علماء کونسل کچورا سکردو بلتستان

متن

الغدیر فی الکتاب و السنۃ و الادب
محمد شریف نفیس
الغدیر فی الکتاب و السنة و الادب، جو الغدیر کے نام سے معروف ہے عربی زبان میں لکھی گئی ایک ایسی کتاب ہے جسےعلامہ عبد الحسین امینیؒ نےحدیث غدیر کی روشنی میں امام علی علیہ السلام کی امامت و خلافت بلا فصل کی اثبات کے لئے تحریر کیا ہے۔یہ کتاب اب تک  11 جلدوں میں مرتب ہوئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کتاب کی  کل 20 جلدیں ہیں۔ لیکن آخری 9 جلدیں ابھی تک طبع نہیں ہوئی ہیں۔
علامہ امینی اس کتاب کو لکھنے کی خاطر مختلف ممالک کی لائبریریوں کا سفر کیا ہے۔ جن میں ہندوستان، مصر اور شام وغیرہ کی لائبریریاں شامل ہیں۔الغدیر کے مؤلف کے مطابق اس کتاب کی تالیف میں  انہوں  نے ایک لاکھ سے زائد کتابوں کی طرف مراجعہ اور دس ہزار سے زیادہ کتابوں کا مطالعہ کیا ہے۔انہیں یہ کتاب لکھنے میں  ۴۰ سال سے زیادہ کا عرصہ لگا ہے۔الغدیر کے بارے میں کئی کتابیں اور تھیسز لکھے گئے ہیں۔ اسی طرح الغدیر میں پیش کیے گئے موضوعات کو 27 جلدوں پر مشتمل مجموعے کی صورت میں بھی منظر عام پر لایا گیا ہے۔ 
مؤلف:
مؤلف کا پورا نام  شیخ عبدالحسین امینی ہے۔جو علامہ امینی نجفی کے نام سے معروف  ہیں۔ آپ  ۱۳۲۰ہجری قمری کو شہر تبریز میں پیدا ہوئے۔ دینی علوم کے مقدمات آپ نے اپنے آبائی شہر تبریز میں حاصل کیے اس کے بعد اعلی تعلیم کیلئے نجف اشرف تشریف لے گئے وہاں آپ نے نجف اشرف کے نامور اساتید سے علوم آل محمد ؑحاصل کی اور عنفوان جوانی میں آپ نےسید ابوالحسن اصفہانی(۱۳۶۴ھ)، میرزا محمد حسین نائینی(۱۳۵۵ھ) اور شیخ عبدالکریم حائری یزدی(۱۳۶۱) جیسے مراجع تقلید سے اجتہاد اور دوسرے علماء سے نقل روایت کی اجازت دریافت کی جن میں سے ہر ایک نے آپ کی علمی، دینی اور سماجی مقام و منزلت کی تعریف کی ہے۔(یادنامہ علامہ امینی، ص 19) 
علامہ امینی نے کتاب "الغدیر..." کی تحریر کے سلسلے میں، منابع کی تلاش کے لئے بہت ہی سادہ اور کفایت شعاری کے ساتھ مختلف ممالک کا سفر کیا ہے۔ اس سفر کے دوران آپ کو لائبرئریوں کی تلاش رہتی تھی اور جہاں بھی کوئی لائبریری ملتی وہاں بیٹھ کر مطالعہ کرتے اور ان لائبریریوں میں موجود کتابوں سے نسخہ برداری کرتے اس کے علاوہ مختلف اساتید اور دیگر علمی شخصیات کے ساتھ ملاقات، لوگوں کی تربیت، اصلاح اور تعلیمات آل محمد(ص) کی نشر و اشاعت آپ کے ان مسافرتوں میں آپ کا معمول ہوا کرتا تھا۔ ان مقاصد کیلئے آپ نے جن شہروں کا رخ کیا ان میں ہندوستان کے شہر حیدر اباد دکن، علی گڑھ، لکھنؤ، کانپور، جلالی اور رامپور شامل ہیں۔اس کے علاوہ عرب ممالک میں فوعہ، معرفہ، قاہرہ، حلب، نبل اور دمشق وغیرہ کی طرف بھی اسی سلسلے میں آپ نے سفر کئے۔(یادنامہ علامہ امینی، ص 26) 
الغدیر
"الغدیر فی الکتاب و السنۃ و الادب" سے مراد قرآن ، سنت اور ادب کی روشنی میں غدیر کی تحقیق ہے۔ اس کتاب کیلئے اس عنوان کا انتخاب اس لئے کیا گیا ہے کہ جو شخص حدیث غدیراور اس سے متعلق امور کا منکر ہے حقیقت میں وہ قرآن، سنت،ادب، تاریخ اور عربی اشعار کے مجموعے کا منکر ہے۔ کیونکہ مؤلف نے مذکورہ تمام منابع سے ملل اور متقن قرائن و شواہد کے ساتھ اپنے مدعا کو ثابت کیا ہے۔(تکملۃ الغدیر، ثمرات الاسفار الی الاقطار، ج۱، ص۴۸)
کتاب "الغدیر" میں مسلمانوں کے تقریبا ۱۵۰ سے زائد اہم‌ترین کتابوں سے مطالب جمع آوری کئے گئے ہے، جنہوں نے مختلف علمی شعبوں میں افراد کی انفرادی اور اجتماعی شخصیت کے بنانے میں نہایت اہم کردار ادا کئے ہیں۔ اور خوداہل سنت کے معیار کے مطابق ان مطالب کی چھان بین کی گئی ہے یہاں تک کہ یہ کہنے میں کوئی مضایقہ نہیں ہے کہ الغدیر کے مصنف نے ایک طرح سے علوم کو دوبارہ زندہ کیا ہے اور مسلمانوں کی عمومی لائبریریوں کی تصحیح کی توفیق شامل حال ہوئی ہے۔ کیونکہ قدیم اور معاصر علماء کے 150 سے زائد علمی خزانوں، تاریخ طبری سے لے کر احمد امینی کی کتاب فجر الاسلام تک ہمیں دیگر سینکڑوں اور ہزاروں مسائل کے حل کیلئے معیار اور میزان عطا کرتی ہیں۔
کتاب کے مطالب:
پہلی جلد
مصنف نے اس جلد میں حدیث غدیر کو نقل کرنے کے بعد اصحاب پیغمبر اکرمؐ میں سے ۱۱۰ نامور صحابہ کے نام لئے ہیں جنہوں نے اس حدث کو نقل کیا ہے. اور ان میں سے ایک ایک کا نام اہل سنت منابع سے تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔(الغدیر، ج۱، ص ۴۱-۱۴۴)
صحابہ کرام کے نام کے بعد تابعین میں سے بھی ۸۴ افراد کا نام لیتے ہیں جنہوں نے اس حدیث کو نقل کیا ہے۔ اس کے ضمن میں اہل سنت کے ان علماء کا نام بھی لیتے ہیں جنہوں نے اپنی رجال کی کتابوں میں ان کا نام ذکر کیا ہے۔( الغدیر، ج۱، ،ص۱۴۵-۱۶۵)
تابعین کے بعد اس حدیث کو نقل کرنے والے علماء میں دوسرے صدی ہجری قمری سے لے کر چودہویں صدی تک کے ۳۶۰ علماء کا نام ذکر کرتے ہیں۔
کتاب کی دوسری فصل میں ایسے مصنفین کا نام لیتے ہیں جنہوں نے حدیث غدیر پر مستقل کتابیں لکھی ہیں۔ کتاب کی تیسری فصل میں حدیث غدیر پر ہونے والے اعتراضات کا ذکر کیا ہے۔ حدیث غدیر کے بارے میں قرآن کی آیات کا تذکرہ اس جلد کے بعد والے مباحث میں شامل ہیں۔ اس کے بعدعید غدیر اور حضرت ابوبکر و حضرت عمر اور دوسرے صحابہ کا امام علیؑ  کو بعنوان جانشین پیغمبرؐمبارک باد پیش کرنے کی داستان اور اہلبیت ؑ کے ہاں اس عید کی شان و منزلت پر بحث کی ہے اس کے بعد عید غدیر کے بارے میں بعض اہل سنت دانشمندوں کے کلمات کو ذکر کرنے کے ساتھ حدیث غدیر کی سند کے بارے میں بحث کی ہے۔
اس جلد کے آخری مطالب کو اس حدیث کے معنی اور اس کے مفہوم کے ساتھ مختص کیا ہے۔ اس مقصد کیلئے مصنف نے بعض اہل سنت دانشمندوں کی طرف سے پیش ہونے والے اعتراضات کو بیان کرکے مختلف قرائن و شواہد کی بنا پر اس حدیث کی دلالت کو شیعوں کی مدعا پر واضح اور آشکار طور پر بیان فرماتے ہیں۔
دوسری جلد
الغدیر کی دوسری جلد غدیر سے مربوط اشعار کے ساتھ مختص ہے۔ مصنف نے سب سے پہلےقرآن و سنت کی رو سے شعر اور شاعری کی شان و منزلت پر بحث کی ہے۔ اس کے بعد پہلی صدی ہجری کے ان شاعروں کا تذکرہ کیا ہے جنہوں نے غدیر کے حوالے سے شعر کہے ہیں۔ اس باب میں امیر المؤمنینؑ، حسان بن ثابت، قیس بن سعد بن عبادہ، عمرو بن عاص اور محمد بن عبداللہ حمیری وغیرہ کو تاریخی اسناد کے ساتھ ذکر کرتے ہیں۔
اس کے بعد دوسری صدی ہجری کے شاعروں کا نام لیتے ہیں جنہوں نے غدیر کے بارے میں اشعار لکھے یا کہے ہیں ان میں کمیت، سید حمیری،عبدی کوفی وغیرہ کا نام سر فہرست ہیں اس کی بعد تیسری صدی ہجری کے شاعروں میں ابوتمام طائی اور دعبل خزاعی کا ا نام لیتے ہیں۔
تیسری جلد
الغدیر کی تیسری جلد کے آغاز میں تیسری صدی ہجری کے شاعروں کے نام کے بقیہ حصے کا تذکرہ ملتا ہے۔ اس کے بعد موقع کی مناسبت سے اسلام کے  بارے میں بعض مستشرقین کے آثار پر تنقید کرتے ہیں۔ اس کے بعدابن رومی اور افوہ حمانی کے تذکرے کے ساتھ تیسری صدی ہجری کے شاعروں کے نام کو جاری رکھتے ہیں۔ آگے چل کر بعض اہل سنت علماء کی اعتراضات کو مد نظر رکھتے ہوئےزید شہیدؒ کے بارے میں شیعہ نقطہ نظر پر گفتگو کرتے ہیں۔
بحث کو جاری رکھتے ہوئے، مصنف بعض اہل سنت علماء کی طرف سے شیعوں پر لگائے جانے والی بعض تہمتوں کو مستند طور پر بیان کرتے ہوئے  فضائل اہلبیت ؑ،قرآن ، تحریف قرآن اور متعہ جیسے امور پر مفصل بحث کرتے ہیں۔
اس جلد کے دوسرے مباحث میں چوتھی صدی ہجری کے شاعروں کا نام لیتے ہیں جن میں ابن طبا طبا اصفہانی، ابن علویہ اصفہانی، مفجّع، ابوالقاسم صنوبری، قاضی تنوخی، ابوالقاسم تنوخی، ابوالقاسم زاہی اور ابو فراس حمدانی کا نام شامل ہے۔
چوتھی جلد
الغدیر کی چوتھی جلد میں بھی چوتھی صدی ہجری کے شاعروں کے نام کے ساتھ پانچویں اور چھٹی صدی ہجری کے شاعروں کا نام بھی بیان فرماتے ہیں۔ ان میں ابوالفتح کشاجم، صاحب بن عباد، شریف رضی، شریف مرتضیٰ، ابوالعلاء معرّی اور خطیب خوارزمی جیسے نامور شعرا کا نام دیکھنے میں آتا ہے۔
پانچویں جلد
پانچویں جلد میں پانچویں صدی ہجری کے بقیہ شاعروں کے نام کے ساتھ حدیث رد الشمس ،نماز ہزار رکعت، اسلام میں محدّث، شیعہ ائمہ کا علم غیب ، جنازوں کا مشاہد مشرفہ میں لے جانا، زیارت اور جعل احادیث جیسےدیگر مطالب بھی زیر بحث لاتے ہیں ۔ 
مصنف نے ان تمام مباحث کو اہل سنت منابع سے مدلل بیان فرماتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ بعض اہل سنت علماء کی طرف سے لگائے جانے والی بعض تہمتوں کا بھی جواب دیتے ہیں۔
چھٹی جلد
الغدیر کی یہ جلد آٹھویں صدی ہجری کے شعراء پر مشتمل ہے جن میں امام شیبانی شافعی، شمس الدین مالکی اور علاء الدین حلی قابل ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ اس جلد میں مطرح ہونے والے دوسرے موضوعات میں حضرت عمر بن خطاب کا علم اور مختلف قضاوتوں میں اس کے اشتباہات کو خود اہل سنت منابع کی روشنی میں تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔ اس کے بعد انہی مطالب کے ضمن میں عمر کا دو متعوں (متعہ حج اور عورت کے ساتھ متعہ) کو حرام قرار دینے کے واقعے کو تفصیل سے بیان فرمایا ہے۔
ساتویں جلد
الغدیر کی یہ جلد نویں صدی ہجری کے شاعروں کے ناموں سے آغاز ہوتا ہے۔ اس کے بعدحضرت ابوبکر کے فضائل کے بارے میں موجود مبالغوں کا تذکرہ کرتے ہیں۔ اسی ضمن میں دین کے حوالے سے ان کے علم و آگاہی پر بحث کرتے ہوئےفدک کے بارے میں تفصیل سے بحث کی ہے۔
اس جلد کے آخری مباحث،ایمان ابوطالبؑ پر مشتمل ہے۔ مصنف نے اپنے مدعا کے اوپر مختلف مستندات ذکر کئے ہیں جن میں اشعار، دوسروں کی گفتگو حضرت ابوطالبؑ کے کارناموں اور ان کے بارے میں معصومینؑ  کی احادیث کو بیان فرمایا ہے۔
آٹھویں جلد
اس جلد کا آغازایمان ابوطالبؑ  کی بحث کے ادامے سے ہوتا ہے اس حوالے سے بعض شبہات کا قرآن کی روشنی میں جواب دیتے ہیں۔ آگے چل کر ایمان ابوطالبؑ کی بحث کو حدیث ضحضاح کے ساتھ ادامہ دیتے ہیں۔
اس جلد کے بقیہ مباحث میں حضرت ابوبکر کے فضائل کے حوالے سے موجود بعض دیگر مبالغوں کو بیان کرنے کے ساتھ عمر کے بارے میں موجود مبالغوں پر بھی بحث کرتے ہیں۔اس کی بعد حضرت عثمان کے بارے میں موجود مبالغوں پر بحث کے دوران اس کے علم و دانش اور ان کے زمانے میں بیت المال میں سے اپنے اقرباء اور رشتہ داروں کو دئے جانے والے بذل و بخششوں پر بحث کرتے ہوئے آخر کار حضرت ابوذر غفاری ؒ کی ربذہ کی طرف جلاوطنی پر بحث کرتے ہیں۔
نویں جلد
اس جلد میں حضرت عثمان کے فضائل پر بحث کو جاری رکھتے ہوئے اس کے زمانے میں حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت عمار یاسر اور کوفہ کے بعض بزرگوں کی شام کی طرف جلاوطنی پر بحث کرتے ہیں۔ اس کے بعد بعض صحابہ کرام کا حضرت عثمان کے بارے میں نظریات اور آخر کار عثمان کے قتل کی بحث کے ساتھ اس جلد کا اختتام ہوتا ہے.
دسویں جلد
خلفاء ثلاثہ کی فضائل پر مشتمل مباحث، الغدیر کی دسویں جلد کی ابتدائی مباحث کو تشکیل دیتی ہیں۔ آگے چل کر حضرت عبداللہ بن عمر اور اس کے بعض ناروا سلوک کے ضمن میں اس کا یزید کی بیعت کرنے پر بحث کرتے ہیں۔ معاویہ کے  بارے میں موجود مبالغوں اور اس کی غلط کاریوں  ، بدعتیں،جنایتیں اور دیگر کارنامے اس جلد کے دوسرے مباحث میں شامل ہیں۔جن میں امیر المؤمنین علیہ السلام کے ساتھ جنگیں  اور مسئلہ حکمیت بھی شامل ہے۔
گیارہویں جلد
اس جلد کا آغاز معاویہ بن ابو سفیان کا امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے ساتھ سلوک سے ہوتا ہے۔ اسی طرح اس میں معاویہ  کا شیعیان امیرالمؤمنینؑ کے ساتھ برتاؤ  خاص کر معاویہ کا حضرت حجر بن عدی اور اس کے ساتھیوں کے اوپر انجام دینے والی ظلم و ستم کے بارے میں بھی بحث کی گئی ہے۔ اس کے بعد معاویہ کی جھوٹی فضیلتوں پر تنقید کرنے کے ساتھ ساتھ اس طرح کے دوسرے افراد کے بارے میں موجود خود ساختہ غلو آمیز داستانوں کو بھی ذکر کیا ہے۔
غدیر کے بارے میں شعر کہنے والے نوبں صدی سے لے کر بارہویں صدی ہجری تک کے شاعروں کا تذکرہ بھی اسی جلد میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس جلد کے آخر میں مصنف بارہویں جلد کی نوید بھی سناتا ہے جو غدیر کے دوسرے شعراء کے اسامی پر مشتمل ہوگا۔لیکن آپ کی وفات نے آپ کو اس کام کی مہلت نہیں دی۔
الغدیر کی اہمیت
محققین اور منتقدین، الغدیر کو مختلف اسلامی علوم جیسے تاریخ، کلام، حدیث، درایہ، رجال، تفسیر، تاریخ نزول، تاریخ ادبیات غدیر، نقد، تصحیح، کتابشناسی وغیرہ پر مشتمل ایک انسائکلوپیڈیا قرار دیتے ہیں جو اپنی مخصوص و منظم ترتیب، بہترین اور دیدہ زیب آفسٹ، حکیمانہ منطق، شاعرانہ نثر، قیمتی مآخذ، محکم اور حماسی بیان، بے پناہ شوق اور جذبہ اور مدلل مطالب پر مشتمل ہونے کی وجہ سے اپنی مثال آپ ہے۔
اس کتاب میں ایسے عمدہ مسائل مطرح ہوئی ہیں کہ ایک مورخ اسلام اور اسلام شناس کیلئے ان مسائل سے آگاہی کے بغیر اس کا کام کامل تصور نہیں کیا جاتا۔ مثلا اگر کوئی ماہر "علم الحدیث" اس علم کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہو لیکن الغدیر کی پانچویں جلد میں (سلسلۃ الکذابین والوضاعین) کا مطالعہ نہ کیا ہو یا ملل و نحل کے بارے میں تحقیق کرنا چاہتا ہو لیکن الغدیر کی تیسری جلد کا مطالعہ نہ کیا ہو یا تشیع کی مبانی اور مبادی سے بحث کرنا چاہتا ہو لیکن الغدیر کی پہلی، دوسری اور ساتویں جلد کا مطالعہ نہ کیا ہو تو بغیر کسی شک کے اس کا کام ادھورا رہ جائے گا اور کامل نہیں ہوگا۔

اس سے مربوط موضوعات

بین الاقوامی

یمن سے شکست کا ملبہ ایران پر ڈالنے کی کوشش

سعودی عرب کو گذشتہ 4 سال سے یمن کی جانب سے بھرپور مزاحمت کا سامنا ہے۔ امریکا، اسرائیل اور متحدہ عرب امارات سمیت دیگر خلیجی ریاستوں کی مدد کے باوجود یمن سے شکست نے سعودی عرب کی جنگی صلاحیتوں کا بھانڈا پھوڑتے ہوئے اسے دنیا بھر میں رسوا کر دیا ہے۔

سعودی تیل کی تنصیبات پر حملہ / امریکی الزام پر ایران کا ردعمل

سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر خوفناک حلموں میں ایران کے ملوث ہونے کے امریکی الزام پر ایران کا موقف بھی سامنے آگیا ہے۔

امام خمینی

امام خمینی رہ کے انقلابی نظریات اور اس کے اثرات

امام خمینی علیہ الرحمہ کی شخصیت اعلم فقیہ، واصل عارف اور با بصیرت راہبر جیسی صفات کی حامل ہے، ایران کی سرزمین پر دو ہزار پانچ سو سالہ پرانی شہنشاہیت کو شکست دینے کے بعد شرق و غرب کی سپر پاورز کا سامنا کرنے والی شخصیت ہے۔

امام خمینی رح ایک مرد عارف

حضرت امام خمینی رح کے بارے میں عام طور پر جو بات ہمارے ہاں زیادہ مشہور ہے وہ یہ کہ آپ نے ایک ملوکیت اور بادشاہت کا خاتمہ کرکے ایک اسلامی اور مذہبی حکومت قائم کی۔ لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ استعماری طاقتوں کے خلاف تھے اور استعماری طاقتوں نے آپ کی حکومت کے خاتمے کے لیے اپنے پورے وسائل بروئے کار لائے لیکن وہ اس میں ناکام ہو گئیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ امام خمینی رح بہت شجاع اور بہادر تھے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ آپ نے ناجائز طور پر قائم صہیونی حکومت کے خاتمے اور فلسطینیوں کے حقوق کے حصول کے لیے بھی آواز بلند کی۔ آپ مستضعفوں اور محروموں کے حقوق کے بھی علمبردار تھے۔ آپ نے اتحاد امت کے لیے ایک زور دار آواز بلند کی۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ ایک عالم اور فقیہ تھے اور آپ کی تقلید کی جاتی تھی۔ بعدازاں آپ کا دیوان بھی چھپا اور پاکستان میں بھی بہت سے لوگوں کو معلوم ہوا کہ آپ صاحب دیوان شاعر بھی تھے، لیکن ابھی تک جو پہلو کم شناختہ یا ناشناختہ ہے وہ یہ ہے کہ آپ ایک بلند پایہ عارف تھے اور شاید یہ کہنا زیادہ بہتر ہو کہ آپ کے وجود سے پھوٹنے والی تمام تر خوبیوں کا سرچشمہ یہی امر ہے کہ آپ ایک عارف باللہ اور عاشق الٰہی تھے اور اس سلسلے میں نظری اور عملی طور پر نہایت عمق اور گہرائی کے مقام پر فائز تھے۔

امام خامنہ ای

مسئلہ فلسطین امت مسلمہ کے اساسی اور بنیادی مسائل میں سے ایک ہے، امام خامنہ ای

مسئلہ فلسطین امت مسلمہ کے اساسی اور بنیادی مسائل میں سے ایک ہے، امام خامنہ ای رہبر انقلاب اسلامی امام خامنہ ای نے حجاج کرام کے نام اپنے سالانہ پیغام میں فلسطین کے مسئلے کو دنیا کا اہم ترین مسئلہ قرار دیا ہے۔

ایران بحری جہاز پر برطانوی حملے کا سخت جواب دے گا، امام خامنہ ای

ایران بحری جہاز پر برطانوی حملے کا سخت جواب دے گا، امام خامنہ ای امام خامنہ ای نے آئمہ جعمہ اور جماعات کے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ایران بحری جہاز پر برطانوی حملے کا سخت جواب دے گا۔

کلام و عقائد

بدا قرآن و حدیث کی روشنی میں

ذات الٰہی کے بارے میں بدا، حقیقت میں ابدا و اظہار ہے۔ یعنی جو کچھ خدا کے علم میں ہے اور انسان کے علم میں نہیں، اسےخداوند متعال اظہار و آشکار کرتا ہے۔ اسے بدا، کہنے کا سبب یہ ہے کہ یہ مقام فعل الٰہی میں نمایاں ہوتا ہے، اگرچہ ذات الٰہی میں جہل اور تغییر محال ہیں۔ خداوند متعال انبیاء کرام پر غیبی طریقے سے نظر رکھتا ہے تاکہ یہ لوگ وحی کے پہنچانے میں خطا سے محفوظ رہیں۔ قرآن کریم اس بارے میں ارشاد فرماتا ہے، "لِّيَعْلَمَ أَن قَدْ أَبْلَغُواْ رِسَالَاتِ رَبهِّم" تاکہ وہ دیکھ لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات کو پہنچا دیا ہے۔ واضح ہے کہ خداوند متعال پہلے سے ہی آگاہ ہے کہ انبیاء، وحی الٰہی کو صحیح طریقے سے لوگوں تک پہنچائیں گے۔

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی علم کلام کےاہم مباحث میں سے ایک حسن و قبح عقلی کا بحث ہے ۔اس سے مراد یہ ہے کہ کچھ افعال ذاتی طور پر حسن {اچھے} اور کچھ افعال ذاتی طور پر قبیح{ برے} ہیں ۔ معتزلہ اور امامیہ حسن و قبح عقلی کے قائل ہیں جبکہ اشاعرہ اس کی نفی کرتے ہیں۔ بہت سے کلامی مسائل اس بحث پر موقوف ہیں مثلا انسان کا اپنے اعمال میں خود مختار ہونا،خدا وند متعال کی بعض صفات کمالیہ کا ثبوت جیسے خدا کا عادل ہونا،اسی طرح بعض صفات سلبیہ بھی اسی بحث پر موقوف ہے جیسے خدا سے قبیح کا سرزد نہ ہونا،خداکا ظلم نہ کرنا وغیرہ ۔ جو لوگ حسن اور قبح کے قائل ہیں وہ انسانی افعال میں انسان کو مختار،خدا کو عادل مانتے ہیں جبکہ حسن و قبح کے مخالفین انسان کو مجبور اور خداکی عدالت سے انکار کرتے ہیں ۔

تربیت اولاد

خاندانی منصوبہ بندی : ایک معاشرتی ضرورت یا دھوکہ!

خاندانی منصوبہ بندی کوآج کے دور میں مختلف مملک کی حکومتیں اپنی کامیاب ترین پالیسیوں میں شمار کرتی ہیں۔ آبادی کا کنٹرول اور چھوٹا خاندان خوشحالی کا ذریعہ سمجھاجاتا ہے۔ خصوصاً محدود وسائل رکھنے والے ممالک میں اس پالیسی کو زیادہ اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے

تعليم و تربيت کے بارے ميں اسلامي علما کي آرا و نظريات

تاريخ اسلام ميں تقريبا تمام علماء و دانشور مختلف علوم ميں مھارت رکھنے کے ساتھ ساتھ تعليم و تربيت ميں بھي صاحب نظر اور مھارت کے حامل ہوا کرتے تھے اس سے اسلام ميں تعليم وتربيت کي اھميت کا پتہ چلتا ہے لھذا ہم يہاں پر علما اسلام کي نظر ميں تعليم و تربيت کي اھميت اجاگر کرنے کے لئے ان کے بعض نظريات پيش کر رہے ہيں۔

تندرستی

گوشت نہیں کھائیں گے تو... کند ذہن ہوجائیں گے!

گوشت نہیں کھائیں گے تو... کند ذہن ہوجائیں گے!

سوڈا ڈرنک پینے والوں کو ناگہانی موت کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے، رپورٹ

دس یورپی ممالک میں 451,000 افراد پر بیس سال تک کی گئی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ روزانہ کولڈ ڈرنک پینے والوں کی زندگی کم ہوجاتی ہے اور ان کےلیے ناگہانی موت کا خطرہ، کبھی کبھار کولڈ ڈرنک پینے والوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہو جاتا ہے۔

مہدویت{امام زمان عج}

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی امامت کے اہداف میں سے ایک ہدف امام معصوم کا لوگوں کی باطنی ہدایت ہے۔ امام لائق اور پاکیزہ دل رکھنے والے افراد کو اپنی طرف جذب کر کے انہیں کمال تک پہنچاتے ہیں۔ واضح ہے کہ انسان کا اس طرح ہدایت سے ہمکنار ہونے کے لئے ضروری نہیں کہ وہ امام کے ساتھ ظاہری رابطہ برقرار کرے۔ گذشتہ بیانات کی روشنی میں امام زمانہ (عج) کو بادل کے پیچھے پنہان روشن آفتاب سے تشبیہ دینے کا مقصد بھی واضح ہو جاتا ہے۔ اگرچہ بادل کے پیچھے پنہان سورج سے انسان مکمل طور بہرہ مند نہیں ہوتا ہے لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ اس سے انسان کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا ہے۔ بہرحال امام زمانہ (عج) کے وجود کے آثار و برکات سے بہرہ مند نہ ہونے کا سبب انسانوں کی طرف سے خاص حالات کا فراہم نہ کرنا ہے، جس کی وجہ سے لوگ اس عظیم نعمت کے فوائد سے محروم ہیں اور اس محرومیت کا سبب وہ خود ہیں نہ کہ خداوند متعال اور امام، کیونکہ خداوند متعال اور امام کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی مشکل درپیش نہیں ہے۔

دیگر مناسبتیں

آفتاب کربلا جناب حضرت علی اکبر علیہ السلام

کربلا کے میدان میں ایک جوان ایسا بھی تھا جو سیرت و صورت اورگفتار و کردار میں شبیہ پیغمبر تھے۔دیکھنے والا دنگ رہ جاتا تھا کہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے ہیں۔انہوں نے اس کائنات میں ایسی قربانی پیش کی کہ تمام دنیا دھنگ رہ گئی۔آپ ایسے باپ کے فرزند تھے جس پر رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ناز تھا ،جس کے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری بن گئے۔اس عظیم باپ کا فرزند تھا جس نے دنیا والوں کو جینا سکھایا اورباطل قوتوں کے سامنے قیام کر نا سکھایا۔

حدیث غدیر، حدیث متواتر

متواتر لفظی: وہ حدیث یا خبر جس کے تمام روایوں نے، تمام طبقات میں، اس حدیث یا خبر کے مضمون کو ہو بہو اور یکسان طور پر نقل کیا ہو۔ جیسے حدیث ثقلین کی عبارت، (انّي تارك فيكم الثقلين ۔۔) یا حدیث غدیر کی عبارت (من كنت مولاه فهذا عليّ مولاه)۔

چہاردہ معصومین ع

امام سجاد علیہ السلام

امام علیہ السلام نے کربلا سے کوفہ، کوفہ سے شام اور زندان سے رہائی تک ہر موقع پر اپنے خطبوں کے ذریعے جہاں قیام حسینی علیہ السلام کے اصولوں اور فلسفے سے لوگوں کو آگاہ فرمایا وہیں اسلام کا نام استعمال کرتے ہوئے اسلام کی دھجیاں اڑانے کی کوشش کرنے والی ناپاک حکومت کا مکروہ چہرہ بھی بےنقاب فرمایا۔

معاویہ و یزید کے دور حکومت میں امام حسین (ع) کا کردار

معاویہ کو ہر وقت آپ کے قیام کا خوف رہتا تھا۔ چنانچہ اس نے امام کے سامنے قبض و بسط کی پالیسی اپنائی یعنی ایک طرف سے آپ کی منزلت کو مدنظر رکھتا تھا اور بظاہر آپ کے لئے احترام کا قائل تھا اور آپ کی تعظیم کرتا تھا اور اپنے کارگزاروں کو بھی ہدایت کرتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرزند کو نہ چھیڑیں اور ان کی بےحرمتی سے پرہیز کریں۔ دوسری طرف سے امام کی مسلسل اور شب و روز نگرانی کو اپنی پالیسی کا حصہ بنایا اور سفر اور حضر میں آپ کی تمام حرکات و سکنات پر کڑی نظر رکھی جاتی تھی۔

دیگر موضوعات

الغدیر فی الکتاب و السنۃ و الادب

الغدیر فی الکتاب و السنة و الادب، جو الغدیر کے نام سے معروف ہے عربی زبان میں لکھی گئی ایک ایسی کتاب ہے جسےعلامہ عبد الحسین امینیؒ نےحدیث غدیر کی روشنی میں امام علی علیہ السلام کی امامت و خلافت بلا فصل کی اثبات کے لئے تحریر کیا ہے۔یہ کتاب اب تک 11 جلدوں میں مرتب ہوئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کتاب کی کل 20 جلدیں ہیں۔ لیکن آخری 9 جلدیں ابھی تک طبع نہیں ہوئی ہیں۔ علامہ امینی اس کتاب کو لکھنے کی خاطر مختلف ممالک کی لائبریریوں کا سفر کیا ہے۔ جن میں ہندوستان، مصر اور شام وغیرہ کی لائبریریاں شامل ہیں۔الغدیر کے مؤلف کے مطابق اس کتاب کی تالیف میں انہوں نے ایک لاکھ سے زائد کتابوں کی طرف مراجعہ اور دس ہزار سے زیادہ کتابوں کا مطالعہ کیا ہے۔انہیں یہ کتاب لکھنے میں ۴۰ سال سے زیادہ کا عرصہ لگا ہے۔الغدیر کے بارے میں کئی کتابیں اور تھیسز لکھے گئے ہیں۔ اسی طرح الغدیر میں پیش کیے گئے موضوعات کو 27 جلدوں پر مشتمل مجموعے کی صورت میں بھی منظر عام پر لایا گیا ہے۔

قربانی کی تاریخ اور اسکا فلسفہ

دین مقدس اسلام میں قربانی ایک مالی عبادت ہے، جو شعائر اسلام میں بھی شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں اس کی بڑی فضیلت ہے۔ شعائر اللہ کو دلوں کا تقوا قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں ارشاد ہوا ہے: "وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ" (سورہ حج:۳۲) بات یہ ہے کہ جو شعائر اللہ کا احترام کرتا ہے تو یہ دلوں کا تقویٰ ہے۔ دین اسلام میں اس کے علاوہ اور بھی مالی عبادات ہیں۔ لیکن ان عبادات کے مقابلے میں قربانی کچھ مخصوص خصوصیات کی حامل ہے۔ انہی خصوصیات کی وجہ سے عبادات کے درمیان قربانی کا الگ مقام ہے۔

سب سے زیادہ زیر بحث

امام علی علیہ السلام کی شانِ میں چہل حدیث

مولا علیؑ کی شان میں چالیس احادیث اور یہ ﻭﻩ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ہیں ﺟﻮ ﺻﺤﺎﺡ ﺳﺘﻪ ﻣﯿﮟ بھی موجود ہے. 1= ﻋﻨﻮﺍﻥ ﺻﺤﻴﻔﺔ ﺍﻟﻤﺆﻣﻦ ﺣﺐّ ﻋﻠﻰؑ ﺑﻦ ﺍﺑﻰ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ. ﺻﺤﯿﻔﮧ ﻣﻮﻣﻦ ﮐﺎ ﻋﻨﻮﺍﻥ ﻣﺤﺒﺖِ ﻋﻠﯽؑ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻃﺎﻟﺐؑ ﮨﮯ.

دعا کی اہمیت

دعا کی اہمیت حضرت انسان کس قدر شرف و عظمت کا مالک ہے،اس کے لئے کائنات بنی،پوری کائنات میں اسی کو عزت و تکریم کا حق دار ٹھہرایا گیا۔تمام مخلوق اس کی خدمت اور منفعت کے لئے پیدا کی گئی۔لیکن اتنی عظمتوں کے باوجود اس کی خلقت کا مقصد اللہ کی معرفت اور عبادت قرار دیا گیا۔لہذا انسان کا اہم کام خدا سے ارتباط و ربط ہے۔مگر کیسا رابطہ؟ اتنی عظمتوں کے باوجود بارگاہ خداوندی میں فقر محض اور احتیاج محض ہے جبکہ ذات پروردگار غناء ہی غناء ہے۔بلندی ہی بلندی ہے۔انسان مشکلات،مصائب اور تکالیف میں ایسی ذات کی طرف رجوع کر کے اپنے فقر اور احتیاج محض ہونے کا اقرار و اعتراف کرتے ہوئے اپنی نفی اور بے ثباتی کا اظہار کرتا نظر آتا ہے۔اس سلسلے میں انسان کا ایک اہم وسیلہ دعا ہے۔دعا کے ذریعے اپنی احتیاج کا اظہار بھی کرتا ہے اوراللہ سے اعانت کی التجا بھی کرتا ہے۔

قرآنِ کریم اور اصلاحِ معاشرہ تحریر: عارف حسین تھہیم

لفظِ ’’اصلاح‘‘ درست کرنے، صحیح کرنے اور خرابی کو دُور کے معنی میں آتا ہے۔ معاشرتی اور اجتماعی مفہوم کے اعتبار سے شائستہ اور نیک عمل انجام دینے، نیز فساد و تباہی کو ختم کرنے کے لیے بھی اصلاح کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ ارشادِ پروردگار ہے: ﴿ إِلاَّ الَّذِينَ تَابُواْ وَأَصْلَحُواْ وَبَيَّنُواْ فَأُوْلَئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ﴾[1]؛ ’’سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے توبہ کی اور اپنے کئے کی اصلاح کر لی اور (جس کو چھپایا ہوا تھا) واضح کر دیا تو ایسے ہی لوگوں کی توبہ میں قبول کرتا ہوں اور بےشک میں بڑا توبہ قبول کرنے والا اور بہت مہربان ہوں۔‘‘ حقیقی توبہ میں گذشتہ بُرائی اور فساد کا دُور کرنا اور آئندہ بُرائی و فساد سے بچے رہنے کا تہیہ کرنا ضروری ہے۔ شائستہ اور صالح معاشرے کی تشکیل کا ہدف اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی دُنیوی و اُخروی اور مادی و معنوی ضرورتوں کو پورا کیا جائے؛ لہٰذا صالح معاشرے کی خصوصیات یہ ہیں کہ اس میں ہر ایک کی جان، مال، عزّت و آبرو اور ناموس محفوظ ہوتی ہے، لوگوں کی درمیان مہر و محبت اور اپنائیت کا راج ہوتا ہے اور سب لوگ روحانی و معنوی لحاظ سے پُرسکون اور مطمئن ہوتے ہیں۔

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ بسم اللہ الرحمن الرحیم بنام خدائے رحمن و رحیم اٴَللّٰھُمَّ اِنّيِ اٴَسْاٴَ لُکَ بِرَحْمَتِکَ الَّتي وَ سِعَتْ کُلَّ شَيْءٍ،وَ بِقُوَّتِکَ الَّتي قَھَرْتَ خدایا میراسوال اس رحمت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر محیط ھے۔ اس قوت کے واسطہ سے ھے جو ھر چیز پر حاوی ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ،وَخَضَعَ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ،وَذَلَّ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ، وَبِجَبَرُوتِکَ الَّتي غَلَبْتَ اور اس کے لئے ھر شے خاضع اور متواضع ھے۔ اس جبروت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر غالب ھے اور اس عزت کے واسطہ سے ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ، وَ بِعِزَّتِکَ الَّتي لاٰ یَقُومُ لَھٰا شَيْءٌ، وَبِعَظَمَتِکَ الَّتي مَلَاٴَتْ کُلَّ جس کے مقابلہ میں کسی میں تاب مقاومت نھیں ھے۔اس عظمت کے واسطہ سے ھے جس نے ھر چیز کو پر کردیا ھے شَيْءٍ، وَ بِسُلْطٰانِکَ الَّذي عَلاٰ کُلَّ شَيْءٍ، وَبِوَجْھِکَ الْبٰاقي بَعْدَ فَنٰاءِ کُلِّ شَيْءٍ،

تلاوت قرآن کی فضیلت

'پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا، جو شخص رات کو دس آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام غافلین (جو یاد خدا سے بے بہرہ رہتے ہیں) میں نہیں لکھا جائے گا اور جو شخص پچاس آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام ذاکرین (جو خدا کو یاد کرتے ہیں، حرام و حلال کا خیال رکھتے ہیں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص سو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام قانتین (عبادت گزاروں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص دوسو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام خاشعین (جو خدا کے سامنے متواضع ہوں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص تین سو آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام سعادت مندوں میں لکھا جائے گا، جو شخص پانچ ہزار آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام عبادت اور پرستش خدا کی کوشش کرنے والوں میں لکھا جائے گا اور جو شخص ہزار آیتوں کی تلاوت کرے وہ ایسا ہے جیسے اس نے کثیر مقدار میں سونا راہ خدا میں دے دیا ہو۔،،

پیٹ کا درد کئی امراض کی علامت ہوسکتا ہے

اگر پیٹ میں درد ہورہا ہو تو اس کی کئی وجوہ ہوسکتی ہیں۔ اکثر ناقص غذا کی وجہ سے معدے میں تکلیف ہونے لگتی ہے جسے ہم پیٹ کے درد سے تعبیر کرتے ہیں۔ معدے کا درد کئی امراض کی علامت بھی ہوسکتا ہے، اس لیے اسے نظرانداز نہیں کرنا چاہیے اور بلاتاخیر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

تربیت اولاد کے انمول اصول تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

لغت کی کتابوں میں لفظ" تربیت" کے لیے تین اصل اور ریشہ ذکر ہوئے ہیں۔ الف:ربا،یربو زیادہ اور نشوونما پانےکے معنی میں ہے۔ ب: ربی، یربی پروان چڑھنا اور برتری کے معنی میں ہے۔ج: رب،یرب اصلاح کرنے اور سرپرستی کرنے کے معنی میں ہے۔۱صاحب مفردات کا کہنا ہے کہ "رب" مصدری معنی ٰ کے لحاظ سے کسی چیز کو حد کمال تک پہچانے ، پرورش اور پروان چڑھانے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ۲ صاحب التحقيق کا کہنا ہے اس کا اصل معنی ٰ کسی چیز کو کمال کی طرف لے جانے ، نقائص کو تخلیہ اور تحلیہ کے ذریعےرفع کرنے کے معنی ٰ میں ہے۔۳ بنابر این اگر اس کا ريشه(اصل) "ربو" سے ہو تو اضافہ کرنا، رشد ، نمو اور موجبات رشد کو فراہم کرنے کے معنی ٰ میں ہےلیکن ا گر "ربب" سے ہو تو نظارت ، سرپرستي و رهبري اور کسی چیز کو کمال تک پہنچانے کے لئے پرورش کے معنی ٰ میں ہے۔

مقصد قیام امام حسین علیہ السلام تحریر: محمد حسن حسرت کچوروی

امام حسین ؑ ۲۸ رجب ۶۰ ھ میں مدینہ سے حرکت کرتے ہیں اور ۳ شعبان المعظم کو مکہ میں پہنچتے ہیں پھر ۸ ذی الحجہ کو مکہ سے کوفہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں ۲ محرم الحرام کو وارد کربلا ہوتے ہیں اور ۱۰ محرم الحرام کو شھید ہو جاتے ہیں اس مختصرعرصے میں انسان سو سے زیادہ درس حاصل کر سکتا ہے بلکہ کہہ سکتے ہیں کہ امام کے اس مختصر عرصےمیں ہزاروں دروس شامل ہیں لیکن یہ سارے دروس ایک اصلی درس ‘ حرکت اور قیام امام میں موجود ہیں باقی سارے حاشیے ہیں متن یہ ہے کہ امام نے قیام کیوں کیا؟ یہ اصلی درس ہے لوگ امام سے کہتے تھے آپ مدینہ اور مکہ میں محترم ہیں یمن میں اتنے سارے شیعہ ہیں کسی کونے میں تشریف لے جائیں اور یزید سے کوئی سروکار نہ رکھے تاکہ وہ بھی آپ سے کوئی سروکار نہ رکھے۔ یہ سارے مرید ہیں انہیں تبلیغ کریں عبادت کریں اور زندگی کریں۔ کاس قیام کا مقصد کیاہے ۔۔؟

مشاہدات

آج

333

کل

612

اس ماہ

28936

اس سال

157364

ٹوٹل مشاہدات

326592