علماء کونسل کچورا سکردو بلتستان

متن

بحرین کی مظلوم انقلابی تحریک کے سات سال-2

خلیج فارس تعاون چھ عرب ممالک پر مشتمل ایک علاقائی ادارہ ہے جس میں متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت، عمان اور  قطر شامل ہیں۔ اس کونسل کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس پر سعودی عرب کا  مکمل قبضہ اور تسلط ہے۔ سعودی عرب کی مرضی کے بغیر  یہ کسی قسم کا فیصلہ کرنے کی ہمت رکھتی  اسی تسلط کو سعودی عرب نے بحرین کے حوالے سے بھی استعمال کیا اور خلیج فارس  تعاون کونسل  سے بحرین کے عوام کو کسی بھی طرح کی حمایت نہ مل سکی بلکہ اس کونسل کی ہر اجلاس میں پہلے سے بڑھ کر آل خلیفہ کے استبدادی اقدامات کی حوصلہ افزائی کی گئی۔  14 مارچ 2011 کو بحرین کی عوامی تحریک  کو ابھی ایک ماہ مکمل ہوا تھا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے سپر جزیرہ کے تحت اپنی فوجیں بحرین میں اتار دیں اور آل خلیفہ حکومت کے حکم پر ان فوجیوں نے بحرین کے عوامی تحریک کو کچلنا شروع کیا۔

  اس فوج میں 1200 فوجی سعودی عرب سے اور پانچ سو متحدہ عرب سے شامل کیے گے تھے۔ سپر جزیرہ بنیادی طور پر خلیج فارس تعاون کونسل کے رکن ممالک کے درمیان ایک فوجی معاہدہ ہے جسکے تحت اگر کسی ملک  پر بیرونی حملہ ہوتا ہے تو سپر جزیرہ معاہدے کے تحت  اس ملک کو بیرونی جارحیت سے بچانے کے لیے دوسرے رکن ممالک اپنے فوجی بھیج کر اس کا دفاع کریں گے۔ قابل غور نکتہ یہ ہے کہ یہ معاہدہ بیرونی جارحیت سے دفاع کے لیے تھا  نہ داخلی اور اندرونی اعتراض یا حکومت مخالف پرامن تحریک کے خلاف ۔ حقیقت یہ ہے کہ خلیج فارس تعاون کونسل نے اپنے اقدامات سے اس بات کو ثابت کر دیا کہ وہ بحرینی عوام کے جاہز اور جمہوری مطالبات کو نہیں مانتی اور آل خلیفہ حکومت کے ساتھ ملکر ان کو کچلنے پر یقین رکھتی ہے۔ خلیج فارس  تعاون کونسل حقیقت میں اس وقت بحرینی عوام کے براہ راست مقابلے پر اتر آئی ہے۔

  اہم بات یہ ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی فوورسز کے بحرین میں داخلے کے صرف دو دن بعد یعنی 16 مارچ 2011 کو بحرین کے عوام کو سختی سے کچلنے  کی پالیسی پر عمل درآمد شروع کر دیا اور اس حوالے سے بحرین کے طبی مراکز اور عوامی اجتماعات پر حملوں کا خصوصی طور پر ذکر کیا جا سکتا ہے ۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی فورسز 16 مارچ کے دن ۔۔شہر کے اطراف کے علاقوں پر عوام کو سختی سے کچلنے کے لیے  عوامی اجتماعات  کو اپنے حملوں کا نشانہ بنایا اور علاقے کے سب سے بڑے ہسپتال  سلمانیہ جیسے سب سے بڑا سرکاری ہسپتال سمجھا جاتا ہے اسکا محاصرہ کر کے نہ صرف زخمیوں کو  ہسپتال جانے سے روکا بلکہ  انھیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔

ان بیرونی فورسز کی پہلے دو دن کی کاروائیوں میں چھ بحرینی شہری جاں بحق ہو گے۔ اسکے بعد ان فورسز کے حملوں میں شدت آگئی اور بحرین کے مختلف شہروں اور علاقوں مین ہونے والے مظاہروں کو بیرونی فورسز نے سختی سے کچلنا شروع کر دیا۔ ان فورسز نے عوام پر ظلم و تشدد کا بازار گرم کیا گیا جس کے نتیجے میں آل خلیفہ حکومت  اور احتجاجی عوام کے درمیان اختلاف کی خلیج میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا ۔ عوام پرامن مظاہروں کے زریعے  اپنے جمہوری حق کا مطالبہ کر رہے تھے جبکہ آل خلیفہ کی بیرونی اور حکومتی فورسز بحرینی عوام کے خلاف تشدد آمیز پالیسیاں اپنا کر ان کے جمہوری حقوق پامال کرنے لگی۔

  سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی فورسز کی بحرینی آمد سے آل خلیفہ حکومت کو تقویت ملی اور عوامی احتجاج کرنے والے عوام کو وقتی طور پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس بیرونی فورسز نے وقتی طور پر تو آل خلیفہ حکومت کو سہارا دے دیا لیکن عوام  کے قلب و ذہن میں آل خلیفہ حکومت کے خلف نفرتوں میں مزید اضافہ ہوا  اور عوام ان حکمرانوں کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے مزید سنجیدہ ہو گے۔ سعودی فورسز کے غیر انسانی تشدد کی بعد بحرینی عوام کے اذہان میں یہ تاثر  قوی ہو گیا کہ بحرینی حکومت نے باہر کی  فورسز بلا کر ان کو کچلنے کی پالیسی پر عمل کیا ہے لہذا یہ بحرین کے عوام کی نہیں باہر یے مسلط کردہ ڈکٹیٹر  حکومت ہے جسے بحرینی عوام سے کسی طرح کی کوئی ہمدردی نہیں۔

  سعودی عرب نے فوجی لشکر بھیجنے کے ساتھ ساتھ خلیج فارس تعاون میں بحرین کی حکومت کے لیے 20 ارب ڈالر کی رقم مخصوص کی  تاکہ بحرینی حکومت اس رقم کو مخالفین کو دے کر انہیں تحریک سے باہر رکھے اور اپنے حامیوں کو مزید فنڈز دے تاکہ وہ مخالفین کو کچلنے میں حکومت کا ساتھ دے۔ آل خلیفہ حکومت نے اس پیسے سے بحرین کے حکومتی مخالف عوام کو خریدنے کی کوشش کی تاکہ عوامی تحریک ٹھنڈی پڑ جائے۔ سعودی عرب نے خلیج فارس تعاون کونسل کے زریعے نہ صرف اپنے فوجی تحرین میں بھیجے بلکہ اس سے اور بھی کئی مقاصد حاصل کیے۔ سعودی عرب نے مئی 2012 کے خلیج فارس تعاون کونسل میں اس کونسل کے رکن ممالک کے درمیان نا تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے تعاون کی بجائے اتحاد کی تجویز دی جسے بحرین کی آل خلیفہ  حکومت کے علاوہ کسی نے زیادہ اہمیت نہ دی۔ کویت اور قطر نے اسکی مخالفت کی جبکہ متحدہ عرب امارات اور عمان نے  اجلاس میں شرکت نہ کی البتہ اس سے یہ ضرور ثابت ہوگیا کہ خلیج فارس تعاون کے اندر بھی اختلاف موجود ہیں۔ بحرین کی عوامی جمہوری تحریک کے حوالے سے بھی خلیج فارس تعاون کونسل کے اندر اختلافات موجود ہیں جس کی گزشتہ سات سالوں میں کئی مثالیں سامنے آ ئی ہیں۔ سعودی عرب فوجی مداخلت کے زریعے بحرین کے حل کا قائل ہے جبکہ قطر اور کویت سیاسی  راستے سے بحرین کے بحران کو حل کرنے پریقین رکھتے ہیں۔ کویت نے کوشش کی کہ آل خلیفہ حکومت اور حکومت مخالف عوام کے درمیان ثالثی  کاکردار ادا کرے  لیکن اس میں اسے خاطر خواہ کامیابی نصیب نہ ہوئی ۔ قطر نے تجویز دی تھی کہ دو ماہ کے اندر اندر  ایک  عبوری حکومت تشکیل دی جائے اور سعودی عرب اور متحدہ عرب کی فوجیں بحرین کو ترک کر دیں۔ اس تجویز کو بحرین کی عوامی تحریک کی قیادت نے قبول کر لیا لیکن بحرین کی آل خلیفہ حکومت  اور سعودی عرب نے اسکی شدید مخالفت کی ۔

  ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ سعودی عرب خلیج فارس تعاون کونسل سے ایران فوبیا بھی کام لے رہا ہے۔ وہ ایران مخالف اپنے  اہداف کو اس کونسل کے زریعے پورے کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ آل خلیفہ حکومت اور سعودی عرب نے گزشتہ سات سالوں میں بھرپور کوشش کی کہ بحرین کی عوامی  جمہوری  تحریک کو ایک فرقہ وارانہ تحریک کے طور پر پیش کریں اور اس کے سائے میں ایران پر مداخلت کے تکراری الزام لگائیں۔ سعودی عرب اور آل خلیفہ حکومت  اندرونی اور بیرونی پلیٹ فارموں پر اس بات کا شدید پروپگنڈا کیا کہ ایران بحرین میں ایک شیعہ حکومت بنانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور بحرین کی عوامی جمہوری تحریک ایرانی مداخلت کا مرتکب ہو رہا ہے۔ ایران کا ہمیشہ سے یہ موقف ہے کہ بحرین میں جاری تحریک بھی اسی طرح کی ایک عوامی جمہوری تحری ہے جو خطے کے دوسرے عرب ممالک میں شروع ہوئی بحرین کے عوام بھی استبدادی حکومت سے چھٹکارا پاکر جمہوری اقدار پر استوار عوامی حکومت کے خواہشمند ہیں۔ ایران نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے کہ بحرین میں  فرقہ وارانہ کشیدگی نہیں۔ اور نہ ہی ایران بحرین میں کسی قسم کی مداخلت کا مرتکب ہو رہا ہے۔

  بحرین کے بادشاہ نے انہی الزامات کے تناظر میں نومبر 2011 میں ایک کمیشن تشکیل دیا تھا جسکی سربراہی شرین بحسونی کے پاس تھی شرین بیسونی نے اپنی تحقیقی رپورٹ میں واضح طور پر  لکھا ہے کہ " آل خلیفہ حکومت نے مخالفین اور ایران کے درمیان کوئی واضح تعلق اور رابطہ موجود نہیں ہے۔

513 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ کے صفحہ نمبر376 میں آیا ہے کہ آل خلیفہ حکومت ایسا کئی ٹھوس ثبوت پیش کرنے میں کامیاب  نہیں ہو سکی جس سے ثابت ہو کہ  بحرین کے حالیہ حکومتی مخالف تحریک میں ایران کا ہاتھ ہے۔

 بحرین میں امریکہ کے سفیر کراجسکی نے بھی 21 ستمبر 2011 میں اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکہ کے پاس ایسے کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہیں جس سے  یہ پتہ چلتا ہو کہ بحرین کی ناامنی میں ایران کا کردار ہے۔

یہ بات کھل کر بیان کی جاسکتی ہے کہ خلیج فارس تعاون کونسل عرب بادشاہوں کی حمایت کا ایک کلپ ہے اور بحرین  کے مسئلے میں اسکی کارکردگی مزید کھل کر سامنے آگئی ہے۔ معروف تجزیہ نگار کریٹسن کورٹ کے بقول بحرین کے بحران کی وجہ سے خلیج فارس تعاون کونسل  کے زوال کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

  عرب دنیا کا ایک اور اہم ادارہ عرب لیگ ہے عرب لیگ کا  بھی بحرین میں کردار نہ ہونے کے برابر تھا ۔عرب لیگ / خلیج فارس تعاون کونسل کی طرح مکمل طور پر آل خلیفہ حکومت کی حمایت میں تو نہ آئی لیکن اس نے بحرینی عوام کے لیے بھی  کوئی خاص قدم نہ اٹھایا حالانکہ شام  اور لیبیا کے مسئلے میں اس ادارے نے مسلط حکومتوں کی مخالفت کی اور عوام کی حمایت کی اور یہاں تک کہ عرب لیگ  سے شام کی رکنیت کو معطل کر دیاگیا۔

  اسی طرح لیبیا کی نمائندگی بھی حکومت مخالف ایک گروپ کو دے دی گئی۔ اس تناظر میں کہا جاسکتا ہے کہ عرب لیگ نے بھی  اپنی خاموشی سے بلواسطہ آل خلیفہ حکومت کی حمایت کی۔ یہاں پر سوال یہ ہے کہ عرب ممالک پر مشتمل اداروں نے کس لیے  تیونس، مصر ، لیبیا اور شام میں تو حکمرانوں کی مخالفت کی اورعوام کی حمایت کا اعلان کیا لیکن بحرین میں اس پالیسی کو نہیں اپنایا گیا۔

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ تیونس اور مصر کا انقلاب تقریبا ایک ماہ کے عرصے میں اپنے نتیجے  پر پہنچ گیا لہذا عرب لیگ اور خلیج فارس تعاون کونسل کو اس بارے میں متفقہ موقف اپنانے کا موقع ہی نہ مل سکا ۔  یمن میں بھی خلیج فارس تعاون کونسل نے علی عبداللہ صالح کو اقتدار  حسب باقی رکھنے پر بھرپور کوشش کی لیکن عوام کے عظیم دباؤ کے سامنے یہ کونسل ٹھہر نہ سکی۔ شام اور لیبیا میں بھی عرب حکمرانوں نے مغربی ممالک کے اشاروں پر قذافی اور بشااسد کی مخالفت کی

تاہم بحرین کی صورت حال مختلف ہے۔ بحرین جغرافیائی حوالے سے سعودی عرب اور مغربی ممالک کے تابع ہے ۔ آل خلیفہ خاندان کے سعودی عرب کے آل خلیفہ خاندان سے نہایت قریبی تعلقات ہیں۔ بحرین جغرافیائی حوالے سے امریکہ اور برطانیہ کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ بحرین میں آل خلیفہ حکومت کی شکست سعودی اور مغربی طاقتوں کی شکست ہے دوسری طرف بحرین میں شیعہ مسلمانوں کی اکثریت ہے اور آل خلیفہ حکومت کے خاتمے سے بحرین میں بھی عراق کی طرح صورت حال پیدا ہو سکتی ہے اور اکثریتی آبادی کے  منتخب افراد حکومت  میں آسکتے ہیں اور یہ وہ مسئلہ ہے جسکو آل سعود سمیت امریکہ اور برطانیہ اسکو تسلیم کرنے پر تیار ہو سکتے ہیں  بہت سے تجزیہ کاروں کا یہی کہنا ہے ک آل سعود سمیت بعض عرب ممالک کے حکمرانوں اورامریکہ سمیت مغرب کے بعض دیگر ممالک بحرین کے عوام  کے جمہوری حقوق پر کان دھرنے کو تیار نہیں اور اس عوامی جمہوری انقلاب کی حمایت نہیں کر رہے ہیں اور  اسے مسلسل نظر انداز کر رہے ہیں۔

گراہم فوسر نے کافی عرصہ پہلے  جو بات کہی تھی آج وہ سچ ثابت ہو رہی ہے  بحرین کے شیعہ مسلمانوں کو بھلا دیا گیا ہے اور انہیں ایک منظم اور  سسٹیمیٹک   طریقے سے امتیازی رویوں اور  ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

{خبر رساں ادارہ تسنیم}

اس سے مربوط موضوعات

یمن جنگ | بچوں کے قاتل ممالک سعودیہ اور امارات کے درمیان اختلافات پر ایک نظر
یمن جنگ | بچوں کے قاتل ممالک سعودیہ اور امارات کے درمیان اختلافات پر ایک نظر سعودی عرب اور امارات کے حمایتی دہشت گردوں اور باغیوں کے درمیان عدن میں شدید جھڑپیں ہوئی ہیں، اگر یمن کی موجودہ صورتحال میں جنگ بند ہوجائے تو یہ جنگ بندی سعودی عرب کے لئے بہت بڑی شکست تصور ہوگی کیونکہ یمن کے اہم علاقوں پر متحدہ عرب امارات کے حامیوں کا قبضہ ہے۔ خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق سعودی عرب کے امریکہ نواز اور خوانخوار بادشاہ شاہ سلمان نے26 مارچ 2015 کو یمن کے نہتے اور مظلوم عربوں پر یہ سوچ کروحشیانہ اور بھیانک جنگ مسلط کی کہ وہ چند ماہ کے دوران پورے یمن پر اپنا قبضہ جما لےگا اور اس سلسلے میں سعودی عرب کے خونخوار بادشاہ نے بڑی مقدار میں رشوت دیکر دس ممالک کو بھی اپنے ہمراہ کرلیا۔ لیکن یمنی عوام نے استقامت کامظاہرہ کرتے ہوئے سعودی عرب کے یمن پر قبضہ کےخواب کو چکنا چور کردیا۔

بین الاقوامی

امریکی جیل سے ایرانی سائنسدان رہا ہوگئے

امریکی جیل سے ایرانی سائنسدان رہا ہوگئے اسلامی جمہوریہ ایران کے سائنسدان مسعود سلیمانی امریکی جیل سے رہا ہوگئے ہیں۔

سوڈان کا یمن سے فوجی واپس بلانے کا اعلان

سوڈان کا یمن سے فوجی واپس بلانے کا اعلان سوڈان کے وزیراعظم عبداللہ حمدوک نے کہا ہے کہ یمن جنگ میں شریک سوڈانی فوجیوں کو یمن سے نکالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

امام خمینی

امام خمینی رہ کے انقلابی نظریات اور اس کے اثرات

امام خمینی علیہ الرحمہ کی شخصیت اعلم فقیہ، واصل عارف اور با بصیرت راہبر جیسی صفات کی حامل ہے، ایران کی سرزمین پر دو ہزار پانچ سو سالہ پرانی شہنشاہیت کو شکست دینے کے بعد شرق و غرب کی سپر پاورز کا سامنا کرنے والی شخصیت ہے۔

امام خمینی رح ایک مرد عارف

حضرت امام خمینی رح کے بارے میں عام طور پر جو بات ہمارے ہاں زیادہ مشہور ہے وہ یہ کہ آپ نے ایک ملوکیت اور بادشاہت کا خاتمہ کرکے ایک اسلامی اور مذہبی حکومت قائم کی۔ لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ استعماری طاقتوں کے خلاف تھے اور استعماری طاقتوں نے آپ کی حکومت کے خاتمے کے لیے اپنے پورے وسائل بروئے کار لائے لیکن وہ اس میں ناکام ہو گئیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ امام خمینی رح بہت شجاع اور بہادر تھے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ آپ نے ناجائز طور پر قائم صہیونی حکومت کے خاتمے اور فلسطینیوں کے حقوق کے حصول کے لیے بھی آواز بلند کی۔ آپ مستضعفوں اور محروموں کے حقوق کے بھی علمبردار تھے۔ آپ نے اتحاد امت کے لیے ایک زور دار آواز بلند کی۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ ایک عالم اور فقیہ تھے اور آپ کی تقلید کی جاتی تھی۔ بعدازاں آپ کا دیوان بھی چھپا اور پاکستان میں بھی بہت سے لوگوں کو معلوم ہوا کہ آپ صاحب دیوان شاعر بھی تھے، لیکن ابھی تک جو پہلو کم شناختہ یا ناشناختہ ہے وہ یہ ہے کہ آپ ایک بلند پایہ عارف تھے اور شاید یہ کہنا زیادہ بہتر ہو کہ آپ کے وجود سے پھوٹنے والی تمام تر خوبیوں کا سرچشمہ یہی امر ہے کہ آپ ایک عارف باللہ اور عاشق الٰہی تھے اور اس سلسلے میں نظری اور عملی طور پر نہایت عمق اور گہرائی کے مقام پر فائز تھے۔

امام خامنہ ای

ایرانی قوم نے دشمن کے ناپاک منصوبے کا نہایت ہوشیاری سے خاتمہ کردیا، امام خامنہ ای

ایرانی قوم نے دشمن کے ناپاک منصوبے کا نہایت ہوشیاری سے خاتمہ کردیا، امام خامنہ ای امام خامنہ ای نےتہران میں اسلامی جمہوریہ ایران کی بسیج نامی رضاکارفورس کے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ایرانی قوم نے دشمن کے ناپاک منصوبے کا نہایت ہوشیاری سے خاتمہ کردیا ہے۔

عراق و لبنان کے ہمدردوں کی پہلی ترجیح ناامنی کا علاج ہونا چاہیئے، آیت اللہ سید علی خامنہ ای

رہبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ ان تمامتر خباثتوں اور خطرناک کینہ پروریوں کے موجب چند ایک جانے پہچانے ہاتھ ہیں جبکہ ان تمام حوادث کے پیچھے امریکی و مغربی انٹیلیجنس ایجنسیز ہیں اور خطے کی بعض آمر حکومتوں کا پیسہ ہے، البتہ دشمن نے ایران کیلئے بھی ایسے ہی منصوبے تیار کر رکھے تھے، لیکن خوش قسمتی کیساتھ ایرانی قوم نے میدان میں قدم رکھتے ہوئے عقلمندی سے کام لیا۔

کلام و عقائد

بدا قرآن و حدیث کی روشنی میں

ذات الٰہی کے بارے میں بدا، حقیقت میں ابدا و اظہار ہے۔ یعنی جو کچھ خدا کے علم میں ہے اور انسان کے علم میں نہیں، اسےخداوند متعال اظہار و آشکار کرتا ہے۔ اسے بدا، کہنے کا سبب یہ ہے کہ یہ مقام فعل الٰہی میں نمایاں ہوتا ہے، اگرچہ ذات الٰہی میں جہل اور تغییر محال ہیں۔ خداوند متعال انبیاء کرام پر غیبی طریقے سے نظر رکھتا ہے تاکہ یہ لوگ وحی کے پہنچانے میں خطا سے محفوظ رہیں۔ قرآن کریم اس بارے میں ارشاد فرماتا ہے، "لِّيَعْلَمَ أَن قَدْ أَبْلَغُواْ رِسَالَاتِ رَبهِّم" تاکہ وہ دیکھ لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات کو پہنچا دیا ہے۔ واضح ہے کہ خداوند متعال پہلے سے ہی آگاہ ہے کہ انبیاء، وحی الٰہی کو صحیح طریقے سے لوگوں تک پہنچائیں گے۔

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی علم کلام کےاہم مباحث میں سے ایک حسن و قبح عقلی کا بحث ہے ۔اس سے مراد یہ ہے کہ کچھ افعال ذاتی طور پر حسن {اچھے} اور کچھ افعال ذاتی طور پر قبیح{ برے} ہیں ۔ معتزلہ اور امامیہ حسن و قبح عقلی کے قائل ہیں جبکہ اشاعرہ اس کی نفی کرتے ہیں۔ بہت سے کلامی مسائل اس بحث پر موقوف ہیں مثلا انسان کا اپنے اعمال میں خود مختار ہونا،خدا وند متعال کی بعض صفات کمالیہ کا ثبوت جیسے خدا کا عادل ہونا،اسی طرح بعض صفات سلبیہ بھی اسی بحث پر موقوف ہے جیسے خدا سے قبیح کا سرزد نہ ہونا،خداکا ظلم نہ کرنا وغیرہ ۔ جو لوگ حسن اور قبح کے قائل ہیں وہ انسانی افعال میں انسان کو مختار،خدا کو عادل مانتے ہیں جبکہ حسن و قبح کے مخالفین انسان کو مجبور اور خداکی عدالت سے انکار کرتے ہیں ۔

تربیت اولاد

خاندانی منصوبہ بندی : ایک معاشرتی ضرورت یا دھوکہ!

خاندانی منصوبہ بندی کوآج کے دور میں مختلف مملک کی حکومتیں اپنی کامیاب ترین پالیسیوں میں شمار کرتی ہیں۔ آبادی کا کنٹرول اور چھوٹا خاندان خوشحالی کا ذریعہ سمجھاجاتا ہے۔ خصوصاً محدود وسائل رکھنے والے ممالک میں اس پالیسی کو زیادہ اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے

تعليم و تربيت کے بارے ميں اسلامي علما کي آرا و نظريات

تاريخ اسلام ميں تقريبا تمام علماء و دانشور مختلف علوم ميں مھارت رکھنے کے ساتھ ساتھ تعليم و تربيت ميں بھي صاحب نظر اور مھارت کے حامل ہوا کرتے تھے اس سے اسلام ميں تعليم وتربيت کي اھميت کا پتہ چلتا ہے لھذا ہم يہاں پر علما اسلام کي نظر ميں تعليم و تربيت کي اھميت اجاگر کرنے کے لئے ان کے بعض نظريات پيش کر رہے ہيں۔

تندرستی

دانت صاف رکھیے... تاکہ دل محفوظ رہے، ماہرین

جنوبی کوریا میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ افراد پر تقریباً بارہ سال تک جاری رہنے والے ایک مطالعے میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ لوگ جو دن میں تین یا تین سے زیادہ مرتبہ اپنے دانت صاف کرتے ہیں، انہیں دل کی دھڑکنیں بے قابو ہونے اور دل کے دورے کا خطرہ بھی بہت کم ہوتا ہے۔

لہسن اور پیاز چھاتی کے سرطان سے بچانے میں مددگار

لہسن اور پیاز ایشیا میں ایک عرصے سے استعمال ہورہی ہیں اور اب ان کے متعلق اچھی خبر یہ آئی ہے کہ ان دونوں جادوئی سبزیوں کا بھرپور اور مسلسل استعمال خواتین کو چھاتی کے سرطان (بریسٹ کینسر) سے محفوظ رکھتا ہے۔

مہدویت{امام زمان عج}

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی امامت کے اہداف میں سے ایک ہدف امام معصوم کا لوگوں کی باطنی ہدایت ہے۔ امام لائق اور پاکیزہ دل رکھنے والے افراد کو اپنی طرف جذب کر کے انہیں کمال تک پہنچاتے ہیں۔ واضح ہے کہ انسان کا اس طرح ہدایت سے ہمکنار ہونے کے لئے ضروری نہیں کہ وہ امام کے ساتھ ظاہری رابطہ برقرار کرے۔ گذشتہ بیانات کی روشنی میں امام زمانہ (عج) کو بادل کے پیچھے پنہان روشن آفتاب سے تشبیہ دینے کا مقصد بھی واضح ہو جاتا ہے۔ اگرچہ بادل کے پیچھے پنہان سورج سے انسان مکمل طور بہرہ مند نہیں ہوتا ہے لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ اس سے انسان کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا ہے۔ بہرحال امام زمانہ (عج) کے وجود کے آثار و برکات سے بہرہ مند نہ ہونے کا سبب انسانوں کی طرف سے خاص حالات کا فراہم نہ کرنا ہے، جس کی وجہ سے لوگ اس عظیم نعمت کے فوائد سے محروم ہیں اور اس محرومیت کا سبب وہ خود ہیں نہ کہ خداوند متعال اور امام، کیونکہ خداوند متعال اور امام کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی مشکل درپیش نہیں ہے۔

دیگر مناسبتیں

آفتاب کربلا جناب حضرت علی اکبر علیہ السلام

کربلا کے میدان میں ایک جوان ایسا بھی تھا جو سیرت و صورت اورگفتار و کردار میں شبیہ پیغمبر تھے۔دیکھنے والا دنگ رہ جاتا تھا کہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے ہیں۔انہوں نے اس کائنات میں ایسی قربانی پیش کی کہ تمام دنیا دھنگ رہ گئی۔آپ ایسے باپ کے فرزند تھے جس پر رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ناز تھا ،جس کے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری بن گئے۔اس عظیم باپ کا فرزند تھا جس نے دنیا والوں کو جینا سکھایا اورباطل قوتوں کے سامنے قیام کر نا سکھایا۔

حدیث غدیر، حدیث متواتر

متواتر لفظی: وہ حدیث یا خبر جس کے تمام روایوں نے، تمام طبقات میں، اس حدیث یا خبر کے مضمون کو ہو بہو اور یکسان طور پر نقل کیا ہو۔ جیسے حدیث ثقلین کی عبارت، (انّي تارك فيكم الثقلين ۔۔) یا حدیث غدیر کی عبارت (من كنت مولاه فهذا عليّ مولاه)۔

چہاردہ معصومین ع

امام سجاد علیہ السلام

امام علیہ السلام نے کربلا سے کوفہ، کوفہ سے شام اور زندان سے رہائی تک ہر موقع پر اپنے خطبوں کے ذریعے جہاں قیام حسینی علیہ السلام کے اصولوں اور فلسفے سے لوگوں کو آگاہ فرمایا وہیں اسلام کا نام استعمال کرتے ہوئے اسلام کی دھجیاں اڑانے کی کوشش کرنے والی ناپاک حکومت کا مکروہ چہرہ بھی بےنقاب فرمایا۔

معاویہ و یزید کے دور حکومت میں امام حسین (ع) کا کردار

معاویہ کو ہر وقت آپ کے قیام کا خوف رہتا تھا۔ چنانچہ اس نے امام کے سامنے قبض و بسط کی پالیسی اپنائی یعنی ایک طرف سے آپ کی منزلت کو مدنظر رکھتا تھا اور بظاہر آپ کے لئے احترام کا قائل تھا اور آپ کی تعظیم کرتا تھا اور اپنے کارگزاروں کو بھی ہدایت کرتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرزند کو نہ چھیڑیں اور ان کی بےحرمتی سے پرہیز کریں۔ دوسری طرف سے امام کی مسلسل اور شب و روز نگرانی کو اپنی پالیسی کا حصہ بنایا اور سفر اور حضر میں آپ کی تمام حرکات و سکنات پر کڑی نظر رکھی جاتی تھی۔

دیگر موضوعات

جابر بن عبداللہ انصاری پہلا زائر اربعین حسینی

عطیہ کوفی کے مطابق جابر بن عبد اللہ انصاری کے ساتھ حسین بن علی علیہ السلام کی قبر کی زیارت کرنے کے لئے کوفہ سے نکلے۔ جب ہم کربلا پہنچے تو جابر فرات کے ساحل کے قریب گیا اور غسل انجام دیا اور محرم افراد کی طرح ایک چادر پہنی، پھر ایک تھیلی سے خوشبو نکالا اور اپنے آپ کو اس خوشبو سے معطر کیا اور ذکر الہی کے ساتھ قدم اٹھانا شروع کیا، یہاں تک کہ وہ حسینؑ ابن علیؑ کے مرقد کے قریب پہنچا۔ جب ہم نزدیک پہنچے تو جابر نے کہا کہ میرا ہاتھ قبر حسینؑ پر رکھو۔ میں نے جابر کے ہاتھوں کو قبر حسین پر رکھا۔ اس نے قبر حسینؑ ابنی علی کو سینے سے لگایا اور بے ہوش ہو گیا۔ جب میں نے اس کے اوپر پانی ڈالا تو وہ ہوش میں آیا۔ اس نے تین مرتبہ یا حسینؑ کی آواز بلند کی۔

عطیہ عوفی(کوفی)زائر اربعین حسینی

زیارت اربعین کی اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ امام حسن عسکری علیہ السلام نے فرمایا: مومن کی نشانیوں میں سے ایک زیارۃ اربعین کی تلاوت کرناہے۔۳۔جب بھی زیارت اربعین اورچہلم امام حسین علیہ السلام کا ذکر ہو وہاں حتما ان دو ہستیوں یعنی جابر اور عطیہ کا ذکر ہوتا ہے۔ یہ دونوں ہستیاں اسلامی تاریخ کی معروف شخصیات میں سے ہیں۔ لیکن جو چیز انہیں دوسری شخصیات اورافراد سے ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ان کا شمار امام حسین علیہ السلام کے پہلے زائروںمیں ہوتا ہے۔

سب سے زیادہ زیر بحث

امام علی علیہ السلام کی شانِ میں چہل حدیث

مولا علیؑ کی شان میں چالیس احادیث اور یہ ﻭﻩ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ہیں ﺟﻮ ﺻﺤﺎﺡ ﺳﺘﻪ ﻣﯿﮟ بھی موجود ہے. 1= ﻋﻨﻮﺍﻥ ﺻﺤﻴﻔﺔ ﺍﻟﻤﺆﻣﻦ ﺣﺐّ ﻋﻠﻰؑ ﺑﻦ ﺍﺑﻰ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ. ﺻﺤﯿﻔﮧ ﻣﻮﻣﻦ ﮐﺎ ﻋﻨﻮﺍﻥ ﻣﺤﺒﺖِ ﻋﻠﯽؑ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻃﺎﻟﺐؑ ﮨﮯ.

دعا کی اہمیت

دعا کی اہمیت حضرت انسان کس قدر شرف و عظمت کا مالک ہے،اس کے لئے کائنات بنی،پوری کائنات میں اسی کو عزت و تکریم کا حق دار ٹھہرایا گیا۔تمام مخلوق اس کی خدمت اور منفعت کے لئے پیدا کی گئی۔لیکن اتنی عظمتوں کے باوجود اس کی خلقت کا مقصد اللہ کی معرفت اور عبادت قرار دیا گیا۔لہذا انسان کا اہم کام خدا سے ارتباط و ربط ہے۔مگر کیسا رابطہ؟ اتنی عظمتوں کے باوجود بارگاہ خداوندی میں فقر محض اور احتیاج محض ہے جبکہ ذات پروردگار غناء ہی غناء ہے۔بلندی ہی بلندی ہے۔انسان مشکلات،مصائب اور تکالیف میں ایسی ذات کی طرف رجوع کر کے اپنے فقر اور احتیاج محض ہونے کا اقرار و اعتراف کرتے ہوئے اپنی نفی اور بے ثباتی کا اظہار کرتا نظر آتا ہے۔اس سلسلے میں انسان کا ایک اہم وسیلہ دعا ہے۔دعا کے ذریعے اپنی احتیاج کا اظہار بھی کرتا ہے اوراللہ سے اعانت کی التجا بھی کرتا ہے۔

قرآنِ کریم اور اصلاحِ معاشرہ تحریر: عارف حسین تھہیم

لفظِ ’’اصلاح‘‘ درست کرنے، صحیح کرنے اور خرابی کو دُور کے معنی میں آتا ہے۔ معاشرتی اور اجتماعی مفہوم کے اعتبار سے شائستہ اور نیک عمل انجام دینے، نیز فساد و تباہی کو ختم کرنے کے لیے بھی اصلاح کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ ارشادِ پروردگار ہے: ﴿ إِلاَّ الَّذِينَ تَابُواْ وَأَصْلَحُواْ وَبَيَّنُواْ فَأُوْلَئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ﴾[1]؛ ’’سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے توبہ کی اور اپنے کئے کی اصلاح کر لی اور (جس کو چھپایا ہوا تھا) واضح کر دیا تو ایسے ہی لوگوں کی توبہ میں قبول کرتا ہوں اور بےشک میں بڑا توبہ قبول کرنے والا اور بہت مہربان ہوں۔‘‘ حقیقی توبہ میں گذشتہ بُرائی اور فساد کا دُور کرنا اور آئندہ بُرائی و فساد سے بچے رہنے کا تہیہ کرنا ضروری ہے۔ شائستہ اور صالح معاشرے کی تشکیل کا ہدف اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی دُنیوی و اُخروی اور مادی و معنوی ضرورتوں کو پورا کیا جائے؛ لہٰذا صالح معاشرے کی خصوصیات یہ ہیں کہ اس میں ہر ایک کی جان، مال، عزّت و آبرو اور ناموس محفوظ ہوتی ہے، لوگوں کی درمیان مہر و محبت اور اپنائیت کا راج ہوتا ہے اور سب لوگ روحانی و معنوی لحاظ سے پُرسکون اور مطمئن ہوتے ہیں۔

پیٹ کا درد کئی امراض کی علامت ہوسکتا ہے

اگر پیٹ میں درد ہورہا ہو تو اس کی کئی وجوہ ہوسکتی ہیں۔ اکثر ناقص غذا کی وجہ سے معدے میں تکلیف ہونے لگتی ہے جسے ہم پیٹ کے درد سے تعبیر کرتے ہیں۔ معدے کا درد کئی امراض کی علامت بھی ہوسکتا ہے، اس لیے اسے نظرانداز نہیں کرنا چاہیے اور بلاتاخیر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ بسم اللہ الرحمن الرحیم بنام خدائے رحمن و رحیم اٴَللّٰھُمَّ اِنّيِ اٴَسْاٴَ لُکَ بِرَحْمَتِکَ الَّتي وَ سِعَتْ کُلَّ شَيْءٍ،وَ بِقُوَّتِکَ الَّتي قَھَرْتَ خدایا میراسوال اس رحمت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر محیط ھے۔ اس قوت کے واسطہ سے ھے جو ھر چیز پر حاوی ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ،وَخَضَعَ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ،وَذَلَّ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ، وَبِجَبَرُوتِکَ الَّتي غَلَبْتَ اور اس کے لئے ھر شے خاضع اور متواضع ھے۔ اس جبروت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر غالب ھے اور اس عزت کے واسطہ سے ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ، وَ بِعِزَّتِکَ الَّتي لاٰ یَقُومُ لَھٰا شَيْءٌ، وَبِعَظَمَتِکَ الَّتي مَلَاٴَتْ کُلَّ جس کے مقابلہ میں کسی میں تاب مقاومت نھیں ھے۔اس عظمت کے واسطہ سے ھے جس نے ھر چیز کو پر کردیا ھے شَيْءٍ، وَ بِسُلْطٰانِکَ الَّذي عَلاٰ کُلَّ شَيْءٍ، وَبِوَجْھِکَ الْبٰاقي بَعْدَ فَنٰاءِ کُلِّ شَيْءٍ،

مقصد قیام امام حسین علیہ السلام تحریر: محمد حسن حسرت کچوروی

امام حسین ؑ ۲۸ رجب ۶۰ ھ میں مدینہ سے حرکت کرتے ہیں اور ۳ شعبان المعظم کو مکہ میں پہنچتے ہیں پھر ۸ ذی الحجہ کو مکہ سے کوفہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں ۲ محرم الحرام کو وارد کربلا ہوتے ہیں اور ۱۰ محرم الحرام کو شھید ہو جاتے ہیں اس مختصرعرصے میں انسان سو سے زیادہ درس حاصل کر سکتا ہے بلکہ کہہ سکتے ہیں کہ امام کے اس مختصر عرصےمیں ہزاروں دروس شامل ہیں لیکن یہ سارے دروس ایک اصلی درس ‘ حرکت اور قیام امام میں موجود ہیں باقی سارے حاشیے ہیں متن یہ ہے کہ امام نے قیام کیوں کیا؟ یہ اصلی درس ہے لوگ امام سے کہتے تھے آپ مدینہ اور مکہ میں محترم ہیں یمن میں اتنے سارے شیعہ ہیں کسی کونے میں تشریف لے جائیں اور یزید سے کوئی سروکار نہ رکھے تاکہ وہ بھی آپ سے کوئی سروکار نہ رکھے۔ یہ سارے مرید ہیں انہیں تبلیغ کریں عبادت کریں اور زندگی کریں۔ کاس قیام کا مقصد کیاہے ۔۔؟

اخلاق حسنہ کے بارے میں معصومین (ع) کے ارشادات

رسول خدا (ص) اور ا ئمہ معصومین علیہم اسلام اخلاق حسنہ کى اعلى ترین مثالیں ہیں اور یہ بے مثال "حُسن خلق" ان کے کردار اور گفتار سے عیاں تھا، ان ہى عظیم شخصیتوں کے ارشادات کى روشنى میں ہم "حُسن خلق" کے اعلى درجہ پر فائز ہو سکتے ہیں۔

تلاوت قرآن کی فضیلت

'پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا، جو شخص رات کو دس آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام غافلین (جو یاد خدا سے بے بہرہ رہتے ہیں) میں نہیں لکھا جائے گا اور جو شخص پچاس آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام ذاکرین (جو خدا کو یاد کرتے ہیں، حرام و حلال کا خیال رکھتے ہیں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص سو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام قانتین (عبادت گزاروں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص دوسو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام خاشعین (جو خدا کے سامنے متواضع ہوں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص تین سو آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام سعادت مندوں میں لکھا جائے گا، جو شخص پانچ ہزار آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام عبادت اور پرستش خدا کی کوشش کرنے والوں میں لکھا جائے گا اور جو شخص ہزار آیتوں کی تلاوت کرے وہ ایسا ہے جیسے اس نے کثیر مقدار میں سونا راہ خدا میں دے دیا ہو۔،،

مشاہدات

آج

1004

کل

611

اس ماہ

18070

اس سال

234701

ٹوٹل مشاہدات

403929