حضرت علی ؑ  کے لئے  فالودہ  لایا گیا۔ امام ؑ نے سوال کیا: یہ کیا ہے؟  کہا گیا نوروز  کی مناسبت سے ہے۔ امام ؑ نے فرمایا ہمارے لئے ہر دن نوروز ہے یہ نوروز سے متعلق امام علی ؑ  کی بے اعتنائی کی دلیل ہے یعنی امام علیؑ   کی نظر میں دوسرے دنوں اور اس نوروز میں کوئی فرق نہیں۔

اسی طرح دوسری روایات میں آیا ہے کہ  امام جعفر صادق ؑ سے نوروز کے دن تحفے لینے کے  بارے میں سوال کیا  گیا: امام ؑ نے سوال کیا  کیا تحفہ دینے والا اور لینے والا دونوں نماز پڑھتے ہیں؟ جواب دیا گیا: جی ہاں، امام جعفر صادق ؑ نے فرمایا: پھر کوئی اشکال نہیں۔ اس حدیث سے بھی یہی سمجھ میں آتا ہے کہ امام ؑ  نوروز کو کوئی مذہبی حیثیت نہیں دے رہے بلکہ انکی نظر میں اہمیت ایمان کی ہے اور اسکی پہچان نماز سے ہوتی ہے۔

لیکن ہمیں عملی طور پر یہ نظر آتا ہے کہ کچھ لوگ نوروز کو مذہبی رنگ دیتے نظر آتے ہیں اور اسکو مقدس مانتے ہیں اسکی کیا وجہ ہے؟ تحقیق سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ ایک روایت ملتی ہے جو  معلیٰ بن خنیس نے  امام جعفر صادق ؑ سے نقل کی ہے  امام ؑ نے اس دن کچھ حادثات کو ذکر کیا ہے جو اتفاقی طور پر نوروز سے مل گئے۔

پھر بھی  بطور یقینی اسکو نوروز کی اہمیت  پر حمل نہیں کرسکتے اسلئے کہ  سال شمسی  و قمری  دونوں  مطابق  نہیں ہیں  بلکہ کبھی   ممکن ہے  شب  قدر ونوروز  سے مل جائے  اور کبھی کوئی اور اہم واقعہ  جیسا کہ سال دھم  ہجری  میں  18 ذی الحجہ  نوروز کے دن سے مل گئی یا ایک دو دن آگے پیچھے آئی کے  شاید شیعوں کی توجہ نوروز کی طرف اس روایت کی وجہ سے ہو ، لیکن حقیقت میں شیعہ یوم غدیر کی اہمیت کے قائل ہیں  نہ کہ نوروز کے ،  اور ہم دیکھتے ہیں کہ حدیث معلی میں  جن واقعات کا ذکر ہوا ہے ان میں ایک یہ بھی ہے ، شاید  امامؑ  کا ان امور سے متعلق ذکر کرنے کا ہدف  لوگوں کے ذہنوں کو نورو ز  سے دور کرنا  اور دوسرے  حوادث الہی کی جانب  اشارہ کرنا ہے  جو اس دن واقع ہوئے ہیں، کیونکہ امام ؑ عباسی خلفاء کے زمانے میں رہتے تھے  جو ایرانیوں سے گہرے مراسم رکھتےتھے، جہاں تک اس دن غسل یا کوئی مستحب عبادی عمل بیان ہوا ہے تو اسکی بھی شاید یہی وجہ نوروز کا رخ موڑنا ہو۔

اسلام کے بعد نوروز کو اہمیت اور رواج دینے والے کون تھے؟

سب سے زیادہ بنو امیہ اور عباسی خلفاء نے اس دن کو رواج دینے میں اہم کردار ادا کیا، کیونکہ نوروز کے اہم رسم و رواج میں حکمرانوں کو تحفے دینا تھا اور دو سرے ایرانیوں سے بہتر مراسم حکمرانوں کی طاقت اور حمایت کے لئے بھی ضروری تھے  ۔ بنی امیہ کے بعد بنی عباس کے خلفاء جو ایرانیوں کی مدد سے خلافت  و حکومت پر پہنچے  اور انکی حکومت میں ایرانی وزراء بھی تھے  ایرانیوں سے حمایت کے اظہار کے لئے نوروز میں مکمل آزادی دی جاتی تاکہ ایرانیوں کی  ہمدردیاں حاصل کی جاسکیں، عباسیوں کی مرکزی حکومت کی کمزور ہونے کے بعد  اسلامی ممالک کے ارد گرد مختلف ریاستیں قائم ہوئیں جن میں  صفاری، سامانی، آل بویہ، غزنوی، سلجوقی، خوارزمی وغیرہ کی حکومتیں شامل تھیں  یہ تمام  کے تمام مذہب اور عقیدے کے اعتبار سے اپنے آپ کو بغداد  کے حاکم اور خلیفہ کا تابع مانتی تھیں  لیکن ہر حال میں ملی تعصب  اور ایرانی  ہونے کو مورد  توجہ قرار دیتی تھیں  اور ایرانی  آثار  اور سنتوں  کی بھرپور  کوشش کرتی تھیں  جن میں سے ایک  سنت  عید نوروز ہے۔

شاہ جلال الدین ملکشاہ  کے زمانے میں  سلجوقی  بادشاہ  تھا عید  نوروز کو  سال کا آغاز قر ار دیا  اور اس نے رسمی طور پر  شمسی سال کو  حکومتی سال قرار دیا   ان حکومتوں میں سب سے زیادہ  صفوی حکومت  نے فارسی زبان اور  انکے آئین کو زندہ کرنے  رکھنے کی کوشش کی اسکے بعد  ایرانی مقتدری  جیسے  سامانی  جو ایران  کے پرانی  ثقافت، خراسان  کی وجہ  سے وجود  میں آئے تھے  انہوں نے  بھی بہت  سی پرانی  سنتوں  کو زندہ  اور رائج  کیا   نوروز کو رائج کرنے کی دوسری وجہ  آئین کی تدوین  اور لوگوں سے خراج لینے کا مسئلہ ہے، خلفاء آئین اور قانون ایرانیوں سے لیتے تھے اصطخری کہتا ہے  کہ ایرانی  خلافت  کے آئین  کو وجود  میں لانے  والے ہیں  اور ان حکومتوں کی آئینی اور سیاسی نظام میں تر قی ایرانیوں کی وجہ سے تھی۔ اور کیونکہ ایرانیوں کے آئین کی اصل  کو ساسانیوں  سے لیا گیا ہے لہذا مجبور  تھے کہ  ان تمام کاموں  کو انجام دیں  جو ان قوانین  میں موجود  تھے۔  ایران  میں سال  کا آغاز  شمسی سال سے ہوتا تھا اور تمام امور کا آغازاسی دن سے  ہوتا  اور اسی طرح کھیتی باڑی کا آغاز اسی مہینہ سے ہوتا تھا  لہذا حکومتی عہدیدار نوروز    کو بہت اہمیت دیتے تھے  ابوریحان بیرونی  اس سلسلہ میں کہتا ہے کہ: یہی  شمسی سال  ایران کے تحت  رہنے والے  اسلامی ممالک  میں استعمال  ہونے لگا اور  فارسی نام اور مہینہ  بھی انہی کے حساب سے  گنے جانے لگے۔ نوروز  کے زندہ رہنے  کی تیسری وجہ  کچھ افراد اور گروہ  تھے جو  مستقیماً اسلامی  اور عربی ثقافت  سے مقابلہ  کرنے کے لئے  یہ کام  کرتے  تھے  یہ لوگ  کوشش کرتے  تھے  کہ اسلام  سے پہلے  رہنے  والی ایرانی  رسم و رواج  کو رائج  کرکے  لوگوں   کو اسلامی  ثقافت  سے دور کیا جائے  اور انکی توجہ اسلام سے پہلے والی رسوم کی طرف  مشغول رکھی جائے  مقامی  حکومت  کا وجود  جن کو اوپر بیان کیا گیا ہے  اور کچھ انقلاب جیسے  "باب خردمین" اور  "نھضت شعوبیہ " کا نام ان سلسلوں میں شامل ہے  نمونہ کے طور رپر بے دین  شہنشاہ  رضا شاہ  کے 2500 سالہ شہنشاہی  جشن کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے۔ ایران  میں اسلامی  انقلاب  کے بعد  بھی بہت سے  لوگ مومن مسلمانوں کے خلاف  خاص طور  پر ایرانی متعصب  افراد  جن میں زرتشت  اور یہودی وغیرہ شامل ہیں یہ کوشش کررہے ہیں  کہ  سیزدہ بدر اور چہار شنبہ سوری  جیسی رسموں   کو  باقی رکھا جائے  اسلام مخالف میڈیا  بھی (جیسے امریکہ،برطانیہ اور اسرائیل)  اس سلسلے میں بھرپور کردار ادا کرکے ان تہواروں کو رواج دینے کے لیئے اپنا کردار ادا کررہے ہیں لیکن اب باشعور مسلمان تبلیغاتی جنگ کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔

مجوسی کون ہیں؟

(إِنَّ الَّذینَ آمَنُوا وَ الَّذینَ هادُوا وَ الصَّابِئینَ وَ النَّصارى‏ وَ الْمَجُوسَ وَ الَّذینَ أَشْرَکُوا إِنَّ اللَّهَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیامَةِ إِنَّ اللَّهَ عَلى‏ کُلِّ شَیْ‏ءٍ شَهیدٌ (الحج/17)

لفط مجوس قرآن میں ایک مرتبہ ذکر ہوا ہے،  اور آیت میں مجوس کو ایمان والوں کی صف میں شامل کیا گیا ہے جبکہ مقابل میں دوسرا گروہ مشرکین کا بیان ہوا، ایسا آیت کے مضمون سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مجوس اہل کتاب تھے اور اہل دین و آئین الہی تھے جسکی وجہ سے انکو ایمان والوں کی صف میں شمار کیاگیا ہے، اسلامی روایات میں مجوسیوں کو  انبیاء  کا پیروکار قرار دیا گیا ہے اور بعد میں یہ الہی تعلیمات سے شرک و انحراف کا شکار ہوگئے۔
مکہ کے مشرکین نے پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے تقاضا کیا کہ ان سے جزیہ لے کر انہیں بت پرستی کی اجازت دے دیں پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں اہل کتاب کے علاوہ کسی سے جزیہ نہیں لیتا؟ مشرکین نے جوابی خط لکھا اور کہا: آپ کس طرح یہ کہتے ہیں جبکہ  آپ نے منطقہ ھجر کے مجوسیوں سے جزیہ وصول کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ان المجوس کان لهم نبى فقتلوه و کتاب احرقوه  
مجوسیوں کے پاس خدا کا نبی بھیجا گیا انہوں نے نبی کو شہید کردیا اور آسمانی کتاب کو جلادیا، ایک اور اصبغ ابن نباتہ  حضرت علی ؑ سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت علی ؑ منبر پر تشریف لے گئے اور فرمایا: سَلُونِی قَبْلَ أَنْ تَفْقِدُونِی، مجھ سے پوچھو اس سے پہلے کہ میں تم سے رخصت ہوجاؤں:

فَقَامَ إِلَیْهِ الْأَشْعَثُ فَقَالَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ کَیْفَ تُؤْخَذُ الْجِزْیَةُ مِنَ الْمَجُوسِ وَ لَمْ یُنْزَلْ عَلَیْهِمْ کِتَابٌ وَ لَمْ یُبْعَثْ إِلَیْهِمْ نَبِیٌّ فَقَالَ بَلَى یَا أَشْعَثُ قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَیْهِمْ کِتَاباً وَ بَعَثَ إِلَیْهِمْ نَبِیّا، اشعث ابن قیس کھڑا ہوا اور کہا مجوسیوں سے کس طرح جزیہ وصول کیا جاسکتا ہے جبکہ ان پر نہ ہی نبی آیا اور نہ ہی کوئی کتاب؟

حضرت علی ؑ نے جواب دیا: خدا نے ان پر نبی بھی بھیجا اور کتاب بھی، اسی طرح ایک حدیث میں  امام سجاد، علی ابن الحسین ؑ سے ملتا ہے کہ انہوں نے فرمایا: عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ ع أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ص قَالَ سَنُّوا بِهِمْ سُنَّةَ أَهْلِ الْکِتَابِ یَعْنِی الْمَجُوسَ

پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ان (مجوسیوں) سے  اہل کتاب کے قانون کے مطابق  رویہ رکھو۔

ان روایات سے یہ معلوم ہوتا کہ ایرانی جو مجوسی تھے دراصل دین الہی نبی اور کتاب کا حامل تھے اور زمانے کے گزرنے کے ساتھ ان میں انحرافات پیدا ہوئے اور آتش پرست بن گئے، لہذا انکے عقائد اور رسوم کے مطالعے کے وقت اس نکتہ کی طرف توجہ ضروری ہے۔

نوروز کی حقیقت کیا ہے؟

نوروز سے متعلق کئی اقوال تاریخ میں ملتے ہیں جو ایک دوسرے سے   مختلف ہیں ہم اس تحریر کے اختصار کے خاطر صرف انکے بارے میں اشارے کررہے ہیں:
ایرانی آئین کی کتاب میں یہ ذکر ملتا ہے کہ یہ لوگ اس تہوار کو   وہ دن مانتے ہیں جس دن  "اھورا  مزدا" (دنیا کے خدا) کو پیدا کیا  اس دن کو اسی وجہ سے مبارک مانتے ہیں ایرانی بادشاہ بھی اس دن کو متبرک سمجھتے ہیں اور  اپنی مسند نشینی کا آغاز اسی دن سے کرتے تھے۔ زرتشت کو کتاب اور احادیث کی روشنی میں اہل کتاب میں سے مانا گیا ہے اور بعید نہیں کہ نوروز انکے اصل اعتقادات میں سے ہو یعنی قرآن کی زبان میں ایام اللہ ہو اور زمانے کے بدلنے کے ساتھ تحریفات کردیا گیا ہو جس طرح تاریخ میں  ملتا ہے کہ کعبہ  توحید پرستوں کی عبادت کا مرکز تھا لیکن دور دراز کے رہنے والوں کی لئے مشقت کا سبب ہونے کی بنا پر لوگ وہاں سے پتھر لے جاتے اور اپنے اپنے علاقوں میں انکی پرستش شروع کردی گئی اور یہیں سے شرک اور بت پرستوں کی بنیاد پڑی۔

اس سلسلے میں آیات قرآنی سے استفادہ کیا گیا ہے: إِنَّ رَبَّکُمُ اللَّهُ الَّذی خَلَقَ السَّماواتِ وَ الْأَرْضَ فی‏ سِتَّةِ أَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوى‏ عَلَى الْعَرْشِ یُغْشِی اللَّیْلَ النَّهارَ یَطْلُبُهُ حَثیثاً وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ وَ النُّجُومَ مُسَخَّراتٍ بِأَمْرِهِ أَلا لَهُ الْخَلْقُ وَ الْأَمْرُ تَبارَکَ اللَّهُ رَبُّ الْعالَمینَ (اعراف/54)

ترجمہ: بیشک تمہارا خدا وہ ہے  جس نے زمین  و آسمان کو  چھ دنوں میں پیدا کیا۔۔۔۔ اسی طرح سے توریت میں بھی آسمان اور زمین کی خلقت  کے سلسلے میں چھ دن کا ذکر ملتا ہے یہ بات قابل ذکر ہے کہ نوروز بھی چھ دن پر مشتمل ہوتی ہے، لہذا ممکن ہے کہ اس دین الہی میں آسمان اور زمین کی خلقت کو ایک Event کے طور پر منایا جاتا ہو اور زمانہ گزرنے کے ساتھ اس میں تحریف ہوگئی ہو۔

یاقوت حموی نقل کرتے ہیں کہ  وہ فرماتے ہیں: حمدان بن  سحت جرجانی  نے کہا  کہ ہم  عید نوروز  میں ذوالریاستین  (فضل بن  سہل)  کی محفل میں  تھے کہ عمر  بن رستمی (جو عباسی خلیفہ مامون کا کمانڈر تھا) نجومیوں سے  عید نوروز  کے بارے میں سوال کیا: کہا گیا: پرانے زمانے دجلہ میں  کے آس پاس  ایک قوم  وبا ئی مرض کا شکار ہوگئی  گرچہ انہوں نے اس علاقے سے کوچ کرلیا لیکن مرض کی وجہ سے وہ گویا وہ مرگئے ،خداوند عالم نے اول فروردین (شمسی مہینہ) میں بارش نازل کی  جس کی وجہ سے انہیں نئی زندگی نصیب ہوئی اسی مناسبت نے مقامی بادشاہ نے اس دن کا نام نوروز رکھ دیا، جب عباسی خلیفہ مامون کو اس بات کی خبر دی گئی تو اس نے کہا  یہ مطلب قرآن میں بھی موجود ہے، اور اس آیت کی تلاوت کی: أَ لَمْ تَرَ إِلَى الَّذینَ خَرَجُوا مِنْ دِیارِهِمْ وَ هُمْ أُلُوفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ فَقالَ لَهُمُ اللَّهُ مُوتُوا ثُمَّ أَحْیاهُمْ إِنَّ اللَّهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لکِنَّ أَکْثَرَ النَّاسِ لا یَشْکُرُونَ.  

بطور اختصار نوروز کے متعلق جو اطلاعات تاریخ سے ملتی ہیں ان سے کسی یقینی نظریہ کا حصول ممکن نہیں اور قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہے کہ:
 انَّ الظَنَّ لا یُغۡنِی مِنَ الۡحَقِّ شَیۡئاً ، آج کل جس تہوار کو نوروز کے نام سے منایا جاتا ہے گرچہ کے اس کا آغاز ایرانی قدیم مذہب سے تعلق رکھتا ہے لیکن اس زمانے میں اسکو بہار کے آغاز میں ملی Event کے طور پر منایا جاتا ہے نہ کسی مذہبی عید کے طور پر اور نہ ہی کوئی ایسے خلاف شریعت امور اس خوشی میں دیکھنے میں ملتے ہیں جس کے خلاف کوئی  شرعی دلیل ہو۔

والله اعلم بحقیقةالامور وصلی الله علی محمدوآله واصحابه المنتجبین والسلام علی من اتبع الهدی «علی امامی فر»

تالیف : علی امامی فر استاد ہمدان یونیورسٹی ایران
ترجمہ: سید ارتضی حسن رضوی

اس سے مربوط موضوعات

یمن جنگ | بچوں کے قاتل ممالک سعودیہ اور امارات کے درمیان اختلافات پر ایک نظر
یمن جنگ | بچوں کے قاتل ممالک سعودیہ اور امارات کے درمیان اختلافات پر ایک نظر سعودی عرب اور امارات کے حمایتی دہشت گردوں اور باغیوں کے درمیان عدن میں شدید جھڑپیں ہوئی ہیں، اگر یمن کی موجودہ صورتحال میں جنگ بند ہوجائے تو یہ جنگ بندی سعودی عرب کے لئے بہت بڑی شکست تصور ہوگی کیونکہ یمن کے اہم علاقوں پر متحدہ عرب امارات کے حامیوں کا قبضہ ہے۔ خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق سعودی عرب کے امریکہ نواز اور خوانخوار بادشاہ شاہ سلمان نے26 مارچ 2015 کو یمن کے نہتے اور مظلوم عربوں پر یہ سوچ کروحشیانہ اور بھیانک جنگ مسلط کی کہ وہ چند ماہ کے دوران پورے یمن پر اپنا قبضہ جما لےگا اور اس سلسلے میں سعودی عرب کے خونخوار بادشاہ نے بڑی مقدار میں رشوت دیکر دس ممالک کو بھی اپنے ہمراہ کرلیا۔ لیکن یمنی عوام نے استقامت کامظاہرہ کرتے ہوئے سعودی عرب کے یمن پر قبضہ کےخواب کو چکنا چور کردیا۔

بین الاقوامی

مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی حکومت نے انسانی حقوق کی معطلی کو معمول بنا لیا ہے، ہیومن رائٹس واچ

مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی حکومت نے انسانی حقوق کی معطلی کو معمول بنا لیا ہے، ہیومن رائٹس واچ ہیومن رائٹس واچ نے مقبوضہ کشمیر کے لاک ڈاؤن اور کمیونی کمیشن بلیک آؤٹ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی حکومت نے انسانی حقوق کی معطلی کو معمول بنا لیا ہے۔

علامہ شیخ زکزکی علاج کے لئے بھارت پہنچ گئے

علامہ شیخ زکزکی علاج کے لئے بھارت پہنچ گئے نائیجیریا کی جیل میں بے جرم و خطا کئی سالوں سے قید علامہ شیخ زکزکی کو بھارت میں علاج کرانے کی اجازت کےبعد ہندوستان روانہ ہوگئے ہیں۔

امام خمینی

امام خمینی رہ کے انقلابی نظریات اور اس کے اثرات

امام خمینی علیہ الرحمہ کی شخصیت اعلم فقیہ، واصل عارف اور با بصیرت راہبر جیسی صفات کی حامل ہے، ایران کی سرزمین پر دو ہزار پانچ سو سالہ پرانی شہنشاہیت کو شکست دینے کے بعد شرق و غرب کی سپر پاورز کا سامنا کرنے والی شخصیت ہے۔

امام خمینی رح ایک مرد عارف

حضرت امام خمینی رح کے بارے میں عام طور پر جو بات ہمارے ہاں زیادہ مشہور ہے وہ یہ کہ آپ نے ایک ملوکیت اور بادشاہت کا خاتمہ کرکے ایک اسلامی اور مذہبی حکومت قائم کی۔ لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ استعماری طاقتوں کے خلاف تھے اور استعماری طاقتوں نے آپ کی حکومت کے خاتمے کے لیے اپنے پورے وسائل بروئے کار لائے لیکن وہ اس میں ناکام ہو گئیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ امام خمینی رح بہت شجاع اور بہادر تھے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ آپ نے ناجائز طور پر قائم صہیونی حکومت کے خاتمے اور فلسطینیوں کے حقوق کے حصول کے لیے بھی آواز بلند کی۔ آپ مستضعفوں اور محروموں کے حقوق کے بھی علمبردار تھے۔ آپ نے اتحاد امت کے لیے ایک زور دار آواز بلند کی۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ ایک عالم اور فقیہ تھے اور آپ کی تقلید کی جاتی تھی۔ بعدازاں آپ کا دیوان بھی چھپا اور پاکستان میں بھی بہت سے لوگوں کو معلوم ہوا کہ آپ صاحب دیوان شاعر بھی تھے، لیکن ابھی تک جو پہلو کم شناختہ یا ناشناختہ ہے وہ یہ ہے کہ آپ ایک بلند پایہ عارف تھے اور شاید یہ کہنا زیادہ بہتر ہو کہ آپ کے وجود سے پھوٹنے والی تمام تر خوبیوں کا سرچشمہ یہی امر ہے کہ آپ ایک عارف باللہ اور عاشق الٰہی تھے اور اس سلسلے میں نظری اور عملی طور پر نہایت عمق اور گہرائی کے مقام پر فائز تھے۔

امام خامنہ ای

مسئلہ فلسطین امت مسلمہ کے اساسی اور بنیادی مسائل میں سے ایک ہے، امام خامنہ ای

مسئلہ فلسطین امت مسلمہ کے اساسی اور بنیادی مسائل میں سے ایک ہے، امام خامنہ ای رہبر انقلاب اسلامی امام خامنہ ای نے حجاج کرام کے نام اپنے سالانہ پیغام میں فلسطین کے مسئلے کو دنیا کا اہم ترین مسئلہ قرار دیا ہے۔

ایران بحری جہاز پر برطانوی حملے کا سخت جواب دے گا، امام خامنہ ای

ایران بحری جہاز پر برطانوی حملے کا سخت جواب دے گا، امام خامنہ ای امام خامنہ ای نے آئمہ جعمہ اور جماعات کے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ایران بحری جہاز پر برطانوی حملے کا سخت جواب دے گا۔

کلام و عقائد

بدا قرآن و حدیث کی روشنی میں

ذات الٰہی کے بارے میں بدا، حقیقت میں ابدا و اظہار ہے۔ یعنی جو کچھ خدا کے علم میں ہے اور انسان کے علم میں نہیں، اسےخداوند متعال اظہار و آشکار کرتا ہے۔ اسے بدا، کہنے کا سبب یہ ہے کہ یہ مقام فعل الٰہی میں نمایاں ہوتا ہے، اگرچہ ذات الٰہی میں جہل اور تغییر محال ہیں۔ خداوند متعال انبیاء کرام پر غیبی طریقے سے نظر رکھتا ہے تاکہ یہ لوگ وحی کے پہنچانے میں خطا سے محفوظ رہیں۔ قرآن کریم اس بارے میں ارشاد فرماتا ہے، "لِّيَعْلَمَ أَن قَدْ أَبْلَغُواْ رِسَالَاتِ رَبهِّم" تاکہ وہ دیکھ لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات کو پہنچا دیا ہے۔ واضح ہے کہ خداوند متعال پہلے سے ہی آگاہ ہے کہ انبیاء، وحی الٰہی کو صحیح طریقے سے لوگوں تک پہنچائیں گے۔

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی علم کلام کےاہم مباحث میں سے ایک حسن و قبح عقلی کا بحث ہے ۔اس سے مراد یہ ہے کہ کچھ افعال ذاتی طور پر حسن {اچھے} اور کچھ افعال ذاتی طور پر قبیح{ برے} ہیں ۔ معتزلہ اور امامیہ حسن و قبح عقلی کے قائل ہیں جبکہ اشاعرہ اس کی نفی کرتے ہیں۔ بہت سے کلامی مسائل اس بحث پر موقوف ہیں مثلا انسان کا اپنے اعمال میں خود مختار ہونا،خدا وند متعال کی بعض صفات کمالیہ کا ثبوت جیسے خدا کا عادل ہونا،اسی طرح بعض صفات سلبیہ بھی اسی بحث پر موقوف ہے جیسے خدا سے قبیح کا سرزد نہ ہونا،خداکا ظلم نہ کرنا وغیرہ ۔ جو لوگ حسن اور قبح کے قائل ہیں وہ انسانی افعال میں انسان کو مختار،خدا کو عادل مانتے ہیں جبکہ حسن و قبح کے مخالفین انسان کو مجبور اور خداکی عدالت سے انکار کرتے ہیں ۔

تربیت اولاد

خاندانی منصوبہ بندی : ایک معاشرتی ضرورت یا دھوکہ!

خاندانی منصوبہ بندی کوآج کے دور میں مختلف مملک کی حکومتیں اپنی کامیاب ترین پالیسیوں میں شمار کرتی ہیں۔ آبادی کا کنٹرول اور چھوٹا خاندان خوشحالی کا ذریعہ سمجھاجاتا ہے۔ خصوصاً محدود وسائل رکھنے والے ممالک میں اس پالیسی کو زیادہ اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے

تعليم و تربيت کے بارے ميں اسلامي علما کي آرا و نظريات

تاريخ اسلام ميں تقريبا تمام علماء و دانشور مختلف علوم ميں مھارت رکھنے کے ساتھ ساتھ تعليم و تربيت ميں بھي صاحب نظر اور مھارت کے حامل ہوا کرتے تھے اس سے اسلام ميں تعليم وتربيت کي اھميت کا پتہ چلتا ہے لھذا ہم يہاں پر علما اسلام کي نظر ميں تعليم و تربيت کي اھميت اجاگر کرنے کے لئے ان کے بعض نظريات پيش کر رہے ہيں۔

تندرستی

فلیوینوئیڈ سے بھرپور غذا، کینسر اور دل کی بیماریوں سے بچاتی ہے، تحقیق

ماہرین کی ایک عالمی ٹیم نے ہزاروں افراد پر طویل مدتی تحقیق کے بعد معلوم کیا ہے کہ فلیوینوئیڈ سے بھرپور غذا استعمال کی جائے تو دل کی بیماریوں اور کینسر کے خطرات بہت کم رہ جاتے ہیں۔ یہ فوائد صرف عام لوگوں تک ہی محدود نہیں بلکہ سگریٹ نوشی کرنے والے بھی فلیوینوئیڈز کے فوائد سے مستفید ہوسکتے ہیں۔

مرچیں کم کھائیں، یادداشت بچائیں

یہ تحقیق قطر، آسٹریلیا اور امریکا میں کی گئی جس میں 55 سال یا اس سے زائد عمر کے 4,582 چینی باشندوں کا مسلسل 1991 سے 2006 تک مطالعہ کیا گیا۔ اس طرح مجموعی طور پر یہ تحقیق 15 سال تک جاری رہی تھی۔

مہدویت{امام زمان عج}

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی امامت کے اہداف میں سے ایک ہدف امام معصوم کا لوگوں کی باطنی ہدایت ہے۔ امام لائق اور پاکیزہ دل رکھنے والے افراد کو اپنی طرف جذب کر کے انہیں کمال تک پہنچاتے ہیں۔ واضح ہے کہ انسان کا اس طرح ہدایت سے ہمکنار ہونے کے لئے ضروری نہیں کہ وہ امام کے ساتھ ظاہری رابطہ برقرار کرے۔ گذشتہ بیانات کی روشنی میں امام زمانہ (عج) کو بادل کے پیچھے پنہان روشن آفتاب سے تشبیہ دینے کا مقصد بھی واضح ہو جاتا ہے۔ اگرچہ بادل کے پیچھے پنہان سورج سے انسان مکمل طور بہرہ مند نہیں ہوتا ہے لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ اس سے انسان کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا ہے۔ بہرحال امام زمانہ (عج) کے وجود کے آثار و برکات سے بہرہ مند نہ ہونے کا سبب انسانوں کی طرف سے خاص حالات کا فراہم نہ کرنا ہے، جس کی وجہ سے لوگ اس عظیم نعمت کے فوائد سے محروم ہیں اور اس محرومیت کا سبب وہ خود ہیں نہ کہ خداوند متعال اور امام، کیونکہ خداوند متعال اور امام کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی مشکل درپیش نہیں ہے۔

دیگر مناسبتیں

اتحاد بین المسلمین کے عظیم داعی، شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی

شہید قائد آدھی رات سے اپنے معشوق حقیقی سے راز و نیاز میں مصروف تھے۔ نماز صبح کے بعد ایمان و عمل کی روشنی پھیلانے کے لئے معاشرے کے افق پر طلوع ہو ہی رہا تھا کہ شقی القلب اور وقت کے ابن ملجم کا نشانہ بن گئے۔ وہ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے زمین پر گر گئے۔ ارض پاک سے ایک دفعہ پھر ہدایت اور اتحاد بین المسلمین کے ایک روشن چراغ کو بجھا دیا گیا، وہ بھی صرف اس لئے کہ اس نے افتراق پرور، باطل پرست اور ظالم حکومت کے ہاتھوں بیعت نہیں کی۔

پاکیزگی کا سفر

انسان کے لئے بعض مواقع ایسے آتے ہیں جن میں وہ صحیح معنوں میں خدا کی خوشنودی اور قرب کو حاصل کر سکتا ہے اور یہی ہر انسان کی دلی تمنا ہوتی ہے۔ہر انسان فطرتا نیک اور خدا جو ہوتا ہے لیکن زمانے اور حالات کے سبب انسان اپنے خالق حقیقی کو فراموش کر لیتے ہیں لیکن زندگی کے کسی موڑ پر جب اسے ہوش آ جاتا ہے تو وہ یہ جان چکا ہوتا ہے کہ خدا کے سوا اس کا کوئی نہیں۔انسان کی شروع سے ہی یہی کوشش رہتی ہے کہ وہ کسی نہ کسی طریقہ سے خدا کی خوشنودی حاصل کرے اوراعمال و عبادات کے ذریعہ اپنے خالق کے حضور بڑا مقام حاصل کر لے۔

چہاردہ معصومین ع

زرتشتی عالم سے امام رضا علیہ السلام کا مناظرہ

امام علی رضا علیہ السلام کو خراسان طلب کرنے کے بعد سے مامون اپنے مختلف اہداف و مقاصد کے مد نظر تمام ادیان و مذاہب کے علماء کو امام (ع) کے ساتھ مناظرہ کرنے کی دعوت دیا کرتا تھا۔ یہ مناظرہ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے جو اس زمانہ کے بزرگ زرتشتی عالم کے ساتھ امام رضا (ع) نے انجام دیا ہے۔

حضرت امام صادق علیہ السلام کی علمی خدمات

حضرت امام صادق علیہ السلام کی علمی خدمات تاریخ تشییع اس بات پر گواہ ہے کہ حضرت ختمی مرتبت کے زمانے سے غبیت کبری تک آئمہ معصومین کی رہبریت، قیادت اور حکمت عملی میں ایک غیرمعمولی طریقہ کار کا تسلسل رہا ہے۔

دیگر موضوعات

قربانی کی تاریخ اور اسکا فلسفہ

دین مقدس اسلام میں قربانی ایک مالی عبادت ہے، جو شعائر اسلام میں بھی شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں اس کی بڑی فضیلت ہے۔ شعائر اللہ کو دلوں کا تقوا قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں ارشاد ہوا ہے: "وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ" (سورہ حج:۳۲) بات یہ ہے کہ جو شعائر اللہ کا احترام کرتا ہے تو یہ دلوں کا تقویٰ ہے۔ دین اسلام میں اس کے علاوہ اور بھی مالی عبادات ہیں۔ لیکن ان عبادات کے مقابلے میں قربانی کچھ مخصوص خصوصیات کی حامل ہے۔ انہی خصوصیات کی وجہ سے عبادات کے درمیان قربانی کا الگ مقام ہے۔

خاندانی منصوبہ بندی : ایک معاشرتی ضرورت یا دھوکہ!

خاندانی منصوبہ بندی کوآج کے دور میں مختلف مملک کی حکومتیں اپنی کامیاب ترین پالیسیوں میں شمار کرتی ہیں۔ آبادی کا کنٹرول اور چھوٹا خاندان خوشحالی کا ذریعہ سمجھاجاتا ہے۔ خصوصاً محدود وسائل رکھنے والے ممالک میں اس پالیسی کو زیادہ اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ لوگوں کو اس منصوبہ بندی کی طرف راغب کرنے کے لئے خوبصورت نعرے بھی لگائے جاتےہیں، جیسے "بچے دو ہی اچھے"، "چھوٹا خاندان خوشحال زندگی" وغیرہ۔

سب سے زیادہ زیر بحث

امام علی علیہ السلام کی شانِ میں چہل حدیث

مولا علیؑ کی شان میں چالیس احادیث اور یہ ﻭﻩ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ہیں ﺟﻮ ﺻﺤﺎﺡ ﺳﺘﻪ ﻣﯿﮟ بھی موجود ہے. 1= ﻋﻨﻮﺍﻥ ﺻﺤﻴﻔﺔ ﺍﻟﻤﺆﻣﻦ ﺣﺐّ ﻋﻠﻰؑ ﺑﻦ ﺍﺑﻰ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ. ﺻﺤﯿﻔﮧ ﻣﻮﻣﻦ ﮐﺎ ﻋﻨﻮﺍﻥ ﻣﺤﺒﺖِ ﻋﻠﯽؑ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻃﺎﻟﺐؑ ﮨﮯ.

دعا کی اہمیت

دعا کی اہمیت حضرت انسان کس قدر شرف و عظمت کا مالک ہے،اس کے لئے کائنات بنی،پوری کائنات میں اسی کو عزت و تکریم کا حق دار ٹھہرایا گیا۔تمام مخلوق اس کی خدمت اور منفعت کے لئے پیدا کی گئی۔لیکن اتنی عظمتوں کے باوجود اس کی خلقت کا مقصد اللہ کی معرفت اور عبادت قرار دیا گیا۔لہذا انسان کا اہم کام خدا سے ارتباط و ربط ہے۔مگر کیسا رابطہ؟ اتنی عظمتوں کے باوجود بارگاہ خداوندی میں فقر محض اور احتیاج محض ہے جبکہ ذات پروردگار غناء ہی غناء ہے۔بلندی ہی بلندی ہے۔انسان مشکلات،مصائب اور تکالیف میں ایسی ذات کی طرف رجوع کر کے اپنے فقر اور احتیاج محض ہونے کا اقرار و اعتراف کرتے ہوئے اپنی نفی اور بے ثباتی کا اظہار کرتا نظر آتا ہے۔اس سلسلے میں انسان کا ایک اہم وسیلہ دعا ہے۔دعا کے ذریعے اپنی احتیاج کا اظہار بھی کرتا ہے اوراللہ سے اعانت کی التجا بھی کرتا ہے۔

قرآنِ کریم اور اصلاحِ معاشرہ تحریر: عارف حسین تھہیم

لفظِ ’’اصلاح‘‘ درست کرنے، صحیح کرنے اور خرابی کو دُور کے معنی میں آتا ہے۔ معاشرتی اور اجتماعی مفہوم کے اعتبار سے شائستہ اور نیک عمل انجام دینے، نیز فساد و تباہی کو ختم کرنے کے لیے بھی اصلاح کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ ارشادِ پروردگار ہے: ﴿ إِلاَّ الَّذِينَ تَابُواْ وَأَصْلَحُواْ وَبَيَّنُواْ فَأُوْلَئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ﴾[1]؛ ’’سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے توبہ کی اور اپنے کئے کی اصلاح کر لی اور (جس کو چھپایا ہوا تھا) واضح کر دیا تو ایسے ہی لوگوں کی توبہ میں قبول کرتا ہوں اور بےشک میں بڑا توبہ قبول کرنے والا اور بہت مہربان ہوں۔‘‘ حقیقی توبہ میں گذشتہ بُرائی اور فساد کا دُور کرنا اور آئندہ بُرائی و فساد سے بچے رہنے کا تہیہ کرنا ضروری ہے۔ شائستہ اور صالح معاشرے کی تشکیل کا ہدف اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی دُنیوی و اُخروی اور مادی و معنوی ضرورتوں کو پورا کیا جائے؛ لہٰذا صالح معاشرے کی خصوصیات یہ ہیں کہ اس میں ہر ایک کی جان، مال، عزّت و آبرو اور ناموس محفوظ ہوتی ہے، لوگوں کی درمیان مہر و محبت اور اپنائیت کا راج ہوتا ہے اور سب لوگ روحانی و معنوی لحاظ سے پُرسکون اور مطمئن ہوتے ہیں۔

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ بسم اللہ الرحمن الرحیم بنام خدائے رحمن و رحیم اٴَللّٰھُمَّ اِنّيِ اٴَسْاٴَ لُکَ بِرَحْمَتِکَ الَّتي وَ سِعَتْ کُلَّ شَيْءٍ،وَ بِقُوَّتِکَ الَّتي قَھَرْتَ خدایا میراسوال اس رحمت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر محیط ھے۔ اس قوت کے واسطہ سے ھے جو ھر چیز پر حاوی ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ،وَخَضَعَ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ،وَذَلَّ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ، وَبِجَبَرُوتِکَ الَّتي غَلَبْتَ اور اس کے لئے ھر شے خاضع اور متواضع ھے۔ اس جبروت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر غالب ھے اور اس عزت کے واسطہ سے ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ، وَ بِعِزَّتِکَ الَّتي لاٰ یَقُومُ لَھٰا شَيْءٌ، وَبِعَظَمَتِکَ الَّتي مَلَاٴَتْ کُلَّ جس کے مقابلہ میں کسی میں تاب مقاومت نھیں ھے۔اس عظمت کے واسطہ سے ھے جس نے ھر چیز کو پر کردیا ھے شَيْءٍ، وَ بِسُلْطٰانِکَ الَّذي عَلاٰ کُلَّ شَيْءٍ، وَبِوَجْھِکَ الْبٰاقي بَعْدَ فَنٰاءِ کُلِّ شَيْءٍ،

تلاوت قرآن کی فضیلت

'پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا، جو شخص رات کو دس آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام غافلین (جو یاد خدا سے بے بہرہ رہتے ہیں) میں نہیں لکھا جائے گا اور جو شخص پچاس آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام ذاکرین (جو خدا کو یاد کرتے ہیں، حرام و حلال کا خیال رکھتے ہیں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص سو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام قانتین (عبادت گزاروں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص دوسو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام خاشعین (جو خدا کے سامنے متواضع ہوں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص تین سو آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام سعادت مندوں میں لکھا جائے گا، جو شخص پانچ ہزار آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام عبادت اور پرستش خدا کی کوشش کرنے والوں میں لکھا جائے گا اور جو شخص ہزار آیتوں کی تلاوت کرے وہ ایسا ہے جیسے اس نے کثیر مقدار میں سونا راہ خدا میں دے دیا ہو۔،،

تربیت اولاد کے انمول اصول تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

لغت کی کتابوں میں لفظ" تربیت" کے لیے تین اصل اور ریشہ ذکر ہوئے ہیں۔ الف:ربا،یربو زیادہ اور نشوونما پانےکے معنی میں ہے۔ ب: ربی، یربی پروان چڑھنا اور برتری کے معنی میں ہے۔ج: رب،یرب اصلاح کرنے اور سرپرستی کرنے کے معنی میں ہے۔۱صاحب مفردات کا کہنا ہے کہ "رب" مصدری معنی ٰ کے لحاظ سے کسی چیز کو حد کمال تک پہچانے ، پرورش اور پروان چڑھانے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ۲ صاحب التحقيق کا کہنا ہے اس کا اصل معنی ٰ کسی چیز کو کمال کی طرف لے جانے ، نقائص کو تخلیہ اور تحلیہ کے ذریعےرفع کرنے کے معنی ٰ میں ہے۔۳ بنابر این اگر اس کا ريشه(اصل) "ربو" سے ہو تو اضافہ کرنا، رشد ، نمو اور موجبات رشد کو فراہم کرنے کے معنی ٰ میں ہےلیکن ا گر "ربب" سے ہو تو نظارت ، سرپرستي و رهبري اور کسی چیز کو کمال تک پہنچانے کے لئے پرورش کے معنی ٰ میں ہے۔

پیٹ کا درد کئی امراض کی علامت ہوسکتا ہے

اگر پیٹ میں درد ہورہا ہو تو اس کی کئی وجوہ ہوسکتی ہیں۔ اکثر ناقص غذا کی وجہ سے معدے میں تکلیف ہونے لگتی ہے جسے ہم پیٹ کے درد سے تعبیر کرتے ہیں۔ معدے کا درد کئی امراض کی علامت بھی ہوسکتا ہے، اس لیے اسے نظرانداز نہیں کرنا چاہیے اور بلاتاخیر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

اقوال حضرت امام علی علیہ السلام

قال علی علیہ السلام :وا علم ان الخلائقییی لم یوکدوا بشئی اعظم من التقویٰ فانہ وصیتنا اھل البیت (۱) ترجمہ: حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں : لوگوں کو تقویٰ سے زیادہ کسی چیز کی تاکید نھیںکی گئی اس لئے کہ یہ ھم اھل بیت کی وصیت ھے ۔ حدیث (۲)

مشاہدات

آج

479

کل

655

اس ماہ

18299

اس سال

126246

ٹوٹل مشاہدات

295474