علماء کونسل کچورا سکردو بلتستان

متن

مقصد قیام امام حسین علیہ السلام

تحریر: محمد حسن حسرت کچوروی

امام حسین ؑ ۲۸  رجب ۶۰ ھ  میں مدینہ سے حرکت کرتے ہیں اور ۳ شعبان المعظم کو مکہ میں پہنچتے ہیں پھر ۸  ذی الحجہ کو مکہ سے کوفہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں  ۲  محرم الحرام کو وارد کربلا ہوتے ہیں اور  ۱۰  محرم الحرام کو شھید ہو جاتے ہیں

اس مختصرعرصے میں  انسان سو سے زیادہ درس حاصل کر سکتا ہے بلکہ کہہ سکتے ہیں کہ امام کے اس مختصر عرصےمیں ہزاروں دروس شامل ہیں لیکن یہ سارے دروس ایک اصلی درس ‘ حرکت اور قیام امام میں موجود ہیں باقی سارے حاشیے ہیں متن یہ ہے کہ امام نے قیام کیوں کیا؟ یہ اصلی درس ہے لوگ امام سے کہتے تھے آپ مدینہ اور مکہ میں محترم ہیں یمن میں اتنے سارے شیعہ ہیں کسی کونے میں تشریف لے جائیں اور یزید سے کوئی سروکار نہ رکھے تاکہ وہ بھی آپ سے کوئی سروکار نہ رکھے۔ یہ سارے مرید ہیں انہیں تبلیغ کریں عبادت کریں اور زندگی کریں۔ کاس قیام کا مقصد کیاہے ۔۔؟

            اس سوال کے جواب میں رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای  کے بیان کے مطابق بعض لوگوں نے اس طرح بیان کرنے کی کوشش کی ہے کہ امام حسین ؑ، یزید کی فاسد حکومت کو ختم کر کے خود ایک اسلامی حکومت تشکیل دینا چاہتے تھے یہ بات ایک حد تک درست ہے اگر کوئی حکومت تشکیل دینے کے لئے قیام کرے تو اتنا آگے بڑھے گا جتنا اس کام کے ہونے کا امکان ہے لیکن جب دیکھتا ہے یہ کام ہونے والا نہیں‘  اس کے ہونے میں کوئی عقلائی احتمال موجود نہیں تو اس کا وظیفہ واپس ہونا ہے مجموعا حرکت امام  حسین علیہ السلام میں ایسی چیز دیکھنے کو نہیں ملتی۔ اس کے مقابلے میں کہا جاتا ہے کہ نہیں ، ایسا نہیں ہے امام جانتے تھے کہ حکومت تشکیل نہیں دے سکتے بلکہ امام آئے ہی اس لئے تھے کہ شہید ہوجائے لیکن یہ بھی مدارک اور اسناد اسلامی میں نہیں ملتا کہ انسان اپنے ہاتھ سے ہی خود کو مروائے جو شہادت ہم شریعت میں پاتے ہیں یہ ہے کہ انسان کسی واجب یا شریعت میں راجح کام کے لئے چلے اور اسی کام میں شہید ہو تو یہ وہ شہادت اسلامی ہے لیکن انسان جائے ہی صرف جان دینے کے لئے ایسا نہیں ہے بہر حال اس بات میں بھی کچھ حقیقت ہے لیکن امام کا ہدف یہ بھی نہیں ہے پس بطور خلاصہ ہم نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ امام نے حکومت کی تشکیل کے لئے قیام کیا اور تشکیل حکومت امام کا ہدف تھا اور نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ امام نے شہید ہونے کے لئے قیام کیا بلکہ اصل ہدف کچھ اور ہے جنہوں نے کہا ہیں امام نے حکومت کی تشکیل یا شہادت کے لئے قیام کیا تھا انہوں نے ہدف اور نتیجہ کو مخلوط کیا ہے ہدف یہ چیزیں نہیں تھیں کچھ اور ہے لیکن اس ہدف تک جانے کے لئے ایک حرکت کی ضرورت تھی اور اس حرکت کے نتیجے میں ان میں سے ایک سامنے آنا تھا؛ حکومت یا شہادت۔البتہ امامؑ دونوں کے لئے آمادگی رکھتے تھے مقدمات حکومت بھی فراہم کر رہے تھے اور مقدمات شہادت بھی، پس امامؑ کا اصلی ہدف نہ حکومت تھا اور نہ شہادت بلکہ امام کے ہدف کو ایک ہی جملے میں بیان کرنا چاہے تو اس طرح بیان کریں گے : امام ؑ کا ہدف واجبات دین میں سے ایک عظیم ہدف کو انجام دینا تھا کہ اس واجب کو حسینؑ سے پہلے کسی نے انجام نہیں دیا حتیٰ خود پیامبر اکرمؐ نے بھی انجام نہیں دیا۔

            پیامبرؐ نے اس واجب کو انجام دیا تھا نہ امیر المؤمنینؑ نے اور نہ امام حسن ؑ نے ۔ یہ واجب بہت اہم اور اساسی ہونے کے باوجود امام حسین ؑ کے زمانے تک اس پر عمل نہیں ہوا امام حسین ؑ کے لئے ضروری تھا کہ اس واجب پر عمل کریں تاکہ پوری تاریخ کے لئے ایک درس ہو۔

اب سوال یہ ہے کہ امام حسین ؑ اس کو کیوں انجام دیں اس سے پہلے کسی نے انجام کیوں نہیں دیا؟ آیا نعوذ با اللہ کسی سے کوئی کوتاہی ہوئی ؟ نہیں، کسی نے کوئی کوتاہی نہیں کی اس واجب کا انجام دینا  امام حسین ؑ کے لئے اس لئے ضروری تھا کہ اس واجب کو انجام دینے کا زمینہ امام حسین ؑ کے زمانے میں فراہم ہوا اگر یہ زمینہ امام حسینؑ کے زمانے میں پیش نہ آتا بلکہ کسی دوسرے امام کے زمانے میں پیش آتا تو وہ بھی اس کو انجام دیتا اگر یہ زمینہ امام حسینؑ کے زمانے کے بجائے امام علی نقی ؑ کے زمانے میں پیش آتا تو امام علی نقی ؑ اس واجب کو انجام دیتے اور تاریخ کے ذبح عظیم بن جاتے اگر امام حسن مجتبی ؑ یا امام صادق ؑ کے زمانے میں یہ زمینہ فراہم ہوتا تو یہ ہستیاں بھی اس پر عمل کرتیں امام حسین ؑ کے بعد بھی تا عصر غیبت یہ زمینہ فراہم نہ ہوا۔ پس ہدف ہوا اس واجب کو انجام دینا، اب یہ واجب کیا ہے کہ اس کے انجام کے نتیجے میں بطور طبیعی قدرت ہاتھ میں آئے گی یا شہادت؟

پیامبرؐ  اسلام نے اس واجب اور وظیفہ کو بیان فرمایا ہے:ــ’’ من رَأی سُلطاناً جائراً مستحلالحرم اللہ ناکثا لعھداللہ مخالفا لسنہ رسول اللہ یعمل فی عبادللہ بالاثم والعدوان لم یغیر بقول و لا فعل کان حقا علی اللہ ان یدخلہ مدخلہ‘‘۔

لیکن پیامبرؐ خود اس تکلیف اور واجب پر عمل نہ کر سکے ـ‘کیوں ؟ کیوں کہ اس تکلیف پر عمل کرنا اس وقت لازمی ہوتا ہے جب معاشرہ اسلامی منحرف ہوا ہو جب کہ پیامبرؐ اور امیر المؤمنینؑ کے زمانے میں معاشرہ اس حد تک منحرف نہیں ہوا تھا امام حسن ؑ کے زمانے میں معاویہ برسر اقتدار رہے اگرچہ انحراف کی بہت سی نشانیاں ظاہر ہوئی لیکن اس حد تک نہیں کہ کل اسلام کے تبدیل ہونے کا خوف ہو لیکن امام حسین ؑ کے زمانے میں یہ انحراف پیدا ہوا  اس لئے کہ معاویہ کے بعد حکومت ایسے شخص کو ملی جو حتیٰ ظواہر اسلام کی بھی رعایت نہیں کرتا، شراب خوری اور خلاف شرع کاموں میں مصروف رہتا ، خلاف قرآن باتیں کرتا ، فسق و فجور علناً انجام دیتا  اور کھلم کھلا اسلام کی مخالفت کرتا  تھا  جیسا کہ یزید کا مشہور شعر ہے :

لعبت بنو ہاشم با لملک فلا                     

خبر جاء ولا وحی نزل

ایسا شخص مسلمانوں کا خلیفہ بنا ہے اس سے بھی بالا تر انحراف کیا ہو سکتا ہے؟ لہٰذا امام حسین ؑ کے لئے قیام ضروری تھا کیوں کہ انحراف بھی پیدا ہوا تھا اور موقع بھی مناسب تھا، موقع مناسب سے مراد یعنی فضائے جامعہ اسلام کچھ اس طرح تھی کہ امام ؑ کا پیغام لوگوں کے کانوں تک پہنچ سکتا تھا اگر معاویہ کے زمانے میں امام حسینؑ قیام کرتے تو آپؑ کا پیغام دفن ہوجاتا معاویہ کے زمانے میں وضع حکومت کچھ اس طرح تھا اور سیاست اس طرح تھی کہ لوگ حق کو نہیں سن سکتے تھے لذا امام حسین ؑ دس سال معاویہ کی خلافت کے زمانے میں امام تھے لیکن کوئی قیام نہیں کیا اس سے پہلے امام حسن ؑ تھے انہوں نے بھی قیام نہیں کیا کیوں کہ موقع مناسب نہ تھا ورنہ امام حسن اور امام حسین میں کوئی فرق نہیں ہے پس امام حسینؑ ایسے انحراف کے مقابلے میں قرار پایا اور اس وظیفہ پر عمل کرنے کا موقع مناسب تھا  لہذامام ؑ نے اسی وظیفہ پر عمل کیا  اور اسی واجب کو انجام دیا  امام ؑ نے اولین بار اس حرکت کو انجام دیا ان سے پہلے انجام نہیں پایا تھا  کیوں زمینہ اور موقع مناسب نہ تھا۔

پس ہم کہ سکتے ہیں کہ امام حسینؑ نے قیام کیا تاکہ اس عظیم واجب جو کہ ’’تجدیدِ بنائے نظام و جامعہ اسلامی ہے‘‘ کو انجام دے۔ اور یہ واجب قیام اور امر با لمعروف و نہی از منکر کے طریقے سے ہے بلکہ  یہ خود امر با لمعروف کے بڑے مصادیق میں سے ہے اور اس کا نتیجہ کبھی حکومت ہے اور کبھی شہادت ۔ جس مطلب کو آپ کی خدمت میں بیان کرنے کی توفیق حاصل ہوئی اس کو خود امام کے کلمات سے اخذ کر سکتے ہیں امام کے کچھ کلمات جن سے اسی مطلب کو اخذ کیا، بیان کرتے ہیں :

۱۔ مدینہ میں ولید حاکم تھا معاویہ واصل جہنم ہونے کے بعد رات کے وقت امام کو بلایا اور کہا معاویہ دنیا سے جا چکا ہے لہٰذا آپ یزیدکی بیعت کریں امام ؑ نے اس سے فرمایا: ’’ننظرو تنظرون أینا أحق با لبیعۃ و الخلافۃ ‘‘  دیکھتے ہیں یزید کو خلیفہ ہونا چاہئے یا ہمیں ‘ کون بیعت و خلافت کا مستحق ہے، اگلے دن مدینہ کے کوچوں میں امامؑ کی مروان سے ملاقات ہوئی مروان نے کہا ابا عبداللہ کیوں اپنے کو مروا رہے ہو ؟ کیوں خلیفہ کی بیعت نہیں کر رہے ؟

امام ؑ نے اس کے جواب میں فرمایا : ’’انا للہ و انا الیہ راجعون و علی الاسلام السلام اذ قد بلیت الامۃ براع مثل یزید‘‘پس اسلام کا خدا حافظ ! جب یزید جیسا اسلام کا حاکم بنے ، مسألہ یزید کی شخصیت کا نہیں بلکہ ہر یزیدی کردارکا  ہے ہر یزیدی صفت رکھنے والا اسلام کا حاکم بنے توایسے وقت میں اسلام کی خیر نہیں ہے امام ؑ کہنا چاہتے تھے کہ ا بھی تک جو تھا قابل تحمل تھا لیکن اب مسئلہ اصل دین کا ہے جو  یزید جیسوں کی حکومت کے ذریعے نابود ہورہا  ہے۔

۲۔ امام ؑ مدینہ سے نکلتے وقت بھی اور مکہ سے نکلتے وقت بھی محمد بن حنفیہ سے کچھ گفتگو کیا یہ وصیت نامہ تقریبا مکہ سے نکلتے وقت بیان فرمایا ہے کیوں کہ ماہ ذی الحجہ میں محمد بن حنفیہ بھی مکہ آیا تھا امامؑ نے جوچیز بہ عنوان وصیت بھائی کو لکھ کر دیا اس میں فرماتے ہیں : ’’أِنی لم أخرج أشرا و لا بطرا ولا مفسدا ولا ظالما وأِنما خرجت لطلب الأِصلاح فی أُمۃ جدی‘‘کوئی یہ اشتباہ نہ کرے کہ حسین ؑ کا قیام بھی دنیا کے گوشہ و کنار میں ہونے والے قیاموں کی طرح قدرت ہاتھ میں لینے کے لئے ہے ، ظلم و فساد برپا کرنے کے لئے ہے ایسا نہیں میرا قیام اس قسم کا نہیں بلکہ میرے قیام کا مقصد’’ لطلب الأِصلاح فی اُمۃ جدی‘‘ ہے  میں چاہتاہوں اصلاح کروں یہ وہی واجب ہے حسین سے پہلے انجام نہیں پایا اور یہ اصلاح قیام کے ذریعے ہوگا۔ امام ؑ نے صراحتاً بیان کیا کہ قیام کروں گا اور میرا یہ قیام بھی اصلاح کے لئے ہے اس لئے نہیں کہ حتماً حکومت حاصل کروں اور نہ اس لئے کہ شہادت حاصل کروں بلکہ چاہتا ہوں اصلاح کروں اس کے بعد فرمایا : ’’ أُرید أَن اٰمر بالمعروف وأَنھی عن المنکر و أَ سیر بسیرۃ جدی‘‘ یہ اصلاح امر بہ معروف اور نہی از منکر کے مصادیق میں سے ہے۔

۳۔ امام ؑ نے مکہ سے رؤسائے بصرہ کو جو خط لکھا اس میں اس طرح آیا ہے  ’’قد بعثت رسولی الیکم بہٰذا الکتاب و اِنی أدعوکم  الیٰ کتاب اللہ واِلیٰ نبیہ فأِن السنۃ قد أُمیتت واِن البدعۃ قد أُ حیِیَت فاِن تجیبوا  دعوتی و تطیعوا  امری أھدکم سبیل الرشاد‘‘  میں چاہتاہوں سنتوں کو زندہ کروں اور بدعتوں کو دور کروں کیوں کہ سنتیں پائمال ہو گئی ہے اور بدعتیں  معاشرے میں زندہ ہع گئی ہے اگر میرے ساتھ آئے، میری دعوت قبول کرے تو سیدھا راستہ میرا راستہ ہے میں درست راستے کی طرف ہدایت کروں گا یعنی میں چاہتا ہوں وہی عظیم واجب انجام دوں جو کہ احیائے اسلام، احیائے سنت پیامبراور احیائے نظام اسلامی ہے ۔

۴۔  سر زمین کربلا میں وارد ہونے کے بعد امامؑ نے خطبہ اول میں فرمایا:  ’’ألا ترون اِلی الحق لا یعمل بہ و اِلی الباطل لا یتنا ھی عنہ لیر غب المؤمن فی لقاء ربہ حقا حقا‘‘  کیا دیکھتے نہیں حق پر عمل نہیں ہو رہا اور باطل سے روکا نہیں جا رہا پس امامؑ نے ایک واجب کو انجام دینے کے لئے قیام کیا اور یہ واجب طول تاریخ میں ہر مسلمان کے لئے مواجہ ہے یعنی ہر وقت دیکھے کہ جامعہ اسلامی فساد سے دچار ہے اور اس فساد کا خطرہ یہ ہو کہ کل اسلام نابود ہورہا تو ہر مسلمان کے لئے قیام کرنا چاہئے البتہ مناسب شرائط میں اس وقت جب معلوم ہو یہ قیام اثر گذار ہے لہٰذا امام حسین ؑ نے بھی اس کا لحاظ کرتے ہوئے قیام کیا اور عملااس واجب کو انجام دیا تاکہ پوری امت اور انسانیت کے لئے درس ہو۔

           

منابع:

۱۔            مقتل مقرم‘ آیت اللہ کاظم قزوینی ؒ

۲۔           سید الشہداء    آیت اللہ دستغیب ؒ

۳۔          انسان ۲۵۰ سالہ ‘ آیت اللہ خامنہ ای

۴۔           آنچہ در کربلا گذشت‘  شیخ عباس قمی ؒ

 


اس سے مربوط موضوعات

بین الاقوامی

ایران کے میزائل حملوں میں 11 فوجی زخمی ہوئے، امریکا کا اعتراف

ایران کے میزائل حملوں میں 11 فوجی زخمی ہوئے، امریکا کا اعتراف امریکا نے اعتراف کیا ہے کہ گزشتہ ہفتے عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر ایران کے میزائل حملوں میں 11 فوجی زخمی ہوئے۔

ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی آیندہ ہفتے متوقع، قرارداد پر دستخط

ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی آیندہ ہفتے متوقع، قرارداد پر دستخط امریکی ایوان نمایندگان میں صدر ٹرمپ کے مواخذے کے آرٹیکلز سینیٹ کو بھجوانے کی قرارداد کو کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔

امام خمینی

امام خمینی رہ کے انقلابی نظریات اور اس کے اثرات

امام خمینی علیہ الرحمہ کی شخصیت اعلم فقیہ، واصل عارف اور با بصیرت راہبر جیسی صفات کی حامل ہے، ایران کی سرزمین پر دو ہزار پانچ سو سالہ پرانی شہنشاہیت کو شکست دینے کے بعد شرق و غرب کی سپر پاورز کا سامنا کرنے والی شخصیت ہے۔

امام خمینی رح ایک مرد عارف

حضرت امام خمینی رح کے بارے میں عام طور پر جو بات ہمارے ہاں زیادہ مشہور ہے وہ یہ کہ آپ نے ایک ملوکیت اور بادشاہت کا خاتمہ کرکے ایک اسلامی اور مذہبی حکومت قائم کی۔ لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ استعماری طاقتوں کے خلاف تھے اور استعماری طاقتوں نے آپ کی حکومت کے خاتمے کے لیے اپنے پورے وسائل بروئے کار لائے لیکن وہ اس میں ناکام ہو گئیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ امام خمینی رح بہت شجاع اور بہادر تھے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ آپ نے ناجائز طور پر قائم صہیونی حکومت کے خاتمے اور فلسطینیوں کے حقوق کے حصول کے لیے بھی آواز بلند کی۔ آپ مستضعفوں اور محروموں کے حقوق کے بھی علمبردار تھے۔ آپ نے اتحاد امت کے لیے ایک زور دار آواز بلند کی۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ ایک عالم اور فقیہ تھے اور آپ کی تقلید کی جاتی تھی۔ بعدازاں آپ کا دیوان بھی چھپا اور پاکستان میں بھی بہت سے لوگوں کو معلوم ہوا کہ آپ صاحب دیوان شاعر بھی تھے، لیکن ابھی تک جو پہلو کم شناختہ یا ناشناختہ ہے وہ یہ ہے کہ آپ ایک بلند پایہ عارف تھے اور شاید یہ کہنا زیادہ بہتر ہو کہ آپ کے وجود سے پھوٹنے والی تمام تر خوبیوں کا سرچشمہ یہی امر ہے کہ آپ ایک عارف باللہ اور عاشق الٰہی تھے اور اس سلسلے میں نظری اور عملی طور پر نہایت عمق اور گہرائی کے مقام پر فائز تھے۔

امام خامنہ ای

امریکی ایئر بیس پر حملے نے امریکا کے سپرپاور ہونے کے گمان کو خاک میں ملادیا، امام خامنہ ای

امریکی ایئر بیس پر حملے نے امریکا کے سپرپاور ہونے کے گمان کو خاک میں ملادیا، امام خامنہ ای امام خامنہ ای نے تہران میں نماز جمعہ کے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: امریکی ائربیس پر ایران کا حملہ نہ صرف کامیاب رہا بلکہ اس حملے نے امریکا کے سپر پاور ہونے کے گھمنڈ خاک میں ملادیا۔

امریکیوں کے منہ پر زودار طمانچہ مارا ہے، لیکن یہ انتقام نہیں، رہبر انقلاب اسلامی

رہبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ شہید سلیمانی نے دفاع مقدس سے لیکر آج تک بڑے سنگین خطرات کا سامنا کیا۔ شہید سلیمانی صرف فوجی میدان کے ماہر نہیں تھے وہ سیاسی میدان کے بھی بہترین ماہر تھے۔

کلام و عقائد

بدا قرآن و حدیث کی روشنی میں

ذات الٰہی کے بارے میں بدا، حقیقت میں ابدا و اظہار ہے۔ یعنی جو کچھ خدا کے علم میں ہے اور انسان کے علم میں نہیں، اسےخداوند متعال اظہار و آشکار کرتا ہے۔ اسے بدا، کہنے کا سبب یہ ہے کہ یہ مقام فعل الٰہی میں نمایاں ہوتا ہے، اگرچہ ذات الٰہی میں جہل اور تغییر محال ہیں۔ خداوند متعال انبیاء کرام پر غیبی طریقے سے نظر رکھتا ہے تاکہ یہ لوگ وحی کے پہنچانے میں خطا سے محفوظ رہیں۔ قرآن کریم اس بارے میں ارشاد فرماتا ہے، "لِّيَعْلَمَ أَن قَدْ أَبْلَغُواْ رِسَالَاتِ رَبهِّم" تاکہ وہ دیکھ لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات کو پہنچا دیا ہے۔ واضح ہے کہ خداوند متعال پہلے سے ہی آگاہ ہے کہ انبیاء، وحی الٰہی کو صحیح طریقے سے لوگوں تک پہنچائیں گے۔

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی علم کلام کےاہم مباحث میں سے ایک حسن و قبح عقلی کا بحث ہے ۔اس سے مراد یہ ہے کہ کچھ افعال ذاتی طور پر حسن {اچھے} اور کچھ افعال ذاتی طور پر قبیح{ برے} ہیں ۔ معتزلہ اور امامیہ حسن و قبح عقلی کے قائل ہیں جبکہ اشاعرہ اس کی نفی کرتے ہیں۔ بہت سے کلامی مسائل اس بحث پر موقوف ہیں مثلا انسان کا اپنے اعمال میں خود مختار ہونا،خدا وند متعال کی بعض صفات کمالیہ کا ثبوت جیسے خدا کا عادل ہونا،اسی طرح بعض صفات سلبیہ بھی اسی بحث پر موقوف ہے جیسے خدا سے قبیح کا سرزد نہ ہونا،خداکا ظلم نہ کرنا وغیرہ ۔ جو لوگ حسن اور قبح کے قائل ہیں وہ انسانی افعال میں انسان کو مختار،خدا کو عادل مانتے ہیں جبکہ حسن و قبح کے مخالفین انسان کو مجبور اور خداکی عدالت سے انکار کرتے ہیں ۔

تربیت اولاد

خاندانی منصوبہ بندی : ایک معاشرتی ضرورت یا دھوکہ!

خاندانی منصوبہ بندی کوآج کے دور میں مختلف مملک کی حکومتیں اپنی کامیاب ترین پالیسیوں میں شمار کرتی ہیں۔ آبادی کا کنٹرول اور چھوٹا خاندان خوشحالی کا ذریعہ سمجھاجاتا ہے۔ خصوصاً محدود وسائل رکھنے والے ممالک میں اس پالیسی کو زیادہ اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے

تعليم و تربيت کے بارے ميں اسلامي علما کي آرا و نظريات

تاريخ اسلام ميں تقريبا تمام علماء و دانشور مختلف علوم ميں مھارت رکھنے کے ساتھ ساتھ تعليم و تربيت ميں بھي صاحب نظر اور مھارت کے حامل ہوا کرتے تھے اس سے اسلام ميں تعليم وتربيت کي اھميت کا پتہ چلتا ہے لھذا ہم يہاں پر علما اسلام کي نظر ميں تعليم و تربيت کي اھميت اجاگر کرنے کے لئے ان کے بعض نظريات پيش کر رہے ہيں۔

تندرستی

نارنجی کے وہ فوائد جن سے عام افراد بھی ناواقف

سردیوں کا موسم شروع ہوتے ہی خوشبودار نارنجیاں اور کینو ہر جگہ دکھائی دے رہے ہیں۔ قدرت کے اس انمول تحفے میں بہت سے قیمتی اجزا اور شفا کے خزانے پوشیدہ ہیں۔ پہلے تازہ تحقیق سے جائزہ لیتے ہیں کہ نارنجی اور کینو کس طرح امراضِ قلب اور بلڈ پریشر کو روکتے ہیں۔ فالج، بلڈ پریشر اور امراضِ قلب میں مفید

روزانہ دو سیب کھائیے، کولیسٹرول سے نجات پائیے

روزانہ دو سیب کھائیے، کولیسٹرول سے نجات پائیے سیب کھاؤ اور ڈاکٹر بھگاؤ کی مثل ہم سنتے آئے ہیں جس میں بڑی حد تک صداقت بھی ہے لیکن اب روزانہ دو سیب کھانے سے کولیسٹرول میں بھی کمی واقع ہوسکتی ہے۔

مہدویت{امام زمان عج}

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی امامت کے اہداف میں سے ایک ہدف امام معصوم کا لوگوں کی باطنی ہدایت ہے۔ امام لائق اور پاکیزہ دل رکھنے والے افراد کو اپنی طرف جذب کر کے انہیں کمال تک پہنچاتے ہیں۔ واضح ہے کہ انسان کا اس طرح ہدایت سے ہمکنار ہونے کے لئے ضروری نہیں کہ وہ امام کے ساتھ ظاہری رابطہ برقرار کرے۔ گذشتہ بیانات کی روشنی میں امام زمانہ (عج) کو بادل کے پیچھے پنہان روشن آفتاب سے تشبیہ دینے کا مقصد بھی واضح ہو جاتا ہے۔ اگرچہ بادل کے پیچھے پنہان سورج سے انسان مکمل طور بہرہ مند نہیں ہوتا ہے لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ اس سے انسان کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا ہے۔ بہرحال امام زمانہ (عج) کے وجود کے آثار و برکات سے بہرہ مند نہ ہونے کا سبب انسانوں کی طرف سے خاص حالات کا فراہم نہ کرنا ہے، جس کی وجہ سے لوگ اس عظیم نعمت کے فوائد سے محروم ہیں اور اس محرومیت کا سبب وہ خود ہیں نہ کہ خداوند متعال اور امام، کیونکہ خداوند متعال اور امام کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی مشکل درپیش نہیں ہے۔

دیگر مناسبتیں

آفتاب کربلا جناب حضرت علی اکبر علیہ السلام

کربلا کے میدان میں ایک جوان ایسا بھی تھا جو سیرت و صورت اورگفتار و کردار میں شبیہ پیغمبر تھے۔دیکھنے والا دنگ رہ جاتا تھا کہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے ہیں۔انہوں نے اس کائنات میں ایسی قربانی پیش کی کہ تمام دنیا دھنگ رہ گئی۔آپ ایسے باپ کے فرزند تھے جس پر رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ناز تھا ،جس کے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری بن گئے۔اس عظیم باپ کا فرزند تھا جس نے دنیا والوں کو جینا سکھایا اورباطل قوتوں کے سامنے قیام کر نا سکھایا۔

حدیث غدیر، حدیث متواتر

متواتر لفظی: وہ حدیث یا خبر جس کے تمام روایوں نے، تمام طبقات میں، اس حدیث یا خبر کے مضمون کو ہو بہو اور یکسان طور پر نقل کیا ہو۔ جیسے حدیث ثقلین کی عبارت، (انّي تارك فيكم الثقلين ۔۔) یا حدیث غدیر کی عبارت (من كنت مولاه فهذا عليّ مولاه)۔

چہاردہ معصومین ع

امام سجاد علیہ السلام

امام علیہ السلام نے کربلا سے کوفہ، کوفہ سے شام اور زندان سے رہائی تک ہر موقع پر اپنے خطبوں کے ذریعے جہاں قیام حسینی علیہ السلام کے اصولوں اور فلسفے سے لوگوں کو آگاہ فرمایا وہیں اسلام کا نام استعمال کرتے ہوئے اسلام کی دھجیاں اڑانے کی کوشش کرنے والی ناپاک حکومت کا مکروہ چہرہ بھی بےنقاب فرمایا۔

معاویہ و یزید کے دور حکومت میں امام حسین (ع) کا کردار

معاویہ کو ہر وقت آپ کے قیام کا خوف رہتا تھا۔ چنانچہ اس نے امام کے سامنے قبض و بسط کی پالیسی اپنائی یعنی ایک طرف سے آپ کی منزلت کو مدنظر رکھتا تھا اور بظاہر آپ کے لئے احترام کا قائل تھا اور آپ کی تعظیم کرتا تھا اور اپنے کارگزاروں کو بھی ہدایت کرتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرزند کو نہ چھیڑیں اور ان کی بےحرمتی سے پرہیز کریں۔ دوسری طرف سے امام کی مسلسل اور شب و روز نگرانی کو اپنی پالیسی کا حصہ بنایا اور سفر اور حضر میں آپ کی تمام حرکات و سکنات پر کڑی نظر رکھی جاتی تھی۔

دیگر موضوعات

وضو کے بارے میں ایک تحقیقی جائزہ

وضو بذات خودایک مستحب عبادت ہے لیکن بعض عبادتوں کےلئے مقدمہ بننے کی وجہ سے بعض اوقات واجب ہوتا ہے۔ امام محمد باقر علیہ السلام فرماتےہیں :(لا صلوة الا بطهور)۱نماز طہارت کے بغیر صحیح نہیں ہے ۔ پیغمبر اسلامصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک حدیث میں فرماتے ہیں :(افتتاح الصلوة الوضوء و تحریمها التکبیروتحلیلها التسلیم)۲نماز کی ابتداءوضوسے ہوتی ہے اور تکبیرۃ الاحرام کے ذریعے چیزیں حرام اور سلام کے ذریعے چیزیں حلال ہو جاتی ہیں ۔یہ حدیث امام علیعلیہ السلام سےبھی نقل ہوئی ہے ۳۔ شیعہ مذہب کے مطابق اعضائے وضو کو اوپر سے نیچے کی طرف دھونا چاہیے جبکہ اہل سنت کے نزدیک یہ شرط لازم نہیں ہے ۔اسی طرح شیعوں کے نزدیک چہرے اور ہاتھوں کے دھونےکے بعد سر اور پاوٴں کا مسح کرنا چاہیے اور ان دونوں کو دھوناصحیح نہیں ہے لیکن اہل سنت سر اور پاوٴں کے دھونے کو واجب سمجھتے ہیں اور ان پر مسح کرنے کو کافی نہیں سمجھتے ۔

جابر بن عبداللہ انصاری پہلا زائر اربعین حسینی

عطیہ کوفی کے مطابق جابر بن عبد اللہ انصاری کے ساتھ حسین بن علی علیہ السلام کی قبر کی زیارت کرنے کے لئے کوفہ سے نکلے۔ جب ہم کربلا پہنچے تو جابر فرات کے ساحل کے قریب گیا اور غسل انجام دیا اور محرم افراد کی طرح ایک چادر پہنی، پھر ایک تھیلی سے خوشبو نکالا اور اپنے آپ کو اس خوشبو سے معطر کیا اور ذکر الہی کے ساتھ قدم اٹھانا شروع کیا، یہاں تک کہ وہ حسینؑ ابن علیؑ کے مرقد کے قریب پہنچا۔ جب ہم نزدیک پہنچے تو جابر نے کہا کہ میرا ہاتھ قبر حسینؑ پر رکھو۔ میں نے جابر کے ہاتھوں کو قبر حسین پر رکھا۔ اس نے قبر حسینؑ ابنی علی کو سینے سے لگایا اور بے ہوش ہو گیا۔ جب میں نے اس کے اوپر پانی ڈالا تو وہ ہوش میں آیا۔ اس نے تین مرتبہ یا حسینؑ کی آواز بلند کی۔

سب سے زیادہ زیر بحث

امام علی علیہ السلام کی شانِ میں چہل حدیث

مولا علیؑ کی شان میں چالیس احادیث اور یہ ﻭﻩ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ہیں ﺟﻮ ﺻﺤﺎﺡ ﺳﺘﻪ ﻣﯿﮟ بھی موجود ہے. 1= ﻋﻨﻮﺍﻥ ﺻﺤﻴﻔﺔ ﺍﻟﻤﺆﻣﻦ ﺣﺐّ ﻋﻠﻰؑ ﺑﻦ ﺍﺑﻰ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ. ﺻﺤﯿﻔﮧ ﻣﻮﻣﻦ ﮐﺎ ﻋﻨﻮﺍﻥ ﻣﺤﺒﺖِ ﻋﻠﯽؑ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻃﺎﻟﺐؑ ﮨﮯ.

دعا کی اہمیت

دعا کی اہمیت حضرت انسان کس قدر شرف و عظمت کا مالک ہے،اس کے لئے کائنات بنی،پوری کائنات میں اسی کو عزت و تکریم کا حق دار ٹھہرایا گیا۔تمام مخلوق اس کی خدمت اور منفعت کے لئے پیدا کی گئی۔لیکن اتنی عظمتوں کے باوجود اس کی خلقت کا مقصد اللہ کی معرفت اور عبادت قرار دیا گیا۔لہذا انسان کا اہم کام خدا سے ارتباط و ربط ہے۔مگر کیسا رابطہ؟ اتنی عظمتوں کے باوجود بارگاہ خداوندی میں فقر محض اور احتیاج محض ہے جبکہ ذات پروردگار غناء ہی غناء ہے۔بلندی ہی بلندی ہے۔انسان مشکلات،مصائب اور تکالیف میں ایسی ذات کی طرف رجوع کر کے اپنے فقر اور احتیاج محض ہونے کا اقرار و اعتراف کرتے ہوئے اپنی نفی اور بے ثباتی کا اظہار کرتا نظر آتا ہے۔اس سلسلے میں انسان کا ایک اہم وسیلہ دعا ہے۔دعا کے ذریعے اپنی احتیاج کا اظہار بھی کرتا ہے اوراللہ سے اعانت کی التجا بھی کرتا ہے۔

قرآنِ کریم اور اصلاحِ معاشرہ تحریر: عارف حسین تھہیم

لفظِ ’’اصلاح‘‘ درست کرنے، صحیح کرنے اور خرابی کو دُور کے معنی میں آتا ہے۔ معاشرتی اور اجتماعی مفہوم کے اعتبار سے شائستہ اور نیک عمل انجام دینے، نیز فساد و تباہی کو ختم کرنے کے لیے بھی اصلاح کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ ارشادِ پروردگار ہے: ﴿ إِلاَّ الَّذِينَ تَابُواْ وَأَصْلَحُواْ وَبَيَّنُواْ فَأُوْلَئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ﴾[1]؛ ’’سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے توبہ کی اور اپنے کئے کی اصلاح کر لی اور (جس کو چھپایا ہوا تھا) واضح کر دیا تو ایسے ہی لوگوں کی توبہ میں قبول کرتا ہوں اور بےشک میں بڑا توبہ قبول کرنے والا اور بہت مہربان ہوں۔‘‘ حقیقی توبہ میں گذشتہ بُرائی اور فساد کا دُور کرنا اور آئندہ بُرائی و فساد سے بچے رہنے کا تہیہ کرنا ضروری ہے۔ شائستہ اور صالح معاشرے کی تشکیل کا ہدف اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی دُنیوی و اُخروی اور مادی و معنوی ضرورتوں کو پورا کیا جائے؛ لہٰذا صالح معاشرے کی خصوصیات یہ ہیں کہ اس میں ہر ایک کی جان، مال، عزّت و آبرو اور ناموس محفوظ ہوتی ہے، لوگوں کی درمیان مہر و محبت اور اپنائیت کا راج ہوتا ہے اور سب لوگ روحانی و معنوی لحاظ سے پُرسکون اور مطمئن ہوتے ہیں۔

پیٹ کا درد کئی امراض کی علامت ہوسکتا ہے

اگر پیٹ میں درد ہورہا ہو تو اس کی کئی وجوہ ہوسکتی ہیں۔ اکثر ناقص غذا کی وجہ سے معدے میں تکلیف ہونے لگتی ہے جسے ہم پیٹ کے درد سے تعبیر کرتے ہیں۔ معدے کا درد کئی امراض کی علامت بھی ہوسکتا ہے، اس لیے اسے نظرانداز نہیں کرنا چاہیے اور بلاتاخیر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ بسم اللہ الرحمن الرحیم بنام خدائے رحمن و رحیم اٴَللّٰھُمَّ اِنّيِ اٴَسْاٴَ لُکَ بِرَحْمَتِکَ الَّتي وَ سِعَتْ کُلَّ شَيْءٍ،وَ بِقُوَّتِکَ الَّتي قَھَرْتَ خدایا میراسوال اس رحمت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر محیط ھے۔ اس قوت کے واسطہ سے ھے جو ھر چیز پر حاوی ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ،وَخَضَعَ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ،وَذَلَّ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ، وَبِجَبَرُوتِکَ الَّتي غَلَبْتَ اور اس کے لئے ھر شے خاضع اور متواضع ھے۔ اس جبروت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر غالب ھے اور اس عزت کے واسطہ سے ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ، وَ بِعِزَّتِکَ الَّتي لاٰ یَقُومُ لَھٰا شَيْءٌ، وَبِعَظَمَتِکَ الَّتي مَلَاٴَتْ کُلَّ جس کے مقابلہ میں کسی میں تاب مقاومت نھیں ھے۔اس عظمت کے واسطہ سے ھے جس نے ھر چیز کو پر کردیا ھے شَيْءٍ، وَ بِسُلْطٰانِکَ الَّذي عَلاٰ کُلَّ شَيْءٍ، وَبِوَجْھِکَ الْبٰاقي بَعْدَ فَنٰاءِ کُلِّ شَيْءٍ،

اخلاق حسنہ کے بارے میں معصومین (ع) کے ارشادات

رسول خدا (ص) اور ا ئمہ معصومین علیہم اسلام اخلاق حسنہ کى اعلى ترین مثالیں ہیں اور یہ بے مثال "حُسن خلق" ان کے کردار اور گفتار سے عیاں تھا، ان ہى عظیم شخصیتوں کے ارشادات کى روشنى میں ہم "حُسن خلق" کے اعلى درجہ پر فائز ہو سکتے ہیں۔

مقصد قیام امام حسین علیہ السلام تحریر: محمد حسن حسرت کچوروی

امام حسین ؑ ۲۸ رجب ۶۰ ھ میں مدینہ سے حرکت کرتے ہیں اور ۳ شعبان المعظم کو مکہ میں پہنچتے ہیں پھر ۸ ذی الحجہ کو مکہ سے کوفہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں ۲ محرم الحرام کو وارد کربلا ہوتے ہیں اور ۱۰ محرم الحرام کو شھید ہو جاتے ہیں اس مختصرعرصے میں انسان سو سے زیادہ درس حاصل کر سکتا ہے بلکہ کہہ سکتے ہیں کہ امام کے اس مختصر عرصےمیں ہزاروں دروس شامل ہیں لیکن یہ سارے دروس ایک اصلی درس ‘ حرکت اور قیام امام میں موجود ہیں باقی سارے حاشیے ہیں متن یہ ہے کہ امام نے قیام کیوں کیا؟ یہ اصلی درس ہے لوگ امام سے کہتے تھے آپ مدینہ اور مکہ میں محترم ہیں یمن میں اتنے سارے شیعہ ہیں کسی کونے میں تشریف لے جائیں اور یزید سے کوئی سروکار نہ رکھے تاکہ وہ بھی آپ سے کوئی سروکار نہ رکھے۔ یہ سارے مرید ہیں انہیں تبلیغ کریں عبادت کریں اور زندگی کریں۔ کاس قیام کا مقصد کیاہے ۔۔؟

تربیت اولاد کے انمول اصول تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

لغت کی کتابوں میں لفظ" تربیت" کے لیے تین اصل اور ریشہ ذکر ہوئے ہیں۔ الف:ربا،یربو زیادہ اور نشوونما پانےکے معنی میں ہے۔ ب: ربی، یربی پروان چڑھنا اور برتری کے معنی میں ہے۔ج: رب،یرب اصلاح کرنے اور سرپرستی کرنے کے معنی میں ہے۔۱صاحب مفردات کا کہنا ہے کہ "رب" مصدری معنی ٰ کے لحاظ سے کسی چیز کو حد کمال تک پہچانے ، پرورش اور پروان چڑھانے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ۲ صاحب التحقيق کا کہنا ہے اس کا اصل معنی ٰ کسی چیز کو کمال کی طرف لے جانے ، نقائص کو تخلیہ اور تحلیہ کے ذریعےرفع کرنے کے معنی ٰ میں ہے۔۳ بنابر این اگر اس کا ريشه(اصل) "ربو" سے ہو تو اضافہ کرنا، رشد ، نمو اور موجبات رشد کو فراہم کرنے کے معنی ٰ میں ہےلیکن ا گر "ربب" سے ہو تو نظارت ، سرپرستي و رهبري اور کسی چیز کو کمال تک پہنچانے کے لئے پرورش کے معنی ٰ میں ہے۔

مشاہدات

آج

719

کل

1125

اس ماہ

26508

اس سال

271855

ٹوٹل مشاہدات

441083