علماء کونسل کچورا سکردو بلتستان

متن

امام خمینی رح ایک مرد عارف

حضرت امام خمینی رح کے بارے میں عام طور پر جو بات ہمارے ہاں زیادہ مشہور ہے وہ یہ کہ آپ نے ایک ملوکیت اور بادشاہت کا خاتمہ کرکے ایک اسلامی اور مذہبی حکومت قائم کی۔ لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ استعماری طاقتوں کے خلاف تھے اور استعماری طاقتوں نے آپ کی حکومت کے خاتمے کے لیے اپنے پورے وسائل بروئے کار لائے لیکن وہ اس میں ناکام ہو گئیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ امام خمینی رح بہت شجاع اور بہادر تھے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ آپ نے ناجائز طور پر قائم صہیونی حکومت کے خاتمے اور فلسطینیوں کے حقوق کے حصول کے لیے بھی آواز بلند کی۔ آپ مستضعفوں اور محروموں کے حقوق کے بھی علمبردار تھے۔ آپ نے اتحاد امت کے لیے ایک زور دار آواز بلند کی۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ ایک عالم اور فقیہ تھے اور آپ کی تقلید کی جاتی تھی۔ بعدازاں آپ کا دیوان بھی چھپا اور پاکستان میں بھی بہت سے لوگوں کو معلوم ہوا کہ آپ صاحب دیوان شاعر بھی تھے، لیکن ابھی تک جو پہلو کم شناختہ یا ناشناختہ ہے وہ یہ ہے کہ آپ ایک بلند پایہ عارف تھے اور شاید یہ کہنا زیادہ بہتر ہو کہ آپ کے وجود سے پھوٹنے والی تمام تر خوبیوں کا سرچشمہ یہی امر ہے کہ آپ ایک عارف باللہ اور عاشق الٰہی تھے اور اس سلسلے میں نظری اور عملی طور پر نہایت عمق اور گہرائی کے مقام پر فائز تھے۔

ہم مثال کے طور پر عرض کریں گے کہ امام خمینی رح جو نہایت شجاع تھے اور موت سے ہرگز نہ ڈرتے تھے، اس کی وجہ یہی تھی کہ وہ اپنے پروردگار پر عارفانہ ایمان رکھتے تھے۔ اس امر کو عصر حاضر کے ایک اور عارف آیت اللہ جوادی آملی جو امام خمینی رح کے شاگردوں میں سے ہیں، یوں بیان کرتے ہیں:

امام خمینی رح کی ایک واضح خصوصیت یہ تھی کہ آپ موت سے نہ ڈرتے تھے کیونکہ آپ ارادی موت کا تجربہ کرچکے تھے۔ جب کوئی شخص ارادی موت کا تجربہ کرچکا ہو اور اسے موت کا خوف نہ ہو اور موت سے اس کی کوئی چیز ضائع نہ ہوتی ہو تو پھر دیگر مسائل اس کے لیے حل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ 15خرداد (5جون ء1963) کے واقعے کے بعد اپنی جلاوطنی کے بارے میں فرماتے تھے:

یہ لوگ (حکمران) ڈرتے تھے، میں نہ ڈرتا تھا۔

یونہی 25 شوال کے واقعے میں جب پہلوی حکومت کے کارندوں نے بعض طلاب کو شہید کر دیا تو بہت سے علماء ڈر گئے، وہ کہتے تھے کہ یہ تقیہ کا وقت ہے، وہ خاموش ہوگئےو جب کہ امام نے اگلے روز حکومت سے خطاب کرتے ہوئے ایک اعلامیہ جاری کیا جس میں یہ عبارت تھی:

تمھارے ظلم نے منگولوں کا چہرہ بھی سفید کر دیا۔

جب انسان اپنی ذاتی آرزوؤں کو مار لیتا ہے اور اپنی خواہشوں کی بنیاد پر حرکت نہیں کرتا۔ اپنی ہوس کے لیے حرکت نہیں کرتا، اپنی آرزو کے لیے متحرک نہیں ہوتا بلکہ متحرک بالولایۃ ہوتا ہے تو وہ موت سے ہرگز نہیں ڈرتا۔ جب موت سے ڈر نہ ہو تو پھر ایسا ہوتا ہے جیسے امام خمینی رح تھے۔ دوسروں کو اپنی ذمے داری ادا کرنے سے جو چیز روک دیتی تھی وہ یہی موت سے خوف تھا۔ انہی دنوں میں جب امام ظلم کے خلاف سینہ سپر تھے و میں ایک مرجع کی خدمت میں حاضر ہوا کہ جو میرے اساتذہ میں سے تھے، میں نے دیکھا کہ انھوں نے علامہ مجلسی مرحوم کی (حدیث کی کتاب) بحار کھول رکھی ہے اور تقیہ کے موضوع کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ اگرچہ ممکن تھا کہ وہ جہاد، معرکے اور ایثار کے موضوع پر بات کرتے لیکن وہ جہاد کا ذکر کرتے ہوئے بھی تقیہ کے بارے میں سوچ رہے تھے و لیکن امام جہاد کی بات کرتے تھے تو جہاد کے بارے میں ہی سوچتے تھے۔ ان کا دل جہاد کے لیے بے قرار تھا۔ ان میں یہ خصوصیت تھی ان میں یہ ہنر تھا۔۔۔ امام معارف اسلامی کے ایک پہلو سے یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْب میں سے نہ تھے و بلکہ یومنون بالشھادۃ میں سے تھے۔ ہم عام طور پر مومنین بالغیب میں سے ہوتے ہیں۔۔۔ یہ جو قرآن نے فرمایا ہے یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْب یہ کم سے کم صورت کا بیان نہ کہ یہ معیار کمال ہے۔ یعنی قرآن یہ کہنا چاہتا ہے کہ اس سے پیچھے نہ رہناو وگرنہ یہ جو (امیرالمومنین حضرت علی "ع" نے) فرمایا ہے ’’لو کشف الغطا ما ازددت یقینا‘‘ یعنی اگر پردے ہٹا دیئے جائیں تو میرے یقین میں اضافہ نہیں ہوگا، یہ ایمان بالشہادۃ کا بیان ہے۔

*******

بہت سے اہل نظر کی یہ رائے ہے کہ امام خمینی رح خود محی الدین اور محی العرفان تھے۔ انھوں نے دلدادگی اور دلبری کے رموز مکتب قرآن اور اہل بیت علیہم السلام کے غیبی خزانوں سے حاصل کئے تھے۔ اس سلسلے میں ان کی کتاب سرالصلوٰۃ قابل مطالعہ ہے۔ انھوں نے اپنی ایک اور کتاب مصباح الھدایۃ میں شریعت، طریقت اور حقیقت کا باہمی تعلق ایک مرتبہ پھر واضح طور پر بیان کیا۔ بہت سے افراد کے نزدیک عرفان اور اس کے حقائق ناقابل تعلیم، ناقابل ترویج اور ناقابل انتقال ہیں، لیکن امام خمینی رح کی عرفانی خصوصیات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ نے عرفان کی ترویج کی اور اپنے خاص اسلوب سے یہ بات ثابت کی کہ عرفان اسلام کی ایک خاص شناخت کا نام نہیں بلکہ یہ قرآن کے حقائق اور انبیاء و اولیاء کا مقصود اعلٰی ہے۔ آپ اپنے عام خطابات میں بھی عرفانی مطالب کو نہایت عمدگی اور سادگی سے بیان کر دیتے تھے اور عرفانی حالت عام طور پر آپ کے وجود پر طاری ہوتی تھی۔ امام کی عرفانی خصوصیات میں سے یہ بھی ہے کہ آپ کا اس امر پر اصرار تھا اور آپ نے بارہا اس کی تصریح کی کہ روش عرفانی عقل صریح اور برہان فصیح کے مخالف نہیں ہے۔ ان امور کو آپ نے تقریر و تحریر میں واضح کیا ہے۔

امام خمینی رح نے شریعت اور طریقت و حقیقت کے باہمی تعلق کو نہایت عمدگی سے بیان فرمایا ہے۔ آپ نے فصوص الحکم کی شرح بھی لکھی ہے۔ فص ایوبی میں آیۃ شریفہ ’’ وَ لَوْ اَنَّھُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰۃَ وَ الْاِنْجِیْلَ‘‘ کے ذیل میں فرماتے ہیں: کہ مراد یہ ہے کہ اگر وہ شریعت کے پیروکار ہوں، تورات و انجیل و دیگر کتب الٰہی پر عمل کریں تو ان کے لیے طریقت اور علم حقیقت کا حصول ممکن ہوجائے گا۔ یہ امر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ طریقت و حقیقت کا مقام شریعت کے بغیر ہاتھ نہیں آتا۔ خود آپ نے اپنے الفاظ میں اس کی وضاحت یوں کی ہے:

وان الظاھر طریق الباطن، بل یفھم منہ ان الظاھر غیر منفک عن الباطن۔۔۔ومن اراد ان یصل الی الباطن من غیر طریق الظاھر۔ کبعض عوام الصوفیۃ۔ فھو علی غیر بینۃ من ربہ۔

یقیناً ظاہر باطن تک پہنچنے کا راستہ ہے بلکہ اس سے یہ سمجھ آتا ہے کہ ظاہر کو باطن سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔۔۔اور جو ظاہر کے راستے کے بغیر باطن تک پہنچنا چاہیں جیسا کہ بعض عام صوفیہ، تو اس کے پاس اپنے رب کی طرف سے کوئی دلیل نہیں۔

امام خمینی رح نے اپنی تقریروں میں دعاؤں اور مناجات کی تلاوت پر جتنا زور دیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ آپ نے اہل بیت رسالت سے منقول بعض دعاؤں کا بار بار ذکر کیا۔ آپ نے مناجات شعبانیہ، دعائے عرفہ اور دعائے کمیل کی تلاوت پر بہت زور دیا۔ آپ آئمہ اہل بیت کی ان دعاؤں کو ’’قرآن صاعد‘‘ کا نام دیتے تھے۔ آپ کی برکت سے دنیا کے بہت سے ممالک میں اجتماعی اور انفرادی طور پر مناجات کی تلاوت کا رواج پیدا ہوا۔ یہ سب بھی امام خمینی رح کے مقام عرفانی ہی کا ترشح تھا۔ بلند ترین سیاسی مقام پر ہونے کے باوجود آپ کی سادہ زیستی، آپ کا چھوٹا سا گھر، پاؤں میں معمولی سا چپل، چھوٹے سے کمرے میں جہاں ایک سادہ سا صوفہ پڑا ہوتا تھا، میں دنیا بھر سے آنے والے حکمرانوں سے ملاقات اور آپ کی نشست کے اوپر آویزاں کتبہ جس پر یہ آیت لکھی ہوتی تھی’’ کَلِمَۃُ اللّٰہِ ھِیَ الْعُلْیَا‘‘ آپ کے عشق الٰہی اور مسلک عرفان ہی کا غماز تھا۔

آپ کا دیوان اور آپ کی شاعری عشق الٰہی کے زمزموں اور نغموں سے معمور ہے۔ اس کے مطالعے سے یوں لگتا ہے کہ ایک عاشق دل باختہ ہمہ وقت اپنے محبوب سے باتیں کر رہا ہے اور اس کے وصال کے لیے بے قرار ہے، اس کی ہر ادا میں اسے حسن ہی حسن نظر آتا ہے۔ امام خمینی رح کے چند شعر ملاحظہ فرمائیں:

عاشقم عاشقم مریض تو ام

 

زین مرض من شفا نمیخواہم

 

از تو جانا جفا وفا باشد

 

پس دگر من وفا نمیخواہم

میں عاشق ہوں، میں عاشق ہوں اور میں تیرا مریض ہوں، میں اس مرض سے شفا کا طلبگار نہیں۔ اے محبوب تری تو جفا بھی میرے لیے وفا ہے۔ لہٰذا میں تجھ سے وفا طلب نہیں کرتا۔

 

جوں جوں آپ کی رحلت کا وقت قریب آتا چلا جاتا تھا، آپ کی شاعری میں ایک خاص کیفیت پیدا ہوتی چلی جاتی تھی۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے بہار آنے کو ہے اور ایک عاشق بے قرار کی اپنے محبوب سے ملاقات اور مرحلہ وصال نزدیک آچکا ہے۔ چند اشعار ملاحظہ ہوں:

بہار آمد جوانی را پس از پیری زسر گیرم

 

کنار یار بنشینم زعمر خود ثمر گیرم

 

بگلشن باز گردم با گل و گلبن در آمیزم

 

بطرف بوستان دلدار مہوش راببرگیرم

بہار آگئی ہے، پیری کے بعد مجھے پھر سے جوانی ملا چاہتی ہے، محبوب کے پہلو میں بیٹھوں گا اور عمر بھر کا ثمر اب حاصل کروں گا۔ گلشن کی طرف لوٹ جاؤں گا اور پھول بوٹوں سے ملاقات کروں گا۔ باغ کی طرف لوٹ جاؤں گا اور چاند جیسے دلدار کے ساتھ جا ملوں گا۔

 

ایک اور غزل کے دو شعر

 

آید آن روز کہ خاک سر کویش باشم

 

ترک جان کردہ و آشفتہ رویش باشم

 

ساغر روح فزا از کف لطفش گیرم

 

غافل از ہر دو جہان بستۂ مویش باشم

وہ دن آئے کہ میں تیرے کوچے کی خاک بن جاؤں، اپنی جان دے دوں اور تیرے چہرے کا دیوانہ بن جاؤں، تیرے لطف کے ہاتھ سے روح فزا ساغر لوں اور دونوں جہان سے غافل تیری زلف کا اسیر بن جاؤں۔

جنھیں امام خمینی کے عرفان، مقام عرفانی اور مسلک عرفانی سے سروکار ہو، وہ کم ازکم امام خمینی کے ان عرفانی مکتوبات کا مطالعہ ضرور کریں، جن کا اردو میں ترجمہ دستیاب ہے۔ اس حدیث عشق کے کہنے کے لیے بہت کچھ ہے، لیکن یہ کہنے سے زیادہ کسی اور چیز کی متقاضی ہے۔

تحریر: ثاقب اکبر

 

بشکریہ اسلام ٹائمز

اس سے مربوط موضوعات

امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی ممتاز شخصیت رہبر معظم انقلاب اسلامی کی نظر میں
امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ بےمثال اور ممتاز خصوصیات کے مالک تھے آپ کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر جتنا ہم غور کرتے ہیں آپ کی شخصیت اور بھی نمایاں اور بےمثال دکھائی دیتی ہے۔ اگرچہ آج انکے فراق کا داغ ہمارے دلوں کو تڑپا رہا ہے اور غم کی سنگینی ہمارے دلوں پر بوجھ بنی ہوئی ہے، انکے فقدان کا کہیں زیادہ احساس ہو رہا ہے لیکن ان کی شخصیت افکار اور کردار آج بھی زندہ ہے۔ ہم ذیل میں قائد انقلاب کے بیانات اور نظریات کی روشنی میں بانی انقلاب کی آفاقی شخصیت کی طرف مختصراً اشارہ کرتے ہیں۔ ایمان اور عمل صالح کا مصداق: امام کی شخصیت بڑی حد تک ان کے عظیم اہداف اور مقاصد سے وابستہ ہے۔ آپ اپنی بلند ہمتی کے باعث اعلٰی اہداف کا انتخاب کیا کرتے تھے۔ عام لوگوں کے لیے ایسے اہداف کا تصور بھی دشوار تھا اور لوگ سمجھتے تھے کہ یہ اعلٰی اہداف ناقابل حصول ہیں لیکن آپ کی بلند ہمتی، ایمان و توکل، جہد مسلسل اور اس عظیم ذات میں پوشیدہ بےپناہ صلاحیتیں اور توانائیاں کارفرما تھیں اور وہ اپنے مطلوبہ اہداف و مقاصد کی سمت بڑھتے چلے جاتے اور اچانک سب دیکھتے کہ وہ اعلیٰ اہداف حاصل ہو گئے ہیں۔ آپ کے کام کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ آپ حکم الٰہی اور شرعی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کھو جایا کرتے تھے۔ آپ کے سامنے ذمہ داریوں کی ادائیگی کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا تھا۔ آپ حقیقی معنوں میں ایمان اور عمل صالح کے مصداق تھے۔ آپ کا ایمان پہاڑ کی مانند مستحکم تھا اور عمل صالح کی انجام دہی میں آپ کھبی نہ تھکنے والی حیرت انگیز شخصیت کے مالک تھے۔ (نیک) کاموں کی انجام دہی میں آپ انتہائی قوی اور باہمت شخصیت کے مالک تھے جو سبھی کے لئے حیران کن تھی1۔ جامع صفات کی حامل عظیم شخصیت ہمارے عظیم اور ہر دلعزیز رہبر کبیر کی شخصیت کا درحقیقت انبیائے الٰہی اور آئمہ معصومین علیہم السلام کے بعد کسی بھی اور شخصیت سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ وہ ہمارے لئے عطیہ الٰہی، حجت خدا اور عظمت الٰہی کی نشانی تھے۔ جب انسان انہیں دیکھتا تو بزرگان دین کی عظمت کا اندازہ کر لیتا۔ ہم رسول خدا، امیر المومنین، سید الشہداء، امام جعفر صادق اور دیگر اولیاء علیہھم السلام کی عظمت کا صحیح تصور تک بھی نہی کرسکتے۔ ہمارے ذہن اس سے کہیں چھوٹے ہیں کہ ان عظیم ہستیوں کی عظمت ذاتی کا احاطہ کر سکیں یا اسے دائرہ تصور میں لاسکیں لیکن جب کوئی شخص ہمارے امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی عظیم اور ہمہ گیر شخصیت کو دیکھتا ہے، قوت ایمانی، عقل سلیم، حکمت و دانائی، صبر و بردباری، سچائی و پاکیزگی، تجملات دنیا سے بےاعتنائی، زھد و تقوٰی و پرھیزگاری، خوف خدا، اور اللہ تعالٰی کی پرخلوص عبادت کا مشاہدہ کرتا ہے تو اس عظیم انسان اور آسمان ولایت کے خورشید تابناک کے سامنے سر تعظیم خم کر دیتا ہے اور خود کو انکے سامنے ذرے سے بھی کمتر سمجھتا ہے، انسان کو کسی حد تک اندازہ ہوتا ہے کہ انبیاء اور اولیاء معصومین کی ذات کس قدر عظیم ہے۔ فاتح فتح الفتوح آپ نے محاذ جنگ پر ملنے والی ایک کامیابی کے موقع پر مجاہدین سے فرمایا، "فتح الفتوح" کا مطلب آپ جیسے انسانوں اور جوانوں کی تربیت کرنا ہے۔ درحقیقت اس فتح الفتوح کے فاتح وہ خود تھے۔ وہ تھے جنہوں نے ایسے انسانوں کو تیار کیا تھا۔ وہ تھے جنہوں نے یہ ماحول تیار کیا تھا۔ وہ ہی تو تھے جنہوں نے یہ راستہ بنایا تھا۔ یہ آپ (رہ) ہی تھے جنہوں نے اسلامی اقدار کو زوال اور حاشیے پر چلے جانے کے بعد حیات نو بخشی۔ آپ کی میراث یہی اقدار اور اسلامی جمہوریہ ہے۔ ہم میں سے ہر شخص کو چاہے وہ کسی بھی عہدے پر کیوں نہ ہوں، اسلامی جمہوری نظام اور اس کی اقدار کے تحفظ کے لئے امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ اپنے عشق و محبت کا ثبوت پیش کرنا چاہیئے۔2۔ نماز شب کا گریہ امام خمینی (رہ) ایسی عظیم شخصیت کے مالک تھے کہ انبیاء اور آئمہ معصومین (علیہم السلام ) کے علاوہ کسی اور میں ایسی خصوصیات اور پہلوؤں کا تصور بھی دشوار ہے۔ اس عظیم انسان نے قوت ایمانی کو عمل صالح کے ساتھ، آہنی ارادے کو بلند ہمتی، اخلاقی شجاعت کو حکمت و تدبیر، جرات اظہار و بیان کو سچائی و متانت، معنوی اور روحانی پاکیزگی کو ہوشیاری و کداست، تقویٰ و پرہیزگاری کو تیز رفتاری و استحکام، قائدانہ رعب و دبدبے کو محبت و الفت کے ساتھ مختصر یہ کہ بہت سی پاکیزہ اور نادر صفات کہ جنکا صدیوں کے دوران بعض عظیم لوگوں میں جمع ہو جانا شاید ہی ممکن ہو اپنے مبارک وجود میں جمع کیا۔ یہ ساری صفات آپ کی نادر روزگار شخصیت میں موجود تھیں، آپ کی شخصیت بےنظیر تھی اور آپ کی انسانی عظمت، تصور و تخیل سے بالاتر ہے۔
امام خمینی رہ کی زندگانی پر ایک طائرانہ نظر
بیس جمادی الثانی 1320 ہجری قمری مطابق 24ستمبر 1902 عیسوی کو ایران کے صوبہ مرکزی کے شہرخمین میں بنت رسول حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی طیب وطاہر نسل کے خاندان میں آپ ہی کے یوم ولادت با سعادت پر روح اللہ الموسوی الخمینی کی پیدائش ہوئي۔ وہ اپنے آباؤ اجداد کے اخلاق حسنہ کے وارث تھے جنہوں نے نسل درنسل لوگوں کی ہدایت ورہنمائی اورمعارف الہی کے حصول کے لئے خود کو وقف کررکھا تھا۔ یہ وہ گھرانہ تھا جو اعلی علمی مفاہیم سے مکمل طور پر آشنا تھا ۔امام خمینی کے پدربزرگوار آیت اللہ سید مصطفی مرحوم جو آیت اللہ العظمی میرزای شیرازی کے ہم عصر تھے نجف اشرف میں اسلامی علوم کے اعلی مدارج طے کرنے کے بعد درجہ اجتہاد پر فائزہوئے اور پھر ایران واپس آگئے اور شہر خمین میں تبلیغ و ہدایت کے فرائض انجام دینے لگے۔ حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ کی ولادت کو ابھی پانچ ماہ سے زیادہ کا عرصہ نہیں گذرا تھا کہ حکومت وقت کے ایجنٹوں نے ان کے والد بزرگوار کی ندائے حق کا جواب بندوق کی گولیوں سے دیا اور انھیں شہید کردیا ۔
ولایت فقیہ ، ایك جائزہ از: پروفیسر رحیم پور ازغدی
مطلقہ ولایت فقیہ اورمطلق العنان شخصی راج میں لفظی شباہت كے باعث امام خمینی ؒ كے پیش كردہ نظریۂ حكومت كاغلط مفہوم لیا جاتا اور دونوں كو ایك ہی سمجها جاتا ہے لیكن حقیقت اس كے بر عكس ہے۔ سیاسیات كےبموجب حكومت كی دو قسمیں ہیں؛ مطلق العنان اور آئینی۔اول الذكر كسی ایك فرد یا ایك خاص گروہ كی مرضی كے مطابق چلتی ہے، نہ اس سے كوئی بازپرس كر سكتا ہے اور نہ ہی كوئی ایسا معیار پایا جاتا ہے جس پر اس كے فیصلوں كی صحت و عدم صحت كا تعین كیا جا سكے۔اس طرح كی حكومت شیعہ فقہ كی رو سے طاغوت اور اس طرح كا حاكم ظالم و جابر ہے جس كی نہ صرف یہ كہ بیعت و اطاعت جائز نہیں بلكہ اس كا مقابلہ كرنا واجب ہے۔شیعہ مكتب فكر شروع سے ہی اس نوعیت كی حكومت كا مخالف رہا ہے۔روایت میں ملتا ہے كہ ایك بار صفوان جمال امام موسیٰ كاظم علیہ السلام كی خدمت میں آیا اور آپ سے حاكم وقت كو اونٹ كرایہ پر دینے سے متعلق استفسار كیا ۔ آپ نے فرمایا كیا تم چاہتے ہو كہ یہ شخص سفر حج سے بخیریت واپس آئےاور تمہارے اونٹ صحیح حالت میں تمہیں واپس كرے؟ اس نے جواب دیا جی ہاں اتنی دیر اس كی زندگی چاہتا ہوں۔ آپؑ نے فرمایا اپنی مرضی سے لوگوں پر حكمرانی كرنے والے ایك مطلق العنان حاكم كی اتنی ہی زندگی چاہنے اور اتنی ہی دیر اس پر راضی رہنے كی وجہ سے كہ وہ حج سے سلامت واپس آئے اور اپنی حكومت قائم ركهے تم اور وہ قیامت میں ایك ساته محشور ہوگے۔ایك اور روایت میں امام معصوم نے فرمایا كسی ظالم حكومت كی اس كی دوات میں سوختہ ڈالنے كےبرابر مدد سے انسان كا شمار اسی ظالم حاكم كے ساتهیوں میں ہوگا۔ پس ایسی حكومت جس میں كوئی فرد، پارٹی، مافیا یا گروہ كی من مانی چلتی ہو اور كوئی ایسا قانون، شریعت یا آئین موجود نہ ہو جس كی بنیاد پر اس حكومت كے فیصلوں كو جانچا اور پركها جا سكے ، شیعہ فكر سے پوری طرح متضاد ہے۔ لیكن ولایت فقیہ اس كے برعكس ہے۔یہاں ولایت كے معنی سلطنت یا مطلق العنان بادشاہت كےہرگز نہیں ہیں۔ امام خمینیؒ نے نجف اشرف میں جب پہلی بار یہ نظریہ پیش كیا تو صاف لفظوں میں اعلان كیا كہ سربراہ مملكت یعنی ولی فقیہ عوامی امور سے ہٹ كر نجی زندگی میں نامحرم پر شہوانی نگاہ جیسے كسی گناہ صغیرہ كا بهی مرتكب ہو جائے تو اس كی ولایت ساقط ہے اور اسے عوام پر حكمرانی كا كوئی حق نہیں ہے۔شیعہ مكتب فكر میں حكمرانی جتنی سخت ہے اور حكمران پر جتنی پابندیاں ہیں اتنی كسی اور مكتب فكر میں نہیں ہیں؛ نہ تو وہ حكومتی امور میں من مانی چلاسكتا ہے اور نہ نجی زندگی میں ۔ سكیولر نظامہائے حكومت مثلاً امریكہ میں صدارتی امیدوار كے لئے شرط ہے كہ دائم الخمر نہ ہو ، مجرمانہ ریكارڈ نہ ركهتا ہو وغیرہ۔ یہ شرطیں شیعہ نقطۂ نظر سےبالكل ابتدائی حیثیت ركهتی ہیں جن كےبیان كی بهی ضرورت نہیں ہے۔ اس لئے كہ اس مكتب فكر كے مطابق اگر حاكم كو علم ہو جائے كہ كہیں دین كی مخالفت كی جا رہی ہے اور وہ اس كا سد باب كر سكتا ہو لیكن نہ كرے یا اگر اس كا معیار زندگی متوسط طبقہ سے بالاتر ہو تواسے مسند حكومت پر بیٹهنے كا كوئی جواز نہیں رہ جاتا۔
اسلامی معاشرے کی اصلاح میں قیام امام خمینیؒ کا کردار/نادم شگری
حضرت امام خمینیؒ اکیسویں صدی کے ایک عظیم مصلح ہیں جنہوں نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے ایران میں اسلامی انقلاب کو کامیابی سے ہمکنار کیا ۔ اپنی ہمہ جانبہ جدوجہد اور علمی سعی وکوشش کے ذریعے اسلام کے تصور حکومت کا احیاء کیا اور انقلاب لاتے ہی اسلامی حکومت کی داغ بیل ڈالی اور ایران سمیت پوری دنیا کے اسلامی معاشروں پر اصلاح کے گہرے نقوش چھوڑے۔قیام امام خمینیؒ کے ذریعے معاشرے میں دو طرح کی اصلاح کا عمل انجام پایا: 1۔ فکری اصلاح؛ 2۔ عملی اصلاح۔ لوگوں کی فکری اصلاح پورے معاشرے کی اصلاح کے لئے مقدمہ بنی۔ امام خمینیؒ نے تاریخ اور کتابوں میں گم شدہ دینی نظریات کو لوگوں کے ذہنوں میں دوبارہ پروان چڑھایا جس کی وجہ سے لوگ دین کی حقیقت سے آگاہ ہو گئے۔ اس آگہی کو زینہ بناتے ہوئے عملی اصلاح کی بنیادیں رکھی گئیں۔ اسلامی معاشرے کی اصلاح میں حضرت امام خمینیؒ نے ابتدائی اقدام کے طور پر دینی افکار اور تصورات کو دوبارہ زندگی عطا کی، لوگوں کے اذہان میں دینی حکومت کا نظریہ مردہ ہوچکا تھا، دین کی جامعیت کی فکر ناپید ہوچکی تھی؛ ایسے میں انہوں نے اسلامی متون سے نکال کر دینی حکومت کا نظریہ پیش کیا اور اسے لوگوں کے ذہنوں میں راسخ کر دیا۔ دین کو صرف چند اذکار اور اوراد کا مجموعہ سمجھنے والی فکر کی حقیقت کو طشت از بام کرکے دین کی جامعیت کا نظریہ لوگوں تک پہنچایا، دین اور سیاست کی عدم جدائی کو استدلال سے ثابت کرکے دنیا کو باور کرنے پر مجبور کر دیا اور نظریہ انتظار کو نیامفہوم عطا کیا جو برسوں سے خاموشی کے ساتھ ظلم و ستم کو برداشت کرنے، آواز کو گلے میں دبا کر رکھنے اور مختصر الفاظ میں غیب سے ایک ہاتھ کے نکلنے کے انتظار میں ایک جگہ پر جامد پڑے رہنے کے مترادف سمجھا جاتا تھا۔ اس دفعہ انتظار کو معاشرے کی باغی روح کو سلا کر رکھنے والے عنصر کی حیثیت سے نہیں بلکہ موجودہ حالات کو دگرگوں کرتے ہوئے آنے والے "مہدی موعود ؑ" کی طرف حرکت کے ایک وسیلے کے طور پر بروئے کار لایا گیا ہے۔

بین الاقوامی

یمن سے شکست کا ملبہ ایران پر ڈالنے کی کوشش

سعودی عرب کو گذشتہ 4 سال سے یمن کی جانب سے بھرپور مزاحمت کا سامنا ہے۔ امریکا، اسرائیل اور متحدہ عرب امارات سمیت دیگر خلیجی ریاستوں کی مدد کے باوجود یمن سے شکست نے سعودی عرب کی جنگی صلاحیتوں کا بھانڈا پھوڑتے ہوئے اسے دنیا بھر میں رسوا کر دیا ہے۔

سعودی تیل کی تنصیبات پر حملہ / امریکی الزام پر ایران کا ردعمل

سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر خوفناک حلموں میں ایران کے ملوث ہونے کے امریکی الزام پر ایران کا موقف بھی سامنے آگیا ہے۔

امام خمینی

امام خمینی رہ کے انقلابی نظریات اور اس کے اثرات

امام خمینی علیہ الرحمہ کی شخصیت اعلم فقیہ، واصل عارف اور با بصیرت راہبر جیسی صفات کی حامل ہے، ایران کی سرزمین پر دو ہزار پانچ سو سالہ پرانی شہنشاہیت کو شکست دینے کے بعد شرق و غرب کی سپر پاورز کا سامنا کرنے والی شخصیت ہے۔

امام خمینی رح ایک مرد عارف

حضرت امام خمینی رح کے بارے میں عام طور پر جو بات ہمارے ہاں زیادہ مشہور ہے وہ یہ کہ آپ نے ایک ملوکیت اور بادشاہت کا خاتمہ کرکے ایک اسلامی اور مذہبی حکومت قائم کی۔ لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ استعماری طاقتوں کے خلاف تھے اور استعماری طاقتوں نے آپ کی حکومت کے خاتمے کے لیے اپنے پورے وسائل بروئے کار لائے لیکن وہ اس میں ناکام ہو گئیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ امام خمینی رح بہت شجاع اور بہادر تھے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ آپ نے ناجائز طور پر قائم صہیونی حکومت کے خاتمے اور فلسطینیوں کے حقوق کے حصول کے لیے بھی آواز بلند کی۔ آپ مستضعفوں اور محروموں کے حقوق کے بھی علمبردار تھے۔ آپ نے اتحاد امت کے لیے ایک زور دار آواز بلند کی۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ ایک عالم اور فقیہ تھے اور آپ کی تقلید کی جاتی تھی۔ بعدازاں آپ کا دیوان بھی چھپا اور پاکستان میں بھی بہت سے لوگوں کو معلوم ہوا کہ آپ صاحب دیوان شاعر بھی تھے، لیکن ابھی تک جو پہلو کم شناختہ یا ناشناختہ ہے وہ یہ ہے کہ آپ ایک بلند پایہ عارف تھے اور شاید یہ کہنا زیادہ بہتر ہو کہ آپ کے وجود سے پھوٹنے والی تمام تر خوبیوں کا سرچشمہ یہی امر ہے کہ آپ ایک عارف باللہ اور عاشق الٰہی تھے اور اس سلسلے میں نظری اور عملی طور پر نہایت عمق اور گہرائی کے مقام پر فائز تھے۔

امام خامنہ ای

مسئلہ فلسطین امت مسلمہ کے اساسی اور بنیادی مسائل میں سے ایک ہے، امام خامنہ ای

مسئلہ فلسطین امت مسلمہ کے اساسی اور بنیادی مسائل میں سے ایک ہے، امام خامنہ ای رہبر انقلاب اسلامی امام خامنہ ای نے حجاج کرام کے نام اپنے سالانہ پیغام میں فلسطین کے مسئلے کو دنیا کا اہم ترین مسئلہ قرار دیا ہے۔

ایران بحری جہاز پر برطانوی حملے کا سخت جواب دے گا، امام خامنہ ای

ایران بحری جہاز پر برطانوی حملے کا سخت جواب دے گا، امام خامنہ ای امام خامنہ ای نے آئمہ جعمہ اور جماعات کے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ایران بحری جہاز پر برطانوی حملے کا سخت جواب دے گا۔

کلام و عقائد

بدا قرآن و حدیث کی روشنی میں

ذات الٰہی کے بارے میں بدا، حقیقت میں ابدا و اظہار ہے۔ یعنی جو کچھ خدا کے علم میں ہے اور انسان کے علم میں نہیں، اسےخداوند متعال اظہار و آشکار کرتا ہے۔ اسے بدا، کہنے کا سبب یہ ہے کہ یہ مقام فعل الٰہی میں نمایاں ہوتا ہے، اگرچہ ذات الٰہی میں جہل اور تغییر محال ہیں۔ خداوند متعال انبیاء کرام پر غیبی طریقے سے نظر رکھتا ہے تاکہ یہ لوگ وحی کے پہنچانے میں خطا سے محفوظ رہیں۔ قرآن کریم اس بارے میں ارشاد فرماتا ہے، "لِّيَعْلَمَ أَن قَدْ أَبْلَغُواْ رِسَالَاتِ رَبهِّم" تاکہ وہ دیکھ لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات کو پہنچا دیا ہے۔ واضح ہے کہ خداوند متعال پہلے سے ہی آگاہ ہے کہ انبیاء، وحی الٰہی کو صحیح طریقے سے لوگوں تک پہنچائیں گے۔

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی علم کلام کےاہم مباحث میں سے ایک حسن و قبح عقلی کا بحث ہے ۔اس سے مراد یہ ہے کہ کچھ افعال ذاتی طور پر حسن {اچھے} اور کچھ افعال ذاتی طور پر قبیح{ برے} ہیں ۔ معتزلہ اور امامیہ حسن و قبح عقلی کے قائل ہیں جبکہ اشاعرہ اس کی نفی کرتے ہیں۔ بہت سے کلامی مسائل اس بحث پر موقوف ہیں مثلا انسان کا اپنے اعمال میں خود مختار ہونا،خدا وند متعال کی بعض صفات کمالیہ کا ثبوت جیسے خدا کا عادل ہونا،اسی طرح بعض صفات سلبیہ بھی اسی بحث پر موقوف ہے جیسے خدا سے قبیح کا سرزد نہ ہونا،خداکا ظلم نہ کرنا وغیرہ ۔ جو لوگ حسن اور قبح کے قائل ہیں وہ انسانی افعال میں انسان کو مختار،خدا کو عادل مانتے ہیں جبکہ حسن و قبح کے مخالفین انسان کو مجبور اور خداکی عدالت سے انکار کرتے ہیں ۔

تربیت اولاد

خاندانی منصوبہ بندی : ایک معاشرتی ضرورت یا دھوکہ!

خاندانی منصوبہ بندی کوآج کے دور میں مختلف مملک کی حکومتیں اپنی کامیاب ترین پالیسیوں میں شمار کرتی ہیں۔ آبادی کا کنٹرول اور چھوٹا خاندان خوشحالی کا ذریعہ سمجھاجاتا ہے۔ خصوصاً محدود وسائل رکھنے والے ممالک میں اس پالیسی کو زیادہ اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے

تعليم و تربيت کے بارے ميں اسلامي علما کي آرا و نظريات

تاريخ اسلام ميں تقريبا تمام علماء و دانشور مختلف علوم ميں مھارت رکھنے کے ساتھ ساتھ تعليم و تربيت ميں بھي صاحب نظر اور مھارت کے حامل ہوا کرتے تھے اس سے اسلام ميں تعليم وتربيت کي اھميت کا پتہ چلتا ہے لھذا ہم يہاں پر علما اسلام کي نظر ميں تعليم و تربيت کي اھميت اجاگر کرنے کے لئے ان کے بعض نظريات پيش کر رہے ہيں۔

تندرستی

گوشت نہیں کھائیں گے تو... کند ذہن ہوجائیں گے!

گوشت نہیں کھائیں گے تو... کند ذہن ہوجائیں گے!

سوڈا ڈرنک پینے والوں کو ناگہانی موت کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے، رپورٹ

دس یورپی ممالک میں 451,000 افراد پر بیس سال تک کی گئی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ روزانہ کولڈ ڈرنک پینے والوں کی زندگی کم ہوجاتی ہے اور ان کےلیے ناگہانی موت کا خطرہ، کبھی کبھار کولڈ ڈرنک پینے والوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہو جاتا ہے۔

مہدویت{امام زمان عج}

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی امامت کے اہداف میں سے ایک ہدف امام معصوم کا لوگوں کی باطنی ہدایت ہے۔ امام لائق اور پاکیزہ دل رکھنے والے افراد کو اپنی طرف جذب کر کے انہیں کمال تک پہنچاتے ہیں۔ واضح ہے کہ انسان کا اس طرح ہدایت سے ہمکنار ہونے کے لئے ضروری نہیں کہ وہ امام کے ساتھ ظاہری رابطہ برقرار کرے۔ گذشتہ بیانات کی روشنی میں امام زمانہ (عج) کو بادل کے پیچھے پنہان روشن آفتاب سے تشبیہ دینے کا مقصد بھی واضح ہو جاتا ہے۔ اگرچہ بادل کے پیچھے پنہان سورج سے انسان مکمل طور بہرہ مند نہیں ہوتا ہے لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ اس سے انسان کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا ہے۔ بہرحال امام زمانہ (عج) کے وجود کے آثار و برکات سے بہرہ مند نہ ہونے کا سبب انسانوں کی طرف سے خاص حالات کا فراہم نہ کرنا ہے، جس کی وجہ سے لوگ اس عظیم نعمت کے فوائد سے محروم ہیں اور اس محرومیت کا سبب وہ خود ہیں نہ کہ خداوند متعال اور امام، کیونکہ خداوند متعال اور امام کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی مشکل درپیش نہیں ہے۔

دیگر مناسبتیں

آفتاب کربلا جناب حضرت علی اکبر علیہ السلام

کربلا کے میدان میں ایک جوان ایسا بھی تھا جو سیرت و صورت اورگفتار و کردار میں شبیہ پیغمبر تھے۔دیکھنے والا دنگ رہ جاتا تھا کہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے ہیں۔انہوں نے اس کائنات میں ایسی قربانی پیش کی کہ تمام دنیا دھنگ رہ گئی۔آپ ایسے باپ کے فرزند تھے جس پر رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ناز تھا ،جس کے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری بن گئے۔اس عظیم باپ کا فرزند تھا جس نے دنیا والوں کو جینا سکھایا اورباطل قوتوں کے سامنے قیام کر نا سکھایا۔

حدیث غدیر، حدیث متواتر

متواتر لفظی: وہ حدیث یا خبر جس کے تمام روایوں نے، تمام طبقات میں، اس حدیث یا خبر کے مضمون کو ہو بہو اور یکسان طور پر نقل کیا ہو۔ جیسے حدیث ثقلین کی عبارت، (انّي تارك فيكم الثقلين ۔۔) یا حدیث غدیر کی عبارت (من كنت مولاه فهذا عليّ مولاه)۔

چہاردہ معصومین ع

امام سجاد علیہ السلام

امام علیہ السلام نے کربلا سے کوفہ، کوفہ سے شام اور زندان سے رہائی تک ہر موقع پر اپنے خطبوں کے ذریعے جہاں قیام حسینی علیہ السلام کے اصولوں اور فلسفے سے لوگوں کو آگاہ فرمایا وہیں اسلام کا نام استعمال کرتے ہوئے اسلام کی دھجیاں اڑانے کی کوشش کرنے والی ناپاک حکومت کا مکروہ چہرہ بھی بےنقاب فرمایا۔

معاویہ و یزید کے دور حکومت میں امام حسین (ع) کا کردار

معاویہ کو ہر وقت آپ کے قیام کا خوف رہتا تھا۔ چنانچہ اس نے امام کے سامنے قبض و بسط کی پالیسی اپنائی یعنی ایک طرف سے آپ کی منزلت کو مدنظر رکھتا تھا اور بظاہر آپ کے لئے احترام کا قائل تھا اور آپ کی تعظیم کرتا تھا اور اپنے کارگزاروں کو بھی ہدایت کرتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرزند کو نہ چھیڑیں اور ان کی بےحرمتی سے پرہیز کریں۔ دوسری طرف سے امام کی مسلسل اور شب و روز نگرانی کو اپنی پالیسی کا حصہ بنایا اور سفر اور حضر میں آپ کی تمام حرکات و سکنات پر کڑی نظر رکھی جاتی تھی۔

دیگر موضوعات

الغدیر فی الکتاب و السنۃ و الادب

الغدیر فی الکتاب و السنة و الادب، جو الغدیر کے نام سے معروف ہے عربی زبان میں لکھی گئی ایک ایسی کتاب ہے جسےعلامہ عبد الحسین امینیؒ نےحدیث غدیر کی روشنی میں امام علی علیہ السلام کی امامت و خلافت بلا فصل کی اثبات کے لئے تحریر کیا ہے۔یہ کتاب اب تک 11 جلدوں میں مرتب ہوئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کتاب کی کل 20 جلدیں ہیں۔ لیکن آخری 9 جلدیں ابھی تک طبع نہیں ہوئی ہیں۔ علامہ امینی اس کتاب کو لکھنے کی خاطر مختلف ممالک کی لائبریریوں کا سفر کیا ہے۔ جن میں ہندوستان، مصر اور شام وغیرہ کی لائبریریاں شامل ہیں۔الغدیر کے مؤلف کے مطابق اس کتاب کی تالیف میں انہوں نے ایک لاکھ سے زائد کتابوں کی طرف مراجعہ اور دس ہزار سے زیادہ کتابوں کا مطالعہ کیا ہے۔انہیں یہ کتاب لکھنے میں ۴۰ سال سے زیادہ کا عرصہ لگا ہے۔الغدیر کے بارے میں کئی کتابیں اور تھیسز لکھے گئے ہیں۔ اسی طرح الغدیر میں پیش کیے گئے موضوعات کو 27 جلدوں پر مشتمل مجموعے کی صورت میں بھی منظر عام پر لایا گیا ہے۔

قربانی کی تاریخ اور اسکا فلسفہ

دین مقدس اسلام میں قربانی ایک مالی عبادت ہے، جو شعائر اسلام میں بھی شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں اس کی بڑی فضیلت ہے۔ شعائر اللہ کو دلوں کا تقوا قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں ارشاد ہوا ہے: "وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ" (سورہ حج:۳۲) بات یہ ہے کہ جو شعائر اللہ کا احترام کرتا ہے تو یہ دلوں کا تقویٰ ہے۔ دین اسلام میں اس کے علاوہ اور بھی مالی عبادات ہیں۔ لیکن ان عبادات کے مقابلے میں قربانی کچھ مخصوص خصوصیات کی حامل ہے۔ انہی خصوصیات کی وجہ سے عبادات کے درمیان قربانی کا الگ مقام ہے۔

سب سے زیادہ زیر بحث

امام علی علیہ السلام کی شانِ میں چہل حدیث

مولا علیؑ کی شان میں چالیس احادیث اور یہ ﻭﻩ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ہیں ﺟﻮ ﺻﺤﺎﺡ ﺳﺘﻪ ﻣﯿﮟ بھی موجود ہے. 1= ﻋﻨﻮﺍﻥ ﺻﺤﻴﻔﺔ ﺍﻟﻤﺆﻣﻦ ﺣﺐّ ﻋﻠﻰؑ ﺑﻦ ﺍﺑﻰ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ. ﺻﺤﯿﻔﮧ ﻣﻮﻣﻦ ﮐﺎ ﻋﻨﻮﺍﻥ ﻣﺤﺒﺖِ ﻋﻠﯽؑ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻃﺎﻟﺐؑ ﮨﮯ.

دعا کی اہمیت

دعا کی اہمیت حضرت انسان کس قدر شرف و عظمت کا مالک ہے،اس کے لئے کائنات بنی،پوری کائنات میں اسی کو عزت و تکریم کا حق دار ٹھہرایا گیا۔تمام مخلوق اس کی خدمت اور منفعت کے لئے پیدا کی گئی۔لیکن اتنی عظمتوں کے باوجود اس کی خلقت کا مقصد اللہ کی معرفت اور عبادت قرار دیا گیا۔لہذا انسان کا اہم کام خدا سے ارتباط و ربط ہے۔مگر کیسا رابطہ؟ اتنی عظمتوں کے باوجود بارگاہ خداوندی میں فقر محض اور احتیاج محض ہے جبکہ ذات پروردگار غناء ہی غناء ہے۔بلندی ہی بلندی ہے۔انسان مشکلات،مصائب اور تکالیف میں ایسی ذات کی طرف رجوع کر کے اپنے فقر اور احتیاج محض ہونے کا اقرار و اعتراف کرتے ہوئے اپنی نفی اور بے ثباتی کا اظہار کرتا نظر آتا ہے۔اس سلسلے میں انسان کا ایک اہم وسیلہ دعا ہے۔دعا کے ذریعے اپنی احتیاج کا اظہار بھی کرتا ہے اوراللہ سے اعانت کی التجا بھی کرتا ہے۔

قرآنِ کریم اور اصلاحِ معاشرہ تحریر: عارف حسین تھہیم

لفظِ ’’اصلاح‘‘ درست کرنے، صحیح کرنے اور خرابی کو دُور کے معنی میں آتا ہے۔ معاشرتی اور اجتماعی مفہوم کے اعتبار سے شائستہ اور نیک عمل انجام دینے، نیز فساد و تباہی کو ختم کرنے کے لیے بھی اصلاح کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ ارشادِ پروردگار ہے: ﴿ إِلاَّ الَّذِينَ تَابُواْ وَأَصْلَحُواْ وَبَيَّنُواْ فَأُوْلَئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ﴾[1]؛ ’’سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے توبہ کی اور اپنے کئے کی اصلاح کر لی اور (جس کو چھپایا ہوا تھا) واضح کر دیا تو ایسے ہی لوگوں کی توبہ میں قبول کرتا ہوں اور بےشک میں بڑا توبہ قبول کرنے والا اور بہت مہربان ہوں۔‘‘ حقیقی توبہ میں گذشتہ بُرائی اور فساد کا دُور کرنا اور آئندہ بُرائی و فساد سے بچے رہنے کا تہیہ کرنا ضروری ہے۔ شائستہ اور صالح معاشرے کی تشکیل کا ہدف اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی دُنیوی و اُخروی اور مادی و معنوی ضرورتوں کو پورا کیا جائے؛ لہٰذا صالح معاشرے کی خصوصیات یہ ہیں کہ اس میں ہر ایک کی جان، مال، عزّت و آبرو اور ناموس محفوظ ہوتی ہے، لوگوں کی درمیان مہر و محبت اور اپنائیت کا راج ہوتا ہے اور سب لوگ روحانی و معنوی لحاظ سے پُرسکون اور مطمئن ہوتے ہیں۔

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ بسم اللہ الرحمن الرحیم بنام خدائے رحمن و رحیم اٴَللّٰھُمَّ اِنّيِ اٴَسْاٴَ لُکَ بِرَحْمَتِکَ الَّتي وَ سِعَتْ کُلَّ شَيْءٍ،وَ بِقُوَّتِکَ الَّتي قَھَرْتَ خدایا میراسوال اس رحمت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر محیط ھے۔ اس قوت کے واسطہ سے ھے جو ھر چیز پر حاوی ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ،وَخَضَعَ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ،وَذَلَّ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ، وَبِجَبَرُوتِکَ الَّتي غَلَبْتَ اور اس کے لئے ھر شے خاضع اور متواضع ھے۔ اس جبروت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر غالب ھے اور اس عزت کے واسطہ سے ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ، وَ بِعِزَّتِکَ الَّتي لاٰ یَقُومُ لَھٰا شَيْءٌ، وَبِعَظَمَتِکَ الَّتي مَلَاٴَتْ کُلَّ جس کے مقابلہ میں کسی میں تاب مقاومت نھیں ھے۔اس عظمت کے واسطہ سے ھے جس نے ھر چیز کو پر کردیا ھے شَيْءٍ، وَ بِسُلْطٰانِکَ الَّذي عَلاٰ کُلَّ شَيْءٍ، وَبِوَجْھِکَ الْبٰاقي بَعْدَ فَنٰاءِ کُلِّ شَيْءٍ،

تلاوت قرآن کی فضیلت

'پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا، جو شخص رات کو دس آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام غافلین (جو یاد خدا سے بے بہرہ رہتے ہیں) میں نہیں لکھا جائے گا اور جو شخص پچاس آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام ذاکرین (جو خدا کو یاد کرتے ہیں، حرام و حلال کا خیال رکھتے ہیں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص سو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام قانتین (عبادت گزاروں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص دوسو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام خاشعین (جو خدا کے سامنے متواضع ہوں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص تین سو آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام سعادت مندوں میں لکھا جائے گا، جو شخص پانچ ہزار آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام عبادت اور پرستش خدا کی کوشش کرنے والوں میں لکھا جائے گا اور جو شخص ہزار آیتوں کی تلاوت کرے وہ ایسا ہے جیسے اس نے کثیر مقدار میں سونا راہ خدا میں دے دیا ہو۔،،

تربیت اولاد کے انمول اصول تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

لغت کی کتابوں میں لفظ" تربیت" کے لیے تین اصل اور ریشہ ذکر ہوئے ہیں۔ الف:ربا،یربو زیادہ اور نشوونما پانےکے معنی میں ہے۔ ب: ربی، یربی پروان چڑھنا اور برتری کے معنی میں ہے۔ج: رب،یرب اصلاح کرنے اور سرپرستی کرنے کے معنی میں ہے۔۱صاحب مفردات کا کہنا ہے کہ "رب" مصدری معنی ٰ کے لحاظ سے کسی چیز کو حد کمال تک پہچانے ، پرورش اور پروان چڑھانے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ۲ صاحب التحقيق کا کہنا ہے اس کا اصل معنی ٰ کسی چیز کو کمال کی طرف لے جانے ، نقائص کو تخلیہ اور تحلیہ کے ذریعےرفع کرنے کے معنی ٰ میں ہے۔۳ بنابر این اگر اس کا ريشه(اصل) "ربو" سے ہو تو اضافہ کرنا، رشد ، نمو اور موجبات رشد کو فراہم کرنے کے معنی ٰ میں ہےلیکن ا گر "ربب" سے ہو تو نظارت ، سرپرستي و رهبري اور کسی چیز کو کمال تک پہنچانے کے لئے پرورش کے معنی ٰ میں ہے۔

پیٹ کا درد کئی امراض کی علامت ہوسکتا ہے

اگر پیٹ میں درد ہورہا ہو تو اس کی کئی وجوہ ہوسکتی ہیں۔ اکثر ناقص غذا کی وجہ سے معدے میں تکلیف ہونے لگتی ہے جسے ہم پیٹ کے درد سے تعبیر کرتے ہیں۔ معدے کا درد کئی امراض کی علامت بھی ہوسکتا ہے، اس لیے اسے نظرانداز نہیں کرنا چاہیے اور بلاتاخیر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

مقصد قیام امام حسین علیہ السلام تحریر: محمد حسن حسرت کچوروی

امام حسین ؑ ۲۸ رجب ۶۰ ھ میں مدینہ سے حرکت کرتے ہیں اور ۳ شعبان المعظم کو مکہ میں پہنچتے ہیں پھر ۸ ذی الحجہ کو مکہ سے کوفہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں ۲ محرم الحرام کو وارد کربلا ہوتے ہیں اور ۱۰ محرم الحرام کو شھید ہو جاتے ہیں اس مختصرعرصے میں انسان سو سے زیادہ درس حاصل کر سکتا ہے بلکہ کہہ سکتے ہیں کہ امام کے اس مختصر عرصےمیں ہزاروں دروس شامل ہیں لیکن یہ سارے دروس ایک اصلی درس ‘ حرکت اور قیام امام میں موجود ہیں باقی سارے حاشیے ہیں متن یہ ہے کہ امام نے قیام کیوں کیا؟ یہ اصلی درس ہے لوگ امام سے کہتے تھے آپ مدینہ اور مکہ میں محترم ہیں یمن میں اتنے سارے شیعہ ہیں کسی کونے میں تشریف لے جائیں اور یزید سے کوئی سروکار نہ رکھے تاکہ وہ بھی آپ سے کوئی سروکار نہ رکھے۔ یہ سارے مرید ہیں انہیں تبلیغ کریں عبادت کریں اور زندگی کریں۔ کاس قیام کا مقصد کیاہے ۔۔؟

مشاہدات

آج

295

کل

612

اس ماہ

28898

اس سال

157326

ٹوٹل مشاہدات

326554