علماء کونسل کچورا سکردو بلتستان

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ یہ صرف شروعات ہے، ایک دن بھارت سے ایسے تعلقات ہوں گے جو ہونے چاہیے تھے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سدھونے مجھے کہا تھا کہ یہ بارڈرکھول دو، مودی اگرمیری بات سن رہے ہیں توکہتا ہوں انصاف سے امن ہوتا ہے، نریندرمودی کشمیر کے لوگوں کو انصاف دیں، مقبوضہ کشمیر میں اس وقت زمین کانہیں انسانیت کامسئلہ ہے، کشمیرکا مسئلہ بات چیت کے ذریعے حل کرسکتے ہیں، جب کشمیریوں کو ان کا حق مل جائے گا تو خطے میں خوشحالی آئے گی اور یہ شروعات ہے، ایک دن بھارت سے ایسے تعلقات ہوں گے جو ہونے چاہیے تھے۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ یہ صرف شروعات ہے، ایک دن بھارت سے ایسے تعلقات ہوں گے جو ہونے چاہیے تھے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سدھونے مجھے کہا تھا کہ یہ بارڈرکھول دو، مودی اگرمیری بات سن رہے ہیں توکہتا ہوں انصاف سے امن ہوتا ہے، نریندرمودی کشمیر کے لوگوں کو انصاف دیں، مقبوضہ کشمیر میں اس وقت زمین کانہیں انسانیت کامسئلہ ہے، کشمیرکا مسئلہ بات چیت کے ذریعے حل کرسکتے ہیں، جب کشمیریوں کو ان کا حق مل جائے گا تو خطے میں خوشحالی آئے گی اور یہ شروعات ہے، ایک دن بھارت سے ایسے تعلقات ہوں گے جو ہونے چاہیے تھے۔

وزیراعظم عمران خا ن نے کرتارپور راہداری کا افتتاح کردیا

کرتار پور راہداری کے افتتاح کے موقع پر سکھ مت کے بانی بابا گرونانک دیو جی کے 550 ویں جنم دن کی تقریبات میں شرکت کے لیے بھارت سمیت دنیا بھر سے سیکڑوں سکھ یاتری پہنچے، بھارت سے کوریڈور کے راستے 550 سے زائد یاتریوں کا جتھہ گوردوارہ دربار صاحب پہنچا۔ جتھے میں سابق وزیراعظم من موہن سنگھ، بھارتی پنجاب کے وزیراعلی امریندر سنگھ، وفاقی وزیر ہرسمرت کور بادل اور ہردیپ پوری، فلم اداکار اور گرداس پور پارلیمانی حلقہ سے رکن لوک سبھا سنی دیول سمیت متعدد ممبران پارلیمان اور اراکینِ اسمبلی شامل ہیں جب کہ واہگہ بارڈر سے آنے والے سکھ یاتریوں اور میڈیا نمائندے بھی کرتارپور پہنچے۔

ادارے غیر جانبدار رہیں، مولانا / فوج جمہوری حکومت کے ساتھ ہے، آصف غفور

ادارے غیر جانبدار رہیں، مولانا / فوج جمہوری حکومت کے ساتھ ہے، آصف غفور اسلام آباد میں آزادی مارچ سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ادارے غیرجانبدار رہیں جبکہ شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ پاک فوج نے ہمیشہ سے جمہوری حکومت کی حمایت کی ہے۔

قرآن مجید

آیت تطہیر پر ایک اجمالی نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

آیت تطہیر میں ارادہٴ تکوینی مراد ہے اور ارادہ تکوینی میں تخلف ناممکن ہے۔ اسی لئے اہل بیتعلیہم السلامکا ہرقسم کی آلودگیوں سے پاک و پاکیزہ ہو نا ایک قطعی اور تخلف ناپذیر امر ہے لیکن یہاں یہ سوال پیش آتا ہے کہ اہل بیت علیہم السلام کی عصمت کا غیر اختیاری ہونا ان کے افعال کے غیر اختیاری اور اجباری ہونے پر دلالت کرتا ہے جو ان کے لئے کمال محسوب نہیں ہوتا ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ارادہ تکوینی سے مراد اہلبیت علیہم السلام کا گناہوں اور دوسری آلودگیوں سے پاک و پاکیزہ ہونا ہے لیکن ان کے پاک و پاکیزہ ہونے اور افعال کے اختیاری ہونے میں کوئی منافات نہیں ہے کیونکہ عصمت کے کچھ خاص اسباب ہیں جنہیں خداوند متعال نے ائمہ اطہار علیہم السلام کے اختیار میں دے دیا ہے ۔

آیت تطہیر پر ایک اجمالی نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

آیت تطہیر میں ارادہٴ تکوینی مراد ہے اور ارادہ تکوینی میں تخلف ناممکن ہے۔ اسی لئے اہل بیتعلیہم السلامکا ہرقسم کی آلودگیوں سے پاک و پاکیزہ ہو نا ایک قطعی اور تخلف ناپذیر امر ہے لیکن یہاں یہ سوال پیش آتا ہے کہ اہل بیت علیہم السلام کی عصمت کا غیر اختیاری ہونا ان کے افعال کے غیر اختیاری اور اجباری ہونے پر دلالت کرتا ہے جو ان کے لئے کمال محسوب نہیں ہوتا ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ارادہ تکوینی سے مراد اہلبیت علیہم السلام کا گناہوں اور دوسری آلودگیوں سے پاک و پاکیزہ ہونا ہے لیکن ان کے پاک و پاکیزہ ہونے اور افعال کے اختیاری ہونے میں کوئی منافات نہیں ہے کیونکہ عصمت کے کچھ خاص اسباب ہیں جنہیں خداوند متعال نے ائمہ اطہار علیہم السلام کے اختیار میں دے دیا ہے ۔

تحریف سے محفوظ کتاب آسمانی تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

تحریف سے محفوظ کتاب آسمانی تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی قرآن تمام مذاہب اسلامی کا مشترکہ منبع ہے جو سب کے نزدیک قابل قبول اور قابل احترام ہے ۔شیعہ امامیہ ائمہ اہل بیت علیہم السلام کی پیروی کرتے ہوئے قرآن کریم کو پہلا اور اہم ترین منبع سمجھتا ہے جو عقائد ،معارف اور احکام کا سر چشمہ ہے ۔امام جعفر صادق علیہ السلام اس بارے میں فرماتے ہیں:{ان الله تبارک و تعالی انزل فی القرآن تبیان کل شی حتی والله ، ماترک الله شیاءً یحتاج الیه العباد حتی لا یستطیع عبد یقول لو کان هذا انزل فی القرآن ، الا و قد انزله الله فیه .}۱اللہ تعالی نے ہر شےٴ کو قرآن کریم میں بیان کیاہے اور جس چیز کے بندے محتاج تھے ان میں سے ایک کو بھی نہیں چھوڑا ۔

اعجاز قرآن پر ایک اجمالی نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

اعجاز قرآن پر ایک اجمالی نظر پیغمبر اکرم ؐ کے بہت سارے معجزات نقل ہوئے ہیں جیسے آپ کے سر مبارک پر بادل کا سایہ کرنا،آپ کے دست مبارک پر کنکریوں کا تسبیح کہنا غزوہ تبوک سے واپسی پر آپ کی انگلیوں کے درمیان سے پانی کا پھوٹنا اور بہت سارے اصحاب کا سیراب ہونا،چاند کے دو ٹکڑے ہو جانا اور واقعہ معراج وغیرہ۔ان تمام معجزوں میں سے قرآن کریم پیغمبر اکرم کا اہم ترین معجزہ ہے۔خداوند متعال نے ان لوگوں کے سوال کے جواب میں جو کہتے تھے کہ پیغمبر اکرم ّ کیوں معجزہ نہیں رکھتے ،قرآن مجید کو پیغمبر اکرم ّ کا معجزہ قرار دیا ۔{اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ کہ آخر ان پر پروردگار کی طرف سے آیت کیوں نہیں نازل ہوتی ہیں تو آپ کہ دیجئے کہ آیات سب اللہ کے پاس ہیں اور میں تو صرف واضح طور پر عذاب الہی سے ڈرانے والاہوں ۔کیا ان کے یہ کافی نہیں کہ ہم نے آپ پر کتاب نازل کی ہے جس کی ان کے سامنے تلاوت کی جاتی ہے اور یقینا اس میں رحمت اور ایماندار قوم کے لئے یاد دہانی کا سامان موجود ہے ۔

رسول اکرم ۖ نہج البلاغہ کی روشنی میں

رسول اللہ ۖ اسوہ حسنہ : معاشرے کو قابل عمل نمونے (آئیڈیل )کی ضرورت ہو تی ہے جس کی پہچان لازمی ہے ۔قرآن مجید اسلامی معاشرے کے لیے رسول اللہ ۖکو اعلیٰ ترین نمونہ (اسوہ) قراردیتا ہے ۔ارشاد ہو تا ہے ۔

رسول اکرم ۖ نہج البلاغہ کی روشنی میں

رسول اللہ ۖ اسوہ حسنہ : معاشرے کو قابل عمل نمونے (آئیڈیل )کی ضرورت ہو تی ہے جس کی پہچان لازمی ہے ۔قرآن مجید اسلامی معاشرے کے لیے رسول اللہ ۖکو اعلیٰ ترین نمونہ (اسوہ) قراردیتا ہے ۔ارشاد ہو تا ہے ۔

اہل بیت علیہم السلام نہج البلاغۃ کی روشنی میں

اہل بیت علیہم السلام نہج البلاغۃ کی روشنی میں تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی کائنات میں اس عصر میں تین ایسی کتابیں ہیں جن کی کوئی مثل نہیں اور جن کا کوئی دوسرا مقابلہ نہیں کر سکتا اور ان میں سے ایک قرآن کریم دوسرا صحیفہ سجادیہ اور تیسرا نہج البلاغہ ہے جو مدینۃ العلم کے ان خطبات و مکتوبات اور حکمت کے گوہر پاروں پر مشتمل ہے جسے سید رضی نے فصاحت و بلاغت کے شہ پارے اور صراط مستقیم کے طور پر انتخاب کیا ہے ۔اسی لئے ہر عصر اور ہر دور کے نامور ادیب اور عالم کو یہ اعتراف کرنا پڑا کہ یہ مخلوق کے کلام سے بالاتر اور خالق کے کلام سے کمتر ہیں ۔کیوں نہ ہو چونکہ یہ ایک ہستی کا کلام ہے جس نے ببانگ دھل یہ اعلان کر دیا جو پوچھنا ہو پوچھ لو علی ان سب کا جواب دینے کے لئے تیار ہے ۔

نہج البلاغہ غیر شیعہ مفکرین کی نگاہ میں

غیر شیعہ مفکرین کے نظریات و آراء کا مطالعہ اور تحقیقی جائزہ لینے کے بعد یہ نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ تقریباً تمام غیر شیعہ چاہے ان کا تعلق اسلام کے دیگر فرقوں سے ہو یا وہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہوں انہوں نے صرف نہج البلاغہ کی عظمت و رفعت کا کلمہ ہی نہیں پڑھا ہے بلکہ یقینی طور پر اسے کلام امیر المومنین بھی تسلیم کیا ہے ۔ قطع نظر اس کے البتہ بعض انگشت شمار عناد پرست و مفرض اور نادان افراد نے اس کی عظمت سے چشم پوشی کرتے ہوئے اس کے کلام امیر المومنین ہونے کو مشکوک بنانے یا انکار کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ان کے دلائل نہایت درجہ کمزوری اور مزحقہ خیز ہونے کی وجہ سے تمام اہل تحقیق کی نظر میں باطل ہیں ۔

اہداف بعثت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

رہبر انقلا ب اسلامی امام خامنہ ای مد ظلہ اس بابرکت دن کے بارے میں فرماتےہیں:روز بعثت بے شک انسانی تاریخ کا سب سے بڑا اور عظیم دن ہے کیونکہ وہ جو خداوند متعال کا مخاطب قرار پایا اورجس کے کاندھوں پر ذمہ داری ڈالی گئی، یعنی نبی مکرم اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تاریخ کا عظیم ترین انسان اور عالم وجود کا گران مایہ ترین سرمایہ اور ذات اقدس الہی کے اسم اعظم کا مظہر یا دوسرے الفاظ میں خود اسم اعظم الہی تھا اور دوسری طرف وہ ذمہ داری جو اس عظیم انسان کے کاندھوں پر ڈالی گئی [یعنی نور کی جانب انسانوں کی ہدایت، بنی نوع انسان پر موجود بھاری وزن کو برطرف کرنا اور انسان کے حقیقی وجود سے متناسب دنیا کے تحقق کا زمینہ فراہم کرنا اور اسی طرح تمام انبیاء کی بعثت کے تمام اہداف کا تحقق بھی] ایک عظیم اور بھاری ذمہ داری تھی۔ یعنی خداوند متعال کا مخاطب بھی ایک عظیم انسان تھا ور اس کے کاندھوں پر ڈالی گئی ذمہ داری بھی ایک عظیم ذمہ داری تھی۔ لہذا یہ دن انسانی تاریخ کا عظیم ترین اور بابرکت ترین دن ہے۔[ii]

اہداف بعثت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

رہبر انقلا ب اسلامی امام خامنہ ای مد ظلہ اس بابرکت دن کے بارے میں فرماتےہیں:روز بعثت بے شک انسانی تاریخ کا سب سے بڑا اور عظیم دن ہے کیونکہ وہ جو خداوند متعال کا مخاطب قرار پایا اورجس کے کاندھوں پر ذمہ داری ڈالی گئی، یعنی نبی مکرم اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تاریخ کا عظیم ترین انسان اور عالم وجود کا گران مایہ ترین سرمایہ اور ذات اقدس الہی کے اسم اعظم کا مظہر یا دوسرے الفاظ میں خود اسم اعظم الہی تھا اور دوسری طرف وہ ذمہ داری جو اس عظیم انسان کے کاندھوں پر ڈالی گئی [یعنی نور کی جانب انسانوں کی ہدایت، بنی نوع انسان پر موجود بھاری وزن کو برطرف کرنا اور انسان کے حقیقی وجود سے متناسب دنیا کے تحقق کا زمینہ فراہم کرنا اور اسی طرح تمام انبیاء کی بعثت کے تمام اہداف کا تحقق بھی] ایک عظیم اور بھاری ذمہ داری تھی۔ یعنی خداوند متعال کا مخاطب بھی ایک عظیم انسان تھا ور اس کے کاندھوں پر ڈالی گئی ذمہ داری بھی ایک عظیم ذمہ داری تھی۔ لہذا یہ دن انسانی تاریخ کا عظیم ترین اور بابرکت ترین دن ہے۔[ii]

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام سے محبت

حضرت علی علیہ السلام کی محبت کے واجب ہونے پر بے شمارحدیثیں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل ہوئی ہیں[7] کہ ان سب کو یہاں بیان کرنے کی گنجائش نہیں ہے ۔لہذامذکورہ احادیث کی روشنی میں حقیقی مسلمان وہ ہے جو حضرت علی علیہ السلام کی محبت کو واجب و لازم سمجھےگرچہ خواہشات نفسانی میں گرفتار افراد حضرت علی علیہ السلام سے دشمنی و عداوت رکھتے تھے اور کبھی اسے آشکار کرتے تھے اسی وجہ سے حضرت علی علیہ السلام سے محبت، ایمان اور ان سے عداوت اور دشمنی کونفاق کا معیار سمجھا گیا ۔ اس صورت حال میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض اصحاب امیر المومنین علیہ السلام سے دوسروں کی بہ نسبت زیادہ محبت کرتے تھے اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فرامین پر توجہ کرتے ہوئے حضرت علی علیہ السلام کے گفتار و کردار کو اپنے لئے اسوہ ونمونہ قرار دیتے تھے۔ گذشتہ احادیث سے حضرت علی علیہ السلام کی افضلیت بھی واضح ہو جاتی ہ

ولادت پیامبر (ص) اور ہماری ذمہ داری

مسلمانوں کی اختلافات کا ایک سبب ہمارے پاس دین اسلام کے بارے میں تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے ہیے کیونکہ دین اسلام ایک ایسا کامل دین ہے جس میں انسانوں کے لئے مکمل ہدایت و رہنمائی موجود ہے۔ انسان کی ذاتی زندگی، عائلی زندگی، معاشرتی زندگی، معاشی زندگی، انسانی حقوق، خواتین کے حقوق، حقوق والدین، حقوق زوجین، حقوق ہمسائیگی، طریقہ جہاد، دشمنوں کے ساتھ سلوک، مجرموں کے ساتھ سلوک، حقوق بشر کوئی ایسی چیز نہیں جس کا ذکر اسلام نے نہ کیا ہو، لیکن ان سب کے باوجود یہ تمام برائیاں ہمارے معاشرے میں موجود ہیں کیونکہ ہم نے اسلام کو صرف زبان کی حد تک محدود رکھا ہوا ہے کبھی اسلام کے اصولوں کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش نہیں کی۔

ہفتہ وار پروگرام

شیخ قمر عباس ہاشمی قم المقدسہ میں تمرین سے خطاب کرتے ہوئے

شیخ قمر عباس ہاشمی قم المقدسہ میں تمرین سے خطاب کرتے ہوئے

شیخ قمر عباس ہاشمی قم المقدسہ میں تمرین سے خطاب کرتے ہوئے

شیخ قمر عباس ہاشمی قم المقدسہ میں تمرین سے خطاب کرتے ہوئے

شیخ غلام نبی جعفری مشہد مقدس میں تمرین سے خطاب کرتے ہوئے

شیخ غلام نبی جعفری مشہد مقدس میں تمرین سے خطاب کرتے ہوئے

شیخ محمد لطیف مطہری قم المقدسہ میں مجلس عزا سے خطاب کرتے ہوئے

شیخ محمد لطیف مطہری قم المقدسہ میں مجلس عزا سے خطاب کرتے ہوئے

سالانہ پروگرام

القدس ریلی سے علماء کونسل کچورا کے صدر شیخ محمد لطیف مطہری خطاب کرتے ہوئے

القدس ریلی سے علماء کونسل کچورا کے صدر شیخ محمد لطیف مطہری خطاب کرتے ہوئے

القدس ریلی سے علماء کونسل کچورا کے صدر شیخ محمد لطیف مطہری خطاب کرتے ہوئے

القدس ریلی سے علماء کونسل کچورا کے صدر شیخ محمد لطیف مطہری خطاب کرتے ہوئے

کلین کچورا صفائی مہم و آگاہی واک

علماء کونسل کچورا کے صدر حجة الاسلام و المسلمين ڈاکٹر شيخ محمد لطیف مطہری نے صفائی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کچورا جیسے خوبصوت علاقے میں مختلف جگہوں پر کوڑا کرکٹ جمع ہونے کی وجہ سے مختلف قسم کی بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔ جہاں وقت کے ساتھ ساتھ ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اس علاقے کا رخ کر رہی یے، اسی دوران مقامی انتظامیہ کی کچورا کی صفائی کے متعلق غفلت مجرمانہ ہے۔

عظمت شہداء کانفرنس سے علماء کرام خطاب کرتے ہوئے

عظمت شہداء کانفرنس سے علماء کرام خطاب کرتے ہوئے

شیخ مرتضی مطہری مجلس اربعین حسینی سے خطاب کرتے ہوئے

شیخ مرتضی مطہری مجلس اربعین حسینی سے خطاب کرتے ہوئے

شیخ مرتضی مطہری مجلس اربعین حسینی سے خطاب کرتے ہوئے

شیخ مرتضی مطہری مجلس اربعین حسینی سے خطاب کرتے ہوئے

اب تک کچورا کے جوانوں کا بازیاب نہ ہونا مقامی حکومت کی نااہلی ہے۔صدر علماء کونسل کچورا

علماء کونسل کچورا قم المقدسہ کی طرف سے آخر میں ان جوانوں کی بازیابی کے لئے خصوصی دعا کی گئی۔

شیخ عباس امیری کا مجلس امام سجاد علیہ السلام سے خطاب۔

شیخ عباس امیری کا مجلس امام سجاد علیہ السلام سے خطاب۔

دیگرسیاحتی مقامات

پاکستان کی دلکش جنت نظیر وادی کچورا

پاکستان کی دلکش جنت نظیر وادی کچورا پہاڑی سلسلےچاروں طرف اوربیج میں ہم ہیں مثال گوہر نایاب ہم پتھر میں رہتے ہیں تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی کے ٹو کے دامن میں واقع شہر سکردو سے ۳۵ کلو میٹر شمال میں دریائے سندھ کے بائیں کنارے پر۱۵۸۴ مربع کلو میٹر پر پھیلا ہوا وادی کچورا سطح سمندر سے ۸۵۰ سے ۱۱۰۰ فٹ بلندی پر واقع ہے۔کچورا کو یونین ہیڈ کواٹر ہونے کا شرف حاصل ہے۔کچورا جس کی آبادی تقریبا ۸۰۰۰ نفوس ۶۵۰ گھرانے ۵ موضوعات اور ۲۱ محلوں پر مشتمل ہیں ۔اپر کچورا کے محلوں کے نام کچھ اس طرح سے ہیں:۱۔غلچو۲۔حسنین نگر پڑنگ ۳۔پوندس ۴۔شاہین آباد ۵۔علی آباد ۶۔احمد آباد۷۔غازی آباد۸۔ملونگ۹۔ہنگوپیا۱۰۔ژھوق ڈونگبر ۱۱۔ ژھوق فرول۱۲۔ستقچن۱۳۔بلچو۱۴۔گونماشغرتھنگ ۱۵۔گمباشغرتھنگ۔اسی طرح لوئر کچورا کے محلوں کے نام یہ ہیں: ۱۔ مرداچو۲۔ کنڈور۳۔گلشن آباد۴۔قاسم آباد۵۔ژھوکھا ۔۶گربونگ۔

پاکستان کی دلکش جنت نظیر وادی کچورا

پاکستان کی دلکش جنت نظیر وادی کچورا پہاڑی سلسلےچاروں طرف اوربیج میں ہم ہیں مثال گوہر نایاب ہم پتھر میں رہتے ہیں تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی کے ٹو کے دامن میں واقع شہر سکردو سے ۳۵ کلو میٹر شمال میں دریائے سندھ کے بائیں کنارے پر۱۵۸۴ مربع کلو میٹر پر پھیلا ہوا وادی کچورا سطح سمندر سے ۸۵۰ سے ۱۱۰۰ فٹ بلندی پر واقع ہے۔کچورا کو یونین ہیڈ کواٹر ہونے کا شرف حاصل ہے۔کچورا جس کی آبادی تقریبا ۸۰۰۰ نفوس ۶۵۰ گھرانے ۵ موضوعات اور ۲۱ محلوں پر مشتمل ہیں ۔اپر کچورا کے محلوں کے نام کچھ اس طرح سے ہیں:۱۔غلچو۲۔حسنین نگر پڑنگ ۳۔پوندس ۴۔شاہین آباد ۵۔علی آباد ۶۔احمد آباد۷۔غازی آباد۸۔ملونگ۹۔ہنگوپیا۱۰۔ژھوق ڈونگبر ۱۱۔ ژھوق فرول۱۲۔ستقچن۱۳۔بلچو۱۴۔گونماشغرتھنگ ۱۵۔گمباشغرتھنگ۔اسی طرح لوئر کچورا کے محلوں کے نام یہ ہیں: ۱۔ مرداچو۲۔ کنڈور۳۔گلشن آباد۴۔قاسم آباد۵۔ژھوکھا ۔۶گربونگ۔

گلگت بلتستان جیساخوبصورت سیاحتی علاقہ دنیا میں کہیں نہیں، عمران خان

گلگت بلتستان جیساخوبصورت سیاحتی علاقہ دنیا میں کہیں نہیں، عمران خان وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پوری دنیا کی سیر کر چکا ہوں، پاکستان کے شمالی علاقوں جیسے خوبصورت سیاحتی مقامات کہیں نہیں دیکھے۔ اسلام آباد میں پاکستان ٹورازم سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ شاید ہی کسی ملک میں پاکستان جیسی ساحلی سیاحت ہو، پاکستان کے جیسے ساحل کسی ملک میں نہیں ہیں۔

بین الاقوامی

کرتار پور راہداری کے افتتاح سے پاک بھارت تعلقات میں بہتری آئےگی، من موہن سنگھ

کرتار پور راہداری کے افتتاح سے پاک بھارت تعلقات میں بہتری آئےگی، من موہن سنگھ سابق بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کا کہنا ہے کہ کرتار پور راہداری کا افتتاح تاریخی لمحہ ہے، راہداری کھولنے سے پاکستان بھارت کےتعلقات میں بہتری آئے گی۔

بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی جگہ مندر تعمیر کرنے کا حکم دے دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی جگہ مندر تعمیر کرنے کا حکم دے دیا بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی حکومت کو حکم دیا کہ 3 سے 4 ماہ کے اندر اسکیم تشکیل دے کر زمین کو مندر کی تعمیر کے لئے ہندووں کے حوالے کرے۔

امام خمینی

امام خمینی رہ کے انقلابی نظریات اور اس کے اثرات

امام خمینی علیہ الرحمہ کی شخصیت اعلم فقیہ، واصل عارف اور با بصیرت راہبر جیسی صفات کی حامل ہے، ایران کی سرزمین پر دو ہزار پانچ سو سالہ پرانی شہنشاہیت کو شکست دینے کے بعد شرق و غرب کی سپر پاورز کا سامنا کرنے والی شخصیت ہے۔

امام خمینی رح ایک مرد عارف

حضرت امام خمینی رح کے بارے میں عام طور پر جو بات ہمارے ہاں زیادہ مشہور ہے وہ یہ کہ آپ نے ایک ملوکیت اور بادشاہت کا خاتمہ کرکے ایک اسلامی اور مذہبی حکومت قائم کی۔ لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ استعماری طاقتوں کے خلاف تھے اور استعماری طاقتوں نے آپ کی حکومت کے خاتمے کے لیے اپنے پورے وسائل بروئے کار لائے لیکن وہ اس میں ناکام ہو گئیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ امام خمینی رح بہت شجاع اور بہادر تھے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ آپ نے ناجائز طور پر قائم صہیونی حکومت کے خاتمے اور فلسطینیوں کے حقوق کے حصول کے لیے بھی آواز بلند کی۔ آپ مستضعفوں اور محروموں کے حقوق کے بھی علمبردار تھے۔ آپ نے اتحاد امت کے لیے ایک زور دار آواز بلند کی۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ ایک عالم اور فقیہ تھے اور آپ کی تقلید کی جاتی تھی۔ بعدازاں آپ کا دیوان بھی چھپا اور پاکستان میں بھی بہت سے لوگوں کو معلوم ہوا کہ آپ صاحب دیوان شاعر بھی تھے، لیکن ابھی تک جو پہلو کم شناختہ یا ناشناختہ ہے وہ یہ ہے کہ آپ ایک بلند پایہ عارف تھے اور شاید یہ کہنا زیادہ بہتر ہو کہ آپ کے وجود سے پھوٹنے والی تمام تر خوبیوں کا سرچشمہ یہی امر ہے کہ آپ ایک عارف باللہ اور عاشق الٰہی تھے اور اس سلسلے میں نظری اور عملی طور پر نہایت عمق اور گہرائی کے مقام پر فائز تھے۔

امام خامنہ ای

عراق و لبنان کے ہمدردوں کی پہلی ترجیح ناامنی کا علاج ہونا چاہیئے، آیت اللہ سید علی خامنہ ای

رہبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ ان تمامتر خباثتوں اور خطرناک کینہ پروریوں کے موجب چند ایک جانے پہچانے ہاتھ ہیں جبکہ ان تمام حوادث کے پیچھے امریکی و مغربی انٹیلیجنس ایجنسیز ہیں اور خطے کی بعض آمر حکومتوں کا پیسہ ہے، البتہ دشمن نے ایران کیلئے بھی ایسے ہی منصوبے تیار کر رکھے تھے، لیکن خوش قسمتی کیساتھ ایرانی قوم نے میدان میں قدم رکھتے ہوئے عقلمندی سے کام لیا۔

امام خامنہ ای آیت اللہ مکارم شیرازی کی عیادت کرنے اسپتال پہنچ گئے

امام خامنہ ای آیت اللہ مکارم شیرازی کی عیادت کرنے اسپتال پہنچ گئے . رہبر انقلاب حضرت سید علی خامنہ ای آیت اللہ مکارم شیرازی کی عیادت کیلئے اسپتال تشریف لے گئے۔

کلام و عقائد

بدا قرآن و حدیث کی روشنی میں

ذات الٰہی کے بارے میں بدا، حقیقت میں ابدا و اظہار ہے۔ یعنی جو کچھ خدا کے علم میں ہے اور انسان کے علم میں نہیں، اسےخداوند متعال اظہار و آشکار کرتا ہے۔ اسے بدا، کہنے کا سبب یہ ہے کہ یہ مقام فعل الٰہی میں نمایاں ہوتا ہے، اگرچہ ذات الٰہی میں جہل اور تغییر محال ہیں۔ خداوند متعال انبیاء کرام پر غیبی طریقے سے نظر رکھتا ہے تاکہ یہ لوگ وحی کے پہنچانے میں خطا سے محفوظ رہیں۔ قرآن کریم اس بارے میں ارشاد فرماتا ہے، "لِّيَعْلَمَ أَن قَدْ أَبْلَغُواْ رِسَالَاتِ رَبهِّم" تاکہ وہ دیکھ لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات کو پہنچا دیا ہے۔ واضح ہے کہ خداوند متعال پہلے سے ہی آگاہ ہے کہ انبیاء، وحی الٰہی کو صحیح طریقے سے لوگوں تک پہنچائیں گے۔

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

حسن و قبح عقلی پر ایک نظر تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی علم کلام کےاہم مباحث میں سے ایک حسن و قبح عقلی کا بحث ہے ۔اس سے مراد یہ ہے کہ کچھ افعال ذاتی طور پر حسن {اچھے} اور کچھ افعال ذاتی طور پر قبیح{ برے} ہیں ۔ معتزلہ اور امامیہ حسن و قبح عقلی کے قائل ہیں جبکہ اشاعرہ اس کی نفی کرتے ہیں۔ بہت سے کلامی مسائل اس بحث پر موقوف ہیں مثلا انسان کا اپنے اعمال میں خود مختار ہونا،خدا وند متعال کی بعض صفات کمالیہ کا ثبوت جیسے خدا کا عادل ہونا،اسی طرح بعض صفات سلبیہ بھی اسی بحث پر موقوف ہے جیسے خدا سے قبیح کا سرزد نہ ہونا،خداکا ظلم نہ کرنا وغیرہ ۔ جو لوگ حسن اور قبح کے قائل ہیں وہ انسانی افعال میں انسان کو مختار،خدا کو عادل مانتے ہیں جبکہ حسن و قبح کے مخالفین انسان کو مجبور اور خداکی عدالت سے انکار کرتے ہیں ۔

تربیت اولاد

خاندانی منصوبہ بندی : ایک معاشرتی ضرورت یا دھوکہ!

خاندانی منصوبہ بندی کوآج کے دور میں مختلف مملک کی حکومتیں اپنی کامیاب ترین پالیسیوں میں شمار کرتی ہیں۔ آبادی کا کنٹرول اور چھوٹا خاندان خوشحالی کا ذریعہ سمجھاجاتا ہے۔ خصوصاً محدود وسائل رکھنے والے ممالک میں اس پالیسی کو زیادہ اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے

تعليم و تربيت کے بارے ميں اسلامي علما کي آرا و نظريات

تاريخ اسلام ميں تقريبا تمام علماء و دانشور مختلف علوم ميں مھارت رکھنے کے ساتھ ساتھ تعليم و تربيت ميں بھي صاحب نظر اور مھارت کے حامل ہوا کرتے تھے اس سے اسلام ميں تعليم وتربيت کي اھميت کا پتہ چلتا ہے لھذا ہم يہاں پر علما اسلام کي نظر ميں تعليم و تربيت کي اھميت اجاگر کرنے کے لئے ان کے بعض نظريات پيش کر رہے ہيں۔

تندرستی

لہسن اور پیاز چھاتی کے سرطان سے بچانے میں مددگار

لہسن اور پیاز ایشیا میں ایک عرصے سے استعمال ہورہی ہیں اور اب ان کے متعلق اچھی خبر یہ آئی ہے کہ ان دونوں جادوئی سبزیوں کا بھرپور اور مسلسل استعمال خواتین کو چھاتی کے سرطان (بریسٹ کینسر) سے محفوظ رکھتا ہے۔

گوشت نہیں کھائیں گے تو... کند ذہن ہوجائیں گے!

گوشت نہیں کھائیں گے تو... کند ذہن ہوجائیں گے!

مہدویت{امام زمان عج}

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

امام زمانہ عج سے رابطے کے آداب

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی

مہدی موعود (عج) کے پردہ غیب میں رہنے کے فوائد تحریر: محمد لطیف مطہری کچوروی امامت کے اہداف میں سے ایک ہدف امام معصوم کا لوگوں کی باطنی ہدایت ہے۔ امام لائق اور پاکیزہ دل رکھنے والے افراد کو اپنی طرف جذب کر کے انہیں کمال تک پہنچاتے ہیں۔ واضح ہے کہ انسان کا اس طرح ہدایت سے ہمکنار ہونے کے لئے ضروری نہیں کہ وہ امام کے ساتھ ظاہری رابطہ برقرار کرے۔ گذشتہ بیانات کی روشنی میں امام زمانہ (عج) کو بادل کے پیچھے پنہان روشن آفتاب سے تشبیہ دینے کا مقصد بھی واضح ہو جاتا ہے۔ اگرچہ بادل کے پیچھے پنہان سورج سے انسان مکمل طور بہرہ مند نہیں ہوتا ہے لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ اس سے انسان کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا ہے۔ بہرحال امام زمانہ (عج) کے وجود کے آثار و برکات سے بہرہ مند نہ ہونے کا سبب انسانوں کی طرف سے خاص حالات کا فراہم نہ کرنا ہے، جس کی وجہ سے لوگ اس عظیم نعمت کے فوائد سے محروم ہیں اور اس محرومیت کا سبب وہ خود ہیں نہ کہ خداوند متعال اور امام، کیونکہ خداوند متعال اور امام کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی مشکل درپیش نہیں ہے۔

دیگر مناسبتیں

آفتاب کربلا جناب حضرت علی اکبر علیہ السلام

کربلا کے میدان میں ایک جوان ایسا بھی تھا جو سیرت و صورت اورگفتار و کردار میں شبیہ پیغمبر تھے۔دیکھنے والا دنگ رہ جاتا تھا کہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے ہیں۔انہوں نے اس کائنات میں ایسی قربانی پیش کی کہ تمام دنیا دھنگ رہ گئی۔آپ ایسے باپ کے فرزند تھے جس پر رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ناز تھا ،جس کے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری بن گئے۔اس عظیم باپ کا فرزند تھا جس نے دنیا والوں کو جینا سکھایا اورباطل قوتوں کے سامنے قیام کر نا سکھایا۔

حدیث غدیر، حدیث متواتر

متواتر لفظی: وہ حدیث یا خبر جس کے تمام روایوں نے، تمام طبقات میں، اس حدیث یا خبر کے مضمون کو ہو بہو اور یکسان طور پر نقل کیا ہو۔ جیسے حدیث ثقلین کی عبارت، (انّي تارك فيكم الثقلين ۔۔) یا حدیث غدیر کی عبارت (من كنت مولاه فهذا عليّ مولاه)۔

چہاردہ معصومین ع

امام سجاد علیہ السلام

امام علیہ السلام نے کربلا سے کوفہ، کوفہ سے شام اور زندان سے رہائی تک ہر موقع پر اپنے خطبوں کے ذریعے جہاں قیام حسینی علیہ السلام کے اصولوں اور فلسفے سے لوگوں کو آگاہ فرمایا وہیں اسلام کا نام استعمال کرتے ہوئے اسلام کی دھجیاں اڑانے کی کوشش کرنے والی ناپاک حکومت کا مکروہ چہرہ بھی بےنقاب فرمایا۔

معاویہ و یزید کے دور حکومت میں امام حسین (ع) کا کردار

معاویہ کو ہر وقت آپ کے قیام کا خوف رہتا تھا۔ چنانچہ اس نے امام کے سامنے قبض و بسط کی پالیسی اپنائی یعنی ایک طرف سے آپ کی منزلت کو مدنظر رکھتا تھا اور بظاہر آپ کے لئے احترام کا قائل تھا اور آپ کی تعظیم کرتا تھا اور اپنے کارگزاروں کو بھی ہدایت کرتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرزند کو نہ چھیڑیں اور ان کی بےحرمتی سے پرہیز کریں۔ دوسری طرف سے امام کی مسلسل اور شب و روز نگرانی کو اپنی پالیسی کا حصہ بنایا اور سفر اور حضر میں آپ کی تمام حرکات و سکنات پر کڑی نظر رکھی جاتی تھی۔

دیگر موضوعات

جابر بن عبداللہ انصاری پہلا زائر اربعین حسینی

عطیہ کوفی کے مطابق جابر بن عبد اللہ انصاری کے ساتھ حسین بن علی علیہ السلام کی قبر کی زیارت کرنے کے لئے کوفہ سے نکلے۔ جب ہم کربلا پہنچے تو جابر فرات کے ساحل کے قریب گیا اور غسل انجام دیا اور محرم افراد کی طرح ایک چادر پہنی، پھر ایک تھیلی سے خوشبو نکالا اور اپنے آپ کو اس خوشبو سے معطر کیا اور ذکر الہی کے ساتھ قدم اٹھانا شروع کیا، یہاں تک کہ وہ حسینؑ ابن علیؑ کے مرقد کے قریب پہنچا۔ جب ہم نزدیک پہنچے تو جابر نے کہا کہ میرا ہاتھ قبر حسینؑ پر رکھو۔ میں نے جابر کے ہاتھوں کو قبر حسین پر رکھا۔ اس نے قبر حسینؑ ابنی علی کو سینے سے لگایا اور بے ہوش ہو گیا۔ جب میں نے اس کے اوپر پانی ڈالا تو وہ ہوش میں آیا۔ اس نے تین مرتبہ یا حسینؑ کی آواز بلند کی۔

عطیہ عوفی(کوفی)زائر اربعین حسینی

زیارت اربعین کی اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ امام حسن عسکری علیہ السلام نے فرمایا: مومن کی نشانیوں میں سے ایک زیارۃ اربعین کی تلاوت کرناہے۔۳۔جب بھی زیارت اربعین اورچہلم امام حسین علیہ السلام کا ذکر ہو وہاں حتما ان دو ہستیوں یعنی جابر اور عطیہ کا ذکر ہوتا ہے۔ یہ دونوں ہستیاں اسلامی تاریخ کی معروف شخصیات میں سے ہیں۔ لیکن جو چیز انہیں دوسری شخصیات اورافراد سے ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ان کا شمار امام حسین علیہ السلام کے پہلے زائروںمیں ہوتا ہے۔

سب سے زیادہ زیر بحث

امام علی علیہ السلام کی شانِ میں چہل حدیث

مولا علیؑ کی شان میں چالیس احادیث اور یہ ﻭﻩ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ہیں ﺟﻮ ﺻﺤﺎﺡ ﺳﺘﻪ ﻣﯿﮟ بھی موجود ہے. 1= ﻋﻨﻮﺍﻥ ﺻﺤﻴﻔﺔ ﺍﻟﻤﺆﻣﻦ ﺣﺐّ ﻋﻠﻰؑ ﺑﻦ ﺍﺑﻰ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ. ﺻﺤﯿﻔﮧ ﻣﻮﻣﻦ ﮐﺎ ﻋﻨﻮﺍﻥ ﻣﺤﺒﺖِ ﻋﻠﯽؑ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻃﺎﻟﺐؑ ﮨﮯ.

دعا کی اہمیت

دعا کی اہمیت حضرت انسان کس قدر شرف و عظمت کا مالک ہے،اس کے لئے کائنات بنی،پوری کائنات میں اسی کو عزت و تکریم کا حق دار ٹھہرایا گیا۔تمام مخلوق اس کی خدمت اور منفعت کے لئے پیدا کی گئی۔لیکن اتنی عظمتوں کے باوجود اس کی خلقت کا مقصد اللہ کی معرفت اور عبادت قرار دیا گیا۔لہذا انسان کا اہم کام خدا سے ارتباط و ربط ہے۔مگر کیسا رابطہ؟ اتنی عظمتوں کے باوجود بارگاہ خداوندی میں فقر محض اور احتیاج محض ہے جبکہ ذات پروردگار غناء ہی غناء ہے۔بلندی ہی بلندی ہے۔انسان مشکلات،مصائب اور تکالیف میں ایسی ذات کی طرف رجوع کر کے اپنے فقر اور احتیاج محض ہونے کا اقرار و اعتراف کرتے ہوئے اپنی نفی اور بے ثباتی کا اظہار کرتا نظر آتا ہے۔اس سلسلے میں انسان کا ایک اہم وسیلہ دعا ہے۔دعا کے ذریعے اپنی احتیاج کا اظہار بھی کرتا ہے اوراللہ سے اعانت کی التجا بھی کرتا ہے۔

قرآنِ کریم اور اصلاحِ معاشرہ تحریر: عارف حسین تھہیم

لفظِ ’’اصلاح‘‘ درست کرنے، صحیح کرنے اور خرابی کو دُور کے معنی میں آتا ہے۔ معاشرتی اور اجتماعی مفہوم کے اعتبار سے شائستہ اور نیک عمل انجام دینے، نیز فساد و تباہی کو ختم کرنے کے لیے بھی اصلاح کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ ارشادِ پروردگار ہے: ﴿ إِلاَّ الَّذِينَ تَابُواْ وَأَصْلَحُواْ وَبَيَّنُواْ فَأُوْلَئِكَ أَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ﴾[1]؛ ’’سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے توبہ کی اور اپنے کئے کی اصلاح کر لی اور (جس کو چھپایا ہوا تھا) واضح کر دیا تو ایسے ہی لوگوں کی توبہ میں قبول کرتا ہوں اور بےشک میں بڑا توبہ قبول کرنے والا اور بہت مہربان ہوں۔‘‘ حقیقی توبہ میں گذشتہ بُرائی اور فساد کا دُور کرنا اور آئندہ بُرائی و فساد سے بچے رہنے کا تہیہ کرنا ضروری ہے۔ شائستہ اور صالح معاشرے کی تشکیل کا ہدف اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی دُنیوی و اُخروی اور مادی و معنوی ضرورتوں کو پورا کیا جائے؛ لہٰذا صالح معاشرے کی خصوصیات یہ ہیں کہ اس میں ہر ایک کی جان، مال، عزّت و آبرو اور ناموس محفوظ ہوتی ہے، لوگوں کی درمیان مہر و محبت اور اپنائیت کا راج ہوتا ہے اور سب لوگ روحانی و معنوی لحاظ سے پُرسکون اور مطمئن ہوتے ہیں۔

پیٹ کا درد کئی امراض کی علامت ہوسکتا ہے

اگر پیٹ میں درد ہورہا ہو تو اس کی کئی وجوہ ہوسکتی ہیں۔ اکثر ناقص غذا کی وجہ سے معدے میں تکلیف ہونے لگتی ہے جسے ہم پیٹ کے درد سے تعبیر کرتے ہیں۔ معدے کا درد کئی امراض کی علامت بھی ہوسکتا ہے، اس لیے اسے نظرانداز نہیں کرنا چاہیے اور بلاتاخیر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ

دعائے کمیل معہ اردو ترجمہ بسم اللہ الرحمن الرحیم بنام خدائے رحمن و رحیم اٴَللّٰھُمَّ اِنّيِ اٴَسْاٴَ لُکَ بِرَحْمَتِکَ الَّتي وَ سِعَتْ کُلَّ شَيْءٍ،وَ بِقُوَّتِکَ الَّتي قَھَرْتَ خدایا میراسوال اس رحمت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر محیط ھے۔ اس قوت کے واسطہ سے ھے جو ھر چیز پر حاوی ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ،وَخَضَعَ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ،وَذَلَّ لَھٰا کُلُّ شَيْ ءٍ، وَبِجَبَرُوتِکَ الَّتي غَلَبْتَ اور اس کے لئے ھر شے خاضع اور متواضع ھے۔ اس جبروت کے واسطہ سے ھے جو ھر شے پر غالب ھے اور اس عزت کے واسطہ سے ھے بِھٰا کُلَّ شَيْءٍ، وَ بِعِزَّتِکَ الَّتي لاٰ یَقُومُ لَھٰا شَيْءٌ، وَبِعَظَمَتِکَ الَّتي مَلَاٴَتْ کُلَّ جس کے مقابلہ میں کسی میں تاب مقاومت نھیں ھے۔اس عظمت کے واسطہ سے ھے جس نے ھر چیز کو پر کردیا ھے شَيْءٍ، وَ بِسُلْطٰانِکَ الَّذي عَلاٰ کُلَّ شَيْءٍ، وَبِوَجْھِکَ الْبٰاقي بَعْدَ فَنٰاءِ کُلِّ شَيْءٍ،

اخلاق حسنہ کے بارے میں معصومین (ع) کے ارشادات

رسول خدا (ص) اور ا ئمہ معصومین علیہم اسلام اخلاق حسنہ کى اعلى ترین مثالیں ہیں اور یہ بے مثال "حُسن خلق" ان کے کردار اور گفتار سے عیاں تھا، ان ہى عظیم شخصیتوں کے ارشادات کى روشنى میں ہم "حُسن خلق" کے اعلى درجہ پر فائز ہو سکتے ہیں۔

مقصد قیام امام حسین علیہ السلام تحریر: محمد حسن حسرت کچوروی

امام حسین ؑ ۲۸ رجب ۶۰ ھ میں مدینہ سے حرکت کرتے ہیں اور ۳ شعبان المعظم کو مکہ میں پہنچتے ہیں پھر ۸ ذی الحجہ کو مکہ سے کوفہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں ۲ محرم الحرام کو وارد کربلا ہوتے ہیں اور ۱۰ محرم الحرام کو شھید ہو جاتے ہیں اس مختصرعرصے میں انسان سو سے زیادہ درس حاصل کر سکتا ہے بلکہ کہہ سکتے ہیں کہ امام کے اس مختصر عرصےمیں ہزاروں دروس شامل ہیں لیکن یہ سارے دروس ایک اصلی درس ‘ حرکت اور قیام امام میں موجود ہیں باقی سارے حاشیے ہیں متن یہ ہے کہ امام نے قیام کیوں کیا؟ یہ اصلی درس ہے لوگ امام سے کہتے تھے آپ مدینہ اور مکہ میں محترم ہیں یمن میں اتنے سارے شیعہ ہیں کسی کونے میں تشریف لے جائیں اور یزید سے کوئی سروکار نہ رکھے تاکہ وہ بھی آپ سے کوئی سروکار نہ رکھے۔ یہ سارے مرید ہیں انہیں تبلیغ کریں عبادت کریں اور زندگی کریں۔ کاس قیام کا مقصد کیاہے ۔۔؟

تلاوت قرآن کی فضیلت

'پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا، جو شخص رات کو دس آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام غافلین (جو یاد خدا سے بے بہرہ رہتے ہیں) میں نہیں لکھا جائے گا اور جو شخص پچاس آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام ذاکرین (جو خدا کو یاد کرتے ہیں، حرام و حلال کا خیال رکھتے ہیں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص سو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام قانتین (عبادت گزاروں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص دوسو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام خاشعین (جو خدا کے سامنے متواضع ہوں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص تین سو آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام سعادت مندوں میں لکھا جائے گا، جو شخص پانچ ہزار آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام عبادت اور پرستش خدا کی کوشش کرنے والوں میں لکھا جائے گا اور جو شخص ہزار آیتوں کی تلاوت کرے وہ ایسا ہے جیسے اس نے کثیر مقدار میں سونا راہ خدا میں دے دیا ہو۔،،

مشاہدات

آج

82

کل

469

اس ماہ

25073

اس سال

215078

ٹوٹل مشاہدات

384306