علماء کونسل کچورا سکردو بلتستان

متن

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

تحریر: محمد شریف نفیس

ہر سچے مسلمان کے دل میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کے بعد ائمہ اہلبیت علیہم السلام  کی محبت  موجود ہے۔ یہ محبت ہر مؤمن کی فطرت میں شامل ہے۔ اہل بیت اطہار ؑ سے محبت کی اہمیت کا اندازہ اس بات ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قران کریم میں اسے اجر رسالت قرار دیا ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا:  "قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْہِ أَجْراً إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبیٰ"(سورہ شوریٰ:۲۳) "کہدیجئے: میں اس (تبلیغ رسالت) پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا سوائے قریب ترین رشتہ داروں کی محبت کے"۔ اسی طرح ہر مؤمن کا اہلبیت اطہار ؑ کے ساتھ دل کا تعلق اور رابطہ بھی ہے۔ لیکن یہ رابطہ فقط ایک جذباتی اور عاطفی رشتے کی وجہ سے نہیں بلکہ یہ رابطہ عقیدتی اور عملی ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ بھی   ہم سے اہلبیت اطہارؑ کے ساتھ ایک جذباتی رابطہ رکھنے سے زیادہ ایک فکری، عقیدتی اور عملی رابطہ چاہتا ہے۔ ہمیں عملی طور پر اہلبیت اطہار ؑ کے پیروکار کہلوانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: "قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ وَ یَغۡفِرۡ لَکُمۡ ذُنُوۡبَکُمۡ" (سورہ آل عمران:۳۱) "کہدیجئے: اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہاری خطاؤں سے درگزر فرمائے گا "۔

اسی طرح ہمارے اپنے وقت کے امام کے ساتھ بھی ہمارا رشتہ فقط  عقیدے کی حد تک نہیں ہونا چاہیے بلکہ امام زمانہؑ اس وقت کے ایک انسان کامل اور ہادی برحق ہیں۔ وہ ہمارے درمیان موجود ہیں۔ ہمارے ہر دکھ درد میں ساتھ ہوتےہیں۔ وہ ہمیں دیکھتے اور پہچانتے بھی ہیں لیکن ہم انہیں دیکھتے تو ہیں لیکن پہچان نہیں سکتے۔ امام زمانہؑ صرف ہمارے ہی نہیں ، بلکہ تمام جن و انس کے امام ہیں۔ بلکہ اس پوری کائنات کے بھی امام ہیں۔ اگر امام برحق کا وجود مقدس نہ ہوتا تو یہ زمین اپنے بسنے والوں کے ساتھ تباہ ہوچکی ہوتی۔ لہٰذا ایک انسان کامل اور ہادی برحق کے ساتھ اپنی زندگی کے شب و روز اور اپنے زمانے کے مجموعی حالات کے مطابق ارتباط برقرار ہونا چاہیے۔امام زمانہ ؑ ہدایت کا چراغ ہیں اُن سے ہدایت لینی چاہیے اور ان کے ہدف کی تکمیل کے لئے ہرممکن جدو جہد کی کوشش کرنی چاہیے۔

          خود امام زمانہؑ  نے شیخ مفید ؒ کو مخاطب کر کے ایک خط لکھا اور تمام مؤمنین کے لیے پیغام دیتے ہوئے ارشاد فرمایا"انا غیر مھملین لمراعاتکم۔ ولا ناسین لذکرکم ولولا ذٰلک لنزل بکم اللاواء، واصطلمکم الاعداء ، فاتقوا اللہ جل جلالہ، وظاھرونا علیٰ انتشالکم من فتنۃ قد افاقت علیکم"ہم تمہارے حالات سے بے خبر نہیں، تمہیں اپنی دعاؤں میں بھی نہیں بھولتے۔ اگر ہم تمہاری طرف متوجہ نہ ہوتے تو تم پر شدید بلائیں نازل ہوتیں اور تمہارے دشمن تمہیں کاٹ کر کھا جاتے۔ پس اللہ سے ڈرتے رہو اور  ہمارے ساتھ رہو تاکہ تمہیں فتنوں سے نجات دلائیں۔

بعض روایات میں یہ بھی نقل ہواہے کہ ہمارے سارے اعمال امام زمانہ ؑ کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں۔ ہمارے اچھے اعمال دیکھ کر امامؑ  خوش ہوتے ہیں اور بُرے اعمال دیکھ کر دکھی ہوتے ہیں۔لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اپنے نفوس کو پاک کریں اور کردار ٹھیک کریں۔ تاکہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے ساتھ امام زمانہؑ کا قلب مطہر بھی ہم سے راضی و خوشنود ہو۔ ہمیں اپنے آپ کو روحانی طور پر مضبوط کرنا ہوگا۔ ہر لحاظ سے امام زمانہؑ کی نصرت کے لئے خود کو آمادہ اور امامؑ کی اس عالمی تحریک کو دنیا بھر میں پھیلانے کے لئے ضروری قوت تیار کرنی ہوگی۔ پھر امام زمانہؑ کے ظہور کے لئے دعا کریں ۔

اس حوالے سے آیت اللہ یعقوبی(مدظلہ) فرماتے ہیں :"ہم ہر روز دعاکرتے ہیں کہ خدا ہمیں امام زمانہؑ کے انصار و اعوان میں قرار دے، جبکہ ہم خود ہر لحاظ سے انتہائی ضعیف ہیں۔ ہمیں یہ بھی معلوم نہیں کہ ہم امامؑ کے کوئی قابل اعتماد ساتھی بن سکتے ہیں یا نہیں۔ ہم مادی اور معنوی لحاظ سے  بھی نہایت کمزور ہیں۔ اس کمزوری کے ساتھ امام زمانہؑ کی کیا مدد کریں گے؟۔ آج عالمی استکباری قوتیں آپس میں متحد ہوکر مضبوط و مستحکم ہیں۔ ہم اپنے صفوں میں اختلافات پیدا کر کے آئے روز کمزور سے کمزورتر ہوتے جا رہے ہیں۔ اس حالت میں اگر امام ؑ ظہور بھی فرمائیں گے  تو ہم ان کی کیا مدد کر سکتے ہیں۔ ہمارا امامؑ آج بھی ھل من ناصر ینصرنا کی صدا بلند کر رہے ہیں۔ لہٰذا ہمیں امام کی نصرت کرنی چاہیے تاکہ خدا ہم پر رحم کرے۔امامؑ سے رابطہ قائم رکھنا چاہیے۔امام ؑ سے اپنی راز و نیاز کی باتیں کرنی چاہیے۔ اپنی ہر خوشی اور غم میں امام زمانہؑ کا خیال رکھنا چاہیے۔ ہمیں خود امام کے ظہور میں تاخیر کا سبب نہیں بننا چاہیے۔

امام زمانہؑ سے ارتباط قائم رکھنے اور ان سے راز و نیاز کرنے کے کچھ آداب ہیں۔ ہمارے ائمہ معصومین علیہم السلام کی روایات میں بہت سے آداب کا ذکر ہوا ہے۔ ذیل میں ان میں سے کچھ اہم آداب کا ذکر کیا جاتا ہے:

۱۔ امامؑ کی بیعت میں رہنا:

ہمیں چاہیے کہ اپنے امامؑ کی بیعت میں رہیں۔ یعنی اپنے اوپر امامؑ کا ہر حکم لازم قرار دیں۔ ہر روز امامؑ کے ساتھ تجدید عہد کریں۔ چنانچہ دعائے عہد میں ملتا ہے :"اللھم انی اُجدِدُ لہ فی صبیحۃ یومی ھذا وما عشتُ من ایامی عھدا و عقدا وبیعتۃ لہ فی عنقی لا احول عنھا ولا ازول ابدا "(خداوندا! آج کے دن کی صبح کو اور میری حیات کے تمام ایام میں، میں ان کے لئے اپنے اس عہد اور بندھن اور پیوند اور بیعت کی تجدید کرتا ہوں جو میری گردن پر ہے، اور (عہد کرتا ہوں کہ) کبھی اس عہد و بیعت سے کبھی پلٹوں گا نہیں اور کبھی اس سے دستبردار نہیں ہوں گا)

۲۔ امامؑ کے دیدار کا شوق رکھنا:

امام جعفر صادق ع سے منقول ہے کہ آپؑ امام زمانہؑ کے دیدار کا شوق کرتے ہوئے فرماتے تھے: "لو ادرکتُہ لخدمتہ ایام حیاتی" (اگر میں ان کے زمانے کو درک کرلوں تو اپنی ساری زندگی ان کی خدمت کرتے ہوئے گزار دوں)۔ ہمارے ائمہ معصومینؑ نے ہمیں یہی سکھایا ہے کہ امام زمانہؑ کے دیدار کے لئے ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں۔ چنانچہ دعائے عہد میں ارشاد ہوا ہے: "اللھم ارنی الطلعۃ الرشیدۃ والغرۃ الحمیدۃ، واکحُل ناظری بنظرۃ  منی الیہ..." (اے خدا! مجھے دکھا دے وہ سنجیدہ اور ہدایت دینے والا چہرہ، وہ پسندیدہ پیشانی، اور ان کے دیدار کو میری آنکھوں کا سرمہ قرار دے)۔ اسی طرح دعائے ندبہ میں بھی: " وارہ سیدہ یا شدید القویٰ" اور " ھل الیک یابن احمد سبیل فتُلقیٰ" جیسے جملے نقل ہوئے ہیں۔ ان کے علاوہ مختلف دعاؤں میں امام زمانہؑ کے دیدار کے لئے دعا کے جملے ملتے ہیں۔(دیکھئے: جنۃ الماویٰ،ص۵۱، تنقیح الاصول ج۳،ص۱۳۱)

۳۔ امام زمانہؑ کی ولایت پر ثابت قدم رہنا:

امام محمد باقر ؑ سے منقول ہےکہ آپؑ نے فرمایا: "یاتی علیٰ الناس زمان یغیب عنھم امامھم، طوبیٰ للثابتین علیٰ امرنا فی ذلک الزمان۔انّ ادنیٰ ما یکون لھم الثواب ان ینادی بھم الباری جل جلالہ فیقول: عبیدی وامائی آمنتم بسری وصدقتم بغیبی فاَبشروا بحسن الثواب منی،  ای عبیدی و امائی حقا منکم اتقبل  وعنکم اعفو ولکم اغفر، وبکم اسقی عبادی الغیث و ادفع عنھم البلاء، لولاکم لانزلت علیھم عذابی" (بحار الانوار،ج۵۲،ص۱۴۵) "لوگوں پر ایک وقت ایسا آئے گا جب ان کا امام غیبت میں ہوگا۔ اس زمانے میں ہماری ولایت پر ثابت قدم رہنے والوں کو مبارک ہو۔ ان کو کم سے کم جو ثواب دیا جائے گا وہ یہی کہ اللہ تعالیٰ ان سے کہے گا: میرے بندو، میری کنیزو! تم نے میرے اسرار پر ایمان لایا اور غیبت کی تصدیق کی۔ لہٰذا میری طرف سے تمہیں حسن ثواب کی بشارت ہو۔ اے میرے بندو، میری کنیزو! تمہارا حق ہے کہ میں تمہارے اعمال قبول کروں، تمہاری لغزشوں کو  معاف کروں اور تمہاری مغفرت کروں۔ تمہاری ہی وجہ سے میں اپنے بندوں کو سیراب کرتا ہوں اور ان سے بلائیں دور کرتا ہوں۔ اگر تم نہ ہوتے تو ان پر عذاب نازل کرتا۔

۴۔ امام کی جدائی میں غمگین رہنا:

ایک مؤمن کو چاہیے کہ اپنے امام سے دوری پر مغموم رہے۔ امام ؑ کی فرقت میں گریہ و زاری کرے۔ چنانچہ اصول کافی میں امام صادقؑ سے منقول ہے: "ہماری مظلومیت پر مغموم ہونا اور دکھ کی سانس لینا تسبیح ہے"۔ ایک اور مقام پر آپؑ ہی سے منقول ہے: "اللہ تعالیٰ تمہارے زمانے کے امام کو سالوں تک غیبت میں رکھے گا۔ اس طرح تمہیں آزمائے گا۔ یہاں تک کہ لوگ کہیں گے کہ امامؑ وفات پاگئے ہیں۔ (اگر زندہ ہیں تو) کس جگہپر ہیں، کہاں چلے گئے ہیں! مؤمنین کی آنکھوں میں امامؑ کے لئے آنسو ہوں گے"۔

۵۔ امامؑ کے لئے دعا کرنا۔

امام زمانہؑ کے ایک عاشق پر فرض ہےاور امام زمانہ ؑ کا اس پر یہ حق بھی ہے کہ امام ؑ کے لئے دعا کرے۔ بلکہ جب بھی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دست دعا بلند کرے تو سب سے پہلے امامؑ کے لئے دعا کرے۔ خصوصا دعائے فرج (اللھم کن لولیک...) کا ہمیشہ ورد کرے۔ امام حسن عسکریؑ سے ایک دعا وارد ہوئی ہے: " اللھم اعذہ من شر کل طاغ و باغ، ومن شر جمیع خلقک واحفظہ من بینیدیہ ومن خلفہ وعن یمینہ وعن شمالہ اوحرسہ وامنعہ ان یصل الیہ بسوء واحفظ فیہ رسولک وآل رسولک واظھر بہ العدل وایدہ بالنصر" ( بحار الانوار ج۹۴، ص۷۸)" خداوندا ! اسے ہر سرکش ظالم و جابر کے شر سے محفوظ رکھ، اسے اپنی ساری مخلوق کے شر سے محفوظ رکھ۔ اس کی ہر طرف سے حفاظت فرما۔ اس سے ہر قسم کی بلاؤوں کو دور فرما۔ اس کے ذریعے آپ کے رسولؐ اور آل رسولؑ کی حفاظت فرما۔ اس کے ذریعے عدل و انصاف کا بول بالا فرما اور اپنی جانب سے اس کی نصرت و تائید فرما۔

اسی طرح امام زمانہؑ کے ظہور میں تعجیل کے لئے دعا کریں۔ معصومینؑ کی روایات میں اس کی بڑی تاکید ہوئی ہے۔ خود امام زمانہؑ  اپنے ایک خط میں ارشاد فرماتے ہیں: "واکثروا  الدعاء بتعجیل الفرج فاِن ذلک فرجکم" (الاحتجاج،ج۲،ص۳۸۴) میرے امور میں گشائش کے لئے زیادہ سے زیادہ دعا کرو کیونکہ اسی میں تمہارے امور کی گشائش ہے۔"

۶۔  پابندی سے امامؑ کی زیارت پڑھنا:

امامؑ کے پیروکار کو چاہیے کہ ہمیشہ پابندی کے ساتھ امام زمانہؑ کی زیارت پڑھے۔ خصوصاً زیارت آل یاسین پڑھے۔ یہ زیارت خود امام زمانہؑ سے نقل ہوئی ہے۔ اس زیارت کے جملوں سے ہمیں امام ؑ کے وجود مبارک کا احساس ہوتا ہے۔چنانچہ فرماتے ہیں:

السَّلامُ عَلَيْكَ حِينَ تَقُومُ السَّلامُ عَلَيْكَ حِينَ تَقْعُدُ السَّلامُ عَلَيْكَ حِينَ تَقْرَأُ وَتُبَيِّنُ السَّلامُ عَلَيْكَ حِينَ تُصَلِّي وَتَقْنُتُ السَّلامُ عَلَيْكَ حِينَ تَرْكَعُ وَتَسْجُدُ السَّلامُ عَلَيْكَ حِينَ تُهَلِّلُ وَتُكَبِّرُ السَّلامُ عَلَيْكَ حِينَ تَحْمَدُ وَتَسْتَغْفِرُ، السَّلامُ عَلَيْكَ حِينَ تُصْبِحُ وَتُمْسِي السَّلامُ عَلَيْكَ فِي اللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْإِمَامُ الْمَأْمُونُ السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْمُقَدَّمُ الْمَأْمُولُ السَّلامُ عَلَيْكَ بِجَوَامِعِ السَّلامِ 

آپ پر سلام ہوجب آپ قیام کریں گے، آپ پر سلام ہو جب منتظربیٹھے ہیں، آپ پر سلام ہو جب آپ قرآن پڑھیں اور تفسیر کریں، آپ پر سلام ہو جب آپ نماز قائم کریں اور قنوت پڑھیں، آپ پر سلام ہو جب آپ رکوع اور سجدہ کرتے ہیں، آپ پر سلام ہو جب آپ ذکر الٰہی کریں، آپ پر سلام ہوجب حمد و استغفار کریں، آپ پر سلام ہو جب آپ صبح اور شام کریں اور تسبیح بجا لائیں، آپ پر سلام ہو رات میں جب وہ چھا جائے اور دن میں جب روشن ہو جائے، آپ پر سلام ہو اے محفوظ امامؑ، آپ پر سلام ہو جس کے آنے کی آرزو ہے اور آپ پر سلام ہو ہر طبقے کی طرف سے سلام۔

۷۔ امام زمانہؑ کو وسیلہ بنانا:

اپنے وقت کے امام سے رابطے کا ایک  ادب یہ ہے کہ اپنے دنیوی اور اخروی ہر طرح کے امور میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں امام زمانہؑ کو وسیلہ بنائیں۔ امامؑ کے وسیلے سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوں۔ مثلا رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای (دام ظلہ الوارف) جب بھی کوئی مشکل پیش آتی ہے تو مسجد جمکران میں جا کر امام زمانہؑ کے خصوصی  وسیلے سےدعا فرماتے ہیں۔اسی طرح اسلامی مقاومت کے تحفظ اور نصرت کے لئے بھی خصوصی طور پر امام زمانہؑ کا وسیلہ دیتے ہیں۔ اپنے اخروی امور میں بھی امام زمانہ ؑ کو وسیلہ بنانا چاہیے۔ جیسا کہ دعائے توسل میں ہمیں ائمہ اطہارؑ کی شفاعت مانگنے اور ان کو وسیلہ بنانے کی تعلیم دی گئی ہے۔

۸۔ امام زمانہ ؑکے اسم گرامی کا احترام:

جب بھی امام زمانہؑ کا نام لیا جائے تو آپؑ کی تعظیم کے لئے کھڑے ہونا چاہیے۔ خصوصا آپؑ کا لقب "قائم" سنیں تو لازماً کھڑے ہوں۔ روایات میں ملتا ہے کہ جب امام صادق ؑ کی مجلس میں امام زمانہؑ کو اسی لقب کے ساتھ یاد کیا گیا تو آپؑ نے تعظیماً  قیام فرمایا۔ اسی طرح روایت میں آیا ہے کہ امام رضا ؑ خراسان میں ایک مجلس میں تشریف فرما تھے۔ جب امام زمانہؑ کا لقب "قائم" کا ذکر ہوا تو امامؑ اپنے مسند سے کھڑے ہوگئے اور اپنے ہاتھ کو سر مبارک پر رکھ کر فرمایا: اللھم عجل فرجہ و سھل مخرجہ" (منتخب الاثر:۵۰۶)

۹۔ امام زمانہؑ پر درود:

متعدد موارد میں ہمارے ائمہ اہلبیت علیہم السلام سے روایات نقل ہوئی ہیں  جن میں کہا گیا ہے کہ امام زمانہؑ پر کثرت سے درود بھیجیں۔چنانچہ دعائے افتتاح میں صلوات کے یہ جملے نقل ہوئے ہیں: "اَللّـهُمَّ وَصَلِّ عَلى وَلِىِّ اَمْرِكَ الْقائِمِ الْمُؤَمَّلِ، وَالْعَدْلِ الْمُنْتَظَرِ، وَحُفَّهُ بِمَلائِكَتِكَ الْمُقَرَّبينَ، وَاَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ يا رَبَّ الْعالَمينَ، اَللّـهُمَّ اجْعَلْهُ الدّاعِيَ اِلى كِتابِكَ، وَالْقائِمَ بِدينِكَ، اِسْتَخْلِفْهُ في الاَْرْضِ كَما اسْتَخْلَفْتَ الَّذينَ مِنْ قَبْلِهِ، مَكِّنْ لَهُ دينَهُ الَّذي ارْتَضَيْتَهُ لَهُ، اَبْدِلْهُ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِ اَمْناً يَعْبُدُكَ لا يُشْرِكُ بِكَ شَيْئاً، اَللّـهُمَّ اَعِزَّهُ وَاَعْزِزْ بِهِ، وَانْصُرْهُ وَانْتَصِرْ بِهِ، وَانْصُرْهُ نَصْراً عَزيزاً، وَاْفتَحْ لَهُ فَتْحاً يَسيراً، وَاجْعَلْ لَهُ مِنْ لَدُنْكَ سُلْطاناً نَصيراً" "اے معبود! اور درود بھیج اپنے ولی امر پر جو قائم ہیں اور جن کے آنے کی امید ہے، اور اس کے عدل پھیلانے والے ہیں جس کا انتظار کیا جارہا ہے، انہیں اپنے مقرب فرشتوں کی حفاظت میں قرار دے اور روح القدس کے ذریعے ان کی تائید فرما اے جہانوں کے پروردگار؛ اے معبود! انہیں اپنی کتاب کی طرف بلانے والا اور اور اپنے دین کرنے والا قرار دے، انہیں روئے زمین پر اپنا خلیفہ قرار دے جس طرح کہ ان سے پہلے گذرنے والوں کو تو نے خلیفہ قرار دیا، جو دین تو نے ان کے لئے پسند کیا ہے انہیں اس کے دین کا پائیدار اور طاقتور بنانے والا قرار دے، اور ان کو ـخوفکےبعدـامنعطاکر؛کیونکہوہخلوصکاملکےساتھتیریبندگیاورعبادتکرتےہیںاورکسیچیزکواسکاشریکقرارنہیںدیتے؛اےمعبود! انہیںعزتعطافرمااورانکےواسطےسےاپنےدینکومعزز بنا دے، اور ان کی مدد فرما اور ان کے ذریعے اپنے دین کی نصرت کر، ان کو گرانقدر فتح و نصرت عطا فرما، اور انہیں آسان فتح عطا کر اور ان کے لئے اپنی جانب سے سہارا دینے والی قوت قرار دے"

اسی طرح امام عسکریؑ سے آپؑ پر صلوات منقول ہے: "اللھم صل علی ولیک وابن اولیائک الذین فرضت طاعتھم..."(مکیال المکارم: ج 2،ص264) مصباح الزائر میں صلوات کے یہ جملے نقل ہوئے ہیں: "اللهم صل عليه صلاة تظهر بها حجته وتوضح بها بهجته وترفع بها درجته وتؤيد بها سلطانه وتعظم بها برهانه وتشرف بها مكانه، وتعلي بها بنيانه،وتعز بها نصره، وترفع بها قدره، وتسمي بها ذكره، وتظهر بها كلمته، وتكثر بها نصرته، وتعز بها دعوته، وتزيده بها إكراما، وتجعله للمتقين بها إماما، وتبلغه منا تحية وسلاما"(مصباح الزائر،ص420)

10۔ امام زمانہؑ کی طرف سے صدقہ دینا:

ہمیں ہر وقت امام زمانہؑ کی سلامتی کے لئے صدقہ دینا چاہیے۔ کم زیادہ کا معیار نہیں، لیکن خلوص نیت سے امام زمانہ کی طرف سے صدقہ دینا چاہیے۔ چنانچہ سفر پر جاتے وقت امام زمانہؑ کی طرف سے صدقہ دیتے ہوئے یہ دعا وارد ہوئی ہے: "اللھم انّ ھذا لک و منک  وھی صدقۃ عن مولانا محمد عجل اللہ فرجہ، وصل علیہ بین اسفارہ وحرکاتہ و سکناتہ فی ساعات لیلہ و نھارہ"

خلاصہ

یہاں تک ہم نے نہایت اختصار کے ساتھ اپنے وقت کے امامؑ کے ساتھ علاقہ مندی اور آپؑ کے ساتھ رابطے میں رہنے کے کچھ آداب بیان کئے۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ اپنے وقت کے امام، ولی اللہ الاعظم حضرت حجت بن الحسنؑ کے ساتھ نہایت عقیدت کے ساتھ راز و نیاز کرے۔ شب و روز  اپنے  وقت کے امام ؑ کی یاد میں رہے۔ امامؑ کے دیدار کا آرزو مند رہے۔ آپؑ کی سلامتی کے لئے اور تعجیل ظہور کے لئے دعا کرے۔ آپؑ کے نام پر صدقہ دے۔ اپنی حیثیت کے مطابق امامؑ کی اس عالمگیر تحریک کے لئے زمینہ سازی کرے۔ خداوند متعال ہم سب کو توفیق دے کہ اپنے امام ؑ کے حقوق ادا کرنے کی کوشش کریں تاکہ امام زمانہؑ اور خدا وند متعال ہم سب پر راضی و خوشنود ہو۔

اپنے کلام کا اختتام اس دعا سے کرتے ہیں:

"اللھم انظر الینا بعینک الرؤوفۃ و اعطف علینا فاِ نا نشکو ا الیک یُتم حالنا و غیبۃ ولینا یا ارحم الراحمین"

(خداوندا ہم پر اپنی نظر کرم فرما۔ ہر حال میں ہم پر مہربانی فرما۔ ہم آپ کی بارگاہ میں اپنی زبوں حالی اور آپ کے ولی برحق کی غیبت کا شکوہ رکھتے ہیں۔ اے ارحم الراحمین، ہم پر رحم فرما۔)

 

اس سے مربوط موضوعات

انتظار اور ہماری ذمہ داریاں
ایک مؤمن منتظر کی سب اهم ذمہ داری اور پھلا وظیفه هر دور کے امام کی معرفت اور شناخت هے ،اور فریقین کے روایات کے مطابق پیغمبر اکرم(ص) نے امام زمانه(عج) کی معرفت کا حکم دیا هے اور فرمایا هے: "من مات ولم يعرف امام زمانه مات ميتة جاهلية"(۱) جو شخص اپنے امام زمانه كي معرفت كے بغير مر جاۓ وه جاهليت كي موت مراهے۔ اسلامی تعلیمات کے روشنی میں- جسکا تذکره پهلے بھی هو چکا هے- تمام مسلمانوں کا یه عقیده هے که جس هستی کے آمد کے هم سب منتظر هیں وه ایسی شخصیت هے جن کو پروردگار عالم نے اسی دن کے لیے ذخیره کیا هے ، اس روۓ زمین پر امام زمانه اور حجت خدا هونگے اور انکے بابرکت وجود کے ذریعے مقصد بعثت کامل اورخلقت کا نتیجه حاصل هو گا –لیکن خصوصیت کے ساتھ مکتب تشیّیع کے نزدیک وه ذات ابھی بھی همارے درمیان زندگی کر رهے هیں اگر چه انکی شخصیت کی زیارت سے هم سب محروم هیں ، آپ پرده غیب سے هماری مسلسل سرپرستی کررهے هیں ،انھیں کے وسیله سے اﷲ تعالی لوگوں کو رزق فراهم کرتا هے اور زمین وآسمان اپنی جگه ثابت وبرقرار هیں – آپ خدا اور مخلوق کے درمیا ن واسطه فیض هیں تمام انبیاء واوصیاء کے علوم اور اوصاف حمیده کے وارث هیں اورآپ هی کی ذات کو اﷲ تعالی کی إراده و إجازت سے نفوس پر تصرف کرنے کا حق حاصل هے اور حق وحقیقت کی طرف هدایت کرتی هے۔
مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی
مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی امامت کے اہداف میں سے ایک ہدف امام معصوم کا لوگوں کی باطنی ہدایت ہے۔ امام لائق اور پاکیزہ دل رکھنے والے افراد کو اپنی طرف جذب کر کے انہیں کمال تک پہنچاتے ہیں۔ واضح ہے کہ انسان کا اس طرح ہدایت سے ہمکنار ہونے کے لئے ضروری نہیں کہ وہ امام کے ساتھ ظاہری رابطہ برقرار کرے۔ گذشتہ بیانات کی روشنی میں امام زمانہ (عج) کو بادل کے پیچھے پنہان روشن آفتاب سے تشبیہ دینے کا مقصد بھی واضح ہو جاتا ہے۔ اگرچہ بادل کے پیچھے پنہان سورج سے انسان مکمل طور بہرہ مند نہیں ہوتا ہے لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ اس سے انسان کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا ہے۔ بہرحال امام زمانہ (عج) کے وجود کے آثار و برکات سے بہرہ مند نہ ہونے کا سبب انسانوں کی طرف سے خاص حالات کا فراہم نہ کرنا ہے، جس کی وجہ سے لوگ اس عظیم نعمت کے فوائد سے محروم ہیں اور اس محرومیت کا سبب وہ خود ہیں نہ کہ خداوند متعال اور امام، کیونکہ خداوند متعال اور امام کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی مشکل درپیش نہیں ہے۔
مہدی موعود{عج} کا عقیدہ تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی
مہدی موعود{عج} کا عقیدہ تمام مذاہب اسلامی کے نزدیک مسلم ہے ۔اس عقیدے کی بنیاد پیغمبر اسلامصلی اللہ علیہ وآلہ وسلمسے منقول متواتر احادیث ہیں جن کے مطابق قیامت سے پہلے پیغمبر اسلامصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان سے ایک فردقیام کرے گا جو آپ ؐکا ہم نام ہوگا اوراوراس کا لقب مہدی ہو گا جو اسلامی قوانین کے مطابق عالمی سطح پر عدل و انصاف کی حکومت قائم کریں گے {یملاء الارض قسطاوعدلا کماملئت ظلماوجورا}آپ{عج}زمین کوعدل و انصاف سےاس طرح بھر دیں گےجس طرح وہ ظلم و جور سے پرہو چکی ہوگی”۔[1] شیعہ امامیہ عقائد کے مطابق مہدی موعود{عج} ان کے بارھویں امام ہیں جو 15 شعبان 255 ھ ق کو سامراء میں پیدا ہوئے۔ آپ{عج}نےپانچ سال تک اپنے والد بزرگوار امام حسن عسکری علیہ السلام کے ساتھ زندگی بسر کی اور سنہ 260ھ ق میں اپنے والد بزرگوار کی شہادت کے بعد لوگوں کی نظروں سے غائب ہو گئے اورسال 329ھ ق تک آپ {عج}کی طرف سے چار وکیل اور نائب شیعوں کے مسائل حل کرتے رہے ۔اس عرصے کو غیبت صغری کہا جاتا ہے۔اس کے بعد غیبت کبری کا مرحلہ شروع ہوا اور اس عرصے میں شیعوں کے مسائل کاحل و فصل کی ذمہ داری آپ {عج} کی طرف سے شیعہ عادل فقہاء کے سپرد ہوگئی ۔پس آپ {عج} کی ولادت باسعادت ہوئی اور آپ {عج}اس دنیا میں تشریف لائے اور آج تک زندہ ہے لیکن آپ{عج} لوگوں کی نظروں سے غائب ہے ۔

بین الاقوامی

یمنی فوج کا جیزان ائرپورٹ اور الملک خالد کیمپ پر ڈرون حملہ

یمنی فوج کا جیزان ائرپورٹ اور الملک خالد کیمپ پر ڈرون حملہ یمنی سرکاری فوج اور اسلامی مزاحتمی تحریک انصاراللہ نے جیزان ائرپورٹ اور الملک خالد فوجی کیمپ پر ڈرون حملہ کیا ہے۔

ترکی کے سر پر امریکی پابندیاں منڈلانے لگیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ترکی کی سرزنش کے لیے پابندیوں کے پیکج پر متفق ہو گئی ہے۔ خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق ترکی اور روس کے درمیان دفاعی تعلقات کی پاداش میں امریکہ نے ترکی پر پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

امام خمینی

امام خمینی رح ایک مرد عارف

حضرت امام خمینی رح کے بارے میں عام طور پر جو بات ہمارے ہاں زیادہ مشہور ہے وہ یہ کہ آپ نے ایک ملوکیت اور بادشاہت کا خاتمہ کرکے ایک اسلامی اور مذہبی حکومت قائم کی۔ لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ استعماری طاقتوں کے خلاف تھے اور استعماری طاقتوں نے آپ کی حکومت کے خاتمے کے لیے اپنے پورے وسائل بروئے کار لائے لیکن وہ اس میں ناکام ہو گئیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ امام خمینی رح بہت شجاع اور بہادر تھے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ آپ نے ناجائز طور پر قائم صہیونی حکومت کے خاتمے اور فلسطینیوں کے حقوق کے حصول کے لیے بھی آواز بلند کی۔ آپ مستضعفوں اور محروموں کے حقوق کے بھی علمبردار تھے۔ آپ نے اتحاد امت کے لیے ایک زور دار آواز بلند کی۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ ایک عالم اور فقیہ تھے اور آپ کی تقلید کی جاتی تھی۔ بعدازاں آپ کا دیوان بھی چھپا اور پاکستان میں بھی بہت سے لوگوں کو معلوم ہوا کہ آپ صاحب دیوان شاعر بھی تھے، لیکن ابھی تک جو پہلو کم شناختہ یا ناشناختہ ہے وہ یہ ہے کہ آپ ایک بلند پایہ عارف تھے اور شاید یہ کہنا زیادہ بہتر ہو کہ آپ کے وجود سے پھوٹنے والی تمام تر خوبیوں کا سرچشمہ یہی امر ہے کہ آپ ایک عارف باللہ اور عاشق الٰہی تھے اور اس سلسلے میں نظری اور عملی طور پر نہایت عمق اور گہرائی کے مقام پر فائز تھے۔

امام خمینی رہ کی زندگانی پر ایک طائرانہ نظر

بیس جمادی الثانی 1320 ہجری قمری مطابق 24ستمبر 1902 عیسوی کو ایران کے صوبہ مرکزی کے شہرخمین میں بنت رسول حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی طیب وطاہر نسل کے خاندان میں آپ ہی کے یوم ولادت با سعادت پر روح اللہ الموسوی الخمینی کی پیدائش ہوئي۔ وہ اپنے آباؤ اجداد کے اخلاق حسنہ کے وارث تھے جنہوں نے نسل درنسل لوگوں کی ہدایت ورہنمائی اورمعارف الہی کے حصول کے لئے خود کو وقف کررکھا تھا۔ یہ وہ گھرانہ تھا جو اعلی علمی مفاہیم سے مکمل طور پر آشنا تھا ۔امام خمینی کے پدربزرگوار آیت اللہ سید مصطفی مرحوم جو آیت اللہ العظمی میرزای شیرازی کے ہم عصر تھے نجف اشرف میں اسلامی علوم کے اعلی مدارج طے کرنے کے بعد درجہ اجتہاد پر فائزہوئے اور پھر ایران واپس آگئے اور شہر خمین میں تبلیغ و ہدایت کے فرائض انجام دینے لگے۔ حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ کی ولادت کو ابھی پانچ ماہ سے زیادہ کا عرصہ نہیں گذرا تھا کہ حکومت وقت کے ایجنٹوں نے ان کے والد بزرگوار کی ندائے حق کا جواب بندوق کی گولیوں سے دیا اور انھیں شہید کردیا ۔

امام خامنہ ای

ایران بحری جہاز پر برطانوی حملے کا سخت جواب دے گا، امام خامنہ ای

ایران بحری جہاز پر برطانوی حملے کا سخت جواب دے گا، امام خامنہ ای امام خامنہ ای نے آئمہ جعمہ اور جماعات کے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ایران بحری جہاز پر برطانوی حملے کا سخت جواب دے گا۔

حج کے سیاسی پہلو پرعمل کرنا شرعی فریضہ اورعبادت ہے، امام خامنہ ای

حج کے سیاسی پہلو پرعمل کرنا شرعی فریضہ اورعبادت ہے، امام خامنہ ای امام خامنہ ای نے اسلامی جمہوریہ ایران کے ادارہ حج کے عہدیداروں اور کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:حج کے سیاسی پہلو پرعمل کرنا شرعی فریضہ اور عبادت ہے۔

کلام و عقائد

بدا قرآن و حدیث کی روشنی میں

ذات الٰہی کے بارے میں بدا، حقیقت میں ابدا و اظہار ہے۔ یعنی جو کچھ خدا کے علم میں ہے اور انسان کے علم میں نہیں، اسےخداوند متعال اظہار و آشکار کرتا ہے۔ اسے بدا، کہنے کا سبب یہ ہے کہ یہ مقام فعل الٰہی میں نمایاں ہوتا ہے، اگرچہ ذات الٰہی میں جہل اور تغییر محال ہیں۔ خداوند متعال انبیاء کرام پر غیبی طریقے سے نظر رکھتا ہے تاکہ یہ لوگ وحی کے پہنچانے میں خطا سے محفوظ رہیں۔ قرآن کریم اس بارے میں ارشاد فرماتا ہے، "لِّيَعْلَمَ أَن قَدْ أَبْلَغُواْ رِسَالَاتِ رَبهِّم" تاکہ وہ دیکھ لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات کو پہنچا دیا ہے۔ واضح ہے کہ خداوند متعال پہلے سے ہی آگاہ ہے کہ انبیاء، وحی الٰہی کو صحیح طریقے سے لوگوں تک پہنچائیں گے۔

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی علم کلام کےاہم مباحث میں سے ایک حسن و قبح عقلی کا بحث ہے ۔اس سے مراد یہ ہے کہ کچھ افعال ذاتی طور پر حسن {اچھے} اور کچھ افعال ذاتی طور پر قبیح{ برے} ہیں ۔ معتزلہ اور امامیہ حسن و قبح عقلی کے قائل ہیں جبکہ اشاعرہ اس کی نفی کرتے ہیں۔ بہت سے کلامی مسائل اس بحث پر موقوف ہیں مثلا انسان کا اپنے اعمال میں خود مختار ہونا،خدا وند متعال کی بعض صفات کمالیہ کا ثبوت جیسے خدا کا عادل ہونا،اسی طرح بعض صفات سلبیہ بھی اسی بحث پر موقوف ہے جیسے خدا سے قبیح کا سرزد نہ ہونا،خداکا ظلم نہ کرنا وغیرہ ۔ جو لوگ حسن اور قبح کے قائل ہیں وہ انسانی افعال میں انسان کو مختار،خدا کو عادل مانتے ہیں جبکہ حسن و قبح کے مخالفین انسان کو مجبور اور خداکی عدالت سے انکار کرتے ہیں ۔

تربیت اولاد

خاندانی منصوبہ بندی : ایک معاشرتی ضرورت یا دھوکہ!

خاندانی منصوبہ بندی کوآج کے دور میں مختلف مملک کی حکومتیں اپنی کامیاب ترین پالیسیوں میں شمار کرتی ہیں۔ آبادی کا کنٹرول اور چھوٹا خاندان خوشحالی کا ذریعہ سمجھاجاتا ہے۔ خصوصاً محدود وسائل رکھنے والے ممالک میں اس پالیسی کو زیادہ اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے

تعليم و تربيت کے بارے ميں اسلامي علما کي آرا و نظريات

تاريخ اسلام ميں تقريبا تمام علماء و دانشور مختلف علوم ميں مھارت رکھنے کے ساتھ ساتھ تعليم و تربيت ميں بھي صاحب نظر اور مھارت کے حامل ہوا کرتے تھے اس سے اسلام ميں تعليم وتربيت کي اھميت کا پتہ چلتا ہے لھذا ہم يہاں پر علما اسلام کي نظر ميں تعليم و تربيت کي اھميت اجاگر کرنے کے لئے ان کے بعض نظريات پيش کر رہے ہيں۔

تندرستی

معدے کی جلن دورکرنے میں دودھ مفید قرار

معدے کی جلن دورکرنے میں دودھ مفید قرار سینےاور معدے کی جلن کم کرنے کے لیے ایک گھریلو ٹوٹکا دودھ بھی ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ مرغن اور مصالحے دار غذاؤں کی سوزش کم کرتا ہے۔ لیکن اب ماہرین نے اس کےسائنسی ثبوت پیش کردیئے ہیں۔

غیر صحت مند خوراک کا استعمال سیگریٹ نوشی سے بھی زیادہ خطرناک

غیر صحت مند خوراک کا استعمال سیگریٹ نوشی سے بھی زیادہ خطرناک خراب غذا نہ صرف ہماری صحت کے لئے خرابی کا باعث ہے بلکہ دنیا بھر میں شرح اموات کی بڑھتی ہوئی تعداد میں اضافے کا سبب بھی ہے۔

مہدویت{امام زمان عج}

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی امامت کے اہداف میں سے ایک ہدف امام معصوم کا لوگوں کی باطنی ہدایت ہے۔ امام لائق اور پاکیزہ دل رکھنے والے افراد کو اپنی طرف جذب کر کے انہیں کمال تک پہنچاتے ہیں۔ واضح ہے کہ انسان کا اس طرح ہدایت سے ہمکنار ہونے کے لئے ضروری نہیں کہ وہ امام کے ساتھ ظاہری رابطہ برقرار کرے۔ گذشتہ بیانات کی روشنی میں امام زمانہ (عج) کو بادل کے پیچھے پنہان روشن آفتاب سے تشبیہ دینے کا مقصد بھی واضح ہو جاتا ہے۔ اگرچہ بادل کے پیچھے پنہان سورج سے انسان مکمل طور بہرہ مند نہیں ہوتا ہے لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ اس سے انسان کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا ہے۔ بہرحال امام زمانہ (عج) کے وجود کے آثار و برکات سے بہرہ مند نہ ہونے کا سبب انسانوں کی طرف سے خاص حالات کا فراہم نہ کرنا ہے، جس کی وجہ سے لوگ اس عظیم نعمت کے فوائد سے محروم ہیں اور اس محرومیت کا سبب وہ خود ہیں نہ کہ خداوند متعال اور امام، کیونکہ خداوند متعال اور امام کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی مشکل درپیش نہیں ہے۔

احادیث

حدیث ثقلین پر ایک اجمالی نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

حدیث ثقلین ان متواتراحادیث میں سےایک ہے جسے اہل تشیع و اہل تسنن دونوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیا ہے ۔اس معروف حدیث کا متن یہ ہے :{یاایها الناس انی تارک فیکم الثقلین ،کتاب الله و عترتی ، اهل بیتی ماان تمسکتم بهما لن تضلوا بعدی ابدا و انهما لن یفترقا حتی یرداعلی الحوض ،فانظروا کیف تخلفونی فیهما }۱پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :اے لوگو:میں تمہارے درمیان دوگرانقدر چیزیں چھوڑے جاتا ہوں ۔اگر تم ان کےساتھ تمسک کئے رہو گے توکبھی گمراہ نہ ہوگے ۔ان میں سے ایک کتابخداہے اور دوسری میریعترت۔ یہ دونوں کبھی جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ دونوں میرے پاس حوض کوثر پر پہنچ جائیں ۔تم خود سوچو کہ تمہیں ان دونوں کے ساتھ کیا رویہ رکھنا چاہیے ۔

امام علی علیہ السلام کی شانِ میں چہل حدیث

مولا علیؑ کی شان میں چالیس احادیث اور یہ ﻭﻩ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ہیں ﺟﻮ ﺻﺤﺎﺡ ﺳﺘﻪ ﻣﯿﮟ بھی موجود ہے. 1= ﻋﻨﻮﺍﻥ ﺻﺤﻴﻔﺔ ﺍﻟﻤﺆﻣﻦ ﺣﺐّ ﻋﻠﻰؑ ﺑﻦ ﺍﺑﻰ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ. ﺻﺤﯿﻔﮧ ﻣﻮﻣﻦ ﮐﺎ ﻋﻨﻮﺍﻥ ﻣﺤﺒﺖِ ﻋﻠﯽؑ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻃﺎﻟﺐؑ ﮨﮯ.

چہاردہ معصومین ع

زرتشتی عالم سے امام رضا علیہ السلام کا مناظرہ

امام علی رضا علیہ السلام کو خراسان طلب کرنے کے بعد سے مامون اپنے مختلف اہداف و مقاصد کے مد نظر تمام ادیان و مذاہب کے علماء کو امام (ع) کے ساتھ مناظرہ کرنے کی دعوت دیا کرتا تھا۔ یہ مناظرہ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے جو اس زمانہ کے بزرگ زرتشتی عالم کے ساتھ امام رضا (ع) نے انجام دیا ہے۔

حضرت امام صادق علیہ السلام کی علمی خدمات

حضرت امام صادق علیہ السلام کی علمی خدمات تاریخ تشییع اس بات پر گواہ ہے کہ حضرت ختمی مرتبت کے زمانے سے غبیت کبری تک آئمہ معصومین کی رہبریت، قیادت اور حکمت عملی میں ایک غیرمعمولی طریقہ کار کا تسلسل رہا ہے۔

سب سے زیادہ زیر بحث

امام علی علیہ السلام کی شانِ میں چہل حدیث

مولا علیؑ کی شان میں چالیس احادیث اور یہ ﻭﻩ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ہیں ﺟﻮ ﺻﺤﺎﺡ ﺳﺘﻪ ﻣﯿﮟ بھی موجود ہے. 1= ﻋﻨﻮﺍﻥ ﺻﺤﻴﻔﺔ ﺍﻟﻤﺆﻣﻦ ﺣﺐّ ﻋﻠﻰؑ ﺑﻦ ﺍﺑﻰ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ. ﺻﺤﯿﻔﮧ ﻣﻮﻣﻦ ﮐﺎ ﻋﻨﻮﺍﻥ ﻣﺤﺒﺖِ ﻋﻠﯽؑ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻃﺎﻟﺐؑ ﮨﮯ.

دعا کی اہمیت

دعا کی اہمیت حضرت انسان کس قدر شرف و عظمت کا مالک ہے،اس کے لئے کائنات بنی،پوری کائنات میں اسی کو عزت و تکریم کا حق دار ٹھہرایا گیا۔تمام مخلوق اس کی خدمت اور منفعت کے لئے پیدا کی گئی۔لیکن اتنی عظمتوں کے باوجود اس کی خلقت کا مقصد اللہ کی معرفت اور عبادت قرار دیا گیا۔لہذا انسان کا اہم کام خدا سے ارتباط و ربط ہے۔مگر کیسا رابطہ؟ اتنی عظمتوں کے باوجود بارگاہ خداوندی میں فقر محض اور احتیاج محض ہے جبکہ ذات پروردگار غناء ہی غناء ہے۔بلندی ہی بلندی ہے۔انسان مشکلات،مصائب اور تکالیف میں ایسی ذات کی طرف رجوع کر کے اپنے فقر اور احتیاج محض ہونے کا اقرار و اعتراف کرتے ہوئے اپنی نفی اور بے ثباتی کا اظہار کرتا نظر آتا ہے۔اس سلسلے میں انسان کا ایک اہم وسیلہ دعا ہے۔دعا کے ذریعے اپنی احتیاج کا اظہار بھی کرتا ہے اوراللہ سے اعانت کی التجا بھی کرتا ہے۔

قرآنِ کریم اور اصلاحِ معاشرہ تحریر: عارف حسین تھہیم

لفظِ ’’اصلاح‘‘ درست کرنے، صحیح کرنے اور خرابی کو دُور کے معنی میں آتا ہے۔ معاشرتی اور اجتماعی مفہوم کے اعتبار سے شائستہ اور نیک عمل انجام دینے، نیز فساد و تباہی کو ختم کرنے کے لیے بھی اصلاح کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ ارشادِ پروردگار ہے: ﴿ إِلاَّ الَّذِينَ تَابُواْ وَأَصْلَحُواْ وَبَيَّنُواْ فَأُوْلَئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ﴾[1]؛ ’’سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے توبہ کی اور اپنے کئے کی اصلاح کر لی اور (جس کو چھپایا ہوا تھا) واضح کر دیا تو ایسے ہی لوگوں کی توبہ میں قبول کرتا ہوں اور بےشک میں بڑا توبہ قبول کرنے والا اور بہت مہربان ہوں۔‘‘ حقیقی توبہ میں گذشتہ بُرائی اور فساد کا دُور کرنا اور آئندہ بُرائی و فساد سے بچے رہنے کا تہیہ کرنا ضروری ہے۔ شائستہ اور صالح معاشرے کی تشکیل کا ہدف اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی دُنیوی و اُخروی اور مادی و معنوی ضرورتوں کو پورا کیا جائے؛ لہٰذا صالح معاشرے کی خصوصیات یہ ہیں کہ اس میں ہر ایک کی جان، مال، عزّت و آبرو اور ناموس محفوظ ہوتی ہے، لوگوں کی درمیان مہر و محبت اور اپنائیت کا راج ہوتا ہے اور سب لوگ روحانی و معنوی لحاظ سے پُرسکون اور مطمئن ہوتے ہیں۔

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ بسم اللہ الرحمن الرحیم بنام خدائے رحمن و رحیم اٴَللّٰھُمَّ اِنّيِ اٴَسْاٴَ لُکَ بِرَحْمَتِکَ الَّتي وَ سِعَتْ کُلَّ شَيْءٍ،وَ بِقُوَّتِکَ الَّتي قَھَرْتَ خدایا میراسوال اس رحمت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر محیط ھے۔ اس قوت کے واسطہ سے ھے جو ھر چیز پر حاوی ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ،وَخَضَعَ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ،وَذَلَّ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ، وَبِجَبَرُوتِکَ الَّتي غَلَبْتَ اور اس کے لئے ھر شے خاضع اور متواضع ھے۔ اس جبروت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر غالب ھے اور اس عزت کے واسطہ سے ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ، وَ بِعِزَّتِکَ الَّتي لاٰ یَقُومُ لَھٰا شَيْءٌ، وَبِعَظَمَتِکَ الَّتي مَلَاٴَتْ کُلَّ جس کے مقابلہ میں کسی میں تاب مقاومت نھیں ھے۔اس عظمت کے واسطہ سے ھے جس نے ھر چیز کو پر کردیا ھے شَيْءٍ، وَ بِسُلْطٰانِکَ الَّذي عَلاٰ کُلَّ شَيْءٍ، وَبِوَجْھِکَ الْبٰاقي بَعْدَ فَنٰاءِ کُلِّ شَيْءٍ،

تلاوت قرآن کی فضیلت

'پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا، جو شخص رات کو دس آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام غافلین (جو یاد خدا سے بے بہرہ رہتے ہیں) میں نہیں لکھا جائے گا اور جو شخص پچاس آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام ذاکرین (جو خدا کو یاد کرتے ہیں، حرام و حلال کا خیال رکھتے ہیں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص سو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام قانتین (عبادت گزاروں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص دوسو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام خاشعین (جو خدا کے سامنے متواضع ہوں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص تین سو آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام سعادت مندوں میں لکھا جائے گا، جو شخص پانچ ہزار آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام عبادت اور پرستش خدا کی کوشش کرنے والوں میں لکھا جائے گا اور جو شخص ہزار آیتوں کی تلاوت کرے وہ ایسا ہے جیسے اس نے کثیر مقدار میں سونا راہ خدا میں دے دیا ہو۔،،

تربیت اولاد کے انمول اصول تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

لغت کی کتابوں میں لفظ" تربیت" کے لیے تین اصل اور ریشہ ذکر ہوئے ہیں۔ الف:ربا،یربو زیادہ اور نشوونما پانےکے معنی میں ہے۔ ب: ربی، یربی پروان چڑھنا اور برتری کے معنی میں ہے۔ج: رب،یرب اصلاح کرنے اور سرپرستی کرنے کے معنی میں ہے۔۱صاحب مفردات کا کہنا ہے کہ "رب" مصدری معنی ٰ کے لحاظ سے کسی چیز کو حد کمال تک پہچانے ، پرورش اور پروان چڑھانے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ۲ صاحب التحقيق کا کہنا ہے اس کا اصل معنی ٰ کسی چیز کو کمال کی طرف لے جانے ، نقائص کو تخلیہ اور تحلیہ کے ذریعےرفع کرنے کے معنی ٰ میں ہے۔۳ بنابر این اگر اس کا ريشه(اصل) "ربو" سے ہو تو اضافہ کرنا، رشد ، نمو اور موجبات رشد کو فراہم کرنے کے معنی ٰ میں ہےلیکن ا گر "ربب" سے ہو تو نظارت ، سرپرستي و رهبري اور کسی چیز کو کمال تک پہنچانے کے لئے پرورش کے معنی ٰ میں ہے۔

اقوال حضرت امام علی علیہ السلام

قال علی علیہ السلام :وا علم ان الخلائقییی لم یوکدوا بشئی اعظم من التقویٰ فانہ وصیتنا اھل البیت (۱) ترجمہ: حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں : لوگوں کو تقویٰ سے زیادہ کسی چیز کی تاکید نھیںکی گئی اس لئے کہ یہ ھم اھل بیت کی وصیت ھے ۔ حدیث (۲)

پیٹ کا درد کئی امراض کی علامت ہوسکتا ہے

اگر پیٹ میں درد ہورہا ہو تو اس کی کئی وجوہ ہوسکتی ہیں۔ اکثر ناقص غذا کی وجہ سے معدے میں تکلیف ہونے لگتی ہے جسے ہم پیٹ کے درد سے تعبیر کرتے ہیں۔ معدے کا درد کئی امراض کی علامت بھی ہوسکتا ہے، اس لیے اسے نظرانداز نہیں کرنا چاہیے اور بلاتاخیر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

مشاہدات

آج

1339

کل

481

اس ماہ

18195

اس سال

104876

ٹوٹل مشاہدات

274104