علماء کونسل کچورا سکردو بلتستان

کاغذ کا ٹکڑا 1947 میں کشمیر کی حیثیت تبدیل نہ کرسکا اور نہ اب کرسکے گا، آرمی چیف

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ نہ ہی 1947 میں کاغذ کا ٹکڑا کشمیر کی حیثیت تبدیل کر سکا اور نہ ہی موجودہ غیر قانونی اقدام اس کی حیثیت تبدیل کر سکتا ہے۔

کاغذ کا ٹکڑا 1947 میں کشمیر کی حیثیت تبدیل نہ کرسکا اور نہ اب کرسکے گا، آرمی چیف

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ نہ ہی 1947 میں کاغذ کا ٹکڑا کشمیر کی حیثیت تبدیل کر سکا اور نہ ہی موجودہ غیر قانونی اقدام اس کی حیثیت تبدیل کر سکتا ہے۔

بھارت نے آزاد کشمیر کی طرف آنکھ اٹھا کردیکھا تو اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے، وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ میں کشمیر کا سفیر بن کر اس مسئلہ کو دنیا میں مزید اجاگر کروں گا۔

کشمیریوں سے اظہار یکجہتی؛ وزیراعظم کا یوم آزادی مظفرآباد میں منانے کا فیصلہ

کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے وزیراعظم عمران خان نے یوم آزادی کا دن آزاد جموں کشمیر میں گزارنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ترجمان پرائم منسٹرہاؤس کے مطابق وزیر اعظم 14 اگست کا دن مظفر آبادمیں گزاریں گے، وزیر اعظم 14 اگست کی صبح بذریعہ ہیلی کاپٹر مظفر آباد پہنچیں گے جب کہ وفاقی وزراء بھی وزیر اعظم کے ہمراہ ہوں گے۔

قرآن مجید

آیت تطہیر پر ایک اجمالی نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

آیت تطہیر میں ارادہٴ تکوینی مراد ہے اور ارادہ تکوینی میں تخلف ناممکن ہے۔ اسی لئے اہل بیتعلیہم السلامکا ہرقسم کی آلودگیوں سے پاک و پاکیزہ ہو نا ایک قطعی اور تخلف ناپذیر امر ہے لیکن یہاں یہ سوال پیش آتا ہے کہ اہل بیت علیہم السلام کی عصمت کا غیر اختیاری ہونا ان کے افعال کے غیر اختیاری اور اجباری ہونے پر دلالت کرتا ہے جو ان کے لئے کمال محسوب نہیں ہوتا ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ارادہ تکوینی سے مراد اہلبیت علیہم السلام کا گناہوں اور دوسری آلودگیوں سے پاک و پاکیزہ ہونا ہے لیکن ان کے پاک و پاکیزہ ہونے اور افعال کے اختیاری ہونے میں کوئی منافات نہیں ہے کیونکہ عصمت کے کچھ خاص اسباب ہیں جنہیں خداوند متعال نے ائمہ اطہار علیہم السلام کے اختیار میں دے دیا ہے ۔

آیت تطہیر پر ایک اجمالی نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

آیت تطہیر میں ارادہٴ تکوینی مراد ہے اور ارادہ تکوینی میں تخلف ناممکن ہے۔ اسی لئے اہل بیتعلیہم السلامکا ہرقسم کی آلودگیوں سے پاک و پاکیزہ ہو نا ایک قطعی اور تخلف ناپذیر امر ہے لیکن یہاں یہ سوال پیش آتا ہے کہ اہل بیت علیہم السلام کی عصمت کا غیر اختیاری ہونا ان کے افعال کے غیر اختیاری اور اجباری ہونے پر دلالت کرتا ہے جو ان کے لئے کمال محسوب نہیں ہوتا ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ارادہ تکوینی سے مراد اہلبیت علیہم السلام کا گناہوں اور دوسری آلودگیوں سے پاک و پاکیزہ ہونا ہے لیکن ان کے پاک و پاکیزہ ہونے اور افعال کے اختیاری ہونے میں کوئی منافات نہیں ہے کیونکہ عصمت کے کچھ خاص اسباب ہیں جنہیں خداوند متعال نے ائمہ اطہار علیہم السلام کے اختیار میں دے دیا ہے ۔

تحریف سے محفوظ کتاب آسمانی تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

تحریف سے محفوظ کتاب آسمانی تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی قرآن تمام مذاہب اسلامی کا مشترکہ منبع ہے جو سب کے نزدیک قابل قبول اور قابل احترام ہے ۔شیعہ امامیہ ائمہ اہل بیت علیہم السلام کی پیروی کرتے ہوئے قرآن کریم کو پہلا اور اہم ترین منبع سمجھتا ہے جو عقائد ،معارف اور احکام کا سر چشمہ ہے ۔امام جعفر صادق علیہ السلام اس بارے میں فرماتے ہیں:{ان الله تبارک و تعالی انزل فی القرآن تبیان کل شی حتی والله ، ماترک الله شیاءً یحتاج الیه العباد حتی لا یستطیع عبد یقول لو کان هذا انزل فی القرآن ، الا و قد انزله الله فیه .}۱اللہ تعالی نے ہر شےٴ کو قرآن کریم میں بیان کیاہے اور جس چیز کے بندے محتاج تھے ان میں سے ایک کو بھی نہیں چھوڑا ۔

اعجاز قرآن پر ایک اجمالی نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

اعجاز قرآن پر ایک اجمالی نظر پیغمبر اکرم ؐ کے بہت سارے معجزات نقل ہوئے ہیں جیسے آپ کے سر مبارک پر بادل کا سایہ کرنا،آپ کے دست مبارک پر کنکریوں کا تسبیح کہنا غزوہ تبوک سے واپسی پر آپ کی انگلیوں کے درمیان سے پانی کا پھوٹنا اور بہت سارے اصحاب کا سیراب ہونا،چاند کے دو ٹکڑے ہو جانا اور واقعہ معراج وغیرہ۔ان تمام معجزوں میں سے قرآن کریم پیغمبر اکرم کا اہم ترین معجزہ ہے۔خداوند متعال نے ان لوگوں کے سوال کے جواب میں جو کہتے تھے کہ پیغمبر اکرم ّ کیوں معجزہ نہیں رکھتے ،قرآن مجید کو پیغمبر اکرم ّ کا معجزہ قرار دیا ۔{اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ کہ آخر ان پر پروردگار کی طرف سے آیت کیوں نہیں نازل ہوتی ہیں تو آپ کہ دیجئے کہ آیات سب اللہ کے پاس ہیں اور میں تو صرف واضح طور پر عذاب الہی سے ڈرانے والاہوں ۔کیا ان کے یہ کافی نہیں کہ ہم نے آپ پر کتاب نازل کی ہے جس کی ان کے سامنے تلاوت کی جاتی ہے اور یقینا اس میں رحمت اور ایماندار قوم کے لئے یاد دہانی کا سامان موجود ہے ۔

رسول اکرم ۖ نہج البلاغہ کی روشنی میں

رسول اللہ ۖ اسوہ حسنہ : معاشرے کو قابل عمل نمونے (آئیڈیل )کی ضرورت ہو تی ہے جس کی پہچان لازمی ہے ۔قرآن مجید اسلامی معاشرے کے لیے رسول اللہ ۖکو اعلیٰ ترین نمونہ (اسوہ) قراردیتا ہے ۔ارشاد ہو تا ہے ۔

رسول اکرم ۖ نہج البلاغہ کی روشنی میں

رسول اللہ ۖ اسوہ حسنہ : معاشرے کو قابل عمل نمونے (آئیڈیل )کی ضرورت ہو تی ہے جس کی پہچان لازمی ہے ۔قرآن مجید اسلامی معاشرے کے لیے رسول اللہ ۖکو اعلیٰ ترین نمونہ (اسوہ) قراردیتا ہے ۔ارشاد ہو تا ہے ۔

اہل بیت علیہم السلام نہج البلاغۃ کی روشنی میں

اہل بیت علیہم السلام نہج البلاغۃ کی روشنی میں تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی کائنات میں اس عصر میں تین ایسی کتابیں ہیں جن کی کوئی مثل نہیں اور جن کا کوئی دوسرا مقابلہ نہیں کر سکتا اور ان میں سے ایک قرآن کریم دوسرا صحیفہ سجادیہ اور تیسرا نہج البلاغہ ہے جو مدینۃ العلم کے ان خطبات و مکتوبات اور حکمت کے گوہر پاروں پر مشتمل ہے جسے سید رضی نے فصاحت و بلاغت کے شہ پارے اور صراط مستقیم کے طور پر انتخاب کیا ہے ۔اسی لئے ہر عصر اور ہر دور کے نامور ادیب اور عالم کو یہ اعتراف کرنا پڑا کہ یہ مخلوق کے کلام سے بالاتر اور خالق کے کلام سے کمتر ہیں ۔کیوں نہ ہو چونکہ یہ ایک ہستی کا کلام ہے جس نے ببانگ دھل یہ اعلان کر دیا جو پوچھنا ہو پوچھ لو علی ان سب کا جواب دینے کے لئے تیار ہے ۔

نہج البلاغہ غیر شیعہ مفکرین کی نگاہ میں

غیر شیعہ مفکرین کے نظریات و آراء کا مطالعہ اور تحقیقی جائزہ لینے کے بعد یہ نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ تقریباً تمام غیر شیعہ چاہے ان کا تعلق اسلام کے دیگر فرقوں سے ہو یا وہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہوں انہوں نے صرف نہج البلاغہ کی عظمت و رفعت کا کلمہ ہی نہیں پڑھا ہے بلکہ یقینی طور پر اسے کلام امیر المومنین بھی تسلیم کیا ہے ۔ قطع نظر اس کے البتہ بعض انگشت شمار عناد پرست و مفرض اور نادان افراد نے اس کی عظمت سے چشم پوشی کرتے ہوئے اس کے کلام امیر المومنین ہونے کو مشکوک بنانے یا انکار کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ان کے دلائل نہایت درجہ کمزوری اور مزحقہ خیز ہونے کی وجہ سے تمام اہل تحقیق کی نظر میں باطل ہیں ۔

اہداف بعثت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

رہبر انقلا ب اسلامی امام خامنہ ای مد ظلہ اس بابرکت دن کے بارے میں فرماتےہیں:روز بعثت بے شک انسانی تاریخ کا سب سے بڑا اور عظیم دن ہے کیونکہ وہ جو خداوند متعال کا مخاطب قرار پایا اورجس کے کاندھوں پر ذمہ داری ڈالی گئی، یعنی نبی مکرم اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تاریخ کا عظیم ترین انسان اور عالم وجود کا گران مایہ ترین سرمایہ اور ذات اقدس الہی کے اسم اعظم کا مظہر یا دوسرے الفاظ میں خود اسم اعظم الہی تھا اور دوسری طرف وہ ذمہ داری جو اس عظیم انسان کے کاندھوں پر ڈالی گئی [یعنی نور کی جانب انسانوں کی ہدایت، بنی نوع انسان پر موجود بھاری وزن کو برطرف کرنا اور انسان کے حقیقی وجود سے متناسب دنیا کے تحقق کا زمینہ فراہم کرنا اور اسی طرح تمام انبیاء کی بعثت کے تمام اہداف کا تحقق بھی] ایک عظیم اور بھاری ذمہ داری تھی۔ یعنی خداوند متعال کا مخاطب بھی ایک عظیم انسان تھا ور اس کے کاندھوں پر ڈالی گئی ذمہ داری بھی ایک عظیم ذمہ داری تھی۔ لہذا یہ دن انسانی تاریخ کا عظیم ترین اور بابرکت ترین دن ہے۔[ii]

اہداف بعثت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

رہبر انقلا ب اسلامی امام خامنہ ای مد ظلہ اس بابرکت دن کے بارے میں فرماتےہیں:روز بعثت بے شک انسانی تاریخ کا سب سے بڑا اور عظیم دن ہے کیونکہ وہ جو خداوند متعال کا مخاطب قرار پایا اورجس کے کاندھوں پر ذمہ داری ڈالی گئی، یعنی نبی مکرم اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تاریخ کا عظیم ترین انسان اور عالم وجود کا گران مایہ ترین سرمایہ اور ذات اقدس الہی کے اسم اعظم کا مظہر یا دوسرے الفاظ میں خود اسم اعظم الہی تھا اور دوسری طرف وہ ذمہ داری جو اس عظیم انسان کے کاندھوں پر ڈالی گئی [یعنی نور کی جانب انسانوں کی ہدایت، بنی نوع انسان پر موجود بھاری وزن کو برطرف کرنا اور انسان کے حقیقی وجود سے متناسب دنیا کے تحقق کا زمینہ فراہم کرنا اور اسی طرح تمام انبیاء کی بعثت کے تمام اہداف کا تحقق بھی] ایک عظیم اور بھاری ذمہ داری تھی۔ یعنی خداوند متعال کا مخاطب بھی ایک عظیم انسان تھا ور اس کے کاندھوں پر ڈالی گئی ذمہ داری بھی ایک عظیم ذمہ داری تھی۔ لہذا یہ دن انسانی تاریخ کا عظیم ترین اور بابرکت ترین دن ہے۔[ii]

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام سے محبت

حضرت علی علیہ السلام کی محبت کے واجب ہونے پر بے شمارحدیثیں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل ہوئی ہیں[7] کہ ان سب کو یہاں بیان کرنے کی گنجائش نہیں ہے ۔لہذامذکورہ احادیث کی روشنی میں حقیقی مسلمان وہ ہے جو حضرت علی علیہ السلام کی محبت کو واجب و لازم سمجھےگرچہ خواہشات نفسانی میں گرفتار افراد حضرت علی علیہ السلام سے دشمنی و عداوت رکھتے تھے اور کبھی اسے آشکار کرتے تھے اسی وجہ سے حضرت علی علیہ السلام سے محبت، ایمان اور ان سے عداوت اور دشمنی کونفاق کا معیار سمجھا گیا ۔ اس صورت حال میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض اصحاب امیر المومنین علیہ السلام سے دوسروں کی بہ نسبت زیادہ محبت کرتے تھے اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فرامین پر توجہ کرتے ہوئے حضرت علی علیہ السلام کے گفتار و کردار کو اپنے لئے اسوہ ونمونہ قرار دیتے تھے۔ گذشتہ احادیث سے حضرت علی علیہ السلام کی افضلیت بھی واضح ہو جاتی ہ

ولادت پیامبر (ص) اور ہماری ذمہ داری

مسلمانوں کی اختلافات کا ایک سبب ہمارے پاس دین اسلام کے بارے میں تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے ہیے کیونکہ دین اسلام ایک ایسا کامل دین ہے جس میں انسانوں کے لئے مکمل ہدایت و رہنمائی موجود ہے۔ انسان کی ذاتی زندگی، عائلی زندگی، معاشرتی زندگی، معاشی زندگی، انسانی حقوق، خواتین کے حقوق، حقوق والدین، حقوق زوجین، حقوق ہمسائیگی، طریقہ جہاد، دشمنوں کے ساتھ سلوک، مجرموں کے ساتھ سلوک، حقوق بشر کوئی ایسی چیز نہیں جس کا ذکر اسلام نے نہ کیا ہو، لیکن ان سب کے باوجود یہ تمام برائیاں ہمارے معاشرے میں موجود ہیں کیونکہ ہم نے اسلام کو صرف زبان کی حد تک محدود رکھا ہوا ہے کبھی اسلام کے اصولوں کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش نہیں کی۔

ہفتہ وار پروگرام

راولپڈی شیخ محمد عباس جشن ولادت جناب علی اکبر کی محفل سے خطاب کر رہے ہیں

راولپڈی شیخ محمد عباس جشن ولادت جناب علی اکبر کی محفل سے خطاب کر رہے ہیں

راولپڈی شیخ محمد عباس جشن ولادت جناب علی اکبر کی محفل سے خطاب کر رہے ہیں

راولپڈی شیخ محمد عباس جشن ولادت جناب علی اکبر کی محفل سے خطاب کر رہے ہیں

مشہد المقدس: شیخ نبی جعفری جشن ولادت جناب علی اکبر سے خطاب کر رہے ہیں

مشہد المقدس: شیخ نبی جعفری جشن ولادت جناب علی اکبر سے خطاب کر رہے ہیں

قم المقدسہ: ہفتہ وار علمی نشست سے شیخ علی خان خطاب کر رہے ہیں

قم المقدسہ: ہفتہ وار علمی نشست سے شیخ علی خان خطاب کر رہے ہیں

سالانہ پروگرام

القدس ریلی سے علماء کونسل کچورا کے صدر شیخ محمد لطیف مطہری خطاب کرتے ہوئے

القدس ریلی سے علماء کونسل کچورا کے صدر شیخ محمد لطیف مطہری خطاب کرتے ہوئے

القدس ریلی سے علماء کونسل کچورا کے صدر شیخ محمد لطیف مطہری خطاب کرتے ہوئے

القدس ریلی سے علماء کونسل کچورا کے صدر شیخ محمد لطیف مطہری خطاب کرتے ہوئے

کلین کچورا صفائی مہم و آگاہی واک

علماء کونسل کچورا کے صدر حجة الاسلام و المسلمين ڈاکٹر شيخ محمد لطیف مطہری نے صفائی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کچورا جیسے خوبصوت علاقے میں مختلف جگہوں پر کوڑا کرکٹ جمع ہونے کی وجہ سے مختلف قسم کی بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔ جہاں وقت کے ساتھ ساتھ ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اس علاقے کا رخ کر رہی یے، اسی دوران مقامی انتظامیہ کی کچورا کی صفائی کے متعلق غفلت مجرمانہ ہے۔

عظمت شہداء کانفرنس سے علماء کرام خطاب کرتے ہوئے

عظمت شہداء کانفرنس سے علماء کرام خطاب کرتے ہوئے

شیخ عباس امیری عید سعید قربان کا خطبہ دیتے ہوئے

شیخ عباس امیری حسنین نگر کچورا میں عید سعید قربان کا خطبہ دیتے ہوئے حسنین نگر کچورا میں عید قربان کی نماز شیخ عباس امیری کی امامت میں ادا کی گئی۔۔مومنین کی کثیر تعداد نے نماز عید میں شرکت کی۔

شیخ عباس امیری عید سعید قربان کا خطبہ دیتے ہوئے

شیخ عباس امیری حسنین نگر کچورا میں عید سعید قربان کا خطبہ دیتے ہوئے حسنین نگر کچورا میں عید قربان کی نماز شیخ عباس امیری کی امامت میں ادا کی گئی۔۔مومنین کی کثیر تعداد نے نماز عید میں شرکت کی۔

شيخ ذولفقار علی صادقی کا شہید علامہ عارف حسین الحسینی کی برسی سے خطاب

شيخ ذولفقار علی صادقی کا شہید علامہ عارف حسین الحسینی کی برسی سے خطاب آج جامع مسجد کچورا میں ائی _او -اور علماء کونسل کچورا کی طرف سے شھید مظلوم، قاید ملت جعفریہ علامہ شھید عارف حیسن الحسینی (علیہ الرحمه) کی برسی منائی گئی جس سےعلما کونسل کچورا کے رکن شيخ ذولفقار علی صادقی نےخطاب کیا۔

اسد عاشورا کی مناسبت سےحسنین نگر کچورا میں شیخ عباس امیری کا خطاب

اسد عاشورا کی مناسبت سےحسنین نگر کچورا میں شیخ عباس خطاب کرتے ہوئے۔

دیگرسیاحتی مقامات

پاکستان کی دلکش جنت نظیر وادی کچورا

پاکستان کی دلکش جنت نظیر وادی کچورا پہاڑی سلسلےچاروں طرف اوربیج میں ہم ہیں مثال گوہر نایاب ہم پتھر میں رہتے ہیں تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی کے ٹو کے دامن میں واقع شہر سکردو سے ۳۵ کلو میٹر شمال میں دریائے سندھ کے بائیں کنارے پر۱۵۸۴ مربع کلو میٹر پر پھیلا ہوا وادی کچورا سطح سمندر سے ۸۵۰ سے ۱۱۰۰ فٹ بلندی پر واقع ہے۔کچورا کو یونین ہیڈ کواٹر ہونے کا شرف حاصل ہے۔کچورا جس کی آبادی تقریبا ۸۰۰۰ نفوس ۶۵۰ گھرانے ۵ موضوعات اور ۲۱ محلوں پر مشتمل ہیں ۔اپر کچورا کے محلوں کے نام کچھ اس طرح سے ہیں:۱۔غلچو۲۔حسنین نگر پڑنگ ۳۔پوندس ۴۔شاہین آباد ۵۔علی آباد ۶۔احمد آباد۷۔غازی آباد۸۔ملونگ۹۔ہنگوپیا۱۰۔ژھوق ڈونگبر ۱۱۔ ژھوق فرول۱۲۔ستقچن۱۳۔بلچو۱۴۔گونماشغرتھنگ ۱۵۔گمباشغرتھنگ۔اسی طرح لوئر کچورا کے محلوں کے نام یہ ہیں: ۱۔ مرداچو۲۔ کنڈور۳۔گلشن آباد۴۔قاسم آباد۵۔ژھوکھا ۔۶گربونگ۔

پاکستان کی دلکش جنت نظیر وادی کچورا

پاکستان کی دلکش جنت نظیر وادی کچورا پہاڑی سلسلےچاروں طرف اوربیج میں ہم ہیں مثال گوہر نایاب ہم پتھر میں رہتے ہیں تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی کے ٹو کے دامن میں واقع شہر سکردو سے ۳۵ کلو میٹر شمال میں دریائے سندھ کے بائیں کنارے پر۱۵۸۴ مربع کلو میٹر پر پھیلا ہوا وادی کچورا سطح سمندر سے ۸۵۰ سے ۱۱۰۰ فٹ بلندی پر واقع ہے۔کچورا کو یونین ہیڈ کواٹر ہونے کا شرف حاصل ہے۔کچورا جس کی آبادی تقریبا ۸۰۰۰ نفوس ۶۵۰ گھرانے ۵ موضوعات اور ۲۱ محلوں پر مشتمل ہیں ۔اپر کچورا کے محلوں کے نام کچھ اس طرح سے ہیں:۱۔غلچو۲۔حسنین نگر پڑنگ ۳۔پوندس ۴۔شاہین آباد ۵۔علی آباد ۶۔احمد آباد۷۔غازی آباد۸۔ملونگ۹۔ہنگوپیا۱۰۔ژھوق ڈونگبر ۱۱۔ ژھوق فرول۱۲۔ستقچن۱۳۔بلچو۱۴۔گونماشغرتھنگ ۱۵۔گمباشغرتھنگ۔اسی طرح لوئر کچورا کے محلوں کے نام یہ ہیں: ۱۔ مرداچو۲۔ کنڈور۳۔گلشن آباد۴۔قاسم آباد۵۔ژھوکھا ۔۶گربونگ۔

گلگت بلتستان جیساخوبصورت سیاحتی علاقہ دنیا میں کہیں نہیں، عمران خان

گلگت بلتستان جیساخوبصورت سیاحتی علاقہ دنیا میں کہیں نہیں، عمران خان وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پوری دنیا کی سیر کر چکا ہوں، پاکستان کے شمالی علاقوں جیسے خوبصورت سیاحتی مقامات کہیں نہیں دیکھے۔ اسلام آباد میں پاکستان ٹورازم سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ شاید ہی کسی ملک میں پاکستان جیسی ساحلی سیاحت ہو، پاکستان کے جیسے ساحل کسی ملک میں نہیں ہیں۔

بین الاقوامی

مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی حکومت نے انسانی حقوق کی معطلی کو معمول بنا لیا ہے، ہیومن رائٹس واچ

مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی حکومت نے انسانی حقوق کی معطلی کو معمول بنا لیا ہے، ہیومن رائٹس واچ ہیومن رائٹس واچ نے مقبوضہ کشمیر کے لاک ڈاؤن اور کمیونی کمیشن بلیک آؤٹ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی حکومت نے انسانی حقوق کی معطلی کو معمول بنا لیا ہے۔

علامہ شیخ زکزکی علاج کے لئے بھارت پہنچ گئے

علامہ شیخ زکزکی علاج کے لئے بھارت پہنچ گئے نائیجیریا کی جیل میں بے جرم و خطا کئی سالوں سے قید علامہ شیخ زکزکی کو بھارت میں علاج کرانے کی اجازت کےبعد ہندوستان روانہ ہوگئے ہیں۔

امام خمینی

امام خمینی رہ کے انقلابی نظریات اور اس کے اثرات

امام خمینی علیہ الرحمہ کی شخصیت اعلم فقیہ، واصل عارف اور با بصیرت راہبر جیسی صفات کی حامل ہے، ایران کی سرزمین پر دو ہزار پانچ سو سالہ پرانی شہنشاہیت کو شکست دینے کے بعد شرق و غرب کی سپر پاورز کا سامنا کرنے والی شخصیت ہے۔

امام خمینی رح ایک مرد عارف

حضرت امام خمینی رح کے بارے میں عام طور پر جو بات ہمارے ہاں زیادہ مشہور ہے وہ یہ کہ آپ نے ایک ملوکیت اور بادشاہت کا خاتمہ کرکے ایک اسلامی اور مذہبی حکومت قائم کی۔ لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ استعماری طاقتوں کے خلاف تھے اور استعماری طاقتوں نے آپ کی حکومت کے خاتمے کے لیے اپنے پورے وسائل بروئے کار لائے لیکن وہ اس میں ناکام ہو گئیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ امام خمینی رح بہت شجاع اور بہادر تھے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ آپ نے ناجائز طور پر قائم صہیونی حکومت کے خاتمے اور فلسطینیوں کے حقوق کے حصول کے لیے بھی آواز بلند کی۔ آپ مستضعفوں اور محروموں کے حقوق کے بھی علمبردار تھے۔ آپ نے اتحاد امت کے لیے ایک زور دار آواز بلند کی۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ ایک عالم اور فقیہ تھے اور آپ کی تقلید کی جاتی تھی۔ بعدازاں آپ کا دیوان بھی چھپا اور پاکستان میں بھی بہت سے لوگوں کو معلوم ہوا کہ آپ صاحب دیوان شاعر بھی تھے، لیکن ابھی تک جو پہلو کم شناختہ یا ناشناختہ ہے وہ یہ ہے کہ آپ ایک بلند پایہ عارف تھے اور شاید یہ کہنا زیادہ بہتر ہو کہ آپ کے وجود سے پھوٹنے والی تمام تر خوبیوں کا سرچشمہ یہی امر ہے کہ آپ ایک عارف باللہ اور عاشق الٰہی تھے اور اس سلسلے میں نظری اور عملی طور پر نہایت عمق اور گہرائی کے مقام پر فائز تھے۔

امام خامنہ ای

مسئلہ فلسطین امت مسلمہ کے اساسی اور بنیادی مسائل میں سے ایک ہے، امام خامنہ ای

مسئلہ فلسطین امت مسلمہ کے اساسی اور بنیادی مسائل میں سے ایک ہے، امام خامنہ ای رہبر انقلاب اسلامی امام خامنہ ای نے حجاج کرام کے نام اپنے سالانہ پیغام میں فلسطین کے مسئلے کو دنیا کا اہم ترین مسئلہ قرار دیا ہے۔

ایران بحری جہاز پر برطانوی حملے کا سخت جواب دے گا، امام خامنہ ای

ایران بحری جہاز پر برطانوی حملے کا سخت جواب دے گا، امام خامنہ ای امام خامنہ ای نے آئمہ جعمہ اور جماعات کے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ایران بحری جہاز پر برطانوی حملے کا سخت جواب دے گا۔

کلام و عقائد

بدا قرآن و حدیث کی روشنی میں

ذات الٰہی کے بارے میں بدا، حقیقت میں ابدا و اظہار ہے۔ یعنی جو کچھ خدا کے علم میں ہے اور انسان کے علم میں نہیں، اسےخداوند متعال اظہار و آشکار کرتا ہے۔ اسے بدا، کہنے کا سبب یہ ہے کہ یہ مقام فعل الٰہی میں نمایاں ہوتا ہے، اگرچہ ذات الٰہی میں جہل اور تغییر محال ہیں۔ خداوند متعال انبیاء کرام پر غیبی طریقے سے نظر رکھتا ہے تاکہ یہ لوگ وحی کے پہنچانے میں خطا سے محفوظ رہیں۔ قرآن کریم اس بارے میں ارشاد فرماتا ہے، "لِّيَعْلَمَ أَن قَدْ أَبْلَغُواْ رِسَالَاتِ رَبهِّم" تاکہ وہ دیکھ لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات کو پہنچا دیا ہے۔ واضح ہے کہ خداوند متعال پہلے سے ہی آگاہ ہے کہ انبیاء، وحی الٰہی کو صحیح طریقے سے لوگوں تک پہنچائیں گے۔

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی علم کلام کےاہم مباحث میں سے ایک حسن و قبح عقلی کا بحث ہے ۔اس سے مراد یہ ہے کہ کچھ افعال ذاتی طور پر حسن {اچھے} اور کچھ افعال ذاتی طور پر قبیح{ برے} ہیں ۔ معتزلہ اور امامیہ حسن و قبح عقلی کے قائل ہیں جبکہ اشاعرہ اس کی نفی کرتے ہیں۔ بہت سے کلامی مسائل اس بحث پر موقوف ہیں مثلا انسان کا اپنے اعمال میں خود مختار ہونا،خدا وند متعال کی بعض صفات کمالیہ کا ثبوت جیسے خدا کا عادل ہونا،اسی طرح بعض صفات سلبیہ بھی اسی بحث پر موقوف ہے جیسے خدا سے قبیح کا سرزد نہ ہونا،خداکا ظلم نہ کرنا وغیرہ ۔ جو لوگ حسن اور قبح کے قائل ہیں وہ انسانی افعال میں انسان کو مختار،خدا کو عادل مانتے ہیں جبکہ حسن و قبح کے مخالفین انسان کو مجبور اور خداکی عدالت سے انکار کرتے ہیں ۔

تربیت اولاد

خاندانی منصوبہ بندی : ایک معاشرتی ضرورت یا دھوکہ!

خاندانی منصوبہ بندی کوآج کے دور میں مختلف مملک کی حکومتیں اپنی کامیاب ترین پالیسیوں میں شمار کرتی ہیں۔ آبادی کا کنٹرول اور چھوٹا خاندان خوشحالی کا ذریعہ سمجھاجاتا ہے۔ خصوصاً محدود وسائل رکھنے والے ممالک میں اس پالیسی کو زیادہ اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے

تعليم و تربيت کے بارے ميں اسلامي علما کي آرا و نظريات

تاريخ اسلام ميں تقريبا تمام علماء و دانشور مختلف علوم ميں مھارت رکھنے کے ساتھ ساتھ تعليم و تربيت ميں بھي صاحب نظر اور مھارت کے حامل ہوا کرتے تھے اس سے اسلام ميں تعليم وتربيت کي اھميت کا پتہ چلتا ہے لھذا ہم يہاں پر علما اسلام کي نظر ميں تعليم و تربيت کي اھميت اجاگر کرنے کے لئے ان کے بعض نظريات پيش کر رہے ہيں۔

تندرستی

فلیوینوئیڈ سے بھرپور غذا، کینسر اور دل کی بیماریوں سے بچاتی ہے، تحقیق

ماہرین کی ایک عالمی ٹیم نے ہزاروں افراد پر طویل مدتی تحقیق کے بعد معلوم کیا ہے کہ فلیوینوئیڈ سے بھرپور غذا استعمال کی جائے تو دل کی بیماریوں اور کینسر کے خطرات بہت کم رہ جاتے ہیں۔ یہ فوائد صرف عام لوگوں تک ہی محدود نہیں بلکہ سگریٹ نوشی کرنے والے بھی فلیوینوئیڈز کے فوائد سے مستفید ہوسکتے ہیں۔

مرچیں کم کھائیں، یادداشت بچائیں

یہ تحقیق قطر، آسٹریلیا اور امریکا میں کی گئی جس میں 55 سال یا اس سے زائد عمر کے 4,582 چینی باشندوں کا مسلسل 1991 سے 2006 تک مطالعہ کیا گیا۔ اس طرح مجموعی طور پر یہ تحقیق 15 سال تک جاری رہی تھی۔

مہدویت{امام زمان عج}

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی امامت کے اہداف میں سے ایک ہدف امام معصوم کا لوگوں کی باطنی ہدایت ہے۔ امام لائق اور پاکیزہ دل رکھنے والے افراد کو اپنی طرف جذب کر کے انہیں کمال تک پہنچاتے ہیں۔ واضح ہے کہ انسان کا اس طرح ہدایت سے ہمکنار ہونے کے لئے ضروری نہیں کہ وہ امام کے ساتھ ظاہری رابطہ برقرار کرے۔ گذشتہ بیانات کی روشنی میں امام زمانہ (عج) کو بادل کے پیچھے پنہان روشن آفتاب سے تشبیہ دینے کا مقصد بھی واضح ہو جاتا ہے۔ اگرچہ بادل کے پیچھے پنہان سورج سے انسان مکمل طور بہرہ مند نہیں ہوتا ہے لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ اس سے انسان کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا ہے۔ بہرحال امام زمانہ (عج) کے وجود کے آثار و برکات سے بہرہ مند نہ ہونے کا سبب انسانوں کی طرف سے خاص حالات کا فراہم نہ کرنا ہے، جس کی وجہ سے لوگ اس عظیم نعمت کے فوائد سے محروم ہیں اور اس محرومیت کا سبب وہ خود ہیں نہ کہ خداوند متعال اور امام، کیونکہ خداوند متعال اور امام کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی مشکل درپیش نہیں ہے۔

دیگر مناسبتیں

اتحاد بین المسلمین کے عظیم داعی، شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی

شہید قائد آدھی رات سے اپنے معشوق حقیقی سے راز و نیاز میں مصروف تھے۔ نماز صبح کے بعد ایمان و عمل کی روشنی پھیلانے کے لئے معاشرے کے افق پر طلوع ہو ہی رہا تھا کہ شقی القلب اور وقت کے ابن ملجم کا نشانہ بن گئے۔ وہ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے زمین پر گر گئے۔ ارض پاک سے ایک دفعہ پھر ہدایت اور اتحاد بین المسلمین کے ایک روشن چراغ کو بجھا دیا گیا، وہ بھی صرف اس لئے کہ اس نے افتراق پرور، باطل پرست اور ظالم حکومت کے ہاتھوں بیعت نہیں کی۔

پاکیزگی کا سفر

انسان کے لئے بعض مواقع ایسے آتے ہیں جن میں وہ صحیح معنوں میں خدا کی خوشنودی اور قرب کو حاصل کر سکتا ہے اور یہی ہر انسان کی دلی تمنا ہوتی ہے۔ہر انسان فطرتا نیک اور خدا جو ہوتا ہے لیکن زمانے اور حالات کے سبب انسان اپنے خالق حقیقی کو فراموش کر لیتے ہیں لیکن زندگی کے کسی موڑ پر جب اسے ہوش آ جاتا ہے تو وہ یہ جان چکا ہوتا ہے کہ خدا کے سوا اس کا کوئی نہیں۔انسان کی شروع سے ہی یہی کوشش رہتی ہے کہ وہ کسی نہ کسی طریقہ سے خدا کی خوشنودی حاصل کرے اوراعمال و عبادات کے ذریعہ اپنے خالق کے حضور بڑا مقام حاصل کر لے۔

چہاردہ معصومین ع

زرتشتی عالم سے امام رضا علیہ السلام کا مناظرہ

امام علی رضا علیہ السلام کو خراسان طلب کرنے کے بعد سے مامون اپنے مختلف اہداف و مقاصد کے مد نظر تمام ادیان و مذاہب کے علماء کو امام (ع) کے ساتھ مناظرہ کرنے کی دعوت دیا کرتا تھا۔ یہ مناظرہ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے جو اس زمانہ کے بزرگ زرتشتی عالم کے ساتھ امام رضا (ع) نے انجام دیا ہے۔

حضرت امام صادق علیہ السلام کی علمی خدمات

حضرت امام صادق علیہ السلام کی علمی خدمات تاریخ تشییع اس بات پر گواہ ہے کہ حضرت ختمی مرتبت کے زمانے سے غبیت کبری تک آئمہ معصومین کی رہبریت، قیادت اور حکمت عملی میں ایک غیرمعمولی طریقہ کار کا تسلسل رہا ہے۔

دیگر موضوعات

قربانی کی تاریخ اور اسکا فلسفہ

دین مقدس اسلام میں قربانی ایک مالی عبادت ہے، جو شعائر اسلام میں بھی شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں اس کی بڑی فضیلت ہے۔ شعائر اللہ کو دلوں کا تقوا قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں ارشاد ہوا ہے: "وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ" (سورہ حج:۳۲) بات یہ ہے کہ جو شعائر اللہ کا احترام کرتا ہے تو یہ دلوں کا تقویٰ ہے۔ دین اسلام میں اس کے علاوہ اور بھی مالی عبادات ہیں۔ لیکن ان عبادات کے مقابلے میں قربانی کچھ مخصوص خصوصیات کی حامل ہے۔ انہی خصوصیات کی وجہ سے عبادات کے درمیان قربانی کا الگ مقام ہے۔

خاندانی منصوبہ بندی : ایک معاشرتی ضرورت یا دھوکہ!

خاندانی منصوبہ بندی کوآج کے دور میں مختلف مملک کی حکومتیں اپنی کامیاب ترین پالیسیوں میں شمار کرتی ہیں۔ آبادی کا کنٹرول اور چھوٹا خاندان خوشحالی کا ذریعہ سمجھاجاتا ہے۔ خصوصاً محدود وسائل رکھنے والے ممالک میں اس پالیسی کو زیادہ اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ لوگوں کو اس منصوبہ بندی کی طرف راغب کرنے کے لئے خوبصورت نعرے بھی لگائے جاتےہیں، جیسے "بچے دو ہی اچھے"، "چھوٹا خاندان خوشحال زندگی" وغیرہ۔

سب سے زیادہ زیر بحث

امام علی علیہ السلام کی شانِ میں چہل حدیث

مولا علیؑ کی شان میں چالیس احادیث اور یہ ﻭﻩ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ہیں ﺟﻮ ﺻﺤﺎﺡ ﺳﺘﻪ ﻣﯿﮟ بھی موجود ہے. 1= ﻋﻨﻮﺍﻥ ﺻﺤﻴﻔﺔ ﺍﻟﻤﺆﻣﻦ ﺣﺐّ ﻋﻠﻰؑ ﺑﻦ ﺍﺑﻰ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ. ﺻﺤﯿﻔﮧ ﻣﻮﻣﻦ ﮐﺎ ﻋﻨﻮﺍﻥ ﻣﺤﺒﺖِ ﻋﻠﯽؑ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻃﺎﻟﺐؑ ﮨﮯ.

دعا کی اہمیت

دعا کی اہمیت حضرت انسان کس قدر شرف و عظمت کا مالک ہے،اس کے لئے کائنات بنی،پوری کائنات میں اسی کو عزت و تکریم کا حق دار ٹھہرایا گیا۔تمام مخلوق اس کی خدمت اور منفعت کے لئے پیدا کی گئی۔لیکن اتنی عظمتوں کے باوجود اس کی خلقت کا مقصد اللہ کی معرفت اور عبادت قرار دیا گیا۔لہذا انسان کا اہم کام خدا سے ارتباط و ربط ہے۔مگر کیسا رابطہ؟ اتنی عظمتوں کے باوجود بارگاہ خداوندی میں فقر محض اور احتیاج محض ہے جبکہ ذات پروردگار غناء ہی غناء ہے۔بلندی ہی بلندی ہے۔انسان مشکلات،مصائب اور تکالیف میں ایسی ذات کی طرف رجوع کر کے اپنے فقر اور احتیاج محض ہونے کا اقرار و اعتراف کرتے ہوئے اپنی نفی اور بے ثباتی کا اظہار کرتا نظر آتا ہے۔اس سلسلے میں انسان کا ایک اہم وسیلہ دعا ہے۔دعا کے ذریعے اپنی احتیاج کا اظہار بھی کرتا ہے اوراللہ سے اعانت کی التجا بھی کرتا ہے۔

قرآنِ کریم اور اصلاحِ معاشرہ تحریر: عارف حسین تھہیم

لفظِ ’’اصلاح‘‘ درست کرنے، صحیح کرنے اور خرابی کو دُور کے معنی میں آتا ہے۔ معاشرتی اور اجتماعی مفہوم کے اعتبار سے شائستہ اور نیک عمل انجام دینے، نیز فساد و تباہی کو ختم کرنے کے لیے بھی اصلاح کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ ارشادِ پروردگار ہے: ﴿ إِلاَّ الَّذِينَ تَابُواْ وَأَصْلَحُواْ وَبَيَّنُواْ فَأُوْلَئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ﴾[1]؛ ’’سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے توبہ کی اور اپنے کئے کی اصلاح کر لی اور (جس کو چھپایا ہوا تھا) واضح کر دیا تو ایسے ہی لوگوں کی توبہ میں قبول کرتا ہوں اور بےشک میں بڑا توبہ قبول کرنے والا اور بہت مہربان ہوں۔‘‘ حقیقی توبہ میں گذشتہ بُرائی اور فساد کا دُور کرنا اور آئندہ بُرائی و فساد سے بچے رہنے کا تہیہ کرنا ضروری ہے۔ شائستہ اور صالح معاشرے کی تشکیل کا ہدف اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی دُنیوی و اُخروی اور مادی و معنوی ضرورتوں کو پورا کیا جائے؛ لہٰذا صالح معاشرے کی خصوصیات یہ ہیں کہ اس میں ہر ایک کی جان، مال، عزّت و آبرو اور ناموس محفوظ ہوتی ہے، لوگوں کی درمیان مہر و محبت اور اپنائیت کا راج ہوتا ہے اور سب لوگ روحانی و معنوی لحاظ سے پُرسکون اور مطمئن ہوتے ہیں۔

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ بسم اللہ الرحمن الرحیم بنام خدائے رحمن و رحیم اٴَللّٰھُمَّ اِنّيِ اٴَسْاٴَ لُکَ بِرَحْمَتِکَ الَّتي وَ سِعَتْ کُلَّ شَيْءٍ،وَ بِقُوَّتِکَ الَّتي قَھَرْتَ خدایا میراسوال اس رحمت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر محیط ھے۔ اس قوت کے واسطہ سے ھے جو ھر چیز پر حاوی ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ،وَخَضَعَ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ،وَذَلَّ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ، وَبِجَبَرُوتِکَ الَّتي غَلَبْتَ اور اس کے لئے ھر شے خاضع اور متواضع ھے۔ اس جبروت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر غالب ھے اور اس عزت کے واسطہ سے ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ، وَ بِعِزَّتِکَ الَّتي لاٰ یَقُومُ لَھٰا شَيْءٌ، وَبِعَظَمَتِکَ الَّتي مَلَاٴَتْ کُلَّ جس کے مقابلہ میں کسی میں تاب مقاومت نھیں ھے۔اس عظمت کے واسطہ سے ھے جس نے ھر چیز کو پر کردیا ھے شَيْءٍ، وَ بِسُلْطٰانِکَ الَّذي عَلاٰ کُلَّ شَيْءٍ، وَبِوَجْھِکَ الْبٰاقي بَعْدَ فَنٰاءِ کُلِّ شَيْءٍ،

تلاوت قرآن کی فضیلت

'پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا، جو شخص رات کو دس آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام غافلین (جو یاد خدا سے بے بہرہ رہتے ہیں) میں نہیں لکھا جائے گا اور جو شخص پچاس آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام ذاکرین (جو خدا کو یاد کرتے ہیں، حرام و حلال کا خیال رکھتے ہیں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص سو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام قانتین (عبادت گزاروں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص دوسو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام خاشعین (جو خدا کے سامنے متواضع ہوں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص تین سو آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام سعادت مندوں میں لکھا جائے گا، جو شخص پانچ ہزار آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام عبادت اور پرستش خدا کی کوشش کرنے والوں میں لکھا جائے گا اور جو شخص ہزار آیتوں کی تلاوت کرے وہ ایسا ہے جیسے اس نے کثیر مقدار میں سونا راہ خدا میں دے دیا ہو۔،،

تربیت اولاد کے انمول اصول تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

لغت کی کتابوں میں لفظ" تربیت" کے لیے تین اصل اور ریشہ ذکر ہوئے ہیں۔ الف:ربا،یربو زیادہ اور نشوونما پانےکے معنی میں ہے۔ ب: ربی، یربی پروان چڑھنا اور برتری کے معنی میں ہے۔ج: رب،یرب اصلاح کرنے اور سرپرستی کرنے کے معنی میں ہے۔۱صاحب مفردات کا کہنا ہے کہ "رب" مصدری معنی ٰ کے لحاظ سے کسی چیز کو حد کمال تک پہچانے ، پرورش اور پروان چڑھانے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ۲ صاحب التحقيق کا کہنا ہے اس کا اصل معنی ٰ کسی چیز کو کمال کی طرف لے جانے ، نقائص کو تخلیہ اور تحلیہ کے ذریعےرفع کرنے کے معنی ٰ میں ہے۔۳ بنابر این اگر اس کا ريشه(اصل) "ربو" سے ہو تو اضافہ کرنا، رشد ، نمو اور موجبات رشد کو فراہم کرنے کے معنی ٰ میں ہےلیکن ا گر "ربب" سے ہو تو نظارت ، سرپرستي و رهبري اور کسی چیز کو کمال تک پہنچانے کے لئے پرورش کے معنی ٰ میں ہے۔

پیٹ کا درد کئی امراض کی علامت ہوسکتا ہے

اگر پیٹ میں درد ہورہا ہو تو اس کی کئی وجوہ ہوسکتی ہیں۔ اکثر ناقص غذا کی وجہ سے معدے میں تکلیف ہونے لگتی ہے جسے ہم پیٹ کے درد سے تعبیر کرتے ہیں۔ معدے کا درد کئی امراض کی علامت بھی ہوسکتا ہے، اس لیے اسے نظرانداز نہیں کرنا چاہیے اور بلاتاخیر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

اقوال حضرت امام علی علیہ السلام

قال علی علیہ السلام :وا علم ان الخلائقییی لم یوکدوا بشئی اعظم من التقویٰ فانہ وصیتنا اھل البیت (۱) ترجمہ: حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں : لوگوں کو تقویٰ سے زیادہ کسی چیز کی تاکید نھیںکی گئی اس لئے کہ یہ ھم اھل بیت کی وصیت ھے ۔ حدیث (۲)

مشاہدات

آج

456

کل

655

اس ماہ

18276

اس سال

126223

ٹوٹل مشاہدات

295451