علماء کونسل کچورا سکردو بلتستان

متن

تحویلِ سال کی دعا

حضرت آیت اللہ جوادی آملی نے تحویلِ سال کی دعا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :

فروردین کا مہینہ ہے اور آپ کو پتہ ہے کہ یہ دعا انتہائی مبارک دعا ہے : «یا مُقلّب القلوب و الأبصار یا مدبّر اللیل و النهار یا محوّل الحول و الأحوال، حوّل حالنا إلی أحسن الحال»؛ یہ دعا انتہائی سبق آموز ہے ۔ یہ دعا اس لیے ہے کہ ہم خود بالغ ہوں اور حرکت کریں ؛ یہ دعا ہمیں تعلیم دیتی ہے کہ عمر کے سنّ و سال زیادہ ہونے کا معنی یہ نہیں ہے کہ زمین سورج کے گرد چکر لگائے اور یہ شخص بالغ ہو جائے ؛ ہم جو کہتے ہیں کہ فلاں شخص بالغ ہے یا بیس سال کا ہے ؛ اس کا کیا مطلب ہے ؟ یعنی بیس مرتبہ زمین سورج کے گرد گھومی ہے اور زمین نے حرکت کی ہے ۔ لیکن در حقیقت اگر اس شخص نے بیس علمی اور اخلاقی قدم اٹھائے ہوں تو اسے بیس سالہ کہیں گے ؛ ورنہ یہ بیس سال کا بچہ ہے ۔ ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم شمسِ حقیقت کے گرد گھومیں بعض افراد اسی سالہ اور ستر سالہ بچے ہیں ؛ بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھنے کے باوجود ان کی سوچ بچوں والی ہے اور کھیل کود میں مصروف ہیں ۔ وہ کتے اور بلی کے مجسمے کا خواہاں ہے ؛ اس سے سوال کرنا چاہئیے کہ خود زندہ کتے اور بلی کے تمہاری زندگی میں کیا اثرات اور فوائد ہیں کہ اب تم کتّے اور بلّی کے مجسّمے کی طلب میں ہو ؟! ایسے اشخاص بیس سالہ اور ۔۔۔۔۔ بچے ہیں ؛ چونکہ اس نے بذات خود حرکت نہیں کی ہے ۔ یہ صفت موصوف کے متعلّق سے مربوط ہے ؛ زمین بیس مرتبہ گھومی ہے لہٰذا اس کا مذکورہ شخص سے کیا ربط اور واسطہ ہے ؟! اس دعا سے پتہ چلتا ہے کہ ہمیں خدا سے مانگنا چاہئیے کہ ہمیں حرکت کی توفیق دے ۔ سورہ مبارکہ فاطر میں فرمایا : «فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ»؛[1] اس مقام پر یہ روایت ہے کہ «یحومُ حومَ نفسه»[2]؛ یعنی خود محور ہے اور اپنی ذات کے گرد چکر لگا رہا ہے ؛ ایسا شخص بالغ نہیں ہوتا ۔ اس نے بیس یا تیس مرتبہ اپنی ہوس کے گرد چکر لگایا ہے ؛ وہ بیس سالہ یا تیس سالہ بچہ ہے ، اس بنا پر فروردین کی آمد کا معنی یہ ہے کہ ہم اپنے سنّ و سال میں اضافہ کریں اور بالغ ہوں ۔ پس یہ بلوغ طبیعی بلوغ کے علاوہ ایک اور چیز ہے ۔

وجود مبارک حضرت (ع) نے فرمایا : ایک دوسرے کی ملاقات کو جاؤ ، صلہ رحمی کرو ۔ تمہاری صلہ رحمی کا طریقہ بھی اس طرح سے ہو ۔ کیوں ؟ چونکہ تم ہمارے شیعہ ہو ؛ جب آپس میں بیٹھتے ہو تو ہماری احادیث نقل کرتے ہو ۔ ہمارا کلام تمہارے اندر عاطفہ ، عاجزی اور اتّحاد ایجاد کرتا ہے اور اختلاف کا قلع قمع کر دیتا ہے ۔ «تَزاوَروا فإنَّ فی زیارتِکم إحیاءً لِقلوبِکم و ذکراً لأحادیثِنا و أحادیثُنا تُعَطِّفُ بعضَکم علی بعضٍ.»[3] یہ ایک معروف ضرب المثل ہے :

«سنگ روی سنگ بند نمی شود» (یعنی پتھر پتھر کے اوپر نہیں ٹھہرتا )

یہ انتہائی سبق آموز ضرب المثل ہے ، پس ان برجوں کو کس طرح تعمیر کیا جاتا ہے ؟ واقعا پتھر کے اوپر پتھر نہیں ٹھہرتا بلکہ سیمنٹ کی نرم و ملائم تہہ کا ان کے درمیان ہونا ضروری ہے تاکہ ان کو جوڑے ، عاطفہ اس نرم و ملائم مادے کی طرح ہے کہ جو مختلف افراد کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے ۔ فرمایا : یہ عاطفہ اور محبّت ایک دوسرے سے نزدیک ہونے کا باعث ہے ، یہ نرم و ملائم سیمنٹ کی تہہ ہے ورنہ ایک پتھر دوسرے پتھر کے اوپر نہیں ٹھہر سکتا ، اخلاق اور درگزر عاطفہ ہیں اور ان کا یہی کام ہے ۔

وہ لوگ جو اخلاقی مسائل کے حوالے سے جدوجہد اور کوشش کرتے ہیں ، وہ درمیانے درجے پر ہیں ؛ جو لوگ برتر معارف کے حصول کی سوچ رکھتے ہیں ، وہ منزل مقصود سے نزدیک تر ہیں ۔ اخلاق اور عرفان کا فرق گزشتہ دروس میں بیان کیا جا چکا ہے ۔ بعض فرق یہیں پر خلاصہ ہوتے ہیں ۔ کوئی شخص علم اور علمی کمال جمع کرنے کے درپے ہے اور علمی آثار فراہم کر رہا ہے اور کوئی شخص محاذ جنگ پر جا رہا ہے اور دین کی راہ میں جام شہادت نوش کرتا ہے ؛ ان دونوں کے درمیان کس قدر فرق ہے ؟ جو شخص حوزہ اور دانشگاہ میں ہے وہ بھی کامل ہو رہا ہے ؛ اس کا تکامل اس چیز کے ساتھ ہے کہ کچھ حاصل کرے ۔ جو شخص میدان جنگ کی طرف جا رہا ہے ، شہید ہو جاتا ہے اس کا تکامل اس بات میں ہے کہ کچھ فدا کرے ، وہ کس چیز کے حصول کی خاطر کسی شے کو گنوا رہا ہے ؟ دونوں حاصل کرتے ہیں ؛ لیکن شہید کیا لیتا ہے ؟ اور جو دانشگاہ یا حوزہ میں ہے ، وہ کیا حاصل کرتا ہے ؟ (تو سنیے ) جو حوزہ اور یونیورسٹی میں ہے ، علم اور اخلاق حاصل کرتا ہے اور بلند منزلیں حاصل کرتا ہے لیکن جو شہید ہوتا ہے ، وہ کہتا ہے کہ میں جا رہا ہوں تاکہ دوسرا میری جگہ لے کہ میرا سروکار اس دوسرے کے ساتھ ہے ۔ اگر کہا گیا ہے کہ شہید «ینظرُ فی وجه الله»[4] یا خدائے سبحان نے سورہ انفال میں وجود مبارک پیغمبر (صلّی الله علیه و آله و سلّم)  سے فرمایا : «وَ مَا رَمَیتَ إِذْ رَمَیتَ وَ لکنَّ اللّهَ رَمَی»،[5] شہداء اور راہ خدا کے مجاہدین سے فرماتا ہے فَلَمْ تَقْتُلُوهُمْ وَ لکنَّ اللّهَ قَتَلَهُمْ»؛[6] یہ شہید خود ایک طرف چلا گیا ہے ؛ اس کا شمار فصل سوم (وجه الله) میں ہوتا ہے ۔ پہلی فصل ممنوعہ علاقہ ہے اور ہماری بحث سے خارج ہے یعنی ذات اقدس الٰہی ۔ دوسری فصل صفات ذات کی حقیقت تک رسائی ہے ؛ یہ مطلب بھی ہماری بحث سے خارج ہے ۔ تیسری فصل "منطقۃ الفراغ " ہے کہ جس سے مراد وہی وجہ اللہ اور فیضِ خدا ہے ۔ یہ مقامِ امکان ہے نہ کہ مقام ذات ۔ شہید ایک طرف چلا جاتا ہے تاکہ یہ وجہ اللہ اس مقام پر ظہور کرے ۔ اس رو سے خدائے سبحان فرماتا ہے : تو جو رخت سفر باندھ چکا ہے ، تم نے کچھ نہیں کیا ؛ بلکہ میرا فیض ہی کارگر اور مؤثر تھا : «فَلَمْ تَقْتُلُوهُمْ وَ لکنَّ اللّهَ قَتَلَهُمْ.» اصطلاح میں اس مقام کو "مقامِ فنا" کہتے ہیں ؛ فنا فی اللہ اور بقا باللہ ۔ اگر کوئی اس مقام پر فائز ہو جائے وہ باقی ہے ۔ اگر وجود مبارک ولی عصر ارواحنا فداہ عالم امکان میں حقیقی "بقیة الله" ہیں اور ربّانی علماء بھی "بقیة الله" ہیں تو اس کا سبب یہ ہے کہ یہ اپنی ذات کو نہیں دیکھتے ؛ اس بنا پر «العلماءُ باقونَ ما بَقِی الدهر.»[7] کہا گیا ہے ، شہید "عند اللہ " بھی حضور رکھتا ہے ۔ اگر کوئی عند اللہی ہو جائے تو وہ بقائے الٰہی کے ساتھ باقی ہے ۔ اس بنا پر اخلاق اور عرفان کا فرق یہ ہے کہ انسان اخلاق میں اپنی ذات کی حفاظت اور خود میں کمالات پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے ؛ لیکن عرفان میں کوشش کرتا ہے کہ خود ایک طرف چلا جائے اور دوسرا ظہور کرے ۔ وہ دوسرا اس کے سب کام انجام دیتا ہے اور فرماتا ہے : «فَلَمْ تَقْتُلُوهُمْ وَ لکنَّ اللّهَ قَتَلَهُمْ.» یہ مختصر بحث ہماری گفتگو کے پہلے حصے سے مربوط تھی ۔

حضرت استاد نے اپنے خطاب کے دوسرے حصے میں نہج البلاغہ کے خط نمبر ۳۲ کی تشریح کے ضمن میں فرمایا :

نہج البلاغہ کی شرح کے حوالے سے سلسلہ کلام خط نمبر ۳۲ تک آن پہنچا ہے ۔ اس خط کو وجود مبارک حضرت امیر (ع)  نے (معاویہ علیہ من الرّحمن  ما یستحقّہ) کے لیے مرقوم فرمایا ہے اور یہ دو صفحات پر مشتمل ہے ۔ مرحوم سیّد رضی نے تقریباً ایک صفحہ نقل کیا ہے اور دوسرا صفحہ چھوڑ دیا ہے چونکہ آپ کو پتہ ہے کہ نہج البلاغہ حدیثی کتاب نہیں ہے بلکہ "نہج بلاغت" ہے نہ کہ "نہج حدیث" ۔ اس رو سے مرحوم سیّد رضیؒ بعض کلمات جو ان کی نگاہ میں متناسب و موزوں ، فصیح تر اور بلیغ تر تھے ؛ کا انتخاب عمل میں لائے ہیں اور باقی خط کو ذکر نہیں کیا ہے ؛ اس خط کا بقیہ حصہ جو ایک صفحہ ہے ، کتاب "تمام نہج البلاغہ" میں مذکور ہے [8] اس خط میں وجود مبارک حضرت امیر سلام اللہ علیہ نے معاویہ کے لیے اس طرح سے مرقوم فرمایا ہے : «وَ أَرْدَیتَ جِیلاً مِنَ النَّاسِ کثِیراً خَدَعْتَهُمْ بِغَیک وَ أَلْقَیتَهُمْ فِی مَوْجِ بَحْرِک»؛ تو نے ایک گروہ کو منفی پراپیگنڈے سے گمراہ کر دیا ۔ ان دنوں شامی عوام کو مدینے اور کوفے کے حالات سے متعلق کوئی معلومات نہیں تھیں ۔ اموی پراپیگنڈے نے انہیں برین واش کر کے منحرف کر دیا تھا ۔ حضرتؑ نے فرمایا : تو نے ایک گروہ کو ہلاک کر ڈالا اور فتنے کی لہروں  کو جنم دے کر انہیں ان طوفانی اور آشفتہ موجوں میں غرق کر دیا کہ «تَغْشَاهُمُ الظُّلُمَاتُ وَ تَتَلاطَمُ بِهِمُ الشُّبُهَاتُ»؛ ہر طرف سے اعتقادی اور اخلاقی شبہے اور اشکال انہیں تہ و بالا کر رہے ہیں اور تاریکی انہیں ڈھانپے ہوئے ہے  ۔ سورہ مبارکہ نور میں ہے کہ بعض لوگ «أَعْمَالُهُمْ کسَرَابٍ بِقِیعَةٍ»؛[9] ، شب ہے ، تاریکی ہے ، چاند بھی غائب ہے ، بادل ہیں ، بے رحم موجیں ہیں اور سخت تاریکی چھائی ہوئی ہے ؛ سیاہی اور تاریکی میں گرفتار شخص اس فضا میں  «إِذَا أَخْرَجَ یدَهُ لَمْ یکدْ یراهَا»[10] اگر وہ اپنا ہاتھ باہر نکالے تو نہ صرف یہ کہ اپنا ہاتھ نہیں دیکھ پاتا بلکہ نگاہ سے نزدیک بھی نہیں ہوتا ۔ "کاد" یعنی "قَرُب"، «لَمْ یکدْ» یعنی «لم یقرب»؛ یعنی دیکھنے کے نزدیک بھی نہیں ہے ۔ «إِذَا أَخْرَجَ یدَهُ لَمْ یکدْ یراهَا»  ہاتھ انسان کے اختیار میں ہے ، اس کا قبض و بسط ، اوپر نیچے کرنا ، اس کا شرق و غرب انسان کے اختیار میں ہے لیکن اس کے باوجود وہ اپنے ہاتھ کو نہیں دیکھ سکتا ۔ در حقیقت ایسی تاریکی میں ہے کہ جس نے تمام امور گم کر دئیے ہیں ۔ فرمایا : «تَتَلاطَمُ بِهِمُ الشُّبُهَاتُ فَجَازُوا عَنْ وِجْهَتِهِمْ وَ نَکصُوا عَلَی أَعْقَابِهِمْ»؛ وہ بنیادی مقصد کہ جس کی طرف متوجہ ہونا چاہئیے اس سے وہ الٹے پاؤں لوٹ گئے ہیں ۔ یہ بازگشت در اصل جاہلیت کی طرف ہے ۔ «وَ تَوَلّوْا عَلَی أَدْبَارِهِمْ»؛ وہی جاہلیت کے فخر و مباہات جس میں  زمانہ جاہلیت کے اعراب مبتلا تھے ، شامی بھی اس سے دوچار ہو گئے تھے ؛ وہ لوگ جو اموی حکومت کے منفی پراپیگنڈے کا شکار ہو گئے تھے ۔ «وَ عَوَّلُوا عَلَی أَحْسَابِهِمْ»؛ انہوں نے اپنے رنگ و نسل ، تاریخ اور اسلاف پر بھروسہ کیا اور انہی بوسیدہ فخر و مباہات کا ایک مرتبہ پھر ڈھنڈورا پیٹنا شروع کر دیا «إِلاَّ مَن فَاءَ مِنْ أَهْلِ الْبَصَائِرِ»؛ سوائے اس شخص کے جو اہل بصیرت ہو اور واپس آ جائے ۔ «فاء» یعنی لوٹ گیا . "فیء"  پلٹنے والے سائے کو کہا جاتا ہے ۔ صبح سے ظہر تک سایہ تازہ ہے ۔ ظہر کے بعد سایہ ضعیف ہے ۔ یہ سایہ ضعیف ہونے کے باوجود اگر بعد از ظہر میں شمار ہو اسے "فِیء کہتے ہیں یعنی بعد از طہر کا سایہ اور برگشتہ سایہ ۔ خود سائے کی کیا حیثیت ہے کہ اب برگشتہ سایہ کامل وجود حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ «إِلاَّ مَن فَاءَ مِنْ أَهْلِ الْبَصَائِرِ فَإِنَّهُمْ فَارَقُوک بَعْدَ مَعْرِفَتِک وَ هَرَبُوا إِلَی اللَّهِ مِنْ مُوَازَرَتِک»؛ جو لوگ اہل بصیرت ہیں انہوں نے تجھ سے دوری اختیار کر لی ہے ؛ جہالت سے علم کی طرف ، جہالت سے عقلانیت اور ظلم سے عدل کی طرف آ گئے ہیں اور تم سے دوری اختیار کیے ہوئے ہیں لیکن شام کے بہت سے لوگ تیرے منفی پراپیگنڈے کا شکار ہوئے «إِذْ حَمَلْتَهُمْ عَلَی الصَّعْبِ وَ عَدَلْتَ بِهِمْ عِنِ الْقَصْدِ»؛ جن لوگوں نے بھانپ لیا کہ تو ظلم کی راہ پر گامزن ہے ، انہوں نے واپسی کا راستہ اختیار کیا ۔ اور یہ سمجھ لیا کہ تو نے میانہ روی اور حد اعتدال سے دوری اختیار کر لی ہے ، وہ تم سے علیٰحدہ  ہو گئے لیکن ابھی بھی شامیوں کی اکثریت تیرے ساتھ ہے ۔ «فَاتَّقِ اللَّهَ یا مُعَاوِیةُ فِی نَفْسِک وَ جَاذِبِ الشَّیطَانَ قِیادَک فَإِنَّ الدُّنْیا مُنْقَطِعَةٌ عَنْک وَ الْآخِرَةَ قَرِیبَةُ مِنْک و السَّلاَمُ.» فرمایا : معاویہ ! مختصر عمر باقی رہ گئی ہے ، جہاں تک تمہاری وسعت ہے ، اپنی باگیں شیطان سے چھین لو تاکہ خود آزاد ہو ۔ سورہ مبارکہ اسراء میں آپ نے پہلے بھی ملاحظہ فرمایا : کہ شیطان قسم کھا رہا ہے کہ «لَأَحْتَنِکنَّ ذُرِّیتَهُ»؛[11] احتناک باب افتعال سے ہے ۔ حنگ گلے کے نچلے حصے کو کہتے ہیں ۔ شیطان نے کہا : میں ان پر سوار ہوں گا اور ان کی حنک اور تحت الحنک تھاموں گا ۔ گھڑ سواروں کو آپ نے دیکھا ہے کہ اگر پوری قوت اور غلبے سے گھڑ سواری کرنا چاہیں تو گھوڑے کی حنک پکڑ لیتے ہیں یعنی میں ان سے سواری چاہتا ہوں اور ان کی حنک اور تحت الحنک میرے ہاتھ ہو گی اور انہیں ہانکوں گا ۔ وجود مبارک حضرت امیر ( سلام اللہ علیہ ) نے فرمایا : معاویہ ! جہاں تک تمہاری طاقت ہے اپنی باگیں شیطان کے ہاتھوں سے چھڑوا کر خود کو آزاد کر ! عمر ختم ہونے میں زیادہ وقت باقی نہیں ہے اور موت کے بعد واپسی کی کوئی راہ نہیں ہے ۔ «وَ جَاذِبِ الشَّیطَانَ قِیادَک فَإِنَّ الدُّنْیا مُنْقَطِعَةٌ عَنْک وَ الْآخِرَةَ قَرِیبَةُ مِنْک»؛ اب تیرا بڑھاپا شروع ہو چکا ہے اور تم سے دنیا بھی رفتہ رفتہ منہ موڑ لے گی اور آخرت نزدیک ہو رہی ہے ۔ یہ وصیّت ہم سب کے لیے انتہائی نفع بخش ہے ۔

ہمیں امید ہے کہ خدائے سبحان ہمیں یہ توفیق عطا فرمائے کہ ہم اخلاقی اعتبار سے بھی اپنے خالص عزم و ارادے کے مالک ہوں ، امیر المومنین (سلام اللہ علیہ) کے فرامین کی روشنی میں اپنی زمام غیر خدا ، غیر قرآن و غیر عترت کے ہاتھوں نہ دیں !

------------------------------ 

[1] . سورهٴ فاطر, آيهٴ 32.
[2] . معاني الأخبار, ص104.
[3] . الكافي, ج2, ص186.
[4] . ر.ك: تهذيب الأحكام, ج6, ص122.
[5] . سورهٴ انفال, آيهٴ 17.
[6] . همان.
[7] . نهج‌البلاغه, حكمت 147.
[8] . تمام نهج‌البلاغه, ج7, ص181 ـ 183.
[9] . سورهٴ نور, آيهٴ 39.
[10] . سورهٴ نور, آيهٴ 40.
[11] . سورهٴ اسراء, آيهٴ 62

 

اس سے مربوط موضوعات

بین الاقوامی

امریکی جیل سے ایرانی سائنسدان رہا ہوگئے

امریکی جیل سے ایرانی سائنسدان رہا ہوگئے اسلامی جمہوریہ ایران کے سائنسدان مسعود سلیمانی امریکی جیل سے رہا ہوگئے ہیں۔

سوڈان کا یمن سے فوجی واپس بلانے کا اعلان

سوڈان کا یمن سے فوجی واپس بلانے کا اعلان سوڈان کے وزیراعظم عبداللہ حمدوک نے کہا ہے کہ یمن جنگ میں شریک سوڈانی فوجیوں کو یمن سے نکالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

امام خمینی

امام خمینی رہ کے انقلابی نظریات اور اس کے اثرات

امام خمینی علیہ الرحمہ کی شخصیت اعلم فقیہ، واصل عارف اور با بصیرت راہبر جیسی صفات کی حامل ہے، ایران کی سرزمین پر دو ہزار پانچ سو سالہ پرانی شہنشاہیت کو شکست دینے کے بعد شرق و غرب کی سپر پاورز کا سامنا کرنے والی شخصیت ہے۔

امام خمینی رح ایک مرد عارف

حضرت امام خمینی رح کے بارے میں عام طور پر جو بات ہمارے ہاں زیادہ مشہور ہے وہ یہ کہ آپ نے ایک ملوکیت اور بادشاہت کا خاتمہ کرکے ایک اسلامی اور مذہبی حکومت قائم کی۔ لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ استعماری طاقتوں کے خلاف تھے اور استعماری طاقتوں نے آپ کی حکومت کے خاتمے کے لیے اپنے پورے وسائل بروئے کار لائے لیکن وہ اس میں ناکام ہو گئیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ امام خمینی رح بہت شجاع اور بہادر تھے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ آپ نے ناجائز طور پر قائم صہیونی حکومت کے خاتمے اور فلسطینیوں کے حقوق کے حصول کے لیے بھی آواز بلند کی۔ آپ مستضعفوں اور محروموں کے حقوق کے بھی علمبردار تھے۔ آپ نے اتحاد امت کے لیے ایک زور دار آواز بلند کی۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ ایک عالم اور فقیہ تھے اور آپ کی تقلید کی جاتی تھی۔ بعدازاں آپ کا دیوان بھی چھپا اور پاکستان میں بھی بہت سے لوگوں کو معلوم ہوا کہ آپ صاحب دیوان شاعر بھی تھے، لیکن ابھی تک جو پہلو کم شناختہ یا ناشناختہ ہے وہ یہ ہے کہ آپ ایک بلند پایہ عارف تھے اور شاید یہ کہنا زیادہ بہتر ہو کہ آپ کے وجود سے پھوٹنے والی تمام تر خوبیوں کا سرچشمہ یہی امر ہے کہ آپ ایک عارف باللہ اور عاشق الٰہی تھے اور اس سلسلے میں نظری اور عملی طور پر نہایت عمق اور گہرائی کے مقام پر فائز تھے۔

امام خامنہ ای

ایرانی قوم نے دشمن کے ناپاک منصوبے کا نہایت ہوشیاری سے خاتمہ کردیا، امام خامنہ ای

ایرانی قوم نے دشمن کے ناپاک منصوبے کا نہایت ہوشیاری سے خاتمہ کردیا، امام خامنہ ای امام خامنہ ای نےتہران میں اسلامی جمہوریہ ایران کی بسیج نامی رضاکارفورس کے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ایرانی قوم نے دشمن کے ناپاک منصوبے کا نہایت ہوشیاری سے خاتمہ کردیا ہے۔

عراق و لبنان کے ہمدردوں کی پہلی ترجیح ناامنی کا علاج ہونا چاہیئے، آیت اللہ سید علی خامنہ ای

رہبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ ان تمامتر خباثتوں اور خطرناک کینہ پروریوں کے موجب چند ایک جانے پہچانے ہاتھ ہیں جبکہ ان تمام حوادث کے پیچھے امریکی و مغربی انٹیلیجنس ایجنسیز ہیں اور خطے کی بعض آمر حکومتوں کا پیسہ ہے، البتہ دشمن نے ایران کیلئے بھی ایسے ہی منصوبے تیار کر رکھے تھے، لیکن خوش قسمتی کیساتھ ایرانی قوم نے میدان میں قدم رکھتے ہوئے عقلمندی سے کام لیا۔

کلام و عقائد

بدا قرآن و حدیث کی روشنی میں

ذات الٰہی کے بارے میں بدا، حقیقت میں ابدا و اظہار ہے۔ یعنی جو کچھ خدا کے علم میں ہے اور انسان کے علم میں نہیں، اسےخداوند متعال اظہار و آشکار کرتا ہے۔ اسے بدا، کہنے کا سبب یہ ہے کہ یہ مقام فعل الٰہی میں نمایاں ہوتا ہے، اگرچہ ذات الٰہی میں جہل اور تغییر محال ہیں۔ خداوند متعال انبیاء کرام پر غیبی طریقے سے نظر رکھتا ہے تاکہ یہ لوگ وحی کے پہنچانے میں خطا سے محفوظ رہیں۔ قرآن کریم اس بارے میں ارشاد فرماتا ہے، "لِّيَعْلَمَ أَن قَدْ أَبْلَغُواْ رِسَالَاتِ رَبهِّم" تاکہ وہ دیکھ لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات کو پہنچا دیا ہے۔ واضح ہے کہ خداوند متعال پہلے سے ہی آگاہ ہے کہ انبیاء، وحی الٰہی کو صحیح طریقے سے لوگوں تک پہنچائیں گے۔

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی علم کلام کےاہم مباحث میں سے ایک حسن و قبح عقلی کا بحث ہے ۔اس سے مراد یہ ہے کہ کچھ افعال ذاتی طور پر حسن {اچھے} اور کچھ افعال ذاتی طور پر قبیح{ برے} ہیں ۔ معتزلہ اور امامیہ حسن و قبح عقلی کے قائل ہیں جبکہ اشاعرہ اس کی نفی کرتے ہیں۔ بہت سے کلامی مسائل اس بحث پر موقوف ہیں مثلا انسان کا اپنے اعمال میں خود مختار ہونا،خدا وند متعال کی بعض صفات کمالیہ کا ثبوت جیسے خدا کا عادل ہونا،اسی طرح بعض صفات سلبیہ بھی اسی بحث پر موقوف ہے جیسے خدا سے قبیح کا سرزد نہ ہونا،خداکا ظلم نہ کرنا وغیرہ ۔ جو لوگ حسن اور قبح کے قائل ہیں وہ انسانی افعال میں انسان کو مختار،خدا کو عادل مانتے ہیں جبکہ حسن و قبح کے مخالفین انسان کو مجبور اور خداکی عدالت سے انکار کرتے ہیں ۔

تربیت اولاد

خاندانی منصوبہ بندی : ایک معاشرتی ضرورت یا دھوکہ!

خاندانی منصوبہ بندی کوآج کے دور میں مختلف مملک کی حکومتیں اپنی کامیاب ترین پالیسیوں میں شمار کرتی ہیں۔ آبادی کا کنٹرول اور چھوٹا خاندان خوشحالی کا ذریعہ سمجھاجاتا ہے۔ خصوصاً محدود وسائل رکھنے والے ممالک میں اس پالیسی کو زیادہ اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے

تعليم و تربيت کے بارے ميں اسلامي علما کي آرا و نظريات

تاريخ اسلام ميں تقريبا تمام علماء و دانشور مختلف علوم ميں مھارت رکھنے کے ساتھ ساتھ تعليم و تربيت ميں بھي صاحب نظر اور مھارت کے حامل ہوا کرتے تھے اس سے اسلام ميں تعليم وتربيت کي اھميت کا پتہ چلتا ہے لھذا ہم يہاں پر علما اسلام کي نظر ميں تعليم و تربيت کي اھميت اجاگر کرنے کے لئے ان کے بعض نظريات پيش کر رہے ہيں۔

تندرستی

دانت صاف رکھیے... تاکہ دل محفوظ رہے، ماہرین

جنوبی کوریا میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ افراد پر تقریباً بارہ سال تک جاری رہنے والے ایک مطالعے میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ لوگ جو دن میں تین یا تین سے زیادہ مرتبہ اپنے دانت صاف کرتے ہیں، انہیں دل کی دھڑکنیں بے قابو ہونے اور دل کے دورے کا خطرہ بھی بہت کم ہوتا ہے۔

لہسن اور پیاز چھاتی کے سرطان سے بچانے میں مددگار

لہسن اور پیاز ایشیا میں ایک عرصے سے استعمال ہورہی ہیں اور اب ان کے متعلق اچھی خبر یہ آئی ہے کہ ان دونوں جادوئی سبزیوں کا بھرپور اور مسلسل استعمال خواتین کو چھاتی کے سرطان (بریسٹ کینسر) سے محفوظ رکھتا ہے۔

مہدویت{امام زمان عج}

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی امامت کے اہداف میں سے ایک ہدف امام معصوم کا لوگوں کی باطنی ہدایت ہے۔ امام لائق اور پاکیزہ دل رکھنے والے افراد کو اپنی طرف جذب کر کے انہیں کمال تک پہنچاتے ہیں۔ واضح ہے کہ انسان کا اس طرح ہدایت سے ہمکنار ہونے کے لئے ضروری نہیں کہ وہ امام کے ساتھ ظاہری رابطہ برقرار کرے۔ گذشتہ بیانات کی روشنی میں امام زمانہ (عج) کو بادل کے پیچھے پنہان روشن آفتاب سے تشبیہ دینے کا مقصد بھی واضح ہو جاتا ہے۔ اگرچہ بادل کے پیچھے پنہان سورج سے انسان مکمل طور بہرہ مند نہیں ہوتا ہے لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ اس سے انسان کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا ہے۔ بہرحال امام زمانہ (عج) کے وجود کے آثار و برکات سے بہرہ مند نہ ہونے کا سبب انسانوں کی طرف سے خاص حالات کا فراہم نہ کرنا ہے، جس کی وجہ سے لوگ اس عظیم نعمت کے فوائد سے محروم ہیں اور اس محرومیت کا سبب وہ خود ہیں نہ کہ خداوند متعال اور امام، کیونکہ خداوند متعال اور امام کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی مشکل درپیش نہیں ہے۔

دیگر مناسبتیں

آفتاب کربلا جناب حضرت علی اکبر علیہ السلام

کربلا کے میدان میں ایک جوان ایسا بھی تھا جو سیرت و صورت اورگفتار و کردار میں شبیہ پیغمبر تھے۔دیکھنے والا دنگ رہ جاتا تھا کہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے ہیں۔انہوں نے اس کائنات میں ایسی قربانی پیش کی کہ تمام دنیا دھنگ رہ گئی۔آپ ایسے باپ کے فرزند تھے جس پر رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ناز تھا ،جس کے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری بن گئے۔اس عظیم باپ کا فرزند تھا جس نے دنیا والوں کو جینا سکھایا اورباطل قوتوں کے سامنے قیام کر نا سکھایا۔

حدیث غدیر، حدیث متواتر

متواتر لفظی: وہ حدیث یا خبر جس کے تمام روایوں نے، تمام طبقات میں، اس حدیث یا خبر کے مضمون کو ہو بہو اور یکسان طور پر نقل کیا ہو۔ جیسے حدیث ثقلین کی عبارت، (انّي تارك فيكم الثقلين ۔۔) یا حدیث غدیر کی عبارت (من كنت مولاه فهذا عليّ مولاه)۔

چہاردہ معصومین ع

امام سجاد علیہ السلام

امام علیہ السلام نے کربلا سے کوفہ، کوفہ سے شام اور زندان سے رہائی تک ہر موقع پر اپنے خطبوں کے ذریعے جہاں قیام حسینی علیہ السلام کے اصولوں اور فلسفے سے لوگوں کو آگاہ فرمایا وہیں اسلام کا نام استعمال کرتے ہوئے اسلام کی دھجیاں اڑانے کی کوشش کرنے والی ناپاک حکومت کا مکروہ چہرہ بھی بےنقاب فرمایا۔

معاویہ و یزید کے دور حکومت میں امام حسین (ع) کا کردار

معاویہ کو ہر وقت آپ کے قیام کا خوف رہتا تھا۔ چنانچہ اس نے امام کے سامنے قبض و بسط کی پالیسی اپنائی یعنی ایک طرف سے آپ کی منزلت کو مدنظر رکھتا تھا اور بظاہر آپ کے لئے احترام کا قائل تھا اور آپ کی تعظیم کرتا تھا اور اپنے کارگزاروں کو بھی ہدایت کرتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرزند کو نہ چھیڑیں اور ان کی بےحرمتی سے پرہیز کریں۔ دوسری طرف سے امام کی مسلسل اور شب و روز نگرانی کو اپنی پالیسی کا حصہ بنایا اور سفر اور حضر میں آپ کی تمام حرکات و سکنات پر کڑی نظر رکھی جاتی تھی۔

دیگر موضوعات

جابر بن عبداللہ انصاری پہلا زائر اربعین حسینی

عطیہ کوفی کے مطابق جابر بن عبد اللہ انصاری کے ساتھ حسین بن علی علیہ السلام کی قبر کی زیارت کرنے کے لئے کوفہ سے نکلے۔ جب ہم کربلا پہنچے تو جابر فرات کے ساحل کے قریب گیا اور غسل انجام دیا اور محرم افراد کی طرح ایک چادر پہنی، پھر ایک تھیلی سے خوشبو نکالا اور اپنے آپ کو اس خوشبو سے معطر کیا اور ذکر الہی کے ساتھ قدم اٹھانا شروع کیا، یہاں تک کہ وہ حسینؑ ابن علیؑ کے مرقد کے قریب پہنچا۔ جب ہم نزدیک پہنچے تو جابر نے کہا کہ میرا ہاتھ قبر حسینؑ پر رکھو۔ میں نے جابر کے ہاتھوں کو قبر حسین پر رکھا۔ اس نے قبر حسینؑ ابنی علی کو سینے سے لگایا اور بے ہوش ہو گیا۔ جب میں نے اس کے اوپر پانی ڈالا تو وہ ہوش میں آیا۔ اس نے تین مرتبہ یا حسینؑ کی آواز بلند کی۔

عطیہ عوفی(کوفی)زائر اربعین حسینی

زیارت اربعین کی اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ امام حسن عسکری علیہ السلام نے فرمایا: مومن کی نشانیوں میں سے ایک زیارۃ اربعین کی تلاوت کرناہے۔۳۔جب بھی زیارت اربعین اورچہلم امام حسین علیہ السلام کا ذکر ہو وہاں حتما ان دو ہستیوں یعنی جابر اور عطیہ کا ذکر ہوتا ہے۔ یہ دونوں ہستیاں اسلامی تاریخ کی معروف شخصیات میں سے ہیں۔ لیکن جو چیز انہیں دوسری شخصیات اورافراد سے ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ان کا شمار امام حسین علیہ السلام کے پہلے زائروںمیں ہوتا ہے۔

سب سے زیادہ زیر بحث

امام علی علیہ السلام کی شانِ میں چہل حدیث

مولا علیؑ کی شان میں چالیس احادیث اور یہ ﻭﻩ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ہیں ﺟﻮ ﺻﺤﺎﺡ ﺳﺘﻪ ﻣﯿﮟ بھی موجود ہے. 1= ﻋﻨﻮﺍﻥ ﺻﺤﻴﻔﺔ ﺍﻟﻤﺆﻣﻦ ﺣﺐّ ﻋﻠﻰؑ ﺑﻦ ﺍﺑﻰ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ. ﺻﺤﯿﻔﮧ ﻣﻮﻣﻦ ﮐﺎ ﻋﻨﻮﺍﻥ ﻣﺤﺒﺖِ ﻋﻠﯽؑ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻃﺎﻟﺐؑ ﮨﮯ.

دعا کی اہمیت

دعا کی اہمیت حضرت انسان کس قدر شرف و عظمت کا مالک ہے،اس کے لئے کائنات بنی،پوری کائنات میں اسی کو عزت و تکریم کا حق دار ٹھہرایا گیا۔تمام مخلوق اس کی خدمت اور منفعت کے لئے پیدا کی گئی۔لیکن اتنی عظمتوں کے باوجود اس کی خلقت کا مقصد اللہ کی معرفت اور عبادت قرار دیا گیا۔لہذا انسان کا اہم کام خدا سے ارتباط و ربط ہے۔مگر کیسا رابطہ؟ اتنی عظمتوں کے باوجود بارگاہ خداوندی میں فقر محض اور احتیاج محض ہے جبکہ ذات پروردگار غناء ہی غناء ہے۔بلندی ہی بلندی ہے۔انسان مشکلات،مصائب اور تکالیف میں ایسی ذات کی طرف رجوع کر کے اپنے فقر اور احتیاج محض ہونے کا اقرار و اعتراف کرتے ہوئے اپنی نفی اور بے ثباتی کا اظہار کرتا نظر آتا ہے۔اس سلسلے میں انسان کا ایک اہم وسیلہ دعا ہے۔دعا کے ذریعے اپنی احتیاج کا اظہار بھی کرتا ہے اوراللہ سے اعانت کی التجا بھی کرتا ہے۔

قرآنِ کریم اور اصلاحِ معاشرہ تحریر: عارف حسین تھہیم

لفظِ ’’اصلاح‘‘ درست کرنے، صحیح کرنے اور خرابی کو دُور کے معنی میں آتا ہے۔ معاشرتی اور اجتماعی مفہوم کے اعتبار سے شائستہ اور نیک عمل انجام دینے، نیز فساد و تباہی کو ختم کرنے کے لیے بھی اصلاح کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ ارشادِ پروردگار ہے: ﴿ إِلاَّ الَّذِينَ تَابُواْ وَأَصْلَحُواْ وَبَيَّنُواْ فَأُوْلَئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ﴾[1]؛ ’’سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے توبہ کی اور اپنے کئے کی اصلاح کر لی اور (جس کو چھپایا ہوا تھا) واضح کر دیا تو ایسے ہی لوگوں کی توبہ میں قبول کرتا ہوں اور بےشک میں بڑا توبہ قبول کرنے والا اور بہت مہربان ہوں۔‘‘ حقیقی توبہ میں گذشتہ بُرائی اور فساد کا دُور کرنا اور آئندہ بُرائی و فساد سے بچے رہنے کا تہیہ کرنا ضروری ہے۔ شائستہ اور صالح معاشرے کی تشکیل کا ہدف اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی دُنیوی و اُخروی اور مادی و معنوی ضرورتوں کو پورا کیا جائے؛ لہٰذا صالح معاشرے کی خصوصیات یہ ہیں کہ اس میں ہر ایک کی جان، مال، عزّت و آبرو اور ناموس محفوظ ہوتی ہے، لوگوں کی درمیان مہر و محبت اور اپنائیت کا راج ہوتا ہے اور سب لوگ روحانی و معنوی لحاظ سے پُرسکون اور مطمئن ہوتے ہیں۔

پیٹ کا درد کئی امراض کی علامت ہوسکتا ہے

اگر پیٹ میں درد ہورہا ہو تو اس کی کئی وجوہ ہوسکتی ہیں۔ اکثر ناقص غذا کی وجہ سے معدے میں تکلیف ہونے لگتی ہے جسے ہم پیٹ کے درد سے تعبیر کرتے ہیں۔ معدے کا درد کئی امراض کی علامت بھی ہوسکتا ہے، اس لیے اسے نظرانداز نہیں کرنا چاہیے اور بلاتاخیر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ بسم اللہ الرحمن الرحیم بنام خدائے رحمن و رحیم اٴَللّٰھُمَّ اِنّيِ اٴَسْاٴَ لُکَ بِرَحْمَتِکَ الَّتي وَ سِعَتْ کُلَّ شَيْءٍ،وَ بِقُوَّتِکَ الَّتي قَھَرْتَ خدایا میراسوال اس رحمت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر محیط ھے۔ اس قوت کے واسطہ سے ھے جو ھر چیز پر حاوی ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ،وَخَضَعَ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ،وَذَلَّ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ، وَبِجَبَرُوتِکَ الَّتي غَلَبْتَ اور اس کے لئے ھر شے خاضع اور متواضع ھے۔ اس جبروت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر غالب ھے اور اس عزت کے واسطہ سے ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ، وَ بِعِزَّتِکَ الَّتي لاٰ یَقُومُ لَھٰا شَيْءٌ، وَبِعَظَمَتِکَ الَّتي مَلَاٴَتْ کُلَّ جس کے مقابلہ میں کسی میں تاب مقاومت نھیں ھے۔اس عظمت کے واسطہ سے ھے جس نے ھر چیز کو پر کردیا ھے شَيْءٍ، وَ بِسُلْطٰانِکَ الَّذي عَلاٰ کُلَّ شَيْءٍ، وَبِوَجْھِکَ الْبٰاقي بَعْدَ فَنٰاءِ کُلِّ شَيْءٍ،

مقصد قیام امام حسین علیہ السلام تحریر: محمد حسن حسرت کچوروی

امام حسین ؑ ۲۸ رجب ۶۰ ھ میں مدینہ سے حرکت کرتے ہیں اور ۳ شعبان المعظم کو مکہ میں پہنچتے ہیں پھر ۸ ذی الحجہ کو مکہ سے کوفہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں ۲ محرم الحرام کو وارد کربلا ہوتے ہیں اور ۱۰ محرم الحرام کو شھید ہو جاتے ہیں اس مختصرعرصے میں انسان سو سے زیادہ درس حاصل کر سکتا ہے بلکہ کہہ سکتے ہیں کہ امام کے اس مختصر عرصےمیں ہزاروں دروس شامل ہیں لیکن یہ سارے دروس ایک اصلی درس ‘ حرکت اور قیام امام میں موجود ہیں باقی سارے حاشیے ہیں متن یہ ہے کہ امام نے قیام کیوں کیا؟ یہ اصلی درس ہے لوگ امام سے کہتے تھے آپ مدینہ اور مکہ میں محترم ہیں یمن میں اتنے سارے شیعہ ہیں کسی کونے میں تشریف لے جائیں اور یزید سے کوئی سروکار نہ رکھے تاکہ وہ بھی آپ سے کوئی سروکار نہ رکھے۔ یہ سارے مرید ہیں انہیں تبلیغ کریں عبادت کریں اور زندگی کریں۔ کاس قیام کا مقصد کیاہے ۔۔؟

اخلاق حسنہ کے بارے میں معصومین (ع) کے ارشادات

رسول خدا (ص) اور ا ئمہ معصومین علیہم اسلام اخلاق حسنہ کى اعلى ترین مثالیں ہیں اور یہ بے مثال "حُسن خلق" ان کے کردار اور گفتار سے عیاں تھا، ان ہى عظیم شخصیتوں کے ارشادات کى روشنى میں ہم "حُسن خلق" کے اعلى درجہ پر فائز ہو سکتے ہیں۔

تلاوت قرآن کی فضیلت

'پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا، جو شخص رات کو دس آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام غافلین (جو یاد خدا سے بے بہرہ رہتے ہیں) میں نہیں لکھا جائے گا اور جو شخص پچاس آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام ذاکرین (جو خدا کو یاد کرتے ہیں، حرام و حلال کا خیال رکھتے ہیں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص سو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام قانتین (عبادت گزاروں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص دوسو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام خاشعین (جو خدا کے سامنے متواضع ہوں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص تین سو آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام سعادت مندوں میں لکھا جائے گا، جو شخص پانچ ہزار آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام عبادت اور پرستش خدا کی کوشش کرنے والوں میں لکھا جائے گا اور جو شخص ہزار آیتوں کی تلاوت کرے وہ ایسا ہے جیسے اس نے کثیر مقدار میں سونا راہ خدا میں دے دیا ہو۔،،

مشاہدات

آج

953

کل

611

اس ماہ

18019

اس سال

234650

ٹوٹل مشاہدات

403878