علماء کونسل کچورا سکردو بلتستان

متن

پاکستان کی دلکش جنت نظیر وادی کچورا

پہاڑی سلسلے چاروں طرف اور بیج میں ہم ہیں

مثال  گوہر نایاب ہم  پتھر   میں     رہتے    ہیں

تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

کے ٹو کے دامن میں واقع شہر سکردو سے ۳۵ کلو میٹر شمال میں دریائے سندھ کے بائیں کنارے پر۱۵۸۴ مربع کلو میٹر پر پھیلا ہوا وادی کچورا سطح سمندر سے ۸۵۰ سے ۱۱۰۰  فٹ بلندی پر واقع ہے۔کچورا کو یونین ہیڈ کواٹر ہونے کا شرف حاصل ہے۔کچورا جس کی آبادی تقریبا ۸۰۰۰ نفوس ۶۵۰ گھرانے ۵ موضوعات اور ۲۱ محلوں پر مشتمل ہیں ۔اپر کچورا کے محلوں کے نام  کچھ اس طرح سے ہیں:۱۔غلچو۲۔حسنین نگر پڑنگ ۳۔پوندس ۴۔شاہین آباد ۵۔علی آباد ۶۔احمد آباد۷۔غازی آباد۸۔ملونگ۹۔ہنگوپیا۱۰۔ژھوق ڈونگبر ۱۱۔ ژھوق فرول۱۲۔ستقچن۱۳۔بلچو۱۴۔گونماشغرتھنگ  ۱۵۔گمباشغرتھنگ۔اسی طرح  لوئر کچورا کے محلوں کے نام یہ ہیں:  ۱۔ مرداچو۲۔ کنڈور۳۔گلشن آباد۴۔قاسم آباد۵۔ژھوکھا ۔۶گربونگ۔

 کچورا ویلی کو قدرت نے دودھ کے مانند بہتے ہوئے ندی نالے چشمے  دو وسیع قدرتی جھیلیں،آبشاریں، دیو قامت پہاڑیں اور گرمیوں میں لہلاتے ہوئے کھیتیں عطا کی ہوئی ہیں۔یہ سب قدرت کا نہ ختم  ہونے والے انمول تحفے ہیں۔کچورا ویلی کو اسی وجہ سے زمین پر جنت سے تشبیہ دی جاتی ہے۔یہ دلفریب وادی کوہ قراقرم اور کوہ ہمالیہ کے بیچوں بیچ آباد ہے اس لحاظ سے اس ویلی کو انگوٹھی میں نگینہ کی  حیثیت سے جانے پہچانے جاتے ہیں ۔

بلتستان کے مشہورتفریحی مقامات میں سے  کچورا ویلی کو خاص مقام حاصل ہے ۔اس علاقے میں دونہایت ہی خوبصورت جھیل ، شنگریلا جھیل اور فروق ژھو جھیل موجود ہے: ۔ علاقے کی خوبصورتی سےمتاثر ہو کر اب تک پاکستان کے کئی وزیر اعظم ،پاک فوج کے اعلی افسران، نیشنل اسمبلی کےممبران اورسنیٹرز اس جنت نظیر وادی کا رخ کر چکے ہیں ۔کچورا ویلی میں درجنوں قسم کے میو ے جیسے انگور،اخروٹ ،شہتوت،خوبانی ،گیلاس،آڑو،سیب ،ناشپاتی  اور آلو بخارا  وغیرہ پائے جاتے ہیں خاص طور پر یہاں کے سیب  مشہور ترین  میووں میں  شمار ہوتا ہے۔عام طور پر سیاح کچورا ویلی میں ٹروٹ مچھلی کے شکار سے لطف اندوز ہوتے ہیں  ۔

یہاں  ہر سال کثیر تعداد میں مقامی،ملکی اور غیر ملکی سیاح قدرتی خوبصورت مناظر سے لطف اندوز ہونے کے لئے آتے ہیں۔پچھلے سال کچورا کی ہوٹلوں میں رہائش کی کمی ہونے کی وجہ سے بہت سارے مہمانوں کو سکردو واپس جانا پڑا تھا اس لیے رواں سال کچورا میں 6 ، 7 نئے ہوٹل اور گیسٹ ہاؤس تیار کئے گئے ہیں ۔ غازی ہوٹل ، لیک ویوہوٹل، نظارہ ہوٹل ، لیک گیسٹ ہوٹل ،ژھوق ویلی ہوٹل ، آبشار ہوٹل ، شالیمار ہوٹل ، ولیج گیسٹ ہاوس ، مندوق گیسٹ ہاوس ، کچورا گیسٹ ہاوس ، گرین گیسٹ ہاوس ،  پہلے سے ہی مہمانوں کے لیے خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔

کچورا میں ۶۲ برگیڈ آفیسرز میسFWOآفیسرز میسGBPWDگیسٹ ہاوس،پولیس گیسٹ ہاوس،ناردن سکاوٹس گیسٹ ہاوس،LBRD گیسٹ ہاوس پبلک کال آفس بلڈنگ اور غیر سرکاری عمارتیں مثلا شنگریلا ہوٹل اور تبت موٹل مہمانوں کی میزبانی میں ہمہ وقت سرگرم عمل نظر آتے ہیں ۔کچورا میں GBPWD کا تین ہائیڈل پاور سٹیشن برقی سکردو اور مضافاتی  علاقوں کو برقی ضروریات فراہم کرنے میں دن رات مصروف عمل ہیں ۔نالے کی دودھ کے مانند پانی تینوں ہائیڈل پاور سٹیشنوں کو چلا کر دریائے سندھ میں جا گرنا ایک عجیب سی منظر پیش کرتا ہے۔یہاں ایک بوائز ہائی سکول ، ایک گرلزمڈل سکول اور کئی پرائمری سکول موجود ہیں ۔حفظان صحت اور بیمار افراد کی خاطر ایک ڈسپنسری بھی اس علاقہ میں موجود ہے۔کچورا کا سیب بہت مشہور ہے اس لئے سرکاری  طور پر یہاں ایک فروٹ نرسری بنا ئی گئی ہے جہاں  مختلف قسم کے سیب اور دوسرے میوہ جات دستیاب  ہیں۔

کچورا مرکزی بازار اور جامع مسجد کے قریب ہی ایک عظیم عمارت معرفی فاونڈیشن کی تعاون سے    دینی تعلیم و تربیت کی غرض سےتعمیر کیا گیا ہےلیکن مالی مشکلات  کی وجہ سے یہ درسگاہ   ابھی بند پڑا ہوا ہے لیکن مقامی کمیونٹی نے اس عمارت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلامیہ نونہال پبلک سکول  کی بنیاد رکھی ہے جہاں انگلش میڈیم میں آٹھویں کلاس تک مروجہ تعلیم دی جاتی ہے۔کچورا مرکزی بازار کے قریب  ایک چھوٹی سی عمارت میں  ایک لائبریری  مکتبہ امام باقر علیہ السلام کے نام سے موجود ہے جس میں اہل مطالعہ کے لئے سینکڑوں کی تعداد میں کتابیں  موجود ہے۔

عام طور پر یہاں کے لوگوں کا بنیادی پیشہ کھیتی باڑی اور مال مویشی پالنا ہے۔اس علاقہ کے جوان اور نوجوان بنیادی تعلیم حاصل کرنے کے بعد  سکردوجاتےہیں اور پھر وہاں سے اعلی تعلیم  کی خاطر پاکستان کے مختلف  صوبوں کا رخ کرتے ہیں ۔ اس وقت اس علاقہ کے بہت سارے جوان  ملک کے مختلف یونیوسٹیوں میں اعلی تعلیم حاصل کرنے میں مصروف ہیں ۔ اس علاقے کے بیشتر جوان وطن عزیز کی سرحدوں کی پاسبان بن کر پاک فوج میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ اب تک اس علاقے سے کئی جوان کمیشن پاس کر کے پاک آرمی جوائن کر چکے ہیں۔پاک فوج کے اعلی عہدوں میں اب تک اس علاقہ سے  ایک برگیڈیر ،ایک میجر ، ایک لیفٹینٹ ،ایک آنریری لیفٹینٹ ،دو صوبیدا میجراور ۲۰سے ۳۰ افراد تک صوبیدار کے عہدوں پر فائز ہوچکے ہیں ۔اسی طرح بعض جوان پولیس میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں ۔ اس علاقے کے بزرگ و کوچک   سبھی  مذہبی ہیں  اسی لئے جمعہ و جماعات ،محافل و مجالس میں بڑے ذوق و شوق کے ساتھ شرکت کرتے ہیں۔اس علاقے میں تقریبا  ۳۰ مساجد اور ۲۲ امام بارگاہ موجود ہیں جہاں نماز ، محافل و مجالس  بڑے احترام و عقیدت کے ساتھ  انجام پاتے ہیں۔کچورا میں ایک مرکزی جامع مسجد موجود ہے جہاں نماز جمعہ وجماعت برپا ہوتی ہے ۔ اس وقت علامہ شیخ صادق نجفی بعنوان امام جمعہ و جماعت خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔  اس علاقہ کے مرکزی امام بارگاہ کا نام امام بارگاہ بوری ٹوق ہے جہاں سالانہ تین سے چار مرتبہ مجالس و محافل منعقد ہوتےہیں ۔ ماہ محرم الحرام اور اسد کے مہینے میں عزاردی امام حسین علیہ السلام اور مرکزی جلوس   میں شرکت کی خاطر دور دارز سے  بھی بہت سارے افراد اس علاقہ کا رخ کرتے ہیں ۔ 

مروجہ تعلیم سے ہٹ کر دینی تعلیم میں بھی اس علاقہ کے جوان و بزرگ کسی سے کم نہیں ہے۔ اس علاقہ کے بہت سارے جوان اسلام ناب  اور تعلیمات محمد و آل محمد{ع}   کے حصول کی خاطر پاکستان میں موجود دینی درسگاہوں  میں زیور تعلیم سے آراستہ ہورہے ہیں ۔ اس علاقہ کے بہت سارے علماء حوزہ علمیہ نجف اشرف،قم المقدسہ ،اصفہان اور مشہد مقدس میں  اعلی دینی تعلیم حاصل کرنے میں مصروف ہیں  ۔اس علاقہ کے بعض  بزرگ علماء  اعلی تعلیم سے فارغ ہو کر علاقائی اور ملکی سطح پر دینی خدمات سر انجام دے رہے ہیں ۔ حجج اسلام شیخ صادق نجفی{کچورا وسکردو }شیخ عیسی نجفی{سکردو}،شیخ حسین اعجاز{کچورا} شیخ اعجاز حسین بہشتی،{اسلام آباد} شیخ احمد حسن سروری {لاہور}سید مہدی  موسوی{فیصل آبا د }سید احمد موسوی{کوئٹہ} شیخ علی شیر انصاری {اسلام آباد}شیخ رستم   علی صابری{جھنگ}اور  دیگر علماءمختلف مقامات پر دینی فرائض انجام دے رہے ہیں ۔

اس علاقہ میں مقامی سطح پر جوانوں کی تنظیم K .Y.Oاور دیگرتنظیمیں موجود ہیں جو مختلف اہداف کی حصول کی خاطر علاقے میں قابل قدر  خدمات  سر انجام دے رہے ہیں ۔اسی  علاقہ سے علماء کرام کا بھی ایک پلیٹ فارم علماء کونسل کچورا  اور مجمع علمی فرہنگی  کچورا کے نام سے موجود ہیں  جو  علاقہ میں دینی خدمات کی خاطر سرگرم عمل ہیں  ۔اسی پلیٹ فارم کی طرف سے علاقہ کے نوجوانوں اور جوانوں کی تربیت کی  خاطر ماہ مبارک رمضان میں  اب تک  پانچ مرتبہ مراسم اعتکاف،پاک فوج اور دوسرے بے گناہ شہداء کی ایصال ثواب اور ان کی تجلیل کی خاطر کئی سیمنارمنعقد ہو چکے ہیں  ۔اب تک اسی پلیٹ فارم کی طرف سے مجلہ صراط کی چوتھی ایڈیشن اور دس سے زیادہ کتابچے  منظر عام پر آگئے ہیں ۔

علماء دوستی اور احترام علماء  میں یہ علاقہ بے نظیر ہے۔ اسی بنا پر علماء کرام اس علاقہ کے لوگوں سے ملنے کو اپنے لئے اعزاز سمجھتے ہیں۔   اس علاقہ کے عوام کو  اب تک بہت سارےنامور علماء کرام   کی میزبانی کا شرف حاصل  ہو چکا ہے۔ اس علاقہ میں تشریف لانے والے علمائے کرام میں   آیت اللہ آصف محسنی ، شہیدعلامہ عارف حسین الحسینی،شہید سیدضیاء الدین رضوی،علامہ سید ساجد علی نقوی،علامہ  راجہ ناصر عباس جعفری ، علامہ شیخ محسن علی نجفی  اور علامہ امین شہیدی قابل ذکر ہیں۔

یہ علاقہ ملکی اورغیر ملکی سطح پر  پہلے سے ہی ایک خوبصورت تفریح گاہ کےحوالے سے مشہور ہے لیکن مذہبی  اور علماء دوستی کے لحاظ سے اس وقت زبان زد  عام ہوئےجب  اس علاقہ کے نوجوانون ،جوانوں ، سرکردگان ،بزرگ،اور علماء نے اپنے میزبان عالم کو گرفتار ہونے سے بچالئے۔جب گلگت بلتستان کے سابق وزیر اعلی  کے حکم پر وحدت مسلمین کے جنرل سکریڑی علامہ راجہ ناصر عباس جعفری {جو اس وقت علاقہ کے علماء کی  دعوت پر کچورا میں عزاداری امام حسین علیہ السلام میں خطاب کرنے کے لئے  آئے ہوئے تھے    } کو پابند سلاسل یا علاقہ بدر کرنے کے لئے  جب پولیس کی بڑی تعداد نے  علاقہ کا رخ کیا  اور طاقت کے زور پر انہیں گرفتار کرنے کی کوشش کی تو اس وقت علاقہ کے نوجوانوں،جوانوں ،بزرگ،بوڑھے اور علماء کرام نے قیام کر کے اور بر وقت مومنین کو اطلاع دے   کر کے اپنے مہمان کی خوب حفاظت کی اور حکومتی  مشینری کو شکست دے کر علاقہ کا نام روشن کر دیا۔اس علاقہ کے عوام نے ظالم  حکومت کو یہ پیغام دیا کہ ہم کوفہ والوں کی طرح نہیں کہ اپنے مہمان مسلم ابن عقیل کو تنہا چھوڑ دے۔

کچورا ویلی میں سردیوں میں منفی ۱۰ سے ۲۵  تک سینٹی گریڈ گر جاتی ہے اورگرمیوں میں گرمی ۲۰ سے ۴۰ سینٹی گریڈ گرمی پڑتی ہے۔کچورا ویلی  گرمیو ںمیں جگہ جگہ سیاء{جنگلی گلاب} کھلنے کا ایک دلفریب منظر پیش کرتا ہے۔

فروق ژھو جھیل

اپر کچورا جھیل صاف پانی کی جھیل ہے جس کی گہرائی تقریباً 70 میٹر ہے، دریائے سندھ اس کے قریب ہی قدرے گہرائی میں بہتا ہے، گرمیوں میں دن کے وقت یہاں کا درجہ حرارت 10 سے 15 ڈگری سینٹی گریڈ تک ہوتا ہے جبکہ سردیوں میں درجہ حرارت نقطۂ انجماد سے بہت نیچے گر جاتا ہے جس کی وجہ سے جھیل کا پانی مکمل طور پر جم جاتا ہے۔ اپر کچورا جھیل درختوں میں گھری ایک انتہائی خوبصورت جگہ ہے۔ یہاں ہائکنگ، کوہ پیمائی، مچھلی کے شکار وغیرہ کے مواقع میسر ہیں ۔

سیاح سید مہدی بخاری اس جھیل کی خوبصورتی کو اپنےالفاظ میں یوں بیان کرتا ہے :درختوں کے بیچ گھِری اپر کچورا جھیل کے نیلگوں پانی میں پہاڑوں کے پیچھے دیر سے ابھرنے والے سورج کی پہلی پہلی کرنیں یوں آہستہ آہستہ جھیل میں اُترتی ہیں جیسے کوئی بہت مقدس پانی میں پہلے آہستہ سے اپنے پیر کی انگلیاں ڈبوئے، پھر تلوے، اور آخر میں ایڑھیاں۔ زندگی میں پہلی بار کرنوں کو پانی میں اترتا وہیں دیکھا تھا۔

 ایک اور سیاح اس  جھیل کی خوبصورتی کو اپنے الفاظ میں کچھ اس طرح سے قید کرتا ہے : کچورا کی جھیل کے اردگرد پھیلے جنگل میں رات اُتر چکی تھی۔ یہ نومبر کا آغاز تھا۔ ہوا میں سردی بھری ہوئی تھی جو جسم کو چیرتی ہوئی گزر جاتی تھی۔ زمین پاپولر کے خزاں رسیدہ پتوں سے ایسے سجی ہوئی تھی کہ نارنجی قالین کا گمان ہوتا تھا۔ پورے چاند کی رات تھی ۔چاندنی درختوں کے لمبے سائے بناتی پتوں سے چھَن چھَن کے اُتر رہی تھی۔ ہر قدم پر فضا میں چڑ چڑ کی آواز آتی جو پاؤں کے نیچے آنے والے خشک پتوں کی آخری ہچکی ہوتی۔ تیز ہوائیں اب آہستہ ہو چکی تھیں اور نیچے کچورا جھیل کا پانی کناروں سے ٹھہرا ھوا سا لگتا تھا جس میں چاند اور برف پوش چوٹیوں کا عکس گھُلتا جاتا تھا۔

شنگریلا جھیل

لوئر کچورا جھیل یا شنگریلا جھیل اصل میں شنگریلا ریسٹ ہاؤس کا حصّہ ہے، یہ سیاحوں کے لیے ایک مشہور تفریح گاہ ہے جو کہ اسکردو شہر سے بذریعہ گاڑی تقریباً 25 منٹ کی دوری پر ہے- شنگریلا ریسٹ ہاؤس کی خاص بات اس میں موجود ریسٹورنٹ ہے جو کہ ایک ایئر کرافٹ کے ڈھانچے میں بنایا گیا ہے، شنگریلا ریسٹ ہاؤس چینی طرز تعمیر کا نمونہ ہے، سیاحوں کی بڑی تعداد اس کو دیکھنے کے لیے آتی ہے۔شنگریلا جھیل کو پاکستان کی دوسری خوبصورت ترین جھیل بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس کا نظارہ کسی پر بھی سحر طاری کرسکتا ہے۔

ایک سیاح اپنے سفرنامہ میں رقمطرازہے : کچورا کے مقام پر شنگریلا کے نام سے ایک چھوٹی سی جنت آباد ہے۔ یہ حقیقتاً دنیا کی خوبصورت ترین جگہوں میں شمار ہوتی ہے ۔مجھے 2005ء میں اس جنت میں دو دن گزارنے کا موقع ملا۔ میں آج تک اس جنت کے سحر سے آزاد نہیں ہو سکا ۔ہمارے علاقے یورپ سے زیادہ خوبصورت ہیں۔ اﷲ تعالیٰ نے شمالی پاکستان کی صورت میں زمین پر جنت کا عکس اتارا ہے اور ہم میں سے جس شخص نے جاگتی آنکھوں سے یہ جنت نہیں دیکھی وہ بدنصیب انسان ہے۔

ایک اور خوش قسمت سیاح عبد الوحید طارق لکھتا ہے : شنگریلا کا اصل حسن تو قدرت کا عطا کردہ ہے لیکن اس کی اضافی تزئین و آرائش شنگریلا کی انتظامیہ نے بھی کی ہے، زیریں کچورا میں بسنے والی اس حسینہ کے لب و رخسار کو سرخی لگا کر مزید نکھار دیا گیا ہے۔ خوبصورتی اورحسن اس چھوٹی سی جنت میں چاروں طرف بکھرا ہوا تھا۔ دبیز قالینوں جیسے سبزہ زار، جن میں جا بجا سجی ہوئی قطار در قطار خوش رنگ پھولوں کی کیاریاں اور خوبصورت وضع قطع کے حامل درخت۔سونے پر سہاگہ کہ چاروں طرف پھیلے سبزہ زاروں کے بیچوں بیچ شفاف آئینے کی مانندپھیلی ہوئی طلسماتی جھیل۔جس کے تین اطراف سیاحوں کے قیام کے لئے بنائے گئے آرام دہ اور حسین کاٹیجز اور ان کے عقب میں نظر آتےبرف پوش پہاڑوں کا عکس جھیل کے آئینے میں اتر کر ٹھہرتا     نہ تھا ،ہماری نظروں سے ہوتا ہوا سیدھا دل میں گھستا اور روح میں بستا تھا۔ در حقیقت شنگریلا کی یہ جنت قدرت کے تخلیق کردہ  ایسے انمول ہیرے کی مانند ہےجس کو اس خوبصورتی اور مہارت سے تراشا گیا ہے کہ اس کی خوبصورتی اور حسن کی چمک دمک سیاح کی آنکھوں کو خیرہ کردیتی ہے اور وہ یہاں کی سیر کے دوران مناظر کی حسن میں ایسا کھو جاتا ہے کہ وقت کے گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلتا۔ یہی ہمارے ساتھ بھی ہوا ، دو گھنٹے کس طرح پر لگا کر اڑ گئے ، کچھ پتہ ہی نہ چلا۔

جاوید چوہدری مشہور کالم نگار کچورا خاص طور پر زمین پر جنت یعنی شنگریلا سے متاثر ہو کر بے اختیار لکھتا ہے ۔میری خواہش ہے میں زندگی کے آخری دن شنگریلا میں کچورا لیک کے سامنے کرسی پر بیٹھ کر گزار دوں اور میں اس عالم میں فوت ہو جاوں تو مجھے شنگریلا کے کسی گم نام قبرستان میں دفن کر دیا جائے تاکہ میری قبر سردیوں میں برف میں گم ہو جائےبہار آئے تو بادام کے نیم سفید پتے قبر کو ڈھانپ لیں گرمیوں میں انگور کی بیلیں اس پر سایہ کر دیں اور خزاں کے موسموں میں چنار کے سرخ پتے قبر کے دائیں بائیں دوڑتے رہیں چاند کی لمبی راتوں میں جب چاند کچورا لیک میں غسل کے لیے آئے تو وہ ایک لمحے کے لیے‘ ہاں صرف ایک لمحے کے لیے میری قبر پر رک جائے اور اس کے بعد جو بھی عذاب آئے  آئے اور ہوائیں جب دنیا کے بلند ترین صحرا کی ریت ساتھ لے کراڑیں تو یہ بھی چند سکینڈ کے لیے وہاں رک جائیں اور میں چند لمحوں کے لیے ہی سہی اڑتے ہوئے تیز ذروں کی سائیں سائیں محسوس کروں اور جب سردیوں کی ٹھنڈی بدمست ہوائیں آنے والے دنوں کی نمی لے کر دوڑیں یہ نمی بھی ایک پہر کے لیے قبر کی سل پر ٹھہر جائے اور میرا متروک بے جان اور بے رنگ بدن اس نمی کو محسوس کرے اور اس کے ساتھ ہی گئے زمانوں کے سارے ذائقے اپنی خوشبو کے ساتھ قبر میں زندہ ہو جائیں اور کوئی شخص، گزرتا ہوا کوئی سیاح قبر کے ساتھ بیٹھ کر کافی پیئے اور جاتے ہوئے کافی کا خالی مگ وہاں بھول جائے جس طرح میں 2006ء میں اپنا مگ ایک بے نام قبر کے سرہانے بھول آیا تھا اور یہ مگ مجھے آج بھی سات سال پیچھے لے جاتا ہے‘ ان سات سالوں میں جب میں نے زندگی میں پہلی بار کچے بادام کا ذائقہ چکھا تھا۔ کھٹے انگور کھائے تھے اور جب میں نے اپنی سرخ شرٹ کا جھنڈا بنا کر قبر کے پائوں میں گاڑھ دیا تھا۔ سیاحت،حسن اور یاد شنگریلا کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔شنگریلا میں گزرا ہوا وقت میری زندگی کے خوبصورت ترین دن تھے۔شنگریلا ائیر مارشل اصغر خان کے بھائی بریگیڈیئر اسلم نے آباد کیا تھا۔ بریگیڈیئر اسلم جمالیات حس سے مالا مال انسان تھے۔انھوں نے سکردو کے مضافات میں کچورا کے مقام پر شنگریلا کے نام سے ایک چھوٹی سی جنت آباد کی۔ یہ حقیقتاً دنیا کی خوبصورت ترین جگہوں میں شمار ہوتی ہے۔

آخر میں تمام قارئین کی خدمت میں یہی کہوں گا  کہ وہ اس خوبصورت اورجنت نظیر علاقے کی سیر و تفریح کے لئے حتما تشریف لائیں  کیونکہ جس شخص نے جاگتی آنکھوں سے یہ جنت نہیں دیکھی توگویا اس نے کچھ بھی نہیں دیکھا  ہے۔

بین الاقوامی

یمن سے شکست کا ملبہ ایران پر ڈالنے کی کوشش

سعودی عرب کو گذشتہ 4 سال سے یمن کی جانب سے بھرپور مزاحمت کا سامنا ہے۔ امریکا، اسرائیل اور متحدہ عرب امارات سمیت دیگر خلیجی ریاستوں کی مدد کے باوجود یمن سے شکست نے سعودی عرب کی جنگی صلاحیتوں کا بھانڈا پھوڑتے ہوئے اسے دنیا بھر میں رسوا کر دیا ہے۔

سعودی تیل کی تنصیبات پر حملہ / امریکی الزام پر ایران کا ردعمل

سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر خوفناک حلموں میں ایران کے ملوث ہونے کے امریکی الزام پر ایران کا موقف بھی سامنے آگیا ہے۔

امام خمینی

امام خمینی رہ کے انقلابی نظریات اور اس کے اثرات

امام خمینی علیہ الرحمہ کی شخصیت اعلم فقیہ، واصل عارف اور با بصیرت راہبر جیسی صفات کی حامل ہے، ایران کی سرزمین پر دو ہزار پانچ سو سالہ پرانی شہنشاہیت کو شکست دینے کے بعد شرق و غرب کی سپر پاورز کا سامنا کرنے والی شخصیت ہے۔

امام خمینی رح ایک مرد عارف

حضرت امام خمینی رح کے بارے میں عام طور پر جو بات ہمارے ہاں زیادہ مشہور ہے وہ یہ کہ آپ نے ایک ملوکیت اور بادشاہت کا خاتمہ کرکے ایک اسلامی اور مذہبی حکومت قائم کی۔ لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ استعماری طاقتوں کے خلاف تھے اور استعماری طاقتوں نے آپ کی حکومت کے خاتمے کے لیے اپنے پورے وسائل بروئے کار لائے لیکن وہ اس میں ناکام ہو گئیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ امام خمینی رح بہت شجاع اور بہادر تھے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ آپ نے ناجائز طور پر قائم صہیونی حکومت کے خاتمے اور فلسطینیوں کے حقوق کے حصول کے لیے بھی آواز بلند کی۔ آپ مستضعفوں اور محروموں کے حقوق کے بھی علمبردار تھے۔ آپ نے اتحاد امت کے لیے ایک زور دار آواز بلند کی۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ ایک عالم اور فقیہ تھے اور آپ کی تقلید کی جاتی تھی۔ بعدازاں آپ کا دیوان بھی چھپا اور پاکستان میں بھی بہت سے لوگوں کو معلوم ہوا کہ آپ صاحب دیوان شاعر بھی تھے، لیکن ابھی تک جو پہلو کم شناختہ یا ناشناختہ ہے وہ یہ ہے کہ آپ ایک بلند پایہ عارف تھے اور شاید یہ کہنا زیادہ بہتر ہو کہ آپ کے وجود سے پھوٹنے والی تمام تر خوبیوں کا سرچشمہ یہی امر ہے کہ آپ ایک عارف باللہ اور عاشق الٰہی تھے اور اس سلسلے میں نظری اور عملی طور پر نہایت عمق اور گہرائی کے مقام پر فائز تھے۔

امام خامنہ ای

مسئلہ فلسطین امت مسلمہ کے اساسی اور بنیادی مسائل میں سے ایک ہے، امام خامنہ ای

مسئلہ فلسطین امت مسلمہ کے اساسی اور بنیادی مسائل میں سے ایک ہے، امام خامنہ ای رہبر انقلاب اسلامی امام خامنہ ای نے حجاج کرام کے نام اپنے سالانہ پیغام میں فلسطین کے مسئلے کو دنیا کا اہم ترین مسئلہ قرار دیا ہے۔

ایران بحری جہاز پر برطانوی حملے کا سخت جواب دے گا، امام خامنہ ای

ایران بحری جہاز پر برطانوی حملے کا سخت جواب دے گا، امام خامنہ ای امام خامنہ ای نے آئمہ جعمہ اور جماعات کے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ایران بحری جہاز پر برطانوی حملے کا سخت جواب دے گا۔

کلام و عقائد

بدا قرآن و حدیث کی روشنی میں

ذات الٰہی کے بارے میں بدا، حقیقت میں ابدا و اظہار ہے۔ یعنی جو کچھ خدا کے علم میں ہے اور انسان کے علم میں نہیں، اسےخداوند متعال اظہار و آشکار کرتا ہے۔ اسے بدا، کہنے کا سبب یہ ہے کہ یہ مقام فعل الٰہی میں نمایاں ہوتا ہے، اگرچہ ذات الٰہی میں جہل اور تغییر محال ہیں۔ خداوند متعال انبیاء کرام پر غیبی طریقے سے نظر رکھتا ہے تاکہ یہ لوگ وحی کے پہنچانے میں خطا سے محفوظ رہیں۔ قرآن کریم اس بارے میں ارشاد فرماتا ہے، "لِّيَعْلَمَ أَن قَدْ أَبْلَغُواْ رِسَالَاتِ رَبهِّم" تاکہ وہ دیکھ لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات کو پہنچا دیا ہے۔ واضح ہے کہ خداوند متعال پہلے سے ہی آگاہ ہے کہ انبیاء، وحی الٰہی کو صحیح طریقے سے لوگوں تک پہنچائیں گے۔

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی علم کلام کےاہم مباحث میں سے ایک حسن و قبح عقلی کا بحث ہے ۔اس سے مراد یہ ہے کہ کچھ افعال ذاتی طور پر حسن {اچھے} اور کچھ افعال ذاتی طور پر قبیح{ برے} ہیں ۔ معتزلہ اور امامیہ حسن و قبح عقلی کے قائل ہیں جبکہ اشاعرہ اس کی نفی کرتے ہیں۔ بہت سے کلامی مسائل اس بحث پر موقوف ہیں مثلا انسان کا اپنے اعمال میں خود مختار ہونا،خدا وند متعال کی بعض صفات کمالیہ کا ثبوت جیسے خدا کا عادل ہونا،اسی طرح بعض صفات سلبیہ بھی اسی بحث پر موقوف ہے جیسے خدا سے قبیح کا سرزد نہ ہونا،خداکا ظلم نہ کرنا وغیرہ ۔ جو لوگ حسن اور قبح کے قائل ہیں وہ انسانی افعال میں انسان کو مختار،خدا کو عادل مانتے ہیں جبکہ حسن و قبح کے مخالفین انسان کو مجبور اور خداکی عدالت سے انکار کرتے ہیں ۔

تربیت اولاد

خاندانی منصوبہ بندی : ایک معاشرتی ضرورت یا دھوکہ!

خاندانی منصوبہ بندی کوآج کے دور میں مختلف مملک کی حکومتیں اپنی کامیاب ترین پالیسیوں میں شمار کرتی ہیں۔ آبادی کا کنٹرول اور چھوٹا خاندان خوشحالی کا ذریعہ سمجھاجاتا ہے۔ خصوصاً محدود وسائل رکھنے والے ممالک میں اس پالیسی کو زیادہ اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے

تعليم و تربيت کے بارے ميں اسلامي علما کي آرا و نظريات

تاريخ اسلام ميں تقريبا تمام علماء و دانشور مختلف علوم ميں مھارت رکھنے کے ساتھ ساتھ تعليم و تربيت ميں بھي صاحب نظر اور مھارت کے حامل ہوا کرتے تھے اس سے اسلام ميں تعليم وتربيت کي اھميت کا پتہ چلتا ہے لھذا ہم يہاں پر علما اسلام کي نظر ميں تعليم و تربيت کي اھميت اجاگر کرنے کے لئے ان کے بعض نظريات پيش کر رہے ہيں۔

تندرستی

گوشت نہیں کھائیں گے تو... کند ذہن ہوجائیں گے!

گوشت نہیں کھائیں گے تو... کند ذہن ہوجائیں گے!

سوڈا ڈرنک پینے والوں کو ناگہانی موت کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے، رپورٹ

دس یورپی ممالک میں 451,000 افراد پر بیس سال تک کی گئی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ روزانہ کولڈ ڈرنک پینے والوں کی زندگی کم ہوجاتی ہے اور ان کےلیے ناگہانی موت کا خطرہ، کبھی کبھار کولڈ ڈرنک پینے والوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہو جاتا ہے۔

مہدویت{امام زمان عج}

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی امامت کے اہداف میں سے ایک ہدف امام معصوم کا لوگوں کی باطنی ہدایت ہے۔ امام لائق اور پاکیزہ دل رکھنے والے افراد کو اپنی طرف جذب کر کے انہیں کمال تک پہنچاتے ہیں۔ واضح ہے کہ انسان کا اس طرح ہدایت سے ہمکنار ہونے کے لئے ضروری نہیں کہ وہ امام کے ساتھ ظاہری رابطہ برقرار کرے۔ گذشتہ بیانات کی روشنی میں امام زمانہ (عج) کو بادل کے پیچھے پنہان روشن آفتاب سے تشبیہ دینے کا مقصد بھی واضح ہو جاتا ہے۔ اگرچہ بادل کے پیچھے پنہان سورج سے انسان مکمل طور بہرہ مند نہیں ہوتا ہے لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ اس سے انسان کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا ہے۔ بہرحال امام زمانہ (عج) کے وجود کے آثار و برکات سے بہرہ مند نہ ہونے کا سبب انسانوں کی طرف سے خاص حالات کا فراہم نہ کرنا ہے، جس کی وجہ سے لوگ اس عظیم نعمت کے فوائد سے محروم ہیں اور اس محرومیت کا سبب وہ خود ہیں نہ کہ خداوند متعال اور امام، کیونکہ خداوند متعال اور امام کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی مشکل درپیش نہیں ہے۔

دیگر مناسبتیں

آفتاب کربلا جناب حضرت علی اکبر علیہ السلام

کربلا کے میدان میں ایک جوان ایسا بھی تھا جو سیرت و صورت اورگفتار و کردار میں شبیہ پیغمبر تھے۔دیکھنے والا دنگ رہ جاتا تھا کہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے ہیں۔انہوں نے اس کائنات میں ایسی قربانی پیش کی کہ تمام دنیا دھنگ رہ گئی۔آپ ایسے باپ کے فرزند تھے جس پر رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ناز تھا ،جس کے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری بن گئے۔اس عظیم باپ کا فرزند تھا جس نے دنیا والوں کو جینا سکھایا اورباطل قوتوں کے سامنے قیام کر نا سکھایا۔

حدیث غدیر، حدیث متواتر

متواتر لفظی: وہ حدیث یا خبر جس کے تمام روایوں نے، تمام طبقات میں، اس حدیث یا خبر کے مضمون کو ہو بہو اور یکسان طور پر نقل کیا ہو۔ جیسے حدیث ثقلین کی عبارت، (انّي تارك فيكم الثقلين ۔۔) یا حدیث غدیر کی عبارت (من كنت مولاه فهذا عليّ مولاه)۔

چہاردہ معصومین ع

امام سجاد علیہ السلام

امام علیہ السلام نے کربلا سے کوفہ، کوفہ سے شام اور زندان سے رہائی تک ہر موقع پر اپنے خطبوں کے ذریعے جہاں قیام حسینی علیہ السلام کے اصولوں اور فلسفے سے لوگوں کو آگاہ فرمایا وہیں اسلام کا نام استعمال کرتے ہوئے اسلام کی دھجیاں اڑانے کی کوشش کرنے والی ناپاک حکومت کا مکروہ چہرہ بھی بےنقاب فرمایا۔

معاویہ و یزید کے دور حکومت میں امام حسین (ع) کا کردار

معاویہ کو ہر وقت آپ کے قیام کا خوف رہتا تھا۔ چنانچہ اس نے امام کے سامنے قبض و بسط کی پالیسی اپنائی یعنی ایک طرف سے آپ کی منزلت کو مدنظر رکھتا تھا اور بظاہر آپ کے لئے احترام کا قائل تھا اور آپ کی تعظیم کرتا تھا اور اپنے کارگزاروں کو بھی ہدایت کرتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرزند کو نہ چھیڑیں اور ان کی بےحرمتی سے پرہیز کریں۔ دوسری طرف سے امام کی مسلسل اور شب و روز نگرانی کو اپنی پالیسی کا حصہ بنایا اور سفر اور حضر میں آپ کی تمام حرکات و سکنات پر کڑی نظر رکھی جاتی تھی۔

دیگر موضوعات

الغدیر فی الکتاب و السنۃ و الادب

الغدیر فی الکتاب و السنة و الادب، جو الغدیر کے نام سے معروف ہے عربی زبان میں لکھی گئی ایک ایسی کتاب ہے جسےعلامہ عبد الحسین امینیؒ نےحدیث غدیر کی روشنی میں امام علی علیہ السلام کی امامت و خلافت بلا فصل کی اثبات کے لئے تحریر کیا ہے۔یہ کتاب اب تک 11 جلدوں میں مرتب ہوئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کتاب کی کل 20 جلدیں ہیں۔ لیکن آخری 9 جلدیں ابھی تک طبع نہیں ہوئی ہیں۔ علامہ امینی اس کتاب کو لکھنے کی خاطر مختلف ممالک کی لائبریریوں کا سفر کیا ہے۔ جن میں ہندوستان، مصر اور شام وغیرہ کی لائبریریاں شامل ہیں۔الغدیر کے مؤلف کے مطابق اس کتاب کی تالیف میں انہوں نے ایک لاکھ سے زائد کتابوں کی طرف مراجعہ اور دس ہزار سے زیادہ کتابوں کا مطالعہ کیا ہے۔انہیں یہ کتاب لکھنے میں ۴۰ سال سے زیادہ کا عرصہ لگا ہے۔الغدیر کے بارے میں کئی کتابیں اور تھیسز لکھے گئے ہیں۔ اسی طرح الغدیر میں پیش کیے گئے موضوعات کو 27 جلدوں پر مشتمل مجموعے کی صورت میں بھی منظر عام پر لایا گیا ہے۔

قربانی کی تاریخ اور اسکا فلسفہ

دین مقدس اسلام میں قربانی ایک مالی عبادت ہے، جو شعائر اسلام میں بھی شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں اس کی بڑی فضیلت ہے۔ شعائر اللہ کو دلوں کا تقوا قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں ارشاد ہوا ہے: "وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ" (سورہ حج:۳۲) بات یہ ہے کہ جو شعائر اللہ کا احترام کرتا ہے تو یہ دلوں کا تقویٰ ہے۔ دین اسلام میں اس کے علاوہ اور بھی مالی عبادات ہیں۔ لیکن ان عبادات کے مقابلے میں قربانی کچھ مخصوص خصوصیات کی حامل ہے۔ انہی خصوصیات کی وجہ سے عبادات کے درمیان قربانی کا الگ مقام ہے۔

سب سے زیادہ زیر بحث

امام علی علیہ السلام کی شانِ میں چہل حدیث

مولا علیؑ کی شان میں چالیس احادیث اور یہ ﻭﻩ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ہیں ﺟﻮ ﺻﺤﺎﺡ ﺳﺘﻪ ﻣﯿﮟ بھی موجود ہے. 1= ﻋﻨﻮﺍﻥ ﺻﺤﻴﻔﺔ ﺍﻟﻤﺆﻣﻦ ﺣﺐّ ﻋﻠﻰؑ ﺑﻦ ﺍﺑﻰ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ. ﺻﺤﯿﻔﮧ ﻣﻮﻣﻦ ﮐﺎ ﻋﻨﻮﺍﻥ ﻣﺤﺒﺖِ ﻋﻠﯽؑ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻃﺎﻟﺐؑ ﮨﮯ.

دعا کی اہمیت

دعا کی اہمیت حضرت انسان کس قدر شرف و عظمت کا مالک ہے،اس کے لئے کائنات بنی،پوری کائنات میں اسی کو عزت و تکریم کا حق دار ٹھہرایا گیا۔تمام مخلوق اس کی خدمت اور منفعت کے لئے پیدا کی گئی۔لیکن اتنی عظمتوں کے باوجود اس کی خلقت کا مقصد اللہ کی معرفت اور عبادت قرار دیا گیا۔لہذا انسان کا اہم کام خدا سے ارتباط و ربط ہے۔مگر کیسا رابطہ؟ اتنی عظمتوں کے باوجود بارگاہ خداوندی میں فقر محض اور احتیاج محض ہے جبکہ ذات پروردگار غناء ہی غناء ہے۔بلندی ہی بلندی ہے۔انسان مشکلات،مصائب اور تکالیف میں ایسی ذات کی طرف رجوع کر کے اپنے فقر اور احتیاج محض ہونے کا اقرار و اعتراف کرتے ہوئے اپنی نفی اور بے ثباتی کا اظہار کرتا نظر آتا ہے۔اس سلسلے میں انسان کا ایک اہم وسیلہ دعا ہے۔دعا کے ذریعے اپنی احتیاج کا اظہار بھی کرتا ہے اوراللہ سے اعانت کی التجا بھی کرتا ہے۔

قرآنِ کریم اور اصلاحِ معاشرہ تحریر: عارف حسین تھہیم

لفظِ ’’اصلاح‘‘ درست کرنے، صحیح کرنے اور خرابی کو دُور کے معنی میں آتا ہے۔ معاشرتی اور اجتماعی مفہوم کے اعتبار سے شائستہ اور نیک عمل انجام دینے، نیز فساد و تباہی کو ختم کرنے کے لیے بھی اصلاح کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ ارشادِ پروردگار ہے: ﴿ إِلاَّ الَّذِينَ تَابُواْ وَأَصْلَحُواْ وَبَيَّنُواْ فَأُوْلَئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ﴾[1]؛ ’’سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے توبہ کی اور اپنے کئے کی اصلاح کر لی اور (جس کو چھپایا ہوا تھا) واضح کر دیا تو ایسے ہی لوگوں کی توبہ میں قبول کرتا ہوں اور بےشک میں بڑا توبہ قبول کرنے والا اور بہت مہربان ہوں۔‘‘ حقیقی توبہ میں گذشتہ بُرائی اور فساد کا دُور کرنا اور آئندہ بُرائی و فساد سے بچے رہنے کا تہیہ کرنا ضروری ہے۔ شائستہ اور صالح معاشرے کی تشکیل کا ہدف اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی دُنیوی و اُخروی اور مادی و معنوی ضرورتوں کو پورا کیا جائے؛ لہٰذا صالح معاشرے کی خصوصیات یہ ہیں کہ اس میں ہر ایک کی جان، مال، عزّت و آبرو اور ناموس محفوظ ہوتی ہے، لوگوں کی درمیان مہر و محبت اور اپنائیت کا راج ہوتا ہے اور سب لوگ روحانی و معنوی لحاظ سے پُرسکون اور مطمئن ہوتے ہیں۔

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ بسم اللہ الرحمن الرحیم بنام خدائے رحمن و رحیم اٴَللّٰھُمَّ اِنّيِ اٴَسْاٴَ لُکَ بِرَحْمَتِکَ الَّتي وَ سِعَتْ کُلَّ شَيْءٍ،وَ بِقُوَّتِکَ الَّتي قَھَرْتَ خدایا میراسوال اس رحمت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر محیط ھے۔ اس قوت کے واسطہ سے ھے جو ھر چیز پر حاوی ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ،وَخَضَعَ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ،وَذَلَّ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ، وَبِجَبَرُوتِکَ الَّتي غَلَبْتَ اور اس کے لئے ھر شے خاضع اور متواضع ھے۔ اس جبروت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر غالب ھے اور اس عزت کے واسطہ سے ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ، وَ بِعِزَّتِکَ الَّتي لاٰ یَقُومُ لَھٰا شَيْءٌ، وَبِعَظَمَتِکَ الَّتي مَلَاٴَتْ کُلَّ جس کے مقابلہ میں کسی میں تاب مقاومت نھیں ھے۔اس عظمت کے واسطہ سے ھے جس نے ھر چیز کو پر کردیا ھے شَيْءٍ، وَ بِسُلْطٰانِکَ الَّذي عَلاٰ کُلَّ شَيْءٍ، وَبِوَجْھِکَ الْبٰاقي بَعْدَ فَنٰاءِ کُلِّ شَيْءٍ،

تلاوت قرآن کی فضیلت

'پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا، جو شخص رات کو دس آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام غافلین (جو یاد خدا سے بے بہرہ رہتے ہیں) میں نہیں لکھا جائے گا اور جو شخص پچاس آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام ذاکرین (جو خدا کو یاد کرتے ہیں، حرام و حلال کا خیال رکھتے ہیں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص سو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام قانتین (عبادت گزاروں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص دوسو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام خاشعین (جو خدا کے سامنے متواضع ہوں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص تین سو آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام سعادت مندوں میں لکھا جائے گا، جو شخص پانچ ہزار آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام عبادت اور پرستش خدا کی کوشش کرنے والوں میں لکھا جائے گا اور جو شخص ہزار آیتوں کی تلاوت کرے وہ ایسا ہے جیسے اس نے کثیر مقدار میں سونا راہ خدا میں دے دیا ہو۔،،

تربیت اولاد کے انمول اصول تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

لغت کی کتابوں میں لفظ" تربیت" کے لیے تین اصل اور ریشہ ذکر ہوئے ہیں۔ الف:ربا،یربو زیادہ اور نشوونما پانےکے معنی میں ہے۔ ب: ربی، یربی پروان چڑھنا اور برتری کے معنی میں ہے۔ج: رب،یرب اصلاح کرنے اور سرپرستی کرنے کے معنی میں ہے۔۱صاحب مفردات کا کہنا ہے کہ "رب" مصدری معنی ٰ کے لحاظ سے کسی چیز کو حد کمال تک پہچانے ، پرورش اور پروان چڑھانے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ۲ صاحب التحقيق کا کہنا ہے اس کا اصل معنی ٰ کسی چیز کو کمال کی طرف لے جانے ، نقائص کو تخلیہ اور تحلیہ کے ذریعےرفع کرنے کے معنی ٰ میں ہے۔۳ بنابر این اگر اس کا ريشه(اصل) "ربو" سے ہو تو اضافہ کرنا، رشد ، نمو اور موجبات رشد کو فراہم کرنے کے معنی ٰ میں ہےلیکن ا گر "ربب" سے ہو تو نظارت ، سرپرستي و رهبري اور کسی چیز کو کمال تک پہنچانے کے لئے پرورش کے معنی ٰ میں ہے۔

پیٹ کا درد کئی امراض کی علامت ہوسکتا ہے

اگر پیٹ میں درد ہورہا ہو تو اس کی کئی وجوہ ہوسکتی ہیں۔ اکثر ناقص غذا کی وجہ سے معدے میں تکلیف ہونے لگتی ہے جسے ہم پیٹ کے درد سے تعبیر کرتے ہیں۔ معدے کا درد کئی امراض کی علامت بھی ہوسکتا ہے، اس لیے اسے نظرانداز نہیں کرنا چاہیے اور بلاتاخیر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

مقصد قیام امام حسین علیہ السلام تحریر: محمد حسن حسرت کچوروی

امام حسین ؑ ۲۸ رجب ۶۰ ھ میں مدینہ سے حرکت کرتے ہیں اور ۳ شعبان المعظم کو مکہ میں پہنچتے ہیں پھر ۸ ذی الحجہ کو مکہ سے کوفہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں ۲ محرم الحرام کو وارد کربلا ہوتے ہیں اور ۱۰ محرم الحرام کو شھید ہو جاتے ہیں اس مختصرعرصے میں انسان سو سے زیادہ درس حاصل کر سکتا ہے بلکہ کہہ سکتے ہیں کہ امام کے اس مختصر عرصےمیں ہزاروں دروس شامل ہیں لیکن یہ سارے دروس ایک اصلی درس ‘ حرکت اور قیام امام میں موجود ہیں باقی سارے حاشیے ہیں متن یہ ہے کہ امام نے قیام کیوں کیا؟ یہ اصلی درس ہے لوگ امام سے کہتے تھے آپ مدینہ اور مکہ میں محترم ہیں یمن میں اتنے سارے شیعہ ہیں کسی کونے میں تشریف لے جائیں اور یزید سے کوئی سروکار نہ رکھے تاکہ وہ بھی آپ سے کوئی سروکار نہ رکھے۔ یہ سارے مرید ہیں انہیں تبلیغ کریں عبادت کریں اور زندگی کریں۔ کاس قیام کا مقصد کیاہے ۔۔؟

مشاہدات

آج

291

کل

612

اس ماہ

28894

اس سال

157322

ٹوٹل مشاہدات

326550