علماء کونسل کچورا سکردو بلتستان

متن

آیت تطہیر پر ایک اجمالی نظر

تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

قرآن مجید کی سورہ  احزاب آیہ ۳۳ میں اللہ تعالی نے اہل بیت علیہم السلام کو ہر قسم کی پلیدگی اور رجس سے پاک رکھنے کا ارادہ فرمایا ہے ۔شیعہ علماءائمہ معصومین علیہم السلام کی عصمت کے اثبات کے لئے اس آیت سے استدلال کرتے ہیں۔(إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَ يُطَهِّرَكمُ‏ تَطْهِيرًا(۱اللہ کا ارادہ  توبس یہ ہے کہ تم سے ہر برائی کودوررکھے اور تمہیں اس طرح پاک وپاکیزہ رکھے جس طرح پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے۔۲

کلمہ (رجس ) سے مراد ہر قسم کی فکری اور عملی پلیدی منجملہ شرک، کفر، نفاق اور جہل و گناہ  پر مشتمل ہے۔چونکہ کلمہ رجس کا متعلق حذف ہوا ہے اور ساتھ میں الف ولام استغراق بھی داخل ہوئی ہے جو جنس اور طبیعت رجس کے نفی ہونے کا فائد ہ دیتا ہے۔ اس کے علاوہ جملہ( ویطّہرکم تطھیراً ) بطور تاکید آیا ہے اس سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ(لیذہب عنکم الرجّس ۔۔)ہر قسم کی معنوی آلودگی اور گناہ خواہ صغیرہ ہو یا کبیرہ ؛ ان تمام پلیدیوں کو نفی کیا ہے پس اللہ تعالی نے اہل بیت اطہار کو ہرقسم کی آلودگیوں سے پاک رکھنے کا ارداہ کیاہے جس کا لازمہ عصمت ہے ۔

حضرت عائشہ سےمروی ہے کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جس وقت رسول اسلامصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زیر کساء علی ، فاطمہ اور حسنین علیہم السلام کو جمع کیا تھا ۔یہی بات ترمذی اور مسند احمد میں بھی ہے۔ تفسیر طبری میں ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ جناب ام سلمہ نے زیر کساء آنے کی درخواست کی تو رسول اسلامصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا انجام بخیر ہے لیکن چادر میں تمہاری گنجائش نہیں ہے ۔ بعض مفسرین نےیہ سوال اٹھایا ہے کہ یہ آیت ازواج پیغمبر کے تذکرہ کے ذیل میں وارد ہوئی ہے تو ان کے خارج کرنے اور دیگرافراد  کے مراد لینے کا جواز کیا ہے ؟ لیکن اس کا واضح جواب یہ ہے کہ :

 اولا:سیاق سند نہیں ہوا کرتا اس لئے کہ قرآن کوئی تصنیف یا تالیف نہیں ہے کہ اس میں ان باتوں کا خیال رکھا جائے ۔اس میں بے شمار مقامات ایسے ہیں جہاں ایک تذکرہ کے بعد دوسرا تذکرہ شروع ہو جاتا ہے اور پھر پلٹ کر وہیں پہنچ جاتی ہے ۔

ثانیا :آیت تطہیرکا عنوان اہل بیت ہے جو ازواج اور نساء سے مختلف عنوان ہے ۔

ثالثا: یہ کہ روایات صریحہ وصحیحہ  کےہوتے ہوئے سیاق سے استدلال کرنا عقل و منطق کے خلاف ہے ۔

یاد رہے کہ کلمہ(إنما) حصر اور قصر کے لئے استعمال ہوتا ہے لہذا خداوند متعال کا اہل بیتعلیہم السلام کی نسبت جو ارادہ ہے وہ ایک خاص ارادہٴطہارت ہے یعنی یہاں ارادہ تکوینی  مراد ہے نہ کہ ارادہ تشریعی کیونکہ ارادہٴتشریعی کے ذریعے جو طہارت حاصل ہوتی ہےوہ کسی کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتی جیسے وضو ،غسل اور تیمم کے احکام کے بیان کے بعد ارشادہوتا ہے :(مَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُم مِّنْ حَرَجٍ وَ لَكِن يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُم)۳خدا تمہیں کسی طرح کی زحمت نہیں دیناچاہتا بلکہ یہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک و پاکیزہ بنا دے۔ اسی طرح زکات کےبارے میں ارشاد فرماتا ہے : (خُذْ مِنْ أَمْوَالهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَ تُزَكِّيهِم بهِا)۴پیغمبر: آپ انکےاموال میں سے زکوۃ لے لیجئےتاکہ آپ اس کے ذریعے انہیں پاک و پاکیزہ بنائیں۔

ارادہ ٴتکوینی اورارادہ ٴتشریعی کے درمیان فرق یہ ہےکہ خداوند متعال نے ارادہٴ تشریعی کے ذریعے جو چیزیں انسانوں سے چاہی ہیں انہیں انسان کےاختیار میں رکھا ہے اور ممکن ہے کہ انسان اس چیز کا انتخاب نہ کرے۔بالفاظ دیگریعنی ارادہٴ تشریعی کے برعکس کام کرنا ممکن ہے۔ بعبارت دیگر ارادہٴ تشریعی وہی ہدایت تشریعی ہے جہاں ہادی  ہدایت کے راستے کی نشاندہی کرتا ہے لیکن چونکہ انسان مختار و آزاد خلق ہوا ہے اس لئے ممکن ہے کہ وہ خوشبختی کا  راستہ انتخاب کرے یا بدبختی  کا راستہ جیساکہ ارشاد باری تعالی ہے:(إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَ إِمَّا كَفُورًا(۵یقینا ہم نے اسے راستے کی نشاندہی کی ہے۔اب چاہےوہ شکر گزار ہو جائے یا کفران نعمت کرنے والا ہو جائے ۔ارادہٴ تکوینی اور ہدایت تکوینی  ایصال الی المطلوب ہےجس میں تخلف ممکن نہیں ہے  جیسے(إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْا أَن يَقُولَ لَهُ كُن فَيَكُون(۶اس کا امر صرف یہ ہے کہ کسی شے کے بارے میں یہ کہنے کا ارداہ کرے کہ ہو جاتووہ شے ہو جاتی ہے۔

مذکورہ مباحث سے مندرجہ ذیل نتائج حاصل ہوتےہیں:

الف: خدا نے اہل بیت پیغمبر علیہم السلامسے ہر قسم کی آلودگیوں کو ارادہٴ تکوینی کے ذریعے دور فرمایا ہے ۔

ب:خدا کا ارداہٴ تکوینی حتما انجام پاتا ہے۔چونکہ خطا اورمعصیت معنوی آلودگی شمار ہوتی ہیں لہذا اہل بیت پیغمبر علیہم السلامہر قسم کے گناہوں سے مبراو منزہ ہیں ۔ بنابریں ہم مندرجہ ذیل نکات کے ذریعہ اہل بیت  علیہم السلام کے مصداق کو معین کر سکتے ہیں:

1۔مذاہب اسلامی میں سے کسی بھی مکتب فکر کے نزدیک پیغمبر اسلامصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج اورآپ ؐ کے خاندان کے دوسرے افراد سوائےحضرت زہرا سلام اللہ علیہا  اور انکے شوہر اور فرزندوں کے عصمت کے درجے پر فائز نہیں۔ شیعہ حضرت زہراء سلام اللہ علیہااور ان کے ہمسر اور فرزندوں کو معصوم سمجھتے ہیں لہذا شیعہ مذہب کے نظرئیے کو قبول نہ کرنے کی صورت میں آیت تطہیر کا کوئی مصداق نہیں ہے اور یہ آیت تطہیر کی دلالت کے برخلاف ہے ۔

۲۔آیت تطہیر سے پہلےاور بعد کی آیتیں ازواج  پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلمسے مربوط ہیں چنانچہ ان آیات میں جمع مونث کی ضمیر استعمال ہوئی ہے جیسے (ان کنتن تردن الله .......) (من یات منکن بفاحشة......)(و قرن فی بیوتکن ..)(واذکرن ما یتلی فی بیوتکن .....)جبکہ آیت تطہیر میں جمع مذکر کی ضمیر استعمال ہوئی ہے جیسے ( عنکم ... یطهرکم ..)لہذا یہ آیت  ازواج پیغمبر پرمنطبق نہیں ہوسکتی لیکن یہ شیعوں کے نظرئیے کے ساتھ قابل تطبیق ہے کیونکہ حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کے علاوہ باقی افراد{حضرت علی ، امام حسن اور امام حسین علیہم السلام سب مذکر ہیں اوریہاں جمع مذکر کی ضمیر کااستعمال ادبی لحاظ سے صحیح ہے کیونکہ ان کی اکثریت مذکر ہے  ۔

۳۔آیت تطہیر کی شان نزول میں جتنی حدیثیں نقل ہوئی ہیں ان میں حضرت علی علیہ السلام ،حضرت زہراء سلام اللہ علیہا،امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کو اہل بیت کا مصداق قرار دیا گیاہے۔حضرت ام سلمہ ؓنے پیغمبر اسلامصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سےپوچھا : کیا میں بھی اہل بیت میں سے ہوں اور آیت تطہیر کے حکم میں شامل ہوں؟ آپ ؐنے فرمایا:( انک الی خیر)۷تم راہ راست پر ہو ،لیکن انہیں اہل بیت میں شامل نہیں کیا ۔ اسی طرح صحیح مسلم میں حضرت عائشہ سے نقل ہے :پیغمبر اسلامصلی اللہ علیہ و آلہ وسلمسیاہ چادر اوڑھے ہوئے تھے اور امام حسن ،امام حسین،حضرت فاطمہ زہراء اور حضرت علی علیہم السلام چادر کے نیچے موجود تھے۔ اس وقت آپ  ؐنے فرمایا :( إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَ يُطَهِّرَكمُ‏ تَطْهِيرًا(اللہ کا اردہ توبس یہ ہے کہ تم سے ہر برائی کودوررکھے اورتمہیں اس طرح پاک وپاکیزہ رکھے جس طرح پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے۔۸اسی طرح آیت تطہیر کے پیغمبر اسلامصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم،حضرت زہراءسلام اللہ علیہا،حضرت علی علیہ السلام اور حسنینعلیہماالسلام کی شان میں نازل ہونے کے بارےمیں تقریباسترسےزیادہ حدیثیں موجودہیں۔اہل سنت نےتقریباچالیس احادیث حضرت ام سلمہ،حضرت عائشہ،ابو سعیدخدری،ابن عباس ،عبداللہ بن جعفر ،وائلہ بن اسقع ،حضرت علی علیہ السلامامام حسنعلیہ السلاماور دوسرے افراد سے نقل کی ہیں۔اسی طرح شیعہ کتب حدیث میں تقریبا تیس احادیث حضرت علی علیہ السلام ،امام زین العابدینعلیہ السلام، امام محمدباقر علیہ السلام،امام جعفرصادق علیہ السلام،امام رضا علیہ السلام،ابوذر ،ابولیلی ،ابو الاسود دوئلی اور دوسرے افراد سے نقل ہوئی ہیں ۔۹

۴۔ اہل سنت کے بزرگ عالم دین ابن کثیر، نے اپنی تفسیر میں "آیت تطہیر" کی تفسیر کرتے ہوئے امام حسن مجتبی علیہ السلام سے ایک روایت نقل کی ہے اور کہا ہےامام حسن علیہ السلام نے بر سر منبر فرمایا ہے: "ہم ہی وہ اہل بیت ہیں جن کے حق میں خدا نے آیت تطہیر نازل فرمائی ہے۔ابن کثیر امام سجادعلیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ(ع) نے ایک شامی مرد سے فرمایا: "ہم ہی اہل بیت کا مصداق ہیں۱۰۔

آیت تطہیر میں ارادہٴ تکوینی مراد ہے اور ارادہ تکوینی میں تخلف ناممکن ہے۔ اسی لئے اہل بیتعلیہم السلامکا  ہرقسم کی آلودگیوں سے پاک و پاکیزہ ہو نا ایک قطعی اور تخلف ناپذیر امر ہے لیکن یہاں یہ سوال پیش آتا ہے کہ اہل بیت علیہم السلام کی عصمت کا غیر اختیاری ہونا ان کے افعال کے غیر اختیاری اور اجباری ہونے پر دلالت کرتا ہے جو ان کے لئے کمال محسوب نہیں ہوتا ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ارادہ تکوینی سے مراد اہلبیت علیہم السلام کا گناہوں اور دوسری آلودگیوں سے پاک و پاکیزہ ہونا ہے لیکن ان کے پاک و پاکیزہ ہونے اور افعال کے اختیاری ہونے میں کوئی منافات نہیں ہے کیونکہ عصمت  کے کچھ خاص اسباب ہیں جنہیں خداوند متعال نے ائمہ اطہار علیہم السلام کے اختیار میں دے دیا ہے ۔ ائمہ اطہار علیہمالسلام خداوند متعال کی عظمت اور گناہوں کے عواقب و آثار کے بارے میں قطعی علم رکھتے ہیں۔ لہذا اس مخصوص علم کے ذریعے وہ خداوند متعال کی اطاعت کرنے اور گناہوں سے دور رہنے کا ارادہ کرتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ ہر قسم کے گناہوں سے پاک و پاکیزہ رہتے ہیں ۔ یہاں اس بات سےکوئی فرق نہیں پڑتا کہ  خداوند متعال یہ مخصوص علم ابتداء میں ہی کسی کو عطا کرےیا یہ کہ بعض اعمال بجا لانے کی بدولت انہیں عطا فرمائے ۔یعنی یہ علم  اکتسابی ہو کیونکہ جو چیزیہاں اہمیت رکھتی ہے وہ یہ ہے کہ مقام عصمت  ائمہ معصومینعلیہم السلام کی ذات اور حقیقت کو دگرگوں نہیں کرتا اور انسان ہونے کے ناطے ان سے گناہ کا سرزد ہونا ممکن رہتاہے  لیکن مقام عصمت پر پہنچتے ہی یہ امر ناممکن ہو جاتا ہے یہ حقیقت پرہیزگار افراد کے اندربھی قابل ملاحظہ ہے۔بطور مثال ایک متقی و پرہیزگار انسان کسی کو عمدا قتل نہیں کرتا یعنی وہ اس قسم کا  گناہ انجام دینے کے معاملے میں معصوم ہے یعنی تقوی کی مضبوط قوت اسے اس کام سے روکتی ہے اگرچہ انسان ہونے کے ناطے اس سے اس قسم  کے افعال کا سرزد ہونا ممکن ہے ۔ یا مثلا زہر کے خواص سے اطلاع رکھنے والا ماہر و حذاق طبیب یا شخص کبھی بھی زہریلے مادے کو تناول نہیں کرتا حالانکہ وہ اس زہریلے مادے کو کھا سکتا ہے لیکن اس کا علم اور اس کے فکری اور روحانی آگہیاں اسے ایسا نہیں کرنے دیتیں اور وہ اپنے ارادے اور اختیار کے ساتھ اس کام سے چشم پوشی کرتا ہے۔اسی طرح والدین عام حالت میں کبھی بھی اپنے بیٹے کو قتل نہیں کرسکتے اس قسم  کا کام ان سے سرزد ہوناممکن نہیں ہے اگرچہ انسان ہونے کے ناطے اس قسم  کےافعال ان سے سرزد ہو سکتے ہیں لیکن ماں باپ کی محبت اور عواطف انہیں مجبور کرتی ہیں کہ وہ اس قسم کےدلخراش کاموں کاتصور بھی نہ کریں چہ جائیکہ اسے قتل کریں ۔۱۱

حوالہ جات:

۱۔احزاب ،33۔

۲۔صحیح مسلم ،ج2 ،ص 116 -انوار القرآن ،علامہ ذیشان حیدرجوادی۔

۳۔مائدہ ،6۔

۴۔توبہ:103۔

۵۔انسان،3۔

۶۔یسین،82 ۔

۷۔اسباب النزول ،ص 239۔

۸۔صحیح مسلم،24،1813 ،کتاب فضائل الصحابۃ۔

۹۔آیت تطہیر کی تفسیر جاننے کے لئے ان کتابوں کی طرف مراجعہ کریں:تبیان،ج،8ص 340۔مجمع البیان، ج4،ص357۔المیزان ،ج16،ص309 – 313۔اور کتاب آیۃا لتطہیر، تالیف شیخ محمد مہدی آصفی ۔

۱۰۔ابن کثیر دمشقی، تفسیر القرآن العظیم، ج 6، تحقیق: محمدحسین شمس الدین، 1419ق.، ص 371.

۱۱۔المیزان ،ج 11 ،ص163۔

 

 

 

اس سے مربوط موضوعات

قرآنِ کریم اور اصلاحِ معاشرہ تحریر: عارف حسین تھہیم
لفظِ ’’اصلاح‘‘ درست کرنے، صحیح کرنے اور خرابی کو دُور کے معنی میں آتا ہے۔ معاشرتی اور اجتماعی مفہوم کے اعتبار سے شائستہ اور نیک عمل انجام دینے، نیز فساد و تباہی کو ختم کرنے کے لیے بھی اصلاح کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ ارشادِ پروردگار ہے: ﴿ إِلاَّ الَّذِينَ تَابُواْ وَأَصْلَحُواْ وَبَيَّنُواْ فَأُوْلَئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ﴾[1]؛ ’’سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے توبہ کی اور اپنے کئے کی اصلاح کر لی اور (جس کو چھپایا ہوا تھا) واضح کر دیا تو ایسے ہی لوگوں کی توبہ میں قبول کرتا ہوں اور بےشک میں بڑا توبہ قبول کرنے والا اور بہت مہربان ہوں۔‘‘ حقیقی توبہ میں گذشتہ بُرائی اور فساد کا دُور کرنا اور آئندہ بُرائی و فساد سے بچے رہنے کا تہیہ کرنا ضروری ہے۔ شائستہ اور صالح معاشرے کی تشکیل کا ہدف اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی دُنیوی و اُخروی اور مادی و معنوی ضرورتوں کو پورا کیا جائے؛ لہٰذا صالح معاشرے کی خصوصیات یہ ہیں کہ اس میں ہر ایک کی جان، مال، عزّت و آبرو اور ناموس محفوظ ہوتی ہے، لوگوں کی درمیان مہر و محبت اور اپنائیت کا راج ہوتا ہے اور سب لوگ روحانی و معنوی لحاظ سے پُرسکون اور مطمئن ہوتے ہیں۔
قرآن اور ہماری ذمہ داریاں تحریر: اشرف حسین انیس کچوروی
قرآن کریم ایک ایسی کتاب ہے جو پروردگار دو جہان کی طرف سے اپنے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے ایک زندہ و جاوید معجزہ ہے یہ خداوند متعال کی طرف سے آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ پوری دنیا کے لئے آخری پیغام ہے۔ یہ ایک ایسی کتاب ہے جو ظلمت اور تاریکی میں روشنی اور چراغ ہے، فردی اور اجتماعی درد اور مرض کے لئے شفاء ہے، تمام علوم کا منبع اور منشأ ہے، مسلمانوں کے اتحاد کا مرکز اور محور ہے، کمال اور سعادت کے طالبین کے لئے ذریعہ پیشرفت ہے اور سب سے بڑھ کر اس کتاب الہی کی خصوصیت یہ کہ تمام مسلمان ہر زمانے میں اس بے مثال کتاب کی طرف محتاج ہے۔ حضرت علی علیه السلام قرآن کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: یاد رکھو کہ یہ قرآن وہ ناصح ہے جو دھوکہ نہیں دیتا ہے اور وہ ہادی ہے جو گمراہ نہیں کرتا ہے وہ بیان کرنے والا ہے جو غلط بیانی سے کام لینے والا نہیں ہے۔ کوئی شخص اس کے پاس نہیں بیٹھتا ہے مگر یہ کہ جب اٹھتا ہے تو ہدایت میں اضافہ کر لیتا ہے یا کم سے کم گمراہی میں کمی کر لیتا ہے۔
صدقہ روزی میں اضافہ کا باعث ہے تحریر: سید عقیل حیدر زیدی
قرآنِ کریم کی بہت سی آیاتِ کریمہ میں واجب اور مستحب صدقات کا ذکر ہوا ہے اور اکثر مقام پر نماز اور زکات دونوں کو ایک ساتھ بیان کیا گیا ہے؛ یعنی اعضاء و جوارح کی جسمانی اور مال و ثروت کی مالی عبادت کو خداوندِ متعال نے ایک ساتھ ذکر فرمایا ہے۔ جہاں جسمانی عبادت انسان کی فردی و ذاتی شخصیت اور کردار سازی میں اہم کردار ادا کرتی ہے، وہیں مالی عبادت معاشرے اور سوسائٹی کی کردار سازی، اموال کی تقسیم اور توزیع میں توازُن، فقر و تنگدستی کے دُور ہونے اور معاشرتی بےراہ روی اور فساد کے خاتمہ میں انتہائی اہم عامل ہے۔ اگر انسانی معاشرے میں موجود ہر فرد فقط اپنی اور اپنے سے متعلقہ چند افراد کی فکر کرے اور معاشرے کے غریب و تنگدست طبقات کو بھول جائے تو نہ صرف یہ کہ اُس نے اپنی انسانی اور دینی ذمہ داریوں کو ادا نہیں کیا ہے، بلکہ معاشرے میں پنپنے اور پھیلنے والی بُرائیوں اور بےراہ روی کا باعث بھی بنا ہے۔

بین الاقوامی

کرتار پور راہداری کے افتتاح سے پاک بھارت تعلقات میں بہتری آئےگی، من موہن سنگھ

کرتار پور راہداری کے افتتاح سے پاک بھارت تعلقات میں بہتری آئےگی، من موہن سنگھ سابق بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کا کہنا ہے کہ کرتار پور راہداری کا افتتاح تاریخی لمحہ ہے، راہداری کھولنے سے پاکستان بھارت کےتعلقات میں بہتری آئے گی۔

بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی جگہ مندر تعمیر کرنے کا حکم دے دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی جگہ مندر تعمیر کرنے کا حکم دے دیا بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی حکومت کو حکم دیا کہ 3 سے 4 ماہ کے اندر اسکیم تشکیل دے کر زمین کو مندر کی تعمیر کے لئے ہندووں کے حوالے کرے۔

امام خمینی

امام خمینی رہ کے انقلابی نظریات اور اس کے اثرات

امام خمینی علیہ الرحمہ کی شخصیت اعلم فقیہ، واصل عارف اور با بصیرت راہبر جیسی صفات کی حامل ہے، ایران کی سرزمین پر دو ہزار پانچ سو سالہ پرانی شہنشاہیت کو شکست دینے کے بعد شرق و غرب کی سپر پاورز کا سامنا کرنے والی شخصیت ہے۔

امام خمینی رح ایک مرد عارف

حضرت امام خمینی رح کے بارے میں عام طور پر جو بات ہمارے ہاں زیادہ مشہور ہے وہ یہ کہ آپ نے ایک ملوکیت اور بادشاہت کا خاتمہ کرکے ایک اسلامی اور مذہبی حکومت قائم کی۔ لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ استعماری طاقتوں کے خلاف تھے اور استعماری طاقتوں نے آپ کی حکومت کے خاتمے کے لیے اپنے پورے وسائل بروئے کار لائے لیکن وہ اس میں ناکام ہو گئیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ امام خمینی رح بہت شجاع اور بہادر تھے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ آپ نے ناجائز طور پر قائم صہیونی حکومت کے خاتمے اور فلسطینیوں کے حقوق کے حصول کے لیے بھی آواز بلند کی۔ آپ مستضعفوں اور محروموں کے حقوق کے بھی علمبردار تھے۔ آپ نے اتحاد امت کے لیے ایک زور دار آواز بلند کی۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ ایک عالم اور فقیہ تھے اور آپ کی تقلید کی جاتی تھی۔ بعدازاں آپ کا دیوان بھی چھپا اور پاکستان میں بھی بہت سے لوگوں کو معلوم ہوا کہ آپ صاحب دیوان شاعر بھی تھے، لیکن ابھی تک جو پہلو کم شناختہ یا ناشناختہ ہے وہ یہ ہے کہ آپ ایک بلند پایہ عارف تھے اور شاید یہ کہنا زیادہ بہتر ہو کہ آپ کے وجود سے پھوٹنے والی تمام تر خوبیوں کا سرچشمہ یہی امر ہے کہ آپ ایک عارف باللہ اور عاشق الٰہی تھے اور اس سلسلے میں نظری اور عملی طور پر نہایت عمق اور گہرائی کے مقام پر فائز تھے۔

امام خامنہ ای

عراق و لبنان کے ہمدردوں کی پہلی ترجیح ناامنی کا علاج ہونا چاہیئے، آیت اللہ سید علی خامنہ ای

رہبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ ان تمامتر خباثتوں اور خطرناک کینہ پروریوں کے موجب چند ایک جانے پہچانے ہاتھ ہیں جبکہ ان تمام حوادث کے پیچھے امریکی و مغربی انٹیلیجنس ایجنسیز ہیں اور خطے کی بعض آمر حکومتوں کا پیسہ ہے، البتہ دشمن نے ایران کیلئے بھی ایسے ہی منصوبے تیار کر رکھے تھے، لیکن خوش قسمتی کیساتھ ایرانی قوم نے میدان میں قدم رکھتے ہوئے عقلمندی سے کام لیا۔

امام خامنہ ای آیت اللہ مکارم شیرازی کی عیادت کرنے اسپتال پہنچ گئے

امام خامنہ ای آیت اللہ مکارم شیرازی کی عیادت کرنے اسپتال پہنچ گئے . رہبر انقلاب حضرت سید علی خامنہ ای آیت اللہ مکارم شیرازی کی عیادت کیلئے اسپتال تشریف لے گئے۔

کلام و عقائد

بدا قرآن و حدیث کی روشنی میں

ذات الٰہی کے بارے میں بدا، حقیقت میں ابدا و اظہار ہے۔ یعنی جو کچھ خدا کے علم میں ہے اور انسان کے علم میں نہیں، اسےخداوند متعال اظہار و آشکار کرتا ہے۔ اسے بدا، کہنے کا سبب یہ ہے کہ یہ مقام فعل الٰہی میں نمایاں ہوتا ہے، اگرچہ ذات الٰہی میں جہل اور تغییر محال ہیں۔ خداوند متعال انبیاء کرام پر غیبی طریقے سے نظر رکھتا ہے تاکہ یہ لوگ وحی کے پہنچانے میں خطا سے محفوظ رہیں۔ قرآن کریم اس بارے میں ارشاد فرماتا ہے، "لِّيَعْلَمَ أَن قَدْ أَبْلَغُواْ رِسَالَاتِ رَبهِّم" تاکہ وہ دیکھ لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات کو پہنچا دیا ہے۔ واضح ہے کہ خداوند متعال پہلے سے ہی آگاہ ہے کہ انبیاء، وحی الٰہی کو صحیح طریقے سے لوگوں تک پہنچائیں گے۔

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی علم کلام کےاہم مباحث میں سے ایک حسن و قبح عقلی کا بحث ہے ۔اس سے مراد یہ ہے کہ کچھ افعال ذاتی طور پر حسن {اچھے} اور کچھ افعال ذاتی طور پر قبیح{ برے} ہیں ۔ معتزلہ اور امامیہ حسن و قبح عقلی کے قائل ہیں جبکہ اشاعرہ اس کی نفی کرتے ہیں۔ بہت سے کلامی مسائل اس بحث پر موقوف ہیں مثلا انسان کا اپنے اعمال میں خود مختار ہونا،خدا وند متعال کی بعض صفات کمالیہ کا ثبوت جیسے خدا کا عادل ہونا،اسی طرح بعض صفات سلبیہ بھی اسی بحث پر موقوف ہے جیسے خدا سے قبیح کا سرزد نہ ہونا،خداکا ظلم نہ کرنا وغیرہ ۔ جو لوگ حسن اور قبح کے قائل ہیں وہ انسانی افعال میں انسان کو مختار،خدا کو عادل مانتے ہیں جبکہ حسن و قبح کے مخالفین انسان کو مجبور اور خداکی عدالت سے انکار کرتے ہیں ۔

تربیت اولاد

خاندانی منصوبہ بندی : ایک معاشرتی ضرورت یا دھوکہ!

خاندانی منصوبہ بندی کوآج کے دور میں مختلف مملک کی حکومتیں اپنی کامیاب ترین پالیسیوں میں شمار کرتی ہیں۔ آبادی کا کنٹرول اور چھوٹا خاندان خوشحالی کا ذریعہ سمجھاجاتا ہے۔ خصوصاً محدود وسائل رکھنے والے ممالک میں اس پالیسی کو زیادہ اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے

تعليم و تربيت کے بارے ميں اسلامي علما کي آرا و نظريات

تاريخ اسلام ميں تقريبا تمام علماء و دانشور مختلف علوم ميں مھارت رکھنے کے ساتھ ساتھ تعليم و تربيت ميں بھي صاحب نظر اور مھارت کے حامل ہوا کرتے تھے اس سے اسلام ميں تعليم وتربيت کي اھميت کا پتہ چلتا ہے لھذا ہم يہاں پر علما اسلام کي نظر ميں تعليم و تربيت کي اھميت اجاگر کرنے کے لئے ان کے بعض نظريات پيش کر رہے ہيں۔

تندرستی

لہسن اور پیاز چھاتی کے سرطان سے بچانے میں مددگار

لہسن اور پیاز ایشیا میں ایک عرصے سے استعمال ہورہی ہیں اور اب ان کے متعلق اچھی خبر یہ آئی ہے کہ ان دونوں جادوئی سبزیوں کا بھرپور اور مسلسل استعمال خواتین کو چھاتی کے سرطان (بریسٹ کینسر) سے محفوظ رکھتا ہے۔

گوشت نہیں کھائیں گے تو... کند ذہن ہوجائیں گے!

گوشت نہیں کھائیں گے تو... کند ذہن ہوجائیں گے!

مہدویت{امام زمان عج}

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی امامت کے اہداف میں سے ایک ہدف امام معصوم کا لوگوں کی باطنی ہدایت ہے۔ امام لائق اور پاکیزہ دل رکھنے والے افراد کو اپنی طرف جذب کر کے انہیں کمال تک پہنچاتے ہیں۔ واضح ہے کہ انسان کا اس طرح ہدایت سے ہمکنار ہونے کے لئے ضروری نہیں کہ وہ امام کے ساتھ ظاہری رابطہ برقرار کرے۔ گذشتہ بیانات کی روشنی میں امام زمانہ (عج) کو بادل کے پیچھے پنہان روشن آفتاب سے تشبیہ دینے کا مقصد بھی واضح ہو جاتا ہے۔ اگرچہ بادل کے پیچھے پنہان سورج سے انسان مکمل طور بہرہ مند نہیں ہوتا ہے لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ اس سے انسان کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا ہے۔ بہرحال امام زمانہ (عج) کے وجود کے آثار و برکات سے بہرہ مند نہ ہونے کا سبب انسانوں کی طرف سے خاص حالات کا فراہم نہ کرنا ہے، جس کی وجہ سے لوگ اس عظیم نعمت کے فوائد سے محروم ہیں اور اس محرومیت کا سبب وہ خود ہیں نہ کہ خداوند متعال اور امام، کیونکہ خداوند متعال اور امام کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی مشکل درپیش نہیں ہے۔

دیگر مناسبتیں

آفتاب کربلا جناب حضرت علی اکبر علیہ السلام

کربلا کے میدان میں ایک جوان ایسا بھی تھا جو سیرت و صورت اورگفتار و کردار میں شبیہ پیغمبر تھے۔دیکھنے والا دنگ رہ جاتا تھا کہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے ہیں۔انہوں نے اس کائنات میں ایسی قربانی پیش کی کہ تمام دنیا دھنگ رہ گئی۔آپ ایسے باپ کے فرزند تھے جس پر رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ناز تھا ،جس کے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری بن گئے۔اس عظیم باپ کا فرزند تھا جس نے دنیا والوں کو جینا سکھایا اورباطل قوتوں کے سامنے قیام کر نا سکھایا۔

حدیث غدیر، حدیث متواتر

متواتر لفظی: وہ حدیث یا خبر جس کے تمام روایوں نے، تمام طبقات میں، اس حدیث یا خبر کے مضمون کو ہو بہو اور یکسان طور پر نقل کیا ہو۔ جیسے حدیث ثقلین کی عبارت، (انّي تارك فيكم الثقلين ۔۔) یا حدیث غدیر کی عبارت (من كنت مولاه فهذا عليّ مولاه)۔

چہاردہ معصومین ع

امام سجاد علیہ السلام

امام علیہ السلام نے کربلا سے کوفہ، کوفہ سے شام اور زندان سے رہائی تک ہر موقع پر اپنے خطبوں کے ذریعے جہاں قیام حسینی علیہ السلام کے اصولوں اور فلسفے سے لوگوں کو آگاہ فرمایا وہیں اسلام کا نام استعمال کرتے ہوئے اسلام کی دھجیاں اڑانے کی کوشش کرنے والی ناپاک حکومت کا مکروہ چہرہ بھی بےنقاب فرمایا۔

معاویہ و یزید کے دور حکومت میں امام حسین (ع) کا کردار

معاویہ کو ہر وقت آپ کے قیام کا خوف رہتا تھا۔ چنانچہ اس نے امام کے سامنے قبض و بسط کی پالیسی اپنائی یعنی ایک طرف سے آپ کی منزلت کو مدنظر رکھتا تھا اور بظاہر آپ کے لئے احترام کا قائل تھا اور آپ کی تعظیم کرتا تھا اور اپنے کارگزاروں کو بھی ہدایت کرتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرزند کو نہ چھیڑیں اور ان کی بےحرمتی سے پرہیز کریں۔ دوسری طرف سے امام کی مسلسل اور شب و روز نگرانی کو اپنی پالیسی کا حصہ بنایا اور سفر اور حضر میں آپ کی تمام حرکات و سکنات پر کڑی نظر رکھی جاتی تھی۔

دیگر موضوعات

جابر بن عبداللہ انصاری پہلا زائر اربعین حسینی

عطیہ کوفی کے مطابق جابر بن عبد اللہ انصاری کے ساتھ حسین بن علی علیہ السلام کی قبر کی زیارت کرنے کے لئے کوفہ سے نکلے۔ جب ہم کربلا پہنچے تو جابر فرات کے ساحل کے قریب گیا اور غسل انجام دیا اور محرم افراد کی طرح ایک چادر پہنی، پھر ایک تھیلی سے خوشبو نکالا اور اپنے آپ کو اس خوشبو سے معطر کیا اور ذکر الہی کے ساتھ قدم اٹھانا شروع کیا، یہاں تک کہ وہ حسینؑ ابن علیؑ کے مرقد کے قریب پہنچا۔ جب ہم نزدیک پہنچے تو جابر نے کہا کہ میرا ہاتھ قبر حسینؑ پر رکھو۔ میں نے جابر کے ہاتھوں کو قبر حسین پر رکھا۔ اس نے قبر حسینؑ ابنی علی کو سینے سے لگایا اور بے ہوش ہو گیا۔ جب میں نے اس کے اوپر پانی ڈالا تو وہ ہوش میں آیا۔ اس نے تین مرتبہ یا حسینؑ کی آواز بلند کی۔

عطیہ عوفی(کوفی)زائر اربعین حسینی

زیارت اربعین کی اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ امام حسن عسکری علیہ السلام نے فرمایا: مومن کی نشانیوں میں سے ایک زیارۃ اربعین کی تلاوت کرناہے۔۳۔جب بھی زیارت اربعین اورچہلم امام حسین علیہ السلام کا ذکر ہو وہاں حتما ان دو ہستیوں یعنی جابر اور عطیہ کا ذکر ہوتا ہے۔ یہ دونوں ہستیاں اسلامی تاریخ کی معروف شخصیات میں سے ہیں۔ لیکن جو چیز انہیں دوسری شخصیات اورافراد سے ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ان کا شمار امام حسین علیہ السلام کے پہلے زائروںمیں ہوتا ہے۔

سب سے زیادہ زیر بحث

امام علی علیہ السلام کی شانِ میں چہل حدیث

مولا علیؑ کی شان میں چالیس احادیث اور یہ ﻭﻩ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ہیں ﺟﻮ ﺻﺤﺎﺡ ﺳﺘﻪ ﻣﯿﮟ بھی موجود ہے. 1= ﻋﻨﻮﺍﻥ ﺻﺤﻴﻔﺔ ﺍﻟﻤﺆﻣﻦ ﺣﺐّ ﻋﻠﻰؑ ﺑﻦ ﺍﺑﻰ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ. ﺻﺤﯿﻔﮧ ﻣﻮﻣﻦ ﮐﺎ ﻋﻨﻮﺍﻥ ﻣﺤﺒﺖِ ﻋﻠﯽؑ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻃﺎﻟﺐؑ ﮨﮯ.

دعا کی اہمیت

دعا کی اہمیت حضرت انسان کس قدر شرف و عظمت کا مالک ہے،اس کے لئے کائنات بنی،پوری کائنات میں اسی کو عزت و تکریم کا حق دار ٹھہرایا گیا۔تمام مخلوق اس کی خدمت اور منفعت کے لئے پیدا کی گئی۔لیکن اتنی عظمتوں کے باوجود اس کی خلقت کا مقصد اللہ کی معرفت اور عبادت قرار دیا گیا۔لہذا انسان کا اہم کام خدا سے ارتباط و ربط ہے۔مگر کیسا رابطہ؟ اتنی عظمتوں کے باوجود بارگاہ خداوندی میں فقر محض اور احتیاج محض ہے جبکہ ذات پروردگار غناء ہی غناء ہے۔بلندی ہی بلندی ہے۔انسان مشکلات،مصائب اور تکالیف میں ایسی ذات کی طرف رجوع کر کے اپنے فقر اور احتیاج محض ہونے کا اقرار و اعتراف کرتے ہوئے اپنی نفی اور بے ثباتی کا اظہار کرتا نظر آتا ہے۔اس سلسلے میں انسان کا ایک اہم وسیلہ دعا ہے۔دعا کے ذریعے اپنی احتیاج کا اظہار بھی کرتا ہے اوراللہ سے اعانت کی التجا بھی کرتا ہے۔

قرآنِ کریم اور اصلاحِ معاشرہ تحریر: عارف حسین تھہیم

لفظِ ’’اصلاح‘‘ درست کرنے، صحیح کرنے اور خرابی کو دُور کے معنی میں آتا ہے۔ معاشرتی اور اجتماعی مفہوم کے اعتبار سے شائستہ اور نیک عمل انجام دینے، نیز فساد و تباہی کو ختم کرنے کے لیے بھی اصلاح کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ ارشادِ پروردگار ہے: ﴿ إِلاَّ الَّذِينَ تَابُواْ وَأَصْلَحُواْ وَبَيَّنُواْ فَأُوْلَئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ﴾[1]؛ ’’سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے توبہ کی اور اپنے کئے کی اصلاح کر لی اور (جس کو چھپایا ہوا تھا) واضح کر دیا تو ایسے ہی لوگوں کی توبہ میں قبول کرتا ہوں اور بےشک میں بڑا توبہ قبول کرنے والا اور بہت مہربان ہوں۔‘‘ حقیقی توبہ میں گذشتہ بُرائی اور فساد کا دُور کرنا اور آئندہ بُرائی و فساد سے بچے رہنے کا تہیہ کرنا ضروری ہے۔ شائستہ اور صالح معاشرے کی تشکیل کا ہدف اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی دُنیوی و اُخروی اور مادی و معنوی ضرورتوں کو پورا کیا جائے؛ لہٰذا صالح معاشرے کی خصوصیات یہ ہیں کہ اس میں ہر ایک کی جان، مال، عزّت و آبرو اور ناموس محفوظ ہوتی ہے، لوگوں کی درمیان مہر و محبت اور اپنائیت کا راج ہوتا ہے اور سب لوگ روحانی و معنوی لحاظ سے پُرسکون اور مطمئن ہوتے ہیں۔

پیٹ کا درد کئی امراض کی علامت ہوسکتا ہے

اگر پیٹ میں درد ہورہا ہو تو اس کی کئی وجوہ ہوسکتی ہیں۔ اکثر ناقص غذا کی وجہ سے معدے میں تکلیف ہونے لگتی ہے جسے ہم پیٹ کے درد سے تعبیر کرتے ہیں۔ معدے کا درد کئی امراض کی علامت بھی ہوسکتا ہے، اس لیے اسے نظرانداز نہیں کرنا چاہیے اور بلاتاخیر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ بسم اللہ الرحمن الرحیم بنام خدائے رحمن و رحیم اٴَللّٰھُمَّ اِنّيِ اٴَسْاٴَ لُکَ بِرَحْمَتِکَ الَّتي وَ سِعَتْ کُلَّ شَيْءٍ،وَ بِقُوَّتِکَ الَّتي قَھَرْتَ خدایا میراسوال اس رحمت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر محیط ھے۔ اس قوت کے واسطہ سے ھے جو ھر چیز پر حاوی ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ،وَخَضَعَ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ،وَذَلَّ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ، وَبِجَبَرُوتِکَ الَّتي غَلَبْتَ اور اس کے لئے ھر شے خاضع اور متواضع ھے۔ اس جبروت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر غالب ھے اور اس عزت کے واسطہ سے ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ، وَ بِعِزَّتِکَ الَّتي لاٰ یَقُومُ لَھٰا شَيْءٌ، وَبِعَظَمَتِکَ الَّتي مَلَاٴَتْ کُلَّ جس کے مقابلہ میں کسی میں تاب مقاومت نھیں ھے۔اس عظمت کے واسطہ سے ھے جس نے ھر چیز کو پر کردیا ھے شَيْءٍ، وَ بِسُلْطٰانِکَ الَّذي عَلاٰ کُلَّ شَيْءٍ، وَبِوَجْھِکَ الْبٰاقي بَعْدَ فَنٰاءِ کُلِّ شَيْءٍ،

مقصد قیام امام حسین علیہ السلام تحریر: محمد حسن حسرت کچوروی

امام حسین ؑ ۲۸ رجب ۶۰ ھ میں مدینہ سے حرکت کرتے ہیں اور ۳ شعبان المعظم کو مکہ میں پہنچتے ہیں پھر ۸ ذی الحجہ کو مکہ سے کوفہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں ۲ محرم الحرام کو وارد کربلا ہوتے ہیں اور ۱۰ محرم الحرام کو شھید ہو جاتے ہیں اس مختصرعرصے میں انسان سو سے زیادہ درس حاصل کر سکتا ہے بلکہ کہہ سکتے ہیں کہ امام کے اس مختصر عرصےمیں ہزاروں دروس شامل ہیں لیکن یہ سارے دروس ایک اصلی درس ‘ حرکت اور قیام امام میں موجود ہیں باقی سارے حاشیے ہیں متن یہ ہے کہ امام نے قیام کیوں کیا؟ یہ اصلی درس ہے لوگ امام سے کہتے تھے آپ مدینہ اور مکہ میں محترم ہیں یمن میں اتنے سارے شیعہ ہیں کسی کونے میں تشریف لے جائیں اور یزید سے کوئی سروکار نہ رکھے تاکہ وہ بھی آپ سے کوئی سروکار نہ رکھے۔ یہ سارے مرید ہیں انہیں تبلیغ کریں عبادت کریں اور زندگی کریں۔ کاس قیام کا مقصد کیاہے ۔۔؟

تلاوت قرآن کی فضیلت

'پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا، جو شخص رات کو دس آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام غافلین (جو یاد خدا سے بے بہرہ رہتے ہیں) میں نہیں لکھا جائے گا اور جو شخص پچاس آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام ذاکرین (جو خدا کو یاد کرتے ہیں، حرام و حلال کا خیال رکھتے ہیں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص سو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام قانتین (عبادت گزاروں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص دوسو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام خاشعین (جو خدا کے سامنے متواضع ہوں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص تین سو آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام سعادت مندوں میں لکھا جائے گا، جو شخص پانچ ہزار آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام عبادت اور پرستش خدا کی کوشش کرنے والوں میں لکھا جائے گا اور جو شخص ہزار آیتوں کی تلاوت کرے وہ ایسا ہے جیسے اس نے کثیر مقدار میں سونا راہ خدا میں دے دیا ہو۔،،

تربیت اولاد کے انمول اصول تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

لغت کی کتابوں میں لفظ" تربیت" کے لیے تین اصل اور ریشہ ذکر ہوئے ہیں۔ الف:ربا،یربو زیادہ اور نشوونما پانےکے معنی میں ہے۔ ب: ربی، یربی پروان چڑھنا اور برتری کے معنی میں ہے۔ج: رب،یرب اصلاح کرنے اور سرپرستی کرنے کے معنی میں ہے۔۱صاحب مفردات کا کہنا ہے کہ "رب" مصدری معنی ٰ کے لحاظ سے کسی چیز کو حد کمال تک پہچانے ، پرورش اور پروان چڑھانے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ۲ صاحب التحقيق کا کہنا ہے اس کا اصل معنی ٰ کسی چیز کو کمال کی طرف لے جانے ، نقائص کو تخلیہ اور تحلیہ کے ذریعےرفع کرنے کے معنی ٰ میں ہے۔۳ بنابر این اگر اس کا ريشه(اصل) "ربو" سے ہو تو اضافہ کرنا، رشد ، نمو اور موجبات رشد کو فراہم کرنے کے معنی ٰ میں ہےلیکن ا گر "ربب" سے ہو تو نظارت ، سرپرستي و رهبري اور کسی چیز کو کمال تک پہنچانے کے لئے پرورش کے معنی ٰ میں ہے۔

مشاہدات

آج

207

کل

1839

اس ماہ

19719

اس سال

209724

ٹوٹل مشاہدات

378952