علماء کونسل کچورا سکردو بلتستان

متن

خاندانی منصوبہ بندی : ایک معاشرتی ضرورت یا دھوکہ!

تحریر: محمد شریف نفیس

خاندانی منصوبہ بندی کوآج کے دور میں مختلف مملک کی حکومتیں اپنی کامیاب ترین پالیسیوں میں شمار کرتی ہیں۔ آبادی کا کنٹرول اور چھوٹا خاندان خوشحالی کا ذریعہ سمجھاجاتا ہے۔ خصوصاً محدود وسائل رکھنے والے ممالک میں اس پالیسی کو زیادہ اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ لوگوں کو اس منصوبہ بندی کی طرف راغب کرنے کے لئے خوبصورت نعرے بھی لگائے جاتےہیں، جیسے "بچے دو ہی اچھے"، "چھوٹا خاندان خوشحال زندگی" وغیرہ۔

زمانہ قدیم میں فیملی پلاننگ:

یہ نظریہ دور جاہلیت سے چلا آ رہا ہے۔ اسلام کی آمد سے پہلے بھی لوگ قلت ِ رزق اور فقر و فاقے کے خوف سے اپنی اولاد کو قتل کیا کرتےتھے۔ لیکن یہ سب کسی منصوبہ بندی کے ساتھ نہیں ہوتا تھا بلکہ کچھ خطوں کے لوگ، جو اپنے معاشی مسائل سے مقابلہ کرنے کی ہمت نہیں رکھتے تھے، اس وجہ سےاولاد کے قتل کو ہی اس مسئلے کا واحد حل سمجھتے تھے۔ان دنوں ذرائع ابلاغ محدود ہونے کی وجہ سے اس نظریے کو دنیا کی دوسری اقوام تک آسانی سے نہیں پہنچایا جا سکتا تھا۔ اس لئے اس زمانے میں دنیا کے ہر خطے میں یہ نظریہ نہیں پایا جاتا ہے۔ لیکن آج کے دور میں ذرائع ابلاغ کی سرعت رفتار کی وجہ سے دنیا کے کسی بھی کونے میں رہنے والے لوگوں تک کسی بات کو پہنچانا زیادہ مشکل نہیں۔ اسی وجہ سے یہ نظریہ بھی کم و بیش دنیا کے تمام ممالک میں پہنچایا گیا ہے۔ البتہ بعض ممالک میں حکومتی سطح پر اس منصوبہ بندی کی رعایت لازمی قرار دی گئی ہے۔ یورپ کے ممالک اور چین وغیرہ اس کی مثالیں ہیں۔ بعض دیگر ممالک میں خاندانی منصوبہ بندی کو حکومتی سطح پر لازمی تو قرار نہیں دیا جا سکا ہے۔ لیکن حکومتیں اس کی حوصلہ افزائی کر رہی ہیں اور کچھ خود اس سے متاثر ہوکر اس پر عمل کر رہے ہیں۔جس میں ہمارا ملک پاکستان سمیت بہت سے دیگر ایشیائی و افریقی ممالک شامل ہیں۔

فیملی پلاننگ کی پہلی تحریک اور اس کے اصول:

اس نظریے کو پہلی بار ایک تحریک کی شکل میں مشہور برطانوی ماہر معاشیات "Thames Robert Malthus" نےسنہ ۱۷۹۸ء میں پیش کیا۔اس تحریک نے تقصیر آبادی کو ضروری قرار دیا اور آبادی کی کثرت کو معاشرے کے لئے ایک آفت قرار دیا۔ اس تحریک کے مندرجہ ذیل چند اصول تھے:

۱۔ غذائی اجناس انسانی بقاء کے لئے ضروری ہیں۔

۲۔ مرد اور عورت کے درمیان فطری طور پر کشش پائی جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں آبادی میں اضافہ ہونا یقینی ہے۔

۳۔ انسانی آبادی میں اضافہ جیومیٹریکل انداز میں ہوتا ہے۔ جیسے ۲،۴،۸،۱۸۔۔۔

۴۔ اس کے مقابلے میں غذائی اجناس کی پیداوار ارتھمیٹیکل انداز میں ہوتی ہے۔ جیسے ۱،۲،۳،۴،۵۔۔۔

۵۔ ہر ملک کی آبادی آنے والے ۲۵ سالوں میں موجودہ آبادی سے دگنا ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی ملک کی آبادی ۱۹۹۴ءمیں پچاس لاکھ تھی تو ۲۰۱۹ ء         تک ایک کروڑ ہو جائے گی۔

مالتھس کے اس نظریے پر یورپ،امریکہ اور بعض ایشیائی اور  افریقی ممالک میں عمل ہوتا رہا۔کیونکہ اس نظریے کے مطابق انسانی ابادی میں اضافہ اور اس کے مقابلے میں غذائی پیداوار میں قلت دنیا میں قحط اور غربت کا سبب ہوتا ہے۔اس لئے ان کے نزدیک ضروری تھا کہ تولید ِنسل کو کم کرنے کے ذریعے آبادی کو کنٹرول میں رکھا جائے۔ البتہ بعض ماہرین معاشیات نے مالتھس کے نظریے کی مخالفت بھی کی۔ جسے معاشیات کی تاریخ کی کتابوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔اس طرح ماہرین سماجیات نے بھی مالتھس کے نظریے پر تنقید کی۔ان کا کہنا ہے کہ آبادی میں اضافہ ہمیشہ مہارتوں کو حاصل کرنے کی دعوت دیتا ہے،جن کے ذریعے انسان ترقی و تکامل پا سکتا ہے۔

اسلام کا نکتہ نظر:

اسلام اس حوالے سے اپنا نکتہ نظر پیش کرتا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے: "  وَ لَا تَقۡتُلُوۡۤا اَوۡلَادَکُمۡ مِّنۡ اِمۡلَاقٍ ؕ نَحۡنُ نَرۡزُقُکُمۡ وَ اِیَّاھُمۡ" (سورہ انعام:۱۵۱) "اور مفلسی کے خوف سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو، ہم تمہیں بھی رزق دیتے ہیں اور انہیں بھی" اسی طرح  تولید نسل کی اہمیت کے بارے رسول اکرمؐ کے فرمان میں اشارہ ملتا ہے: " تناکحوا وتناسلوا فانی اباھی بکم الامم یوم القیامہ"(عوالی الؤالی،ج۱،ص۲۵۹)"نکاح کرو،نسل بڑھاؤ،میں قیامت والے دن  تمہارے ذریعے دوسری امتوں پر فخر کروں گا۔"

ایک بنیادی سوال:

خاندانی منصوبہ بندی کے بارے میں ماقبل اسلام مختلف اقوام کی روش،مالتھس کا نظریہ اور اسلامی نکتہ نگاہ کو جاننے کے بعد زمینی حقائق کے مطابق سوال یہ ہے کہ کیا فیملی پلاننگ انسان کی زندگی  کی بڑھتی دشواریوں اور مشکلات کا حل ہے؟ کیا فیملی پلاننگ کے ذریعے انسانی مشکلات کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے یا یہ ایک فریب ہے اور انسانیت کو ترقی و تکامل کی  راہ سےہٹانے کا ایک دھوکہ ہے؟

اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لئے ایک سروے کی گئی جس میں اس حوالے سے مختلف لوگوں  کی آراء جاننے کی کوشش کی گئی۔ اس سروے کے مطابق بعض لوگوں نے کہا کہ اولاد اللہ تعالیٰ کی جانب سے انسان کے لئےنعمت ہے اور اس میں اضافہ ایک طرح کا سہارا ہے۔ اولاد کا زیادہ ہونا ایک دوسرے کے لئے سہارا ہے۔ اسی طرح خود گھر کے لئے بھی ایک طرح کی مدد کا موجب ہے ۔

اسی طرح بعض لوگوں کا خیال تھا کہ زندگی کی مشکلات کا زیادہ ہونا کثرت اولاد کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ کیونکہ ہر مولود اپنے ساتھ رزق لے کر آتا ہے۔ قرآن کریم کا بھی ارشاد ہے"وَ مَا مِنۡ دَآبَّۃٍ فِی الۡاَرۡضِ اِلَّا عَلَی اللّٰہِ رِزۡقُھَا وَ یَعۡلَمُ مُسۡتَقَرَّہَا وَ مُسۡتَوۡدَعَھَا" (سورہ ھود:۶)" اور زمین پر چلنے والا کوئی ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو اور وہ جانتا ہے کہ اس کی جائے قرار کہاں ہے اور عارضی جگہ کہاں ہے"

کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ افزائش نسل اور زیادہ بچے پیدا کرنااچھا ہے لیکن ان کی تربیت کرنا سنگین ہے۔ اس کے لئے بہت توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔اس میں ماں کے لئے جسمانی اور روحانی دونوں لحاظ سے آرام و سکون میسر ہونا ضروری ہے۔جب تک ماں کو پر سکون ماحول نہیں ملتا ،اولاد کی صحیح دیکھ بھال نہیں کر سکتی۔ لہٰذا انسان کے لئے اپنی استطاعت کے مطابق بچے پیدا کرنے چاہیئں تاکہ ان کی غذائی ،روحانی اور نفسیاتی ضروریات پوری  کر سکے۔

سماجی علوم کے بعض ماہرین کہتے ہیں کہ فیملی پلاننگ کو کلی طور پر نفی کرنا یا اثبات کرنا صحیح نہیں، بلکہ اس حوالے سے مختلف ممالک اور معاشروں کے مسائل اور وسائل کو مد نظر رکھ کر بات کرنی چاہیے۔ یعنی اس بارے میں یکطرفہ فیصلہ کرنا درست نہیں۔ بلکہ ہر معاشرے کے اقتصادی،ثقافتی اور دینی تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے کوئی فیصلہ کرنا چاہیے۔ عام طور پر کہا جاتا ہےکہ انسانی آبادی جتنی کم اور افراد کی آمدنی جتنی زیادہ ہوگی، اسی حساب سے قوت خرید زیادہ ہوتی ہے۔لیکن یہ بات ہر وقت اور ہر جگہ قابل عمل نہیں۔ کیونکہ بعض ممالک   کا رقبہ کم اور قدرت وسائل محدود ہوتے ہیں۔ جبکہ بعض ممالک رقبے کے لحاظ سے وسیع ہوتے ہیں اور وہاں قدرتی وسائل بھی فراوان ہوسکتے ہیں لہٰذا  ایسے ممالک میں آبادی کی قلت  افرادی قوت اور پیداوار میں کمی کا موجب بنتی ہے۔جس کے نتیجے میں ایجاد و ابتکار اور پیداواری عمل کے اضافہ میں مقابلہ کا جذبہ اور ماحول ختم ہوجاتا ہے۔یوں معاشرتی اور اقتصادی ترقی کا عمل سست پڑجاتا ہے۔اسی طرح طرح مختلف ملکوں کے ثقافتی،دینی اور دیگر  امور کے تقاضوں کے مطابق وہاں کی آبادی کے متعلق کوئی بات کی جا سکتی ہے۔

بے روزگاری کا مسئلہ:

بعض افراد معاشرے سے بے روزگاری کے خاتمے کے  لئے فیملی پلاننگ کو  ضروری سمجھتے ہیں۔لیکن یہ بات ہمارے مشاہدے میں ہے کہ اس طرح بے روزگاری کے مسئلے کو حل نہیں کیا جاسکتا۔ جیسے یورپ میں خاندانی منصوبہ بندی کے باوجود اب تک بے روزگاری کا مسئلہ حل نہیں ہوا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بے روزگاری کی وجہ انسانی آبادی نہیں بلکہ اس کا تعلق دنیا میں رائج اقتصادی نظام اور دولت کے تقسیم میں نا انصافی اور غلط طریقے سے ہے۔اسلامی نظام کا نعرہ تھا: "لکی لا دولۃ بین الاغنیاء۔۔" لیکن آج کی دنیا میں پیسہ عوامی مارکیٹ میں نہیں آتا بلکہ کچھ لوگوں کی حد تک محدود رہتا ہے۔ جو کچھ بازار میں آتا ہے وہ بھی انہی لوگوں کے کنٹرول میں ہوتا ہے۔جس کی وجہ سے دولت گردش کرنے کے بجائے منجمد ہوجاتی ہے۔ دولت کے انجماد اور ذخیرہ اندوزی کی وجہ سے معاشرے میں غربت و افلاس اور بے روزگاری بڑھ جاتی ہے۔

اس بات سے معلوم ہوتا ہے کہ خاندانی منصوبہ بندی کا نہ ہونا  کسی بھی ملک میں بے روزگاری کاسبب نہیں بلکہ دولت کی غیر عادلانہ تقسیم اور اس جیسے دوسرے اسباب کی وجہ سے معاشی مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ پس معاشرے سے بے روزگاری کا خاتمہ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ سرمایے کو ایک جگہ جمع ہونے سے بچائیں، اسے مارکیٹ میں لے کر آئیں۔ افرادی قوت پیدا کریں۔ لوگوں سے ان کی صلاحیتوں کے مطابق کام لیں۔ اس طرح اقتصادی پیداواری عمل کو  تیزکردیا جائے۔ تاکہ معاشرہ اقتصادی میدان میں خودکفیل ہو۔

خاندانی منصوبہ بندی کا درست مفہوم:

بعض دانشوروں کا خیال ہے کہ عام طور پر خاندانی منصوبہ بندی کا غلط معنی لیا جا رہا ہے۔ خاندانی منصوبہ بندی سے مراد کم بچے پیدا کرنانہیں بلکہ اس سے مرادتولید نسل کے بارے میں صحیح طریقے سے اقدام کرنا ہے۔ پس اس طرح فیملی پلاننگ کا آغاز شادی سے پہلے سے ہوتا ہے۔ یعنی شادی کے وقت لڑکا اور لڑکی دونوں کو ایک دوسرے کے اخلاق ، نفسیات،جسمانی تندرستی سمیت ان تمام اوصاف و شرائط کو دیکھنا چاہیےجو ایک کامیاب خاندان کی تشکیل کے لئے ضروری ہیں۔ایسی منصوبہ بندی ہو تو بالکل درست ہے۔ لیکن خاندانی منصوبہ بندی کے نام پر تولید نسل کی بندش کوئی منصوبہ بندی ہی نہیں۔ ہاں! اگر کسی ضرورت یا مجبوری کی وجہ سے یہ کام عارضی طور پر کیا جائے۔ جیسے مختصر مدت کے لئے حمل کو روکنا پڑے تو الگ بات ہے۔ مثلاً ماں کی جان کو خطرہ ہو یا کوئی ناقابل تحمل ضرر پہنچنے کا خطرہ ہو یا کسی اور وجہ سے، تو ایسی صورت کا حکم الگ ہے۔ایسی صورتحال میں عارضی منصوبہ بندی  کے بارے میں اسلامی نکتہ نگاہ سے بھی کوئی اشکال نہیں۔

پس خاندانی منصوبہ بندی اولاد پیدا کرنے کی ہی ایک تدبیر ہو تو ایک پسندیدہ کام ہے ۔ لیکن بندش اولاد کے لئے بغیر کسی معقول عذر کے عارضی یا دائمی طور پر کوئی منصوبہ بندی کی جائے تو اسلام اس کی حمایت نہیں کرتا۔فقہاء کے فتوؤں کی روشنی میں ایسا کام حرام  اور ناپسندیدہ ہے۔

خاندانی منصوبہ بندی کی محدود اور مشروط اجازت:

ہمارے فقہاء کے فتاویٰ کے مطابق جہاں خاندانی منصوبہ بندی جائز قرار پاتی ہے اسے مخصوص حالات کے ساتھ محدود اور مشروط قرار دیا ہے۔مثلاً ایسا انتظام کرنا جائز ہے جس سے حمل ہی نہ ٹھہرے۔ مثلاً نطفے کو رحم سے باہر گرادے یا کسی اور طریقے سے حمل ٹھہرنے نہ دے۔ لیکن حمل ٹھہرنے کے بعد اس کو ضائع کرنا جائز نہیں۔ اگر کوئی ضائع کرے تو اس پر جنین کے مختلف مراحل اور حالات کے مطابق مختلف دیہ واجب  ہوتا ہے۔جسے فقہاء کے جدید مسائل میں دیکھا جاسکتا ہے۔

حکومتی سطح پرخاندانی منصوبہ بندی کے بارے میں  کسی طرح کے اقدامات کرنے سے پہلے معاملے کی حساسیت کو اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے۔صرف معاشی مشکلات اور بے روزگاری کے مسائل وغیرہ کی وجہ سے فیملی پلاننگ کے نام پر تقطیع نسل یا آبادی کو محدود کرنے سے اور طرح کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔معاشرے کو افرادی قوت کی کمی کا سامنا کرنا بھی پڑسکتا ہے۔جس طرح آج کئی ممالک ایسے ہیں جو فیملی پلاننگ کی وجہ سے اس وقت افرادی قوت کی کمی کے مسائل سے دوچار ہیں۔اسلام میں افزائش نسل کی سفارشات بلاوجہ تو نہیں، بلکہ ان میں بڑی حکمت ہوتی  ہے۔ معاشی اور  معاشرتی مشکلات سے باہر نکلنے کے لئے فقط خاندانی منصوبہ بندی ہی واحد حل نہیں ،بلکہ ذخیرہ اندوزی،احتکار وغیرہ کی حوصلہ شکنی اور پیداواری صلاحیتوں میں اضافہ کر کے بھی اس مسئلے کو حل کیا جاسکتا ہے۔

 

اس سے مربوط موضوعات

بچے کی تربیت میں ماں کا کردار تحریر: نصیر حسین بشیری
بچے کی تربیت میں ماں کا کردار تحریر: نصیر حسین بشیری اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں میں سے ایک نعمت اولاد ہے، جو ماں باپ کے لئے آنکھ کے تارے کی حیثیت رکھتی ہے۔ والدین اپنی اولاد کے لئے سب کچھ کر گزرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ اولاد کے حوالے سے والدین کی ذمہ داریوں میں سے ایک ذمہ داری ان کی تربیت ہے۔ بچے اس ننھے پودے کی مانند ہوتے ہیں جسے ہر قسم کی گرمی اور سردی سے محفوظ رکھ کر ایک تناور درخت کی شکل میں پروان چڑھانا ہوتا ہے۔ تربیت، انسانی معاشرے میں ایک ایسی ضرورت ہے جسے دنیا کی تمام قوموں میں شدّت سے محسوس کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر قوم و ملت کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنے بچوں کو بچپن سے ہی اپنی تہذیب، ثقافت، کلچر اور رسم و رواج کی تعلیم دی جائے تاکہ وہ اِن چیزوں کو آنے والی نسلوں تک صحیح طریقے سے منتقل کر سکیں۔ امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام اپنے بیٹے امام حسن علیہ السلام کو وصیت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: «إِنَّمَا قَلْبُ الْحَدَثِ كالْأَرْضِ الْخَالِيةِ مَا أُلْقِي فِيهَا مِنْ شَيءٍ قَبِلَتْهُ فَبَادَرْتُك بِالْأَدَبِ قَبْلَ أَنْ يَقْسُوَ قَلْبُكَ»[1]؛ ’’بےشک کم سن (بچے) کا دل اس خالی زمین کی مانند ہوتا ہے کہ جس میں جو بیج بھی ڈالا جائے وہ اسے قبول کر لیتی ہے، لہٰذا قبل اس کے کہ تمہارا دل سخت ہو جائے (اور تمہارا ذہن دوسری باتوں میں لگ جائے) میں نے تمہیں (تعلیم دینے اور) ادب سکھانے میں جلدی کی۔‘‘ آپؑ کے اِس کلام سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اس سے پہلے کہ بچہ دوسری باتوں کی طرف توجہ دے، ابتداء ہی سے اس کی تعلیم و تربیت کی طرف توجہ دینی چاہیے۔

بین الاقوامی

یمنی فوج کا جیزان ائرپورٹ اور الملک خالد کیمپ پر ڈرون حملہ

یمنی فوج کا جیزان ائرپورٹ اور الملک خالد کیمپ پر ڈرون حملہ یمنی سرکاری فوج اور اسلامی مزاحتمی تحریک انصاراللہ نے جیزان ائرپورٹ اور الملک خالد فوجی کیمپ پر ڈرون حملہ کیا ہے۔

ترکی کے سر پر امریکی پابندیاں منڈلانے لگیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ترکی کی سرزنش کے لیے پابندیوں کے پیکج پر متفق ہو گئی ہے۔ خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق ترکی اور روس کے درمیان دفاعی تعلقات کی پاداش میں امریکہ نے ترکی پر پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

امام خمینی

امام خمینی رح ایک مرد عارف

حضرت امام خمینی رح کے بارے میں عام طور پر جو بات ہمارے ہاں زیادہ مشہور ہے وہ یہ کہ آپ نے ایک ملوکیت اور بادشاہت کا خاتمہ کرکے ایک اسلامی اور مذہبی حکومت قائم کی۔ لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ استعماری طاقتوں کے خلاف تھے اور استعماری طاقتوں نے آپ کی حکومت کے خاتمے کے لیے اپنے پورے وسائل بروئے کار لائے لیکن وہ اس میں ناکام ہو گئیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ امام خمینی رح بہت شجاع اور بہادر تھے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ آپ نے ناجائز طور پر قائم صہیونی حکومت کے خاتمے اور فلسطینیوں کے حقوق کے حصول کے لیے بھی آواز بلند کی۔ آپ مستضعفوں اور محروموں کے حقوق کے بھی علمبردار تھے۔ آپ نے اتحاد امت کے لیے ایک زور دار آواز بلند کی۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ ایک عالم اور فقیہ تھے اور آپ کی تقلید کی جاتی تھی۔ بعدازاں آپ کا دیوان بھی چھپا اور پاکستان میں بھی بہت سے لوگوں کو معلوم ہوا کہ آپ صاحب دیوان شاعر بھی تھے، لیکن ابھی تک جو پہلو کم شناختہ یا ناشناختہ ہے وہ یہ ہے کہ آپ ایک بلند پایہ عارف تھے اور شاید یہ کہنا زیادہ بہتر ہو کہ آپ کے وجود سے پھوٹنے والی تمام تر خوبیوں کا سرچشمہ یہی امر ہے کہ آپ ایک عارف باللہ اور عاشق الٰہی تھے اور اس سلسلے میں نظری اور عملی طور پر نہایت عمق اور گہرائی کے مقام پر فائز تھے۔

امام خمینی رہ کی زندگانی پر ایک طائرانہ نظر

بیس جمادی الثانی 1320 ہجری قمری مطابق 24ستمبر 1902 عیسوی کو ایران کے صوبہ مرکزی کے شہرخمین میں بنت رسول حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی طیب وطاہر نسل کے خاندان میں آپ ہی کے یوم ولادت با سعادت پر روح اللہ الموسوی الخمینی کی پیدائش ہوئي۔ وہ اپنے آباؤ اجداد کے اخلاق حسنہ کے وارث تھے جنہوں نے نسل درنسل لوگوں کی ہدایت ورہنمائی اورمعارف الہی کے حصول کے لئے خود کو وقف کررکھا تھا۔ یہ وہ گھرانہ تھا جو اعلی علمی مفاہیم سے مکمل طور پر آشنا تھا ۔امام خمینی کے پدربزرگوار آیت اللہ سید مصطفی مرحوم جو آیت اللہ العظمی میرزای شیرازی کے ہم عصر تھے نجف اشرف میں اسلامی علوم کے اعلی مدارج طے کرنے کے بعد درجہ اجتہاد پر فائزہوئے اور پھر ایران واپس آگئے اور شہر خمین میں تبلیغ و ہدایت کے فرائض انجام دینے لگے۔ حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ کی ولادت کو ابھی پانچ ماہ سے زیادہ کا عرصہ نہیں گذرا تھا کہ حکومت وقت کے ایجنٹوں نے ان کے والد بزرگوار کی ندائے حق کا جواب بندوق کی گولیوں سے دیا اور انھیں شہید کردیا ۔

امام خامنہ ای

ایران بحری جہاز پر برطانوی حملے کا سخت جواب دے گا، امام خامنہ ای

ایران بحری جہاز پر برطانوی حملے کا سخت جواب دے گا، امام خامنہ ای امام خامنہ ای نے آئمہ جعمہ اور جماعات کے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ایران بحری جہاز پر برطانوی حملے کا سخت جواب دے گا۔

حج کے سیاسی پہلو پرعمل کرنا شرعی فریضہ اورعبادت ہے، امام خامنہ ای

حج کے سیاسی پہلو پرعمل کرنا شرعی فریضہ اورعبادت ہے، امام خامنہ ای امام خامنہ ای نے اسلامی جمہوریہ ایران کے ادارہ حج کے عہدیداروں اور کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:حج کے سیاسی پہلو پرعمل کرنا شرعی فریضہ اور عبادت ہے۔

کلام و عقائد

بدا قرآن و حدیث کی روشنی میں

ذات الٰہی کے بارے میں بدا، حقیقت میں ابدا و اظہار ہے۔ یعنی جو کچھ خدا کے علم میں ہے اور انسان کے علم میں نہیں، اسےخداوند متعال اظہار و آشکار کرتا ہے۔ اسے بدا، کہنے کا سبب یہ ہے کہ یہ مقام فعل الٰہی میں نمایاں ہوتا ہے، اگرچہ ذات الٰہی میں جہل اور تغییر محال ہیں۔ خداوند متعال انبیاء کرام پر غیبی طریقے سے نظر رکھتا ہے تاکہ یہ لوگ وحی کے پہنچانے میں خطا سے محفوظ رہیں۔ قرآن کریم اس بارے میں ارشاد فرماتا ہے، "لِّيَعْلَمَ أَن قَدْ أَبْلَغُواْ رِسَالَاتِ رَبهِّم" تاکہ وہ دیکھ لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات کو پہنچا دیا ہے۔ واضح ہے کہ خداوند متعال پہلے سے ہی آگاہ ہے کہ انبیاء، وحی الٰہی کو صحیح طریقے سے لوگوں تک پہنچائیں گے۔

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی علم کلام کےاہم مباحث میں سے ایک حسن و قبح عقلی کا بحث ہے ۔اس سے مراد یہ ہے کہ کچھ افعال ذاتی طور پر حسن {اچھے} اور کچھ افعال ذاتی طور پر قبیح{ برے} ہیں ۔ معتزلہ اور امامیہ حسن و قبح عقلی کے قائل ہیں جبکہ اشاعرہ اس کی نفی کرتے ہیں۔ بہت سے کلامی مسائل اس بحث پر موقوف ہیں مثلا انسان کا اپنے اعمال میں خود مختار ہونا،خدا وند متعال کی بعض صفات کمالیہ کا ثبوت جیسے خدا کا عادل ہونا،اسی طرح بعض صفات سلبیہ بھی اسی بحث پر موقوف ہے جیسے خدا سے قبیح کا سرزد نہ ہونا،خداکا ظلم نہ کرنا وغیرہ ۔ جو لوگ حسن اور قبح کے قائل ہیں وہ انسانی افعال میں انسان کو مختار،خدا کو عادل مانتے ہیں جبکہ حسن و قبح کے مخالفین انسان کو مجبور اور خداکی عدالت سے انکار کرتے ہیں ۔

تربیت اولاد

خاندانی منصوبہ بندی : ایک معاشرتی ضرورت یا دھوکہ!

خاندانی منصوبہ بندی کوآج کے دور میں مختلف مملک کی حکومتیں اپنی کامیاب ترین پالیسیوں میں شمار کرتی ہیں۔ آبادی کا کنٹرول اور چھوٹا خاندان خوشحالی کا ذریعہ سمجھاجاتا ہے۔ خصوصاً محدود وسائل رکھنے والے ممالک میں اس پالیسی کو زیادہ اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے

تعليم و تربيت کے بارے ميں اسلامي علما کي آرا و نظريات

تاريخ اسلام ميں تقريبا تمام علماء و دانشور مختلف علوم ميں مھارت رکھنے کے ساتھ ساتھ تعليم و تربيت ميں بھي صاحب نظر اور مھارت کے حامل ہوا کرتے تھے اس سے اسلام ميں تعليم وتربيت کي اھميت کا پتہ چلتا ہے لھذا ہم يہاں پر علما اسلام کي نظر ميں تعليم و تربيت کي اھميت اجاگر کرنے کے لئے ان کے بعض نظريات پيش کر رہے ہيں۔

تندرستی

معدے کی جلن دورکرنے میں دودھ مفید قرار

معدے کی جلن دورکرنے میں دودھ مفید قرار سینےاور معدے کی جلن کم کرنے کے لیے ایک گھریلو ٹوٹکا دودھ بھی ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ مرغن اور مصالحے دار غذاؤں کی سوزش کم کرتا ہے۔ لیکن اب ماہرین نے اس کےسائنسی ثبوت پیش کردیئے ہیں۔

غیر صحت مند خوراک کا استعمال سیگریٹ نوشی سے بھی زیادہ خطرناک

غیر صحت مند خوراک کا استعمال سیگریٹ نوشی سے بھی زیادہ خطرناک خراب غذا نہ صرف ہماری صحت کے لئے خرابی کا باعث ہے بلکہ دنیا بھر میں شرح اموات کی بڑھتی ہوئی تعداد میں اضافے کا سبب بھی ہے۔

مہدویت{امام زمان عج}

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی امامت کے اہداف میں سے ایک ہدف امام معصوم کا لوگوں کی باطنی ہدایت ہے۔ امام لائق اور پاکیزہ دل رکھنے والے افراد کو اپنی طرف جذب کر کے انہیں کمال تک پہنچاتے ہیں۔ واضح ہے کہ انسان کا اس طرح ہدایت سے ہمکنار ہونے کے لئے ضروری نہیں کہ وہ امام کے ساتھ ظاہری رابطہ برقرار کرے۔ گذشتہ بیانات کی روشنی میں امام زمانہ (عج) کو بادل کے پیچھے پنہان روشن آفتاب سے تشبیہ دینے کا مقصد بھی واضح ہو جاتا ہے۔ اگرچہ بادل کے پیچھے پنہان سورج سے انسان مکمل طور بہرہ مند نہیں ہوتا ہے لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ اس سے انسان کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا ہے۔ بہرحال امام زمانہ (عج) کے وجود کے آثار و برکات سے بہرہ مند نہ ہونے کا سبب انسانوں کی طرف سے خاص حالات کا فراہم نہ کرنا ہے، جس کی وجہ سے لوگ اس عظیم نعمت کے فوائد سے محروم ہیں اور اس محرومیت کا سبب وہ خود ہیں نہ کہ خداوند متعال اور امام، کیونکہ خداوند متعال اور امام کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی مشکل درپیش نہیں ہے۔

احادیث

حدیث ثقلین پر ایک اجمالی نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

حدیث ثقلین ان متواتراحادیث میں سےایک ہے جسے اہل تشیع و اہل تسنن دونوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیا ہے ۔اس معروف حدیث کا متن یہ ہے :{یاایها الناس انی تارک فیکم الثقلین ،کتاب الله و عترتی ، اهل بیتی ماان تمسکتم بهما لن تضلوا بعدی ابدا و انهما لن یفترقا حتی یرداعلی الحوض ،فانظروا کیف تخلفونی فیهما }۱پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :اے لوگو:میں تمہارے درمیان دوگرانقدر چیزیں چھوڑے جاتا ہوں ۔اگر تم ان کےساتھ تمسک کئے رہو گے توکبھی گمراہ نہ ہوگے ۔ان میں سے ایک کتابخداہے اور دوسری میریعترت۔ یہ دونوں کبھی جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ دونوں میرے پاس حوض کوثر پر پہنچ جائیں ۔تم خود سوچو کہ تمہیں ان دونوں کے ساتھ کیا رویہ رکھنا چاہیے ۔

امام علی علیہ السلام کی شانِ میں چہل حدیث

مولا علیؑ کی شان میں چالیس احادیث اور یہ ﻭﻩ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ہیں ﺟﻮ ﺻﺤﺎﺡ ﺳﺘﻪ ﻣﯿﮟ بھی موجود ہے. 1= ﻋﻨﻮﺍﻥ ﺻﺤﻴﻔﺔ ﺍﻟﻤﺆﻣﻦ ﺣﺐّ ﻋﻠﻰؑ ﺑﻦ ﺍﺑﻰ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ. ﺻﺤﯿﻔﮧ ﻣﻮﻣﻦ ﮐﺎ ﻋﻨﻮﺍﻥ ﻣﺤﺒﺖِ ﻋﻠﯽؑ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻃﺎﻟﺐؑ ﮨﮯ.

چہاردہ معصومین ع

زرتشتی عالم سے امام رضا علیہ السلام کا مناظرہ

امام علی رضا علیہ السلام کو خراسان طلب کرنے کے بعد سے مامون اپنے مختلف اہداف و مقاصد کے مد نظر تمام ادیان و مذاہب کے علماء کو امام (ع) کے ساتھ مناظرہ کرنے کی دعوت دیا کرتا تھا۔ یہ مناظرہ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے جو اس زمانہ کے بزرگ زرتشتی عالم کے ساتھ امام رضا (ع) نے انجام دیا ہے۔

حضرت امام صادق علیہ السلام کی علمی خدمات

حضرت امام صادق علیہ السلام کی علمی خدمات تاریخ تشییع اس بات پر گواہ ہے کہ حضرت ختمی مرتبت کے زمانے سے غبیت کبری تک آئمہ معصومین کی رہبریت، قیادت اور حکمت عملی میں ایک غیرمعمولی طریقہ کار کا تسلسل رہا ہے۔

سب سے زیادہ زیر بحث

امام علی علیہ السلام کی شانِ میں چہل حدیث

مولا علیؑ کی شان میں چالیس احادیث اور یہ ﻭﻩ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ہیں ﺟﻮ ﺻﺤﺎﺡ ﺳﺘﻪ ﻣﯿﮟ بھی موجود ہے. 1= ﻋﻨﻮﺍﻥ ﺻﺤﻴﻔﺔ ﺍﻟﻤﺆﻣﻦ ﺣﺐّ ﻋﻠﻰؑ ﺑﻦ ﺍﺑﻰ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ. ﺻﺤﯿﻔﮧ ﻣﻮﻣﻦ ﮐﺎ ﻋﻨﻮﺍﻥ ﻣﺤﺒﺖِ ﻋﻠﯽؑ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻃﺎﻟﺐؑ ﮨﮯ.

دعا کی اہمیت

دعا کی اہمیت حضرت انسان کس قدر شرف و عظمت کا مالک ہے،اس کے لئے کائنات بنی،پوری کائنات میں اسی کو عزت و تکریم کا حق دار ٹھہرایا گیا۔تمام مخلوق اس کی خدمت اور منفعت کے لئے پیدا کی گئی۔لیکن اتنی عظمتوں کے باوجود اس کی خلقت کا مقصد اللہ کی معرفت اور عبادت قرار دیا گیا۔لہذا انسان کا اہم کام خدا سے ارتباط و ربط ہے۔مگر کیسا رابطہ؟ اتنی عظمتوں کے باوجود بارگاہ خداوندی میں فقر محض اور احتیاج محض ہے جبکہ ذات پروردگار غناء ہی غناء ہے۔بلندی ہی بلندی ہے۔انسان مشکلات،مصائب اور تکالیف میں ایسی ذات کی طرف رجوع کر کے اپنے فقر اور احتیاج محض ہونے کا اقرار و اعتراف کرتے ہوئے اپنی نفی اور بے ثباتی کا اظہار کرتا نظر آتا ہے۔اس سلسلے میں انسان کا ایک اہم وسیلہ دعا ہے۔دعا کے ذریعے اپنی احتیاج کا اظہار بھی کرتا ہے اوراللہ سے اعانت کی التجا بھی کرتا ہے۔

قرآنِ کریم اور اصلاحِ معاشرہ تحریر: عارف حسین تھہیم

لفظِ ’’اصلاح‘‘ درست کرنے، صحیح کرنے اور خرابی کو دُور کے معنی میں آتا ہے۔ معاشرتی اور اجتماعی مفہوم کے اعتبار سے شائستہ اور نیک عمل انجام دینے، نیز فساد و تباہی کو ختم کرنے کے لیے بھی اصلاح کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ ارشادِ پروردگار ہے: ﴿ إِلاَّ الَّذِينَ تَابُواْ وَأَصْلَحُواْ وَبَيَّنُواْ فَأُوْلَئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ﴾[1]؛ ’’سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے توبہ کی اور اپنے کئے کی اصلاح کر لی اور (جس کو چھپایا ہوا تھا) واضح کر دیا تو ایسے ہی لوگوں کی توبہ میں قبول کرتا ہوں اور بےشک میں بڑا توبہ قبول کرنے والا اور بہت مہربان ہوں۔‘‘ حقیقی توبہ میں گذشتہ بُرائی اور فساد کا دُور کرنا اور آئندہ بُرائی و فساد سے بچے رہنے کا تہیہ کرنا ضروری ہے۔ شائستہ اور صالح معاشرے کی تشکیل کا ہدف اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی دُنیوی و اُخروی اور مادی و معنوی ضرورتوں کو پورا کیا جائے؛ لہٰذا صالح معاشرے کی خصوصیات یہ ہیں کہ اس میں ہر ایک کی جان، مال، عزّت و آبرو اور ناموس محفوظ ہوتی ہے، لوگوں کی درمیان مہر و محبت اور اپنائیت کا راج ہوتا ہے اور سب لوگ روحانی و معنوی لحاظ سے پُرسکون اور مطمئن ہوتے ہیں۔

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ بسم اللہ الرحمن الرحیم بنام خدائے رحمن و رحیم اٴَللّٰھُمَّ اِنّيِ اٴَسْاٴَ لُکَ بِرَحْمَتِکَ الَّتي وَ سِعَتْ کُلَّ شَيْءٍ،وَ بِقُوَّتِکَ الَّتي قَھَرْتَ خدایا میراسوال اس رحمت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر محیط ھے۔ اس قوت کے واسطہ سے ھے جو ھر چیز پر حاوی ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ،وَخَضَعَ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ،وَذَلَّ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ، وَبِجَبَرُوتِکَ الَّتي غَلَبْتَ اور اس کے لئے ھر شے خاضع اور متواضع ھے۔ اس جبروت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر غالب ھے اور اس عزت کے واسطہ سے ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ، وَ بِعِزَّتِکَ الَّتي لاٰ یَقُومُ لَھٰا شَيْءٌ، وَبِعَظَمَتِکَ الَّتي مَلَاٴَتْ کُلَّ جس کے مقابلہ میں کسی میں تاب مقاومت نھیں ھے۔اس عظمت کے واسطہ سے ھے جس نے ھر چیز کو پر کردیا ھے شَيْءٍ، وَ بِسُلْطٰانِکَ الَّذي عَلاٰ کُلَّ شَيْءٍ، وَبِوَجْھِکَ الْبٰاقي بَعْدَ فَنٰاءِ کُلِّ شَيْءٍ،

تلاوت قرآن کی فضیلت

'پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا، جو شخص رات کو دس آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام غافلین (جو یاد خدا سے بے بہرہ رہتے ہیں) میں نہیں لکھا جائے گا اور جو شخص پچاس آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام ذاکرین (جو خدا کو یاد کرتے ہیں، حرام و حلال کا خیال رکھتے ہیں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص سو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام قانتین (عبادت گزاروں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص دوسو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام خاشعین (جو خدا کے سامنے متواضع ہوں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص تین سو آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام سعادت مندوں میں لکھا جائے گا، جو شخص پانچ ہزار آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام عبادت اور پرستش خدا کی کوشش کرنے والوں میں لکھا جائے گا اور جو شخص ہزار آیتوں کی تلاوت کرے وہ ایسا ہے جیسے اس نے کثیر مقدار میں سونا راہ خدا میں دے دیا ہو۔،،

تربیت اولاد کے انمول اصول تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

لغت کی کتابوں میں لفظ" تربیت" کے لیے تین اصل اور ریشہ ذکر ہوئے ہیں۔ الف:ربا،یربو زیادہ اور نشوونما پانےکے معنی میں ہے۔ ب: ربی، یربی پروان چڑھنا اور برتری کے معنی میں ہے۔ج: رب،یرب اصلاح کرنے اور سرپرستی کرنے کے معنی میں ہے۔۱صاحب مفردات کا کہنا ہے کہ "رب" مصدری معنی ٰ کے لحاظ سے کسی چیز کو حد کمال تک پہچانے ، پرورش اور پروان چڑھانے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ۲ صاحب التحقيق کا کہنا ہے اس کا اصل معنی ٰ کسی چیز کو کمال کی طرف لے جانے ، نقائص کو تخلیہ اور تحلیہ کے ذریعےرفع کرنے کے معنی ٰ میں ہے۔۳ بنابر این اگر اس کا ريشه(اصل) "ربو" سے ہو تو اضافہ کرنا، رشد ، نمو اور موجبات رشد کو فراہم کرنے کے معنی ٰ میں ہےلیکن ا گر "ربب" سے ہو تو نظارت ، سرپرستي و رهبري اور کسی چیز کو کمال تک پہنچانے کے لئے پرورش کے معنی ٰ میں ہے۔

اقوال حضرت امام علی علیہ السلام

قال علی علیہ السلام :وا علم ان الخلائقییی لم یوکدوا بشئی اعظم من التقویٰ فانہ وصیتنا اھل البیت (۱) ترجمہ: حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں : لوگوں کو تقویٰ سے زیادہ کسی چیز کی تاکید نھیںکی گئی اس لئے کہ یہ ھم اھل بیت کی وصیت ھے ۔ حدیث (۲)

پیٹ کا درد کئی امراض کی علامت ہوسکتا ہے

اگر پیٹ میں درد ہورہا ہو تو اس کی کئی وجوہ ہوسکتی ہیں۔ اکثر ناقص غذا کی وجہ سے معدے میں تکلیف ہونے لگتی ہے جسے ہم پیٹ کے درد سے تعبیر کرتے ہیں۔ معدے کا درد کئی امراض کی علامت بھی ہوسکتا ہے، اس لیے اسے نظرانداز نہیں کرنا چاہیے اور بلاتاخیر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

مشاہدات

آج

1257

کل

481

اس ماہ

18113

اس سال

104794

ٹوٹل مشاہدات

274022