علماء کونسل کچورا سکردو بلتستان

متن

حدیث غدیر، حدیث متواتر

تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

حدیث غدیر خم اسلام کی متواتر احادیث میں سے ہے، جسے ایک لاکھ سے زیادہ افراد نے اصحاب سے نقل کیا ہے اور یہ تعداد تعجب آور نہیں، کیونکہ غدیر خم میں ایک لاکھ سے زیادہ مسلمان شریک تھے ۔۱۔ حدیث متواتر، وہ حدیث ہے جس کے سلسلۂ سند میں آخری راوی سے لے کر معصوم تک، یعنی ہر طبقے میں راویوں کی تعداد اس قدر ہو کہ عادی  اور عام حالت میں ان کا معصوم کی طرف جھوٹی نسبت دینے کے لئے سازباز کرنا محال ہو اور ان کی نقل شدہ خبر یقین اور علم کا سبب بنے۔۲۔  خبر متواتر یا (حدیث متواتر) کے مقابلے میں خبر واحد آتی ہے یعنی جو متواتر نہ ہو وہ خبر واحد ہے۔ تواتر کی دو قسمیں ہیں: الف: متواتر  لفظی ب: متواتر معنوی۔۳۔
متواتر لفظی: وہ حدیث یا خبر جس کے تمام روایوں نے، تمام طبقات میں، اس حدیث یا خبر کے مضمون کو ہو بہو اور یکسان طور پر نقل کیا ہو۔ جیسے حدیث ثقلین کی عبارت، (انّي تارك فيكم الثقلين ۔۔) یا حدیث غدیر کی عبارت (من كنت مولاه فهذا عليّ مولاه)۔

متواتر معنوی: وہ حدیث یا خبر جس کے تمام راویوں نے تمام طبقات میں، ایک ہی مضمون کو مختلف عبارتوں اور مختلف الفاظ کے ذریعے نقل کیا ہو اور معنی میں مطابقت تضمنی دلالت کی بنیاد پر ہو، جیسےمختلف حالات میں نماز میں سورہ حمد کے بعد دوسری کسی سورہ کی تلاوت، پر دلالت کرنے والی مختلف راویوں کی روایتیں، کہ ان ساری روایات میں سورہ حمد کی تلاوت جزء اول کے طور پر قرار دی گئی ہے۔ یا پھر لفظ اور معنی کا مطابقت التزامی دلالت کے ذریعے سے ہو، جیسے حضرت علی علیہ السلام کی شجاعت کی خبر جو متعدد روایات میں نقل ہوئی ہے اور ان کا تعلق مختلف واقعات سے ہے، جن کے مجموعے سے امیرالمؤمنین علیہ السلام کی شجاعت سے متعلق روایات کا تواتر ثابت ہوتا ہے۔ر وایات میں معنوی تواتر، لفظی تواتر کی نسبت کہیں زیادہ ہے اور دین کے اکثر اجزاء بالاخص فروع دین معنوی تواتر کے حامل ہیں، جیسا کہ نماز کی رکعات کی تعداد، مبطلات روزہ، ارکان حج، زکٰوۃ وغیرہ ۔۴۔
غدیر خم کا واقعہ تاریخ اسلام کے اہم ترین واقعات میں سے ہے۔ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مناسک حج انجام دینے کے بعد مدینہ کی طرف روانہ ہوئے، غدیر خم کے مقام پر پہنچنے کے بعد تمام حاجیوں کو جمع ہونے کا حکم دیا، جو لوگ آگے بڑھ چکے تھے واپس آئےاور جو پیچھے رہ گئےتھے وہ بھی پہنچ گئے، آپ ؐنے نماز ظہر باجماعت ادا کی اور اس کے بعد ایک منبر بنانے کا حکم فرمایا۔

منبر پر تشریف لے گئے اور حضرت علی علیہ السلام کو اپنے پاس بلایا، خدا کی حمد و ثنا نیز چند اہم نکات بیان کرنے کے بعد  حضرت علی علیہ السلام کا ہاتھ پکڑ کر بلند کیا تاکہ سب لوگ دیکھ سکیں اس کے بعد فرمایا، (من کنت مولاه فهذا علی مولاه) جس جس کا میں مولٰی ہوں اس کے علی بھی مولٰی ہیں۔ اہل سنت نے لفظ مولٰی   کی تفسیر دوستی و محبت سے کی ہے لیکن شیعوں کے نزدیک مولٰی سے مراد زعامت اور امت اسلامی کی رہبری ہے کیونکہ لفظ مولٰی کا ایک معنی دوسروں کے امور میں خود ان سے زیادہ تصرف کا حق رکھنا ہے۔ اس لحاظ سے حدیث کا معنی یہ ہوگا جو بھی مجھے بطور مولٰی دوسروں کے امور میں تصرف کرنے کا حتی کہ ان کے اپنے نفس کی نسبت زیادہ حقدار سمجھتا ہے ان سب کا (علی) بھی مولٰی ہے بعبارت دیگر حضرت علی علیہ السلام بھی دوسروں پر ایسی ہی ولایت رکھتے ہیں۔
اس نظریہ کی اثبات کے لئے بہت سی عقلی و نقلی قرائن موجود ہیں جن میں سے چند قرائن بطور مختصر ذکر کرتے ہیں: 

قرائن عقلی و نقلی:
 پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے خطاب کے ابتدائی حصہ میں مسلمانوں پراپنی اولویت کا ذکرکرتے ہوئے فرمایا، (النَّبىِ‏ أَوْلىَ‏ بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ)۔۵۔ بےشک نبی تمام مومنین سے ان کے نفس کی بہ نسبت زیادہ اولی ہے۔ آیت کا یہ حصہ حدیث میں موجود لفظ (مولٰی)  کے لئے واضح قرینہ ہے۔ جیساکہ آپ ؐنے بعد میں فرمایا، (من کنت مولاه فهٰذا علی مولاه) جسے اکثر راویوں نے اس مقدمہ کو حدیث غدیر کے ساتھ نقل کیا ہے ۔
 پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس جملہ (من کنت مولاه ...) کو بیان کرنے سے پہلے اسلام کے تین بنیادی اصول توحید، نبوت اور معاد کا ذکر فرمایا اور لوگوں سے اس سلسلے میں اقرار بھی لیا، اس کے بعد آپ ؐ نے فرمایا، تمہارا مولٰی کون ہے؟ مسلمانوں نے جواب دیا، خدا اور اس کا رسول۔ اس وقت آپ ؐنے حضرت علی علیہ السلام کے ہاتھ کو بلند کیا اور فرمایا، جس کا خدا اور اس کا رسول مولٰی ہے یہ (علی) بھی اس کا مولٰی ہے۔ اس پیغام کے اصول دین کے اقرار سے مربوط ہونے سے واضح ہو جاتا ہے کہ یہاں ولایت سے مراد امت اسلامی کی رہبری اور پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرح مسلمانوں پر ولایت حاصل ہونا ہے ۔
 پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس جملے (من کنت مولاه ...) کو بیان کرنے سے پہلے اپنی قریب الوقوع رحلت کی خبر دی جو اس بات کی دلیل ہے کہ آپ ؐمسلمانوں کی رہبری کے بارے میں فکر مند تھے اور اس بارے میں کوئی مناسب فیصلہ کرنا چاہتے تھے۔
 پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آخر میں آیت کریمہ (الْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ..)کی تلاوت کے بعد اللہ اکبر کہہ کر دین اسلام کے کامل ہونے اور مسلمانوں پر خدا کی نعمتوں کے تمام ہونے نیز خداوند متعال کا آپؐ کی رسالت اور حضرت علی علیہ السلام کی امامت پر راضی ہونے پر خوشی کا اظہار فرمایا۔ واضح رہے کہ ولایت کو رسالت کے ساتھ ذکر کرنے کا مطلب امت اسلامی کی رہبری کے علاوہ کوئی اور چیز نہیں ہے۔

 پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سب سے زیادہ عقلمند، حکیم اور مہربان ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔ اسی طرح یہ بات بھی واضح ہے کہ حضرت علی علیہ السلام مومنین کے دوست ہیں یا مومنین پر واجب ہے کہ آپ ؑسے محبت و دوستی کریں جسے ایک عام مسلمان بھی سمجھ سکتا ہے، کیونکہ مومنین کا ایک دوسرے کے ساتھ محبت کرنا ایمان کے ضروریات میں سے ہے۔ بنابریں اس واضح مسئلہ کو اس غیر معمولی حالات میں اور وہ بھی گرم ترین علاقے میں، اس اہتمام کے ساتھ بیان کرنا حکیمانہ نہیں ہے، جبکہ ہمیں تاریخ اسلام کے واقعات کی اس طرح سے تفسیر نہیں کرنا چاہیئے کہ جس سے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حکمت و تدبیر پر حرف آ جائے، لیکن امت اسلامی کی رہبری کا مسئلہ اس قدر اہمیت کا حامل ہے کہ ایسے سخت حالات اور تمہید کے ساتھ اس نکتہ کی وضاحت کرنا عاقلانہ و حکیمانہ ہے۔۳۔ غدیر کے واقعہ میں پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجاج بیت اللہ کے کاروان کو شدید گرمی کے دنوں میں دوپہر کے وقت ایک بنجر اور بے آب و گیاہ سر زمین پر ٹھہرنے کا حکم فرمایا۔ گرمی کا یہ عالم تھا کہ لوگوں نے اپنی عبا کے آدھے حصے کو اپنے سروں پر اوڑھ لیا تھا اور باقی آدھے حصے کو اپنے نیچے فرش کے طور پر بچھایا تھا۔ ظاہر سی بات ہے کہ اس تمہید و اہتمام کے بعد پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی ایسا کلام فرمانا ہوگا، جو امت کی ہدایت میں کلیدی اہمیت کا حامل اور تقدیر ساز ہو۔

حقیقت میں مسلمانوں کے جانشین کے تقرر کے علاوہ کونسی چیز کلیدی اور تقدیر ساز ہو سکتی تھی؟ اسی طرح پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیغام الٰہی کے پہنچانے کے بعد حاضرین سے چاہا کہ اس خبر کو غائبین تک پہنچائیں۔ لہٰذا یہ قرائن و شواہد دلالت کرتی ہے کہ آپ ؐنے غدیر خم میں حضرت علی علیہ السلام کی امامت و ولایت کا اعلان فرمایا تھا۔۶۔ بعض افراد پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قول و فعل کو حکیمانہ قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں، حدیث غدیر میں مولٰی سے مراد دوستی و نصرت ہے، کیونکہ حضرت علی علیہ السلام نے یمن کے سفر میں جنگی غنائم کے بارے میں ایسا فیصلہ فرمایا، جو باقی افراد کی ناراضگی کا سبب بنا اور ان لوگوں نے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آکر آپ ؑکی شکایت کی، لہٰذا پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غدیر خم میں اس اقدام کے ذریعے مسلمانوں تک حضرت علی علیہ السلام کی محبت کے واجب ہونےکا حکم  پہنچانا چاہتے تھے۔ اس بات  کا جواب یہ ہے کہ یمن کے سفر کا مسئلہ مسلمانوں کی قلیل تعداد کے ساتھ مربوط تھا، یعنی یہ مسئلہ فقط یمن کے حاجیوں سے مربوط تھا جبکہ اس سخت حالات میں تمام حاجیوں کو جمع کرنے کا کیا مطلب ہو سکتا ہے؟ علاوہ ازیں مناسب یہ تھا کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سلسلے میں فورا    اقدام کرتے اور ان افراد کی غلطیوں کی نشاندہی کرتے۔

لہٰذا اس سلسلے میں غدیر خم تک کوئی اقدام نہ کرنے کا کیا فلسفہ ہو سکتا ہے؟ تاریخی شواہد کے مطابق پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس واقعہ کے فورا بعد ان لوگوں کی غلطیوں کی نشاندہی فرمائی اور ان افراد سے فرمایا، (یا ایها الناس لا تشکوا علیا، فوالله انه لاخشن فی ذات الله)۷۔۔ اے لوگو! تم علی کی شکایت نہ کرو خدا کی قسم علی خدا کے معاملے میں زیادہ محتاط ہیں۔ اگر ہم اس کو صحیح بھی مان لیں تو یہ صرف عقلی قرینہ کو باطل کرتا ہے، نہ نقلی قرینہ کو۔ ایسی صورت میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غدیر خم میں مسلمانوں کے لئے حضرت علی علیہ السلام کی امامت کے اعلان کے ساتھ ساتھ آپ کی محبت کو بھی لازم قرار دیا ہے، کیونکہ لفظ مولٰی سے دونوں معانی مراد لے سکتے ہیں، نیز لفظ مولیٰ مشترک معنوی ہے نہ مشترک لفظی۔ بنابریں لفظ مولٰی کا جامع ترین معنی جو کہ اولی اور زیادہ حقدار ہونا ہے، ارادہ کر سکتے ہیں۔ اگر ہم اس فرض کے قائل ہو جائیں کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غدیر خم میں حضرت علی علیہ السلام سے محبت کرنے اور آپ ؑکی مدد کرنے کا اعلان فرمایا ہے، تاکہ اگر کوئی مسلمان آپ ؑکی نسبت دل میں کوئی کینہ رکھتا ہو تو اسے اپنی غلطی کا احساس ہو جائے اور آپ ؑسے محبت کرنے اور آپ ؑ کی مدد کرنے کو اپنا فرض سمجھے، لیکن اس کے باوجود یہ سوال پیش آتا ہے کہ مسلمانوں میں سے صرف حضرت علی علیہ السلام سے محبت کرنے اور آپ ؑ کی نصرت کرنے کو کیوں اس قدر اہمیت حاصل ہے؟

اسی طرح مسلمانوں پرحضرت علی علیہ السلام کی محبت کیوں واجب قرار دی گئی ہے؟ کیا یہی دلیل نہیں کہ حضرت علی علیہ السلام پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ایسے مقام پر فائز ہیں کہ مسلمانوں کو آپ ؑ کے ساتھ محبت کرنے کے علاوہ آپ ؑکی نصرت بھی کرنی چاہیئے۔ کیا یہ مقام امت اسلامی کی رہبری اور امامت کے علاوہ کوئی اور چیز ہو سکتی ہے؟ بہرحال جس زاویہ سے بھی حدیث غدیر کا مطالعہ کریں تو نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ یہ حدیث حضرت علی علیہ السلام کی امامت پر دلالت کرتی ہے، اس کے علاوہ دوسرے شواہد بھی اسی مطلب کی تائید کرتے ہیں۔ بعض احادیث میں ہے کہ مسلمانوں نے غدیر خم میں پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم پر حضرت علی علیہ السلام کو مبارکباد پیش کی۔ خلیفہ دوم کے بارے میں تو یہ بات تواتر کی حد تک مشہور ہے کہ انہوں نے غدیر خم میں (بخ بخ لک یا ابن ابی طالب اصبحت مولائی و مولیٰ کل مومن و مومنة) کہہ کر حضرت علی علیہ السلام کو تہنیت پیش کی تھی۔۸۔ بنابریں کیا یہ سارے اہتمام حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ محبت کرنے اور آپ ؑکی نصرت کا پیغام دیتے ہیں یا آپ ؑکا پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جانشین اور امام ہونے کا پیغام دیتے ہیں؟ ایک اور شاہد کہ حدیث غدیر  میں مولٰی سے مراد امامت و رہبری ہے نہ دوستی اور محبت، حارث بن نعمان کا واقعہ ہے جسے محدثین و مفسرین نے نقل کیا ہے۔ اس واقعہ کا خلاصہ یہ ہے کہ جب غدیر خم کے واقعہ کی خبر مختلف شہروں میں پھیل گئی تو حارث بن نعمان نے بھی اس واقعہ  کو سنا تو وہ سخت ناراض ہوا اور پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے پاس آیا اور کہا، آپ نے ہمیں نماز، روزہ ،حج اور زکاۃ  کا حکم دیا ہم نے قبول کیا، لیکن آپ نے اس پر اکتفا نہیں کیا اور ایک جوان کو اپنا جانشین منتخب کیا۔ کیا یہ کام آپ نے خود انجام دیا ہے یا یہ خدا کا حکم تھا؟ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، خدائے واحد کی قسم یہ خدا کی طرف سے تھا۔ اس وقت حارث نے کہا، خداوند! جو کچھ محمد نےکہا ہے، اگر سچ ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے۔ اتنے میں ایک پتھر گرا اور وہ ہلاک ہو گیا۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی، (سال سائل بعذاب واقع)۔۹۔ ایک سوال کرنے والے نے عذاب کا سوال کیا جو واقع ہونے ہی والا ہے۔

نتیجہ بحث:
حدیث غدیر خم اسلام کی متواتر احادیث میں سے ہے، جسے ایک لاکھ سے زیادہ افراد نے اصحاب سے نقل کیا ہے، اور یہ تعداد تعجب آور نہیں، کیونکہ غدیر خم میں ایک لاکھ سے زیادہ مسلمان شریک تھے۔ پیغمبر خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غدیر خم کے مقام پر پہنچنے کے بعد تمام حاجیوں کو جمع ہونے کا حکم دیا، اس کے بعد حضرت علی علیہ السلام کو اپنے پاس بلایا۔ خدا کی حمد و ثنا نیز چند اہم نکات بیان کرنے کے بعد حضرت علی علیہ السلام کا ہاتھ پکڑ کر بلند کیا تاکہ سب لوگ دیکھ سکیں اس کے بعد فرمایا، (من کنت مولاه فهٰذا علی مولاه) جس جس کا میں مولٰی ہوں اس کے علی بھی مولٰی ہیں۔ اہل سنت نے لفظ مولٰی کی تفسیر دوستی و محبت سے کی ہے، لیکن شیعوں کے نزدیک مولٰی سے مراد زعامت اور امت اسلامی کی رہبری ہے کیونکہ لفظ مولٰی کا ایک معنی دوسروں کے امور میں خود ان سے زیادہ تصرف کا حق رکھنا ہے۔ اس لحاظ سے حدیث کا معنی یہ ہوگا جو بھی مجھے بطور مولٰی دوسروں کے امور میں تصرف کرنے کا حتٰی کہ ان کے اپنے نفس کی نسبت زیادہ حقدار سمجھتا ہے، ان سب کا (علی) بھی مولٰی ہے، علامہ امینی نے الغدیر میں 60 راویوں کام نام ذکر کیا ہے، جنہوں نے حدیث تہنیت کو نقل کیا ہے ۔۱۰۔ حضرت عمر کے بارے میں تو یہ بات تواتر کی حد تک مشہور ہے کہ انہوں نے غدیر خم میں (بخ بخ لک یا ابن ابی طالب اصبحت مولائی و مولٰی کل مومن و مومنة) کہہ کر حضرت علی علیہ السلام کو تہنیت پیش کی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔ السیرۃ الحلبیۃ، ج3، ص283۔ تذکرۃ الخواص الامۃ، ص 18۔ دائرۃ المعارف، فرید وجدی، ج3، ص543۔ تذکرۃ الخواص الامۃ۔
۲۔ سبحانی، اصول الحدیث و احکامه فی علم الدرایہ، ص131۔
۳۔ حر عاملی، وسائل الشیعہ ج18، ص19۔
۴۔ سبحانی، اصول الحدیث و احکامه فی علم الدرایة، ص36۔
۵۔ احزاب، 6۔
۶۔ المراجعات، مراجعہ 54۔ الغدیر، ج1، ص371۔
۷۔ عقائد امامیہ، جعفر سبحانی، ص230۔
۸۔ السیرۃ الحلبیۃ، ج3، ص283۔ مناقب خوارزمی، ص97۔ تاریخ بغداد، ج1، ص 290۔
۹۔ معارج ،1
۱۰۔ الغدیر ،ج1 ص 272 – 283۔

اس سے مربوط موضوعات

اولی الامر کی اطاعت تحریر :مرتضی حسین مطہری کچوروی
اولی الامر کی اطاعت تحریر :مرتضی حسین مطہری کچوروی اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتاہے: یاایھا الذین امنوا اطیعوا اللہ و اطیعوا الرسول و اولی الامر منکم۔1۔اے ایمان والو : اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور صاحبان امر کی جو تم میں سے ہیں ۔یعنی الزموا طاعۃ اللہ سبحانہ فیما امرکم بہ و نھی کم عنہ ، جن چیزوں کے بارے میں خدا نے امر کیا ہے اور جن چیزوں کے بارے میں نہی ہوئی ہے اس میں خدا کی اطاعت کرنے کو اپنے اوپر لازمی قرار دو۔ اس کے بعد فرمایا: پیغمبر اسلام کی اطاعت کرو،اور ان کے حکم کےسامنے سر تسلیم خم ہو جاوٴ کیونکہ من یطع الرسول فقد اطاع اللہ جس نے نبی کی پیروی کی گویا اس نے خدا کی پیروی کی۔لہذا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو کچھ کہے اس پر عمل کرو اور جن چیزوں سے منع کریں ان سے پرہیز کرو۔کیونکہ جوکچھ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیان کرتے ہیں وہ وحی الہی کے مطابق ہے
واقعہ کربلا اور درس کرامت تحریر:محمد حسن حسرت
عاشورا کی بقاء کا راز: ایک سوال جوہر و خاص عام کے ذہن میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ کیوں واقعہ کربلا ایک انقلاب میں تبدیل ہوااور تمام بشریت کے لئے درس گاہ بنا ؟ دنیا میں اس سے مشابہ اور بھی زیادہ درد ناک حوادث اورواقعات رونما ہوئے ہیں اور لیکن ان تمام حوادث اوروقعات کے درمیان صرف حادثہ کربلا کیوں ممتاز اور ماندگار بنا ؟ مہم ترین دلیل جو اس واقعہ کو دوسرے وقائع سے ممتاز کیا ہے وہ اس تحریک میں انسان کامل امام حسین ؑ جیسی ہستی کا ہونا ہے۔ علاوہ براین وہ اخلاقی اصول ہیں جو اس تحریک پر حاکم تھے،یعنی اس تحریک کی ابتدا سے لےکرانتہا تک کہیں پر بھی کوئی سیاہ نقطہ دکھائی نہیں دیتا بلکہ اس تحریک کے تمام نقاط فضیلت ،نور اور روشنائی سے پر ہے ۔یہی چیز واقعہ عاشورا کےجاوید اورماندگار ہونے کا سبب ہے ،یعنی جو چیز واقعہ کربلاکو ایک حماسہ میں تبدیل کر رہی ہے وہ اخلاقی اصول ہیں جن کوان تمام ترسخت شرایط کے باوجود فراموش نہیں کیا گیا۔غالبا انسان عادی حالت میں اچھا اور منطقی عمل کر تا ہے لیکن جب سخت شرایط میں اور مشکلات کے فشار میں گرفتار ہو جاتا ہےتو اس کے منطقی رفتار اور اخلاق بدل جاتےہیں لیکن اس تحریک میں موجود تمام افراد مخصوصا امام حسین علیہ السلام نے سخت ترین شرائط میں بھی دشمنوں کے ساتھ کرامت انسانی کے ساتھ پیش آیا۔
شہنشاہِ وفا ابوالفضل العباس علیہ السلام تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی
امام جعفرصادق علیہ السلام حضرت عباس علیہ السلام کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اَلسَّلامُ عَلَيْكَ اَيُّهَا الْعَبْدُ الصّالِحُ الْمُطيعُ للهِ وَلِرَسُولِهِ وَلاِميرِالْمُؤْمِنينَ وَالْحَسَنِ والْحُسَيْنِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِمْ وَسَلَّمَ۔ "سلام ہو آپ پر اے خدا کے نیک بندے، اے اللہ، اس کے رسول، امیرالمؤمنین اور حسن و حسین علیمَ السلام کے اطاعت گزار و فرمانبردار..." امام زمانہ عج زیارت ناحیہ میں شہدائے کربلا کو سلام کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "السلام على أبي الفضل العباس بن أمير المؤمنين، المواسي أخاه بنفسه، الآخذ لغده من أمسه، الفادي له، الواقي الساعي إليه بمائه المقطوعة يداه۔6 "سلام ہو ابوالفضل العباس بن امیرالمؤمنین پر، جنہوں نے اپنے بھائی پر اپنی جان نچھاور کر دی، دنیا کو اپنی آخرت کا ذریعہ قرار دیا، وہ جو محافظ تھے اور لب تشنگانِ حرم تک پانی پہنچانے کی بہت کوشش کی اور انکے دونوں ہاتھ قلم ہوئے۔

بین الاقوامی

یمن سے شکست کا ملبہ ایران پر ڈالنے کی کوشش

سعودی عرب کو گذشتہ 4 سال سے یمن کی جانب سے بھرپور مزاحمت کا سامنا ہے۔ امریکا، اسرائیل اور متحدہ عرب امارات سمیت دیگر خلیجی ریاستوں کی مدد کے باوجود یمن سے شکست نے سعودی عرب کی جنگی صلاحیتوں کا بھانڈا پھوڑتے ہوئے اسے دنیا بھر میں رسوا کر دیا ہے۔

سعودی تیل کی تنصیبات پر حملہ / امریکی الزام پر ایران کا ردعمل

سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر خوفناک حلموں میں ایران کے ملوث ہونے کے امریکی الزام پر ایران کا موقف بھی سامنے آگیا ہے۔

امام خمینی

امام خمینی رہ کے انقلابی نظریات اور اس کے اثرات

امام خمینی علیہ الرحمہ کی شخصیت اعلم فقیہ، واصل عارف اور با بصیرت راہبر جیسی صفات کی حامل ہے، ایران کی سرزمین پر دو ہزار پانچ سو سالہ پرانی شہنشاہیت کو شکست دینے کے بعد شرق و غرب کی سپر پاورز کا سامنا کرنے والی شخصیت ہے۔

امام خمینی رح ایک مرد عارف

حضرت امام خمینی رح کے بارے میں عام طور پر جو بات ہمارے ہاں زیادہ مشہور ہے وہ یہ کہ آپ نے ایک ملوکیت اور بادشاہت کا خاتمہ کرکے ایک اسلامی اور مذہبی حکومت قائم کی۔ لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ استعماری طاقتوں کے خلاف تھے اور استعماری طاقتوں نے آپ کی حکومت کے خاتمے کے لیے اپنے پورے وسائل بروئے کار لائے لیکن وہ اس میں ناکام ہو گئیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ امام خمینی رح بہت شجاع اور بہادر تھے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ آپ نے ناجائز طور پر قائم صہیونی حکومت کے خاتمے اور فلسطینیوں کے حقوق کے حصول کے لیے بھی آواز بلند کی۔ آپ مستضعفوں اور محروموں کے حقوق کے بھی علمبردار تھے۔ آپ نے اتحاد امت کے لیے ایک زور دار آواز بلند کی۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ ایک عالم اور فقیہ تھے اور آپ کی تقلید کی جاتی تھی۔ بعدازاں آپ کا دیوان بھی چھپا اور پاکستان میں بھی بہت سے لوگوں کو معلوم ہوا کہ آپ صاحب دیوان شاعر بھی تھے، لیکن ابھی تک جو پہلو کم شناختہ یا ناشناختہ ہے وہ یہ ہے کہ آپ ایک بلند پایہ عارف تھے اور شاید یہ کہنا زیادہ بہتر ہو کہ آپ کے وجود سے پھوٹنے والی تمام تر خوبیوں کا سرچشمہ یہی امر ہے کہ آپ ایک عارف باللہ اور عاشق الٰہی تھے اور اس سلسلے میں نظری اور عملی طور پر نہایت عمق اور گہرائی کے مقام پر فائز تھے۔

امام خامنہ ای

مسئلہ فلسطین امت مسلمہ کے اساسی اور بنیادی مسائل میں سے ایک ہے، امام خامنہ ای

مسئلہ فلسطین امت مسلمہ کے اساسی اور بنیادی مسائل میں سے ایک ہے، امام خامنہ ای رہبر انقلاب اسلامی امام خامنہ ای نے حجاج کرام کے نام اپنے سالانہ پیغام میں فلسطین کے مسئلے کو دنیا کا اہم ترین مسئلہ قرار دیا ہے۔

ایران بحری جہاز پر برطانوی حملے کا سخت جواب دے گا، امام خامنہ ای

ایران بحری جہاز پر برطانوی حملے کا سخت جواب دے گا، امام خامنہ ای امام خامنہ ای نے آئمہ جعمہ اور جماعات کے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ایران بحری جہاز پر برطانوی حملے کا سخت جواب دے گا۔

کلام و عقائد

بدا قرآن و حدیث کی روشنی میں

ذات الٰہی کے بارے میں بدا، حقیقت میں ابدا و اظہار ہے۔ یعنی جو کچھ خدا کے علم میں ہے اور انسان کے علم میں نہیں، اسےخداوند متعال اظہار و آشکار کرتا ہے۔ اسے بدا، کہنے کا سبب یہ ہے کہ یہ مقام فعل الٰہی میں نمایاں ہوتا ہے، اگرچہ ذات الٰہی میں جہل اور تغییر محال ہیں۔ خداوند متعال انبیاء کرام پر غیبی طریقے سے نظر رکھتا ہے تاکہ یہ لوگ وحی کے پہنچانے میں خطا سے محفوظ رہیں۔ قرآن کریم اس بارے میں ارشاد فرماتا ہے، "لِّيَعْلَمَ أَن قَدْ أَبْلَغُواْ رِسَالَاتِ رَبهِّم" تاکہ وہ دیکھ لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات کو پہنچا دیا ہے۔ واضح ہے کہ خداوند متعال پہلے سے ہی آگاہ ہے کہ انبیاء، وحی الٰہی کو صحیح طریقے سے لوگوں تک پہنچائیں گے۔

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی علم کلام کےاہم مباحث میں سے ایک حسن و قبح عقلی کا بحث ہے ۔اس سے مراد یہ ہے کہ کچھ افعال ذاتی طور پر حسن {اچھے} اور کچھ افعال ذاتی طور پر قبیح{ برے} ہیں ۔ معتزلہ اور امامیہ حسن و قبح عقلی کے قائل ہیں جبکہ اشاعرہ اس کی نفی کرتے ہیں۔ بہت سے کلامی مسائل اس بحث پر موقوف ہیں مثلا انسان کا اپنے اعمال میں خود مختار ہونا،خدا وند متعال کی بعض صفات کمالیہ کا ثبوت جیسے خدا کا عادل ہونا،اسی طرح بعض صفات سلبیہ بھی اسی بحث پر موقوف ہے جیسے خدا سے قبیح کا سرزد نہ ہونا،خداکا ظلم نہ کرنا وغیرہ ۔ جو لوگ حسن اور قبح کے قائل ہیں وہ انسانی افعال میں انسان کو مختار،خدا کو عادل مانتے ہیں جبکہ حسن و قبح کے مخالفین انسان کو مجبور اور خداکی عدالت سے انکار کرتے ہیں ۔

تربیت اولاد

خاندانی منصوبہ بندی : ایک معاشرتی ضرورت یا دھوکہ!

خاندانی منصوبہ بندی کوآج کے دور میں مختلف مملک کی حکومتیں اپنی کامیاب ترین پالیسیوں میں شمار کرتی ہیں۔ آبادی کا کنٹرول اور چھوٹا خاندان خوشحالی کا ذریعہ سمجھاجاتا ہے۔ خصوصاً محدود وسائل رکھنے والے ممالک میں اس پالیسی کو زیادہ اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے

تعليم و تربيت کے بارے ميں اسلامي علما کي آرا و نظريات

تاريخ اسلام ميں تقريبا تمام علماء و دانشور مختلف علوم ميں مھارت رکھنے کے ساتھ ساتھ تعليم و تربيت ميں بھي صاحب نظر اور مھارت کے حامل ہوا کرتے تھے اس سے اسلام ميں تعليم وتربيت کي اھميت کا پتہ چلتا ہے لھذا ہم يہاں پر علما اسلام کي نظر ميں تعليم و تربيت کي اھميت اجاگر کرنے کے لئے ان کے بعض نظريات پيش کر رہے ہيں۔

تندرستی

گوشت نہیں کھائیں گے تو... کند ذہن ہوجائیں گے!

گوشت نہیں کھائیں گے تو... کند ذہن ہوجائیں گے!

سوڈا ڈرنک پینے والوں کو ناگہانی موت کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے، رپورٹ

دس یورپی ممالک میں 451,000 افراد پر بیس سال تک کی گئی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ روزانہ کولڈ ڈرنک پینے والوں کی زندگی کم ہوجاتی ہے اور ان کےلیے ناگہانی موت کا خطرہ، کبھی کبھار کولڈ ڈرنک پینے والوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہو جاتا ہے۔

مہدویت{امام زمان عج}

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی امامت کے اہداف میں سے ایک ہدف امام معصوم کا لوگوں کی باطنی ہدایت ہے۔ امام لائق اور پاکیزہ دل رکھنے والے افراد کو اپنی طرف جذب کر کے انہیں کمال تک پہنچاتے ہیں۔ واضح ہے کہ انسان کا اس طرح ہدایت سے ہمکنار ہونے کے لئے ضروری نہیں کہ وہ امام کے ساتھ ظاہری رابطہ برقرار کرے۔ گذشتہ بیانات کی روشنی میں امام زمانہ (عج) کو بادل کے پیچھے پنہان روشن آفتاب سے تشبیہ دینے کا مقصد بھی واضح ہو جاتا ہے۔ اگرچہ بادل کے پیچھے پنہان سورج سے انسان مکمل طور بہرہ مند نہیں ہوتا ہے لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ اس سے انسان کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا ہے۔ بہرحال امام زمانہ (عج) کے وجود کے آثار و برکات سے بہرہ مند نہ ہونے کا سبب انسانوں کی طرف سے خاص حالات کا فراہم نہ کرنا ہے، جس کی وجہ سے لوگ اس عظیم نعمت کے فوائد سے محروم ہیں اور اس محرومیت کا سبب وہ خود ہیں نہ کہ خداوند متعال اور امام، کیونکہ خداوند متعال اور امام کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی مشکل درپیش نہیں ہے۔

دیگر مناسبتیں

آفتاب کربلا جناب حضرت علی اکبر علیہ السلام

کربلا کے میدان میں ایک جوان ایسا بھی تھا جو سیرت و صورت اورگفتار و کردار میں شبیہ پیغمبر تھے۔دیکھنے والا دنگ رہ جاتا تھا کہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے ہیں۔انہوں نے اس کائنات میں ایسی قربانی پیش کی کہ تمام دنیا دھنگ رہ گئی۔آپ ایسے باپ کے فرزند تھے جس پر رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ناز تھا ،جس کے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری بن گئے۔اس عظیم باپ کا فرزند تھا جس نے دنیا والوں کو جینا سکھایا اورباطل قوتوں کے سامنے قیام کر نا سکھایا۔

حدیث غدیر، حدیث متواتر

متواتر لفظی: وہ حدیث یا خبر جس کے تمام روایوں نے، تمام طبقات میں، اس حدیث یا خبر کے مضمون کو ہو بہو اور یکسان طور پر نقل کیا ہو۔ جیسے حدیث ثقلین کی عبارت، (انّي تارك فيكم الثقلين ۔۔) یا حدیث غدیر کی عبارت (من كنت مولاه فهذا عليّ مولاه)۔

چہاردہ معصومین ع

امام سجاد علیہ السلام

امام علیہ السلام نے کربلا سے کوفہ، کوفہ سے شام اور زندان سے رہائی تک ہر موقع پر اپنے خطبوں کے ذریعے جہاں قیام حسینی علیہ السلام کے اصولوں اور فلسفے سے لوگوں کو آگاہ فرمایا وہیں اسلام کا نام استعمال کرتے ہوئے اسلام کی دھجیاں اڑانے کی کوشش کرنے والی ناپاک حکومت کا مکروہ چہرہ بھی بےنقاب فرمایا۔

معاویہ و یزید کے دور حکومت میں امام حسین (ع) کا کردار

معاویہ کو ہر وقت آپ کے قیام کا خوف رہتا تھا۔ چنانچہ اس نے امام کے سامنے قبض و بسط کی پالیسی اپنائی یعنی ایک طرف سے آپ کی منزلت کو مدنظر رکھتا تھا اور بظاہر آپ کے لئے احترام کا قائل تھا اور آپ کی تعظیم کرتا تھا اور اپنے کارگزاروں کو بھی ہدایت کرتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرزند کو نہ چھیڑیں اور ان کی بےحرمتی سے پرہیز کریں۔ دوسری طرف سے امام کی مسلسل اور شب و روز نگرانی کو اپنی پالیسی کا حصہ بنایا اور سفر اور حضر میں آپ کی تمام حرکات و سکنات پر کڑی نظر رکھی جاتی تھی۔

دیگر موضوعات

الغدیر فی الکتاب و السنۃ و الادب

الغدیر فی الکتاب و السنة و الادب، جو الغدیر کے نام سے معروف ہے عربی زبان میں لکھی گئی ایک ایسی کتاب ہے جسےعلامہ عبد الحسین امینیؒ نےحدیث غدیر کی روشنی میں امام علی علیہ السلام کی امامت و خلافت بلا فصل کی اثبات کے لئے تحریر کیا ہے۔یہ کتاب اب تک 11 جلدوں میں مرتب ہوئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کتاب کی کل 20 جلدیں ہیں۔ لیکن آخری 9 جلدیں ابھی تک طبع نہیں ہوئی ہیں۔ علامہ امینی اس کتاب کو لکھنے کی خاطر مختلف ممالک کی لائبریریوں کا سفر کیا ہے۔ جن میں ہندوستان، مصر اور شام وغیرہ کی لائبریریاں شامل ہیں۔الغدیر کے مؤلف کے مطابق اس کتاب کی تالیف میں انہوں نے ایک لاکھ سے زائد کتابوں کی طرف مراجعہ اور دس ہزار سے زیادہ کتابوں کا مطالعہ کیا ہے۔انہیں یہ کتاب لکھنے میں ۴۰ سال سے زیادہ کا عرصہ لگا ہے۔الغدیر کے بارے میں کئی کتابیں اور تھیسز لکھے گئے ہیں۔ اسی طرح الغدیر میں پیش کیے گئے موضوعات کو 27 جلدوں پر مشتمل مجموعے کی صورت میں بھی منظر عام پر لایا گیا ہے۔

قربانی کی تاریخ اور اسکا فلسفہ

دین مقدس اسلام میں قربانی ایک مالی عبادت ہے، جو شعائر اسلام میں بھی شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں اس کی بڑی فضیلت ہے۔ شعائر اللہ کو دلوں کا تقوا قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں ارشاد ہوا ہے: "وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ" (سورہ حج:۳۲) بات یہ ہے کہ جو شعائر اللہ کا احترام کرتا ہے تو یہ دلوں کا تقویٰ ہے۔ دین اسلام میں اس کے علاوہ اور بھی مالی عبادات ہیں۔ لیکن ان عبادات کے مقابلے میں قربانی کچھ مخصوص خصوصیات کی حامل ہے۔ انہی خصوصیات کی وجہ سے عبادات کے درمیان قربانی کا الگ مقام ہے۔

سب سے زیادہ زیر بحث

امام علی علیہ السلام کی شانِ میں چہل حدیث

مولا علیؑ کی شان میں چالیس احادیث اور یہ ﻭﻩ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ہیں ﺟﻮ ﺻﺤﺎﺡ ﺳﺘﻪ ﻣﯿﮟ بھی موجود ہے. 1= ﻋﻨﻮﺍﻥ ﺻﺤﻴﻔﺔ ﺍﻟﻤﺆﻣﻦ ﺣﺐّ ﻋﻠﻰؑ ﺑﻦ ﺍﺑﻰ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ. ﺻﺤﯿﻔﮧ ﻣﻮﻣﻦ ﮐﺎ ﻋﻨﻮﺍﻥ ﻣﺤﺒﺖِ ﻋﻠﯽؑ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻃﺎﻟﺐؑ ﮨﮯ.

دعا کی اہمیت

دعا کی اہمیت حضرت انسان کس قدر شرف و عظمت کا مالک ہے،اس کے لئے کائنات بنی،پوری کائنات میں اسی کو عزت و تکریم کا حق دار ٹھہرایا گیا۔تمام مخلوق اس کی خدمت اور منفعت کے لئے پیدا کی گئی۔لیکن اتنی عظمتوں کے باوجود اس کی خلقت کا مقصد اللہ کی معرفت اور عبادت قرار دیا گیا۔لہذا انسان کا اہم کام خدا سے ارتباط و ربط ہے۔مگر کیسا رابطہ؟ اتنی عظمتوں کے باوجود بارگاہ خداوندی میں فقر محض اور احتیاج محض ہے جبکہ ذات پروردگار غناء ہی غناء ہے۔بلندی ہی بلندی ہے۔انسان مشکلات،مصائب اور تکالیف میں ایسی ذات کی طرف رجوع کر کے اپنے فقر اور احتیاج محض ہونے کا اقرار و اعتراف کرتے ہوئے اپنی نفی اور بے ثباتی کا اظہار کرتا نظر آتا ہے۔اس سلسلے میں انسان کا ایک اہم وسیلہ دعا ہے۔دعا کے ذریعے اپنی احتیاج کا اظہار بھی کرتا ہے اوراللہ سے اعانت کی التجا بھی کرتا ہے۔

قرآنِ کریم اور اصلاحِ معاشرہ تحریر: عارف حسین تھہیم

لفظِ ’’اصلاح‘‘ درست کرنے، صحیح کرنے اور خرابی کو دُور کے معنی میں آتا ہے۔ معاشرتی اور اجتماعی مفہوم کے اعتبار سے شائستہ اور نیک عمل انجام دینے، نیز فساد و تباہی کو ختم کرنے کے لیے بھی اصلاح کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ ارشادِ پروردگار ہے: ﴿ إِلاَّ الَّذِينَ تَابُواْ وَأَصْلَحُواْ وَبَيَّنُواْ فَأُوْلَئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ﴾[1]؛ ’’سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے توبہ کی اور اپنے کئے کی اصلاح کر لی اور (جس کو چھپایا ہوا تھا) واضح کر دیا تو ایسے ہی لوگوں کی توبہ میں قبول کرتا ہوں اور بےشک میں بڑا توبہ قبول کرنے والا اور بہت مہربان ہوں۔‘‘ حقیقی توبہ میں گذشتہ بُرائی اور فساد کا دُور کرنا اور آئندہ بُرائی و فساد سے بچے رہنے کا تہیہ کرنا ضروری ہے۔ شائستہ اور صالح معاشرے کی تشکیل کا ہدف اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی دُنیوی و اُخروی اور مادی و معنوی ضرورتوں کو پورا کیا جائے؛ لہٰذا صالح معاشرے کی خصوصیات یہ ہیں کہ اس میں ہر ایک کی جان، مال، عزّت و آبرو اور ناموس محفوظ ہوتی ہے، لوگوں کی درمیان مہر و محبت اور اپنائیت کا راج ہوتا ہے اور سب لوگ روحانی و معنوی لحاظ سے پُرسکون اور مطمئن ہوتے ہیں۔

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ بسم اللہ الرحمن الرحیم بنام خدائے رحمن و رحیم اٴَللّٰھُمَّ اِنّيِ اٴَسْاٴَ لُکَ بِرَحْمَتِکَ الَّتي وَ سِعَتْ کُلَّ شَيْءٍ،وَ بِقُوَّتِکَ الَّتي قَھَرْتَ خدایا میراسوال اس رحمت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر محیط ھے۔ اس قوت کے واسطہ سے ھے جو ھر چیز پر حاوی ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ،وَخَضَعَ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ،وَذَلَّ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ، وَبِجَبَرُوتِکَ الَّتي غَلَبْتَ اور اس کے لئے ھر شے خاضع اور متواضع ھے۔ اس جبروت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر غالب ھے اور اس عزت کے واسطہ سے ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ، وَ بِعِزَّتِکَ الَّتي لاٰ یَقُومُ لَھٰا شَيْءٌ، وَبِعَظَمَتِکَ الَّتي مَلَاٴَتْ کُلَّ جس کے مقابلہ میں کسی میں تاب مقاومت نھیں ھے۔اس عظمت کے واسطہ سے ھے جس نے ھر چیز کو پر کردیا ھے شَيْءٍ، وَ بِسُلْطٰانِکَ الَّذي عَلاٰ کُلَّ شَيْءٍ، وَبِوَجْھِکَ الْبٰاقي بَعْدَ فَنٰاءِ کُلِّ شَيْءٍ،

تلاوت قرآن کی فضیلت

'پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا، جو شخص رات کو دس آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام غافلین (جو یاد خدا سے بے بہرہ رہتے ہیں) میں نہیں لکھا جائے گا اور جو شخص پچاس آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام ذاکرین (جو خدا کو یاد کرتے ہیں، حرام و حلال کا خیال رکھتے ہیں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص سو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام قانتین (عبادت گزاروں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص دوسو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام خاشعین (جو خدا کے سامنے متواضع ہوں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص تین سو آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام سعادت مندوں میں لکھا جائے گا، جو شخص پانچ ہزار آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام عبادت اور پرستش خدا کی کوشش کرنے والوں میں لکھا جائے گا اور جو شخص ہزار آیتوں کی تلاوت کرے وہ ایسا ہے جیسے اس نے کثیر مقدار میں سونا راہ خدا میں دے دیا ہو۔،،

تربیت اولاد کے انمول اصول تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

لغت کی کتابوں میں لفظ" تربیت" کے لیے تین اصل اور ریشہ ذکر ہوئے ہیں۔ الف:ربا،یربو زیادہ اور نشوونما پانےکے معنی میں ہے۔ ب: ربی، یربی پروان چڑھنا اور برتری کے معنی میں ہے۔ج: رب،یرب اصلاح کرنے اور سرپرستی کرنے کے معنی میں ہے۔۱صاحب مفردات کا کہنا ہے کہ "رب" مصدری معنی ٰ کے لحاظ سے کسی چیز کو حد کمال تک پہچانے ، پرورش اور پروان چڑھانے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ۲ صاحب التحقيق کا کہنا ہے اس کا اصل معنی ٰ کسی چیز کو کمال کی طرف لے جانے ، نقائص کو تخلیہ اور تحلیہ کے ذریعےرفع کرنے کے معنی ٰ میں ہے۔۳ بنابر این اگر اس کا ريشه(اصل) "ربو" سے ہو تو اضافہ کرنا، رشد ، نمو اور موجبات رشد کو فراہم کرنے کے معنی ٰ میں ہےلیکن ا گر "ربب" سے ہو تو نظارت ، سرپرستي و رهبري اور کسی چیز کو کمال تک پہنچانے کے لئے پرورش کے معنی ٰ میں ہے۔

پیٹ کا درد کئی امراض کی علامت ہوسکتا ہے

اگر پیٹ میں درد ہورہا ہو تو اس کی کئی وجوہ ہوسکتی ہیں۔ اکثر ناقص غذا کی وجہ سے معدے میں تکلیف ہونے لگتی ہے جسے ہم پیٹ کے درد سے تعبیر کرتے ہیں۔ معدے کا درد کئی امراض کی علامت بھی ہوسکتا ہے، اس لیے اسے نظرانداز نہیں کرنا چاہیے اور بلاتاخیر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

مقصد قیام امام حسین علیہ السلام تحریر: محمد حسن حسرت کچوروی

امام حسین ؑ ۲۸ رجب ۶۰ ھ میں مدینہ سے حرکت کرتے ہیں اور ۳ شعبان المعظم کو مکہ میں پہنچتے ہیں پھر ۸ ذی الحجہ کو مکہ سے کوفہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں ۲ محرم الحرام کو وارد کربلا ہوتے ہیں اور ۱۰ محرم الحرام کو شھید ہو جاتے ہیں اس مختصرعرصے میں انسان سو سے زیادہ درس حاصل کر سکتا ہے بلکہ کہہ سکتے ہیں کہ امام کے اس مختصر عرصےمیں ہزاروں دروس شامل ہیں لیکن یہ سارے دروس ایک اصلی درس ‘ حرکت اور قیام امام میں موجود ہیں باقی سارے حاشیے ہیں متن یہ ہے کہ امام نے قیام کیوں کیا؟ یہ اصلی درس ہے لوگ امام سے کہتے تھے آپ مدینہ اور مکہ میں محترم ہیں یمن میں اتنے سارے شیعہ ہیں کسی کونے میں تشریف لے جائیں اور یزید سے کوئی سروکار نہ رکھے تاکہ وہ بھی آپ سے کوئی سروکار نہ رکھے۔ یہ سارے مرید ہیں انہیں تبلیغ کریں عبادت کریں اور زندگی کریں۔ کاس قیام کا مقصد کیاہے ۔۔؟

مشاہدات

آج

409

کل

612

اس ماہ

29012

اس سال

157440

ٹوٹل مشاہدات

326668