علماء کونسل کچورا سکردو بلتستان

متن

قربانی کی تاریخ اور اسکا فلسفہ

تحریر: محمد شریف نفیس

دین مقدس اسلام میں قربانی ایک مالی عبادت ہے، جو شعائر اسلام میں بھی شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں اس کی بڑی فضیلت ہے۔ شعائر اللہ کو  دلوں کا تقوا قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں ارشاد ہوا ہے: "وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ" (سورہ حج:۳۲) بات یہ ہے کہ جو شعائر اللہ کا احترام کرتا ہے تو یہ دلوں کا تقویٰ ہے۔ دین اسلام میں اس کے علاوہ اور بھی مالی عبادات ہیں۔ لیکن  ان عبادات کے مقابلے میں قربانی کچھ مخصوص خصوصیات کی حامل ہے۔ انہی خصوصیات کی وجہ سے عبادات کے درمیان قربانی کا الگ مقام ہے۔

قربانی کا معنی و مفہوم:
لغت کے لحاظ سے ہر اس چیز کو قربانی کہا جا سکتا ہے جو تقرب الی اللہ، یعنی اللہ سے نزدیک ہونے کا سبب بنتی ہے۔ پس کوئی حیوان ذبح کر کے اللہ کی قربت حاصل کی جائے، یا کسی اور چیز کا صدقہ دے کر اللہ سے نزدیک ہونے کی کوشش کی جائے، اسے قربانی کہا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ بعض علماء نے ہر اس نیک عمل کو قربانی کہا ہے جو واقعاً خداوند متعال سے نزدیک ہونے کے لئے انجام دیا جائے۔ (مفردات راغب) البتہ ہمارے عرف میں عید الاضحٰی کے دن اللہ تعالٰی کی خوشنودی اور قربت حاصل کرنے کے لئے کچھ مخصوص اور جامع الشرائط حیوانات ذبح کرنے کو  قربانی کہا جاتا ہے۔ مسلمان اللہ کی خوشنودی کے لئے حیوان ذبح کرتے ہیں۔ در حقیقت وہی حیوان قربان شدہ ہوتا ہے، لیکن اسی سے قربانی کا لفظ اخذ کیا جاتا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں بھی متعدد بار اس ذبح شدہ حیوان کو قربانی کہا ہے۔ اس کے علاوہ قربانی کو عمومی مفہوم میں لیا جائے تو ہر اس نیک کام کو قربانی کہا جا سکتا ہے کہ جس کے ذریعے انسان اپنے آپ کو اللہ تعالٰی کی رحمت کے قریب کرنا چاہتا ہے۔ اس لحاظ سے انسان جو بھی نیک عمل خداوند متعال سے نزدیک ہونے کی نیت سے انجام دیتا ہے، اسے قربانی کہا جاسکتا ہے۔

چنانچہ رسول اکرم ؐ کا  فرمان ہے، "ان الصلوة قربان المؤمن" (کنز العمال ، حدیث 18907) یقیناً نماز مؤمن کو اللہ سے نزدیک کرنے والی ہے۔ اسی طرح امیرالمؤمنینؑ کا بھی ایک مشہور فرمان ہے، "الصَّلَاةُ قُرْبَانُ كُلِّ تَقِيٍّ" (نہج البلاغہ، کلمات قصار۱۳۶) نماز ہر پرہیزگار کے لئے اللہ سے نزدیک ہونے کا وسیلہ ہے۔ یہ بات بہت واضح ہے کہ اللہ سے نزدیک ہونے کا مطلب کوئی زمانی یا مکانی لحاظ سے نزدیک ہونا نہیں، کیونکہ اللہ تعالٰی اور بندے کے نزدیک ایسا کوئی فاصلہ ہی نہیں۔ بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ انسان اللہ تعالٰی کی اطاعت و بندگی کر کے اپنے آپ کو اللہ تعالٰی کی رحمت اور لطف و کرم سے نزدیک کرے۔ اللہ کی رحمت اسکے شامل حال ہو جائے۔ عید قربان کے موقع پر کسی حیوان کو ذبح کرنا درحقیقت انسان کا اپنے نفس امارہ کو ذبح کرنا ہے۔ انسان بظاہر حیوان کی گردن پر چھری پھیرتا ہے لیکن اگر فلسفہ قربانی سے آگاہ ہو اور خداوند متعال کی معرفت رکھتا ہو تو درحقیقت ایمان اور عقل کی چھری سے وہ اپنی نفس کو ذبح کر رہا ہوتا ہے، جو اسے ہر برے کام کی طرف ترغیب دلاتا ہے۔ وہ نفس امارہ کی شر سے اپنے دل کو پاک و پاکیزہ کرتا ہے تاکہ اپنے محبوب حقیقی کی راہ میں پیش قدمی کر سکے۔ حج کے موقع پر بھی قربانی کے اس عمل کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ حجاج کرام منٰی کے میدان میں اپنی استطاعت کے مطابق چھوٹے بڑے حیوانات میں سے کسی کو مطلوبہ شرائط کے مطابق ذبح کر کے مستحقین میں تقسیم کرتے ہیں تاکہ اس عمل کے وسیلے سے وہ اپنے پروردگار کی رحمت کے قریب ہو سکیں۔

قربانی کی تاریخ:
۱۔ اللہ تعالٰی کی قربت اور نزدیکی حاصل کرنے کے لئے قربانی کی سنت حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے سے ہی شروع ہوئی تھی۔ جب حضرت آدم علیہ السلام کے دونوں بیٹے ہابیل اور قابیل نے اللہ تعالٰی کا تقرب حاصل کرنے کے لئے الگ الگ قربانی پیش کی۔ حضرت ہابیل پیشے کے لحاظ سے چرواہا تھے، اس لئے انہوں نے ایک  بہترین بھیڑ کو اللہ کی بارگاہ میں قربانی کے طور پر پیش کیا۔ حضرت آدم ؑ کے دوسرے بیٹے قابیل کھیتی باڑی کیا کرتے تھے، انہوں نے پست ترین قسم کی گندم کی ایک مقدار قربانی کے طور پر پیش کی۔ اس زمانے کے دستور کے مطابق آسمان سے ایک آگ آئی اور حضرت ہابیل کی قربانی کو جلادیا، جو اس بات کی علامت تھی کہ قربانی قبول ہو گئی ہے لیکن قابیل کی قربانی بالکل اسی حالت میں باقی رہی۔ اس کا مطلب تھا کہ ان کی قربانی قبول نہ ہوئی۔ چنانچہ قرآن کریم میں اس واقعے کی یوں منظر کشی کی گئی ہے، "وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ ابْنَيْ آدَمَ بِالْحَقِّ إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ أَحَدِهِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الْآخَرِ قَالَ لَأَقْتُلَنَّكَ قَالَ إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ" (مائده :۲۷) اور آپ انہیں آدم کے دونوں بیٹوں کا حقیقی قصہ سنائیں جب ان دونوں نے قربانی پیش کی تو ان میں سے ایک کی قربانی قبول ہوئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی تو اس نے کہا، میں تجھے ضرور قتل کروں گا، (پہلے نے)کہا، اللہ تو صرف تقویٰ رکھنے والوں سے قبول کرتا ہے۔ اس کے بعد یہی عمل تقریباً تمام آسمانی ادیان میں ایک عبادت اور اللہ تعالٰی سے نزدیک ہونے کا وسیلے کے طور پر باقی رہا۔ چنانچہ سورہ آل عمران کی آیت ۱۸۳ میں اس کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے، بلکہ صرف ادیان سماوی ہی نہیں، الہامی مذاہب کے ساتھ دوسرے ادیان و مذاہب میں بھی لوگ اللہ تعالٰی یا اپنے دوسرے باطل خداؤں سے نزدیک ہونے کے لئے جانوروں کی قربانی دیتے تھے۔

۲۔ حضرت نوح علیہ السلام کے بارے میں روایات میں آیا ہے کہ جب طوفان نوح تھم  گیا تو انہوں نے ایک جگہ جانور ذبح کرنے کے لئے معین فرمایا، پھر وہاں بہت سے جانوروں کو اللہ تعالٰی کی راہ میں قربان کیا۔
۳۔ تاریخ میں ایک اور فقید المثال قربانی کا تذکرہ بھی ملتا ہے، جسے خداوند متعال نے تاقیامت زندہ و جاوید رکھنے کا وعدہ دیا ہے۔ یہ واقعہ حضرت ابراہیم علیہ السلام  کی وہ عظیم قربانی ہے، جسے تمام ادیان سماوی، یہودیت، مسیحیت اور دین مقدس اسلام میں عظمت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام، یہودی، مسیحی اور مسلمان سب کے ہاں قابل قبول اور محترم ہیں۔ جب آپؑ اپنے عزیز فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے قربان کرنے کے لئے تیار ہوگئے اور 'پروردہ خلیل اللہ' فرزند صالح و مطیع حضرت اسماعیل علیہ السلام بھی اپنے پورے وجود کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے اس حکم  کے سامنے تسلیم ہوئے تو اللہ تعالٰی نے اس عظیم قربانی کو قبول فرمایا اور اسے قیامت تک زندہ رکھنے کا وعدہ فرمایا۔ چنانچہ قرآن کریم نے اس عظیم قربانی کو یوں بیان فرمایا ہے، "چنانچہ ہم نے انہیں ایک بردبار بیٹے کی بشارت دی۔ پھر جب وہ ان کے ساتھ کام کاج کی عمر کو پہنچا تو کہا، اے بیٹا! میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں، پس دیکھ لو تمہاری کیا رائے ہے، اس نے کہا، اے ابا جان آپ کو جو حکم ملا ہے اسے انجام دیں، اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔

پس جب دونوں نے (حکم خدا کو) تسلیم کیا اور اسے ماتھے کے بل لٹا دیا، تو ہم نے ندا دی، اے ابراہیم!  تو نے خواب سچ کر دکھایا، بے شک ہم نیکوکاروں کو ایسے ہی جزا دیتے ہیں۔ یقینا یہ ایک نمایاں امتحان تھا اور ہم نے ایک عظیم قربانی سے اس کا فدیہ دیا۔ "۔(سورہ صافات: ۱۰۱-۱۰۷) یہاں آخر میں ایک عظیم قربانی کا ذکر ہوا ہے جس سے حضرت اسماعیل علیہ السلام کا فدیہ دیا گیا۔  بظاہر عظیم تو وہ فرزند تھے جن کا فدیہ دیا گیا ہے، لیکن قرآن اس ذبیحہ کو عظیم قرار دے رہا ہے۔ خصال صدوق  اور بحار الانوار کی روایات کے مطابق  قیامت تک ہونے والی منیٰ کی قربانیاں حضرت اسماعیل  علیہ السلام  کا فدیہ ہیں۔ عیون الاخبار الرضا میں ذکر ہوا ہے کہ حج کے علاوہ ہر قربانی حضرت  اسماعیلؑ کا فدیہ ہے۔ اس روایت کے مطابق سید الشہداء علیہ السلام کی قربانی اس کا عظیم مصداق قرار پاتی ہے۔ سورہ صافات کی ان آیات میں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کی اس عظیم قربانی کی خوب پذیرائی  ہوئی ہے۔ یہ قربانی اللہ تعالٰی کو اتنی پسند آئی کہ اس کا ذکر قیامت تک باقی رکھنے کا وعدہ دیا۔ اسی کے ساتھ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالٰی کی طرف سے سلام بھی آیا ہے۔ چنانچہ مذکورہ بالا آیات کے بعد مزید ارشاد فرمایا، "اور ہم نے آنے والوں میں ان کے لئے (ذکر جمیل) باقی رکھا۔ ابراہیم پر سلام ہو۔ ہم نیکو کاروں کو ایسے ہی جزا دیتے ہیں۔" (سورہ صافات:۱۰۸-۱۱۰)۔

۴۔ حضرت موسٰی علیہ السلام کے زمانے میں بھی اللہ کی راہ میں قربانی دینے کا ذکر ملتا ہے۔ چنانچہ یہودیوں کے عقیدے کے مطابق اُن دنوں دو طرح کی قربانیاں دی جاتی تھیں، خونی قربانی اور غیر خونی قربانی۔ خونی قربانی کی بھی تین قسمیں تھیں، ایک قسم وہ تھی جس میں قربانی کے جانور کو مکمل طور پر آگ میں جلا دیتے تھے۔ اس میں قربانی کے جانور کی کھال کے علاوہ کوئی چیز نہیں بچتی تھی۔ دوسری قسم کی قربانی لوگ اپنے گناہوں کا ازالہ کرنے کے لئے دیتے تھے۔ اس میں جانور کا کچھ حصہ جلاتے تھے باقی حصہ کاہنوں کے لئے رکھتے تھے۔ آخری قسم کی قربانی لوگ اپنی تندرستی کے لئے دیا کرتے تھے۔ اس میں وہ لوگ خود بھی چاہے تو قربانی کے جانور کا گوشت کھا سکتے تھے۔ غیر خونی قربانی میں لوگ مختلف حیوانات کو بیابانوں میں آزاد کرتے تھے۔ بنی اسرائیل کے اسی عمل کی تقلید کرتے ہوئے عرب لوگ بھی اپنے خداؤں/بتوں کی قربت حاصل کرنے کے لئے حیوانات کو بیابانوں میں آزاد کرتے تھے۔ دین مقدس اسلام نے اس ناپسندیدہ عمل کو حرام قرار دیا ہے۔ یہ وہی قربانی ہے جسے سورہ مائدہ کی آیت ۱۰۳ میں بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام کہا گیا ہے۔

۵۔ مسیحیت میں بھی قربانی کا واضح تصور موجود ہے۔ بائبل میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا قصہ موجود ہے، جس میں انہوں نے اپنے بیٹے کو قربانی کے لئے منتخب کیا اور قربان گاہ کی جانب لے چلے۔ قدرت الٰہی کے سبب بیٹے کی بجائے دنبہ ذبح ہو گیا۔ عیسائیوں کے عقیدے میں  وہ بیٹا حضرت اسحٰق علیہ السلام تھے۔ جبکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق وہ اسماعیل علیہ السلام تھے۔ عیسائیوں کے اکثر فرقے مثلاً کیتھولک، آرتھوڈوکس اور ہائی چرچ اینجلیکن وغیرہ قربانی کے قائل ہیں جبکہ پروٹسٹنٹ فرقےکا عقیدہ ہےکہ حضرت عیسٰی علیہ السلام پھانسی کے پھندے پر جھول گئے تھے۔ لہٰذا ان کی قربانی ہماری جانب سے بھی ہوگئی۔ اب مزید قربانی دینے کی ضرورت نہیں ہے۔
۶۔ زمانہ جاہلیت میں عرب میں بھی قربانی کا تصور موجود تھا۔ وہ اپنے بتوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے قربانی دیا کرتے تھے۔ ان کی قربانی کو "بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام" کا نام دیا جاتا تھا۔ جو بتوں کے نام پر کھلے بیابانوں میں آزاد چھوڑ دیتے تھے۔ اس کے علاوہ  نذر کے جانور بھی قربان کرتے تھے۔ دس ذوالحجہ کو منیٰ میں قربانی کا بندوبست کیا جاتا جس میں سیکڑوں جانور ذبح کئے جاتے۔ رسول اکرم ؐ کے جد امجد حضرت عبدالمطلبؑ  نے زم زم کی تلاش کرتے ہوئے منت مانی  تھی کہ اگر میں اس مقصد میں کامیاب ہوگیا، تو اپنے  ایک بیٹے  کو ذبح کروں گا۔  پھر جب قربانی کا وقت آیا تو قرعہ اندازی کی۔ جس میں حضرت عبداللہ (رسول اکرمؐ کے والد گرامی) کا نام نکلا۔ پھر آپ کے بدلے جانوروں کی مختلف تعداد رکھ کر قرعہ اندازی کی لیکن ہر بار حضرت عبداللہ ؑ کا نام نکلتا۔ بالآخر سو اونٹوں اور حضرت عبداللہ ؑ کے درمیان قرعہ اندازی کی گئی تو اس بار سو اونٹوں کا نام نکلا۔ چنانچہ حضرت عبدالمطلبؑ نے سو اونٹ قربان کئے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بعد میں دین مقدس اسلام نے بھی ایک انسان کی جان کا "دیہ" سو اونٹ قرار دیا۔

قربانی کے اسرار اور اس کی حکمتیں:
جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، قربانی کا جانور ذبح کرنا درحقیقت انسان کا اپنے نفس امارہ کی گردن پر چھری پھیرنا ہے۔ یہ قربانی ایک درس ہے کہ انسان نفس امارہ کی ہر بری خواہش کا ختم کرے، اسے اپنے دل میں پنپنے نہ دے۔ اگر حج بیت اللہ پہ گیا ہوا حاجی اپنی طرف سے جانور تو قربان کرے لیکن اس کے ساتھ اپنی نفسانی خواہشات سے چھٹکارا نہ پائے تو اس نے فلسفہ حج کو نہیں سمجھا ہے۔ قربانی کی معرفت حاصل ہو جائے تو انسان کو اپنے آپ سے گناہوں کا بوجھ ہلکا ہوتا ہوا محسوس ہوتا ہے اور اسے ایک قسم کی خوشی اپنے اندر محسوس ہوتی ہے۔ چنانچہ روایات میں نقل ہوا ہے کہ جب قربانی کے خون کا پہلا قطرہ زمین پر گرتا ہے تو خداوند متعال اس صاحب قربانی کے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی کے گھر میں بچہ ہوتا ہے، یا کوئی مسافر گھر واپس آتا ہے، یا کوئی مصیبت ٹل جاتی ہے تو عقیقہ یا شکرانے کے طور پر ایک جانور ذبح کیا جاتا ہے۔ اس موقع پر جانور کا ذبح کرنا تمام گھر والوں کے دل میں خوشی اور مسرت پیدا کرتا ہے اور عجیب سرور کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ لہٰذا قربانی والے دن مسلمان جب ہزاروں کی تعداد میں جانور ذبح کرتے ہیں تو ایک خوبصورت سنت کی یاد تازہ ہوتی ہے۔ ہر طرف ایک قسم کی خوشحالی دیکھنے کو ملتی ہے۔

سنت ابراہیمی کی یاد:
اسلامی تعلیمات میں عید قربان کے دن قربانی درحقیقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم ہوا کہ اپنے جواں سال بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ کی راہ میں قربان کریں۔ یہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام دونوں کا ایک امتحان تھا اور اس امتحان میں دونوں سرخرو ہوئے، تو اللہ تعالٰی نے ایک دنبہ بھیجا تاکہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بدلے قربان کیا جائے۔ یہیں سے اس سنت ابراہیمی نے قربانی کی شکل پکڑی۔ جسے مسلمان ہر سال عید قربان کے موقع پر بڑے اہتمام سے ادا کرتے ہیں۔

بھوکے لوگوں کو کھلانا:
قربانی کی حکمتوں اور اس کے اسرار میں سے ایک بھوکے لوگوں کو سیر کرانا ہے۔ معاشرے میں کتنے سارے ایسے لوگ ہوں گے جنہیں سال بھر پیٹ بھر کر کھانا نصیب نہیں ہوتا ہوگا، یا کتنے سارے لوگ سال میں گوشت کھانے سے محروم رہتے ہوں گے۔ جب قربانی کا دن آتا ہے تو ایسے لوگوں کے گھروں میں بھی بڑی خوشحالی آتی ہے۔ قرآن کریم بھی اس بارے میں ارشاد فرماتا ہے: "فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ " (سورہ حج:۳۶) تو اس میں سے خود بھی کھاؤ اور سوال کرنے والے اور سوال نہ کرنے والے فقیر کو کھلاؤ۔ القَانِعَ اس فقیر کو کہتے ہیں جسے جو کچھ دیا جائے اسے قبول کرتا ہے۔ المُعتَرَّ وہ ہے جو آپ کے پاس سوال کے لئے آتا ہے اور کچھ دیا جائے تو اس پر اعتراض بھی کرتا ہے۔ یعنی کچھ دیا جائے تو اسی کا شکریہ ادا کر کے لینے کے بجائے اس پر کوئی اعتراض بھی لگاتا ہے یا بعض اوقات اپنی زبان سے دوسروں کو تکلیف دینے والے الفاظ بھی ادا کرتا ہے۔ (معجم المعانی مادہ معتر) یہ اسلام کی وسیع النظری کا پیغام ہے کہ انسان اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کا بھی خیال رکھے اگرچہ کسی حاجت مند کی زبان سے دکھ بھی پہنچے تو اسے برداشت کر کے اس کی ضرورت پوری کرے۔

قربانی انبیاء کی سنت ہے:
رسول اکرمؐ سے قربانی کے بارے میں سوال کیا گیا کہ یا رسول اللہ، "ما ھذہ الاضاحی؟" یہ قربانی کیا ہے؟ آنحضرت ؐنے فرمایا: "سُنّۃُ اَبِیکُم اِبراھِیم" یہ تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ اصحاب کرام نے پھر سوال کیا، "فَمَا لَنا فِیھَا یا رَسولَ اللہ؟" یا رسول اللہ ہمیں اس سے کیا حاصل ہوگا؟ فرمایا:  قربانی کے جانور کے ہر بال کے مقابلے میں ایک حسنہ لکھ دی جائے گی۔ اصحاب کرام نے پھر پوچھا، "فالصوف يا رسول الله"؟ اور اون کا ہمیں کیا ملےگا؟ فرمایا، "بكل شعرة من الصوف حسنۃ" اون کے بھی ہر بال کے مقابلے میں ایک حسنہ لکھ دی جائے گی۔ (سنن ابن ماجہ،ج۲،ص۲۷۳) اکثر مفسرین نے سورہ مبارکہ الکوثر کی آیت "فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَ انْحَرْ " کی تفسیر میں لکھا ہے کہ یہاں نماز سے مراد نماز عید ہے اور "وَانْحَرْ" سے مراد حج میں جانور قربان کرنا یا حج کے علاوہ  بھی جانور کی قربانی دینا ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ نماز سے مراد عید قربان کے دن صبح کے وقت پڑھی جانے والی نماز عید ہے اور وَ انْحَرْ سے مراد  وہی مستحب قربانی ہے۔ کیونکہ رسول اکرمؐ عید قربان کے دن پہلے قربانی کیا کرتے تھے پھر صبح نماز عید پڑھا کرتے تھے۔

سب سے عظیم قربانی:
اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانی دینا انبیاء کرام علیہم السلام اور اولیاء اللہ کا شیوہ ہے۔ اس سنت حمیدہ کی سب سے بہترین مثالیں انبیاء کرام یا ائمہ ہدیٰ علیہم السلام اجمعین کے ہاں ملتی ہیں۔ تاریخ میں حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت ایوب ؑ کی قربانی کا ذکر عام ملتا ہے کہ  اپنے رب کی ایک ذکر "صبوح قدوس ربنا ورب الملائکۃ والروح" کو بار بار سننے کی خاطر اپنا سارا   مال  قربان کرتے تھے۔بلکہ آیت اللہ دستغیب کی کتاب پند تاریخ میں مذکور مختلف واقعات کی روشنی میں ان دونوں بزرگواروں کی قربانی میں عجیب مشابہتیں نظر آتی ہیں۔ دونوں نے  اللہ کے نام پر اپنی مال مویشی، باغات اور آخر میں بیٹوں کی بھی قربانی دے کر شکر بجا لایا تو اللہ نے انہیں اپنا خلیل بنایا اور نعم العبد جیسے خطاب سے نوازا۔ گو کہ اللہ نے ان کے درجات بلند کرنے کے لئے ایک امتحان سے گزارا تھا جس میں دونوں ہستیاں سرخرو ہوئیں۔ لہٰذا خداوند متعال نے انہیں ان کے مال و اولاد سب واپس بھی فرمائے، لیکن اللہ کے ولیوں کی تاریخ میں ایک قربانی ایسی بھی نظر آتی ہے کہ جس کا تذکرہ نہ ہو تو شاید قربانی کا عنوان ہی ادھورا رہ جائے۔ اس قربانی نے رہتی دنیا تک کے لئے جانور ذبح کرنے کی سنت حسنہ ہی کیا، پورے اسلام کو سربلند کیا۔ اس قربانی نے زمانے میں ایسے نقوش چھوڑے کہ قیامت تک حق و باطل کو پرکھنے کا معیار بن گئی۔ اس سے پہلے انبیاء علیہم السلام کی طرف سے دی جانے والی قربانیاں محدود ہوا کرتی تھیں، مگر فرزند رسول گرامی اسلام حضرت ابا عبداللہ الحسین علیہ السلام نے ایک ایسی قربانی دی جو اپنی حقانیت اور مظلومیت کے لحاظ سے لامحدود ہے۔

حضرت ابراہیم و حضرت ایوب علیہما السلام نے اللہ کی راہ میں اپنا سب کچھ لٹا کر صبر کیا تو اللہ نے ان کی قربانی قبول کرتے ہوئے قیامت تک اس کی یاد زندہ رکھا، لیکن یہاں سب کچھ لٹا کر بھی خلیل کربلا حسینؑ کی بہن اللہ کی بارگاہ میں اپنے ہاتھوں کو بلند کرکے کمال صبر و شکر کے ساتھ کبھی  "اللھم تقبل منا ھٰذا القربان" کہہ رہی ہیں، تو کبھی دشمن کے طعنوں کے جواب میں حیدر کرار کے لہجے میں گویا ہیں، "ما رایت الا جمیلاً"۔ اس قربانی نے جہاں قیامت تک اسلام کی بنیادیں مضبوط کیں، وہاں رہتی دنیا تک کے لئے باطل کے دل میں ایک خوف پیدا کیا، جس سے اس کی بنیادیں لرز کر رہ گئیں۔ اس قربانی نے تمام انبیاء علیہم السلام کی محنتوں کی حفاظت کی ہے۔ اسی قربانی کی بدولت سے آج  تک اللہ کی راہ میں دی گئی قربانیاں زندہ و جاوید ہیں۔ یہی قربانی آج بھی اپنے دامن میں درس حریت رکھتی ہے۔ اس قربانی سے درس لیتے ہوئے دنیا کے بڑے بڑے ظالموں کو شکست فاش دیا جا چکا ہے۔ یہی قربانی اس دنیا میں اس آخری مستضعفین جہاں کی حکومت کے لئے پیش خیمہ ثابت ہوگی کہ جس میں اللہ کی زمین پر عدل و انصاف کا بول بالا ہوگا۔ جس میں اولیاء اللہ عزیز ہوںگے اور کفار و منافقین ذلت و رسوائی کی جہنم میں ہوں گے۔ خداوند متعال سے دعا ہے کہ ہمیں فلسفہ قربانی سمجھنے کی توفیق دے۔ ہمیں تمام انبیاء کرام کی  اس سنتِ حمیدہ کو ذوق و شوق سے ادا کرنے کی سعادت بخشے۔ ہمیں اس قربانی سے درس لیتے ہوئے اللہ کے نام پر ہر قسم کی قربانی دینے کا جذبہ پیدا کرنے کی توفیق سے نوازے۔ آمین۔

اس سے مربوط موضوعات

الغدیر فی الکتاب و السنۃ و الادب
الغدیر فی الکتاب و السنة و الادب، جو الغدیر کے نام سے معروف ہے عربی زبان میں لکھی گئی ایک ایسی کتاب ہے جسےعلامہ عبد الحسین امینیؒ نےحدیث غدیر کی روشنی میں امام علی علیہ السلام کی امامت و خلافت بلا فصل کی اثبات کے لئے تحریر کیا ہے۔یہ کتاب اب تک 11 جلدوں میں مرتب ہوئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کتاب کی کل 20 جلدیں ہیں۔ لیکن آخری 9 جلدیں ابھی تک طبع نہیں ہوئی ہیں۔ علامہ امینی اس کتاب کو لکھنے کی خاطر مختلف ممالک کی لائبریریوں کا سفر کیا ہے۔ جن میں ہندوستان، مصر اور شام وغیرہ کی لائبریریاں شامل ہیں۔الغدیر کے مؤلف کے مطابق اس کتاب کی تالیف میں انہوں نے ایک لاکھ سے زائد کتابوں کی طرف مراجعہ اور دس ہزار سے زیادہ کتابوں کا مطالعہ کیا ہے۔انہیں یہ کتاب لکھنے میں ۴۰ سال سے زیادہ کا عرصہ لگا ہے۔الغدیر کے بارے میں کئی کتابیں اور تھیسز لکھے گئے ہیں۔ اسی طرح الغدیر میں پیش کیے گئے موضوعات کو 27 جلدوں پر مشتمل مجموعے کی صورت میں بھی منظر عام پر لایا گیا ہے۔

بین الاقوامی

اربعین حسینی؛ ایرانی سرحد کے قریب دہشت گردی کا منصوبہ ناکام، متعدد دہشت گرد گرفتار

اربعین حسینی؛ ایرانی سرحد کے قریب دہشت گردی کا منصوبہ ناکام، متعدد دہشت گرد گرفتار اسلامی جمہوریہ ایران کی سیکیورٹی فورسزنے چذابہ بارڈر کے قریب دہشت گردی کا خطرناک منصوبہ ناکام بنا دیاہے۔

ایران سعودی تنازع کا حل سب کے مفاد میں ہے، پاکستان کے بعد روس بھی میدان میں آگیا

ایران سعودی تنازع کا حل سب کے مفاد میں ہے، پاکستان کے بعد روس بھی میدان میں آگیا روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات میں مثبت پیش رفت کی بھرپور کوشش کرنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اچھے تعلقات سے سب کو فائدہ ہوگا۔

امام خمینی

امام خمینی رہ کے انقلابی نظریات اور اس کے اثرات

امام خمینی علیہ الرحمہ کی شخصیت اعلم فقیہ، واصل عارف اور با بصیرت راہبر جیسی صفات کی حامل ہے، ایران کی سرزمین پر دو ہزار پانچ سو سالہ پرانی شہنشاہیت کو شکست دینے کے بعد شرق و غرب کی سپر پاورز کا سامنا کرنے والی شخصیت ہے۔

امام خمینی رح ایک مرد عارف

حضرت امام خمینی رح کے بارے میں عام طور پر جو بات ہمارے ہاں زیادہ مشہور ہے وہ یہ کہ آپ نے ایک ملوکیت اور بادشاہت کا خاتمہ کرکے ایک اسلامی اور مذہبی حکومت قائم کی۔ لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ استعماری طاقتوں کے خلاف تھے اور استعماری طاقتوں نے آپ کی حکومت کے خاتمے کے لیے اپنے پورے وسائل بروئے کار لائے لیکن وہ اس میں ناکام ہو گئیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ امام خمینی رح بہت شجاع اور بہادر تھے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ آپ نے ناجائز طور پر قائم صہیونی حکومت کے خاتمے اور فلسطینیوں کے حقوق کے حصول کے لیے بھی آواز بلند کی۔ آپ مستضعفوں اور محروموں کے حقوق کے بھی علمبردار تھے۔ آپ نے اتحاد امت کے لیے ایک زور دار آواز بلند کی۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ ایک عالم اور فقیہ تھے اور آپ کی تقلید کی جاتی تھی۔ بعدازاں آپ کا دیوان بھی چھپا اور پاکستان میں بھی بہت سے لوگوں کو معلوم ہوا کہ آپ صاحب دیوان شاعر بھی تھے، لیکن ابھی تک جو پہلو کم شناختہ یا ناشناختہ ہے وہ یہ ہے کہ آپ ایک بلند پایہ عارف تھے اور شاید یہ کہنا زیادہ بہتر ہو کہ آپ کے وجود سے پھوٹنے والی تمام تر خوبیوں کا سرچشمہ یہی امر ہے کہ آپ ایک عارف باللہ اور عاشق الٰہی تھے اور اس سلسلے میں نظری اور عملی طور پر نہایت عمق اور گہرائی کے مقام پر فائز تھے۔

امام خامنہ ای

امام خامنہ ای آیت اللہ مکارم شیرازی کی عیادت کرنے اسپتال پہنچ گئے

امام خامنہ ای آیت اللہ مکارم شیرازی کی عیادت کرنے اسپتال پہنچ گئے . رہبر انقلاب حضرت سید علی خامنہ ای آیت اللہ مکارم شیرازی کی عیادت کیلئے اسپتال تشریف لے گئے۔

جوہری ہتھیاربنانے کی کوشش ہی نہیں کی، ایٹم بم کا استعمال شرعی طور پر حرام ہے، امام خامنہ ای

جوہری ہتھیاربنانے کی کوشش ہی نہیں کی، ایٹم بم کا استعمال شرعی طور پر حرام ہے، امام خامنہ ای امام خامنہ ای نے تہران میں ایک عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ہم نے صلاحیت رکھنے کے باوجود جوہری ہتھیار نہیں بنایا، دین اسلام اس کے استعمال کی اجازت نہیں دیتا، ایٹم بم کا استعمال قطعی طور پر حرام ہے۔

کلام و عقائد

بدا قرآن و حدیث کی روشنی میں

ذات الٰہی کے بارے میں بدا، حقیقت میں ابدا و اظہار ہے۔ یعنی جو کچھ خدا کے علم میں ہے اور انسان کے علم میں نہیں، اسےخداوند متعال اظہار و آشکار کرتا ہے۔ اسے بدا، کہنے کا سبب یہ ہے کہ یہ مقام فعل الٰہی میں نمایاں ہوتا ہے، اگرچہ ذات الٰہی میں جہل اور تغییر محال ہیں۔ خداوند متعال انبیاء کرام پر غیبی طریقے سے نظر رکھتا ہے تاکہ یہ لوگ وحی کے پہنچانے میں خطا سے محفوظ رہیں۔ قرآن کریم اس بارے میں ارشاد فرماتا ہے، "لِّيَعْلَمَ أَن قَدْ أَبْلَغُواْ رِسَالَاتِ رَبهِّم" تاکہ وہ دیکھ لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات کو پہنچا دیا ہے۔ واضح ہے کہ خداوند متعال پہلے سے ہی آگاہ ہے کہ انبیاء، وحی الٰہی کو صحیح طریقے سے لوگوں تک پہنچائیں گے۔

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی علم کلام کےاہم مباحث میں سے ایک حسن و قبح عقلی کا بحث ہے ۔اس سے مراد یہ ہے کہ کچھ افعال ذاتی طور پر حسن {اچھے} اور کچھ افعال ذاتی طور پر قبیح{ برے} ہیں ۔ معتزلہ اور امامیہ حسن و قبح عقلی کے قائل ہیں جبکہ اشاعرہ اس کی نفی کرتے ہیں۔ بہت سے کلامی مسائل اس بحث پر موقوف ہیں مثلا انسان کا اپنے اعمال میں خود مختار ہونا،خدا وند متعال کی بعض صفات کمالیہ کا ثبوت جیسے خدا کا عادل ہونا،اسی طرح بعض صفات سلبیہ بھی اسی بحث پر موقوف ہے جیسے خدا سے قبیح کا سرزد نہ ہونا،خداکا ظلم نہ کرنا وغیرہ ۔ جو لوگ حسن اور قبح کے قائل ہیں وہ انسانی افعال میں انسان کو مختار،خدا کو عادل مانتے ہیں جبکہ حسن و قبح کے مخالفین انسان کو مجبور اور خداکی عدالت سے انکار کرتے ہیں ۔

تربیت اولاد

خاندانی منصوبہ بندی : ایک معاشرتی ضرورت یا دھوکہ!

خاندانی منصوبہ بندی کوآج کے دور میں مختلف مملک کی حکومتیں اپنی کامیاب ترین پالیسیوں میں شمار کرتی ہیں۔ آبادی کا کنٹرول اور چھوٹا خاندان خوشحالی کا ذریعہ سمجھاجاتا ہے۔ خصوصاً محدود وسائل رکھنے والے ممالک میں اس پالیسی کو زیادہ اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے

تعليم و تربيت کے بارے ميں اسلامي علما کي آرا و نظريات

تاريخ اسلام ميں تقريبا تمام علماء و دانشور مختلف علوم ميں مھارت رکھنے کے ساتھ ساتھ تعليم و تربيت ميں بھي صاحب نظر اور مھارت کے حامل ہوا کرتے تھے اس سے اسلام ميں تعليم وتربيت کي اھميت کا پتہ چلتا ہے لھذا ہم يہاں پر علما اسلام کي نظر ميں تعليم و تربيت کي اھميت اجاگر کرنے کے لئے ان کے بعض نظريات پيش کر رہے ہيں۔

تندرستی

لہسن اور پیاز چھاتی کے سرطان سے بچانے میں مددگار

لہسن اور پیاز ایشیا میں ایک عرصے سے استعمال ہورہی ہیں اور اب ان کے متعلق اچھی خبر یہ آئی ہے کہ ان دونوں جادوئی سبزیوں کا بھرپور اور مسلسل استعمال خواتین کو چھاتی کے سرطان (بریسٹ کینسر) سے محفوظ رکھتا ہے۔

گوشت نہیں کھائیں گے تو... کند ذہن ہوجائیں گے!

گوشت نہیں کھائیں گے تو... کند ذہن ہوجائیں گے!

مہدویت{امام زمان عج}

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی امامت کے اہداف میں سے ایک ہدف امام معصوم کا لوگوں کی باطنی ہدایت ہے۔ امام لائق اور پاکیزہ دل رکھنے والے افراد کو اپنی طرف جذب کر کے انہیں کمال تک پہنچاتے ہیں۔ واضح ہے کہ انسان کا اس طرح ہدایت سے ہمکنار ہونے کے لئے ضروری نہیں کہ وہ امام کے ساتھ ظاہری رابطہ برقرار کرے۔ گذشتہ بیانات کی روشنی میں امام زمانہ (عج) کو بادل کے پیچھے پنہان روشن آفتاب سے تشبیہ دینے کا مقصد بھی واضح ہو جاتا ہے۔ اگرچہ بادل کے پیچھے پنہان سورج سے انسان مکمل طور بہرہ مند نہیں ہوتا ہے لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ اس سے انسان کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا ہے۔ بہرحال امام زمانہ (عج) کے وجود کے آثار و برکات سے بہرہ مند نہ ہونے کا سبب انسانوں کی طرف سے خاص حالات کا فراہم نہ کرنا ہے، جس کی وجہ سے لوگ اس عظیم نعمت کے فوائد سے محروم ہیں اور اس محرومیت کا سبب وہ خود ہیں نہ کہ خداوند متعال اور امام، کیونکہ خداوند متعال اور امام کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی مشکل درپیش نہیں ہے۔

دیگر مناسبتیں

آفتاب کربلا جناب حضرت علی اکبر علیہ السلام

کربلا کے میدان میں ایک جوان ایسا بھی تھا جو سیرت و صورت اورگفتار و کردار میں شبیہ پیغمبر تھے۔دیکھنے والا دنگ رہ جاتا تھا کہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے ہیں۔انہوں نے اس کائنات میں ایسی قربانی پیش کی کہ تمام دنیا دھنگ رہ گئی۔آپ ایسے باپ کے فرزند تھے جس پر رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ناز تھا ،جس کے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری بن گئے۔اس عظیم باپ کا فرزند تھا جس نے دنیا والوں کو جینا سکھایا اورباطل قوتوں کے سامنے قیام کر نا سکھایا۔

حدیث غدیر، حدیث متواتر

متواتر لفظی: وہ حدیث یا خبر جس کے تمام روایوں نے، تمام طبقات میں، اس حدیث یا خبر کے مضمون کو ہو بہو اور یکسان طور پر نقل کیا ہو۔ جیسے حدیث ثقلین کی عبارت، (انّي تارك فيكم الثقلين ۔۔) یا حدیث غدیر کی عبارت (من كنت مولاه فهذا عليّ مولاه)۔

چہاردہ معصومین ع

امام سجاد علیہ السلام

امام علیہ السلام نے کربلا سے کوفہ، کوفہ سے شام اور زندان سے رہائی تک ہر موقع پر اپنے خطبوں کے ذریعے جہاں قیام حسینی علیہ السلام کے اصولوں اور فلسفے سے لوگوں کو آگاہ فرمایا وہیں اسلام کا نام استعمال کرتے ہوئے اسلام کی دھجیاں اڑانے کی کوشش کرنے والی ناپاک حکومت کا مکروہ چہرہ بھی بےنقاب فرمایا۔

معاویہ و یزید کے دور حکومت میں امام حسین (ع) کا کردار

معاویہ کو ہر وقت آپ کے قیام کا خوف رہتا تھا۔ چنانچہ اس نے امام کے سامنے قبض و بسط کی پالیسی اپنائی یعنی ایک طرف سے آپ کی منزلت کو مدنظر رکھتا تھا اور بظاہر آپ کے لئے احترام کا قائل تھا اور آپ کی تعظیم کرتا تھا اور اپنے کارگزاروں کو بھی ہدایت کرتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرزند کو نہ چھیڑیں اور ان کی بےحرمتی سے پرہیز کریں۔ دوسری طرف سے امام کی مسلسل اور شب و روز نگرانی کو اپنی پالیسی کا حصہ بنایا اور سفر اور حضر میں آپ کی تمام حرکات و سکنات پر کڑی نظر رکھی جاتی تھی۔

دیگر موضوعات

جابر بن عبداللہ انصاری پہلا زائر اربعین حسینی

عطیہ کوفی کے مطابق جابر بن عبد اللہ انصاری کے ساتھ حسین بن علی علیہ السلام کی قبر کی زیارت کرنے کے لئے کوفہ سے نکلے۔ جب ہم کربلا پہنچے تو جابر فرات کے ساحل کے قریب گیا اور غسل انجام دیا اور محرم افراد کی طرح ایک چادر پہنی، پھر ایک تھیلی سے خوشبو نکالا اور اپنے آپ کو اس خوشبو سے معطر کیا اور ذکر الہی کے ساتھ قدم اٹھانا شروع کیا، یہاں تک کہ وہ حسینؑ ابن علیؑ کے مرقد کے قریب پہنچا۔ جب ہم نزدیک پہنچے تو جابر نے کہا کہ میرا ہاتھ قبر حسینؑ پر رکھو۔ میں نے جابر کے ہاتھوں کو قبر حسین پر رکھا۔ اس نے قبر حسینؑ ابنی علی کو سینے سے لگایا اور بے ہوش ہو گیا۔ جب میں نے اس کے اوپر پانی ڈالا تو وہ ہوش میں آیا۔ اس نے تین مرتبہ یا حسینؑ کی آواز بلند کی۔

عطیہ عوفی(کوفی)زائر اربعین حسینی

زیارت اربعین کی اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ امام حسن عسکری علیہ السلام نے فرمایا: مومن کی نشانیوں میں سے ایک زیارۃ اربعین کی تلاوت کرناہے۔۳۔جب بھی زیارت اربعین اورچہلم امام حسین علیہ السلام کا ذکر ہو وہاں حتما ان دو ہستیوں یعنی جابر اور عطیہ کا ذکر ہوتا ہے۔ یہ دونوں ہستیاں اسلامی تاریخ کی معروف شخصیات میں سے ہیں۔ لیکن جو چیز انہیں دوسری شخصیات اورافراد سے ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ان کا شمار امام حسین علیہ السلام کے پہلے زائروںمیں ہوتا ہے۔

سب سے زیادہ زیر بحث

امام علی علیہ السلام کی شانِ میں چہل حدیث

مولا علیؑ کی شان میں چالیس احادیث اور یہ ﻭﻩ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ہیں ﺟﻮ ﺻﺤﺎﺡ ﺳﺘﻪ ﻣﯿﮟ بھی موجود ہے. 1= ﻋﻨﻮﺍﻥ ﺻﺤﻴﻔﺔ ﺍﻟﻤﺆﻣﻦ ﺣﺐّ ﻋﻠﻰؑ ﺑﻦ ﺍﺑﻰ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ. ﺻﺤﯿﻔﮧ ﻣﻮﻣﻦ ﮐﺎ ﻋﻨﻮﺍﻥ ﻣﺤﺒﺖِ ﻋﻠﯽؑ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻃﺎﻟﺐؑ ﮨﮯ.

دعا کی اہمیت

دعا کی اہمیت حضرت انسان کس قدر شرف و عظمت کا مالک ہے،اس کے لئے کائنات بنی،پوری کائنات میں اسی کو عزت و تکریم کا حق دار ٹھہرایا گیا۔تمام مخلوق اس کی خدمت اور منفعت کے لئے پیدا کی گئی۔لیکن اتنی عظمتوں کے باوجود اس کی خلقت کا مقصد اللہ کی معرفت اور عبادت قرار دیا گیا۔لہذا انسان کا اہم کام خدا سے ارتباط و ربط ہے۔مگر کیسا رابطہ؟ اتنی عظمتوں کے باوجود بارگاہ خداوندی میں فقر محض اور احتیاج محض ہے جبکہ ذات پروردگار غناء ہی غناء ہے۔بلندی ہی بلندی ہے۔انسان مشکلات،مصائب اور تکالیف میں ایسی ذات کی طرف رجوع کر کے اپنے فقر اور احتیاج محض ہونے کا اقرار و اعتراف کرتے ہوئے اپنی نفی اور بے ثباتی کا اظہار کرتا نظر آتا ہے۔اس سلسلے میں انسان کا ایک اہم وسیلہ دعا ہے۔دعا کے ذریعے اپنی احتیاج کا اظہار بھی کرتا ہے اوراللہ سے اعانت کی التجا بھی کرتا ہے۔

قرآنِ کریم اور اصلاحِ معاشرہ تحریر: عارف حسین تھہیم

لفظِ ’’اصلاح‘‘ درست کرنے، صحیح کرنے اور خرابی کو دُور کے معنی میں آتا ہے۔ معاشرتی اور اجتماعی مفہوم کے اعتبار سے شائستہ اور نیک عمل انجام دینے، نیز فساد و تباہی کو ختم کرنے کے لیے بھی اصلاح کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ ارشادِ پروردگار ہے: ﴿ إِلاَّ الَّذِينَ تَابُواْ وَأَصْلَحُواْ وَبَيَّنُواْ فَأُوْلَئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ﴾[1]؛ ’’سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے توبہ کی اور اپنے کئے کی اصلاح کر لی اور (جس کو چھپایا ہوا تھا) واضح کر دیا تو ایسے ہی لوگوں کی توبہ میں قبول کرتا ہوں اور بےشک میں بڑا توبہ قبول کرنے والا اور بہت مہربان ہوں۔‘‘ حقیقی توبہ میں گذشتہ بُرائی اور فساد کا دُور کرنا اور آئندہ بُرائی و فساد سے بچے رہنے کا تہیہ کرنا ضروری ہے۔ شائستہ اور صالح معاشرے کی تشکیل کا ہدف اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی دُنیوی و اُخروی اور مادی و معنوی ضرورتوں کو پورا کیا جائے؛ لہٰذا صالح معاشرے کی خصوصیات یہ ہیں کہ اس میں ہر ایک کی جان، مال، عزّت و آبرو اور ناموس محفوظ ہوتی ہے، لوگوں کی درمیان مہر و محبت اور اپنائیت کا راج ہوتا ہے اور سب لوگ روحانی و معنوی لحاظ سے پُرسکون اور مطمئن ہوتے ہیں۔

پیٹ کا درد کئی امراض کی علامت ہوسکتا ہے

اگر پیٹ میں درد ہورہا ہو تو اس کی کئی وجوہ ہوسکتی ہیں۔ اکثر ناقص غذا کی وجہ سے معدے میں تکلیف ہونے لگتی ہے جسے ہم پیٹ کے درد سے تعبیر کرتے ہیں۔ معدے کا درد کئی امراض کی علامت بھی ہوسکتا ہے، اس لیے اسے نظرانداز نہیں کرنا چاہیے اور بلاتاخیر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ بسم اللہ الرحمن الرحیم بنام خدائے رحمن و رحیم اٴَللّٰھُمَّ اِنّيِ اٴَسْاٴَ لُکَ بِرَحْمَتِکَ الَّتي وَ سِعَتْ کُلَّ شَيْءٍ،وَ بِقُوَّتِکَ الَّتي قَھَرْتَ خدایا میراسوال اس رحمت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر محیط ھے۔ اس قوت کے واسطہ سے ھے جو ھر چیز پر حاوی ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ،وَخَضَعَ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ،وَذَلَّ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ، وَبِجَبَرُوتِکَ الَّتي غَلَبْتَ اور اس کے لئے ھر شے خاضع اور متواضع ھے۔ اس جبروت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر غالب ھے اور اس عزت کے واسطہ سے ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ، وَ بِعِزَّتِکَ الَّتي لاٰ یَقُومُ لَھٰا شَيْءٌ، وَبِعَظَمَتِکَ الَّتي مَلَاٴَتْ کُلَّ جس کے مقابلہ میں کسی میں تاب مقاومت نھیں ھے۔اس عظمت کے واسطہ سے ھے جس نے ھر چیز کو پر کردیا ھے شَيْءٍ، وَ بِسُلْطٰانِکَ الَّذي عَلاٰ کُلَّ شَيْءٍ، وَبِوَجْھِکَ الْبٰاقي بَعْدَ فَنٰاءِ کُلِّ شَيْءٍ،

تلاوت قرآن کی فضیلت

'پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا، جو شخص رات کو دس آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام غافلین (جو یاد خدا سے بے بہرہ رہتے ہیں) میں نہیں لکھا جائے گا اور جو شخص پچاس آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام ذاکرین (جو خدا کو یاد کرتے ہیں، حرام و حلال کا خیال رکھتے ہیں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص سو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام قانتین (عبادت گزاروں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص دوسو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام خاشعین (جو خدا کے سامنے متواضع ہوں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص تین سو آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام سعادت مندوں میں لکھا جائے گا، جو شخص پانچ ہزار آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام عبادت اور پرستش خدا کی کوشش کرنے والوں میں لکھا جائے گا اور جو شخص ہزار آیتوں کی تلاوت کرے وہ ایسا ہے جیسے اس نے کثیر مقدار میں سونا راہ خدا میں دے دیا ہو۔،،

مقصد قیام امام حسین علیہ السلام تحریر: محمد حسن حسرت کچوروی

امام حسین ؑ ۲۸ رجب ۶۰ ھ میں مدینہ سے حرکت کرتے ہیں اور ۳ شعبان المعظم کو مکہ میں پہنچتے ہیں پھر ۸ ذی الحجہ کو مکہ سے کوفہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں ۲ محرم الحرام کو وارد کربلا ہوتے ہیں اور ۱۰ محرم الحرام کو شھید ہو جاتے ہیں اس مختصرعرصے میں انسان سو سے زیادہ درس حاصل کر سکتا ہے بلکہ کہہ سکتے ہیں کہ امام کے اس مختصر عرصےمیں ہزاروں دروس شامل ہیں لیکن یہ سارے دروس ایک اصلی درس ‘ حرکت اور قیام امام میں موجود ہیں باقی سارے حاشیے ہیں متن یہ ہے کہ امام نے قیام کیوں کیا؟ یہ اصلی درس ہے لوگ امام سے کہتے تھے آپ مدینہ اور مکہ میں محترم ہیں یمن میں اتنے سارے شیعہ ہیں کسی کونے میں تشریف لے جائیں اور یزید سے کوئی سروکار نہ رکھے تاکہ وہ بھی آپ سے کوئی سروکار نہ رکھے۔ یہ سارے مرید ہیں انہیں تبلیغ کریں عبادت کریں اور زندگی کریں۔ کاس قیام کا مقصد کیاہے ۔۔؟

تربیت اولاد کے انمول اصول تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

لغت کی کتابوں میں لفظ" تربیت" کے لیے تین اصل اور ریشہ ذکر ہوئے ہیں۔ الف:ربا،یربو زیادہ اور نشوونما پانےکے معنی میں ہے۔ ب: ربی، یربی پروان چڑھنا اور برتری کے معنی میں ہے۔ج: رب،یرب اصلاح کرنے اور سرپرستی کرنے کے معنی میں ہے۔۱صاحب مفردات کا کہنا ہے کہ "رب" مصدری معنی ٰ کے لحاظ سے کسی چیز کو حد کمال تک پہچانے ، پرورش اور پروان چڑھانے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ۲ صاحب التحقيق کا کہنا ہے اس کا اصل معنی ٰ کسی چیز کو کمال کی طرف لے جانے ، نقائص کو تخلیہ اور تحلیہ کے ذریعےرفع کرنے کے معنی ٰ میں ہے۔۳ بنابر این اگر اس کا ريشه(اصل) "ربو" سے ہو تو اضافہ کرنا، رشد ، نمو اور موجبات رشد کو فراہم کرنے کے معنی ٰ میں ہےلیکن ا گر "ربب" سے ہو تو نظارت ، سرپرستي و رهبري اور کسی چیز کو کمال تک پہنچانے کے لئے پرورش کے معنی ٰ میں ہے۔

مشاہدات

آج

770

کل

1066

اس ماہ

25426

اس سال

183772

ٹوٹل مشاہدات

353000