علماء کونسل کچورا سکردو بلتستان

متن

اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے منگل کے روز ایرانی نظام حکومت کے عہدیداروں اور حکومتی اہلکاروں کے ساتھ اپنے خطاب کے دوران "خوف خدا" اپنانے کی ضرورت، خاص طور پر عوامی مسائل کے حوالے سے، بیت المال کا خاص خیال رکھنے اور اشرافیت سے اجتناب کرنے پر تاکید کرتے ہوئے اقتصادی مسائل کے حل اور ملکی پیداوار کے بڑھانے سے متعلق، مملکت کے تینوں ستونوں (حکومت، عدلیہ اور فوج) کی بنیادی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی۔
 
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے ایران کے "حکومتی اہلکاروں کے حساب کتاب میں تبدیلی اور انہیں اپنے سامنے جھکانے" اور "عوام کو حکومتی نظام سے دور کرنے" کیلئے اٹھائے گئے مذموم امریکی اقدامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دشمن کے مقابلے میں ایرانی قوم کا تمامتر میدانوں میں حتمی انتخاب  "مزاحمت" ہے کیونکہ موجودہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں بیٹھنا زہرِقاتل ہے جبکہ جنگ نہیں ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ جنگ، ارادوں کی جنگ ہے جبکہ ایرانی قوم اور اسلامی نظام کا ارادہ، دشمن کے ارادے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے لہذا خدا کے فضل سے اس مرتبہ بھی ہم ہی جیتیں گے۔
 
آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے جوان نسل پر اعتماد اور ان کے جذبے کی حفاظت پر تاکید کرتے ہوئے "اپنے ہدف کے عین اوپر لگنے والے" ایرانی بیلسٹک اور 2000 کلومیٹر رینج تک کے کروز میزائلوں کی قابل تحسین صنعت کو ایماندار، متحرک اور انتھک جوانوں پر اعتماد کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے جب یورینیم کی 20 فیصد افزودگی اور ملکی جوہری طبی ضروریات کو پورا کرنے کی ذمہ داری جوانوں کے سپرد کی تو انہوں نے بہت سے لوگوں کی بےیقینی کی کیفیت کے باوجود کام مکمل کر کے دکھایا۔
 
انہوں نے ملکی حالات کو درست کرنے کی خاطر بیرونی طاقتوں پر نظریں جما کر بیٹھ جانے کے عمل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ غیروں پر امید لگا کر بیٹھ جانے سے ملک کو دھچکا لگتا ہے جس کا ایک نمونہ ہمارے ملک کو جوہری معاہدے (JCPOA) کے حوالے سے یورپی ممالک سے توقعات وابستہ کرنے کی وجہ سے لگا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یورپی ممالک سے کوئی دشمنی نہیں لیکن انہوں نے آج تک اپنے کسی وعدے پر عمل نہیں کیا اور آئندہ بھی نہیں کریں گے جبکہ وہ ہمیشہ وعدوں پر عمل کرنے کے دعوے کرتے رہیں گے اور کہتے رہیں گے کہ ہم جوہری معاہدے (JCPOA) کے پابند ہیں۔
 
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے موجودہ صورتحال میں پہلے سے طے شدہ امریکی منصوبے کے بارے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی تمامتر کوششیں اس مقصد کے لئے صرف کر دی ہیں کہ شدید اقتصادی دباؤ کے ذریعے سب سے پہلے تو ہمارے حکومتی عہدیداروں کے حساب کتاب یوں بدلیں کہ وہ خود بخود شکست قبول کر لیں اور دوسرے یہ کہ عوام کو (اسلامی جمہوری) نظام کے مقابلے پر لے آئیں۔ انہوں نے امریکی حساب کتاب کو گزشتہ 40 سالوں کی طرح غلط قرار دیتے ہوئے، جو انہیں کسی نتیجے پر نہیں پہنچا سکتا، کہا کہ امریکی اس مرتبہ بھی شکست کھائیں گے جبکہ اس بات میں کسی قسم کے شک کی گنجائش نہیں۔ انہوں نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حکومتی عہدیدار اسلامی جمہوریہ (ایران) کے ساتھ اپنے بغض اور کینے کی وجہ سے اندھے ہو چکے ہیں لہذا وہ حالات کا درست اندازہ نہیں لگا سکتے۔
 
ولی امر مسلمین امام خامنہ ای نے امریکی حکومت کے ایران اور اسلامی مزاحمتی تحریکوں کے ساتھ کئے گئے برتاؤ کی بہت سے امریکی ماہرین کی طرف سے مخالفت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ امریکی حکومتی عہدیدار بہت سے مسائل اور خصوصا اسلامی جمہوریہ (ایران) کے بارے واقعا کچھ نہیں جانتے۔ انہوں نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ امریکہ کی ظاہری ہیبت، گیدڑ بھبکیوں اور شورشرابے سے مبادا کوئی ڈرے، کہا کہ بڑی طاقتیں اپنے منصوبوں کو معمولا دھمکیوں اور شورشرابے کے ساتھ عملی جامہ پہناتی ہیں جبکہ ان دھمکیوں کے سامنے اپنے موقف سے ذرا سا بھی ہٹنا ایک غلطی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے علاوہ خطے میں موجود قارونوں کی اندھی دولت سے نہیں ڈرنا چاہئے کیونکہ وہ کوئی غلطی کرنے کے قابل نہیں!
 
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے کہا کہ امریکہ ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی سے قبل 1978ء میں اب سے کہیں زیادہ طاقتور تھا جبکہ اُس زمانے کا امریکی صدر کارٹر بھی موجودہ امریکی صدر کے مقابلے میں زیادہ عقلمند اور زیادہ طاقتور تھا اور (شاہِ ایران) محمد رضا بھی ان کی طرف سے تمام ملکی امور پر مسلط کیا گیا تھا اور مکمل طور پر ان کے تابع تھا لیکن تب بھی ایرانی قوم نے خالی ہاتھوں امریکہ کو شکست دی جبکہ آج کے انقلابی جوان 1978ء کے انقلابی جوانوں سے کسی طور کم نہیں اور اِن جوانوں کی سوچ اُس دور کے انقلابی جوانوں سے کہیں زیادہ گہری ہے۔ انہوں نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ امریکہ کی دشمنی میں اضافہ نہیں ہوا بلکہ وہ زیادہ آشکار ہوئی ہے کہا کہ ہمیں یہ جان لینا چاہئے کہ جو گرجتا ہے برستا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ امریکی حکومت اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ پہلے سے بھی زیادہ آشکار دشمنی کے علاوہ کسی بھی امریکی حکومت سے بڑھ کر اسرائیل کی خدمت میں جٹی ہوئی ہے یعنی آج امریکہ کی زیادہ تر سیاست صیہونیوں کے ہاتھوں میں ہے۔
 
آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے امریکی صدر سمیت دوسرے حکومتی اہلکاروں کے اس بیان کا جواب دیتے ہوئے کہ امریکی سیاست کی وجہ سے ایران میں تبدیلی آئی ہے، کہا کہ جی ہاں! ایران میں تبدیلی آئی ہے اور وہ یہ کہ یہاں کی عوام کی امریکہ سے نفرت میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کے مفاد کا دشمن کی دسترسی سے باہر نکل جانے، جوانوں کے ہمت و حوصلے اور ملکی سلامتی کی طاقت میں اضافے کو اس عرصے میں آنے والی دوسری تبدیلیاں قرار دیتے ہوئے اس بات پر تاکید کی کہ امریکیوں کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف حقائق سے بہت دور ہیں بلکہ ان کا حساب کتاب بھی غلط ہے۔
 
انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کے بارے ان امریکی بیانات کو ان کی حد درجے کی بیوقوفی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کا صدر کہتا ہے کہ جب سے میں (حکومت میں) آیا ہوں ہر جمعے کو ایران میں حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوتے ہیں، اس شخص کو کوئی بتائے کہ اولا یہ کہ ہر جمعے کو نہیں بلکہ ہر ہفتے کو اور ثانیا یہ کہ تہران میں نہیں بلکہ پیرس میں! انہوں نے امریکہ کی بڑی اندرونی اجتماعی و اقتصادی مشکلات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ نکات عام طور پر توجہ میں نہیں آتے لیکن امریکہ کے اجتماعی مسائل اور وہاں کی حکومت کے درمیان پایا جانے والا تضاد اور ہرج و مرج کی کیفیت ایک ایسی حقیقت ہے جو دشمن کی اندرونی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے۔
 
انہوں نے امریکی حکومتی اعداد و شمار، جن کے مطابق امریکہ میں 4 کروڑ 10 لاکھ سے زائد افراد بھوک کا شکار ہیں، وہاں پیدا ہونے والے 40 فیصد بچے ناجائز ہیں، وہاں کی جیلوں میں 22 لاکھ سے زائد قیدی ہیں (جو آبادی کے تناسب کے لحاظ سے دنیا کی سب سے زیادہ تعداد ہے)، وہاں دنیا کی سب سے زیادہ منشیات استعمال کی جاتی ہے اور دنیا میں ہونے والے فائرنگ کے واقعات کا 31 فیصد وہاں وقوع پذیر ہوتا ہے، کو امریکہ کی حقیقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ مبادا کوئی امریکہ کو بہت عظیم، پرہیبت اور خطرناک ظاہر کرے البتہ دشمن کی دشمنی سے غفلت بھی نہیں برتنا چاہئے لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج امریکہ اس جیسی بےشمار مشکلات میں گرفتار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان اندرونی مشکلات کے علاوہ امریکہ کی غلط سیاست، سیاسی اور سلامتی کے میدانوں میں بھی اس کے لئے نقصان کا سبب رہی ہے جبکہ نہ صرف یہ کہ اس خطے میں یورپ اور بعض علاقائی طاقتوں نے اُسے مزید مشکلات سے دچار کر دیا ہے بلکہ خطے میں ان کا 7 بلین ڈالرز کا بجٹ بھی حسب سابق جاری اور بلانتیجہ ہے گو کہ ان کا ہاتھ سعودی عرب کی جیب میں ہے۔
 
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے بعض امریکی ماہرین کے اس انتباہ کہ اسلامی جمہوریہ ایران پر حد سے زیادہ امریکی دباؤ ایران کے معاشی طور پر مضبوط ہونے کا سبب بنے گا، کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایرانی قوم اور اسلامی نظام کے روزافزوں استحکام کے مقابلے میں حتمی طور پر شکست سے دچار ہو گا۔ انہوں نے بعض لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جو کہتے ہیں کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں حرج ہی کیا ہے! کہا کہ بقول حضرت امام خمینیؒ کہ جب تک امریکہ انسان نہیں بن جاتا، اس کے ساتھ مذاکرات کرنا زہرقاتل ہے؛ اس موجودہ حکومت کے ساتھ مذاکرات میں بیٹھنا زہرقاتل سے بھی بڑھ کر ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا حقیقی معنی معاملہ کرنا ہے جس میں کچھ دیا اور کچھ لیا جاتا ہے جبکہ وہ اس معاملے میں ایران کی قوت چھین لینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ کہتے ہیں کہ ایرانی میزائلوں کے بارے میں مذاکرات کریں۔ ان کی اس بات کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے میزائلوں کی رینج اور ایکوریسی کو کم کریں تاکہ اگر کسی دن ہم نے آپ کو نشانہ بنایا تو آپ ہمیں جواب دینے کے قابل نہ ہوں البتہ یہ بھی ظاہر ہے کہ ایران کے اندر کوئی اس بات کو قبول کرنے کو تیار نہیں لہذا (بین الاقوامی سطح پر) شور شرابہ تو ہوتا رہے گا۔
 
انہوں نے کہا کہ سیاست و سلامتی کے لحاظ سے ہر ملک کے لئے اس کی سٹریٹجک گہرائی (Strategic Depth) اس کی زندگی و موت کا مسئلہ ہوتا ہے اسی طرح خطے میں ہماری سٹریٹجک گہرائی بھی ہمارے لئے انتہائی اہم ہے جبکہ وہ اس مسئلے سے پریشان ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہم اپنی بہترین سٹریٹجک ڈیپتھ پر ان کے ساتھ معاملہ کر لیں! کیا یہ بات کوئی قبول کرے گا؟ انہوں نے کہا کہ بنابرایں ان موضوعات پر تو کسی باشعور فریق کے ساتھ بھی مذاکرات کرنا غلط ہے چہ جائیکہ امریکہ! ان (امریکیوں) کے ساتھ مذاکرات کرنا جو اخلاق، قانون اور بین الاقوامی قول و قرار جیسی کسی چیز کو نہیں جانتے، کسی مذاق سے بڑھ کر کوئی معنی نہیں رکھتا۔

اس سے مربوط موضوعات

یمن جنگ | بچوں کے قاتل ممالک سعودیہ اور امارات کے درمیان اختلافات پر ایک نظر
یمن جنگ | بچوں کے قاتل ممالک سعودیہ اور امارات کے درمیان اختلافات پر ایک نظر سعودی عرب اور امارات کے حمایتی دہشت گردوں اور باغیوں کے درمیان عدن میں شدید جھڑپیں ہوئی ہیں، اگر یمن کی موجودہ صورتحال میں جنگ بند ہوجائے تو یہ جنگ بندی سعودی عرب کے لئے بہت بڑی شکست تصور ہوگی کیونکہ یمن کے اہم علاقوں پر متحدہ عرب امارات کے حامیوں کا قبضہ ہے۔ خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق سعودی عرب کے امریکہ نواز اور خوانخوار بادشاہ شاہ سلمان نے26 مارچ 2015 کو یمن کے نہتے اور مظلوم عربوں پر یہ سوچ کروحشیانہ اور بھیانک جنگ مسلط کی کہ وہ چند ماہ کے دوران پورے یمن پر اپنا قبضہ جما لےگا اور اس سلسلے میں سعودی عرب کے خونخوار بادشاہ نے بڑی مقدار میں رشوت دیکر دس ممالک کو بھی اپنے ہمراہ کرلیا۔ لیکن یمنی عوام نے استقامت کامظاہرہ کرتے ہوئے سعودی عرب کے یمن پر قبضہ کےخواب کو چکنا چور کردیا۔

بین الاقوامی

یمن سے شکست کا ملبہ ایران پر ڈالنے کی کوشش

سعودی عرب کو گذشتہ 4 سال سے یمن کی جانب سے بھرپور مزاحمت کا سامنا ہے۔ امریکا، اسرائیل اور متحدہ عرب امارات سمیت دیگر خلیجی ریاستوں کی مدد کے باوجود یمن سے شکست نے سعودی عرب کی جنگی صلاحیتوں کا بھانڈا پھوڑتے ہوئے اسے دنیا بھر میں رسوا کر دیا ہے۔

سعودی تیل کی تنصیبات پر حملہ / امریکی الزام پر ایران کا ردعمل

سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر خوفناک حلموں میں ایران کے ملوث ہونے کے امریکی الزام پر ایران کا موقف بھی سامنے آگیا ہے۔

امام خمینی

امام خمینی رہ کے انقلابی نظریات اور اس کے اثرات

امام خمینی علیہ الرحمہ کی شخصیت اعلم فقیہ، واصل عارف اور با بصیرت راہبر جیسی صفات کی حامل ہے، ایران کی سرزمین پر دو ہزار پانچ سو سالہ پرانی شہنشاہیت کو شکست دینے کے بعد شرق و غرب کی سپر پاورز کا سامنا کرنے والی شخصیت ہے۔

امام خمینی رح ایک مرد عارف

حضرت امام خمینی رح کے بارے میں عام طور پر جو بات ہمارے ہاں زیادہ مشہور ہے وہ یہ کہ آپ نے ایک ملوکیت اور بادشاہت کا خاتمہ کرکے ایک اسلامی اور مذہبی حکومت قائم کی۔ لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ استعماری طاقتوں کے خلاف تھے اور استعماری طاقتوں نے آپ کی حکومت کے خاتمے کے لیے اپنے پورے وسائل بروئے کار لائے لیکن وہ اس میں ناکام ہو گئیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ امام خمینی رح بہت شجاع اور بہادر تھے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ آپ نے ناجائز طور پر قائم صہیونی حکومت کے خاتمے اور فلسطینیوں کے حقوق کے حصول کے لیے بھی آواز بلند کی۔ آپ مستضعفوں اور محروموں کے حقوق کے بھی علمبردار تھے۔ آپ نے اتحاد امت کے لیے ایک زور دار آواز بلند کی۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ ایک عالم اور فقیہ تھے اور آپ کی تقلید کی جاتی تھی۔ بعدازاں آپ کا دیوان بھی چھپا اور پاکستان میں بھی بہت سے لوگوں کو معلوم ہوا کہ آپ صاحب دیوان شاعر بھی تھے، لیکن ابھی تک جو پہلو کم شناختہ یا ناشناختہ ہے وہ یہ ہے کہ آپ ایک بلند پایہ عارف تھے اور شاید یہ کہنا زیادہ بہتر ہو کہ آپ کے وجود سے پھوٹنے والی تمام تر خوبیوں کا سرچشمہ یہی امر ہے کہ آپ ایک عارف باللہ اور عاشق الٰہی تھے اور اس سلسلے میں نظری اور عملی طور پر نہایت عمق اور گہرائی کے مقام پر فائز تھے۔

امام خامنہ ای

مسئلہ فلسطین امت مسلمہ کے اساسی اور بنیادی مسائل میں سے ایک ہے، امام خامنہ ای

مسئلہ فلسطین امت مسلمہ کے اساسی اور بنیادی مسائل میں سے ایک ہے، امام خامنہ ای رہبر انقلاب اسلامی امام خامنہ ای نے حجاج کرام کے نام اپنے سالانہ پیغام میں فلسطین کے مسئلے کو دنیا کا اہم ترین مسئلہ قرار دیا ہے۔

ایران بحری جہاز پر برطانوی حملے کا سخت جواب دے گا، امام خامنہ ای

ایران بحری جہاز پر برطانوی حملے کا سخت جواب دے گا، امام خامنہ ای امام خامنہ ای نے آئمہ جعمہ اور جماعات کے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ایران بحری جہاز پر برطانوی حملے کا سخت جواب دے گا۔

کلام و عقائد

بدا قرآن و حدیث کی روشنی میں

ذات الٰہی کے بارے میں بدا، حقیقت میں ابدا و اظہار ہے۔ یعنی جو کچھ خدا کے علم میں ہے اور انسان کے علم میں نہیں، اسےخداوند متعال اظہار و آشکار کرتا ہے۔ اسے بدا، کہنے کا سبب یہ ہے کہ یہ مقام فعل الٰہی میں نمایاں ہوتا ہے، اگرچہ ذات الٰہی میں جہل اور تغییر محال ہیں۔ خداوند متعال انبیاء کرام پر غیبی طریقے سے نظر رکھتا ہے تاکہ یہ لوگ وحی کے پہنچانے میں خطا سے محفوظ رہیں۔ قرآن کریم اس بارے میں ارشاد فرماتا ہے، "لِّيَعْلَمَ أَن قَدْ أَبْلَغُواْ رِسَالَاتِ رَبهِّم" تاکہ وہ دیکھ لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات کو پہنچا دیا ہے۔ واضح ہے کہ خداوند متعال پہلے سے ہی آگاہ ہے کہ انبیاء، وحی الٰہی کو صحیح طریقے سے لوگوں تک پہنچائیں گے۔

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی علم کلام کےاہم مباحث میں سے ایک حسن و قبح عقلی کا بحث ہے ۔اس سے مراد یہ ہے کہ کچھ افعال ذاتی طور پر حسن {اچھے} اور کچھ افعال ذاتی طور پر قبیح{ برے} ہیں ۔ معتزلہ اور امامیہ حسن و قبح عقلی کے قائل ہیں جبکہ اشاعرہ اس کی نفی کرتے ہیں۔ بہت سے کلامی مسائل اس بحث پر موقوف ہیں مثلا انسان کا اپنے اعمال میں خود مختار ہونا،خدا وند متعال کی بعض صفات کمالیہ کا ثبوت جیسے خدا کا عادل ہونا،اسی طرح بعض صفات سلبیہ بھی اسی بحث پر موقوف ہے جیسے خدا سے قبیح کا سرزد نہ ہونا،خداکا ظلم نہ کرنا وغیرہ ۔ جو لوگ حسن اور قبح کے قائل ہیں وہ انسانی افعال میں انسان کو مختار،خدا کو عادل مانتے ہیں جبکہ حسن و قبح کے مخالفین انسان کو مجبور اور خداکی عدالت سے انکار کرتے ہیں ۔

تربیت اولاد

خاندانی منصوبہ بندی : ایک معاشرتی ضرورت یا دھوکہ!

خاندانی منصوبہ بندی کوآج کے دور میں مختلف مملک کی حکومتیں اپنی کامیاب ترین پالیسیوں میں شمار کرتی ہیں۔ آبادی کا کنٹرول اور چھوٹا خاندان خوشحالی کا ذریعہ سمجھاجاتا ہے۔ خصوصاً محدود وسائل رکھنے والے ممالک میں اس پالیسی کو زیادہ اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے

تعليم و تربيت کے بارے ميں اسلامي علما کي آرا و نظريات

تاريخ اسلام ميں تقريبا تمام علماء و دانشور مختلف علوم ميں مھارت رکھنے کے ساتھ ساتھ تعليم و تربيت ميں بھي صاحب نظر اور مھارت کے حامل ہوا کرتے تھے اس سے اسلام ميں تعليم وتربيت کي اھميت کا پتہ چلتا ہے لھذا ہم يہاں پر علما اسلام کي نظر ميں تعليم و تربيت کي اھميت اجاگر کرنے کے لئے ان کے بعض نظريات پيش کر رہے ہيں۔

تندرستی

گوشت نہیں کھائیں گے تو... کند ذہن ہوجائیں گے!

گوشت نہیں کھائیں گے تو... کند ذہن ہوجائیں گے!

سوڈا ڈرنک پینے والوں کو ناگہانی موت کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے، رپورٹ

دس یورپی ممالک میں 451,000 افراد پر بیس سال تک کی گئی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ روزانہ کولڈ ڈرنک پینے والوں کی زندگی کم ہوجاتی ہے اور ان کےلیے ناگہانی موت کا خطرہ، کبھی کبھار کولڈ ڈرنک پینے والوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہو جاتا ہے۔

مہدویت{امام زمان عج}

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی امامت کے اہداف میں سے ایک ہدف امام معصوم کا لوگوں کی باطنی ہدایت ہے۔ امام لائق اور پاکیزہ دل رکھنے والے افراد کو اپنی طرف جذب کر کے انہیں کمال تک پہنچاتے ہیں۔ واضح ہے کہ انسان کا اس طرح ہدایت سے ہمکنار ہونے کے لئے ضروری نہیں کہ وہ امام کے ساتھ ظاہری رابطہ برقرار کرے۔ گذشتہ بیانات کی روشنی میں امام زمانہ (عج) کو بادل کے پیچھے پنہان روشن آفتاب سے تشبیہ دینے کا مقصد بھی واضح ہو جاتا ہے۔ اگرچہ بادل کے پیچھے پنہان سورج سے انسان مکمل طور بہرہ مند نہیں ہوتا ہے لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ اس سے انسان کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا ہے۔ بہرحال امام زمانہ (عج) کے وجود کے آثار و برکات سے بہرہ مند نہ ہونے کا سبب انسانوں کی طرف سے خاص حالات کا فراہم نہ کرنا ہے، جس کی وجہ سے لوگ اس عظیم نعمت کے فوائد سے محروم ہیں اور اس محرومیت کا سبب وہ خود ہیں نہ کہ خداوند متعال اور امام، کیونکہ خداوند متعال اور امام کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی مشکل درپیش نہیں ہے۔

دیگر مناسبتیں

آفتاب کربلا جناب حضرت علی اکبر علیہ السلام

کربلا کے میدان میں ایک جوان ایسا بھی تھا جو سیرت و صورت اورگفتار و کردار میں شبیہ پیغمبر تھے۔دیکھنے والا دنگ رہ جاتا تھا کہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے ہیں۔انہوں نے اس کائنات میں ایسی قربانی پیش کی کہ تمام دنیا دھنگ رہ گئی۔آپ ایسے باپ کے فرزند تھے جس پر رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ناز تھا ،جس کے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری بن گئے۔اس عظیم باپ کا فرزند تھا جس نے دنیا والوں کو جینا سکھایا اورباطل قوتوں کے سامنے قیام کر نا سکھایا۔

حدیث غدیر، حدیث متواتر

متواتر لفظی: وہ حدیث یا خبر جس کے تمام روایوں نے، تمام طبقات میں، اس حدیث یا خبر کے مضمون کو ہو بہو اور یکسان طور پر نقل کیا ہو۔ جیسے حدیث ثقلین کی عبارت، (انّي تارك فيكم الثقلين ۔۔) یا حدیث غدیر کی عبارت (من كنت مولاه فهذا عليّ مولاه)۔

چہاردہ معصومین ع

امام سجاد علیہ السلام

امام علیہ السلام نے کربلا سے کوفہ، کوفہ سے شام اور زندان سے رہائی تک ہر موقع پر اپنے خطبوں کے ذریعے جہاں قیام حسینی علیہ السلام کے اصولوں اور فلسفے سے لوگوں کو آگاہ فرمایا وہیں اسلام کا نام استعمال کرتے ہوئے اسلام کی دھجیاں اڑانے کی کوشش کرنے والی ناپاک حکومت کا مکروہ چہرہ بھی بےنقاب فرمایا۔

معاویہ و یزید کے دور حکومت میں امام حسین (ع) کا کردار

معاویہ کو ہر وقت آپ کے قیام کا خوف رہتا تھا۔ چنانچہ اس نے امام کے سامنے قبض و بسط کی پالیسی اپنائی یعنی ایک طرف سے آپ کی منزلت کو مدنظر رکھتا تھا اور بظاہر آپ کے لئے احترام کا قائل تھا اور آپ کی تعظیم کرتا تھا اور اپنے کارگزاروں کو بھی ہدایت کرتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرزند کو نہ چھیڑیں اور ان کی بےحرمتی سے پرہیز کریں۔ دوسری طرف سے امام کی مسلسل اور شب و روز نگرانی کو اپنی پالیسی کا حصہ بنایا اور سفر اور حضر میں آپ کی تمام حرکات و سکنات پر کڑی نظر رکھی جاتی تھی۔

دیگر موضوعات

الغدیر فی الکتاب و السنۃ و الادب

الغدیر فی الکتاب و السنة و الادب، جو الغدیر کے نام سے معروف ہے عربی زبان میں لکھی گئی ایک ایسی کتاب ہے جسےعلامہ عبد الحسین امینیؒ نےحدیث غدیر کی روشنی میں امام علی علیہ السلام کی امامت و خلافت بلا فصل کی اثبات کے لئے تحریر کیا ہے۔یہ کتاب اب تک 11 جلدوں میں مرتب ہوئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کتاب کی کل 20 جلدیں ہیں۔ لیکن آخری 9 جلدیں ابھی تک طبع نہیں ہوئی ہیں۔ علامہ امینی اس کتاب کو لکھنے کی خاطر مختلف ممالک کی لائبریریوں کا سفر کیا ہے۔ جن میں ہندوستان، مصر اور شام وغیرہ کی لائبریریاں شامل ہیں۔الغدیر کے مؤلف کے مطابق اس کتاب کی تالیف میں انہوں نے ایک لاکھ سے زائد کتابوں کی طرف مراجعہ اور دس ہزار سے زیادہ کتابوں کا مطالعہ کیا ہے۔انہیں یہ کتاب لکھنے میں ۴۰ سال سے زیادہ کا عرصہ لگا ہے۔الغدیر کے بارے میں کئی کتابیں اور تھیسز لکھے گئے ہیں۔ اسی طرح الغدیر میں پیش کیے گئے موضوعات کو 27 جلدوں پر مشتمل مجموعے کی صورت میں بھی منظر عام پر لایا گیا ہے۔

قربانی کی تاریخ اور اسکا فلسفہ

دین مقدس اسلام میں قربانی ایک مالی عبادت ہے، جو شعائر اسلام میں بھی شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں اس کی بڑی فضیلت ہے۔ شعائر اللہ کو دلوں کا تقوا قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں ارشاد ہوا ہے: "وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ" (سورہ حج:۳۲) بات یہ ہے کہ جو شعائر اللہ کا احترام کرتا ہے تو یہ دلوں کا تقویٰ ہے۔ دین اسلام میں اس کے علاوہ اور بھی مالی عبادات ہیں۔ لیکن ان عبادات کے مقابلے میں قربانی کچھ مخصوص خصوصیات کی حامل ہے۔ انہی خصوصیات کی وجہ سے عبادات کے درمیان قربانی کا الگ مقام ہے۔

سب سے زیادہ زیر بحث

امام علی علیہ السلام کی شانِ میں چہل حدیث

مولا علیؑ کی شان میں چالیس احادیث اور یہ ﻭﻩ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ہیں ﺟﻮ ﺻﺤﺎﺡ ﺳﺘﻪ ﻣﯿﮟ بھی موجود ہے. 1= ﻋﻨﻮﺍﻥ ﺻﺤﻴﻔﺔ ﺍﻟﻤﺆﻣﻦ ﺣﺐّ ﻋﻠﻰؑ ﺑﻦ ﺍﺑﻰ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ. ﺻﺤﯿﻔﮧ ﻣﻮﻣﻦ ﮐﺎ ﻋﻨﻮﺍﻥ ﻣﺤﺒﺖِ ﻋﻠﯽؑ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻃﺎﻟﺐؑ ﮨﮯ.

دعا کی اہمیت

دعا کی اہمیت حضرت انسان کس قدر شرف و عظمت کا مالک ہے،اس کے لئے کائنات بنی،پوری کائنات میں اسی کو عزت و تکریم کا حق دار ٹھہرایا گیا۔تمام مخلوق اس کی خدمت اور منفعت کے لئے پیدا کی گئی۔لیکن اتنی عظمتوں کے باوجود اس کی خلقت کا مقصد اللہ کی معرفت اور عبادت قرار دیا گیا۔لہذا انسان کا اہم کام خدا سے ارتباط و ربط ہے۔مگر کیسا رابطہ؟ اتنی عظمتوں کے باوجود بارگاہ خداوندی میں فقر محض اور احتیاج محض ہے جبکہ ذات پروردگار غناء ہی غناء ہے۔بلندی ہی بلندی ہے۔انسان مشکلات،مصائب اور تکالیف میں ایسی ذات کی طرف رجوع کر کے اپنے فقر اور احتیاج محض ہونے کا اقرار و اعتراف کرتے ہوئے اپنی نفی اور بے ثباتی کا اظہار کرتا نظر آتا ہے۔اس سلسلے میں انسان کا ایک اہم وسیلہ دعا ہے۔دعا کے ذریعے اپنی احتیاج کا اظہار بھی کرتا ہے اوراللہ سے اعانت کی التجا بھی کرتا ہے۔

قرآنِ کریم اور اصلاحِ معاشرہ تحریر: عارف حسین تھہیم

لفظِ ’’اصلاح‘‘ درست کرنے، صحیح کرنے اور خرابی کو دُور کے معنی میں آتا ہے۔ معاشرتی اور اجتماعی مفہوم کے اعتبار سے شائستہ اور نیک عمل انجام دینے، نیز فساد و تباہی کو ختم کرنے کے لیے بھی اصلاح کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ ارشادِ پروردگار ہے: ﴿ إِلاَّ الَّذِينَ تَابُواْ وَأَصْلَحُواْ وَبَيَّنُواْ فَأُوْلَئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ﴾[1]؛ ’’سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے توبہ کی اور اپنے کئے کی اصلاح کر لی اور (جس کو چھپایا ہوا تھا) واضح کر دیا تو ایسے ہی لوگوں کی توبہ میں قبول کرتا ہوں اور بےشک میں بڑا توبہ قبول کرنے والا اور بہت مہربان ہوں۔‘‘ حقیقی توبہ میں گذشتہ بُرائی اور فساد کا دُور کرنا اور آئندہ بُرائی و فساد سے بچے رہنے کا تہیہ کرنا ضروری ہے۔ شائستہ اور صالح معاشرے کی تشکیل کا ہدف اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی دُنیوی و اُخروی اور مادی و معنوی ضرورتوں کو پورا کیا جائے؛ لہٰذا صالح معاشرے کی خصوصیات یہ ہیں کہ اس میں ہر ایک کی جان، مال، عزّت و آبرو اور ناموس محفوظ ہوتی ہے، لوگوں کی درمیان مہر و محبت اور اپنائیت کا راج ہوتا ہے اور سب لوگ روحانی و معنوی لحاظ سے پُرسکون اور مطمئن ہوتے ہیں۔

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ بسم اللہ الرحمن الرحیم بنام خدائے رحمن و رحیم اٴَللّٰھُمَّ اِنّيِ اٴَسْاٴَ لُکَ بِرَحْمَتِکَ الَّتي وَ سِعَتْ کُلَّ شَيْءٍ،وَ بِقُوَّتِکَ الَّتي قَھَرْتَ خدایا میراسوال اس رحمت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر محیط ھے۔ اس قوت کے واسطہ سے ھے جو ھر چیز پر حاوی ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ،وَخَضَعَ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ،وَذَلَّ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ، وَبِجَبَرُوتِکَ الَّتي غَلَبْتَ اور اس کے لئے ھر شے خاضع اور متواضع ھے۔ اس جبروت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر غالب ھے اور اس عزت کے واسطہ سے ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ، وَ بِعِزَّتِکَ الَّتي لاٰ یَقُومُ لَھٰا شَيْءٌ، وَبِعَظَمَتِکَ الَّتي مَلَاٴَتْ کُلَّ جس کے مقابلہ میں کسی میں تاب مقاومت نھیں ھے۔اس عظمت کے واسطہ سے ھے جس نے ھر چیز کو پر کردیا ھے شَيْءٍ، وَ بِسُلْطٰانِکَ الَّذي عَلاٰ کُلَّ شَيْءٍ، وَبِوَجْھِکَ الْبٰاقي بَعْدَ فَنٰاءِ کُلِّ شَيْءٍ،

تلاوت قرآن کی فضیلت

'پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا، جو شخص رات کو دس آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام غافلین (جو یاد خدا سے بے بہرہ رہتے ہیں) میں نہیں لکھا جائے گا اور جو شخص پچاس آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام ذاکرین (جو خدا کو یاد کرتے ہیں، حرام و حلال کا خیال رکھتے ہیں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص سو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام قانتین (عبادت گزاروں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص دوسو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام خاشعین (جو خدا کے سامنے متواضع ہوں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص تین سو آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام سعادت مندوں میں لکھا جائے گا، جو شخص پانچ ہزار آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام عبادت اور پرستش خدا کی کوشش کرنے والوں میں لکھا جائے گا اور جو شخص ہزار آیتوں کی تلاوت کرے وہ ایسا ہے جیسے اس نے کثیر مقدار میں سونا راہ خدا میں دے دیا ہو۔،،

تربیت اولاد کے انمول اصول تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

لغت کی کتابوں میں لفظ" تربیت" کے لیے تین اصل اور ریشہ ذکر ہوئے ہیں۔ الف:ربا،یربو زیادہ اور نشوونما پانےکے معنی میں ہے۔ ب: ربی، یربی پروان چڑھنا اور برتری کے معنی میں ہے۔ج: رب،یرب اصلاح کرنے اور سرپرستی کرنے کے معنی میں ہے۔۱صاحب مفردات کا کہنا ہے کہ "رب" مصدری معنی ٰ کے لحاظ سے کسی چیز کو حد کمال تک پہچانے ، پرورش اور پروان چڑھانے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ۲ صاحب التحقيق کا کہنا ہے اس کا اصل معنی ٰ کسی چیز کو کمال کی طرف لے جانے ، نقائص کو تخلیہ اور تحلیہ کے ذریعےرفع کرنے کے معنی ٰ میں ہے۔۳ بنابر این اگر اس کا ريشه(اصل) "ربو" سے ہو تو اضافہ کرنا، رشد ، نمو اور موجبات رشد کو فراہم کرنے کے معنی ٰ میں ہےلیکن ا گر "ربب" سے ہو تو نظارت ، سرپرستي و رهبري اور کسی چیز کو کمال تک پہنچانے کے لئے پرورش کے معنی ٰ میں ہے۔

پیٹ کا درد کئی امراض کی علامت ہوسکتا ہے

اگر پیٹ میں درد ہورہا ہو تو اس کی کئی وجوہ ہوسکتی ہیں۔ اکثر ناقص غذا کی وجہ سے معدے میں تکلیف ہونے لگتی ہے جسے ہم پیٹ کے درد سے تعبیر کرتے ہیں۔ معدے کا درد کئی امراض کی علامت بھی ہوسکتا ہے، اس لیے اسے نظرانداز نہیں کرنا چاہیے اور بلاتاخیر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

مقصد قیام امام حسین علیہ السلام تحریر: محمد حسن حسرت کچوروی

امام حسین ؑ ۲۸ رجب ۶۰ ھ میں مدینہ سے حرکت کرتے ہیں اور ۳ شعبان المعظم کو مکہ میں پہنچتے ہیں پھر ۸ ذی الحجہ کو مکہ سے کوفہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں ۲ محرم الحرام کو وارد کربلا ہوتے ہیں اور ۱۰ محرم الحرام کو شھید ہو جاتے ہیں اس مختصرعرصے میں انسان سو سے زیادہ درس حاصل کر سکتا ہے بلکہ کہہ سکتے ہیں کہ امام کے اس مختصر عرصےمیں ہزاروں دروس شامل ہیں لیکن یہ سارے دروس ایک اصلی درس ‘ حرکت اور قیام امام میں موجود ہیں باقی سارے حاشیے ہیں متن یہ ہے کہ امام نے قیام کیوں کیا؟ یہ اصلی درس ہے لوگ امام سے کہتے تھے آپ مدینہ اور مکہ میں محترم ہیں یمن میں اتنے سارے شیعہ ہیں کسی کونے میں تشریف لے جائیں اور یزید سے کوئی سروکار نہ رکھے تاکہ وہ بھی آپ سے کوئی سروکار نہ رکھے۔ یہ سارے مرید ہیں انہیں تبلیغ کریں عبادت کریں اور زندگی کریں۔ کاس قیام کا مقصد کیاہے ۔۔؟

مشاہدات

آج

279

کل

612

اس ماہ

28882

اس سال

157310

ٹوٹل مشاہدات

326538